9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری ہے)

یہ مکمل سورت مدنی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کی دو آیتیں مکی ہیں، اس سورت میں دو ہزار چار سو سرسٹھ کلمات اور دس ہزار حروف ہیں۔ (1) یہ ان لوگوں سے اعلان برأت ہے جنہوں نے بدعہدی کی، برأت کے معنی نقص عہد کردینا ہے ،
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

(2) جن کفار کا رسول اکرم ﷺ کے ساتھ عہد صلح تھا ان میں سے بعض نے بدعہدی کی چناچہ ان میں سے بعض قبیلوں کے ساتھ تو چار مہینوں کا معاہدہ تھا اور بعض کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ کا اور بعض سے چار مہینوں سے کم کا اور بعض سے نو مہینوں کا معاہدہ تھا اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ ان کے اور رسول اکرم کے درمیان کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ لہذا بنی کنانہ کے علاوہ جن سے نوماہ کا معاہدہ تھا باقی سب قبیلوں نے بد عہدی کردی۔ لہذا اس بدعہدی اور نقص عہد کے بعد جن قبیلوں کا معاہدہ چار مہینوں سے زیادہ یا اس سے بھی کم کا تھا آپ ﷺ نے یوم النحر سے چار مہینوں تک ان کا معاہدہ کردیا، اسی طرح ان قبیلوں کا جن کا معاہدہ صرف چار مہینوں کا تھا ان کو بھی بدعہدی کے بعد یوم النحر سے چار مہینوں کی مہلت دے دی۔ اور جن کا نومہینوں کا معاہدہ تھا ان کو اسی حالت پر قائم رہنے دیا اور جن کے ساتھ کوئی معاہدہ کی وجہ سے امن کے ساتھ چار مہینے تک زمین میں چل پھر لو۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول ﷺ بھی (ان سے دستبردار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ !) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو۔

(3) یہ انکار کرنے والی جماعت چار ماہ کے بعد عذاب الہی سے جو ان کے قتل کی صورت میں ہوگا کہیں بچ کر نہیں جاسکتے اور چار ماہ کے بعد اللہ تعالیٰ کافروں کو قتل کی سزا دینے والا ہے اور یہ یوم النحر کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ دونوں مشرکین کے دین اور ان کے معاہدہ سے جس کی انہوں نے بدعہدی کی ہے دست بردار ہوتے ہیں۔ پھر اگر تم لوگ کفر سے توبہ کرلو اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن پر ایمان لے آؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر ایمان اور توبہ سے روگردانی کرتے رہو گے تو تم جان لو کہ عذاب الہی کو تم اپنے سے الگ نہیں کرسکتے اور ماہ کے بعد قتل کی سزا جھیلو گے۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور نہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(4) البتہ بنی کنانہ اس سے مستثنی ہیں جن سے حدیبیہ کے بعد نوماہ کا معاہدہ ہوا تھا مگر انہوں نے عہد شکنی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف تمہارے کسی دشمن کی مدد کی، سو ان کی نوماہ کی مدت معاہدہ کو پورا کردو۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(5) اور جب اشہرحرم پورے ہوجائیں تو اس جماعت کو جس کو صرف پچاس دن کی مہلت دی تھی، حل و حرم میں جہاں ملیں قتل کردو یا ان کو قید کو لو اور مکانوں میں باندھو اور جن رستوں پر سے یہ تجارت کے لیے آتے جاتے ہیں ان موقعوں کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر یہ کفر سے توبہ کرلیں اور ایمان باللہ کے قائل ہوجائیں اور پانچ وقتہ نمازیں ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اقرار کرلیں تو ان کو مکانوں سے رہا کر دو کیوں کہ جو ان میں سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والے ہیں اور جو توبہ پر مرجائے تو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو۔ اس لئے کہ یہ بیخبر لوگ ہیں۔

(6) اور جو اس زمانہ میں بغرض تلاش حق آپ سے امن طلب کرے تو اسے امن دے دیجیے تاکہ وہ آپ کی زبان مبارک سے کلام الہی سن لے پھر اگر وہ ایمان نہ لائے تو اس کو اس کے وطن جانے دے دیجئے یہ حکم اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ احکام الہی اور توحید الہی کی خبر نہیں رکھتے۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بیشک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(7) اللہ تعالیٰ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے کس طرح معاہدہ قائم رہ سکتا ہے، البتہ بنی کنانہ جنہوں نے حدیبیہ کے سال کے بعد معاہدہ کیا ہے تو جب تک یہ عہد پورا کریں تم بھی اس کو پورا کرو، اللہ تعالیٰ بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

