9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے

ہم حمد کرتے ہیں تیری ! اے وہ معبود کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ! ہم ہر عیب اور ہر خرابی سے تیری پاکی بیان کرتے ہیں ‘ تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے مغفرت کے طلبگار ہیں۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو اقتدار کا مالک ہے ‘ جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت نصیب کرتا ہے۔ تیرے ہی دست قدرت میں ہر بھلائی ہے۔ تو ہی بلاشبہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ تو ہمارا مالک ہے اور آسمان و زمین اور ان کی کائنات کا مالک ہے۔ ہم رحمت و سلامتی کی دعا کرتے ہیں محمد ﷺ کیلئے جو تیرے رسول و حبیب اور ہمارے آقا و مولیٰ ہیں اور تمام انبیاء اور رسولوں کیلئے اور تیرے تمام نیک بندوں کیلئے بھی۔ یہ سورة مدنی ہے ‘ اس میں 129 یا 130 آیات ہیں ابو عطیہ ہمدانی راوی ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے لکھ کر بھیجا : سورة برأت (خود) سیکھو اور اپنی عورتوں کو سورة نور سکھاؤ۔ میں کہتا ہوں : اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة برأت میں ترغیب جہاد ہے اور سورة نور میں پردہ کی تلقین ہے (اوّل مردوں کا فریضہ ہے اور دوسرا عورتوں کا) حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورة انفال اور سورة برأت کو ہم جوڑ کہا جاتا تھا ‘ اسی لئے سبع طوال میں میں نے ان کو ایک جگہ لکھوایا۔ اس سورة کے متعدد نام ہیں : (1) برأت ‘ کیونکہ اس میں کافروں سے بیزاری (اور دست برداری) کا اعلان ہے (2) سورة توبہ ‘ کیونکہ اس میں مسلمانوں کیلئے توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے (3) مقشقشہ (نفاق سے بیزار کرنے والی) ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے بروایت زید بن اسلم بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : مقشقشہ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ یہ نفاق سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے (4) مُبَعْثِرَہ ‘ یہ نام ابن المنذر نے محمد ابن اسحاق کی روایت سے بیان کیا ہے۔ چونکہ لوگوں کے اندرونی رازوں کی یہ پردہ کشائی کر رہی ہے ‘ اسلئے اس کو مبعثرہ کہا گیا (5) البحوث ‘ یہ نام ابن ابی حاتم ‘ طبرانی اور حاکم نے ابو رشد حرانی کی روایت سے حضرت مقداد بن اسود کے حوالہ سے لکھا ہے (6) المثیرہ ‘ یہ نام ابن المنذر اور ابو الشیخ اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کے حوالہ نقل سے کیا ہے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ سورة نفاق کی حالت اکھاڑ کر سامنے لاتی ‘ منافقوں کی پردہ دری کرتی اور ان کے نفاق کو کرید کر ظاہر کرتی ہے (7) مُنکِلَہ (عذاب والی) مُدَمُدِمَہ (تباہی لانے والی) (8) سورة عذاب ‘ یہ نام حضرت حذیفہ نے لیا ‘ فرمایا : جس کو تم سورة توبہ کہتے ہو ‘ وہ سورة عذاب ہے۔ خدا کی قسم ! اس نے کسی کو بغیر اثر انداز ہوئے نہیں چھوڑا۔ رواہ ابن ابی شیبہ والطبرانی وابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ۔ حضرت ابن عباس نے بھی حضرت عمر کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کا نام سورة العذاب ذکر کیا ہے) خرجہ ابو عوانتہ وابن المنذر وابوالشیخ وابن مردویہ (9) الفاضحہ بھی اس کا نام ہے ‘ یہ منافقوں کو رسوا کرنے والی ہے۔ بغوی ناقل ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا : میں نے حضرت ابن عباس سے کہا : سورة توبہ۔ آپ نے فرمایا : وہ فاضحہ ہے ‘ پیہم نازل ہوتی رہی اور لوگوں کو (منافقوں کے حالات کی) اطلاع دیتی رہی یہاں تک کہ لوگوں کا یہ خیال ہوگیا کہ کسی کو بغیر تذکرہ کئے اس نے نہیں چھوڑا۔ میں نے کہا : سورة انفال۔ فرمایا : یہ سورة بدر ہے۔ میں نے کہا : سورة حشر۔ فرمایا : اس کو سورة نفیر کہو (اس میں قبروں سے مردوں کے نکلنے اور میدان میں جمع ہونے کا بیان ہے) ۔ سورۂ برأت کے شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں ہے ؟ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان سے عرض کیا : الانفال مثانی میں سے ہے اور برأت مئین میں سے ‘ آپ حضرات نے دونوں کو ایک جگہ جمع کردیا اور دونوں کے بیچ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور برأت کو سبع طوال میں درج کردیا ‘ اس کی کیا وجہ ؟ حضرت عثمان نے فرمایا : مختلف زمانوں میں رسول اللہ ﷺ پر متعدد سورتیں نازل ہونے کا سلسلہ جاری تھا۔ جب کچھ نازل ہوتا تھا تو آپ اپنے کاتب کو بلوا کر حکم دیتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورة میں رکھو۔ سورة انفال مدینہ کے ابتدائی ایام میں (یعنی ہجرت کے فوراً بعد) نازل ہوئی اور سورة برأت سب سے آخری زمانہ میں اور دونوں کا بیان باہم ملتا جلتا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں صراحت نہیں فرمائی کہ سورة برأت ‘ سورة انفال کا جزء ہے ‘ اسلئے میں نے دونوں کو یکجا کردیا اور برأت کو سبع طوال میں درج کردیا اور دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی۔ رواہ البغوی بسندہ واحمد و ابوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم والترمذی۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح اور ترمذی نے حسن کہا ہے۔ بسم اللہ کے ترک کی وجہ ایک یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ برأت کا نزول امان کا حکم اٹھا لینے کیلئے ہوا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم امان (کی تعلیم) ہے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب سے دریافت کیا : برأت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی ؟ فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم امان ہے اور برأت تلوار لے کر اتری ہے۔ کذا اخرج ابو الشیخ وابن مردویہ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ صحابہ کی رائے باہم مختلف تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ سورة انفال و برأت کا مجموعہ ایک ہی سورت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سورتیں ہیں۔ جو لوگ ان کو دو سورتیں کہتے ہیں ‘ ان کی رعایت کرتے ہوئے دونوں سورتوں کے درمیان خلاء (کچھ فاصلہ) چھوڑ دیا گیا اور جو لوگ دونوں کو دو مستقل سورتیں جانتے تھے اور اس مجموعے کو سبع طوال میں ساتویں سورت کہتے تھے جس کا نزول جہاد کے متعلق ہوا تھا تو ان کے قول کی رعایت کرتے ہوئے دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ تبوک کی طرف چلے گئے تو منافق افواہیں پھیلانے اور ایسی باتیں کرنے لگے جن سے مسلمانوں میں سخت بےچینی پیدا ہوجائے اور جو معاہدے رسول اللہ ﷺ سے کرچکے تھے ‘ ان کو توڑنے لگے۔ میں کہتا ہوں : اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو یقین تھا کہ مسلمان شاہ شام یعنی قیصر کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے (اور وہیں تباہ ہوجائیں گے) اس پر اللہ نے بھی اپنے پیغمبر کو کافروں سے معاہدہ ختم کرنے کا حکم دے دیا اور فرمایا : براء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں (کے عہد) سے دست برداری ہے جن سے تم نے (بلا تعیین مدت) معاہدہ کر رکھا تھا۔ براء ۃ ‘ نشاء ۃ اور ناء ۃ کی طرح مصدر ہے۔ مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی یہ برأت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں تک پہنچنے والی ہے۔ زجاج نے کہا : مطلب یہ ہے کہ جب مشرکوں نے معاہدے توڑ دئیے تو اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ بھی ان کو عہد دینے اور معاہدہ کو پورا کرنے سے بری الذمہ ہے۔ عَاھَدْتُمْ میں رسول اللہ اور مسلمانوں کو خطاب ہے۔ براءت کا تعلق اللہ اور رسول ﷺ سے ظاہر کیا گیا اور معاہدہ کا تعلق رسول اللہ اور مسلمانوں سے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ معاہدات کو توڑ دینا اور ختم کردینا رسول اللہ اور مسلمانوں پر واجب ہے۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ وان اللہ مخزی الکفرین۔ سو تم اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ پر غالب نہیں آسکتے۔ اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بلاشبہ کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے۔ یعنی چین و امن کے ساتھ مسلمانوں سے بےخوف ہو کر چار مہینے ملک میں گھومتے پھرو ‘ مگر یہ سمجھ لو کہ اللہ کے پنجہ سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اللہ نے اگرچہ تم کو مہلت دے دی ہے ‘ مگر تم اس کی گرفت سے باہر نہیں ہو اور اللہ کافروں کو ضرور ذلیل کرنے والا ہے۔ دنیا میں قتل اور قید کی ذلت اور آخرت میں عذاب جہنم کی خواری۔ زہری کے نزدیک چار ماہ سے مراد ہیں : شوال ‘ ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ اور محرم ‘ کیونکہ یہ آیت شوال میں نازل ہوئی تھی۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک دس ذی الحجہ سے دس ربیع الثانی تک چار ماہ مراد ہیں۔ آئندہ آیت سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ فرمایا ہے :
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

و اذان من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر (1)[ حسن سے یوم الحج الاکبر کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : اس سال تھا جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اپنی جگہ حج کا قائد بنا کر بھیجا تھا اور حضرت ابوبکر نے سب کو حج کرایا تھا۔ حج کرنے والوں میں مسلمان بھی تھے اور مشرک بھی ‘ اسلئے اس کا نام بڑا حج رکھا گیا۔ یہ دن یہودیوں اور عیسائیوں کی عید کے دن کے مطابق پڑگیا تھا۔] اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں عام لوگوں کے سامنے اعلان (کیا جاتا) ہے۔ اذان کا معنی ہے اعلان۔ وزن فعال بمعنی افعال آتا ہے ‘ جیسے امان بمعنی ایمان اور عطاء بمعنی اعطا۔ نماز کی بانگ کو اذان بھی اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے : اٰذَنْتُہُ ‘ فَاَذِنَ میں نے اس کو اطلاع دے دی تو اس کو علم ہوگیا۔ اصل میں یہ لفظ اذن سے بنا ہے ‘ یعنی میں نے اس کے کان میں ڈال دی۔ اذان ترکیب عبارت کے لحاظ سے براءۃ کی طرح ہے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یوم الحج الاکبر ‘ یوم عرفہ ہے۔ حضرت عمر ‘ حضرت عبد اللہ بن عمر ‘ حضرت عبد اللہ بن زبیر کی طرف بھی بغوی نے اس قول کی نسبت کی ہے۔ (2) [ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت ابوذر اور حضرت زبیر میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ منبر پر جمعہ کے دن یہ آیت پڑھ رہے تھے تو ایک نے دوسرے سے پوچھا تھا : یہ آیت کب نازل ہوئی ؟ نماز ختم ہونے کے بعد حضرت عمر نے فرمایا : تمہارا جمعہ نہیں ہوا۔ معاملہ کا رجوع ] عطاء ‘ طاؤس ‘ مجاہد اور سعید بن مسیب کا بھی یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں : اس تفسیر کا مدار رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر ہے کہ حج عرفہ ہے۔ اخرجہ احمد و ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم والدارقطنی والبیہقی من حدیث عبدالرحمن بن معمر۔ ابن ابی حاتم نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عرفہ کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے : یوم الحج الاکبر سے مراد قربانی کا دن ہے۔ یحییٰ بن خزاز کا بیان ہے کہ حضرت علی سفید خچر پر سوار ہو کر قربانی کے دن جہانہ جانے کے ارادے سے برآمد ہوئے ‘ ایک آدمی نے آپ کی سواری کی لگام پکر کر یوم الحج الاکبر کے متعلق دریافت کیا۔ حضرت علی نے فرمایا : یہی دن ہے ‘ اب سواری کو چھوڑ دے۔ ترمذی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے یوم الحج الاکبر کے متعلق دریافت کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : قربانی کا دن۔ ابن جریر نے اس کی تائید میں حضرت ابن عمر کی روایت بھی نقل کی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایات سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ شعبی ‘ سعید بن جبیر اور سدی کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ حج وداع میں قربانی کے دن جمرات کے پاس کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے۔ بغوی نے ابن جریج کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مجاہد نے فرمایا : یوم الحج الاکبر حج کا پورا وقت ہے ‘ یعنی منٰی کے تمام ایام۔ سفیان ثوری بھی فرماتے تھے : یوم الحج الاکبر سے مرا داوقات حج اکبر ہیں ‘ یعنی منٰی کے تمام ایام جیسے یوم صفین ‘ یوم جمل ‘ یوم بعاث سے مراد (صرف ایک ایک دن نہیں بلکہ یوم سے مراد) وقت اور زمانہ ہے کیونکہ یہ لڑائیاں (صرف ایک دن میں ختم نہیں ہوگئیں بلکہ) چند روز تک قائم رہیں تھیں۔ عمرہ کو چونکہ چھوٹا حج کہا جاتا ہے ‘ اسلئے حج کے ساتھ اکبر کی صفت ذکر کردی (تاکہ عمرہ کا احتمال نہ رہے) زہری ‘ شعبی اور عطاء نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے۔ ان حضرات نے کہا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن چار ماہ کا ذکر آیت میں ہے ‘ ان کا آغاز حج اکبر کے دن سے ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں : آیت میں حج اکبر کے دن اعلان کئے جانے کا ذکر ہے ‘ اس اعلان کو چار مہینے کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا کہ آغاز کا دن یوم اعلان کو قرار دیا جاسکے (سیاحت کا اختیار چار مہینے تک دیا گیا ہے اور سیاحت کے آغاز اور انتہا کا کوئی دن نہیں بتایا گیا ‘ نہ مہینہ کی تعیین کی گئی ‘ نہ وقت کی) ۔ ان اللہ بری من المشرکین ورسولہ : (3) [ اس آیت میں وَرَسُوْلَہٗ لام کے جر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ ایک اعرابی ‘ حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں مدینہ میں آیا اور کہا : مجھے کوئی اللہ کا کلام پڑھا دے۔ محمد بن خطاب نے اس کو (سورت) برأت پڑھائی اور رسولہ کے لام کو زیر کے ساتھ پڑھا (جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ مشرکوں سے اور اپنے رسول سے بری الذمی ہے) اعرابی بولا : جب اللہ اپنے رسول سے بری الذمہ ہے تو میں بھی اس سے بیزار ہوں جس سے اللہ بیزار ہے۔ یہ کہہ کر چل دیا۔ حضرت عمر نے اس کو بلوایا اور پوچھا : کیا اللہ کے رسول ﷺ سے اظہار بیزاری کر رہا ہے ؟ اعرابی نے کہا : امیر المؤمنین ! میں جب مدینہ میں آیا تو مجھے قرآن مجید سے کوئی واقفیت نہ تھی۔ میں نے خواہش کی کہ کوئی مجھے پڑھا دے۔ انہوں نے (یعنی محمد بن خطاب نے) مجھے سورت برأت پڑھائی اور اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌٓ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلِہٖ پڑھا تو میں نے کہا : اللہ جس سے بری الزمہ ہے ‘ میں بھی بخدا ! اس سے بیزار ہوں۔ حضرت عمر نے یہ تقریر سن کر محمد بن خطاب کو حکم دیا کہ آئندہ صرف وہی شخص لوگوں کو (قرآن) پڑھائے جو زبان سے واقف ہو۔ اس کے بعد آپ نے ابو الاسود (دُؤَلی) کو حکم دیا اور انہوں نے فن نحو وضع کیا۔] کہ بیشک اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اللہ کا رسول ﷺ بھی۔ پہلا اعلان برأت صرف ان مشرکوں سے تھا جنہوں نے معاہدے کرنے کے بعد عہدشکنی کی تھی اور یہ اعلان برأت عام ہے۔ اس میں شکست معاہدہ کرنے والے کافروں سے بھی برأت کا اظہار کیا گیا ہے اور ان مشرکوں سے بھی جنہوں نے کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا تھا ‘ اسی لئے الی الناس فرمایا۔ ہاں وہ مشرک اس اعلان برأت سے مستثنیٰ ہیں جنہوں نے معاہدہ کرنے کے بعد عہدشکنی نہیں کی ‘ ان کے متعلق فرمایا : فَاتِمُوْآ اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْان کا معاہدہ پورا کرو۔ اور چونکہ اس آیت میں چار ماہ سیاحت کرنے کا کوئی حکم نہیں ‘ اسلئے یوم حج اکبر کو آغاز سیاحت کی تاریخ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ میں کہتا ہوں : آیت بَرَآءَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہِ اور اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌٓ مِّنْ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلِہٗ کا نزول اگرچہ ان لوگوں کے حق میں ہوا جو غزوۂ تبوک کے زمانہ میں تھے ‘ ان میں سے کچھ لوگ تو وہ تھے جن کا مسلمانوں سے کوئی معاہدہ ہی نہ تھا اور کچھ وہ لوگ تھے جنہوں نے معاہدہ کرنے کے بعد شکست عہد کی تھی ‘ ان دونوں گروہوں سے اظہار برأت کردیا گیا اور چار ماہ تک چلنے پھرنے اور آزادی کے ساتھ بغیر خوف کے گھومنے کی اجازت دے دی گئی۔ لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے ‘ مورد کی خصوصیت حکم کو خاص نہیں کردیتی ‘ لہٰذا مندرجۂ بالا دونوں فریقوں کیلئے جو سیاحت کی آزادی دی ہے اور قتال حرام کیا ہے ‘ یہ حکم ہر زمانہ میں قائم رہے گا ‘ اور چار مہینے لڑنا بھڑنا ناجائز قرار دیا جائے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ الخ دوسری آیت میں مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ۔ ایک شبہ : بعض لوگوں کا قول ہے کہ اشہر حرم (چار مہینے جن میں لڑنا حرام ہے) میں قتال بیشک بڑا جرم ہے مگر آیت قاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً سے اس حرمت کو منسوخ کردیا گیا۔ گویا اس آیت کا یہ مطلب ہوگیا کہ تمام مشرکوں سے لڑو ہر زمانہ میں ‘ خواہ غیر حرام مہینوں میں ہو یا اشہر حرم میں۔ یہ قول قتادہ ‘ عطاء خراسانی ‘ زہری اور سفیان ثوری کا ہے۔ ان حضرات کا استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین میں قبیلۂ ہوازن سے اور طائف میں قبیلۂ ثقیف سے جہاد کیا اور ان کا محاصرہ ماہ شوال کامل اور ذیعقدہ کے کچھ حصہ میں جاری رکھا۔ ہم کہتے ہیں : قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کو ناسخ قرار دینا غلط ہے بلکہ یہ آیت تو پوری آیت کا ایک جزء اور تکملہ ہے ‘ پوری آیت اس طرح ہے : اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتَاب اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا افِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً یہ پوری آیت ایک ہی وقت میں نازل ہوئی ‘ اسلئے اس کا کوئی جزء دوسرے جزء کا ناسخ نہیں ہوسکتا کیونکہ ناسخ کیلئے ضروری ہے کہ اس کا نزول منسوخ سے کچھ مدت کے بعد ہوا ہو (لہٰذا اشہر حرم کی حرمت کا نسخ قاتلوا المشرکین سے نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے نزول کا وقت ایک ہی ہے) رہا تخصیص کا تصور ‘ تو اس جگہ وہ ممکن ہی نہیں ___ پھر کافَّۃً کی تفسیر میں یہ کہنا کہ ہر زمانہ میں قتال کرو ‘ یہ صریحی غلط ہے۔ کافَّۃً کا معنی تو یہ ہے کہ سب سے لڑو ‘ یہ مطلب نہیں کہ ہر زمانہ میں لڑو۔ کافَّۃً کا لفظ عموم افراد پر دلالت کر رہا ہے ‘ عموم اوقات کا مفہوم اس سے نہیں نکلتا۔ رہا شوال اور ذیعقدہ میں رسول اللہ ﷺ کا طائف میں محاصرہ کرنا تو یہ خبر آحاد سے ثابت ہے اور خبر آحاد ظنی ہوتی ہے ‘ اس سے حکم قرآن کا نسخ نہیں ہوسکتا۔ دیکھو ! سورة توبہ کا نزول تو طائف کے جہاد کے بعد ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے اسّی روز پہلے حج وداع میں قربانی کے دن خطبہ میں فرمایا تھا کہ زمانہ گھوم کر اسی ہیئت پر آگیا جس ہیئت پر آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں چار حرمت والے مہینے ہیں ‘ تین مہینے پے در پے ہیں : ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب مضر کا ہے جو جمادی (الثانی) اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین من حدیث ابی بکرۃ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طائف میں بنی ثقیف کا ذیعقدہ میں محاصرہ رسول اللہ ﷺ کیلئے خصوصی جواز کے ماتحت ہو ‘ جس طرح حرم کے اندر رسول اللہ ﷺ کیلئے خاص طور پر کچھ دیر کیلئے جائز کردیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا : اللہ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن ہی اس شہر کو حرمت والا کردیا تھا ‘ پس اللہ کی دی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک یہ شہر حرمت والا رہے گا۔ یہاں مجھ سے پہلے کسی کیلئے قتال کرنا جائز نہیں کیا گیا اور میرے لئے بھی یہاں دن میں ایک ساعت کیلئے قتال کرنا جائز کیا گیا تھا۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین من حدیث ابن عباس۔ صحیحین میں حضرت ابو شریح عدوی کی روایت سے اس حدیث میں اتنا حصہ اور بھی آیا ہے : اگر اللہ کے رسول کے قتال سے کوئی شخص یہاں لڑنے کی اجازت سمجھنے لگے تو اس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دے دی تھی ‘ تم کو نہیں دی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی اجازت دن کے ایک ساعت کیلئے دی تھی۔ اب اس کی حرمت دوبارہ ویسی ہی ہوگئی جیسے کل تھی۔ قصّہ شوال 9 ؁ھ میں جب یہ سورت نازل ہوئی تو حج کے اجتماع میں لوگوں کو سنانے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو بھیجا۔ نسائی نے حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا۔ ہم بھی آپ کے ساتھ گئے (مدینہ سے روانہ ہو کر) عرج میں پہنچے۔ صبح کی نماز کیلئے الصلٰوۃ خیر من النوم کی ندا ہوئی۔ حضرت ابوبکر تیار ہو کر (نماز کی) تکبیر کہنا ہی چاہتے تھے کہ پیچھے سے اونٹ کی آواز سنائی دی۔ آپ تکبیر کہنے سے رک گئے اور فرمایا : یہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی جدعاء کی آواز ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خود حج کرنے کا خیال پیدا ہوگیا اور آپ تشریف لے آئے۔ اگر ایسا ہے تو ہم حضور ﷺ کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ اتنے میں حضرت علی اونٹنی پر سوار تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر نے دریافت کیا : کیا آپ امیر حج ہو کر آئے ہیں یا قاصد ہو کر ؟ حضرت علی نے جواب دیا : قاصد ہو کر۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اسلئے بھیجا ہے کہ مواقف حج میں لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنا دوں۔ 1 ؂ غرض ہم مکہ پہنچے اور یوم تردیہ سے ایک دن پہلے (یعنی 7؍ذی الحجہ کو) حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا اور لوگوں کے سامنے آداب حج بیان کئے۔ جب خطبہ سے فارغ ہوگئے تو حضرت علی کھڑے ہوگئے اور آخر تک سورة برأت پڑھی۔ پھر ہم حضرت ابوبکر کے ساتھ نکل آئے۔ جب عرفہ کا دن ہوا تو پھر حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور آداب حج سکھائے اور جب آپ خطاب سے فارغ ہوگئے تو حضرت علی کھڑے ہوئے اور سورة برأت آخر تک پڑھ کر سنائی۔ پھر قربانی کا دن ہوا اور ہم چلے تو حضرت ابوبکر نے پھر لوگوں کو خطاب کیا ‘ روانگی اور قربانی کے احکام اور دوسرے مناسک حج بتائے اور آپ کے بعد حضرت علی کھڑے ہوئے اور لوگوں کو پوری برأت کی سورت پڑھ کر سنائی۔ پھر واپسی کا پہلا دن ہوا تو حضرت ابوبکر نے لوگوں کو خطاب کیا ‘ واپسی کی کیفیت اور پتھریاں مارنے کا طریقہ اور دوسرے آداب بیان کئے اور آپ کے بعد حضرت علی نے کھڑے ہو کر سورة برأت پوری پڑھ کر سنائی۔ (4) [ حضرت عروہ راوی ہیں کہ 9 ؁ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر بھیجا اور آداب حج ان کو لکھ کر دے دئیے اور حضرت علی کو سورة برأت کی آیات دے کر حضرت ابوبکر کے ساتھ بھیج دیا اور ان کو حکم دے دیا کہ مکہ ‘ منٰی ‘ عرفات اور تمام مقامات حج میں اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد جو مشرک حج کرے گا یا جو برہنہ طواف کعبہ کرے گا ‘ اس (کی سلامتی) کا ذمہ دار نہ اللہ ہے نہ اللہ کا رسول۔ اور جس کا کوئی معاہدہ اللہ کے رسول سے ہوچکا ہے ‘ اس کیلئے رسول اللہ نے چار ماہ کا وقت مقرر کردیا۔ حضرت علی اونٹنی پر سوار ہو کر چل دئیے اور تمام مواقف حج میں جا کر علی الاعلان سب کو براءۃ من اللہ ورسولہ اور یا بنی اَدَمَ خُذُوا زینتَکُمْ عِنْدَ کُلَّ مَسْجِدٍپڑھ کر سنایا۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ (اول) رسول اللہ ﷺ نے (سورۂ ) برأت حضرت ابوبکر کو دے کر بھیجا تھا ‘ پھر واپس بلوا لیا اور فرمایا : یہ کام سوائے اس شخص کے جو میرے گھر والوں میں سے ہے ‘ اور کسی کیلئے زیبا نہیں۔ چناچہ حضرت علی کو آپ نے طلب فرما کر سورة برأت ان کو دے کر بھیجا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة برأت (اوّل) حضرت ابوبکر کو دے کر مکہ والوں کے پاس بھیجا تھا ‘ پھر ان کے پیچھے حضرت علی کو بھیجا اور حضرت علی نے حضرت ابوبکر سے برأت کے اعلان کا اختیار لے لیا۔ حضرت ابوبکر کو کچھ اس کا احساس ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا : ابوبکر ! سوائے میری ذات یا میرے گھر والوں میں سے کسی شخص کے ‘ اور کوئی اس (خدمت) کو ادا نہیں کرسکتا (ورنہ عرب یقین نہیں کریں گے) ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے ‘ ترمذی نے اس روایت کو حسن اور حاکم نے صحیح بھی کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور حکم دیا کہ ان کلمات (آیات) کی منادی کریں ‘ پھر حضرت ابوبکر کے پیچھے حضرت علی کو انہی (آیات) کا اعلان کرنے کیلئے بھیج دیا۔ حسب الحکم دونوں حضرات گئے ‘ دونوں نے حج کیا اور ایام تشریق میں حضرت علی نے اعلان کیا : اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌٓ مِّنْ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلِہٗ فَسِبْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھَر اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ کعبہ کا طواف کرے اور جنت میں سوائے مؤمن کے اور کوئی نہیں جائے گا۔ حضرت علی یہ اعلان کر رہے تھے ‘ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی یہی اعلان کیا۔] بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سال حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر بھیجا اور آپ کے بعد حضرت علی کو اپنی عضباء اونٹنی پر سوار کر کے بھیجا تاکہ سورة برأت کا ابتدائی حصہ اجتماع حج میں لوگوں کو سنا دیں اور یہ بھی اختیار دے دیا کہ مکہ اور منٰی اور عرفات میں اعلان کردیں کہ (آئندہ) ہر مشرک سے اللہ اور اللہ کے رسول کی ذمہ داری اٹھ گئی اور کوئی شخص برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف نہ کرے۔ حضرت ابوبکر (حضرت علی کو اپنے پیچھے آتا دیکھ کر) لوٹ آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میری بابت کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ فرمایا : مناسب نہیں کہ اس (اعلان برأت) کو کوئی شخص بھی (لوگوں تک) پہنچائے ‘ سوائے اس شخص کے جو میرے گھر والوں میں سے ہو (کیونکہ کسی دوسرے کے اعلان کا لوگوں کو یقین نہیں آئے گا) ابوبکر ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو (یعنی تمہاری خوشی کیلئے یہ بات کافی نہیں ہے) کہ تم میرے ساتھ غار میں تھے اور (قیامت کے دن) میرے حوض پر میرے ساتھی ہو گے ؟ حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! بلاشبہ میں اس پر راضی ہوں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر امیر حج ہو کر اور حضرت علی سورة برأت کا اعلان کرنے کیلئے چل دئیے۔ سات تاریخ ہوئی تو حضرت ابوبکر نے لوگوں کو خطاب کیا اور مناسک حج سمجھائے اور حج کرایا۔ عرب اس سال تک حج کے معاملہ میں اپنے جاہلی دستور کے پابند تھے۔ جب قربانی کا دن ہوا تو حضرت علی نے کھڑے ہو کر وہی اعلان کیا جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور سورت برأت سب کو پڑھ کر سنائی۔ زید بن تیغ کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت علی سے دریافت کیا : آپ کو کیا پیام دے کر بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : چار باتوں (کا اعلان کرنے) کیلئے مجھے بھیجا گیا : (1) آئندہ ننگا ہو کر کوئی شخض کعبہ کا طواف نہ کرے۔ (2) جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی میعادی معاہدۂ (صلح) ہو ‘ وہ اپنی مقررہ میعاد تک معاہدہ پر رہے گا اور جس کا کوئی معاہدہ نہ ہو ‘ اس کیلئے چار ماہ کی میعاد دی جاتی ہے۔ (3) جنت میں سوائے مؤمن کے اور کوئی داخل نہ ہوگا۔ (4) اس سال کے بعد مؤمنوں کے ساتھ مشرکوں کا اجتماع نہ ہوگا (یعنی مشرک حج نہ کرسکیں گے) ۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر نے مجھے دوسرے اعلان کرنے والوں کے ساتھ قربانی کے دن منٰی میں یہ اعلان کرنے کیلئے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی برہنہ آدمی کعبہ کا طواف نہیں کرے گا۔ حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ حمید کی یہ بھی روایت ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا کر حکم دیا کہ وہ برأت کا اعلان کردیں۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا : پھر حضرت علی نے بھی ہمارے ساتھ منٰی کے اجتماع میں قربانی کے دن اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے گا اور نہ کوئی برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرے گا۔ نتیجہ : اس قصہ سے صراحت کے ساتھ ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو امارت حج سے معزول نہیں کیا تھا اور حضرت علی کو صرف ان آیات کا اعلان کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ حضرت علی کو اس خدمت پر مامور کرنے کی وجہ یہ تھی کہ عرب کے دستور کے مطابق معاہدات کا انعقاد یا شکست قوم کا سردار یا سردار کے خاندان کا کوئی فرد ہی کرسکتا تھا (دوسرا کوئی نہیں کرسکتا تھا) رسول اللہ ﷺ نے اسی عذر کو ساقط کرنے کیلئے حضرت علی کا اس خدمت پر تقرر کیا تاکہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ معاہدہ کی یہ شکست تو ہمارے رواج کے خلاف ہے (ہم اس کو تسلیم نہیں کرسکتے) رسول اللہ ﷺ کے فرمان لا ینبغی لاحد ان یبلغ ھذا الارجل من اھلی کا یہی مطلب ہے (اس سے حضرت ابوبکر کی تنقیص لازم نہیں آتی) حضرت انس کی روایت سے امام احمد اور ترمذی نے حدیث مذکور انہی الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔ ہم نے جو قصہ نقل کیا ہے ‘ اس کا کچھ حصہ مسند احمد سے اور کچھ حصہ دلائل بیہقی سے لیا ہے جو حضرت ابن عباس کی روایت سے آیا ہے اور کچھ حصہ تفسیر ابن مردویہ سے اخذ کیا ہے جو حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے منقول ہے۔ فان تبتم فھو خیر لکمج پس اگر تم (کفر سے اسلام کی طرف) لوٹ آؤ گے تو (دنیا و آخرت میں) تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ وان لولیتم اور اگر (توبہ اور اسلام سے) پشت موڑ لو گے۔ فاعلموا انکم غیر معجزی اللہ ط تو سمجھ رکھو کہ تم اللہ کو ہرانے والے نہیں۔ اس کی گرفت سے نہیں بچ سکتے ‘ نہ اس سے بھاگ سکتے ہو۔ کلام کا کچھ حصہ حذف کردیا گیا ہے ( پورا کلام اس طرح تھا : اگر تم پشت موڑ لو گے تو جان رکھو کہ اللہ تم کو دنیا اور آخرت میں عذاب دے گا کیونکہ تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے) ۔ وبشر الذین کفروا بعذاب الیم۔ اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ دنیا میں قتل و قید کی شکل میں اور آخرت میں دوزخ کی صورت میں۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے

الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیءًا ولم یظاہر واعلیکم احدا فاتموا الیھم عھدتم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین۔ سوائے ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کرلیا ہو اور انہوں نے معاہدہ کی تکمیل میں کوئی کمی نہ کی ہو اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہ کی ہو تو ان سے کیا ہوا معاہدہ میعاد مقررہ تک پورا کرو۔ بلاشبہ اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔ اور وفاء معاہدہ بھی تقوے کا تقاضا ہے ‘ لہٰذا معاہدہ کو پورا کرو۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ عَاھَدْتُمْ مِّنْ الْمُشْرِکَیْنَ سے اسثناء ہے اور اس استثناء سے ایک تو ہم کا ازالہ ہو رہا ہے کہ تم کو ان مشرکوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے معاہدہ کرنے کے بعد تم سے عہدشکنی کی ہو یا تم سے ان کا کوئی معاہدہ ہی نہ ہوا ہو۔ باقی وہ مشرکین جن سے تمہارا میعاد ی یا غیرمیعادی معاہدہ ہوگیا ہے اور انہوں نے عہدشکنی بھی نہیں کی ہے ‘ ان سے لڑنے کا حکم نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بنی کنانہ کی ایک شاخ بنی حمزہ نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر رکھا تھا اور عہدشکنی بھی نہیں کی تھی اور میعاد معاہدہ میں نو مہینے باقی تھے ‘ معاہدین سے یہی لوگ مراد ہیں۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

