Ayah 9:40اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ : یعنی اگر تم تبوک کے لیے نہیں نکلو گے اور اس کی مدد نہیں کرو گے تو وہ خود اکیلا ہی اس کی مدد کے لیے کافی ہے، دیکھ لو جب مکہ کے مشرکوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا اور اس کے ساتھ صرف ایک ساتھی تھا، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کی مدد کے بغیر خود اس کی مدد کی تھی۔ اب بھی اسے تم میں سے کسی کی ضرورت نہیں، ہاں تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ دشمنان اسلام کے مقابلے کے لیے نکلو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
ثَانِيَ اثْنَيْنِ :”دو میں سے دوسرا“ سے مراد پہلا ہے۔ ”ثَانِيَ اثْنَيْنِ“ میں پہلے رسول اللہ ﷺ اور دوسرے ابوبکر ؓ تھے۔ اسی طرح ”ثَالِثُ ثَلَاثَۃٍ“ یا ”رَابِعُ اَرْبَعَۃٍ“ میں ثالث یا رابع وہ ہوگا جو پہلا ہوگا، باقی بعد میں ہوں گے، ہاں ”رَابِعُ ثَلَاثَۃٍ“ یا ”خَامِسُ اَرْبَعَۃٍ“ میں رابع یا خامس وہ ہوگا جو بعد میں ملے گا اور اس کا نمبر چوتھا یا پانچواں ہوگا۔ [ الوسیط للطنطاوی ] تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے ابوبکر ؓ تھے اور اکثر دینی منصبوں اور عہدوں پر رسول اللہ ﷺ کے بعد دوسرے نمبر پر وہی فائز رہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، جس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ ؓ مسلمان ہوئے، جنگوں میں آپ ﷺ سے الگ نہیں ہوئے۔ مرض الموت میں آپ ﷺ کے نہایت تاکیدی حکم کے ساتھ اور کسی بھی دوسرے کی امامت سے آپ ﷺ کے انکار کے بعد آپ کے قائم مقام کی حیثیت سے آپ ﷺ کے مصلے پر کھڑے ہوئے، پھر آپ کے پہلو میں دفن ہوئے، اس طرح اول و آخر صدیق اکبر ؓ کو دوسرا ہونے کا شرف حاصل رہا۔
اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ : یہاں صاحب (ساتھی) ہونے کا شرف بھی ابوبکر ؓ کو حاصل ہے۔ صاحب کا لفظ اصل میں اکثر اوقات ساتھ رہنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے بیوی کو ”صَاحِبَۃٌ“ کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ) [ الأنعام : 101 ] ”اس کی اولاد کیسے ہوگی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ابوبکر ؓ کے صاحب رسول یعنی آپ کے خاص ساتھی اور یار غار ہونے کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا منکر ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”رفیق غار ابوبکر ؓ تھے، صرف یہی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔“ (موضح)
اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ : اس غار سے مراد ثور پہاڑ کی چوٹی کے قریب واقع غار ہے، جو مکہ سے جنوب کی طرف تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ ﷺ کو یقین تھا کہ آپ کا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے آپ نے مدینے کا راستہ جو شمال کی طرف ہے، چھوڑ کر جنوب کی سمت اختیار کی اور غار ثور میں چھپ گئے، تاکہ تلاش کرنے والے آپ کو آسانی سے پا نہ سکیں۔ تفسیر ماجدی میں ہے : ”اس غار کا دہانہ اب تک اتنا تنگ ہے کہ اندر صرف لیٹ کر ہی جانا ممکن ہے۔“ شیخ رشید رضا مصری نے تفسیر المنار میں ایک مصری امیر الحج ابراہیم رفعت پاشا (سنِ حج 1381 ھ) کے حوالے سے غار کی پیمائش وغیرہ دی ہے اور اس کی تنگی کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ آپ ﷺ وہاں تین دن چھپے رہے، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے، آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہوچکا تھا، اس لیے دشمنوں نے آپ کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ بعض قدموں کے نشان پہچاننے والے غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ ﷺ کو ان کے قدم نظر آنے لگے، ابوبکر ؓ کو آپ ﷺ کے متعلق فکر لاحق ہوئی اور وہ سخت غم زدہ ہوگئے۔
لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا : انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے فرمایا، میں نے نبی ﷺ سے کہا، جب کہ میں اس غار میں تھا : ”اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کے نیچے نظر ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابوبکر ! ان دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی ﷺ ، باب مناقب المہاجرین وفضلھم۔۔ : 3653 ] ”اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا“ (بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے) اس ”ساتھ“ سے مراد خاص ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت، ورنہ عام معیت (ساتھ) تو ہر شخص کو حاصل ہے، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ) [ الحدید : 4 ] ”اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ اس میں ابوبکر ؓ کی فضیلت ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ کے سمندر کے کنارے پہنچنے پر اور فرعون کی فوج کو دیکھنے پر ان کی قوم نے اپنے پکڑے جانے کا خطرہ پیش کیا تو موسیٰ ؑ نے فرمایا : (كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ) [ الشعراء : 62 ] ”ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے۔“ چناچہ انھوں نے ”مَعِيَ“ یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا)”بیشک اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔“
فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ : یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ بعض مفسرین نے مراد ابوبکر ؓ لیے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر تو اللہ تعالیٰ کی سکینت پہلے ہی نازل تھی، مگر اس سے ”عَلَيْهِ“ کی ضمیر کی بعد میں آنے والی ضمیر ”وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا“ کے ساتھ مطابقت نہیں رہتی اور کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلی سکینت کے علاوہ خاص سکینت نازل فرمائی ہو۔ جس سے آپ کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوا ہو، اس لیے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ ”عَلَيْهِ“ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا : یعنی فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ جنھیں تم نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے تعاقب کرنے والوں کی نگاہیں آپ پر پڑنے ہی نہیں دیں۔ جیسا کہ حنین میں مدد فرمائی (دیکھیے توبہ : 26) اور بدر میں (دیکھیے انفال : 9۔ آل عمران : 124، 125)۔
بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ عنکبوت (مکڑی) نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے تھے، مگر یہ بات ثابت نہیں، الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی ؓ نے سلسلہ ضعیفہ میں عنکبوت کے قصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔
وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى : یعنی ہجرت، بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین، تبوک، ہر جگہ کفر کو نیچا دکھایا۔ ”ۭوَكَلِمَةُ اللّٰهِ ھِىَ الْعُلْيَا“ اور اللہ تعالیٰ کا بول ہی سب سے بالا اور اس کی بات ہی سب سے اونچی ہے، اگر کہیں مسلمان نیچے رہے تو اللہ کی بات کے نیچا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کی کسی کمی کی وجہ سے، فرمایا : (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) [ آل عمران : 139 ]”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور دیکھیے سورة محمد (35)۔
Ayah 9:41اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا : اللہ تعالیٰ نے تبوک کے لیے نہ نکلنے کی صورت میں دنیا و آخرت میں عذاب الیم کی وعید سنا کر اور نبی ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کی مدد کا محتاج نہ ہونے کا ذکر فرما کر اب تاکید کے ساتھ تمام مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنے کا حکم دیا، اسے ”نفیر عام“ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے بعد ہر مسلمان پر نکلنا فرض ہوجاتا ہے، ماں باپ یا کسی کے اذن (اجازت) کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ”ہلکے اور بوجھل“ الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں سب شامل ہیں، یعنی طبیعت چاہتی ہے یا نہیں، خوش حال ہو یا تنگ دست، مجرد ہو یا عیال دار، جوان ہو یا بوڑھے، ہتھیار بند ہو یا بےہتھیار، ہر حال میں جہاد کے لیے نکلو۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ ؓ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی : (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا) تو کہنے لگے : ”میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم بوڑھوں اور جوانوں سب کو نکلنے کے لیے کہا ہے۔“ ان کی اولاد نے کہا : ”اباجان ! آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگیں لڑیں، حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے اور ابوبکر و عمر ؓ کے ساتھ بھی تو ہم آپ کی جگہ جنگ کریں گے، مگر وہ نہ مانے، چناچہ انھوں نے سمندر کا سفر اختیار کیا، یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔ تو سات دن تک انھیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہ ملا اور اس دوران میں ان کے جسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ [ مستدرک حاکم : 3؍353، ح : 5508، صححہ الحاکم و سکت عنہ الذھبی ] اسی طرح مقداد بن اسود ؓ بڑھاپے اور بھاری جسم کے باوجود نکلے، ایک آدمی نے ان سے کہا، کاش آپ اس سال جنگ کے لیے نہ جائیں تو انھوں نے کہا : ”سورة بحوث (توبہ) ہمیں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا) ”نکلو، ہلکے ہو یا بھاری“ اور میں اپنے آپ کو ہلکا ہی پاتا ہوں۔“ [ السنن الکبریٰ للبیہقی : 9؍21، ح : 18256 ]
ابوایوب انصاری ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے، پھر ایک سال کے سوا کبھی مسلمانوں کی کسی جنگ سے پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطابق نوے سال کی عمر میں قسطنطنیہ جانے والے لشکر میں آپ شریک ہوئے، ان کے امیر یزید بن معاویہ تھے، بیمار ہوئے تو یزید ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے۔ پوچھا : ”کوئی خواہش ہو تو بتائیں ؟“ فرمایا : ”میری خواہش یہ ہے کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو سوار ہو کر دشمن کی سرزمین میں جہاں تک آگے جا سکو جاؤ، جب اس سے آگے بڑھنے کی گنجائش نہ رہے تو مجھے وہاں دفن کر دو ، پھر واپس آجاؤ۔“ ابوایوب ؓ یہ آیت پڑھا کرتے : (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا) اور فرماتے : ”تو میں یا تو ہلکا ہوں گا یا بوجھل۔“ یعنی ہر حال میں نکلنے کا حکم ہے۔ [ مستدرک حاکم : 3؍458، ح : 5930، سکت عنہ الذھبی ]
جہاد کے لیے نکلنا کسی شخص پر کب ہر حال میں فرض ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (216) کے حواشی۔
Ayah 9:42لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا : یہ آیت غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ”عَرَضًا“ دنیا کا وہ سازو سامان جو انسان کی خواہشوں کے پیش نظر رہتا ہے۔ ”قَاصِدًا“ جس کا حصول بالکل آسان ہو۔ ”الشُّقَّةُ“ درمیانہ، یعنی جس میں شدید مشقت درپیش نہ ہوتی۔ ”الشُّقَّةُ“ وہ فاصلہ جو نہایت مشقت اور تھکن سے طے ہو۔ یہ مشقت سے مشتق ہے۔ ابو عبیدہ نے فرمایا ”الشُّقَّةُ“ کا معنی ارض بعید کا سفر ہے، یعنی اگر آسانی سے مال غنیمت ملنے کی توقع ہوتی اور سفر بہت لمبا نہ ہوتا، جس کا راستہ بھی نہایت کٹھن تھا تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ جاتے۔ مگر خالص فی سبیل اللہ جہاد جس میں آسانی سے حصول غنیمت کے بجائے مال و جان کی قربانی، بعید سفر اور شہادت کا واضح امکان سامنے ہو، منافق کے لیے نہات دشوار ہے۔
Ayah 9:43عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ : ہوا یہ کہ جب نبی ﷺ تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو بعض منافقین نے بناوٹی حیلے بہانے پیش کرکے آپ ﷺ سے مدینہ ہی میں رہنے کی اجازت چاہی، حالانکہ انھوں نے طے کر رکھا تھا کہ اجازت نہ ملی پھر بھی نہیں جائیں گے۔ اب ان کی آزمائش کے لیے انھیں اجازت دینے سے اس وقت تک گریز کرنا چاہیے تھا جب تک واضح نہ ہوجاتا کہ کس کا عذر حقیقی ہے اور کون بہانے باز ہے، مگر آپ ﷺ نے ان کی حقیقت کھلنے سے پہلے ہی انھیں مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے ناراض ہونے کا اظہار فرمایا، مگر نہایت لطف و کرم اور مہربانی کے ساتھ کہ اس اظہار سے پہلے معاف کردینے کی اطلاع دی اور پھر فرمایا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اس میں پیچھے رہنے والوں کی مذمت بھی صاف نمایاں ہے، کیونکہ ان میں کم ہی تھے جن کا عذر صحیح تھا، اکثر جھوٹ ہی بول رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں ان لوگوں کو اجازت دینے پر ناراضی کا اظہار فرمایا جنھوں نے آپ سے اجازت مانگی اور انھیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے بتایا جو جہاد میں نکلنا ہی نہیں چاہتے تھے اور سورة نور میں فرمایا : (ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ) [ النور : 62 ] ”بیشک جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔“ وہاں مراد یہ ہے کہ منافقین اجتماعی کام مثلاً جہاد وغیرہ میں آئے ہوئے ہوں تو بغیر پوچھے کھسک جاتے ہیں، اجازت مانگتے ہی نہیں، جب کہ اہل ایمان ضرورت کے وقت بھی آپ سے پوچھے بغیر نہیں جانتے۔