(8) اور ان لوگوں کا عہد کیسے قابل رعایت رہے گا، حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پاجائیں تو وہ پھر تمہارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی قول وقرار کا صرف اپنی زبانی باتوں سے تمہیں یہ لوگ راضی رکھتے ہیں۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

(9) اور ان میں سب لوگ ہی بدعہدی کے مرتکب ہونے والے ہیں، ان لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے مقابلہ میں دنیا کی متاع اور فائدہ کو اختیار کر رکھا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی فرماں برداری سے ہٹے ہوئے ہیں، یہ جو حق کو چھپا رہے ہیں یقیناً ان کا یہ عمل بہت ہی برا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

(10) یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ کسی قرابت کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی قول وقرار کا اور اللہ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ یہی لوگ بعدعہدی وغیرہ کے ذریعہ حرام کاموں کے مرتکب ہورہے ہیں۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

(11) اگر یہ لوگ کفر سے باز آئیں اور توبہ کرکے ایمان باللہ کے قائل ہوجائیں اور پانچویں نمازوں اور ادائیگی زکوٰۃ کے پابند ہوجائیں تو پھر یہ لوگ تمہارے دینی بھائی ہوں گے۔ ہم سمجھدار اور یقین رکھنے والوں کے لیے قرآن حکیم میں اوامرو نواہی کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔

(12) اور اگر یہ مکہ والے بعدعہدی کریں اور دین اسلام پر طعن وتشنیع کریں تو آئمۃ الکفر یعنی ابوسفیان وغیرہ سے خوب لڑو کیوں کہ ان کی قسمیں باقی نہیں رہیں ممکن ہے کہ یہ بدعہدی سے باز آجائیں۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) ﷺ کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی ؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔

(13) تم لوگ مکہ والوں سے کیوں نہیں لڑتے، جنہوں نے اپنے ان معاہدوں کو جو کہ تمارے اور ان کے درمیان تھے توڑ ڈالا ہے اور رسول اکرم ﷺ کے قتل کرنے کی تجویز کی، چناچہ وہ دارالندوہ میں مشورہ کے لیے جمع ہوئے انہوں نے پہلے عہد شکنی کی ہے کہ اپنے خلفاء بنی بکر کی رسول اکرم ﷺ کے خلفاء بنی خزاعہ کے خلاف مدد کی۔
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔

(14) اے مسلمانوں کی جماعت کیا ان سے لڑنے میں ڈرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کے حکم کی خلاف ورزی میں ان سے ڈرا جائے ان سے تلواروں کے ساتھ لڑو، اللہ تعالیٰ ان کو شکست دے کر ذلیل کرے گا اور تمہیں غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف بنی خزاعہ کے دلوں کو خوشی عطا فرمائے گا کہ فتح مکہ کے دن تھوڑی سی دیر کے لیے حرم میں ان کے لیے قتال حلال ہوجائے گا۔ شان نزول : (آیت) ”قاتلوھم یعذبہم اللہ“۔ (الخ) ابوالشیخ ؒ نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت بنو خزاعہ کے قبیلے کے بارے میں اتری ہے جس وقت وہ بنو بکر کو مکہ مکرمہ میں قتل کررہے تھے اور حضرت عکرمہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت بنو خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور انکے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کریگا اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

(15) اور ان کے دلوں کی جلن کو دور کرے گا اور ان میں سے جو توبہ کرے گا، اس پر توجہ فرمائیں گے اور جس نے توبہ کی اور جس نے توبہ نہیں کی سب سے اللہ تعالیٰ باخبر ہیں اور جو ان کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے اس میں حکم والے ہیں، یا یہ کہ ان کے قتل اور ان کی شکست کا فیصلہ فرمایا ہے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیے جاؤ گے ؟ اور ابھی تو خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے (سب) کاموں سے واقف ہے۔

(16) اے مسلمانوں کی جماعت کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور تمہیں جہاد کا حکم نہیں دیا جائے گا حالانکہ ابھی ظاہری طور پر تو اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دیکھا ہی نہیں اور جنہوں نے کافروں کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ جہاد وغیرہ میں نیکی اور برائی ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں (جبکہ) وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

(17) شرک کرنے والوں کی یہ لیاقت نہیں، کیونکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کا اقرار کرتے ہیں ان کے زمانہ کفر کی تمام نیکیاں برباد ہوگئیں ان لوگوں کو دوزخ میں نہ موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے باہر نکالے جائیں گے ،
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں گے۔

(18) مسجد حرام کو آباد کرنا تو ان ہی لوگوں کا کام ہے جو بعث بعد الموت پر ایمان لاتے ہیں اور پانچوں نمازیں اور زکوٰۃ کو ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے ہیں تو ایسے لوگ یقیناً اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی حجت کو پالیں گے۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(19) یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جسے بدر کے دن قید کرلیا گیا تھا اس نے حضرت علی ؓ یا بدرین میں سے کسی پر فخریہ یہ اظہار کیا کہ ہم حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں اور فلاں فلاں کام کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے حجاج کو پانی پلانے کو اس شخص یعنی بدری کے عمل کے برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہو، یہ اعمال ثواب اور (وہ حضرات) اطاعت خداوندی میں برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کو جو کہ بذات خود اس کے اہل نہیں ہوتے اپنے دین کی سمجھ نہیں دیتا۔ شان نزول : (آیت) ”اجعلتم سقایۃ الحاج“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے علی بن ابی طلحہ ؓ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عباس ؓ غزوہ بدر کے دن جب قید کرلیے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ہم سے اسلام ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی بنا پر سبقت لے گئے ہو تو ہم بھی مسجد حرام کی خدمت کرتے ہیں اور حجاج کو پانی پلاتے اور غلاموں کو آزاد کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت امام مسلم ؒ ابن حبان ؒ اور ابوداؤد ؒ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں صحابہ کرام ؓ کی کچھ جماعت میں رسول اکرم ﷺ کے منبر کے پاس تھا تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اسلام کے بعد اگر صرف میں حاجیوں کو پانی پلاتا رہوں اور کوئی بڑی نیکی نہ کروں تو میرے لیے یہی کافی ہے، دوسرا کہنے لگا نہیں بلکہ مسجد حرام کی خدمت بڑی نیکی ہے اور تیسرے صاحب کہنے لگے کہ جن نیکیوں کا تم نے ذکر کیا ہے ان سب سے بڑھ کر نیکی جہاد فی سبیل اللہ ہے، حضرت عمر ؓ نے ان سب کو ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ کے منبر کے قریب آوازیں مت اونچی کرو اور یہ جمعۃ المبارک کا دن ہے۔ لیکن جب میں جمعۃ المبارک کی نماز پڑھ چکا تو میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جن باتوں میں ہمارے درمیان اختلاف ہورہا تھا ان کے متعلق آپ ﷺ سے دریافت کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری اور فریابی نے علامہ ابن سیرین سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فریابی نے علامہ ابن سیرین سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ مکہ مکرمہ آئے تو حضرت عباس ؓ سے فرمایا اے چچا آپ ہجرت کیوں نہیں کرتے اور رسول اکرم ﷺ کے پاس کیوں نہیں آجاتے، اس پر حضرت عباس ؓ نے فرمایا کیا آپ مسجد آباد کرتے ہیں اور بیت اللہ کی نگرانی کرتے ہیں چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور ایک قوم سے کہا کہ تم لوگ ہجرت کیوں نہیں کرلیتے اور رسول اکرم ﷺ کے پاس کیوں نہیں آجاتے وہ کہنے لگے ہم اپنے بھائیوں قبیلوں اور گھروں میں ٹھہرے ہوئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے اخیر تک یہ آیات نازل فرمائیں ، (آیت) ”قل ان کان ابآؤکم“۔ (الخ) اور عبدالرزاق نے شعبی سے اسی طرح روایت کیا ہے اور ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ طلحہ بن شیبہ اور حضرت عباس ؓ اور علی بن ابی طالب نے آپس میں فخر کیا طلحہ کہنے لگا میں بیت اللہ والا ہوں، میرے پاس بیت اللہ کی چابی ہے، حضرت عباس ؓ بولے میں صاحب سقایہ اور اس کا نگران ہوں، حضرت علی ؓ نے فرمایا میں نے لوگوں سے پہلے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے اور میں صاحب جہاد ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ تمام آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