فاذا انسلخ الا شھرا الحرم پھر جب ماہہائے حرام گذر جائیں۔ انسلاخ کا مادہ سلخ ہے ‘ سلخ الشاۃ بکری کی کھال اتارنا۔ انسلاخ کا معنی ہے کسی چیز کا اپنے غلاف سے برآمد ہوجانا۔ مجاہد اور ابن اسحاق نے کہا : اشہر حرم سے مراد ہیں معاہدہ کے مہینے جن کی میعاد چار ماہ ہے اور جن لوگوں سے معاہدہ نہ ہو ‘ ان کیلئے اشہر حرم کی آخری حد ماہ محرم کی آخری تاریخ ہے ‘ یعنی (10؍ذی الحجہ سے جو اعلان برأت کی اوّلین تاریخ تھی) پچاس دن۔ ان کو حُرُم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے مشرکوں کا خون بہانا اور ان سے لڑنا ان مہینوں کے اندر مسلمانوں کیلئے حرام کردیا ہے۔ مجاہد کے اس قول پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ تو پچاس دن ہوں گے ‘ اشہر حرم پورے تو نہ ہوں گے ‘ اشہر حرم کا جزء اور حصہ ہوں گے اور اللہ نے اشہر حرم کا گذر جانا فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ چونکہ 10؍ ذی الحجہ سے آخر محرم تک ایک ایسی مدت تھی جس کا اتصال پچھلے مہینوں سے تھا ‘ اسلئے اشہرحرم کا لفظ ذکر کردیا گیا۔ گویا مراد یہ ہے کہ جب بقیہ مدت آخر محرم تک گذر جائے جو 10؍ ذی الحجہ سے پہلے گذرے ہوئے مہینوں کو ان سے ملا کر اشہر حرم بن جاتی ہے۔ یہ خواہ مخواہ کی توڑ مروڑ ہے ‘ صحیح یہی ہے کہ اشہر حرم ہر سال کے چار مہینے ہیں (ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ ‘ محرم اور رجب) ۔ فاقتلوا المشرکین تو (سوائے معاہدین اور پابند معاہدہ لوگوں کے) سب مشرکوں کو قتل کرو۔ حیث وجدتموھم جہاں ان کو پاؤ۔ اکثر اہل تفسیر نے لفظ حیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ حرم کے اندر ہو یا باہر ‘ جہاں پاؤ مارو۔ یہ تفسیر احادیث مبارکہ کے خلاف ہے۔ حرم کے اندر قتال کی رسول اللہ ﷺ نے ممانعت فرما دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے دن ہی اللہ نے اس شہر کو باحرمت بنا دیا تھا ‘ پس قیامت تک یہ شہر خداداد حرمت کی وجہ سے حرام رہے گا۔ مجھ سے پہلے یہاں کسی کیلئے لڑنا حلال نہیں کیا گیا اور میرے لئے صرف ایک ساعت کیلئے یہاں قتال کی حلت ہوئی۔ اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے قتال کرنے سے اس جگہ قتال کرنے کو مباح قرار دے تو اس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی ‘ تم کو نہیں دی اور میرے لئے بھی قتال کی اجازت دن میں ایک ساعت کیلئے تھی۔ اب اس کی حرمت لوٹ کر ویسی ہی ہوگئی جیسے کل تھی۔ یہ دونوں حدیثیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہیں۔ اِلٰی یوم القیامۃ (روز قیامت تک) کا لفظ صاف بتارہا ہے کہ حرم کے اندر حرمت قتال منسوخ نہیں ہوئی ‘ نہ ہوسکتی ہے۔ پس آیت میں حیث سے مراد عام جگہ ضرور ہے ‘ مگر حرم کے علاوہ۔ مسئلہ : اگر مشرک حرم کے اندر یا ماہہائے حرام میں اپنی طرف سے جنگ چھیڑ دیں (اور حرم و اشہر حرم کا لحاظ نہ کریں) تو ایسی صورت میں مسلمانوں کیلئے بھی (جوابی) جنگ کرنی جائز ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اَلشَّھْرُ الْحَرَام بالشَّھْرِ الْحَرامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ الخیہ مسئلہ سورة البقرہ میں تفیصل سے ذکر کردیا گیا ہے۔ وخذوھم اور ان کو پکڑو ‘ یعنی قیدی بناؤ۔ اَخِیذ کا معنی ہے قیدی۔ واحصروھم اور ان کو گھیرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مشرک قلعہ بند ہوجائیں تو ان کا محاصرہ کرلو ‘ نکلنے نہ دو تاکہ وہ مجبور ہو کر یا جنگ کریں ‘ یا مسلمان ہوجائیں ‘ یا جزیہ ادا کرنا قبول کریں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مکہ میں داخل ہونے اور ممالک اسلامیہ میں گھومنے پھرنے سے کافروں کو روک دو ۔ واقعدوا لھم کل مرصدٍج اور ان کی تاک میں ہر کمین گاہ میں بیٹھو۔ مرصد گھات کا مقام جہاں سے دشمن کی نگرانی رکھی جاتی ہے۔ رَصَدت الشَّیْءَ میں نے اس چیز کی تاک لگائی۔ مطلب یہ ہے کہ تم مشرکوں کی گھات میں لگے رہو کہ جس طرف سے وہ آئیں ‘ تم ان کو گرفتار کرلو تاکہ مکہ میں داخل ہونے اور ملک میں پھیلنے نہ پائیں۔ فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم۔ پھر اگر وہ (شرک سے) توبہ کرلیں اور نماز قائم (کرنے کا اقرار) کریں اور زکوٰۃ ادا کریں (یعنی نماز و زکوٰۃ کے فرض ہونے کا اعتراف کریں) تو ان کا راستہ چھوڑ دو (معاف کر دو ) بیشک اللہ (توبہ کرنے والے کو) معاف کرنے والا ‘ مہربانی کرنے والا ہے۔ حسن بن فضیل نے کہا : اس آیت سے ان تمام آیات کے احکام کو منسوخ کردیا جن میں مسلمانوں کو کافروں کے ظلم و ایذا پر صبر کرنے اور درگذر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں

وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یمسع کلام اللہ ثم ابلغہ ما منہ ط اور اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو اتنی مدت کیلئے پناہ دے دو کہ وہ اللہ کا کلام سن لے ‘ پھر اس کو اس کے امن کے مقام تک (بحفاظت) پہنچا دو ۔ یعنی اگر وہ اسلام نہ لائے تو اس کی قوم کی بستی تک بحفاظت اس کو پہنچا دو ۔ اس کے بعد اگر وہ تم سے لڑے تو تم بھی لڑو اور قابو مل جائے تو قتل کر دو ۔ ذلک بانھم قوم لا یعلمون۔ یہ (وقتی امن یا یہ حکم) اسلئے ہے کہ یہ لوگ بےسمجھ ہیں۔ یعنی حق و باطل کا ان کو امتیاز نہیں ہے۔ کلام اللہ سننا ان کیلئے ضروری ہے تاکہ ان کو (اوّل) علم تو ہوجائے (کہ اللہ کا کیا پیام ہے اور اسلام کیا ہے اور اللہ نے کیا فرمایا ہے) حسن نے کہا : یہ آیت محکم ہے ‘ اس کا حکم قیامت تک کیلئے ہے۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ ان مشرکین (قریش) کا عہد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کیسے قابل رعایت رہے گا۔ کیف یا یکون کی خبر ہے یا للمشرکین کی یا عند اللہ کی۔ اور استفہام انکار تعجبی کیلئے ہے ‘ یعنی یہ بات نہایت بعید ہے کہ باوجود بدکار اور اہل عناد ہونے کے مشرکین عہد کے پابند رہیں اور عہدشکنی نہ کریں ‘ یا یہ بات بعید ہے کہ مشرکین تو کئے ہوئے عہد کو توڑیں اور اللہ اور اللہ کا رسول اس عہد کی پابندی رکھیں۔ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرامج سوائے ان لوگوں کے جن سے مسجد حرام کے پاس تم نے معاہدہ کیا ہے۔ یہ استثناء مشرکین سے ہے ‘ اگر مشرکین سے مراد عہدشکن مشرک ہوں تو استثناء منقطع ہوگا (کیونکہ مستثنیٰ منہ مستثنیٰ کو شامل ہی نہ ہوگا) اس وقت الاَّ بمعنی لٰکِنَّ کے ہوگا (اور اگر مشرکین کے لفظ کو عموم پر رکھا جائے تو استثناء متصل اور الذین محل نصب میں ہوگا یا مشرکین سے بدل ہوگا اور محل جر میں ہوگا۔ فما استقاموا لکم فاستقیموا لھمط پس جب تک وہ تمہارے معاہدہ پر ٹھیک ٹھیک قائم رہیں ‘ تم بھی ان کے معاہدہ پر قائم رہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اَلَّذِیْنَ عَاھَدْتُمْ سے مراد قریش ہیں۔ قتادہ نے کہا : اہل مکہ مراد ہیں جن سے حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے معاہدہ کیا تھا۔ حدیبیہ کے معاہدہ والوں کے متعلق توقف رکھنے کا اللہ نے حکم دیا کہ جب تک یہ معاہدہ کے پابند رہیں ‘ تم بھی پابند رہو۔ لیکن وہ معاہدہ پر قائم نہیں رہے ‘ عہد شکنی کے مرتکب ہوگئے۔ بنی خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کی ‘ اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے جہاد کیا ‘ یہاں تک کہ مکہ فتح کرلیا۔ پھر امان کا عمومی اعلان کردیا اور چار ماہ کے اندر دو باتوں میں سے ایک بات اختیار کرلینے کا حکم دیا : یا تو چار ماہ کے اندر مسلمان ہوجائیں ‘ یا مکہ چھوڑ کر جہاں چاہیں چلے جائیں۔ اہل مکہ سب کے سب چار ماہ گذرنے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے۔ سدی ‘ کلبی اور ابن اسحاق کا بیان ہے کہ قبائل بنی بکر کی تین شاخیں : بنی خزیمہ ‘ بنی مدلج ضمرہ اور بنی وئل حدیبیہ کے معاہدہ میں قریش کے ساتھ شریک تھے (کیونکہ یہ قبائل قریش کے حلیف تھے) اس معاہدہ کی خلاف ورزی قریش اور بنی وئل نے کی ‘ بنی ضمرہ نے نہیں کی۔ پس آیت میں جن لوگوں کے معاہدہ کو قائم رکھنے کا حکم ہے ‘ وہ صرف بنی ضمرہ تھے ‘ انہوں نے عہد شکنی نہیں کی تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہی قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب قریش کی عہدشکنی کی پاداش میں مسلمانوں نے لشکرکشی کر کے مکہ فتح کرلیا تھا۔ اب جو بات گذر گئی ‘ اس کے معلق فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ کیسے کہا جاسکتا تھا بلکہ یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کے متعلق الاَّ الَّذِیْنَ عَاھَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُضُوْکُمْ شَیْیءًا وَّلَمْ یُظَاھِرُوْا علَیْکُمْ اَحَدًا فرمایا تھا ‘ یعنی وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے قریش کی طرح عہد شکنی نہیں کی اور رسول اللہ ﷺ کے حلفاء یعنی بنی خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد نہیں کی۔ ان اللہ یحب المتقین۔ بیشک اللہ تقویٰ والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور وفاء عہد پر قائم رہنا تقویٰ کی ایک شاخ ہے۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

کیف کیسے۔ تعجب کا مکرر اظہار کیا ‘ اس سے مقصود علت تعجب کا اظہار ہے ‘ یعنی یہ لوگ عہد پر کیسے قائم رہ سکتے ہیں ‘ یا ان لوگوں سے عہد کو پورا کرنے کا کیسے حکم دیا جاسکتا ہے حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ وان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہط حالانکہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں نہ قول وقرار کا۔ لا یرقبوا نگہداشت نہیں کریں گے۔ ضحاک نے کہا : لحاظ نہیں کریں گے۔ قطرب نے کہا : رعایت نہیں کریں گے۔ اِلاًّ قتادہ نے کہا : حلف کا۔ حضرت ابن عباس نے الاًّ کا ترجمہ کیا ہے قرابت۔ یمان نے رشتہ داری اور سدی نے عہد۔ ذِمَّۃً کا ترجمہ بھی عہد ہی ہے ‘ لفظوں کا اختلاف ہے۔ بعض نے الاًّ کا ترجمہ تربیت کیا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اِلٌّکا معنی ہے جوار (ہمسائیگی اور پناہ) اسی سے حلف کے معنی میں استعمال کیا گیا۔ عرب کا قاعدہ تھا کہ جب باہم محالفہ (بحلف باہمی امداد کا معاہدہ) کرتے تھے تو اس محالفہ کو شہرت دیتے اور بلند آواز سے اعلان کرتے تھے (گویا ہر معاہد فریق دوسرے کا حلیف اور مددگار بن جاتا تھا) اس کے بعد اس لفظ کا استعمال قرابت کے مفہوم میں ہونے لگا کیونکہ قرابت کا رابطہ حلف کی بندش سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے ‘ پھر اس کا معنی ہوگیا ربوبیت اور تربیت (تربیت کرنے والا ‘ تربیت پانے والے کا مکمل ذمہ دار ہوتا ہے ‘ عقد تربیت بہت زیادہ محکم ہوتا ہے) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ اِلٌّبمعنی قرابت اَلَّ الشَّیْءَسے مشتق ہے ‘ اَلَّ الشَّیْءَ کا معنی ہے اس چیز کی حد بندی کردی ‘ محدود کردیا۔ یا اَلَّ البرقُ (بجلی چمکی) سے ماخوذ ہے۔ ابو مجیز اور مجاہد نے کہا : اِلٌّ عبرانی لفظ ہے۔ عبرانی میں اس کا معنی ہے اللہ۔ حضرت عبید بن عمر جبْرَءِلّ پڑھتے تھے جس کا ترجمہ ہے بندۂ خدا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ مسیلمۂ کذاب کی قوم کے کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان سے مسیلمہ کا خط پڑھوایا ‘ انہوں نے خط پڑھا۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یہ کلام ال (یعنی اللہ) کا نہیں۔ اس ترجمہ کی تائید عکرمہ کی قرأت سے ہوتی ہے جس میں لاَ یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ الاًّ آیا ہے کسی مؤمن کے معاملہ میں وہ اللہ کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ قاموس میں ہے : اِل بکسر ہمزہ کا معنی ہے عہد ‘ حلف ‘ پناہ گیر ‘ پناہ دہندہ ‘ قرابت کھری اصل ‘ معدن ‘ کینہ ‘ دشمنی ‘ ربوبیت (پرورش) وحی ‘ امان ‘ مصیبت کے وقت بےصبری ‘ اللہ۔ ہر اسم مرکب جس کا دوسرا جزء اِل ہو (جیسے جبرئل ‘ میکائل) وہاں ال کا معنی اللہ ہوتا ہے۔ ذمۃ عہد یا وہ حق جس کا ترک قابل عیب اور برا ہو۔ یرضونکم بافوا وتابٰی قلوبھم واکثرھم فسقون۔ یہ لوگ تم کو اپنی زبانی باتوں سے راضی کر رہے ہیں اور ان کے دل ان باتوں کو نہیں مانتے اور ان میں زیادہ آدمی شریر ہیں۔ یعنی بطور نفاق و فریب ‘ ایمان ‘ اطاعت اور وفاء عہد کی باتیں کرتے ہیں تاکہ تم راضی ہوجاؤ اور دلوں میں کفر و عداوت کو پوشیدہ رکھتے ہیں کہ اگر ان کو کامیابی ہوجائے اور قابو مل جائے تو زبانوں سے کہے ہوئے اقوال کے خلاف کرنے لگیں۔ ان میں اکثر عہدشکن ہیں۔ آیت بالا میں فسق سے مراد ہے عہدشکنی۔ بعض مشرک وعدے کے پکے اور معاہدہ کے پختہ تھے ‘ عہدشکنی سے نفرت کرتے تھے۔ سب ہی غدار نہ تھے ‘ اسلئے اکثر کو فاسق فرمایا ‘ کل کو عہد شکن نہیں فرمایا۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلاً فصدوا عن سبیلہط انہوں نے قرآن کے عوض لے لیاتھوڑا مول ‘ اسی لئے اللہ کی راہ سے لوگوں کو روک دیا۔ آیات اللہ سے مراد ہے قرآن مجید اور اشترائ سے مراد ہے عوض میں لے لینا اور ثمن سے مراد ہے دنیا کی متاع حقیر (خواہ کتنی ہی زیادہ ہو) بغوی نے لکھا ہے کہ ابو سفیان کا کھانا کھانے کے عوض انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کئے ہوئے معاہدہ کو توڑ دیا۔ مجاہد نے کہا کہ ابو سفیان نے ان سب لوگوں کو کھانا کھلایا تھا جن سے اس کا باہمی امداد کا معاہدہ تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اہل طائف نے قریش کو مالی امداد دی تھی تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے قوت کے ساتھ جنگ کرسکیں۔ راہ خدا سے مراد ہے اللہ کا دین۔ فصدوا میں فاء (تعلیلیہ یا تعقیبیہ) دلالت کر رہی ہے کہ دنیا کے عوض آیات اللہ کو فروخت کرنے نے ان کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ لوگوں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روکنے لگے۔ انھم سآء ما کانوا یعملون۔ بلاشبہ ہوتے ہیں ان کے کرتوت۔
