Ayah 9:118وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا : ”خُلِّفُوْا“ کا لفظی معنی اگرچہ پیچھے چھوڑے گئے ہے، مگر یہاں مراد یہ ہے کہ جن کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔ اسی بات کا تذکرہ اس سے پہلے آیت (107) (ۚوَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ) میں گزرا ہے۔ ”ۙوَّعَلَي الثَّلٰثَةِ“ کا عطف ”عَلَي النَّبِيِّ“ پر ہے (یعنی انصار و مہاجرین پر مہربان ہونے اور انھیں معاف کرنے میں) وہ تین شخص بھی داخل ہوئے جن پر پچاس دن میں ایسی حالت گزری کہ موت سے بھی بدتر۔ (موضح) یہ تین صحابہ تھے کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ ، اس سے قبل تقریباً ہر غزوے میں یہ شریک ہوتے رہے، اس غزوۂ تبوک میں صرف سستی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، بعد میں انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو سوچا کہ ایک غلطی (پیچھے رہنے کی) تو ہو ہی گئی ہے، لیکن اب منافقین کی طرح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھوٹا عذر پیش کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ چناچہ حاضر خدمت ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کرلیا اور اس کی سزا کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ نبی ﷺ نے ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کہ وہی ان کے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے گا، تاہم اس دوران میں آپ نے تمام صحابہ کو ان سے بائیکاٹ کا حکم دے دیا، حتیٰ کہ بات چیت تک سے روک دیا اور چالیس راتوں کے بعد حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی دور رہیں۔ یہ وہ وقت تھا جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے تین جملوں میں کھینچا ہے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی جانیں ان پر تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کرلیا کہ بیشک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں۔ آخر مزید دس دن گزرنے کے بعد ان کی توبہ قبول کرلی گئی اور مذکورہ آیت اتری۔ کعب بن مالک ؓ نے یہ واقعہ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنی قلبی کیفیت کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے بڑی لمبی حدیث میں بیان فرمایا ہے جو صحیح بخاری کی کتاب المغازی اور مسلم کی کتاب التوبہ میں مذکور ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی اسے مفصل نقل کیا گیا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ : معلوم ہوا کہ توبہ کا قبول ہونا محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، ورنہ اس پر کسی کا زور نہیں۔
Ayah 9:119وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ : یہ صادقین رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مخلص صحابہ کرام ؓ ہیں۔ صدق نیت، قول اور فعل تینوں میں ہو تو صدق ہے، ورنہ فعل قول کی تکذیب کرے تو یہ بھی صدق نہیں، اس لیے جو لوگ اپنے اخلاص نیت اور قول کے مطابق عملاً تبوک کی طرف نکلے بھی وہی صادقین ٹھہرے اور ان کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا۔ ان تینوں نے بھی سچ کہا، اپنی خطا مانی اس لیے بخشے گئے، نہیں تو منافقین میں ملتے۔ (موضح) اللہ تعالیٰ نے سچے مومن قرار ہی ان لوگوں کو دیا ہے جو ایمان لانے کے بعد شک میں مبتلا نہیں ہوئے اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، فرمایا کہ صادق صرف یہی لوگ ہیں۔ دیکھیے سورة حجرات (15) اور سورة حشر (8) کعب بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام مجھ پر یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ بولا، ورنہ میں بھی جھوٹ بول کر ہلاک ہوجاتا جس طرح دوسرے ہلاک ہوگئے۔ [ بخاری، المغازی، باب حدیث کعب بن مالک ؓ۔۔ : 4418] بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سچ بولنے کے انعام میں ان کی توبہ کا تذکرہ قرآن میں فرمایا جو قیامت تک پڑھا جائے گا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سچ کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی سچ کہتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچ جاؤ، کیونکہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانی آگ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ کہتا رہتا ہے اور جھوٹ کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔“ [ بخاری، الأدب، باب قول اللہ تعالیٰ : (یأیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ۔۔) : 6094۔ مسلم : 2607 ]
Ayah 9:120مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ : مدینہ میں رہنے والے لوگوں اور ان کے اردگرد رہنے والے بدویوں یعنی مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار وغیرہ قبائل کے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ تنگی اور تکلیف میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ رہیں اور مشکل مواقع پر پیش آنے والے تمام مصائب و آلام میں خوش دلی کے ساتھ آپ کے ہمراہ رہیں، جو سختیاں آپ ﷺ اٹھا رہے ہیں وہ بھی اٹھائیں، کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزیز اور مکرم آپ ﷺ ہی ہیں، تو جب آپ اتنی عزت و کرامت کے باوجود ان سختیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو پھر سب کا حق ہے کہ جن چیزوں کا سامنا آپ کر رہے ہیں وہ بھی کریں اور آپ کی جان عزیز کی خاطر اپنی جانوں کی نہ پروا کریں، نہ ان کی کوئی قدر و قیمت سمجھیں، کجا یہ کہ رسول اللہ ﷺ تو اپنی جان اور اپنا راحت و آرام سب کچھ قربانی کے لیے پیش کریں اور یہ اپنی جانیں بچا بچا کر رکھیں، یہ کبھی بھی ان کا حق نہیں بنتا۔ (زمخشری) عبداللہ بن ہشام ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے عمر بن خطاب ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا تو عمر ؓ نے آپ سے کہا : ”یا رسول اللہ ! یقیناً آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، سوائے میری جان کے۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہاں تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔“ تو عمر ؓ نے کہا : ”تو پھر یقین کیجیے کہ اب اللہ کی قسم ! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”اب اے عمر ! (تو کامل مومن ہوا)۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کان یمین النبی ﷺ : 6632 ]
ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ : ”ظَمَاٌ“ پیاس، ”نَصَبٌ“ تھکاوٹ، مشقت، محنت۔ ”مَخْمَصَةٌ“ سخت بھوک جس میں پیٹ ساتھ لگ جائے، جس طرح پاؤں کا تلوا (اَخْمَصُ) ہوتا ہے۔ ”وَطِئَ یَطَأُ“ مَوْطِءًا (ع)“ ظرف ہے، روندنے، قدم رکھنے کی جگہ۔ ”غَاظَ یَغِیْظُ“ غصہ دلانا، یعنی جن راستوں، پہاڑیوں، بستیوں، زمینوں، مکانوں اور کھیتوں وغیرہ پر ان کے قدم رکھنے سے یا ان کے گھوڑوں اور دوسری سواریوں کے انھیں روندتے ہوئے گزرنے سے کفار کے دلوں میں غصہ اور جلن پیدا ہو اور وہ ہراساں اور خوف زدہ ہوں۔ (ابن کثیر) ”وَلَا يَنَالُوْنَ“ ”نَالَ یَنَالُ“ کا لفظی معنی لینا، حاصل کرنا ہے، یعنی مسلمان دشمن کی کوئی زمین یا شہر فتح کریں، یا انھیں قتل یا قید کریں، یا مال غنیمت حاصل کریں، یا انھیں کوئی نقصان پہنچائیں، غرض ان سے حاصل ہونے والی ہر کامیابی اور ہر نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا اجر انھیں ضرور ملے گا، کیونکہ ان کے یہ تمام اعمال اللہ کی خاطر اور رسول اللہ ﷺ کی فرماں برداری میں ہیں اور اسی کا نام احسان اور نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 9:121وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً : پچھلی آیت میں جہاد میں کیے جانے والے وہ اعمال بھی ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں اور وہ بھی جو بےاختیار پیش آتے ہیں، مثلاً مشکلات و مصائب، اس آیت میں صرف ان اعمال کا ذکر ہے جو آدمی کے اختیار میں ہیں، مگر جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد ہیں، یعنی زاد سفر، سواری اور اسلحہ پر جو میسر ہو خرچ کرنا، پھر سفر جہاد پر نکل کھڑے ہونا اور جنگل اور وادیاں طے کرتے چلے جانا، سب کچھ لکھا جاتا ہے۔
اس جنگ میں عثمان ؓ نے لشکر کی تیاری میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا، یعنی ”نفقہ کبیرہ“ (بڑا خرچ) اور انھوں نے اس وقت صحابہ کو مخاطب کرکے اس کا ذکر بھی فرمایا تھا جب باغیوں نے ان کا محاصرہ کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے ”جَیْشُ الُْعُسْرَۃِ“ (تنگ دستی کے وقت کے لشکر) کا سامان تیار کیا تھا ؟ تمام صحابہ نے اس کا اعتراف کیا۔ [ ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا۔۔ : 3699، وحسنہ الألبانی ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ عبد الرحمن بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ ایک ہزار دینار اپنی آستین میں لے کر آئے، جب آپ ﷺ نے ”جَیْشُ الْعُسْرَۃِ“ کو تیار کیا تو اسے آپ ﷺ کی گود میں ڈال دیا۔ عبد الرحمن بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ انھیں اپنی گود میں الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے : ”آج کے بعد عثمان جو کام بھی کرے اسے کچھ نقصان نہیں دے گا۔“ دو مرتبہ فرمایا۔ [ ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا۔۔ : 3700، 3701، و حسنہ الألبانی ] اور کم خرچ کرنے والے (نفقہ صغیرہ) وہ بھی تھے جو رات بھر محنت کرکے نصف صاع (1 کلو) کھجوریں لے کر آئے۔ دیکھیے سورة توبہ آیت (79) کی تفسیر۔
وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ : پہاڑوں کے درمیان کے میدان اور پانی کی گزرگاہ کو وادی کہتے ہیں، یعنی ہر وادی طے کرنے پر وہ ان کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے۔
لِيَجْزِيَھُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ : یہ سب کچھ اس لیے لکھا جاتا ہے کہ کسی بھی عمل کی زیادہ سے زیادہ اچھی جزا جو ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ انھیں وہ عطا فرمائے۔
Ayah 9:122وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً : ”نَفَرَ یَنْفِرُ“ عام طور پر لڑائی کے لیے نکلنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ) [ التوبۃ : 38 ] اور فرمایا : (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا) [ التوبۃ : 41 ] اور فرمایا : (اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ) [ التوبۃ : 39 ] اور فرمایا : (وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ) [ التوبۃ : 81 ] اور یہ سورت شروع سے آخر تک جہاد ہی کے تذکرے سے بھری پڑی ہے، اس لیے ”لِيَنْفِرُوْا“ کا معنی ”لڑائی کے لیے نکلیں“ ہی سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ جنگ تبوک میں نفیر عام، یعنی تمام مسلمانوں کو نکلنے کا حکم تھا اور فرمایا کہ اہل مدینہ اور اس کے اردگرد کے اعراب کا حق ہی نہیں بنتا تھا کہ وہ جنگ میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہیں، اب اس آیت میں ایسے مواقع کا ذکر ہے جن میں سب کے نکلنے کا حکم نہیں، بلکہ کچھ لوگوں کا نکلنا کافی ہے۔ چناچہ فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تمام مسلمان جنگ کے لیے نکل جائیں، کیونکہ کچھ لوگوں کا شہروں کی حفاظت اور گھروں کے انتظام کے لیے پیچھے رہنا بھی ضروری ہے، کچھ لوگ کسی اور ضروری عذر کی وجہ سے نہیں نکل سکتے، اس لیے ہر بڑے گروہ میں سے جنگ کی ضرورت کے حساب سے کچھ لوگوں کے لیے لازم ہے کہ جہاد کے لیے نکلیں، تاکہ وہ جہاد کے سفر، اس کے درمیان پڑاؤ، رباط کے دوران اور میدان قتال میں پوری کوشش کے ساتھ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرائیں کہ دشمن کیا کیا منصوبے بنا رہا ہے اور اس کی تیاری کس قدر ہے اور اس سے نمٹنے کی کیا صورت ہے، تاکہ وہ آئندہ کے لیے مکمل تیاری کرکے دشمن پر فتح یاب ہو سکیں۔ ”تفقہ فی الدین“ سے یہاں مراد یہ ہے جو بیان ہوا، جب کہ اس وقت ہمارے ہاں ”تفقہ فی الدین“ صرف نماز، روزے وغیرہ کے مسائل ہی کو سمجھ لیا گیا ہے، دشمن کے منصوبوں، سازشوں، چالوں اور کار روائیوں کو سمجھنے، ان سے بچنے اور دفاع کے بجائے ان پر حملہ آور ہونے کو ”تفقہ فی الدین“ سے باہر قرار دے دیا گیا ہے۔
اس آیت سے چند باتیں واضح طور پر سمجھ میں آرہی ہیں :1 ہر جنگ میں تمام مسلمانوں کا نکلنا نہ ضروری ہے نہ ممکن، بلکہ تقسیم کار کے اصول پر عمل ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنولحیان کی طرف ایک لشکر بھیجتے ہوئے فرمایا : ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے اور اجر دونوں کے لیے برابر ہے (تاکہ ایک میدان میں جائے اور دوسرا اپنے اور اپنے بھائی کے پیچھے کے معاملات کی خیر کے ساتھ نگرانی کرے)۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی۔۔ : 138؍1896 ] ہاں، اگر ضرورت کی بنا پر امیر نفیر عام کا حکم دے تو سب کا نکلنا ضروری ہوگا۔ 2 فرقہ بڑا ہوتا ہے اور طائفہ چھوٹا، حتیٰ کہ ایک آدمی پر بھی طائفہ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا) [ الحجرات : 9 ] یہ آیت دو لڑنے والے آدمیوں کے لیے بھی ہے، کسی گروہ میں سے جنگ کے لیے زیادہ لوگ نکلیں یا ایک آدمی، سب پر طائفہ کا لفظ صادق آتا ہے۔
”لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ“ تفقہ باب تفعل سے ہے، مراد کوشش اور محنت کے ساتھ اچھی طرح سمجھ حاصل کرنا ہے۔ یہاں دین کے دو معنی مراد ہوسکتے ہیں، ایک تو قتال فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں لڑنا، جیسا کہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم عینہ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک صورت) کے ساتھ بیع کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی پر خوش ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا (حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِیْنِکُمْ) ”یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف واپس پلٹ آؤ۔“ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النھی عن العینۃ : 3462، و صححہ الألبانی ] یہاں دین سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہے، اس میں تفقہ جنگ کے میدانوں ہی میں حاصل ہوسکتا ہے۔ سو سال تک شیخ الحدیث کی مسند پر بیٹھے رہیں، کبھی یہ تفقہ حاصل نہیں ہوگا، آپ اپنے گھر یا سکول یا کالج یا یونیورسٹی یا اکیڈمی یا دار العلوم میں جتنی بھی جنگی کتابیں اور دشمن کی چالیں پڑھ لیں، یا غازیان اسلام کے معرکے پڑھ لیں، میدان جنگ میں جائے بغیر دین (جنگ) کی حقیقی اور واقعی سمجھ کسی صورت حاصل نہیں ہوسکتی، نہ ہی آدمی اپنی قوم کو دشمن کے خطرے سے صحیح طور پر ڈرا کر اس سے بچنے کے لیے خبردار کرسکتا ہے۔
دین کا دوسرا معنی عام ہے، یعنی پورا دین اسلام، اس میں تفقہ حاصل کرنے کے لیے بھی جہاد کے میدانوں کا رخ کرنا ضروری تھا، کیونکہ دین کے علم کا سرچشمہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تھی اور آپ مدینہ میں ہجرت کے بعد اکثر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفر ہی میں رہتے، یا پھر اپنے کسی صاحب علم و فقہ صحابی کو امیر بنا کر بھیجتے تھے۔ بہت سے معجزات اور مسائل و احکام دوران سفر ہی واقع یا نازل ہوئے، اس لیے جب صحابہ کے حالات بیان ہوتے ہیں تو ان کی قابلیت و فضیلت کا ذکر اس طرح ہوتا ہے : ”شَھِدَ الْمُشَاھِدَ کُلَّھَا“ کہ وہ تمام جنگوں میں حاضر رہے اور کہا جاتا ہے : ”شَھِدَ الْبَدْرَ اَوِ الْحُدَیْبِیَۃَ اَوْ فَتْحَ مَکَّۃَ اَوْ حُنَیْنًا اَوْ تَبُوْکَ“ کہ فلاں صاحب بدر یا حدیبیہ یا فتح مکہ یا حنین یا تبوک میں شریک ہوئے اور یہ بات تو عیاں ہے کہ گھر کے بکھیڑوں میں علم و فقہ کا حصول اس طرح ممکن ہی نہیں جس طرح ہر چیز سے فارغ ہو کر لشکر اسلام میں جا کر ممکن ہے۔ دیکھو مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں قرآن کے کتنے قاری اور علماء و فقہاء شہید ہوئے۔ لڑائی تو تھوڑی دیر کے لیے ہوئی تھی، باقی دوران سفر اقامت اور رباط میں تعلیم و تعلّم یعنی تفقہ فی الدین ہی کا شغل ہوتا تھا، جس میں لڑنے کے سلیقے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام مسائل سیکھے سکھائے جاتے تھے اور سب لوگ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر، عشرہ مبشرہ اور دوسرے افاضل صحابہ کرام ؓ سے دوران جہاد میں دین سیکھتے اور واپس اپنی قوم میں جا کر انھیں دوسرے دینی مسائل سکھانے کے ساتھ ساتھ دنیا اور آخرت کی ذلت، ترک جہاد سے ڈرا کر انھیں دشمن سے بچنے کی ترغیب دیتے۔ ”لِيُنْذِرُوْا“ اور ”يَحْذَرُوْنَ“ پر غور فرمائیں تو بات کافی حد تک سمجھ میں آجائے گی کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی حالت زار کون سی چیز میں تفقہ حاصل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
سید المفسرین امام طبری ؓ اور کئی اور مفسرین نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے، البتہ ”لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ“ میں دین سے جہاد مراد لینے کی دلیل : (حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِیْنِکُمْ) انھوں نے ذکر نہیں فرمائی۔
آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب سورة توبہ میں جنگ تبوک سے رہ جانے والوں پر اللہ تعالیٰ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تو ہر مسلمان کی کوشش اور خواہش یہ تھی کہ آئندہ ہم ہر جنگ میں ضرور جائیں گے، اس پر یہ آیت اتری کہ تمام مسلمانوں کو ہر مہم کے لیے نہیں نکل جانا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں اکیلے رہ جائیں، بلکہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں کو مدینہ میں آپ کے پاس بھی آ کر حاضر رہنا چاہیے، تاکہ وہ مدینہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی پہرے داری کا فریضہ بھی سرانجام دیں اور علم بھی حاصل کریں اور واپس جا کر اپنی قوم کو تعلیم دین سے آراستہ کریں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو دینی مدارس میں پڑھنے کے لیے بھی نکلنا چاہیے، تاکہ وہ یکسوئی سے دین کی اچھی طرح سمجھ حاصل کریں اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کو دین سمجھا سکیں۔ ہاں حالات کے تحت امیر المومنین نفیر عام کا حکم دیں تو پھر سب کو نکلنا چاہیے، کیونکہ جب قیام کا وقت ہو سجدہ نہیں کیا جاتا۔ یہ مطلب بھی بہت سے مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