Ayah 9:44لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ : کیونکہ انھیں تو خود جہاد میں جانے کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انھیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”لوگوں کے معاش میں ان کے لیے سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھر رہا ہے، جب کبھی دشمن کی آمد پر کوئی خوف کی آواز یا گھبراہٹ سنتا ہے تو اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے، وہ قتل اور موت کو ان جگہوں میں تلاش کرتا ہے جہاں وہ مل سکتی ہیں۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الجہاد والرباط، : 1889، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Ayah 9:45اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : پس مومنین اور منافقین کے درمیان فرق یہ ہے کہ جہاد کا اعلان ہونے پر مومن تو بلا تامل نکل کھڑے ہوتے ہیں، مگر جو منافق ہیں وہ بہانے تراشتے ہیں اور ہر ایسے موقع پر مذبذب بھی ہوجاتے ہیں، کبھی دل کہتا ہے چلو ! شاید پیغمبر ﷺ سچ ہی کہتے ہوں اور کبھی دل میں آتا ہے نہیں، یہ سب ڈھکوسلے اور ڈرانے کی باتیں ہیں، بس دنیا میں چند روز جینا ہے، آرام سے دن کاٹ لیں۔
Ayah 9:46وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنگ تبوک کے موقع پر منافقین اور ان تمام جھوٹے دعوے داروں کی حقیقت کھول دی جو کہتے ہیں کہ ہم بھی مجاہد ہیں اور ہر وقت جہاد کے لیے نکلنے کو تیار ہیں، مگر ساٹھ ستر برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود کبھی نہ مجاہدین کے ساتھ نکلے، نہ نشانہ بازی سیکھی، نہ تیراکی، نہ فنون حرب میں سے کوئی فن سیکھا، نہ کسی معرکے میں شریک ہوئے، نہ جہاد کے لیے جسم تیار کیا، نہ جہاد کے لیے درکار سامان جمع کیا۔ بس ڈگریوں کے حصول، ملازمت، کفار کی غلامی، کاروبار اور حلال و حرام ہر طرح دنیا کمانے میں لگے رہے، یا پیری فقیری اور ھُو حق میں لگے رہے۔ اولاد کو بھی اسی پر لگائے رکھا اور جب جہاد کا تذکرہ ہوا تو اللہ کے راستے میں نکلنے والوں پر دو چار طنزیہ فقرے کس کر اپنے آپ کو نفس سے جہاد کرنے والا مجاہد اکبر اور جان قربان کرنے والوں کو جہاد اصغر میں مصروف قرار دے دیا (جو نبی ﷺ کے ذمے صاف جھوٹ ہے)۔ ان کے جہاد اکبر اور نفس سے جہاد کی حقیقت ان کی جہاد کی تیاری ہی سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ کو بھی ان کے نفاق اور بدعملی کی وجہ سے مخلص مجاہدین کے ساتھ ان کا نکلنا پسند نہیں ہے، تبھی اس نے انھیں نکلنے کی توفیق ہی سے محروم کردیا۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص مرگیا اور اس نے نہ جنگ کی اور نہ اپنے دل کے ساتھ کبھی جنگ کرنے کی بات چیت کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات ولم یغز۔۔ : 1910 ]
فَثَبَّطَهُمْ : ”ثَبَّطَہُ تَثْبِیْطًا“ کسی آدمی کے کام میں رکاوٹ ڈال دینا، یا کسی طریقے سے اسے اس سے باز رکھنا۔
وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : اس سے ان کی مذمت مقصود ہے کہ انھوں نے اپنے نفاق، بزدلی اور بےہمتی کی وجہ سے عورتوں، بچوں، بیماروں اور جنگ میں شرکت سے لاچار بوڑھوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہنا پسند کرلیا۔
Ayah 9:47لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا : اس میں مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ان کا نہ نکلنا ہی تمہارے لیے بہتر تھا، کیونکہ یہ لوگ ساتھ جا کر مزید خرابی ہی پیدا کرتے اور تمہارے درمیان فساد ڈالنے کی نیت سے ہر طرح کی دوڑ دھوپ کرتے، کبھی کسی کی چغلی کھاتے، کبھی ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی تدبیریں سوچتے، انھی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انھیں نکلنے کی توفیق نہیں دی۔
وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ : تبوک کے لیے نکل آنے والوں میں بعض لوگ منافقین کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سے دوسرے تمام مجاہدوں کو خبردار کیا ہے کہ تم میں سے بعض سادہ دل ان کی باتیں بڑے غور سے سنتے ہیں، حالانکہ ایسے بددلی پھیلانے والوں کی بات سننی بھی نہیں چاہیے۔ ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں، یعنی تمہاری کمزوریاں انھیں پہنچاتے ہیں۔ ”بِالظّٰلِمِيْنَ“ کے الف لام برائے عہد کی وجہ سے ”ان ظالموں کو“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے جو اس کام کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر بھی ظلم کر رہے ہیں اور دوسروں میں افتراق اور شبہات پیدا کرکے ان پر بھی ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 9:48لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ : اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے، یعنی آپ ﷺ کے خلاف مکر و فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تدبیریں کرتے رہے، مگر جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو ان کے نہ چاہتے ہوئے غلبہ عطا فرمایا تو یہ بظاہر اسلام میں داخل ہوگئے، پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، جیسا کہ عبداللہ بن ابی منافق نے غزوۂ احد کے دن کیا کہ عین میدان جنگ سے اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لوٹ آیا۔ ہر موقع پر ان کی ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ رہیں، بنو نضیر اور دوسرے کئی یہودیوں کو قتل سے بچایا، بنو قریظہ کو ابھارتے رہے، ام المومنین عائشہ ؓ پر بہتان لگایا، مسجد ضرار بنا کر مسلمانوں کے خلاف مورچہ تعمیر کیا، تبوک میں جانے پر بددلی پھیلاتے رہے۔ واپسی پر جب موقع ملا تو آپ ﷺ پر چھپ کر حملہ آور ہونے سے بھی دریغ نہ کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے مکہ فتح ہونے اور تبوک کی فتح کے بعد سارا عرب اسلام میں داخل ہوگیا اور یہ بےبسی سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔
Ayah 9:49وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ : فتنے کا معنی یہاں گناہ میں مبتلا ہونا کیا گیا ہے اور ہلاکت بھی۔ اس کی دو تفسیریں کی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اتنی شدید گرمی میں اتنے طویل و پر مشقت سفر اور جنگ کا حکم دے کر گناہ میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر میں آپ کے حکم کے بعد نہ گیا تو گناہ گار ہوں گا اور گیا تو ہلاکت کا خطرہ ہے، ادھر گھر اکیلے رہ جائیں گے اور اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے، اس لیے آپ خود ہی مجھے مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے کر اس فتنے سے بچا لیں۔ یہ تفسیر الفاظ کے قریب ہے، جنگ خندق میں بھی منافقین کے بہانوں میں سے ایک بہانہ گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا تھا۔ دیکھیے سورة احزاب (13) دوسری تفسیر یہ ہے کہ ایک منافق جد بن قیس نے یہ بہانہ بنایا کہ یا رسول اللہ ! رومی عورتیں بہت خوبصورت ہیں، اگر میں وہاں چلا گیا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکوں گا، اس لیے آپ مجھے معذور سمجھ کر یہاں رہنے کی اجازت دے دیجیے۔ (ہاں، میں مال خرچ کرکے مدد کروں گا)۔ [ المعجم الکبیر : 2؍275، ح : 2154۔ أبونعیم فی المعرفۃ ] اسے ”ہدایۃ المستنیر“ والے نے ضعیف کہا ہے اور ”الاستیعاب فی بیان الأسباب“ والوں نے حسن کہا ہے۔ (واللہ اعلم !)
اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا : یعنی بہانے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم فتنے میں نہ پڑجائیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں کہ جہاد پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ”فِي الْفِتْنَةِ“ پہلے لانے سے حصر کا معنی حاصل ہوتا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی فتنہ ہوگا اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونا خود ایک فتنہ ہے، اب تو حیلے بہانے تراش کر یہ نکل جائیں گے، مگر جہنم کے گھیرے سے کیسے نکل پائیں گے ؟
Ayah 9:50اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ : یہاں ”حَسَنَةٌ“ سے مراد کامیابی، فتح، غنیمت اور سلامتی ہے اور ”مُصِيْبَةٌ“ سے مراد فتح حاصل کرنے میں وقتی ناکامی یا مسلمانوں کا زخمی اور شہید ہونا ہے۔ یہ بھی ان کے خبث باطن اور مکر و فریب کی ایک دلیل ہے کہ انھیں مسلمانوں کو کوئی فائدہ حاصل ہونا ناگوار ہوتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو خوش ہوتے ہیں اور انھیں اپنی ہوش مندی اور سیاست دانی کا پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی بچاؤ کرلیا تھا، جیسے جنگ احد کے بعد عبداللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ ہم تو اسی وجہ سے پہلے پلٹ آئے تھے کہ ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہوگی اور وہ مارے جائیں گے۔ ایسے ہی وہ منافق جو غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ میں رہ گئے تھے، نبی ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق مشہور کرتے رہے کہ یہ لوگ رومیوں سے بچ کر نہیں آسکیں گے، لیکن جب انھیں اطلاع ملی کہ مسلمان صحیح و سالم فتح حاصل کرکے واپس آ رہے ہیں تو انھیں انتہائی غم ہوا۔ (ابن کثیر) ان کی اس بدخصلت کے مزید تذکرے کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (156) اور نساء (72)۔
Ayah 9:51قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا : یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان و یقین کی برکت کا ذکر ہے، سچ ہے : ”مَنْ عَلِمَ سِرَّ اللّٰہِ فِی الْقَدَرِ ھَانَتْ عَلَیْہِ الْمَصَاءِبُ“ ”جس نے قضا و قدر میں اللہ تعالیٰ کے راز کو پا لیا اس پر مصیبتیں آسان ہوجاتی ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، یقیناً یہ اللہ پر بہت آسان ہے، تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمہیں عطا فرمائے۔“ [ الحدید : 22، 23 ]
هُوَ مَوْلٰىنَا : وہی ہمارا مالک، مددگار اور حمایتی ہے۔ ہم اپنے مالک پر خوش ہیں اور ایمان والوں کو تو بس اللہ ہی پر بھروسا رکھنا لازم ہے، نہ دنیا کے سازوسامان پر اور نہ اس کے سوا کسی اور ذات پر۔ ”وَعَلَي اللّٰهِ“ کے پہلے آنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا اور ”فَلْيَتَوَكَّلِ“ میں فاء کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان منافقین کے رویے سے پیدا ہونے والی بددلی کا علاج چاہتے ہیں تو ایمان والوں کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف اللہ پر بھروسا رکھیں اور اس کے سوا کسی کی پروا نہ کریں۔
Ayah 9:52قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ :”اِحْدَى“ کا معنی ایک اور ”الْحُسْنَيَيْنِ“ ”اَلْحُسْنٰی“ کی تثنیہ ہے، جو ”اَلْاَحْسَنُ“ (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے، یعنی سب سے اچھی دو چیزوں میں سے ایک۔ مسلمانوں کی مصیبت پر منافقین کی خوشی کا یہ دوسرا جواب ہے کہ ہم ہر حال میں سب لوگوں سے اچھے ہیں، دنیا میں یا تو ہمیں فتح اور غنیمت حاصل ہوگی جو بہترین چیز ہے، یا پھر ہم اللہ کی راہ میں شہید ہوں گے، تو یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور ہماری عین تمنا ہے کہ ہم جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے جس نے اس کے راستے میں جہاد کیا۔ اسے اس کے راستے میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کسی اور چیز نے نہیں نکالا کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اسے اس کے گھر جس سے نکل کر گیا ہے، اجر یا غنیمت دے کر واپس لائے گا۔“ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی ﷺ : أحلت لکم الغنائم : 3123، عن أبی ہریرہ ؓ ] اس کے برعکس منافقین ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں یا اللہ کی طرف سے انھیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے جہنم کے درک اسفل میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے، پس ہم اور تم ایک دوسرے کے متعلق دو حالتوں میں سے ایک کے منتظر ہیں۔
