Ayah 9:100وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ : مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے ذکر کے بعد اس کے اردگرد رہنے والے بعض اعراب منافقین کا ذکر فرمایا، پھر بعض اعراب مومنوں کے اخلاص کا ذکر فرمایا اور انھیں اپنی رحمت کی خوش خبری سنائی، اب ان سے اعلیٰ مراتب والے خوش نصیبوں کا تذکرہ ہے۔ چناچہ اس آیت میں نبی ﷺ کے زمانے کے تین گروہوں کی تعریف فرمائی ہے، پہلا گروہ مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں، وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اپنی جائدادیں، گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کی، بعض نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے، بعض نے بدری صحابہ، بعض نے بیعت رضوان تک والے اور بعض نے فتح مکہ تک والے صحابہ مراد لیے ہیں۔ بہرحال ان سب کو دوسروں پر یقیناً ایک قسم کی سبقت حاصل ہے۔ دوسرا گروہ انصار میں سے سابقون وہ ہیں جنھوں نے مدینہ سے آکر 11 نبوی میں مکہ میں حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر پہلی بیعت عقبہ کی۔ یہ سات افراد تھے، دوسری بیعت عقبہ جو 12 نبوی میں ہوئی اس میں ستر (70) آدمی اور دو خواتین شامل تھیں، پھر وہ جو ان کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، پھر وہ سب اہل مدینہ جو آپ ﷺ کی مدینہ آمد کے بعد مسلمان ہوئے، ان سب کو درجہ بدرجہ سبقت حاصل ہے۔ تیسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سابقین مہاجرین و انصار کے بعد ایمان لاکر ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل کیا، جیسا کہ سورة انفال میں مہاجرین و انصار کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ) [ الأنفال : 75 ] ”اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا۔“ گویا صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ایمان لانے والے اور اس پر استقامت اختیار کرنے والے تمام صحابہ کرام ؓ اس تیسرے گروہ میں شامل ہیں۔
آلوسی صاحب روح المعانی نے فرمایا : ”بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ) سے مراد رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہوسکی اور (وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ) (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔“ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کرسکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کرسکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہرگز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔
صحابہ کرام ؓ میں سب سے افضل ابوبکر ؓ ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ ﷺ کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء ؓ کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔
رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ : چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے۔ (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہوجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے ؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر ؓ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات امہات المومنین ؓ جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتیں ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
Ayah 9:101وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ : پہلے اعراب (بدوی) منافقین کا ذکر فرمایا، پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد سابقین مہاجرین و انصار اور ان کے پیچھے آنے والے صاحب احسان لوگوں کو خوش خبری دی اور ان کے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا (ان کا تذکرہ سورة جمعہ کی ابتدائی آیات میں بھی فرمایا ہے) اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں ”مَرَدُوْا“ اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی تیز ترین فراست اور قوی ترین اندازے کے باوجود ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکے، گو بعض کو ان کے لہجے اور دوسری علامات سے، یا اللہ تعالیٰ کی نشان دہی سے پہچانتے ہوں۔ دیکھیے سورة محمد (30) لہٰذا جن روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے بعض منافقین کے نام بھی حذیفہ ؓ کو بتا دیے تھے، وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ آپ ان تمام کو نہیں جانتے، گویا آپ بعض منافقین کو جانتے تھے اور بعض کو نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے، اس سے رسول اللہ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کے غلط دعویٰ کی حقیقت بھی واضح ہو رہی ہے۔
سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ : ایک تو دنیا میں غم و اندوہ اور فکر مندی کا عذاب، جس میں منافقین ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں، فرمایا : (يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ) [ المنافقون : 4 ] کہ وہ ہر لمحہ اپنے آپ کو خطرہ میں محسوس کرتے ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں اور پھر یہ رسوائی بھی کہ کفار اور مسلمانوں میں سے انھیں اپنا سمجھنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا اور مرنے کے بعد قبر کے عذاب کو دوسرا عذاب فرمایا۔ یا ”مَّرَّتَيْنِ“ سے مراد موت کے وقت فرشتوں کی مار ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ) [ محمد : 27 ] ”وہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔“ پھر قبر کا عذاب، اس کے بعد ”عَذَابٍ عَظِيْمٍ“ سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ ”مَّرَّتَيْنِ“ کا معنی ”بار بار“ بھی آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ) [ الملک : 4 ] ”پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔“ یعنی دنیا میں مال و اولاد، پریشانیوں اور ذلتوں کے ذریعے سے، پھر موت کے وقت، پھر قبر کے اندر بار بار عذاب دے کر آخر کار جہنم میں پہنچا دیں گے۔ یہ معنی بہت جامع ہے۔
ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”مَّرَّتَيْنِ“ یعنی دنیا میں تکلیف پر تکلیف پائیں گے، پھر آخرت میں پکڑے جائیں گے۔“ (موضح)
Ayah 9:102وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ : (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ) والی آیت میں مسلمانوں کے بہترین لوگوں کا ذکر ہے اور (وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ) میں مسلمان کہلانے والے بدترین لوگوں کا ذکر ہے، جو آگ کے درک اسفل (سب سے نچلے حصے) کا ایندھن بننے والے ہیں اور اب عام مسلمانوں کا ذکر ہے جن کے صالح اعمال بھی ہیں اور کچھ اعمال سیۂ (برے کام) بھی ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ مفسرین نے یہاں ابولبابہ ؓ وغیرہ کا تذکرہ فرمایا کہ وہ مخلص مسلمان ہونے کے باوجود تبوک پر نہ جاسکے تو انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خود کھولیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری توبہ قبول ہوگئی۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور پہلے ان کا پیش کردہ صدقہ قبول نہیں کیا تھا پھر اگلی آیت (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً) اتری تو ان کا صدقہ بھی قبول فرمایا۔ اس مفہوم کی اکثر روایات مرسل یا کمزور ہیں، البتہ ”الاستیعاب فی بیان الأسباب“ میں ابن عباس اور جابر ؓ کی ایک روایت کو حسن قرار دیا گیا ہے، جس میں ابولبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے پر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھنے اور آخر کار اللہ کے حکم سے رسول اللہ ﷺ کے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولنے کا اور (ۚوَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ) سے (اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ) تک آیات اترنے کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم) البتہ اس بات میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ جس طرح (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ) والی آیت میں مذکور افراد (وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ) میں قیامت تک صحابہ کرام ؓ کے تمام محسن پیروکار شامل ہیں، اسی طرح یہ آیت قیامت تک آنے والے تمام گناہ گار مخلص مسلمانوں کو شامل ہے، جنھوں نے اپنے اچھے اعمال کے ساتھ کچھ دوسرے برے اعمال بھی ملا جلا رکھے ہیں۔ سند کے لحاظ سے اس کی صحیح ترین تفسیر وہ ہے جو امام بخاری ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنی صحیح میں درج فرمائی ہے کہ سمرہ بن جندب ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آج رات دو آنے والے میرے پاس آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا، پھر وہ مجھے ایک ایسے شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کا نصف بدن سب سے زیادہ خوبصورت شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو اور نصف اس بدصورت ترین شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو۔ دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا، اس نہر کے اندر داخل ہوجاؤ، وہ اس میں داخل ہوگئے، پھر ہماری طرف واپس آئے تو ان سے وہ بدصورتی جا چکی تھی اور وہ بہترین صورت میں بدل چکے تھے۔ دونوں (فرشتوں) نے مجھ سے کہا، یہ جنت عدن ہے اور وہ تمہارا گھر ہے۔ دونوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کا نصف حصہ خوبصورت اور نصف بدصورت تھا (فَاِنَّھُمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّءًا تَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْھُمْ) تو یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نیک عمل کیے اور ان کے ساتھ برے عمل بھی ملا جلا دیے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرما دیا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (وآخرون اعترفوا بذنوبہم) : 4674 ]
Ayah 9:103خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً : ابن عباس ؓ کی روایت جو پچھلی آیت کی تفسیر میں ذکر ہوئی، اس میں ہے کہ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو یہ اپنے اموال لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا صدقہ قبول فرمایے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے، مگر آپ ﷺ نے صدقہ قبول کرنے سے انکار فرما دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے ان کا صدقہ قبول فرما لیا۔
اس حکم میں ان اعتراف گناہ کرنے والوں کا صدقہ قبول کرنے کے ساتھ تمام مسلمانوں سے بھی صدقہ وصول کرنے کا حکم ہے، کیونکہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان خمسہ میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی میں ان کے نائب کو صدقہ ادا کرنا ہوگا۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا کہ زکوٰۃ وصول کرنے کا حق صرف رسول اللہ ﷺ کو تھا، آپ کے بعد کسی کا یہ حق نہیں۔ چناچہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے ابوبکر ؓ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا، مگر ابوبکر ؓ اور تمام صحابہ نے ان کی تاویل کو رد کیا اور ان سے اس وقت تک جنگ کی جب تک انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کو زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ اس موقع پر ابوبکر ؓ نے اپنا وہ مشہور قول ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ مجھ سے ایک عناق (بکری کی پٹھوری) اور ایک روایت میں ہے کہ ایک عقال (ایک رسی یا ایک سال کی زکوٰۃ) روکیں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے تو میں ہر صورت ان کے نہ دینے کی وجہ سے ان سے جنگ کروں گا۔
تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا : اس سے زکوٰۃ اور صدقات کی فضیلت ظاہر ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان کے مال کو اور اس کی نیت اور عمل کو طہارت اور پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دونوں میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ ”زَکَا یَزْکُوْ“ جس سے ”وَتُزَكِّيْهِمْ“ مشتق ہے، پاک ہونے اور بڑھنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ ویسے بھی صدقہ کو صدقہ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے کے صدق کو ظاہر کرتا ہے۔
وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ : ”صَلَاۃٌ“ کا معنی نماز، رحمت اور دعا بھی آتا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صدقہ پیش کرنے والوں کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کا حکم دیا کہ اس سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، اس لیے آپ ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی صدقہ (فرض زکوٰۃ یا نفل صدقہ) لے کر آتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، جیسا کہ پیچھے آیت (99) کی تفسیر میں باحوالہ گزرا ہے کہ آپ نے ابو اوفی ؓ کے زکوٰۃ لانے پر (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی) کہہ کر ان کے ساتھ ان کے پورے اہل کو بھی دعا میں شامل فرما لیا۔ (وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) یعنی اللہ تعالیٰ جو وہ کہہ رہے ہیں یا جو ان کے دل میں ہے سب سے واقف ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے علیم بھی۔
Ayah 9:104اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ : اس آیت میں (گناہ گاروں کو) توبہ اور صدقے پر ابھارا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی توبہ کرے اور پھر عمل صالح کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (70، 71) بھلا اس کرم کی کوئی حد ہے ؟ پھر وہ صدقہ قبول ہی نہیں کرتا، بلکہ اسے بڑھاتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، پھر اسے تمہارے ایک کے لیے پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تمہارا کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچھیرے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔“ پھر اس کی تصدیق میں زیر تفسیر آیت اور یہ آیت پڑھی : (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ) [ البقرۃ : 276 ] ”اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔“ [ ترمذی، الزکوٰۃ، باب ما جاء فی فضل الصدقۃ : 662 ] اس کا اصل بخاری اور مسلم میں بھی ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ]
Ayah 9:105وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ : یعنی اب اگر قصور ہوگیا تو آئندہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء کے دور میں جو جہاد ہونے والے ہیں ان میں خوب کام کرلو۔ (موضح) اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ کے تمام احوال سے پوری طرح باخبر ہے مگر تم عمل کرو، تمہارے عمل کو وجود میں آتا ہوا اللہ تعالیٰ بھی دیکھ لے گا، اس کا رسول بھی اور ان کے زمانے کے مومن اور بعد میں آنے والے خلفاء اور اہل ایمان بھی، کیونکہ آدمی اچھا یا برا جو کام بھی کرتا ہے اس کی اسی طرح کی شہرت ہر طرف پھیل جاتی ہے، خصوصاً مومن اس سے بیخبر نہیں رہتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَنْتُمْ شُھَدَاء اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ) [ النسائی، الجنائز، باب الثناء : 1934، 1935] ”تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ یہ الفاظ آپ ﷺ نے ایک جنازے کے گزرنے پر لوگوں کی اچھی تعریف اور دوسرے کے گزرنے پر لوگوں کے اس کی بری تعریف کرنے پر ارشاد فرمائے اور پہلے کے لیے جنت کی بشارت دی اور دوسرے کے لیے آگ کی۔ ایک روایت میں ہے : (اَلْمُؤْمِنُوْنَ شُھَدَاء اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ)”مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت : 1367 ]
وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : یعنی اگر بالفرض لوگوں کو تمہاری حقیقت کی خبر نہ ہوسکی تو آخر کار تمہیں واپس عالم الغیب والشہادہ کے پاس جانا ہے، وہاں کچھ مخفی نہیں رہے گا۔
Ayah 9:106وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ : جو لوگ غزوۂ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور مدینہ سے نہیں نکلے، وہ تین طرح کے تھے، ایک منافقین، دوسرے ابولبابہ ؓ اور ان کے ساتھی، جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور تیسرے کعب بن مالک ؓ اور ان کے دو ساتھی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ ، جنھوں نے اگرچہ آپ ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بنا کر پیش نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ جلدی قبول نہ فرمائی بلکہ ان کے معاملے کو مؤخر رکھا۔ اس آیت میں انھی کا ذکر ہے اور ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکر آگے آیت میں آ رہا ہے۔
Ayah 9:107وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا : یہ منافقین کے ایک اور قبیح کام کا ذکر ہے کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں بنانے کے لیے جمع ہونے اور اپنے راز مخفی رکھنے کے لیے کوئی موزوں جگہ نہیں ملتی تھی، چناچہ انھوں نے مسجد قبا کے ساتھ ہی ایک مسجد بنائی جس کے بنانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے چار مقصد بیان فرمائے ہیں۔ چاروں مقصد مصدر کے لفظ کے ساتھ آئے ہیں : 1 ”ضِرَارًا“ یعنی یہ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ مومنوں کو نقصان اور تکلیف پہنچانے کے لیے ہے۔ 2 ”وَّكُفْرًا“ یعنی مساجد کی بنیاد تو اللہ اور رسول پر ایمان اور اکیلے اللہ کو پکارنے کے لیے ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) [ الجن : 18 ] مگر اس کی بنیاد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف دلوں میں چھپا ہوا کفر و شرک اور اس کی اشاعت ہے۔ 3 وَّتَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ“ مسجد قبا کی موجودگی میں اس کے ساتھ ہی مسجد بنانے کا واضح مطلب مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا تھا کہ وہ ایک جگہ نماز نہ پڑھیں، کیونکہ مسلمانوں کی اسلام کی وجہ سے باہمی محبت اور اتفاق و اتحاد سے منافقین کو شدید حسد تھا۔ 4 ”وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ“ اس سے پہلے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے رہے اور ان سے برسر جنگ رہے، خصوصاً منافقین اور وہ لوگ جو مدینہ سے بھاگ گئے تھے اور دشمنوں کی پناہ میں رہ کر اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے ان کے لیے اور ان کے بھیجے ہوئے آدمیوں کے لیے مسجد کے پردے میں چھپاؤ کی جگہ مہیا کرنا۔ مؤرخین نے خصوصاً یہاں ابوعامر راہب (جس کا نام مسلمانوں نے ابوعامر فاسق رکھا ہوا تھا) کا ذکر کیا ہے، جو مشہور صحابی حنظلہ غسیل الملائکہ کا والد تھا اور عیسائی ہو کر ہرقل کے پاس مسلمانوں کے خلاف کمک حاصل کرنے کے لیے گیا تھا، اس کی تجویز پر مسلمانوں سے جنگ کے لیے آنے والوں کے لیے بطور گھات اور کمین گاہ یہ مسجد بنائی گئی تھی۔
منافقین نے مسلمانوں کے دلوں سے شک دور کرنے کے لیے مسجد بنانے کا بہانہ یہ بنایا کہ ہم نے بیماروں اور کمزوروں کی سہولت کے لیے یہ مسجد بنائی ہے، تاکہ وہ سردی اور بارش میں سہولت سے یہاں نماز پڑھ سکیں اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے درخواست کی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھیں، تاکہ ہمیں برکت حاصل ہو۔ خواہش ان کی یہ تھی کہ آپ کے نماز پڑھنے سے ہماری مسجد تسلیم ہوجائے اور ہم اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ آپ اس وقت تبوک کے لیے روانہ ہو رہے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو واپسی پر میں تمہاری مسجد میں آ کر نماز پڑھوں گا۔ جب آپ ﷺ تبوک سے واپسی پر مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو جبریل ؑ یہ آیات لے کر نازل ہوئے جن میں اس مسجد ضرار کا پول کھولا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ یقیناً قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ اس مسجد بنانے سے بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ بلاشک و شبہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔
Ayah 9:108لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اس میں کبھی نماز نہ پڑھیں، کیونکہ قیام نماز کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ حدیث ہے : (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا) دوسرا یہ کہ نماز تو دور کی بات ہے آپ کبھی اس مسجد میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوں، کیونکہ اس میں ان کی عزت افزائی ہوگی، جیسا کہ آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا : (وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ) [ التوبۃ : 84 ] چناچہ آپ نے راستے ہی سے آدمی بھیج کر اس مسجد کو جلوا کر مسمار کروا دیا۔
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ : اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ سیاق وسباق سے واضح طور پر مسجد قبا ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد مسجد ضرار کے برعکس پہلے دن ہی سے اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا کے حصول پر رکھی گئی تھی اور اس کی خاص فضیلت بھی صحیح احادیث میں آئی ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسجد قبا میں نماز عمرہ کی طرح ہے۔“ [ ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی مسجد قباء : 324، عن أسید بن ظہیر ؓ ] عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا میں سوار ہو کر یا پیدل آیا کرتے تھے اور اس میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [ مسلم، الحج، باب فضل مسجد قباء۔۔ : 1399 ]
صحیح بخاری میں ہجرت سے متعلق طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کے موقع پر پہلے بنوعمرو بن عوف میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جو (اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ) ہے اور آپ نے اس میں نماز پڑھی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اونٹنی رسول اللہ ﷺ کی اس مسجد کے پاس بیٹھ گئی جو مدینہ میں ہے اور وہ سہل اور سہیل ؓ کی کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبی ﷺ و أصحابہ إلی المدینۃ : 3906 ] اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے، مگر بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا مصداق مسجد نبوی کو قرار دیا، چناچہ ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کی اس مسجد کے بارے میں بحث ہوگئی کہ وہ کون سی مسجد ہے جو (اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ) ہے۔ ایک نے کہا، وہ مسجد قبا ہے۔ دوسرے نے کہا، وہ مسجد رسول ﷺ ، یعنی مسجد نبوی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ہے۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، سورة التوبۃ : 3099 ] اس کی سند بھی صحیح ہے اور احمد، مسلم اور نسائی میں مذکور احادیث میں بھی آپ ﷺ نے اسے مسجد نبوی ہی قرار دیا ہے۔ اہل علم نے فرمایا، ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور آپ کا مسجد نبوی کی صراحت کرنا اس لیے تھا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد صرف مسجد قبا کی رکھی گئی ہے، بلکہ واضح فرمایا کہ مسجد نبوی کی بنیاد بھی پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور وہ بالاولیٰ اس آیت کی مصداق ہے۔
ہر وہ مسجد جس کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے یا تفریق ڈالنے کے لیے رکھی جائے، اس میں نماز جائز نہیں اور اسے ڈھا دینا لازم ہے اور ایک مسجد کے ساتھ ہی دوسری مسجد بنانا درست نہیں، الا یہ کہ آبادی زیادہ ہو جو ایک مسجد میں نماز نہ پڑھ سکیں۔ اسی طرح کوئی بھی مسجد جس کے بنانے والوں نے اس کی بنیاد ہی مشرکانہ عقائد پھیلانے اور توحید اور اہل توحید و سنت کی عداوت اور مخالفت کے لیے رکھی ہو اور اس میں قبر بنادی ہو یا شرکیہ کلمات لکھے ہوں، اس میں بھی نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں، جس مسجد کی بنیاد پوری بستی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز ہی کے لیے رکھی ہو بعد میں کوئی مشرکانہ عقیدے والا اس میں شرک کی کوئی علامت نمایاں کر دے، جسے ختم کرنے پر آدمی قدرت نہ رکھتا ہو، یا کوئی قدیم مسجد جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے بنانے والے نے اس کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر رکھی ہے، وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے، جیسا کہ مشرکین نے کعبہ کے اندر اور اردگرد بت رکھ دیے تھے، مگر رسول اللہ ﷺ فتح مکہ سے پہلے اس میں نماز پڑھتے اور طواف کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ قوت عطا فرمائے تو ان مساجد کو شرک کے مظاہر و علامات سے پاک کردیا جائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب ان کی باہمی تفریق ہے، اس لیے تمام کفار اور منافقین اسے زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ تفریق صوفیانہ فرقوں کی ہو یا فقہی فرقوں کی، یا سیاسی فرقوں کی مسلمانوں کی نجات، ترقی اور غلبہ تمام فرقے ختم کرکے صرف کتاب و سنت پر ایک ہوجانے میں ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی چاروں کی الگ مسجدیں، الگ مدرسے، الگ عدالتیں تھیں، حتیٰ کہ عین مسجد حرام میں چار الگ الگ مصلوں پر جماعتیں ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے سلطان عبد العزیز ؒ کو جنھوں نے تمام مملکت نجد و حجاز میں اور خانہ کعبہ میں یہ تفریق ختم کرکے سب کو ایک ہی امام پر جمع فرمایا۔ دوسرے ممالک میں ابھی تک ہر فرقے کی الگ الگ مسجدیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو فرقہ بازی چھوڑ کر توحید و سنت پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے، جیسا کہ مسلمانوں کا پہلا ایک سو سال کا روشن ترین زمانہ ان فرقوں اور الگ الگ عدالتوں اور مساجد سے پاک تھا اور تمام مسلمانوں کے کتاب و سنت پر متحد ہونے کی وجہ سے پوری دنیا پر ان کا غلبہ تھا۔ یہ تمام فرقے اور جن کے ناموں پر فرقے بنے ہیں سب بعد میں ظہور پذیر ہوئے، خیر القرون میں ان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا : ”يَّتَطَهَّرُوْا“ اور ”الْمُطَّهِّرِيْنَ“ یہ ”طَھُرَ (کرم)“ میں سے باب تفعل یعنی ”تَطَھَّرَ یَتَطَھَّرَ“ کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا معنی حروف میں اضافے کی وجہ سے بہت پاک ہونا اور رہنا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”یہ آیت : (فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ) اہل قبا کے متعلق اتری، وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الطھارۃ، باب فی الاستنجاء بالماء : 44۔ ترمذی : 3100۔ ابن ماجہ : 355، و صححہ الألبانی ]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؓ نے بلوغ المرام میں ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تعریف کرتا ہے (اس کی کیا وجہ ہے ؟) انھوں نے کہا کہ ہم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وجہ سے بہت سے لوگ جہاں پانی میسر ہو وہاں بھی پہلے ڈھیلے استعمال کرتے ہیں پھر پانی، جس سے گندگی بھی پھیلتی ہے اور گٹر بھی بند ہوتے ہیں۔ کئی لوگ استنجا خانے سے باہر شلوار ہاتھ میں پکڑ کر ڈھیلے سے پیشاب خشک کر رہے ہوتے ہیں جو نہایت بےہودہ دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل قبا کی تعریف اس لیے تھی کہ وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے، پانی کی موجودگی میں ڈھیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی کو صرف پانی کے ساتھ طہارت سے تسلی نہیں ہوتی تو وہ وسوسے کا مریض ہے۔ یہ حدیث جس میں پتھروں کے بعد پانی کا ذکر ہے، اس کے متعلق خود حافظ ابن حجر ؓ نے بلوغ المرام میں فرمایا کہ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اصل حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ہے، جسے ابن خزیمہ نے ابوہریرہ ؓ سے صحیح کہا ہے اور وہ پتھروں کے ذکر کے بغیر ہے۔ حافظ ابن حجر ؓ نے ”التلخیص الحبیر“ میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسے صرف محمد بن عبد العزیز راوی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اسے ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے۔ ہاں استنجا صرف پتھروں سے بھی جائز اور کافی ہے اور اگر کبھی اس کا اتفاق ہو اور اس کے بعد پانی سے مزید صفائی کرلے تو بہتر ہے، ورنہ پانی کی موجودگی میں پتھر استعمال کرنے کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
Ayah 9:109اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى : ”شَفَا“ کنارا ”جُرُفٍ“ ندی نالے یا دریا کا کنارا جس کے نیچے سے پانی مٹی بہا کرلے گیا ہو اور وہ بس گرنے ہی والا ہو، کیونکہ اس کے نیچے کوئی بنیاد ہی نہیں کہ ٹھہر سکے، صرف مٹی کا نیچے سے کھوکھلا تودا ہے۔ ”ھَارٍ“ اسم فاعل ہے ”ھَارَ یَھَارُ (خَافَ یَخَافُ)“ سے یا ھار یَھُوْرُ (قَالَ یَقُوْلُ)“ سے۔ اصل ”ھَاءِرٌ“ تھا، جیسا کہ ”خَاءِفٌ“ یا ”قَاءِلٌ“ ، پھر اس میں قلب واقع ہوا تو ”ھَارِیٌ“ ہوگیا اور ”رَاضِیٌ“ سے یاء گرنے کے بعد ”رَاضٍ“ کی طرح ”ھَارِیٌ“ سے ”ھَارٍ“ ہوگیا۔ ”فَانْهَارَ“ باب انفعال ”اِنْھِیَارٌ“ سے ماضی معلوم ہے۔
یہ دو شخصوں کی مثال ہے، ایک وہ جس کے عقیدہ و عمل کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر ہے، دوسرا وہ جس کے عقیدہ وعمل کی بنیاد محض کفر و نفاق پر ہے۔ اول الذکر کی عمارت کی بنیاد مضبوط ومستحکم ہے، وہ کبھی گرنے والی نہیں اور دوسرے کی عمارت ایسی چیز پر ہے جو دکھائی تو دیتی ہے مگر نیچے سے خالی ہے، گویا اس کی بنیاد ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہوگا کہ وہ عمارت ہر حال میں اسے بھی لے کر گرے گی اور کفر و نفاق (جس کا انجام آگ ہے) کے اوپر کھڑی ہونے کی وجہ سے جہنم کی آگ میں لے کر گرے گی۔
وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : یعنی بےانصافی (ظلم) کی یہ شامت پڑتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ (موضح)
Ayah 9:110لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً : ”رِيْبَةً“ بےچینی، جیسا کہ حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلصِّدْقُ طُمَانِیْنَۃٌ وَالْکِذْبُ رِیْبَۃٌ) [ أحمد : 1؍200، ح : 1728۔ ترمذی : 2518، و صححہ الألبانی ] ”سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ بےچینی کا باعث ہے۔“ یعنی یہ مسجد ضرار گرائے جانے کے بعد اس کے بنانے والوں کے دلوں کو بےچین رکھے گی کہ ہمارا نفاق و کفر ظاہر ہوگیا، اب کوئی مسلمان ہمیں دل سے اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا، ان کی یہ حالت موت تک ایسے ہی رہے گی۔ (اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ) کا یہی معنی ہے، نہ ان کا دل نفاق سے پاک ہوگا نہ انھیں اطمینان نصیب ہوگا۔
Ayah 9:111اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ : ”فَاسْـتَبْشِرُوْا“ ”اَلْاِسْتِبْشَارُ“ ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بےمثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ سودا اور معاہدہ صرف اس پر نہیں کہ وہ قتل کیے جائیں گے تو قیمت ملے گی، بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے وہ کفار کو قتل کریں گے تب بھی یہی قیمت ملے گی۔ پھر اس معاہدے کی باقاعدہ تسجیل (رجسٹری) آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں کی گئی، اس سے بڑھ کر سودے کی پختگی کا تحریری ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا سچا پکا عہد قرار دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنا عہد کون پورا کرنے والا ہے۔ سو اس کا ادھار دوسرے تمام نقدوں سے بڑھ کر ہے، پھر اس کا ادھار وعدہ جنت یقینی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیکھیے سورة حدید (21) ، سورة صف (10 تا 12) اور سورة توبہ (20 تا 22) اور اگر کچھ زندگی باقی ہے تو وہ بھی اس کے بےپایاں انعام سے خالی نہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کے راستے میں جہاد کرے اور اسے اس کے راستے میں نکالنے والی چیز اس کی راہ میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، یا اسے اس کے گھر میں اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا جس گھر سے وہ نکل کر گیا تھا۔“ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی ﷺ : أحلت لکم الغنائم : 3123 ]
مغیرہ بن شعبہ ؓ اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ ؓ سے پوچھا : ”تم لوگ کیا ہو ؟“ انھوں نے رسول اللہ ﷺ اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا : ”ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کردیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بنے گا۔“ [ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ۔۔ : 3159 ] جہاد کے بیشمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : اس میں حصر کے لیے ”ھُوَ“ ضمیر لا کر اور خبر ”الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ“ پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوز عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بےوقعت ہے۔
حسن بصری ؓ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے، جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے، پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔ ”لَھُمُ“ پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا ”بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ“ کہ جنت انھی کی ہے۔
Ayah 9:112اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہد مومنوں کی نو صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی چھ صفات میں صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، ساتویں اور آٹھویں صفت کا تعلق مخلوق سے ہے اور آخری کا تعلق دونوں سے ہے۔
اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ : اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ان کو چھوڑنے کا عزم کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے والے، کیونکہ توبہ ان تینوں کے جمع ہونے سے مکمل ہوتی ہے۔ میدان قتال میں توبہ و استغفار سے زیادہ کوئی چیز مفید نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں کے ہمراہ قتال کرنے والوں کی دعا ذکر فرمائی : (وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) [ آل عمران : 147 ] ”اور ان کا کہنا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔“
الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ : مشکل اور آسانی، خوشی اور ناخوشی، آرام اور تکلیف ہر حال میں اللہ کی عبادت کرنے والے اور ہر حال میں اس کی تعریف کرنے والے اور اس پر راضی رہنے والے۔
السَّاۗىِٕحُوْنَ : ”سَاحَ یَسِیْحُ سِیَاحَۃً“ کا معنی پانی کا زمین پر چلنا، پھیل جانا۔ ”اَلسِّیَاحَۃُ“ عبادت کے لیے (گھر بار چھوڑ کر) زمین میں نکل جانا۔ (قاموس) چونکہ اس میں آرام و آسائش کا ترک اور دنیا کا ترک پایا جاتا ہے۔ نصرانیت میں اس نے رہبانیت کی صورت اختیار کی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، چناچہ فرمایا : (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ) [ الحدید : 27 ]”اور رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) تو انھوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“ اب اس کی صورت اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت (وطن چھوڑنا) ہے کہ جہاں اللہ کے دین پر عمل نہ کرسکے، نہ اس کی دعوت دے سکے، اسے چھوڑ کر اللہ کی زمین میں کہیں اور نکل جائے۔ دیکھیے سورة نساء (97 تا 100) ، زمر (10) اور عنکبوت (53) ایک صورت جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں مجاہد گھر سے نکل کر آرام و آسائش ترک کرکے اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے اللہ کی زمین کے مشکل سے مشکل اور خوبصورت سے خوبصورت مقامات پر پھرتا ہے اور ہر جگہ اللہ کا بول بالا کرتا ہے۔ ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا : (اِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ) ”میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“ [ أبوداوٗد، الجھاد، باب فی النھی عن السیاحۃ : 2486، و صححہ الألبانی ] بعض علماء کے مطابق ”السَّاۗىِٕحُوْنَ“ میں وہ طالب علم بھی آجاتے ہیں جو اللہ کا دین سیکھنے کے لیے شہر بہ شہر سفر کرتے ہیں۔ ایک صورت ”السَّاۗىِٕحُوْنَ“ کی روزہ کی ہے کہ اس میں انسان تمام گناہ چھوڑنے کے ساتھ اپنی سب سے زیادہ مرغوب تین چیزیں کھانا پینا اور بیوی سے مباشرت ترک کردیتا ہے۔ ”السَّاۗىِٕحُوْنَ“ کا معنی ”روزہ رکھنے والے“ ابن عباس، ابن مسعود ؓ اور کئی تابعین سے آیا ہے۔ (ابن کثیر) ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلسَّاءِحُوْنَ ھُمُ الصَّاءِمُوْنَ) ”سائحون روزہ دار ہی ہیں۔“ مستدرک وغیرہ مگر شیخ البانی ؓ نے سلسلہ ضعیفہ (3729) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ بےتعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت ہے یا دل نہ لگانا دنیا کے مزوں میں۔ (موضح) ”السَّاۗىِٕحُوْنَ“ کے لغوی معنی اور صحیح حدیث کو مدنظر رکھیں تو ہجرت یا جہاد اور اعلائے دین کے لیے یا دوسرے نیک مقاصد کے لیے زمین میں پھرنے والے ہی اس کا اصل مصداق ٹھہرتے ہیں۔ پاسپورٹ اور ویزا کا نظام کفار نے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو ختم کرنے ہی کے لیے اپنے اور مسلمانوں کے ملکوں میں نافذ کروا دیا ہے، کیونکہ سفر کے ذریعے ہی سے ہجرت، جہاد، طلب علم، تبلیغ دین، تجارت اور بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو اس وقت تک حاصل رہے جب تک مسلمان ساری زمین پر پھرتے رہے اور اس قوت سے سرفراز رہے۔ جب وہ گھروں میں بیٹھ گئے اور آرام طلبی اختیار کی تو کفار کی مراد بر آئی۔
الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ : اس کے اولین مصداق تو وہ ہیں جو فرض نمازوں کے علاوہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں، جن کے متعلق کفار نے بھی شہادت دی : ”ھُمْ باللَّیْلِ رُھْبَانٌ وَبِالنَّھَارِ فُرْسَانٌ“ کہ وہ رات کو راہب اور دن کو شاہ سوار ہوتے ہیں۔ ورنہ کم از کم فرض نمازوں کے پابند ہونا تو اس کے لیے بنیادی چیز ہے۔ ترک نماز کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کے سوداگر سمجھنا اپنی جان کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ : یعنی دوسروں کو نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے منع کرکے کفار کو مسلمان بنانے والے اور مسلمانوں کو اسلام پر عمل کی تاکید کرنے والے اور صرف دوسروں ہی کو نہیں خود بھی اللہ کی ہر حد کی پابندی اور ہر حکم کی اطاعت کرنے والے۔ ”الْمُؤْمِنِيْنَ“ میں الف لام کی وجہ سے ”ان مومنوں کو“ ترجمہ کیا ہے کہ خوش خبری کے حق دار ان صفات کے حامل مومن ہیں، فقط دعویٰ رکھنے والے نہیں۔
Ayah 9:113مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : ابتدا سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین اور منافقین سے کلی طور پر تعلق ختم کرنے کے اعلان و اظہار کا حکم دیا ہے۔ اب یہاں بتایا کہ جس طرح ان کے زندوں سے لاتعلقی کا اظہار ضروری ہے اسی طرح ان کے مردوں سے براءت کا اظہار بھی لازم ہے اور ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں۔ مسیب بن حزن ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے تو اس کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابوطالب سے کہا : ”اے چچا ! تو ”لا الہ الا اللہ“ کہہ دے، میں اللہ کے پاس اس کلمے کی شہادت دوں گا۔“ تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے ابوطالب سے کہا : ”کیا تو عبد المطلب کے دین سے منہ موڑ رہا ہے ؟“ رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے یہی (کلمہ) پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ مرتے وقت آخری بات جو اس نے کہی : (عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ) کہ میں عبد المطلب کے دین پر مر رہا ہوں۔ اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! میں تیرے لیے استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہ کردیا گیا۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، الجنائز، باب إذا قال المشرک عند الموت لا إلٰہ إلا اللہ : 1360۔ مسلم : 24 ] دوسری کتب حدیث میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اس حدیث میں ابوطالب کے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کی صراحت موجود ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ دین عبد المطلب دین ابراہیم ہی تھا، اس لیے ابوطالب مسلمان تھے، ان کی بات کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے۔ ابوطالب کے کفر پر مرنے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو بیحد غم اور صدمہ ہوا، اس پر یہ آیت اتری : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
عبد اللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا، اسے (آگ کی) دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [ مسلم، الإیمان، باب أھون أہل النار عذابا : 212 ]
مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ : جب تک کوئی کافر زندہ ہے اس کے ایمان کی امید ہے، اس لیے اس کی ہدایت اور مغفرت کی دعا جائز ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ کو اس کے لیے دعائے مغفرت سے منع نہیں کیا گیا، البتہ جب کفر پر موت کے بعد صاف واضح ہوگیا کہ وہ جہنمی ہے، اب نبی کریم ﷺ یا ایمان والوں کو اس کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (48) اور مائدہ (72) ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، آپ خود بھی روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا، پھر آپ نے فرمایا : ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اس کے لیے استغفار کروں مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اس سے اجازت مانگی کہ اس کی قبر کی زیارت کرلوں تو مجھے اجازت دے دی گئی، سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [ مسلم، الجنائز، باب استئذان النبی ﷺ ربہ عزوجل۔۔ : 108؍976 ] مسند احمد وغیرہ میں اس مفہوم کی اور بھی احادیث ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؓ بخاری کی شرح فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یہ سارے واقعات نزول آیت کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر جن روایات میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ کے والدین کو زندہ کیا گیا اور وہ ایمان لا کر پھر فوت ہوگئے ان روایات میں سے کوئی ایک بھی حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین کی تصریح کے مطابق ثابت نہیں۔
Ayah 9:114وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ : علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کر رہا تھا، جب کہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا تم ان کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہو جب کہ وہ مشرک تھے، تو اس نے کہا، کیا ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا تھا ؟ چناچہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی : (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ)”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ ہے جو اس نے اس سے کیا تھا۔“ [ نسائی، الجنائز، باب النہی عن الاستغفار للمشرکین : 2038، و حسنہ الألبانی ] ابراہیم ؑ نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب اس نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ دیکھیے سورة مریم (47) چناچہ حسب وعدہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ دیکھیے سورة شعراء (86) قیامت کو بھی سفارش کریں گے کہ یا اللہ ! میرے باپ کے جہنم میں ہونے سے زیادہ میری کیا رسوائی ہے تو حکم ہوگا کہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھو، دیکھیں گے تو ان کے والد کی شکل گندگی میں آلودہ بجو کی بنادی جائے گی اور فرشتے اسے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیں گے کہ نہ کوئی اسے پہچانے کہ یہ ابراہیم ؑ کا والد ہے اور نہ ان کی رسوائی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو رسوائی سے بچا لیا مگر مشرک کو جہنم سے نہیں بچایا۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واتخذ اللہ إبراھیم خلیلا۔۔) : 3350 ]
فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ : یعنی قیامت کے دن سفارش کے بعد اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر جب انھیں اپنے والد کا ابدی جہنمی، شرف انسانیت سے محروم اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہونا خوب واضح ہوگیا تو وہ اس سے بری اور لاتعلق ہوگئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خلیل اپنے خلیل کے دشمن سے دوستی یا تعلق کیسے رکھ سکتا ہے، چناچہ ان کے دل میں جو تعلق باقی تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔
اگر کسی کا کوئی کافر رشتے دار یا دوست فوت ہوجائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا۔ (ابن کثیر)
اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ : ”لَاَوَّاهٌ“ کا معنی بہت آہ، آہ کہنے والا ہے اور یہ دل کی نرمی کی علامت ہے، یعنی وہ اللہ کے حضور بہت آہیں بھرنے والے، بڑے حلم والے تھے۔ یہ ابتدا میں اپنے والد کے حق میں ان کی نرمی اور استغفار کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ ابراہیم ؑ تھے ہی ایسے کہ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو اسے نرمی سے جواب دیتے۔
Ayah 9:115وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا : اس میں ان مسلمانوں کو تسلی دی ہے جنھوں نے اوپر کی آیت کے نزول سے پہلے اپنے کافر رشتہ داروں کے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کے مسلمان ہونے کے بعد گمراہ ہونے کا حکم نہیں لگاتا جب تک اس کے لیے یہ واضح نہ کر دے کہ فلاں کام منع ہے اس سے بچ جاؤ، اگر پھر بھی وہ اس پر اصرار کرے تو گناہ گار بھی ہے اور شامت اعمال کے نتیجے میں اس کا رخ بھی گمراہی کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا جانتے ہوئے نافرمانی گمراہی کا سبب بن سکتی ہے، اگر ابھی کسی کام سے منع ہی نہیں کیا گیا تو اس کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ کبھی گرفت کرنے والا نہیں، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے والا اسے لاعلمی میں کر رہا ہے یا دیدہ و دانستہ، لہٰذا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ نے پہلے جو استغفار مشرکین کے لیے کیا اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔
Ayah 9:116اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : کفار سے ان کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد ہر طرح کی دلی لاتعلقی کا سبب بیان فرمایا کہ آسمانوں کا اور زمین کا مالک صرف اللہ، زندگی بخشنے والا اور موت دینے والا صرف اللہ، تمہارا والی وارث اور تمہارے تمام کاموں کا متولی اور سنبھالنے والا صرف اللہ، مشکل کے وقت اور دشمن کے مقابلے میں تمہارا مددگار صرف اللہ، اس کے سوا تمہارا نہ کوئی والی نہ مددگار، تو پھر اس کے دشمن سے تمہارا کیا تعلق، کیسی دوستی اور اس کے لیے کیسا استغفار ؟
Ayah 9:117لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ : ”تَّابَ“ کے معانی لوٹ آنا، مہربان ہوجانا، معافی مانگنا، معاف کردینا، آئندہ غلطی سے باز آنا اور توبہ قبول کرلینا سبھی آتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر اور مہاجرین و انصار پر مہربان ہونے اور معاف فرمانے کا مطلب ”فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ“ کے الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ تنگی کی گھڑی سے مراد غزوۂ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جب شدید گرمی کا موسم تھا، قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں اور بےسروسامانی کی حالت تھی، ادھر چھ سو کلو میٹر کا طویل اور پر مشقت سفر سامنے تھا۔ دس آدمیوں کے لیے صرف ایک اونٹ تھا، سواریوں، زاد راہ اور پانی تینوں کی سخت تنگی تھی۔ چناچہ اس وقت بعض سچے مخلص مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے، آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے۔ یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انھیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور ان کے دل میں آنے والے خطرات بھی معاف فرما دیے اور نبی ﷺ پر مہربانی سے مراد وہ آیت (43) ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ) کہ اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا، آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد پر جانے کی رخصت کیوں دے دی ؟