(20) بیشک جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے اور اطاعت خداوندی میں اپنے مال و دولت خرچ کیے اور جہاد وہ بمقابل اہل سقایہ اور اہل عمارت وغیرہ کے درجہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی بڑے ہیں اور ان ہی حضرات نے جنت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور دوزخ سے مکمل نجات حاصل کی ہے۔
Ayah 9:21

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

(21) ان کا پروردگار ان کو عذاب سے نجات اور بڑی رضا مندی اور خوشنودی کی اور جنت کے باغوں اور اس کی ابدی نعمتوں کی خوشخبری دیتا ہے۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

(22) اور ان حضرات کو نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے، اللہ کے پاس ایسے شخص کے لیے جو اس پر ایمان لائے اجر عظیم ہے۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن بھائی) ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

(23) اور جو کافر رشتہ دار مکہ مکرمہ میں ہیں، اگر وہ کفر کو ایمان کے مقابلہ میں عزیز سمجھیں تو ان کو رفیق مت بناؤ اور جو ان کے ساتھ رفاقت رکھیں گے وہ ان ہی جیسے کافر ہیں۔ یا یہ کہ اے مومنوا اپنے ان مسلمان والدین اور بھائیوں کو جو مکہ مکرمہ میں ہیں اور تمہیں ہجرت سے روکتے ہیں، ان کو مدد میں اپنا رفیق مت بناؤ اگر وہ دار الکفر یعنی مکہ مکرمہ کو دار الاایمان یعنی مدینہ منورہ سے عزیز سمجھیں اور جو تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(24) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تمہارے یہ رشتہ دار اور تمہاری وہ قوم جو مکہ مکرمہ میں ہے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہو اگر یہ تمام چیزیں تمہیں اطاعت الہی اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو عذاب الہی یعنی فتح مکہ کے دن قتل ہونے کا انتظار کرو اور پھر اسکے بعد ہجرت کرتے پھرو اور اللہ تعالیٰ ان کافروں کو جو اس کے دین کے اہل نہیں ہوتے اپنے دین تک نہیں پہنچاتا۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرہّ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے۔

(25) قتال کے وقت بہت سے غزوات میں تمہیں غلبہ دیا اور خاص طور پر حنین کے دن بھی جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے جب کہ تمہیں اپنی جماعت پر جو کہ دس ہزار تھی جس کی زیادتی پر تمہیں غرور ہوگیا تھا مگر یہ زیادتی شکست سے روک نہ سکی اور خوف سے زمین باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی اور پھر تم دشمن سے جس کی تعداد چار ہزار تھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ شان نزول : (آیت) ”ویوم حنین“۔ (الخ) امام بیہقی ؒ نے دلائل میں ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حنین کے دن ایک شخص نے کہا کہ ہم کمی سے مغلوب نہیں ہوں گے اور صحابہ کرام ؓ تعداد میں بارہ ہزار تھے، رسول اکرم ﷺ کو یہ بات بری لگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور (تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

(26) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تسلی نازل فرمائی اور آسمان سے تمہاری مدد کے لیے فرشتے اتارے اور مالک بن عوف وہمانی کی قوم اور کنانۃ بن عبد یا لیل ثقفی کی قوم کو قتل وشکست کا عذاب دیا ان لوگوں کی یہی سزا ہے ،
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(27) پھر اس قتال اور شکست کے بعد جس نے ان میں سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی مغفرت فرمانے والے ہیں۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک تو نجس ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ بیشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

(28) مشرک عام برأت یعنی یوم النحر کے بعد حج اور طواف کے لیے نہ آئیں اور اگر تمہیں اس حکم کے اجراء میں فقر ومفلسی کا ڈر ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے طریقہ سے اپنا رزق خاص عطا فرمائے گا اور بکربن وائل کی تجارت سے تمہیں مالا مال کردے گا اور تمہاری روزیوں کو جاننے والا اور جو فیصلہ فرمایا ہے اس میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”وان خفتم عیلۃ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مشرکین بیت اللہ آیا کرتے اور اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں بھی لاتے تھے اور وہاں تجارت کرتے جب ان کو بیت اللہ آنے سے روک دیا گیا تو مسلمان کہنے لگے کہ اب کھانے پینے کی چیزیں کہاں سے آئیں گی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر تمہیں مفلسی اور ناداری کا اندیشہ ہو (الخ)۔ ابن جریر ؒ نے اور ابوالشیخ ؒ نے سعید بن جبیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت نازل ہوئی (آیت) ”انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام“۔ تو مسلمانوں پر یہ حکم طبعی طور پر شاق گزرا اور کہنے لگے کہ کھانے کی چیزیں اور دوسرے سامان ہمارے پاس کون لے کر آئے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ”وان خفتم عیلۃ“۔ (الخ) نیز اس طرح عکرمہ ؓ ، عطیہ ؓ ، عوفی ؓ ، ضحاک ؓ اور قتادہ ؓ وغیرہ سے روایات نقل کی گئی ہیں۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو لوگ اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

(29) اور جو جنت کی نعمتوں پر بھی ایمان نہیں رکھتے اور توریت میں جن چیزوں کو حرام کردیا گیا ہے ان کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی توحید کے قائل ہو کر جھکتے ہیں اب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، وہ یہود و نصاری ہیں ان لوگوں سے اس وقت تک جہاد کرو جب تک کہ وہ ماتحت اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور نہ کرلیں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح ؑ خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے۔ یہ بھی انہیں کی ریس کرنے لگے ہیں۔ خدا انکو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ؟

(30) یعنی مدینہ منورہ کے یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا اور نجران کے عیسائی حضرت مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے یہ انکی زبانی باتیں ہیں جو ان سے پہلے لوگوں یعنی کفار مکہ کے مشابہ ہیں۔ کیوں کہ وہ بھی اللہ معاف کرے اس بات کا دعوی کرتے تھے کہ لات، عزی اور منات خدا کی بیٹیاں ہیں اسی طرح یہود حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصاری میں سے بعض حضرت مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا اور بعض خدا کا شریک اور بعض بعینہ خدا اور بعض تین میں ایک کہتے ہیں خدا ان لوگوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے یہ خدا پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”وقالت الیھود“۔ (الخ) جناب ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ سلام بن مشکم اور نعمان بن اوفی اور محمد بن وحیہ اور شاس بن قیس اور مالک بن صیف یہ لوگ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم کس طرح آپ کی پیروی کریں حالانکہ آپ نے ہمارے قبلہ کو چھوڑ دیا اور حضرت عزیر ؑ کو آپ خدا کا بیٹا بھی نہیں کہتے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہودیوں نے کہا کہ حضرت عزیر ؑ خدا کے بیٹے ہیں۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سواء کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

(31) ان یہودیوں نے اپنے علماء کو اور عیسائیوں نے اپنے مشائخ کو رب بنارکھا ہے معصیت خداوندی میں ان کی اطاعت کرتے ہیں اور حضرت مسیح ؑ کو بھی ایک اعتبار سے خدا بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو تمام آسمانی کتب میں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کریں
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔

(32) یہ چاہتے ہیں کہ دین الہی کو اپنے جھوٹ اور اپنی زبان درازیوں سے مٹا ڈالیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب تک کہ اپنے دین اسلام کو وہ غالب نہ کردے گو کہ کفار کو یہ چیز ناگوار گزرے۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

(33) اس ذات نے رسول اکرم ﷺ کو قرآن و ایمان اور دین اسلام یعنی شہادت ”اشھد ان لاالہ اللہ“۔ دے کر بھیجا تاکہ قیام قیامت تک دین اسلام کو تمام سابقہ دینوں پر غلبہ دے دے اگرچہ مشرکین اس سے کتنے ہی ناخوش ہوں،
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مومنو ! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انکو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سنا دو۔

(34) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو، اکثر علماء یہود اور مشائخ نصاری رشوت اور حرام کا مال کھاتے ہیں اور دین الہی اور اطاعت سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان خزانوں کو اطاعت خداوندی میں خرچ نہیں کرتے اور اس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اے محمد ﷺ آپ انھیں درد ناک سزا کی خبر سنا دیجیے۔
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا پھر اس سے ان (بخیلوں) کی بیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا کہ) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔

(35) جو کہ اس دن واقع ہوگی، جب ان کو ان خزانوں یا آگ پر ڈال کر تپایا جائے گا اور پھر ان خزانوں سے ان کی پیشانیوں وغیرہ کو داغا جائے گا اور ان کو یہ بتلا دیا جائے گا کہ یہ اس کی سزا ہے جو تم لوگ دنیا میں اپنے لیے مال جمع کر رکھتے تھے، سو اب اس جمع کرنے کا مزہ چکھو۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا اور اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو۔ جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