Ayah 9:53قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا : اوپر کی آیت میں بتایا کہ منافقین کے لیے بہرحال عذاب ہے، اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور وہ نجات نہیں پاسکتے، کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قبول نہیں ہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے سے معافی دی جائے، اس کے عوض ہم مالی اعانت پر تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بدنام ہو کر نہ رہ جائیں، انھی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی بھری ہو، ان کی مالی امداد کسی طور قبول نہیں، خواہ خوشی سے دیں یا مجبوراً۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں :”جد بن قیس نے مال خرچ کرنے کی بابت جو کہا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ بےاعتقاد کا مال قبول نہیں۔“ (موضح)
اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ : عمل کی قبولیت کے لیے تقویٰ شرط ہے جو تم میں ہے ہی نہیں، فرمایا : (اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ) [ المائدۃ : 27 ] ”بیشک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔“ اور دیکھیے سورة حج (37) اور بقرہ (265)۔
Ayah 9:54وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ : اس آیت میں ان کے صدقات قبول نہ ہونے کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ ان کے دل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے خالی ہیں، بلکہ وہ دونوں کے منکر ہیں اور ان کا کفر ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی بدنی شہادت نماز ہے، وہ بھی یہ لوگ خوشی اور نشاط سے نہیں بلکہ مارے باندھے سستی سے صرف اپنے ایمان کے دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں، ان کا سستی سے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کے سامنے ہوئے تو پڑھ لی اکیلے ہوئے تو چھوڑ دی۔ دیکھیے سورة نساء (142) تیسرا مالی عبادت بھی خوش دلی سے نہیں بلکہ مجبوراً جرمانہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (264) اب ان کا خرچ کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیسے قبول ہو ؟ پکے مومن تو اپنے مال کی پاکیزگی اور سکون قلب کے حصول کے لیے زکوٰۃ دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ) [ التوبۃ : 103 ] ”ان کے مالوں سے صدقہ لے، اس کے ساتھ تو انھیں پاک کرے گا اور انھیں صاف کرے گا اور ان کے لیے دعا کر، بیشک تیری دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔“
Ayah 9:55فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ : یعنی آپ ان لوگوں کے مال و دولت، اولاد اور دنیوی چمک دمک سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوتا تو یہ اس قدر مال دار اور صاحب اولاد کیوں ہوتے ؟ بلکہ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (131) اور مومنون (55، 56)۔
اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : یعنی دنیا میں ان چیزوں کو سعادت مندی خیال مت کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں صرف اس لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی حفاظت کی فکر میں لگے رہیں، نہ انھیں دن کا چین نصیب ہو نہ رات کا آرام۔ سکون قلب جو فقط اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے، یعنی (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ) [ الرعد : 28 ] اس سے یہ سراسر محروم رہیں۔
وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ : یعنی آخر دم تک انھیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو، بلکہ جب یہ مریں تو اپنے مال اور اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو، نہ آخرت کی فکر نہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غرض۔ اگرچہ مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے نزدیک ہر چیز سے مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ چیزیں اس کے لیے نعمت ہی ہوتی ہیں وبال جان نہیں ہوتیں۔
Ayah 9:56وَيَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ : ”فَرِقَ یَفْرَقُ (ع)“ سخت خوف زدہ ہونا اور گھبرانا، یعنی یہ منافق تم سے شدید خوف کی وجہ سے اپنے کفر کا اظہار نہیں کرسکتے، نہ مقابلے میں آنے کی جرأت کرسکتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں انھیں اپنے قتل اور بیوی بچوں کے لونڈی غلام بننے کا سخت خطرہ ہے، اس لیے قسمیں کھا کھا کر تم میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نفاق آدمی میں دوسروں کا خوف اور بزدلی پیدا کرتا ہے۔
Ayah 9:57لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً :”مَلْجَاً“ ”لَجَِأَ یَلْجَأُ (ف، س)“ سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔”مَغٰرٰتٍ“ ”مَغَارَۃٌ“ کی جمع ہے۔ ”غَوْرٌ“ گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ ”مُدَّخَلًا“ ”دَخَلَ“ سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہوسکتی ہیں، جن کی طرف جایا جاسکتا ہے۔ ”يَجْمَحُوْنَ“ ”جَمَحَ الْفَرَسُ“ اصل میں گھوڑے کے منہ زور ہو کر سوار کے قابو سے نکل کر بھاگ جانے کو کہتے ہیں، یعنی انھیں مسلمانوں سے، ان کی مجالس اور ان کے معاشرے سے بڑا شدید بغض ہے مگر ان کا بس نہیں چلتا، اس لیے مسلم معاشرے میں رہنے اور اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے تمہارا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔
Ayah 9:58وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ :”لَمَزَ (ض)“ سامنے عیب نکالنا، طعن کرنا، یہ بھی منافقین کا شیوہ تھا کہ غنائم و صدقات کی تقسیم میں وہ رسول اللہ ﷺ پر طعن کرنے اور عیب لگانے سے باز نہیں آتے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف صدقات کی تقسیم میں طعن کرتے ہوں، بلکہ یہ ان کے لگائے ہوئے الزامات میں سے ایک تھا، چناچہ آپ غنائم یا صدقات تقسیم فرماتے تو کہتے دیکھو کیسی خویش پروری اور دوست نوازی ہو رہی ہے، انصاف نہیں ہو رہا۔ مطلب یہ کہ ہمیں کیوں نہیں ملا، ان کے ہاں انصاف کا پیمانہ بس اتنا تھا کہ انھیں مل جائے تو وہ خوش ہیں اور آپ ﷺ زبردست انصاف کرنے والے ہیں، لیکن اگر اسلام کی مصلحت کے پیش نظر یا کسی دوسرے شخص کے زیادہ ضرورت مند ہونے کی وجہ سے انھیں کچھ نہ مل سکے تو وہ سخت ناراض اور ان کے بقول نبی ﷺ عدل نہ کرنے والے۔ (نعوذ باللہ) ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آیا، کہنے لگا : ”یا رسول اللہ ! عدل کیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہیں ویل ہو، جب میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا ؟“ عمر بن خطاب ؓ نے کہا : ”اجازت دیجیے میں اس کی گردن اتار دوں۔“ فرمایا : ”رہنے دو ، اس کے کچھ ساتھی ہیں (اور ہوں گے) کہ تم میں سے ایک اپنی نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“ ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ آیت اتری : (وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ) [ بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام : 3610 ] حنین کی غنیمتوں کی تقسیم کے وقت اور دوسرے کئی موقعوں پر بھی ان لوگوں نے اس قسم کی گستاخیاں کیں۔ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب ؓ جیسے صحابہ نے ان کے قتل کی اجازت مانگی، مگر آپ ﷺ نے فرمایا، رہنے دو۔ بعض موقعوں پر جب انھوں نے مہاجرین و انصار کو بھڑکا کر ایک دوسرے سے لڑا دیا اور آپ نے صلح کروا دی، اس وقت بھی عبداللہ بن ابی نے اور اس کے ساتھیوں نے بہت بڑی گستاخی کی، جس کا ذکر سورة منافقون میں ہے۔ عمر ؓ کے اجازت مانگنے کے باوجود آپ نے ان کے قتل کی اجازت نہیں دی، یہ کہہ کر کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (سواء علیھم أستغفرت لھم) : 4905 ]
Ayah 9:59وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَـيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ : یعنی کاش ! وہ طعنہ زنی اور عیب جوئی کے بجائے اس طرح کہتے، کیونکہ ان کے حق میں یہی بہتر تھا اور یقیناً اللہ تعالیٰ بھی ان پر فضل کرتا مگر ان ناشکروں کو اتنی توفیق کہاں کہ اس قسم کا کلمۂ خیر کہہ سکیں، یہ تو جب بات کریں گے ایسی ہی کریں گے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی برائی کا پہلو نکلتا ہو۔
بعض لوگوں نے اس آیت سے زبردستی یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی دیتے ہیں، حالانکہ ان آیات میں آپ کی زندگی میں غنیمت اور صدقات کی تقسیم کا ذکر ہو رہا ہے اور اگر شرک کی نجاست ذہن میں نہ بھری ہو تو اسی آیت میں یہ الفاظ ”حَسْبُنَا اللّٰهُ“ (ہمیں اللہ کافی ہے) پھر ”سَـيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ“ اور ”وَرَسُوْلُهٗٓ“ کے درمیان ”مِنْ فَضْلِهٖ“ اللہ کے فضل کا ذکر کرکے دونوں کو الگ کرنا اور آخر میں ”اِنَّآ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ“ (بےشک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں) کے الفاظ واضح دلالت کر رہے ہیں کہ دینے والا فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس سے پہلے فرمایا : ”کاش وہ اس پر راضی ہوجاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا۔“ اس کے بعد وہ الفاظ ذکر فرمائے جو اوپر ذکر ہوئے ہیں، جن کا معنی یہ ہے کہ اصل دینے والا تو اللہ ہے لیکن اس کے حکم سے تقسیم آپ کرتے تھے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ) [ بخاری، العلم، باب من یرد اللہ۔۔ : 71 ] ”میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے۔“ اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم فرماتے تھے، اب ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق امیرا لمومنین تقسیم فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کئی جگہ یہ اعلان فرمانے کا حکم دیا کہ میں نہ اپنے نفع و نقصان کا مالک ہوں نہ تمہارے اور یہ بھی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ دیکھیے سورة جن (21) ، اعراف (188، 197، 198) اور فاطر (13 تا 15) جنگ تبوک میں جب آپ سے سواریاں مانگنے کے لیے بعض مجاہد آپ کے پاس آتے اور آپ فرماتے کہ میرے پاس سواریاں نہیں ہیں جو میں تمہیں دوں، تو سواریاں حاصل نہ کرسکنے والے مجاہد روتے ہوئے واپس جاتے۔ دیکھیے سورة توبہ (92)۔
Ayah 9:60اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ : منافقین کا طعن دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کے حق دار بیان فرما دیے، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ صدقات کی تقسیم کا رسول اللہ ﷺ کو بھی اختیار نہیں، لہٰذا آپ ﷺ پر طعن بےسود ہے۔ یہاں صدقات سے مراد فرض صدقات، یعنی زکوٰۃ و عشر ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے وصولی کے لیے عاملین فرض زکوٰۃ ہی کے لیے بھیجے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے پاس نفل صدقہ بھی جمع کروا دے۔ صدقہ کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والا عملی طور پر اپنے ایمان کے صدق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر نفلی خرچ پر بولا جاتا ہے، مگر کبھی فرض پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً) [ التوبۃ : 103 ] یہاں فرض صدقات ہی مراد ہیں۔ اس آیت کے آخر میں ”ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ“ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ نفلی صدقات کو فریضہ نہیں کہا جاتا۔ ”ۧاِنَّمَا الصَّدَقٰتُ“ سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کے علاوہ زکوٰۃ و عشر خرچ کرنا جائز نہیں۔
لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ : فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں، بعض اہل علم فقیر کو زیادہ بدحال قرار دیتے ہیں، بعض مسکین کو اور بعض دونوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں۔ دلائل کے لحاظ سے راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، کیونکہ یہ ”فقر“ سے مشتق ہے، کمر کے مہروں کو ”فَقَرَات الظَّھْرِ“ کہتے ہیں۔ فقیر بمعنی مفقور ہے، یعنی ضرورت کی اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ مسکین ”سکن“ سے مشتق ہے کہ ضرورت مندی نے اس کی حرکت کو سکون میں بدل دیا ہے۔ گویا فقیر کی حالت اس شخص کی سی ہے جس کے پاس کچھ نہیں اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ) [ الکہف : 79 ] یعنی وہ کشتی چند مساکین کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کشتی کا مالک جو کام بھی کرتا ہو بالکل خالی ہاتھ نہیں ہوتا۔ ہاں، آمدنی ضرورت سے کم ہونے کی وجہ سے وہ ضرورت مند و محتاج ہوتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں فقراء کو پہلے لانے سے بھی ان کے زیادہ بدحال ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ یہ فرق اس وقت ضروری ہوگا جب فقیر اور مسکین دونوں لفظ اکٹھے آئیں، جیسے ایمان اور اسلام کا فرق ہے، لیکن الگ الگ آئیں تو دونوں ایک ہی ہیں۔ اسی طرح ان میں سے صرف فقیر یا مسکین کا لفظ آئے تو وہ دونوں قسم کے ضرورت مندوں پر بول لیا جاتا ہے، خواہ ان کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو۔ یہ دونوں زکوٰۃ کے مستحق ہیں، خواہ وہ بدحال فقیر ہوں یا سفید پوش ضرورت مند۔
وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا : زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے رسول اللہ ﷺ آدمی مقرر فرماتے تھے اور باقاعدہ ان کا محاسبہ فرماتے تھے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ابن اللتبیہ ؓ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا اور ان کی آمد پر محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کے عمال کو ملنے والے تحائف کو ان کے لیے ناجائز قرار دیا تھا۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَابُ الْاَحْکَامِ“ میں باب قائم فرمایا ہے :
”بَابُ رِزْقِ الْحُکَّامِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا۔“
وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ : اس سے مراد وہ نومسلم ہیں جن کی دل جوئی کرکے انھیں اسلام پر ثابت قدم رکھنا مقصود ہو، یا وہ کفار جن کی دل جوئی سے ان کے اسلام لانے کی امید ہے، یا وہ بااثر لوگ جن پر خرچ کرنے سے کئی لوگوں کے مسلمان ہونے کی امید ہے، یا وہ کافر سردار جن پر خرچ کرنے سے ان کے علاقے میں مسلمانوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کی امید ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے غلبے کے بعد یہ مد ختم ہوگئی، جیسا کہ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا، مگر موجودہ زمانے کے حالات کو سامنے رکھیں تو آج کل شاید رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے بھی زیادہ اس کی ضرورت ہے، کیونکہ کفار اسی طریقے سے مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔
وَفِي الرِّقَابِ : گردنیں چھڑانے سے مراد غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا ہے۔ مکاتب غلاموں کی (جنھوں نے اپنے مالکوں سے اپنی قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی شرط پر آزادی کا معاہدہ کیا ہوا ہے) مدد کرنا ہے۔ آج کل عدالتوں کے کفریہ نظام کی وجہ سے بےگناہ لوگ یا وہ گناہ گار جن کی شرعی سزا قید نہیں ہے، مگر کافرانہ قانون کی وجہ سے قید ہیں، یا کفر کی عدالتوں کا عائد کردہ جرمانہ ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے یا مقدمہ کے اخراجات ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے جیلوں میں سال ہا سال سے سڑ رہے ہیں ان کو چھڑانے پر زکوٰۃ صرف کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ (واللہ اعلم)
وَالْغٰرِمِيْنَ : وہ مقروض جو قرض ادا نہیں کرسکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہوگئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہوجائیں، یا وہ بااثر لوگ جنھوں نے صلح کروانے کے لیے لوگوں کی دیتیں یا رقوم اپنے ذمے لے لیں، یہ سب غارمین میں آتے ہیں۔
وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اس لفظ کے دو استعمال ہیں، ایک تو ہر نیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر اسی آیت میں پہلے ہوچکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ حدیث میں حج و عمرہ کو بھی اس مد میں شامل کیا گیا ہے۔ آپ تفسیر کی کتابیں دیکھ لیں یا فقہ کی ”وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ کی تشریح ”ھُمُ الْغُزَاۃُ“ ہی پائیں گے کہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، بلکہ اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیان اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بےحرمتی کی مصیبت بھی جمع ہوجائے گی۔
وَابْنِ السَّبِيْلِ : مسافر خواہ صاحب حیثیت ہو اگر سفر میں اسے ضرورت پڑجائے تو اس پر زکوٰۃ میں سے خرچ کیا جاسکتا ہے۔
فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ : معلوم ہوا کہ یہ مصارف فرض صدقات و عشر کے بیان ہوئے ہیں۔ چند اہل علم نے کہا کہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ اور عشر میں آنے والا مال آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور لازماً ہر مصرف میں خرچ کیا جائے، مگر رسول اللہ ﷺ اور خلفاء کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ ان میں سے جس مصرف میں زیادہ ضرورت ہو وہاں زیادہ بلکہ سب کا سب بھی صرف کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، ان مصارف کے علاوہ خرچ کرنا جائز نہیں اور یہی بات درست ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ فرض صدقہ صرف مسلمانوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو یمن بھیجتے وقت انھیں اہل یمن کو کلمۂ شہادت اور روزانہ پانچ نمازیں تسلیم کرلینے کے بعد زکوٰۃ بتانے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض فرمایا ہے : (تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَاءِ ھِمْ فَتُرَدُّ فِیْ فُقَرَاءِ ھِمْ)”جو ان کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور انھی کے فقراء پر واپس کردیا جائے گا۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب أخذ الزکوٰۃ من الأغنیاء۔۔ : 1496 ] مولفۃ القلوب پر خرچ بھی دراصل مسلمانوں ہی پر خرچ کی ایک صورت ہے۔
Ayah 9:61وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ : زمخشری نے فرمایا ”اُذُنٌ“ (کان) وہ آدمی ہے جو ہر ایک کی بات سن کر اسے سچا سمجھے۔ سنتے چلے جانے کی وجہ سے اس آدمی کا نام ہی کان رکھ دیا، جیسے جاسوس کا کام آنکھ سے تعلق رکھتا ہے، اس کا نام ہی ”عین“ (آنکھ) رکھ دیا گیا۔ ان منافقین کا مطلب یہ تھا کہ آپ کان کے کچے ہیں، ہر ایک کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ دیکھیے یہ آپ پر کتنا تکلیف دہ تبصرہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے والوں کے لیے سورة احزاب (57) میں دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت اور رسوا کن عذاب کا ذکر ہے اور یہاں ان کے لیے عذاب الیم بیان فرمایا۔
قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ : یعنی ہاں تمہاری بات اس حد تک صحیح ہے کہ محمد ﷺ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، مگر یہ الزام صحیح نہیں کہ ہر بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ اعتبار صرف اسی بات کا کرتے ہیں جو سچی اور حقیقی ہوتی ہے، جو پکے مومن بتاتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سن تو لیتے ہیں مگر اس پر صبر اور درگزر سے کام لیتے ہیں، یہ چیز تمہارے حق میں خیر (بہتر) ہے۔ ورنہ آپ جھوٹی بات سن کر اگر اس پر فوراً مؤاخذہ کرنے والے ہوتے تو تم اپنے جھوٹے عذروں کی بنا پر یا تو کب کے قتل کردیے گئے ہوتے یا مدینہ سے نکال دیے گئے ہوتے۔
وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ : یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، چاہے دل سے ایمان دار نہ ہوں، ایسے لوگوں کے لیے رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے راز کھولتے نہیں بلکہ انھیں اپنی اصلاح کرلینے کا موقع دیتے ہیں۔ (فتح القدیر)
Ayah 9:62يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ : منافقین جب الگ مجلسوں میں بیٹھتے یا کہیں اکیلے ہوتے تو مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ پر پھبتیاں کستے۔ مسلمانوں کو یا نبی ﷺ کو اگر کبھی ان کی اطلاع ہوجاتی تو وہ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی پروا نہ کرتے۔ اس آیت میں منافقین کی اس حرکت کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 9:63اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ :”يُّحَادِدِ“ یہ ”حَدٌّ“ سے مشتق ہے جس کا معنی ”جانب“ ہے۔ باب مفاعلہ عموماً مقابلے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول ایک جانب ہوں اور یہ اس کے مقابلے میں دوسری جانب ہوں۔ آگے سوال کے طور پر ان کا انجام ذکر فرمایا کہ کیا انھیں یہ معلوم نہیں ؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں بلکہ بتانا ہے کہ یہ بات اتنی واضح ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کے مقابلے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Ayah 9:64يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ : اب منافقین کی مزید کمینی حرکتوں کا ذکر ہوتا ہے اور کافی آگے تک چلا جاتا ہے، اس بنا پر اس سورت کو ”الفاضحہ“ بھی کہتے ہیں، یعنی منافقوں کے راز کھولنے والی اور ان کو رسوا کرنے والی۔ منافقین بظاہر ایمان کے باوجود دل میں رسول اللہ ﷺ سے کفر رکھتے تھے، ان میں سے بعض رسول اللہ ﷺ کو سچا سمجھنے کے باوجود ضد اور تعصب کی وجہ سے دل میں آپ سے کفر رکھتے تھے، کچھ شک میں مبتلا تھے، اس لیے ایمان سے خالی تھے اور جو بالکل دل سے آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے وہ بھی کئی دفعہ مشاہدہ کرچکے تھے کہ جوں ہی وہ ایسی کوئی بات یا حرکت کرتے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیتا، اس لیے وہ اپنے دلی کفر کی وجہ سے کبھی کبھی آپس میں اپنے دلی بغض کا اظہار کرلیتے، مگر ساتھ ہی خوف زدہ رہتے کہ کوئی سورت اترے گی جو ان کے راز اور دلی کیفیت ان کے سامنے اور مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گی۔ ”تُنَبِّئُهُمْ“ میں ”ھُمْ“ کی ضمیر منافقوں کی طرف بھی جاسکتی ہے اور مومنوں کی طرف بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم مذاق اڑا لو، تم جس بات کے ظاہر ہونے سے ڈر رہے ہو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے سب کے سامنے لے آنے والا ہے۔
Ayah 9:65وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ : منافق آپس میں گپیں لگاتے ہوئے اللہ، اس کے رسول اور آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے۔ رسول اللہ ﷺ کو کسی ذریعے سے یا وحی الٰہی سے اطلاع ہوتی اور آپ پوچھتے تو وہ کہتے ہم تو یوں ہی راستہ کاٹنے کے لیے شغل کی باتیں اور دل لگی کر رہے تھے۔ فرمایا ان سے کہیے کہ تمہارے آپس کے شغل اور دل لگی کا اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ مذاق سے کیا تعلق اور کیا دل لگی کے لیے تمہیں یہی ملے ہیں ؟ وہ لوگ بار بار معذرت کرتے، مگر رسول اللہ ﷺ یہی فرماتے۔
Ayah 9:66لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ : بہانے مت بناؤ، صاف مانو کہ تم نے ایمان لا کر پھر صریح کفر کیا ہے۔ جو شخص دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو وہ کافر ہوگیا، اگر یہ نہ بھی ہو تو تب بھی وہ منافق تو لازماً ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کی باتوں میں ظاہر و باطن کا باادب رہنا ضروری ہے۔ (موضح)
اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ : یعنی جس نے نفاق سے توبہ کرلی اور آئندہ مخلص ہو کر زندگی بسر کی، اسے تو ہم معاف کرتے ہیں مگر جو اپنے کفر پر قائم رہا اسے ضرور عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی دیکھیے منافقین کو بھی اخلاص اختیار کرنے پر معافی کا وعدہ اور اس کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی منافقین بھی بعد میں مخلص مسلمان ہوگئے تھے۔
Ayahs 9:67–68اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ : یعنی منافق مرد ہوں یا عورتیں سب ایک جیسے ہیں اور سب کی ایک جیسی عادات اور بدخصلتیں ہیں، وہ برے کام کا حکم دیں گے، اچھے کام سے روکیں گے اور بخل کی وجہ سے اپنے ہاتھ بند رکھیں گے، یعنی خرچ نہیں کریں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے انھیں بھلا دینے کا ذکر ان کے اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کے مقابلے میں فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی سلوک کیا کہ ان کی پروا ہی نہیں فرمائی، بلکہ انھیں اپنے فضل و کرم سے محروم کردیا۔ اس تاویل کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰ ؑ کی زبانی نقل فرمایا : (لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى) [ طٰہٰ : 52 ] ”میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی بھولنے کی طرف نسبت صرف لفظ کے ہم شکل ہونے تک ہے، ورنہ وہ ذات پاک بھولنے سے ہر طرح پاک ہے۔
هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : یعنی فسق (نافرمانی) میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”بےاعتقاد کی صلاحیت کیا معتبر ہے، اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔“ (موضح)