Ayah 9:69كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ : اس سے پہلے منافقین کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہو رہا تھا، اب مزید تنبیہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں براہ راست مخاطب فرمایا، یعنی تم بھی ان لوگوں کی طرح ہو اور تمہارے کرتوت بھی ان لوگوں جیسے ہیں جنھوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ اس فرق کے ساتھ کہ وہ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور اموال و اولاد میں بہت زیادہ تھے۔ تمہاری ایک دوسرے سے مشابہت دو طرح سے ہے، دنیا میں انھوں نے اپنے لکھے ہوئے حصے سے فائدہ اٹھایا، تم نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح اپنے نصیب سے فائدہ اٹھایا اور انھوں نے اپنے انبیاء کا مذاق اڑایا اور ان کے متعلق فضول باتیں کیں، تم نے بھی یہی کام کیا۔ اب آخرت میں بھی اعمال ضائع ہونے اور خائب و خاسر ہونے میں تم دونوں ایک جیسے ہو۔
Ayah 9:70اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : ”وَالْمُؤْتَفِكٰتِ“ ”اِءْتَفَکَ یَأْتَفِکُ“ باب افتعال سے اسم فاعل ہے، الٹنے والیاں، یعنی لوط ؑ کی قوم کی بستیاں جن کا مرکز سدوم تھا، جنھیں ان کے اعمال بد کی وجہ سے زمین سے اٹھا کر الٹا گرا دیا گیا اور کھنگروں کی بارش برسائی گئی۔ ان چھ قوموں کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ عرب کے آس پاس عراق، شام اور یمن میں آباد تھیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس کے انبیاء کو جھٹلایا، اس لیے انھوں نے خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دی۔ سورة اعراف میں ان کے واقعات گزر چکے ہیں اور آگے سورة ہود میں مزید تفصیل آرہی ہے۔
Ayah 9:71وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کا ذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ : 13، عن أنس ] نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم کی ہے، جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بےچینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین۔۔ : 2586 ] اور فرمایا : ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین۔۔ : 2585 ] اس کے بعد مومنوں کی مزید صفات جو منافقوں کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرمائیں اور ان پر رحم کا وعدہ فرمایا، ساتھ ہی اپنے ہر چیز پر غلبے اور کمال حکمت کا ذکر فرمایا کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے مگر اس کا غلبہ اندھا غلبہ نہیں بلکہ کمال حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
Ayah 9:72وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ : ”عَدْنٍ“ ہمیشہ رہنے کا مقام، ابوسعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی میں مبتلا نہیں ہو گے، سو یہ ہے اس کا فرمان : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الأعراف : 43 ] ”انھیں آواز دی جائے گی کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے، اس وجہ سے کہ تم عمل کرتے تھے۔“ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم أہل الجنۃ۔۔ : 2837 ]
وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ : ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا : ”اے جنت والو ! کیا تم خوش ہوگئے ؟“ وہ عرض کریں گے : ”اے ہمارے پروردگار ! ہم خوش کیوں نہ ہوں، تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”کیا میں تمہیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں ؟“ وہ عرض کریں گے : ”اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے ؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”میں تمہیں اپنی خوشنودی سے نوازتا ہوں، اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“ [ بخاری، التوحید، باب کلام الرب مع أہل
الجنۃ : 7518۔ مسلم : 2829 ]
”رِضْوَانٌ“ میں تنوین تقلیل اللہ تعالیٰ کی رضا کی عظمت بیان کرنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تھوڑی سے تھوڑی رضا بھی جنت کی نعمتوں اور جنت عدن کے پاکیزہ مکانوں سے بہت ہی بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:73يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : مدینہ آنے پر رسول اللہ ﷺ طویل مدت تک منافقین سے نرمی برتتے رہے اور ان کی سازشوں اور کمینگیوں سے درگزر فرماتے رہے، مگر اس حسن سلوک سے اصلاح کے بجائے ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی، اس لیے جب یہ سورت اتری جو قرآن کی سب سے آخر میں اترنے والی سورتوں میں سے ہے تو حکم ہوا کہ اب نرمی اور درگزر کے بجائے سختی اور بندوبست کا وقت آگیا ہے، اس لیے اب تک آپ جو نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے رہے اسے ختم کیجیے اور ان کے ہر قصور پر سختی سے گرفت کیجیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ منافقین صریح کفر کا اظہار کریں اور اس پر قائم رہیں تو کفار کی طرح ان سے بھی جہاد بالسیف کیا جائے۔ ابن جریر طبری ؓ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ البتہ اگر وہ کفر کے اظہار کے بعد اس لیے مکر جائیں تو ان پر سختی کی جائے اور زبان سے طعن و ملامت کی جائے، تلوار سے قتال نہ کیا جائے۔ ہاں حدود الٰہی ان پر ضرور نافذ کی جائیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منافقین سے قتال بالسیف نہیں کیا بلکہ قتل کی اجازت طلب کرنے پر بھی فرمایا : ”رہنے دو لوگ کہیں گے محمد ﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ حافظ ابن کثیر ؓ مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”ان اقوال میں اختلاف نہیں، اصل بات یہ ہے کہ مختلف حالات میں حسب موقع سزا دی جاسکتی ہے، یعنی منافقین صریح کفر کے اظہار کی جرأت کریں تو پھر ان سے کفار کی طرح ہی معاملہ ہوگا۔“
Ayah 9:74يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ مَا قَالُوْا : منافقین اپنی نجی مجلسوں میں کفریہ باتیں کرتے، مگر پردہ چاک اور راز فاش ہونے پر جھوٹی قسمیں کھا کر مکر جاتے، جب گواہیوں سے بات ثابت ہوجاتی تو بہانہ بنا لیتے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی میں ایسی باتیں کر رہے تھے، آپ نے انھیں سنجیدہ لے لیا ہے اور اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کرتے۔ دیکھیے سورة نساء (62) اور توبہ (42، 56، 107)۔
وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ : وہ کفر کی بات کیا تھی جو ان منافقوں نے کہی تھی، قرآن مجید نے یہاں اس کی صراحت نہیں فرمائی، اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں تھا نہ ہی ایک آدھ شخص کی بات تھی، اکثر منافقین بلکہ سبھی کا یہی وتیرہ تھا اور ان لوگوں نے مختلف موقعوں پر کفر کی باتیں کہی تھیں۔ یہاں مثال کے طور پر صرف ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو سورة منافقون میں مختصر اور بخاری و مسلم میں کچھ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں تھا تو میں نے عبداللہ بن ابی سے سنا، وہ کہہ رہا تھا : ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہوجائیں جو آپ کے اردگرد ہیں اور یہ کہ ہم اگر مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو نکال دے گا۔“ میں نے یہ بات اپنے چچا یا عمر ؓ سے بیان کی، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے مجھے بلایا، میں نے آپ کو یہ بات بیان کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ سب قسمیں کھا گئے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کہی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے جھوٹا قرار دے دیا، مجھے ایسی فکر لاحق ہوئی جو مجھے کبھی لاحق نہ ہوئی تھی تو میں گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا، تم نے یہ کیا چاہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں جھوٹا قرار دیا اور تم پر ناراض بھی ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون نازل فرما دی، رسول اللہ ﷺ نے میری طرف آدمی بھیجا اور یہ سورت پڑھی اور فرمایا : ”زید ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا قرار دیا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (إذا جاء ک المنافقون۔۔) : 4900، 4901۔ مسلم : 2772 ]
وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا : یعنی منافقین نے جو ارادہ کیا تھا وہ اپنی مراد کو نہیں پہنچ سکے اور یہ ناکامی اور نامرادی کوئی ایک مرتبہ نہیں ہوئی، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے ناپاک منصوبوں اور سازشوں میں ناکام ہوئے، جن کی چند مثالیں یہ ہیں : 1 وہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنا چاہتے تھے اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ 2 مجاہدین کے مالی ذرائع بند کرنا چاہتے تھے۔ 3 یہودیوں کو مدینہ میں آباد دیکھنا چاہتے تھے۔ 4 عبداللہ بن ابی کو تاج سلطانی پہنانا چاہتے تھے۔ 5 مسلمانوں کے خلاف مسجد ضرار کا مورچہ بنانا چاہتے تھے۔ 6 تبوک میں رومیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا نام و نشان مٹتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر سب منصوبوں میں ناکام اور نامراد ہوئے۔ آخری حد جس تک وہ پہنچے وہ جنگ تبوک سے واپسی پر آپ کے قتل کا منصوبہ تھا۔ راستے میں عقبہ ایک بلند، دشوار گزار اور تنگ جگہ تھی، رسول اللہ ﷺ نے اعلان کروا دیا کہ آپ اس راستے سے جائیں گے، اس لیے ادھر سے کوئی نہ جائے۔ چند منافقین نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مقام پر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چناچہ صحیح مسلم کی اس حدیث سے اس واقعہ پر روشنی پڑتی ہے، ابو طفیل بیان فرماتے ہیں کہ ”عقبہ“ والے لوگوں میں سے ایک شخص اور حذیفہ ؓ (رسول اللہ ﷺ کے خاص راز دار) کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی، تو وہ کہنے لگا : ”میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ وہ ”عقبہ“ والے کتنے آدمی تھے۔“ (حذیفہ ؓ نے کچھ گریز کیا) تو لوگوں نے کہا : ”جب وہ پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتادیں۔“ انھوں نے فرمایا : ”ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان میں شامل تھا تو یہ لوگ پندرہ ہوگئے اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا کی زندگی میں اور اس دن جب گواہ پیش ہوں گے، دونوں (جہاں) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں۔ باقی رہے تین تو انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے اعلان کرنے والے کو سنا تھا اور نہ ہمیں معلوم ہوسکا کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین : 11؍2779 ] بیہقی کی دلائل النبوۃ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر ؓ نے انھیں دیکھ کر للکارا تو وہ بھاگ گئے (کیونکہ ان کا منصوبہ خفیہ نہ رہ سکنے کی وجہ سے ناکام ہوگیا)۔ صاحب ”ہدایۃ المستنیر“ نے دلائل النبوۃ (7؍260) کا حوالہ دے کر اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس روایت سے صحیح مسلم کی حدیث کی وضاحت ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میری امت میں سے بارہ منافق ایسے ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے، ان میں سے آٹھ کے لیے تو پھوڑا کافی ہوگا جو آگ کا چراغ ہوگا، جو ان کے کندھوں میں نکلے گا، یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نمودار ہوگا۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفات المنافقین۔۔ : 10؍2779 ]
Ayahs 9:75–77وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ : پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ جس کا نام ان دنوں یثرب تھا، اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی، لیکن نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا، جس سے یہ لوگ مال دار ہوگئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے احسان فراموش ہیں کہ اللہ اور رسول جن کی بدولت انھیں یہ خوش حالی نصیب ہوئی، انھی کے خلاف بگڑ کر یہ اپنے دلوں کا فساد ظاہر کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد تو یہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنا فضل عطا کیا تو ہم صدقہ بھی ضرور کریں گے اور نیک بھی ہوجائیں گے، لیکن اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور اس نے مال و دولت سے نوازا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ مال اسلام کی سربلندی کے لیے خرچ کرنے کے بجائے بخل کرکے اللہ اور اس کے رسول سے منہ ہی موڑ لیا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا۔
بعض مفسرین نے ان آیات کا سبب نزول ثعلبہ بن حاطب کو قرار دیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے مال کے لیے دعا کروائی اور صدقہ کرنے کا وعدہ کیا، جب مال بہت بڑھا تو نماز با جماعت چھوڑنے کے بعد جمعہ بھی چھوڑ دیا اور زکوٰۃ لینے والا اس کے پاس گیا تو کہنے لگا، یہ تو جزیہ ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”افسوس ثعلبہ پر !“ یہ سن کر وہ زکوٰۃ لے کر آیا، مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آپ کے بعد ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان ؓ نے بھی قبول کرنے سے انکار کیا، اسی حالت میں وہ عثمان ؓ کے عہد میں فوت ہوگیا۔ مگر اہل علم نے اس روایت کا شدید رد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کی کوئی صحیح سند نہیں۔ ابن حزم ؓ نے فرمایا، یہ قصہ باطل ہے، کیونکہ ثعلبہ ؓ بدری صحابی ہیں۔
Ayah 9:78اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ : اس آیت میں منافقین کو سخت ڈرایا گیا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کے راز اور سرگوشیاں سب جانتا ہے اور وہ تو تمام غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ کیا یہ اس سے بھی اپنی دلی حالت چھپا سکیں گے۔ دیکھیے سورة زخرف (80) اور مجادلہ (7)۔
Ayah 9:79اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ : ”الْمُطَّوِّعِيْنَ“ باب تفعل سے اسم فاعل ہے جو اصل میں ”مُتَطَوِّعِیْنَ“ تھا۔ جو لوگ فرض زکوٰۃ کے علاوہ مزید مال خوشی سے خرچ کرتے ہیں۔ جہد کا معنی محنت و مشقت ہے، یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں مگر محنت مشقت کرکے کمایا ہوا تھوڑا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے، لیکن مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے، جب کوئی شخص زیادہ چندہ لاتا تو یہ اسے ریا کار کہتے اور جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لا کر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے ؟ دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔ یہ وہ موقع تھا جب عمر ؓ اپنا نصف مال لے آئے اس خیال سے کہ اگر بڑھ سکا تو آج ابوبکر ؓ سے بڑھ جاؤں گا، جب ابوبکر ؓ آئے تو گھر کا سارا مال لے آئے تھے۔ [ ترمذی، المناقب، باب رجاؤہ أن یکون أبوبکر۔۔ : 3675، وقال حسن صحیح وحسنہ الألبانی ]
عبد الرحمن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت عثمان ؓ نے ایک ہزار دینار لا کر رسول اللہ ﷺ کی جھولی میں رکھ دیے۔ عبد الرحمن ؓ فرماتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دیناروں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا : ”آج کے (اس عمل کے) بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [ ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا۔۔ : 3701 ] ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بےنیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے ؟) تو یہ آیت اتری۔ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب : اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔ : 1415 ] ابومسعود انصاری ؓ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری : (ۚاَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (الذین یلمزون المطوعین۔۔) : 4669 ]
سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (15)۔
Ayah 9:80اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ : یعنی آپ کا ان کے لیے استغفار کرنا یا نہ کرنا برابر ہے، یہاں یہ بات امر کے صیغے کے ساتھ آئی ہے، مگر مراد خبر دینا ہی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ صاف خبر کے الفاظ میں فرمایا : (سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ) [ المنافقون : 6 ] ”ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“ اس آیت کی تفسیر کا کچھ حصہ آیت (84) کی تفسیر میں آ رہا ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : یعنی آپ ان کے حق میں کتنا ہی استغفار کریں اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کی وجہ سے وہ بخشے جانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ یہاں سے فرق نکلتا ہے بےاعتقاد اور گناہ گار کا۔ گناہ ایسا کون سا ہے جو کہ پیغمبر ﷺ کے بخشانے سے نہ بخشا جائے اور بےاعتقاد کو پیغمبر کا ستر دفعہ استغفار فائدہ نہ کرے۔ اب بےاعتقاد لوگ پیغمبر ﷺ کی شفاعت پر کس دلیل سے بھروسا کرسکتے ہیں ؟ آدمی سے برائی ہوجائے یا عمل میں کوتاہی ہو اور وہ شرمندہ ہے تو وہ گناہ گار ہے اور جو بد کام کو عیب نہ جانے اور اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرض کے کرنے اور نہ کرنے کو برابر سمجھے اور کرنے والوں پر طعن کرے، وہ بےاعتقاد ہے۔ ایسے شخص کو پیغمبر ﷺ کا استغفار بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ (موضح)
Ayah 9:81فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ : منافقین کے مختلف احوال اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کے طویل ذکر کے بعد اب خصوصاً ان منافقین کا ذکر شروع ہوتا ہے جو جنگ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ نہ گئے بلکہ جھوٹے عذر پیش کرکے اجازت لی اور مدینہ منورہ میں ٹھہرے رہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”الْمُخَلَّفُوْنَ“ کا لفظ استعمال کیا ہے ”وہ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے“ یعنی وہ خوش نہ ہوں کہ یہ ان کا کارنامہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے اور آرام کے ساتھ مدینہ کے اندر گھروں میں رہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اللہ کی طرف سے جانے کی توفیق ہی نہیں ملی اور وہ اس کی جناب سے دھکیلے ہوئے پیچھے چھوڑ دیے گئے۔ ان کی حیثیت اس ردی سامان کی ہے جو ساتھ نہیں لے جایا جاتا، بلکہ پھینک دیا جاتا ہے، یا پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ : کیونکہ اللہ کی خاطر خوشی سے مال و جان کی قربانی ایمان کے بغیر نہیں دی جاسکتی، جس سے یہ محروم ہیں۔ اس میں نکلنے والے مومنوں کی دلی کیفیت اور ان کی تعریف بھی ظاہر ہے کہ وہ کس خوشی سے نکلے۔
وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ : یعنی صرف خود ہی نہیں دوسروں کو گرمی کی شدت اور لمبے سفر کی صعوبتوں سے ڈرا کر پیچھے رکھنے کی کوشش کرتے رہے، کیونکہ یہ سفر سخت گرمی کے موسم میں پیش آیا تھا۔ زمخشری ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کی جہالت کا نتیجہ قرار دیا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ آدمی تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنے سے اگر ہمیشہ کی ناقابل برداشت تکلیف سے بچ رہا ہو تو کوئی جاہل بلکہ اجہل ہی ہوگا جو وہ تھوڑی سی تکلیف برداشت نہ کرے اور ہمیشہ کی سخت ترین تکلیف برداشت کرنا پسند کرلے۔ اسی طرح انھیں معلوم ہی نہیں کہ اصل گرمی کیا ہوتی ہے، ورنہ اگر وہ جہنم کی گرمی سے آگاہ ہوتے اور ان کا اس پر ایمان ہوتا تو وہ دنیا کی شدید سے شدید گرمی کی بھی پروا نہ کرتے۔ ”لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ“ کا یہی مطلب ہے، کیونکہ جہنم کا ایک غوطہ دنیا کی تمام لذتیں بھلا دے گا۔ [ مسلم : 2807 ] اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ آپ سے کہا گیا : ”یا رسول اللہ ! یقیناً وہی کافی تھی۔“ فرمایا : ”وہ ان (آگوں) سے انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور وہ سب اس کی گرمی کی طرح ہیں۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنہا مخلوقۃ : 3265۔ مسلم : 2843 ]
Ayah 9:82فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا : کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے، فانی اور باقی کا کیا مقابلہ ؟ اس لیے ان کا ہنسنا بہت ہی کم عرصے کے لیے اور رونا بیحد و حساب مدت کے لیے ہے جس کی انتہا ہی نہیں۔ یہ بظاہر حکم ہے مگر منافقین حکم ماننے والے کب تھے، اس لیے یہ امر کے الفاظ میں خبر دی جا رہی ہے، یعنی یہ لوگ بہت کم ہنسیں گے اور بہت زیادہ روئیں گے۔ ”جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ“ سے اس امر کے بمعنی خبر ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ خبر میں تو صدق و کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے، مگر انشاء (امر و نہی) میں اس کا احتمال ہی نہیں ہوتا، وہ حتمی ہوتی ہے (اگرچہ اللہ تعالیٰ کی خبر میں بھی کذب کا احتمال نہیں)۔ (المنار) اسی آیت کی ہم معنی وہ حدیث ہے کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقیناً تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔ [ بخاری، الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف : 1044 ]
Ayah 9:83فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ : ”اگر اللہ تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے۔“ ”رَجَعَ“ لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے، یعنی لوٹنا اور لوٹانا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔
یعنی جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئندہ انھیں اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے ہمراہ لڑانے سے منع فرما دیا، اس لیے کہ ان کا اعتبار اٹھ گیا۔ جب وہ مشکل وقت میں ساتھ نہیں گئے تو آسان وقت میں بھی کیوں جائیں، جیسا کہ سورة فتح میں حدیبیہ کے لیے نہ جانے والے اعراب کو خیبر کی فتح میں شرکت سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورة فتح (11 تا 15) مگر وہاں ہمیشہ کے لیے منع نہیں فرمایا، جبکہ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کو ہمیشہ کے لیے ساتھ لے جانے سے منع فرما دیا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا کہ ”اگر پھر لے جائے تجھے اللہ کسی فرقہ کی طرف“ وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض منافق پیچھے مرگئے اور سب بیٹھنے والے منافق نہ تھے، بعض مسلمان بھی تھے، ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ (موضح)
فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ : یعنی پہلی مرتبہ کی طرح اب بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو جو بےعذر گھروں میں رہ گئے یا معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہے، جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار اور اپاہج وغیرہ۔
Ayah 9:84وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا : ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس کا بیٹا نبی ﷺ کے پاس آیا کہ مجھے اپنی قمیص دیجیے کہ میں اسے اس میں کفن دوں اور آپ اس پر جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے بخشش کی دعا فرمائیں تو نبی ﷺ نے اسے اپنی قمیص دی اور فرمایا : ”مجھے اطلاع دینا، تاکہ میں اس کا جنازہ پڑھوں۔“ اس نے اطلاع دی تو جب آپ نے اس پر جنازے کا ارادہ کیا، عمر ؓ نے آپ کو کھینچ لیا اور کہا، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ؟ آپ نے فرمایا : ”مجھے دو اختیار ہیں : (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ) [ التوبۃ : 80 ] (ان کے لیے بخشش مانگ یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ)۔“ سو آپ نے اس کا جنازہ پڑھا تو یہ آیت اتری : (وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا) [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من الصلوۃ علی المنافقین۔۔ : 1366۔ مسلم : 2400 ]
اب جو شخص کلمہ پڑھ کر صریح شرک کرتا ہے اور غیر اللہ سے وہ مدد مانگتا ہے جو اللہ کے سوا کسی کے اختیار ہی میں نہیں، یا کلمہ کے بعد مسلمان ہونے کی پہلی شناخت نماز ہی اس میں نہیں پائی جاتی، یا وہ صاف اللہ تعالیٰ کی حدود کو وحشیانہ سزائیں کہتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کے احکام کا مذاق اڑاتا ہے، یا اس زمانے میں انھیں ناقابل عمل کہتا ہے، اس کا جنازہ پڑھنا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ میت کو جنازے کے بعد دفن کرکے قبر پر کھڑے ہو کر دعا مانگتے تھے۔ مختلف دوسرے اوقات میں وہاں جا کر ان کے لیے دعا کرتے تھے، منافقین کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بھی منع فرما دیا۔ کیونکہ اس میں منافق، کافر اور مشرک کی تکریم اور عزت افزائی ہے جو اللہ تعالیٰ کو کسی صورت منظور نہیں۔
Ayah 9:85وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ : اس سے پہلے آیت (55) میں بھی چند الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ آیت گزری ہے، یہاں دوبارہ لانے کا مقصد یہ ہے کہ نفاق انھی چیزوں کی محبت اور حرص سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ سورة منافقون میں ان کے اعمال بد کے تذکرے کے بعد آخر میں یہی تلقین فرمائی : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) [ المنافقون : 9 ] ”دیکھنا کہیں تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں۔“ یہاں بھی گزشتہ آیت کو دوبارہ لانے سے مقصود دنیا کی فراوانی پر رشک سے بچنے کی تاکید اور منافقین کے لیے اموال واولاد کی فراوانی کے ان کے لیے نقصان دہ ہونے کا بیان ہے۔ مزید اسی سورت کی آیت (55) کے حواشی دیکھیے۔
Ayahs 9:86–87وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ : ”سُوْرَةٌ“ آیات کا ایک حصہ، ٹکڑا۔ ”الطَّوْلِ“ کا معنی ”اَلْفَضْلُ وَالْقُدْرَۃُ وَالْغِنَی وَالسَّعَۃُ“ ہے۔ (قاموس) یعنی وسعت و طاقت اور مال و دولت۔ ”الْخَوَالِفِ“ یہ ”خَالِفَۃٌ“ کی جمع ہے ”پیچھے رہنے والی عورتیں۔“ ”فَاعِلَۃٌ“ کی جمع ”فَوَاعِلُ“ آتی ہے، جیسے ”قَاطِعَۃٌ“ کی جمع ”قَوَاطِعُ“ اور ”ضَارِبَۃٌ“ کی جمع ”ضَوَارِبُ“ اور ”قَافِلَۃٌ“ کی جمع ”قَوَافِلُ“ یعنی جہاد کے حکم والی آیات کا کوئی حصہ اترنے پر وہ لوگ عذر کریں جن کے پاس کچھ نہیں اور جو ضروریات جہاد حاصل نہ ہوسکنے کی وجہ سے ساتھ نہیں جاسکتے تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر ان منافقین میں سے وسعت و طاقت والے بھی جہاد میں نہ جانے اور پیچھے رہنے کی اجازت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب بیان فرمائے کہ بزدلی کی وجہ سے ان میں ایسی کمینگی پیدا ہوچکی ہے کہ انھیں عورتوں کے ساتھ پیچھے رہ جانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس پر خوش ہیں اور ان کے اعمال بد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ جہاد کی برکات کو اور بزدلی اور ترک جہاد کی نحوست اور نقصانات کو نہیں سمجھتے۔ نہ ان پر اللہ اور اس کے رسول کی بات کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحت کا۔
Ayah 9:88لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ : لیکن رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا حال منافقین جیسا نہیں، ان میں نہ ان کی طرح بزدلی ہے، نہ جہاد سے گریز، نہ مال و جان کی قربانی میں بخل، نہ اللہ اور اس کے رسول سے کفر، نہ نافرمانی، بلکہ وہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد یعنی اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ انھی کے لیے تمام بھلائیاں، یعنی دنیا کی فتوحات و غنائم اور آخرت کے سب سے بلند درجے ہیں۔ دیکھیے سورة حجرات (15) اور صف (10 تا 12) انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جنت میں پہنچ جانے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو پسند کرے کہ دنیا میں واپس آئے، خواہ دنیا کی ہر چیز اسے دے دی جائے، سوائے شہید کے، وہ تمنا کرے گا کہ دنیا کی طرف واپس جائے، پھر دس مرتبہ قتل کیا جائے، اس عزت و کرامت کی وجہ سے جو وہ دیکھے گا۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب تمنی المجاہد أن یرجع إلی الدنیا : 2817 ]
Ayah 9:89اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے بہتر اور سب سے بلند حصہ ہے، جس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ : 2790، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Ayah 9:90وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ : اس سے پہلے مدینہ کے منافقین اور اہل ایمان کا ذکر تھا، اب مدینہ کے اردگرد بادیہ نشینوں کا حال ذکر ہوتا ہے، کیونکہ ان میں بھی دونوں قسم کے لوگ موجود تھے، جیسا کہ آگے آیت (98، 99) اور پھر (101، 102) میں ذکر آ رہا ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح کی ہے، کیونکہ عذر کرنے والے سچے بھی ہوسکتے ہیں اور جھوٹے بھی، اس لیے بعض نے تو ”الْمُعَذِّرُوْنَ“ سے مراد وہ اعراب لیے ہیں جو صحیح مومن تھے مگر کسی حقیقی عذر کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے، یہ لوگ تو اپنا عذر بیان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا اور دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہ گھروں ہی میں بیٹھے رہے، انھوں نے آکر عذر پیش کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، چناچہ ان میں سے کفر کرنے والوں کو عذاب الیم کی وعید سنائی گئی، یعنی دنیا میں قید اور قتل اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ ابن کثیر ؓ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔
بعض مفسرین نے ”الْمُعَذِّرُوْنَ“ سے مراد جھوٹے بہانے اور باطل عذر پیش کرنے والے لیے ہیں۔ زمخشری ؓ نے اس رائے کی تائید کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ”الْمُعَذِّرُوْنَ“ باب تفعیل سے ہو تو ”عَذَّرَ فِی الْأَمْرِ“ کا معنی ہی یہ ہے کہ اس نے کام میں سستی کی، اس کی کوشش ہی نہیں کی اور ظاہر یہ کیا کہ اس کا عذر تھا، حالانکہ اس کا عذر کوئی نہ تھا اور اگر ”الْمُعَذِّرُوْنَ“ باب افتعال سے ہو اور اس کا اصل ”مُعْتَذِرُوْنَ“ ہو پھر بھی جھوٹے بہانے ہی مراد ہیں، جیسا کہ آگے صاف آ رہا ہے : (يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ) [ التوبۃ : 94 ] ”تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے۔“
پہلی تفسیر کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ہر عذر والا جھوٹا نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود اگلی آیت میں کئی عذر والوں کو گناہ سے بری قرار دیا ہے اور اس آیت میں بھی دونوں قسموں میں سے ”الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ ہی کو عذاب کی وعید سنائی ہے، اگرچہ ترجمے کا رجحان دوسری تفسیر کی طرف ہے، مگر امام ابن کثیر ؓ کی بات میں وزن معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 9:91لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر واضح تھا۔ ان میں سب سے پہلے ”الضُّعَفَاۗءِ“ ہیں، ان سے مراد لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، عورتیں اور بچے ہیں۔ دوسرے ”اَلْمَرْضیٰ“ (مریض کی جمع) جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکتے، دوسری جگہ فرمایا : (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ ۭ) [ الفتح : 17 ] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اور تیسرے وہ تندرست طاقت رکھنے والے جو مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ جہاد کے سفر اور اس کے سازو سامان مثلاً سواری اور ہتھیار وغیرہ کی تیاری کرسکیں۔ چناچہ فرمایا : (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) [ البقرۃ : 286 ]”اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“
اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : یعنی وہ کام نہ کرتے ہوں جس سے اللہ کے دین، رسول کریم ﷺ یا مومنوں کو کوئی نقصان اور ان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ) ”دین خیر خواہی (خلوص) ہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا : ”کس کے لیے ؟“ فرمایا : ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکام کے لیے اور ان کے تمام لوگوں کے لیے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ : 55، عن تمیم۔ ] عام لوگوں کی خیر خواہی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب مجاہدین جہاد پر گئے ہوئے ہوں تو یہ لوگ شہر میں رہیں، ان کے گھروں کی، کاروبار کی اور بال بچوں کی خبر گیری رکھیں، ان کی عزت و آبرو کی ہر طرح سے حفاظت کریں، مجاہدین کی ضروریات بھیجتے رہیں، جھوٹی خبریں یا افواہیں نہ پھیلائیں، کسی قسم کا فساد برپا نہ کریں اور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے والوں کا منہ بند کریں۔
مَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ : یعنی یہ لوگ معذور ہیں، اگر جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس آئے، مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا : ”بیشک مدینہ میں کئی لوگ ہیں، تم کسی راستے پر نہیں چلے اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی ہے، مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے پوچھا : ”یارسول اللہ ! اور وہ مدینہ ہی میں تھے ؟“ فرمایا : ”(ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے، انھیں عذر نے روک رکھا تھا۔“ [ بخاری، المغازی، باب : 4423 ]
Ayah 9:92وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ : یہ مخلص مسلمانوں کے ایک اور گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں نہیں تھیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں لینے کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا، میرے پاس تمہیں سواری دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس پر انھیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ رونے لگے اور ایسے روئے گویا آنکھیں پانی کے چشمے بن گئیں، جن سے آنسوؤں کی نالیاں رواں ہوں کہ ہمارے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں کہ ہم جہاد میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی گناہ سے بری قرار دیا کہ ان لوگوں پر اعتراض کا کوئی راستہ اور کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ محسنین ہیں۔
اس آیت پر ان لوگوں کو خلوص کے ساتھ غور کرنا چاہیے جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دنیا و آخرت کے خزانوں کے مالک اور مختار کل ہیں۔ یہ حضرات آپ کے اس فرمان کا ترجمہ کیا کریں گے : (لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ) ”میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کروں۔“ ان بھائیوں کو اللہ کا خوف کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مالک الملک اور مختار کل کہہ کر اللہ کا شریک بنانے سے توبہ کرنی چاہیے، کیونکہ یہ گناہ اللہ کے ہاں کسی صورت قابل معافی نہیں ہے۔
Ayah 9:93اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ : اللہ تعالیٰ اکثر مقامات پر ہر چیز کے دونوں پہلو بیان کرتا ہے، فرمایا ان پر تو کچھ اعتراض نہیں جن کا ذکر اوپر گزرا، صرف ان لوگوں پر گناہ کا سارا بوجھ ہے جن کے پاس سواری بھی ہے، زاد راہ بھی اور تندرستی بھی اور پھر اغنیاء ہو کر بھی آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور اپنی بزدلی، نفاق اور کفر کی وجہ سے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے میں انھیں کوئی عار نہیں، بلکہ اس پر انھیں فخر اور خوشی ہے کہ ہم گرمی میں سفر اور ہلاکت سے بچ گئے۔
وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے نفاق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا کر انھیں ایسا بند کردیا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے میں اور جہاد فی سبیل اللہ میں کیا لذت ہے اور ان کی کیا فضیلت اور کیا ثواب ہے۔