(36) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوح محفوظ میں سال کا شمار مہینوں کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی سال کے بارہ مہینے جن میں زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے، ابتدا آفرینش ہی سے ان مہینوں میں سے چار خاص مہینے یعنی رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم احترام کے مہینے ہیں یہ حساب اس طریقہ پر مستقیم ہے، جس میں کسی قسم کی کمی زیادتی نہیں ہوتی، لہٰذا تم ان مہینوں یا ان خاص احترام کے مہینوں میں نافرمانی کرکے اپنا نقصان نہ کرنا۔ اور ان تمام مشرکین سے حل وحرم میں ہر جگہ لڑو، جیسے وہ تم سے لڑے اور اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو کفر وشرک اور فواحش اور بدعہدی اور اشہر حرام میں قتال کرنے سے بچتے ہیں۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ (کرتا) ہے۔ اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اسکو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کیئے ہیں گنتی پوری کرلیں اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کرلیں۔ انکے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(37) اور نیز ماہ محرم کو صفر تک موخر کردینا یہ نافرمانی اور کفر میں زیادتی ہے جس سے عام کفار غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ چناچہ وہ محرم کو کسی سال حلال سمجھ کر اس میں قتال کرلیتے ہیں اور کسی سال اسے حرام سمجھ کر اس میں قتال نہیں کرتے، چناچہ جب وہ ماہ محرم کو حلال کرتے ہیں تو اس کے بدلے صفر کو حرام کرلیتے ہیں تاکہ چار محترم مہینوں کی گنتی پوری ہوجائے، پھر اللہ تعالیٰ کے حرام کیے ہوئے مہینے کو حلال کرلیتے ہیں، ان کی بداعمالیاں ان کو مستحسن معلوم ہوتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسے شخص کو توفیق نہیں دیتا جو اس کا اہل نہیں ہوتا اور یہ کارگزاریاں نعیم بن ثعلبہ نامی ایک شخص کیا کرتا تھا۔ شان نزول : (آیت) ”انما النسیء“ (الخ) ابن جریر ؒ نے مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ کافر سال کے تیرہ مہینے بنا لیتے تھے، چناچہ محرم کو صفر بناکر اس میں حرام چیزوں کو حلال کرلیتے تھے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

مومنو ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو ؟ یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہونگے) اور تم اسکو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

(38۔ 39) اے جماعت صحابہ کرام ؓ تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اطاعت خداوندی یعنی غزوہ تبوک میں جاؤ تو تم زمین پر لگے جاتے ہو کیا تم لوگوں نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی ہے حقیقت میں دنیاوی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں، یعنی اگر تم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دیں گے اور تمہارے بجائے تم سے بہترین اور زیادہ اطاعت کرنے والی قوم پیدا کرے گا، اور تمہارا جہاد کے لیے نہ نکلنا دین الہی کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ عذاب دینے اور تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ شان نزول : یایھا الذین امنوا مالکم اذا قیل لکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب فتح مکہ اور حنین کے بعد غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ گرمیوں کے زمانہ میں جب پھل پک رہے تھے اور سایوں کی حاجت تھی اس وقت جہاد میں جانے کا حکم ہوا تو ان کو ذرا مشکل لگا تو یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ تھوڑے سامان سے اور زیادہ سامان سے نکل کھڑے ہو۔ شان نزول : (آیت) ”الا تنفروا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے نجرہ بن تفیع ؒ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ ؒ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبائل عرب کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو ان پر گراں گزرا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لہٰذا بارش بند ہوگئی اور یہی ان کا عذاب تھا۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم پیغمبر ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو خدا ان کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب انکو کافروں نے گھر سے نکال دیا (اس وقت) دو (ہی شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکر ؓ تھے) دوسرے (خود رسول اللہ ﷺ جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر ﷺ اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

(40) اگر تم لوگ غزوہ تبوک میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکل کر آپ کی مدد نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو آپ ﷺ کی اس وقت بھی مدد کرچکا ہے، جب کہ مکہ کے کافروں نے آپ ﷺ کو جلاوطن کیا تھا، جب کہ رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دونوں غار میں موجود تھے اور رسول اکرم ﷺ کئے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمائی، بدر، احزاسب، اور حنین کے دن ملائکہ کے لشکر سے آپ ﷺ کو قوت بخشی اور کافروں کے دین کو مغلوب اور ذلیل کیا اور اللہ ہی کا بول بالا رہا اور اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے دوستوں کی مدد فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں۔