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

لا یرقبون فی مؤمن الا ولا ذمۃ ط مؤمن کے معاملہ میں وہ نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں نہ دوستی اور قول وقرار کا۔ یہ سابق آیات کی تکرار نہیں ہے بلکہ ما کانوا یعملون کی تشریح ہے۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ پہلی آیت لاَ یَرْقُبُوْنَسے مراد تو عام منافق ہیں اور اس جگہ لا یرقبون سے مراد یہودی اور وہ عرب مراد ہیں جن کو ابوسفیان نے جمع کر کے کھانا کھلایا تھا (اور مسلمانوں کے مقابلہ میں لایا تھا) ۔ واولئک ھم المعتدون۔ اور یہ ہی بلاشبہ (شرارت اور بدی میں) حد سے بڑھ جانے والے ہیں۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوا لکم فی الدین ط پھر اگر یہ (شرک) سے توبہ کرلیں اور ٹھیک ٹھیک نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ یعنی ان کا نفع و ضرر تمہارا نفع و ضرر ہے۔ ونفصل الایت لقوم یعلمون اور جاننے والے لوگوں کی تنبیہ کیلئے ہم آیات (احکام) الگ الگ بیان کر رہے ہیں۔ معاہدہ کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے احکام کی تفصیل پر غور کرنے کی ترغیب دینے کیلئے یہ جملہ الگ مستقل طور پر ذکر کیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت نے اہل قبلہ کے خون کو حرام کردیا (کسی شخص یا فرقہ کی خوں ریزی بشرطیکہ وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہو ‘ جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے ‘ پس جو شخص زکوٰۃ نہ دے ‘ اس کی نماز بھی (قابل اعتبار) نہیں۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے اور (اداء زکوٰۃ کا انکار کر کے) جن عربوں کو منکر اسلام ہونا تھا ‘ وہ منکر ہوگئے (اور حضرت ابوبکر نے ایسے مرتدوں سے جہاد کا ارادہ کیا) تو حضرت عمر نے فرمایا : اپ ان لوگوں سے قتال کرنا چاہتے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم اس وقت تک ہے جب تک وہ لا اِلٰہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں۔ جب وہ اس کلمۂ توحید کے قائل ہوجائیں تو ان کی جان و مال میری طرف سے محفوظ ہوجائیں گے (ہاں حق العباد کے تحت محفوظ نہ رہے گا) اور (ان کے خلوص یا نفاق) کی حساب فہمی اللہ کے ذمہ ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : جو شخص نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا ‘ خدا کی قسم ! میں اس سے لڑوں گا۔ زکوٰۃ مال کا حق ہے (یعنی مالی عبادت ہے) اگر یہ لوگ بکری کا ایک بچہ بھی (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) دیتے تھے اور اب نہ دیں گے تو میں ان سے قتال کروں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے اس فیصلہ کیلئے ابوبکر کے سینہ کو کھول دیا (اس وقت میں نہ سمجھا ‘ بعد کو) مجھے معلوم ہوا کہ یہی فیصلہ حق ہے۔ حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ہماری (جیسی) نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا ‘ وہی مسلم ہے جس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہے۔ راوہ البخاری۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ لاَ اِلٰہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہوجائیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں۔ جب وہ ایسا کرنے لگیں گے تو میری طرف سے ان کی جانیں اور مال محفوظ ہوجائیں گے ‘ مگر بحق (قانون) اسلام (وہ ماخوذ ہوں گے) اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ مسلم نے یہ آخری جملہ نقل نہیں کیا ہے۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں

وان نکثوآ ایمانھم من بعد عھدھم وطعنوا فی دینکم اور اگر وہ معاہدہ کرنے کے بعد پیمان شکنی کریں اور تمہارے دین پر طنز کریں۔ یعنی تمہارے دین کی تکذیب وتشنیع کریں۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دین اسلام پر کھلم کھلا طنز کرے ‘ اس کا معاہدہ (مسلمانوں سے) قائم نہیں رہتا (یعنی یہ فعل خلاف معاہدہ ہے) میں کہتا ہوں : بغوی کا یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ معاہدۂ امن کی شکست کا حکم تو دو شرطوں کے مجموعہ پر مبنی ہے : ایک یہ کہ کفار پیمان شکنی کریں ‘ دوسرا یہ کہ وہ دین اسلام پر طنز کریں۔ اگر ایک شرط موجود ہو تو تنہا اس پر حکم مرتب نہیں ہوسکتا۔ فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لآ ایمانن لھم پس تم ان پیشوایان کفر سے لڑو ‘ کیونکہ اس صورت میں ان کی قسمیں (باقی) نہیں رہیں۔ ائمتھم (ان کے پیشوا) کی جگہ ائمۃ الکفر (کفر کے پیشوا) فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ مقاتلہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کے سردار اور پیشوا ہیں ‘ کفر کی سرداری نے ہی ان کو مستحق قتل بنا دیا ہے۔ بعض کے نزدیک ائمۃ الکفر سے مراد مشرکوں کے سردار اور لیڈر ہیں ‘ یعنی اہل مکہ کیونکہ ان سے مقاتلہ کی اہمیت زیادہ تھی اور وہ ہی قتل کے زیادہ مستحق تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت ابوسفیان بن حرب ‘ حارث بن ہشام ‘ سہیل بن عمرو ‘ عکرمہ بن ابی جہل اور دوسرے سرداران قریش کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے عہدشکنی کی تھی اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو مکہ سے نکال دینے کا ارادہ کیا تھا (بلکہ نکلنے پر مجبور کردیا تھا) اَیْمان ‘ یمین کی جمع ہے ‘ یمینکا معنی ہے عہد ‘ یعنی جب انہوں نے معاہدات توڑ دئیے تو پھر تم پر بھی معاہدات کی پابندی واجب نہیں۔ قطرب نے لَآ اَیْمَانَ لَھُمْکا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ معاہدات کے پابند نہیں۔ بعض قرأتوں میں لَآ اَیْمَانَ لَھُمْآیا ہے ‘ یعنی ان کا دین ایمان کچھ نہیں یا ایمان ‘ امن سے مشتق ہے ‘ یعنی ان کو امن نہ دو ‘ جہاں پاؤ قتل کر دو ۔ لعلھم ینتھون۔ اس مقصد سے کہ یہ باز آجائیں۔ یہ عبارت قاتلوا سے وابستہ ہے اور بیچ میں لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ جملۂ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں سے لڑنے کی غرض یہ ہونی چاہئے کہ وہ شرک اور گناہ سے باز آجائیں۔ ظالموں کی طرح اذیت رسانی مقصود نہ ہو ‘ نہ بادشاہوں کی طرح ملک و مال کا حصول پیش نظر ہو۔ اس سے آگے مسلمانوں کو جہاد پر برانگیختہ کرنے کیلئے فرمایا :