Ayah 9:94يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ : جیسا کہ پہلے گزرا کہ یہ سلسلۂ آیات تبوک سے واپسی پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی ان کے جھوٹے بہانوں کی اطلاع دے دی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ان سے کہہ دو کہ بہانے مت تراشو، ہم کسی صورت تمہارا اعتبار نہیں کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری کچھ خبریں بتادی ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ تمہارا آئندہ رویہ کیا رہتا ہے، آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو۔
وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ : یہ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی کہ ”وَ سَیَرَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ عَمَلَکُمْ“ کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارا عمل دیکھیں گے، مگر مفعول ”عَمَلَكُمْ“ کو ”وَرَسُوْلُهٗ“ سے پہلے لانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اصل دیکھنے والا اور نگرانی کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کیونکہ وہ ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول بھی تمہارا عمل جو سامنے ہوگا دیکھیں گے، لیکن رسول اللہ ﷺ کو اگر ظاہری عمل سے مطمئن کر بھی لو اور تمہاری دلی کیفیت درست نہیں تو پھر تمہیں غائب و حاضر کو جاننے والے کے سامنے بھی حاضر ہونا ہے اور وہ تمہیں تمہاری اصل حقیقت سے آگاہ کرے گا۔ بعض شرک کے بیماروں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات سے واقف ہے اور اس کا رسول بھی، کیونکہ اس آیت کے مطابق وہ دونوں سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ آیت کا مطلب تو اوپر بیان ہوچکا ہے مگر یہ حضرات اسی سورت کی آیت (105) کا کیا کریں گے کہ جس میں ہے : ”اور کہہ دے تم عمل کرو پس عنقریب اللہ تمہارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی۔“ تو کیا اللہ کے سوا رسول اور مومنین بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہر بات سے واقف ہیں ؟ مومن ہونے کا خیال تو ان حضرات کا اپنے بارے میں بھی ہوگا، ذرا اپنی حیثیت اور علم کی رسائی پر غور فرما لیں تو بہت جلد بات سمجھ میں آجائے گی۔ سورة نمل کی آیت (65) اور اعراف کی آیت (188) پر بھی ایک نظر ڈال لیں اور اسی سورة توبہ کی آیت (101) (لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ) پر بھی غور فرما لیں۔
ان آیات میں منافقین کو اخلاص کی طرف پلٹنے کی دعوت بھی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ منافقین کو بھی اسی طرح بار بار بلاتا ہے کہ ہاں عمل کرو ہم تمہاری نگرانی کر رہے ہیں، اگر پلٹ آؤ گے تو ہم معاف کردیں گے اور فی الواقع کئی منافقین اخلاص کی دولت سے سرفراز بھی ہوئے۔ دیکھیے سورة توبہ (66) اور نساء (44، 45)۔
Ayah 9:95سَيَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ : اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھانے سے ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ان سے اعراض کرو، سو واقعی تم ان سے اعراض کرو۔ پہلے اعراض کا مطلب ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کرو اور دوسرے اعراض کا مطلب یہ ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کے ساتھ قطع تعلق بھی کرو۔ پھر ان سے قطع تعلق کا سبب بیان فرمایا کہ یہ رجس ہیں، جس کا معنی ”گندگی“ ہے، یعنی عقائد و اعمال کے لحاظ سے وہ اتنے گندے ہیں کہ سمجھو سراسر گندگی ہیں، گندگی کی پوٹ ہیں۔ گندگی سے تعلق کا نتیجہ آلودگی ہی ہے، اس لیے ان سے بچ جاؤ، تاکہ کہیں ان سے متاثر نہ ہوجاؤ۔ ”صحبت طالح ترا طالح کند“ پھر ان کا انجام بیان فرمایا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ان سے چشم پوشی اور درگزر ہی سے کام لیا۔ چناچہ کعب بن مالک ؓ (ان تین مخلص مسلمانوں میں سے ایک جو بلاعذر پیچھے رہ گئے تھے) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس آتے تو مسجد سے ابتدا کرتے، چناچہ آپ لوگوں کے لیے بیٹھ گئے تو پیچھے رہ جانے والے آئے اور عذر پیش کرنے لگے اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، یہ اسی (80) سے کچھ زیادہ لوگ تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہر کو قبول فرمایا، ان سے بیعت لی، ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے پوشیدہ معاملات اللہ کے سپرد کردیے۔ [ بخاری، المغازی، باب حدیث کعب بن مالک۔۔۔ : 4418 ]
Ayah 9:96يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ : یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے بہانے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہوجاؤ، اگر تم ان کی باتوں سے متاثر ہو کر راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے فسق کی وجہ سے ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ ”فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنْھُمْ“ کے بجائے (لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ) کہنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بیان ہوا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی ان کے فسق کی وجہ سے کسی صورت ان سے راضی ہونا جائز نہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جس شخص کے حالات سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ منافق ہے، اس کی طرف سے تغافل تو جائز ہے مگر اس سے دوستی اور محبت روا نہیں۔“ (موضح)
Ayah 9:97اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا : ”اَلْاَعْرَابُ“ عرب کے صحرا اور بادیہ میں رہنے والوں کے لیے اسم جنس ہے، واحد کے لیے ”اَعْرَابِی“ اور مؤنث کے لیے ”اَعْرَابِیَّۃٌ“ استعمال ہوتا ہے، جمع ”اَعَارِیْبُ“ ہے ”اَلْعَرَبُ“ اس نسل کے لیے اسم جنس ہے جو عربی زبان بولتی ہے، خواہ شہری ہو یا بادیہ نشیں، اس کا واحد ”عَرَبِیٌّ“ آتا ہے۔ یہاں اعراب سے مراد ان کی جنس کے بعض افراد ہیں ہر شخص نہیں، کیونکہ ان میں سے بعض مخلص اہل ایمان کا ذکر آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔
”اَلْاَعْرَابُ“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مدینہ منورہ سے دور دیہاتی اور صحرائی علاقوں میں رہتے تھے، ان میں سے اکثر اسلام کی دعوت کو سمجھ کر سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ محض اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہوگئے تھے۔ انھیں شہر (مدینہ منورہ) میں آنے، مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور آپ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا بہت کم موقع ملا تھا، اس لیے یہ نرے گنوار اور اجڈ قسم کے لوگ تھے، جن کے دلوں میں نہ نرمی پیدا ہوئی تھی اور نہ انھیں علم کی ہوا لگی تھی۔ اس لیے ان میں جو منافق تھے ان کا نفاق بھی اہل مدینہ کے نفاق سے سخت تھا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ بدوی اور شہری لوگوں کی طبیعتوں میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو ایک باغ کے میوے اور پہاڑی درخت کے میوے میں محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بستیوں سے مبعوث فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) [ یوسف : 109 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے۔“ اور آخری رسول ﷺ کو تمام بستیوں کی ماں ام القریٰ مکہ میں پیدا فرمایا، تاکہ وہ شہری معاشرے کی شائستگی اور نرم دلی کے حامل ہوں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”بدویوں کی سرشت میں بےحکمی، مفاد پرستی اور جہالت رچی بسی ہوئی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے نہ ان پر زیادہ ذمہ داری ڈالی اور نہ ان کو درجات کی بلندی عطا ہوئی۔“ (موضح)
لوگوں کے ساتھ میل جول کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں سختی پیدا ہوجانا فطری سی بات ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو بادیہ میں سکونت رکھے وہ سخت دل ہوجاتا ہے، جو شکار کے پیچھے ہی لگ جائے وہ غافل ہوجاتا ہے اور جو سلطان کے پاس آئے وہ آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔“ [ أحمد : 1؍357، ح : 3361۔ أبوداوٗد : 2859۔ ترمذی : 2256۔ نسائی : 4314، وصححہ الألبانی ]
بعض اعراب کی سخت دلی پر اس حدیث سے کافی روشنی پڑتی ہے جو ام المومنین عائشہ ؓ نے بیان فرمائی کہ اعراب کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے (انھوں نے آپ کو حسن یا حسین ؓ کو چومتے دیکھا) تو کہنے لگے : ”کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو ؟“ لوگوں نے کہا : ”ہاں !“ تو وہ کہنے لگے : ”لیکن اللہ کی قسم ! ہم تو نہیں چومتے !“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اور کیا میں اختیار رکھتا ہوں، اگر اللہ نے تم سے رحم کرنا نکال لیا ہے۔“ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ ﷺ الصبیان۔۔ : 2317۔ بخاری : 5998 ] مفسرین نے اس مقام پر اعراب کی سخت دلی کے کئی واقعات لکھے ہیں۔
Ayah 9:98وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يَّتَّخِذُ : ”مَغْرَمًا“ سے مراد تاوان، چٹی اور جرمانہ ہے، قرض کو بھی ”مَغْرَمًا“ کہہ لیتے ہیں۔ قرض خواہ کو غریم کہتے ہیں، کیونکہ غرام کا معنی لازم ہونا، چمٹنا بھی ہے۔ تاوان بھی لازم ہوجاتا ہے اور قرض خواہ بھی جان نہیں چھوڑتا، سورة فرقان میں ہے : (اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا) [ الفرقان : 65 ] ”بیشک اس کا عذاب ہمیشہ چمٹ جانے والا ہے۔“ یعنی بعض اعراب ایسے ہیں کہ زکوٰۃ ہو یا جہاد، اس کے لیے جب بھی چندہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر نہیں اور نہ دلی جذبہ کے ساتھ، بلکہ محض چٹی یا جرمانہ سمجھ کر بادل ناخواستہ ادا کرتے ہیں کہ اگر ادا نہ کریں گے تو مسلمان انھیں مشتبہ نگاہوں سے دیکھیں گے اور ان کے درمیان زندگی بسر کرنا دو بھر ہوجائے گا۔
وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَاۗىِٕرَ : ”الدَّوَاۗىِٕرَ“ ”دَاءِرَۃٌ“ کی جمع ہے، جو ”دَارَ یَدُوْرُ دَوْرًا“ (گھومنا) سے اسم فاعل ہے، چکر، گھومنے والا، یعنی وہ انتظار کر رہے ہیں کہ تم پر کب کوئی اچانک مصیبت اترتی ہے اور تم کب زمانے کے کسی چکر کے گھیرے میں آ کر زوال کا شکار ہوتے ہو، یا یہ کہ کب پیغمبر ﷺ فوت ہوتے ہیں اور مشرکین کو تم پر غلبہ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی زبانی بدگوئی اور دلی بدخواہی کو ہی نہیں، بلکہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ : ”السَّوْءِ“ سَاءَ ہُ یَسُوْءُہُ سَوْءً ا“ سین کے فتح کے ساتھ مصدر ہے، جب کسی کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو اسے برا لگے اور سین کے ضمہ کے ساتھ اسم مصدر ہے، یعنی یہ برا چکر انھی پر آنے والا ہے، یا بددعا ہے کہ برا چکر انھی پر آئے، مگر اللہ تعالیٰ کو بددعا کی کیا ضرورت ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان کی اس بدخواہی کا تقاضا ہے کہ ان پر یہ بددعا کی جائے کہ برا چکر انھی پر چلے۔
Ayah 9:99وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ : ”قُرُبٰتٍ“ یہ ”قُرْبَۃٌ“ کی جمع ہے، وہ عمل جسے انسان اپنے خالق کے قریب ہونے کا ذریعہ بنائے۔ ”صَلَوٰتِ“ یہ ”صَلاَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی نماز کے علاوہ دعا بھی آتا ہے۔ یعنی سب اعراب ایک جیسے نہیں، ان میں کئی مخلص مسلمان بھی ہیں، جو خوش دلی سے صدقہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں شہادت دی کہ ان کے یہ اعمال یقیناً ان کے لیے قرب کا ذریعہ ثابت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ضرور اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گروہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صدقہ لے کر آتا تو آپ اس کے لیے دعا کرتے ہوئے کہتے : (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ) ”اے اللہ ! فلاں پر رحم فرما۔“ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ جب میرے والد زکوٰۃ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے انھیں دعا دیتے ہوئے فرمایا : (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی) ”اے اللہ ! ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب صلاۃ الإمام و دعاء ہ لصاحب الصدقۃ۔۔ : 1497 ]