9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ان مشرکوں کی طرف بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا۔

یہ پوری کی پوری سورت مدنی ہے جو فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں نازل ہوئی۔ چونکہ سورة توبہ اور انفال میں ذکر ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، اس لیے ان دونوں سورتوں کو ایک سورت کے حکم میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی گئی اور یہ سبع طوال (سات لمبی سورتوں) میں سے ساتویں سورت ہے، جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأَوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَھُوَ حَبْرٌ) ”جس نے قرآن مجید کی یہ پہلی سات سورتیں حاصل کرلیں وہ بہت بڑا عالم بن گیا۔“ [ أحمد : 6؍82، ح : 24585، عن عائشۃ ؓ ] اس کے کئی نام ہیں جن میں سے ایک ”توبہ“ اور دوسرا ”براء ۃ“ ہے۔ ”توبہ“ اس اعتبار سے کہ اس میں ایک مقام پر بعض اہل ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اور ”براء ۃ“ اس لحاظ سے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے براءت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو ”سورة الفاضحہ“ یعنی (منافقوں کو) رسوا کرنے والی سورت بھی کہتے ہیں۔ اس سورت کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی جاتی، مفسرین نے اس کی متعدد وجوہ بیان کی ہیں، مثلاً یہ کہ اس میں مشرکین سے قطع تعلق اور مسلمان نہ ہونے کی صورت میں ان کے قتل کا حکم ہے اور اہل کتاب کے مسلمان نہ ہونے یا جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان سے مسلسل لڑتے رہنے کا حکم ہے وغیرہ، مگر سب سے معقول اور سیدھی سادھی بات یہ ہے کہ چونکہ نبی ﷺ نے اس کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھوائی، اس لیے صحابہ کرام ؓ نے نہیں لکھی۔ بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان تمام معاہدوں کی تنسیخ کا اعلان فرمایا ہے جو مسلمانوں نے مشرکوں سے کیے تھے۔ منسوخ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین ان عہد ناموں کو بار بار توڑ دیتے تھے اور ان کی شرائط کو پورا نہیں کرتے تھے، خصوصاً جب آپ ﷺ فتح مکہ کے بعد تبوک گئے تو کفار نے سمجھا کہ مسلمان رومیوں کی طاقت کے مقابلے میں فنا ہوجائیں گے، اس لیے انھوں نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے کیے ہوئے کسی عہد کا لحاظ رکھا نہ باہمی رشتہ داری کا، فرمایا : (لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً) [ التوبۃ : 10 ] ”یہ لوگ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا۔“ اور فرمایا : (اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ) [ التوبۃ : 13 ] ”کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں۔“ مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم دیکھو کہ ان مشرکین کو اچانک حملہ کر کے برباد کرنے کے بجائے پہلے تمام عہد منسوخ کرنے کا اعلان دنیا کے سب سے بڑے مجمع میں کیا گیا۔ 9 ھ میں ابوبکر صدیق ؓ کی زیر امارت حج کے دن دس ذوالحجہ یوم نحر کو میدان منیٰ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کی موجودگی میں اعلان ہوا اور کئی آدمی مقرر کیے گئے، جنھوں نے اس مجمع کے ہر مقام پر پہنچ کر بلند آواز کے ساتھ یہ اعلان کیا۔ اس سال رسول اللہ ﷺ کے خود حج پر نہ جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس اعلان کے بعد ہی مکہ میں مشرکوں کا داخلہ بند ہوا اور ان کی بےحیائی کی رسمیں ختم ہوئیں۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو اس سرزمین میں چار ماہ چلو پھرو اور جان لو کہ بیشک تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور یہ کہ یقینا اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ : یہ اللہ تعالیٰ کا مزید کرم تھا کہ مشرکین کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے چار ماہ کی مہلت دی گئی، جس کی ابتدا 10 ذوالحجہ یوم النحر سے ہوئی، کیونکہ اس دن یہ اعلان کیا گیا اور 10 ربیع الثانی کو یہ مدت ختم ہوگئی۔ اس مہلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ اتنی مدت میں اپنے بارے میں خوب سوچ سمجھ لیں، پھر یا تو مسلمان ہوجائیں یا سر زمین عرب سے باہر کسی ملک میں اپنا ٹھکانا بنالیں۔ اگر وہ اس کے بعد بھی باقی رہیں تو انھیں پکڑ کر، گھیر کر، گھات لگا کر جیسے بھی ممکن ہو قتل کردیا جائے۔ یہ چار ماہ کی مدت ان لوگوں کے لیے تھی جن سے معاہدے کی مدت چار ماہ سے کم باقی تھی، یا معاہدہ تو زیادہ مدت کا تھا مگر انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی، یا مدت کے تعین کے بغیر معاہدہ تھا، البتہ وہ قبائل جن سے کسی خاص مدت تک معاہدہ تھا اور انھوں نے معاہدے کی کسی قسم کی مخالفت بھی نہ کی تھی ان کا عہد ان کی مدت تک پورے کرنے کا حکم دیا گیا، فرمایا : (فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ) [ التوبۃ : 4 ] ”تو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرو۔“ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ : مشرکوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہلت مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے نہیں دی گئی بلکہ اس میں کئی حکمتیں ہیں، ورنہ تم لوگ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں، اگر تم کفر پر قائم رہے تو خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔ دیکھیے سورة انفال کی آیت (59) کے حواشی۔ غرض صرف بیت اللہ ہی نہیں پورے جزیرۂ عرب کو مشرکین کے نجس وجود سے پاک کردیا گیا۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ موڑو تو جان لو کہ یقینا تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور جنھوں نے کفر کیا انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔

وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ : یوم حج اکبر سے مراد 10 ذوالحجہ ہے، جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے مجھے ان لوگوں کے ہمراہ بھیجا جو قربانی کے دن منیٰ میں اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور حج اکبر کا دن یوم النحر (قربانی کا دن) ہے، کیونکہ لوگ (عمرے کو) حج اصغر کہتے تھے، چناچہ ابوبکر صدیق ؓ نے اس سال صاف اعلان کروا دیا، تو حجۃ الوداع جس میں نبی کریم ﷺ نے حج کیا، کسی مشرک نے حج نہیں کیا۔ [ بخاری، الجزیۃ و الموادعۃ، باب کیف ینبذ إلی أہل العھد ؟ : 3177 ] اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ جو اس حج کو حج اکبر کہتے ہیں جو جمعہ کے دن آئے ان کی بات درست نہیں۔ ابوہریرہ ؓ ہی سے ایک روایت میں مزید اضافہ ہے کہ پہلے آپ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو یہ اعلان دے کر بھیجا، پھر آپ نے ان کے بعد علی ؓ کو بھیجا کہ وہ (رسول اللہ ﷺ کی طرف سے) یہ اعلان کریں، چناچہ ابوبکر ؓ ، جو امیر حج تھے، ان کے حکم پر میں نے، میرے ساتھیوں نے اور علی ؓ نے منیٰ میں یہ اعلان کیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (و أذان من اللہ۔۔) : 4656 ] مسند احمد میں ہے کہ چار ماہ کی مہلت دینے، ننگے کو طواف کی اجازت ختم کرنے اور آئندہ سال کسی مشرک کے حج نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کرتے تھے کہ جنت میں ایمان والوں کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔ [ أحمد : 2؍299، ح : 7996 ] وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا : یہ اعلان تاکید کے لیے دوبارہ کیا گیا، تاکہ کافر اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے کسی طرح بھی بچ نکلنے والے نہ سمجھیں۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر مشرکوں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد کیا، پھر انھوں نے تم سے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یعنی معاہدوں کی پاس داری میں کوئی کمی نہ کرنے والے مشرکوں کے لیے چار ماہ کی مہلت نہیں بلکہ ان کے لیے معاہدے کی طے کردہ مدت پوری کرو، کیونکہ تقوے کا تقاضا عہد پورا کرنا ہے اور اللہ متقین سے محبت رکھتا ہے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ : ان چار مہینوں سے مراد 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الثانی تک کے ایام ہیں۔ بعض لوگوں نے اس سے معروف حرمت والے مہینے مراد لیے ہیں، یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ 10 ذوالحجہ کو اعلان براءت ہو تو محرم ختم ہونے تک کل پچاس دن بنتے ہیں، اس لیے حافظ ابن کثیر اور دوسرے مفسرین نے 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الثانی تک ہی چار ماہ مراد لیے ہیں اور انھیں ”الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ“ اس لیے کہا گیا کہ اس مہلت میں مشرکین کا قتل حرام کردیا گیا، یہی تفسیر درست ہے۔ كُلَّ مَرْصَدٍ : گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزرنے کی توقع ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کرنا ممکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں، بلکہ جس طریقے سے بھی تم ان پر قابو پا کر انھیں قتل کرسکتے ہو ضرور کرو۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جن سے وعدہ ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے کچھ وعدہ نہ تھا ان کو فرصت ملی چار مہینے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دل کی خبر اللہ کو ہے، ظاہر میں جو مسلمان ہو وہ سب کے برابر امان میں ہے اور ظاہر مسلمانی کی حد ٹھہرائی ایمان لانا، کفر سے توبہ کرنا اور نماز اور زکوٰۃ۔ اس واسطے جب کوئی شخص نماز چھوڑ دے تو اس سے امان اٹھ گئی۔“ (موضح) یہی وہ حکم ہے جس کی بنا پر ابوبکر صدیق ؓ نے زکوٰۃ کے منکرین سے جنگ کی اور فرمایا کہ میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا اور عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ (تین) کام کرلیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب : (فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ۔۔) : 25 ] یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی شہادت میں آپ کے تمام احکام کی فرماں برداری کا اقرار آجاتا ہے، اگر ان میں سے کسی حکم کا انکار کرے، جو عام سب کو معلوم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے تو مرتد ٹھہرے گا اور اگر کسی حکم کا انکار تو نہ کرے مگر عمل نہ کرسکے تو گناہ گار مسلمان ہوگا، کافر نہیں ہوگا۔ البتہ مسلمان ہونے کی ظاہری نشانیاں وہ ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ان کا صرف اقرار کرنا یا دل میں ماننا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل کرنا خون اور مال کی حفاظت کا ضامن ٹھہرایا گیا ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پر پہنچا دے۔ یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ : یعنی امن کی مدت گزرنے کے بعد اگر کوئی مشرک، جس سے تمہارا کوئی عہد نہیں، تم سے درخواست کرے کہ مجھے اپنے ہاں پناہ دو تو اسے پناہ دے دو ، تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے اور اگر آیا ہی اسلام کو سمجھنے یا اپنے شبہات دور کرنے کے لیے ہے تو اسے بدرجۂ اولیٰ پناہ دینی چاہیے۔ اب اگر وہ اسلام لانے کے لیے آمادہ نہ ہو اور اپنے ٹھکانے پر واپس جانا چاہے تو تم اسے اس کے ٹھکانے پر پہنچا دو ، کیونکہ ان لوگوں کو اسلام کی حقیقت معلوم نہیں، ممکن ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سن کر، ان کا معاشرہ اور اخلاق و کردار دیکھ کر مسلمان ہوجائیں، پھر جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے تو دوسرے مشرکین کی طرح اسے مارنا اور قتل کرنا جائز ہے، اس سے پہلے جائز نہیں۔ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے اور کوئی بھی مسلمان ہو وہ کافر کو پناہ دے سکتا ہے، خواہ مسلمانوں میں اس کی حیثیت معمولی ہو اور تمام مسلمانوں پر یہ پناہ پوری کرنا لازم ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر ام ہانی ؓ نے ایک مشرک کو پناہ دی، پھر نبی ﷺ کی خدمت میں آکر یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا : ”ہم نے اسے پناہ دی جسے تم نے پناہ دی، ہم نے اسے امان دی جسے تم نے امان دی۔“ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب فی أمان المرأ ۃ : 2763۔ بخاری : 357 ] حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کو پناہ دینے سے اصل مقصود دعوت دین، قرآن سنانا اور اسلام کا تعارف کروانا ہے، پھر اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو انھیں جلدی رخصت کردینا چاہیے، یہ نہیں کہ وہ اپنے اڈے بنا کر جاسوسی کریں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

ان مشرکوں کا اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ممکن ہے، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا۔ سو جب تک وہ تمہارے لیے پوری طرح قائم رہیں تو تم ان کے لیے پوری طرح قائم رہو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ : یعنی وہ لوگ جو ہیں ہی مشرک، جنھوں نے اپنے خالق کی توحید کا عہد ہی پورا نہیں کیا، ان کی طرف سے کوئی عہد پورا ہونا کیسے ممکن ہے، وہ تو جو عہد کرتے ہیں توڑ ڈالتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : ان سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر پہلے (اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ) [ التوبۃ : 4 ] میں گزر چکا ہے۔ صلح حدیبیہ جو رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان دس سال کے لیے قرار پائی، یہ صلح نامہ چونکہ حدود حرم کے اندر قرار پایا تھا، اس لیے اسے ”عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ فرما دیا۔ (ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس عہد پر قائم رہے ان سے قتال مت کرو۔ اس معاہدے میں شرط یہ تھی کہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوں گے اور نہ دوسرے کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اس معاہدے میں بنو خزاعہ مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے، مگر کچھ عرصہ بعد بنو بکر اور بنو خزاعہ کے درمیان لڑائی چھڑ گئی اور مشرکین نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے رمضان 8 ھ کو مکہ پر حملہ کر کے اسے فتح کرلیا۔ (ابن کثیر) ابن جریر طبری نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد بنو بکر کے وہ قبائل ہیں جو صلح حدیبیہ والے اپنے عہد پر قائم رہے اور انھوں نے بنو خزاعہ پر نہ حملہ کیا، نہ اس میں مدد کی، کیونکہ ان آیات کے نزول کے وقت فتح مکہ کو ایک سال گزر چکا تھا، قریش کو ان کی بد عہدی کی سزا بھی مل چکی تھی۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”صلح والے تین قسم فرمائے، ایک جن سے مدت نہیں ٹھہری، ان کو جواب دیا (کہ تم کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے) مگر جو مکہ کی صلح میں شامل تھے (تو) جب تک وہ دغا نہ کرے، یہ ادب ہے مکہ کا اور تیسرے جن سے مدت ٹھہری وہ صلح قائم رہی، لیکن آخر سب مشرک عرب کے ایمان لائے۔“ (موضح) ”اسْتَقَامُوْا“ میں حروف ”سین“ اور ”تا“ کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ”پوری طرح قائم رہیں“ کیا گیا ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : اور عہد کا پورا کرنا بھی متقی ہونے کے لیے ضروری شرط ہے۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیسے ممکن ہے جبکہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا، تمہیں اپنے مونہوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان کے اکثر نافرمان ہیں۔

كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا : مشرکین سے ”براءت“ کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے معاہدے کا کوئی اعتبار نہیں، یہ لوگ زبان سے دوستی اور وفاداری کی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ اگر کبھی موقع مل جائے تو معاہدے کو پس پشت ڈال کر ان مسلمانوں کو کچا چبا ڈالیں۔ ”اَلْاِلُّ“ کے معنی عہد، حلف، قرابت سبھی آتے ہیں اور یہاں آگے ”ذِمَّةً“ (عہد) الگ ذکر ہونے کی وجہ سے قرابت مراد ہے۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انھوں نے اللہ کی آیات کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت لے لی، پھر انھوں نے اس کے راستے سے روکا۔ بیشک یہ لوگ برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا : یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کے مفاد کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام کو رد کردیا، پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ خود اسلام نہیں لائے، بلکہ دوسروں کو بھی اسلام کی راہ اختیار کرنے سے روکتے رہے۔ (شوکانی)
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

وہ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : ان کی مذمت کی تاکید کے لیے دوبارہ ان کے اس فعل بد کا تذکرہ فرمایا۔ بعض مفسرین نے پہلی آیات سے مراد تمام مشرکین اور ان آیات سے مراد یہود مدینہ لیے ہیں، کیونکہ اللہ کی کتاب انھی کے پاس تھی جس کی آیات پر عمل کر کے مسلمان ہونے کے بجائے وہ دنیا کے مفاد کو ترجیح دیتے تھے، اگرچہ اللہ کے احکام کو رد کر کے دنیا کے مفاد کو ترجیح دینا مشرکین و یہود سب کا وتیرہ ہے۔ اس صورت میں ”بِاٰيٰتِ اللّٰهِ“ سے مراد نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی آیات ہوں گی۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ : یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی انھی کی طرف سے ہوئی۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : یعنی ایمانی اخوت، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة حجرات (10) میں کیا ہے : (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ)”مومن تو سب بھائی ہی ہیں“ وہ ان تین چیزوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ ان تین چیزوں سے انھیں اسلامی معاشرے میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ جو فرمایا بھائی ہیں حکم شرع میں، اس میں سمجھ لیں کہ جو شخص قرائن سے معلوم ہو کہ ظاہر میں مسلمان ہے اور دل سے یقین نہیں رکھتا تو چاہے اسے حکم ظاہری میں مسلمان گنیں، مگر معتمد اور دوست نہ پکڑیں۔“ (موضح) یہ بات پہلے بھی گزری ہے یہاں مزید تاکید ہوگئی کہ نماز اور زکوٰۃ کا محض اقرار ہی اخوت دینی کے لیے کافی نہیں بلکہ عملاً ان کی ادائیگی امت مسلمہ میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے اور مسلمان حاکم پر لازم ہے کہ ان کی عدم ادائیگی پر باز پرس کرے اور سزا دے اور اگر وہ ان کی ادائیگی سے انکار یا انھیں مذاق کریں تو ابوبکر ؓ کی طرح انھیں مرتد قرار دے کر ان سے جنگ کی جائے۔ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : جاننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نافرمانی کا انجام سمجھتے اور اس کا خوف اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، ایسے ہی لوگ ہیں جو اس کی آیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بیشک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔

وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ : یعنی جن لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ نہ صرف تم سے معاہدہ کر کے اسے توڑتے ہوں بلکہ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے، اس میں طعن کرتے اور عیب نکالتے ہوں تو سمجھ لو کہ یہی ”اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ“ (کفر کے سردار) ہیں۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں، لہٰذا تم ان لوگوں کو کسی قسم کا موقع دیے بغیر ان سے جنگ کرو، تاکہ تمہاری تلواروں کی کاٹ سے وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن کرنے والا اور رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرنے والا واجب القتل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ تمام کفار سے جنگ کی، مگر دین میں طعن، اسلام اور مسلمانوں کی توہین اور آپ ﷺ کی توہین کرنے والوں کے قتل کا خاص اہتمام فرمایا۔ کعب بن اشرف یہودی اور ابو رافع یہودی وغیرہ کو فدائی حملوں کے ذریعے سے قتل کروانے کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر بد زبانوں کا خون رائگاں قرار دینا بھی اس کی مثال ہے۔ کفار کی طرف سے عہد توڑنے کے بعد اگر ان سے جنگ نہ کی جائے تو یہ مسلمانوں کی طرف سے بیحد کمزوری کا اظہار اور انتہا درجے کی ذلت اور بےغیرتی ہوگی، اس لیے رسول اللہ ﷺ عہد توڑنے والوں سے در گزر نہیں فرماتے تھے، بلکہ فوراً انھیں ان کے انجام تک پہنچاتے تھے۔ بنو قریظہ اور اہل مکہ کے عہد توڑنے پر رسول اللہ ﷺ کی کارروائی اس کی روشن مثال ہے، مگر افسوس آج کفار کے اپنے تمام معاہدے توڑنے کے باوجود مسلمان حکام ان سے خوف زدہ اور خاموش ہیں۔ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ : اللہ تعالیٰ نے کفار کے کسی عہد و پیمان کے معتبر نہ ہونے کا جو ذکر فرمایا یہ واقعی حقیقت ہے جس کا ثبوت نصرانیوں کا اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینا ہے اور وہ سلوک بھی جو تاتاریوں نے مسلمانوں خصوصاً بغداد کے مسلمانوں کے ساتھ 656 ھ میں کیا اور جو کچھ ہندوؤں نے پاکستان آنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا اور اب تک کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں سے کر رہے ہیں اور جو کچھ روس اور دوسری کمیونسٹ ریاستوں نے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے لیے کیا اور اب امریکہ، یورپ اور پورا عالم کفر جس طرح عراق، افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اور جھوٹے الزام گھڑ کر وہ تمام عہد جو اقوام متحدہ کے ذریعے سے کیے تھے، پس پشت ڈال کر اسلام اور مسلمانوں کو برباد کر رہا ہے، یہ سب کفار کے کسی عہد کے عہد نہ ہونے کی واضح مثالیں ہیں۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت بلیغ طریقے سے کفار کے خلاف جنگ پر ابھارا ہے اور انھیں جوش اور غیرت دلائی ہے کہ جن لوگوں کے یہ جرائم ہیں کیا تم ان کے خلاف بھی نہیں لڑو گے ؟ پھر ان کے تین جرم بیان فرمائے، پہلا یہ کہ انھوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے اور وہ قسمیں بھی جو عہد پختہ کرنے کے لیے کھائی تھیں، صلح حدیبیہ ہوجانے کے بعد بھی وہ بنو خزاعہ کے خلاف (جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی مدد کرتے رہے، حالانکہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسرا یہ کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو وہ آپ کے خلاف منصوبے سوچتے رہتے، جیسا کہ سورة انفال (30) میں گزر چکا ہے کہ قتل، قید اور کم از کم یہ کہ آپ کو مکہ سے نکال دیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ ﷺ نے خود اللہ کے حکم سے ہجرت کی اور تیسرا یہ کہ پہلی بار لڑنے کی ابتدا انھوں نے کی کہ بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ بچ گیا تھا تو انھوں نے واپس جانے کے بجائے خواہ مخواہ جنگ چھیڑی۔ اس کے بعد احد، خندق اور بنو خزاعہ کے خلاف جنگ کی ابتدا بھی انھوں نے کی۔ ان تینوں میں سے ہر جرم ہی ان سے لڑنے کا کافی سبب ہے، اب یہ تین سبب جمع ہونے پر بھی کیا تم ان سے نہیں لڑو گے ؟ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ : یہ بھی جنگ پر ابھارنے کا ایک زبردست طریقہ ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ کیا تم دشمنوں سے ڈرتے ہو ؟ غیرت مند یہی کہے گا اور کر کے دکھائے گا کہ نہیں، میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا، پھر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ تم تو اللہ پر ایمان و یقین رکھنے والے ہو کہ فتح و شکست اور نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، ایسی صورت میں تو لازماً حق بنتا ہے کہ تم کفار کے بجائے اللہ سے ڈرو اور ان سے قتال کرو۔
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔

قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ : ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں جو سب کے سب پورے فرمائے، پہلا یہ کہ ”يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ“ یعنی پہلی قوموں پر اللہ کی طرف سے قدرتی آفات کے ذریعے سے عذاب آتا تھا، اب تم ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہوگا۔ دوسرا یہ کہ ”يُخْزِهِمْ“ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا۔ تیسرا یہ کہ ”وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ“ ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں غلبہ عطا کرے گا۔ اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہوسکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہوجائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔ چوتھا یہ کہ ”وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ“ تمہارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔ ان سے مراد وہ مسلمان ہیں جو مکہ اور دوسری جگہوں میں کفار کی ایذا کا نشانہ بنے۔ بعض نے فرمایا کہ ان سے مراد بنو خزاعہ ہیں جنھیں بنو بکر اور قریش نے بد عہدی کرکے سخت نقصان پہنچایا اور واقعی یہ لوگ بھی کفار کے زخم خوردہ لوگوں میں شامل تھے اور پانچواں یہ کہ ”وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ“ ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ شفائے صدور ہی کی تاکید ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک الگ نعمت ہے۔ شفائے صدور سے مراد ان ظالموں کا قتل اور ان کی رسوائی ہے اور دلوں کا غصہ دور کرنے سے مراد مسلمانوں کو محکومی کی بےبسی میں جو غصہ کفار پر آتا تھا مگر کچھ کر نہ سکتے تھے، اب فتح و غلبہ کی صورت میں اس غصے کو دور کرنا ہے اور ویسے بھی شفائے قلوب کے بعد بھی ظلم و ستم کے جو آثار غصے کی صورت میں باقی رہتے ہیں الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ تو بہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : اس سے پہلے پانچ الفاظ ”يُعَذِّبْهُمُ“ ”يُخْزِهِمْ“ ”يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ“ ”يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ“ اور ”يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ“ فعل مضارع مجزوم تھے، کیونکہ وہ ”قَاتِلُوْهُمْ“ امر کا جواب تھے کہ لڑنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمہیں یہ پانچ انعام عطا فرمائے گا۔ اب ”وَيَتُوْبُ اللّٰهُ“ مجزوم نہیں بلکہ مرفوع ہے۔ معلوم ہوا یہاں سے نئی بات شروع ہو رہی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ یہاں اس جملے کے لانے کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے جہاد کی صورت میں جب بڑے بڑے سرکشوں کی گردنیں خم ہوں گی، تو وہ اسلام کی حقانیت پر غور کریں گے اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ غالب قوم کے دین اور ان کی تہذیب کو قبول کرتے ہیں، لہٰذا اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو توبہ کی توفیق بھی دے گا، جیسا کہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل، ابو سفیان، سہیل بن عمرو اور ان کے علاوہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ مگر اس کو ”قَاتِلُوْهُمْ“ کا جواب بنانے کے بجائے الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ توبہ کی توفیق صرف کفار سے لڑائی ہی پر موقوف نہیں بلکہ اسلام اتنا واضح، روشن، مدلل اور فطرت کے مطابق دین ہے کہ بعض لوگ لڑائی کے بغیر بھی اللہ کی توفیق سے اسے سینے سے لگا لیتے ہیں اور اس میں اتنی کشش اور اتنا حسن ہے کہ اسے مٹانے کی کوشش کرنے والے لوگ اور مسلمانوں پر فتح یاب ہوجانے والے کفار بھی اللہ کی توفیق سے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ہر جگہ مسلمان اگرچہ مغلوب ہیں، مگر اسلام تمام ادیان سے زیادہ یورپ، امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک میں پھیل رہا ہے۔ تاتاریوں نے بھی بغداد فنا کرنے کے بعد آخر اسی اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور اسلام کو مٹانے والے ہی صدیوں تک اس کے محافظ بنے رہے ؂ ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : وہ گزشتہ، موجودہ اور آئندہ کی ہر بات جانتا ہے اور اپنی کمال حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق سے نوازتا ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ اللہ تعالیٰ کے علم میں پکے مومن تھے، تبھی یہ پیش گوئیاں انھی مومنین کے ہاتھوں پوری ہوئیں، انھوں نے ہی مکہ اور جزیرۂ عرب فتح کیا، روم، شام، یمن، ایران، عراق، افریقہ و ایشیا، مشرق سے مغرب تک اللہ تعالیٰ نے انھی کے ہاتھوں اسلام پھیلایا۔ ان کے ذکر سے مومنوں کے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کفار کے دل غصے سے بھر جاتے ہیں، دیکھیے سورة فتح کی آخری آیت۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیے جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور نہ اللہ کے اور نہ اس کے رسول کے اور نہ ایمان والوں کے سوا کسی کو راز دار بنایا اور اللہ اس سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا : ”وَلِيْجَةً“ ”وَلَجَ یَلِجُ“ (وَعَدَ) سے ہے جس کا معنی داخل ہونا ہے، یعنی دل کے اندر داخل ہوجانے والا، قلبی دوست اور محبوب، جس کے سامنے آدمی اپنے دلی راز بھی رکھ دے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ کفار کو کسی صورت دلی دوست نہ بناؤ، فرمایا : (لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا) [ آل عمران : 118 ] ”اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمہیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔“ احکام جہاد کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے کھرے اور کھوٹے اہل ایمان کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے اور ان لوگوں کو خالص کرنا چاہتا ہے جن میں جہاد اور صرف مسلمانوں سے دلی دوستی اور راز داری کا وصف پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیز لڑائی ہی سے نکھر کر سامنے آتی ہے۔ منافقین بھی بعض اوقات جہاد میں شریک ہوجاتے ہیں، مگر کفار سے دلی دوستی اور راز داری کا تعلق ختم نہیں کرتے، نہ ہی وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں، نیز دیکھیے سورة عنکبوت (1 تا 3) اور سورة آل عمران (179)۔ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، وہ ظاہر اعمال کے ساتھ دل کا حال بھی جانتا ہے، اس لیے اپنے اعمال درست کرو اور ان کے لیے نیت خالص اللہ کی رضا رکھو۔
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ : یہاں تک کفار کے عہد و پیمان سے براءت کا اعلان، کفار سے جہاد، اس کے فوائد اور حکمتوں کا بیان تھا۔ اب یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کی آباد کاری، ان کی نگرانی اور تولیت و خدمت مشرکین کا کسی صورت حق نہیں بنتا، کیونکہ مساجد تو خالص اللہ کے لیے ہیں : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) [ الجن : 18 ] ”اور یہ کہ بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔“ سو ان کی نگرانی اور آباد کاری ان لوگوں کا حق کیسے ہوسکتا ہے جو خود اپنے آپ پر اس اکیلے مالک کے ساتھ کفر کے گواہ اور شاہد ہیں، جو حج اور عمرہ کے وقت بھی (جو صرف اللہ کے لیے ہیں) لبیک کہتے وقت غیروں کو علی الاعلان اس کا شریک بناتے ہیں۔ چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے : (لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ) ”حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ فرماتے : ”اسی پر بس کر دو ، آگے مت کہنا۔“ مگر وہ کہتے : (إِلاَّ شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ)”مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے جس کا تو مالک ہے، وہ خود مالک نہیں۔“ وہ لوگ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔ [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصف تھا و وقتھا : 1185 ] ان کی اپنے کفر پر شہادت وہ تین سو ساٹھ بت بھی تھے جو انھوں نے کعبہ کے اندر اور اس کے ارد گرد رکھے ہوئے تھے، کعبہ کی دیواروں پر بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنا رکھی تھیں۔ ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی صورتیں بناکر ان کے ہاتھ میں فال کے تیر پکڑائے ہوئے تھے، ان کی عبادت غیر اللہ کو پکارنا تھا، ان کا بیت اللہ کا احترام انتہائی بےحیائی، یعنی ننگے ہو کر مردوں اور عورتوں کا طواف کرنا تھا اور ان کی نماز تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر مشرکانہ قوالیاں کرنا تھا۔ ایسے لوگ اللہ کے سب سے پہلے اور افضل گھر کے تو کجا اس کی کسی مسجد کے متولی، مجاور یا خادم بننے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے، اس لیے ان سے کعبہ اور دوسری مساجد کو آزاد کروانا مسلمانوں پر فرض ہے۔ علامہ اقبال نے یہاں ایک نہایت نفیس نکتہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے پوری زمین کو مسجد بنایا ہے، جیسا کہ فرمایا : (جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّ طَھُوْرًا) [ بخاری، التیمم، باب قول اللہ تعالیٰ : (فلم تجدوا مآء۔۔) : 335۔ مسلم : 523 ] اس لیے مسلمانوں کے لیے غیرت اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ان کی مسجد پر غیر مسلموں کا قبضہ ہو، نہیں بلکہ یہ ساری مسجد یعنی ساری زمین مسلمانوں کے قبضے میں ہونی چاہیے اور کفار کو ان کے ماتحت ہونا چاہیے۔ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ : یعنی انھوں نے اگر کچھ نیک کام کیے بھی ہیں، جیسے مسجد حرام اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، تو ان کے شرک کی وجہ سے وہ سب اکارت گئے۔
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا۔ تو یہ لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں سے ہوں گے۔

اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ : آباد کرنے میں مساجد کی تعمیر، ان میں نمازوں کے لیے آنا، صفائی، روشنی، مرمت اور نگرانی وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں خصوصاً چار چیزیں پائی جائیں : 1 اللہ اور یوم آخرت پر ایمان۔ 2 ظاہر میں اس ایمان کی شہادت کے لیے نماز کا قیام۔ 3 زکوٰۃ کی ادائیگی۔ 4 اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا، جبکہ مشرکین ان چاروں صفات سے عاری ہیں۔ مساجد کی تعمیر، آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ امیر المومنین عثمان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائے تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے اس جیسا گھر بنائے گا۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب من بنی مسجدًا : 450 ] ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بلاد (جگہوں) میں سب سے زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام بلاد (جگہوں) سے زیادہ ناپسند ان کے بازار ہیں۔“ [ مسلم، المساجد، باب فضل الجلوس فی مصلاہ۔۔ : 671 ]
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنادیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ : اس آیت کے مخاطب مشرکین اور مسلمان دونوں ہیں، کیونکہ مشرکین کعبہ کی خدمت، تولیت اور حاجیوں کو شربت اور پانی پلانے پر بہت فخر کرتے تھے اور بعض مسلمان بھی اس کو سب سے اعلیٰ عمل سمجھتے تھے۔ نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے منبر کے پاس آپ کے اصحاب کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا، تو ایک آدمی نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ میں کوئی کام نہ کروں تو مجھے کچھ پروا نہیں۔ دوسرے نے کہا، بلکہ مسجد حرام کی آباد کاری (افضل ہے)۔ ایک اور نے کہا، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اس سے بہتر ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ تو عمر ؓ نے انھیں ڈانٹا اور فرمایا کہ نبی ﷺ کے منبر کے پاس آوازیں مت بلند کرو، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے، لیکن جب تم جمعہ پڑھ چکو گے تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں گا اور تمہارے اس جھگڑے کا فیصلہ کروا لوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : (اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ) [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ تعالیٰ : 1879] یعنی یہ کام گو فضیلت کے ہیں مگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے اور پھر یہ ایمان کے بغیر مقبول بھی نہیں۔ (وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ) شرک سب سے بڑا ظلم ہے، پھر جو اس پر اصرار کرے اس ظالم کو سیدھی راہ کیسے نصیب ہو ؟
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا، اللہ کے ہاں درجے میں زیادہ بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : ”هَاجَرُوْا“ یعنی اپنا دین اور جان و مال بچانے کے لیے اپنا گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ : اس آیت سے مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ابو عبیدہ بن جراح، طلحہ، زبیر اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام ؓ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر راضی ہو اور ہمیں ان کے ساتھ اٹھائے۔ قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی ہیں۔
Ayahs 9:21–22

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب انھیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور عظیم رضامندی اور ایسے باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ بیشک اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ : ”بِرَحْمَةٍ“ اور ”وَرِضْوَانٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کرسکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور ہجرت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا اور وہ سب مجاہدین اس فضیلت میں شامل ہیں جو یہ شرف حاصل کریں گے۔ ابو حیان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین وصف ایمان، ہجرت اور مال و جان کے ساتھ جہاد ذکر فرمائے، ان کے مقابلے میں تین ہی انعام ذکر فرمائے، ایمان کے مقابلے میں رحمت، کیونکہ وہ صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور سب سے عام ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد کے مقابلے میں رضوان جو کسی سے حسن سلوک کی انتہا ہے اور ہجرت، یعنی وطن چھوڑنے کے بدلے میں جنت جو دائمی اقامت کا گھر ہے۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ : یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں، ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ (موضح) مزید دیکھیے سورة مجادلہ (22) ، سورة ممتحنہ (1 تا 3) ، سورة آل عمران (28، 118) اور سورة مائدہ (51)۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ : یہ اور اس سے پہلی آیت دونوں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں، ان میں تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی محبت انھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے، یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائی ہیں ہر انسان کو طبعی طور پر محبوب ہوتی ہیں، فرمایا : (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ) [ آل عمران : 14 ] ”لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان لگائے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی ہیں، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔“ ان چیزوں سے محبت کوئی گناہ بھی نہیں، بلکہ ان سے محبت اور ان کے حقوق کی ادائیگی آدمی کی ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقاضا صرف یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز کی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اور اس کے راستے میں جہاد سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ پیمانہ اس کا یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کا حکم ہو اور اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے سب کچھ قربان کردینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور خویش و اقارب کی محبت ہو اور دنیا کے دوسرے تعلقات یا مفادات و خطرات اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بےپروا ہو کر اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کا حکم ماننے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی وقت عذاب آسکتا ہے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی ﷺ نے بار بار واضح فرمایا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔“ [ بخاری، الإیمان، باب حب الرسول ﷺ من الإیمان : 15، عن أنس ] عبداللہ بن ہشام ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے اور عمر ؓ کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔ عمر ؓ نے کہا : ”آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب تک کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔“ عمر ؓ نے عرض کی : ”اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ فرمایا : ”اب اے عمر ! (تیرے ایمان کا معاملہ درست ہوا)۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبی ﷺ : 6632 ] حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم ”عینہ“ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے ختم نہیں کرے گا، جب تک تم اپنے دین (جہاد) کی طرف لوٹ نہیں آؤ گے۔“ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ : 3462، و صححہ الألبانی ] زمخشری ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت بہت سخت ہے، اس سے سخت آپ کوئی آیت نہیں دیکھیں گے۔ یہ انسان کی دینی کمزوری اور یقین کی کمی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اپنے دل میں بہت پرہیزگار اور متقی شخص انصاف سے سوچے کہ کیا واقعی اس میں اتنی دینی پختگی ہے کہ اس آیت میں مذکور تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہونے کی بنا پر کسی معاملے میں چھوڑ سکتا ہے، یا کسی کی تھوڑی سی ناراضگی یا دنیا کے معمولی سے مفاد کی بنا پر وہ کش مکش میں پڑجاتا ہے کہ کسے رکھوں اور کسے چھوڑوں ؟ پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ اس کی بیوی، اولاد، دوستوں، معاشرے اور تجارتی مفاد کے تقاضے ہی اللہ کے دین کے تقاضوں پر غالب آتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)
Ayahs 9:25–26

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمہاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمہاری کثرت نے تمہیں خود پسند بنادیا، پھر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنھوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی جزا ہے۔

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ : بدر میں اپنے انعامات کے تذکرے، جہاد کی ترغیب، کفار سے دوستی ترک کرنے کی تلقین اور دنیا کی ہر چیز پر اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی ترجیح کے حکم کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ مزید انعامات ذکر فرمائے، جن میں حنین کا خاص ذکر فرمایا، مگر حنین کا ذکر کرنے سے پہلے بہت سے گزشتہ مواقع میں (فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ) اپنی مدد کا ذکر فرمایا، ان میں ہجرت (فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ التوبۃ : 40 ] بدر (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ) [ آل عمران : 123 ] احد (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ) [ آل عمران : 152 ] خندق (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَاۗءَتْكُمْ جُنُوْدٌ) [ الأحزاب : 9 ] حدیبیہ (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا) [ الفتح : 1 ] فتح مکہ (اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ) [ النصر : 1 ] یہودی قبائل (هُوَ الَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ) [ الحشر : 2 ] اور منافقین سے معاملات وغیرہ سب شامل ہیں اور سب کا ذکر قرآن و حدیث میں مختلف مقامات پر موجود ہے، مگر ان کو یہاں بطور تمہید ذکر فرما کر اصل تذکرہ حنین کے دن کیے جانے والے انعام کا فرمایا اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی۔ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے، وہاں فتح مکہ (رمضان 8 ھ) کے ایک ماہ بعد شوال 8 ھ میں مسلمانوں کی ہوازن، ثقیف، بنو جشم، بنو سعد اور بعض دوسرے قبائل سے جنگ ہوئی تھی۔ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ : نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تو ان مہاجرین و انصار کا تھا جو فتح مکہ کے لیے آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور دو ہزار آدمی آپ کے ساتھ اہل مکہ (طلقاء) میں سے شامل ہوگئے تھے۔ اس طرح مسلمانوں کا کل لشکر بارہ ہزار لڑنے والوں پر مشتمل تھا، جبکہ اس کے مقابلے میں دشمنوں کی تعداد صرف چار ہزار کے قریب تھی، اس پر بہت سے مسلمانوں میں عجب (خود پسندی) اور ایک قسم کا غرور پیدا ہوگیا، حتیٰ کہ بعض نے کہا آج ہم قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔ (ابن کثیر) جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم وادی حنین کی طرف چلے تو ہم تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی میں اترے، وادی بڑی وسیع و عریض تھی، اس میں اوپر نیچے ٹیلے اور چھوٹی چھوٹی ڈھلوانی پہاڑیاں تھیں، ہم اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتے اور لڑھکتے جا رہے تھے، ابھی صبح کا اندھیرا تھا، دشمن ہمارے لیے مختلف گھاٹیوں، کناروں اور تنگ گزر گاہوں میں پورے اتفاق اور مقابلے کی تیاری کے ساتھ چھپے بیٹھے تھے۔ اللہ کی قسم ! ہمیں اترتے اترتے پتا ہی نہ چلا کہ دشمن نے مل کر اس طرح حملہ کیا جیسے ایک آدمی کرتا ہے۔ (دوسری روایات میں ہے کہ وہ زبردست نشانہ باز تھے، انھوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی) لوگ شکست کھا کر واپس پلٹے، وہ بھاگے جاتے تھے اور کوئی کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتا تھا، رسول اللہ ﷺ دائیں طرف ایک جگہ ہوگئے، پھر فرمایا : ”لوگو ! میری طرف توجہ کرو، میری طرف آؤ، میں رسول اللہ ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں۔“ کہیں سے جواب نہیں آ رہا تھا، اونٹ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے بھاگ رہے تھے، لوگ ادھر ادھر نکل گئے، سوائے مہاجرین و انصار کے ایک گروہ اور آپ کے خاندان کے لوگوں کے جو زیادہ نہ تھے۔ ابوبکر اور عمر ؓ آپ کے ساتھ ڈٹے رہے، آپ کے خاندان والوں میں سے علی بن ابو طالب، عباس بن عبدالمطلب، ان کے بیٹے فضل، ابو سفیان بن حارث اور ایمن بن عبید جو ام ایمن کے بیٹے تھے اور اسامہ بن زید ؓ۔ [ أحمد : 3؍376، ح : 15027، وحسنہ شعیب الأرنؤوط۔ ابن حبان : 4774 ] عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میری آواز بڑی بلند تھی، اس وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے حکم دیا : ”اے عباس ! کیکر (کے درخت) والوں کو آواز دو۔“ چناچہ میں نے بلند آواز سے پکارا کہ کیکر (تلے بیعت رضوان کرنے) والے کہاں ہیں ؟ اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے جب میری آواز سنی تو وہ ”ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں“ کہتے ہوئے اس طرح دوڑے جس طرح گائے اپنے بچے کی طرف دوڑتی ہے۔ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کنکر پکڑے اور دشمنوں کی طرف پھینکے، اس کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”محمد کے رب کی قسم ! وہ شکست کھا گئے۔“ [ مسلم، الجہاد، باب غزوۃ حنین : 1775 ] یہ وہ وقت ہے جب مسلمان جم گئے اور فرشتے نازل ہوئے : (وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا) ”اور اس نے ایسے لشکر اتارے جنھیں تم نے نہیں دیکھا۔“ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اللہ تعالیٰ نے کفار کو یہ سزا دی کہ انھیں شکست فاش ہوئی، ان کے بچے اور عورتیں لونڈی و غلام اور ان کے اموال مسلمانوں کی غنیمت بنے، بہت سے بڑے بھی اسیر ہوئے اور دنیا میں کفار کی یہی جزا ہے۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ توبہ کی توفیق دے گا جسے چاہے گا اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : چناچہ غزوۂ حنین کے تقریباً بیس روز بعد ہوازن کے بقیہ لوگ مسلمان ہو کر جعرانہ کے مقام پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ کا ان لوگوں سے رضاعی رشتہ بھی تھا، کیونکہ آپ کی رضاعی ماں حلیمہ ؓ انھی سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مسلمان ہونے کی توفیق بخشی، یہ اپنے اموال اور قیدی واپس لینے کی درخواست لے کر آئے۔ آپ نے فرمایا : ”تم نے آنے میں دیر کردی، میں نے غنیمت تقسیم کرنے سے پہلے تمہارا بہت انتظار کیا، اب دیکھ رہے ہو یہ لشکر میرے ساتھ ہے، اب ایک چیز کا انتخاب کرلو، یا اپنے اموال لے لو یا قیدی۔“ انھوں نے کہا، آپ ہمارے قیدی آزاد کردیں۔ چناچہ آپ نے ان کے قیدی جو ابن کثیر کے مطابق (عورتیں بچے ملا کر) چھ ہزار تھے، سب مسلمانوں کو ترغیب دلا کر آزاد کردیے، البتہ مال غنیمت واپس نہیں کیا۔ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالیٰ : (ویوم حنین۔۔) : 4318، 4319 ] حافظ ابن قیم ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے غزوات کا آغاز بدر سے اور خاتمہ حنین سے کیا، اس لیے یہاں دونوں کو یکے بعد دیگرے ملا کر ذکر فرمایا، ان دونوں کے درمیان سات سال کا فاصلہ تھا، اس کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے مقابلے میں عرب کی جنگ کا انگارا بجھ گیا۔ پہلی جنگ نے انھیں خوف زدہ کرکے ان کی قوت توڑ دی تھی، آخری جنگ نے ان کی قوت کا خاتمہ کردیا، ان کا اسلحہ بےاثر کردیا اور ان کی جماعت کو اس طرح پیسا کہ ان کے لیے اسلام میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ادھر اس آخری جنگ میں مسلمانوں کو یہ سبق بھی خوب یاد کروا دیا کہ جنگ میں فتح تمہاری کثرت یا اسلحہ کی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ دین کی برکت اور اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