Ayah 9:123يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ : یعنی کفار میں سے جو لوگ تم سے جتنے زیادہ قریب ہیں اتنا ہی ان سے پہلے جہاد کرو، پہلے انھیں اسلامی قلمرو میں شامل کرنے کے بعد ان سے جہاد کرو جو ان کی بہ نسبت دور ہیں، کیونکہ ہر کام میں آسان سے آسان اور بہتر سے بہتر ہونے کا خیال سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔ اپنی سرحد سے ملنے والوں کے ساتھ لڑائی میں نہ زیادہ سواریوں کی ضرورت ہے نہ زیادہ اخراجات کی، نہ دور کے سفر کی مشقت ہے، نہ ان کے احوال سے باخبر رہنے کے لیے زیادہ محنت اور وسائل کی، کیونکہ آپ ان کے محل وقوع، ان کے مراکز قوت اور ان کی کمزوریوں سے خوب واقف ہیں۔ پھر دور والے دشمن سے لڑائی میں پیچھے سے اپنے ملک پر کسی دشمن کے حملے یا اندرونی خلفشار کا جو خطرہ رہتا ہے قریب والوں کے ساتھ جنگ میں وہ بھی نہیں ہوگا، بلکہ اپنی پشت محفوظ رہے گی۔ بیشک تمام مشرکین سے لڑنے کا حکم ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً) [ التوبۃ : 36 ] مگر ترتیب کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ دعوت میں بھی یہی ترتیب ہے، پہلے گھر والے، پھر خاندان، پھر قبیلہ، پھر شہر، پھر اپنا ملک، پھر تمام دنیا اور جہاد میں بھی یہی ترتیب ہے، کیونکہ جہاد بھی دعوت ہی کا ایک حصہ ہے۔ چناچہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی ﷺ نے پہلے اپنے خاص قبیلہ قریش سے جنگ کی، پھر جزیرۂ عرب کے دوسرے قبائل سے، پھر بنی قریظہ اور بنی نضیر سے، پھر خیبر اور فدک کے اہل کتاب سے جو مدینہ کے اردگرد تھے، پھر مکہ فتح ہوا اور پھر یمن اور بحرین حتیٰ کہ پورا جزیرۂ عرب مسلمان ہوگیا۔ جب ان سے فارغ ہوئے تو غزوۂ تبوک کی مہم پر ملک شام کے نصاریٰ سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ یہی ترتیب آپ کے بعد ابوبکر صدیق ؓ ، عمر فاروق شہید محراب ؓ اور دوسرے خلفاء نے ملحوظ رکھی۔ چناچہ ان کے زمانے میں پہلے ملک شام اور عراق و فارس فتح کیے گئے، پھر مصر، پھر مشرق کی طرف ہند، خراسان، کاشغر (چین) اور مغرب کی طرف افریقہ، اندلس اور فرانس، غرض مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھریرا لہرانے لگا۔ والحمد للہ ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوبارہ جہاد کے ساتھ کفار کے تسلط کو ختم کرکے اپنے موجودہ ممالک میں اور دنیا بھر کے ممالک میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً : لازم ہے کہ تم حملہ کرو تو اس کی شدت کفار کو واضح طور پر محسوس ہو اور اگر کبھی وہ حملہ کرنے کی غلطی کریں تو جواب میں انھیں کسی جگہ نرمی اور کمزوری نہ مل سکے۔ کیونکہ ایمان کا کمال ہی مسلمان بھائی کے لیے نرم ہونا اور کفار کے لیے سخت ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کی خوبی بتائی : (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) [ الفتح : 29 ] ”کافروں پر بہت سخت، آپس میں نہایت رحم دل۔“ اور مجاہدین کی شان بیان فرمائی : (اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) [ المائدۃ : 54 ] ”مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت۔“
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ : اس کا مشاہدہ پوری تاریخ اسلام میں ہوتا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلفاء و ملوک اور امراء و عوام جب متقی ہوتے اللہ تعالیٰ کی خاص معیت و نصرت ان کے ساتھ ہوتی اور ہر جگہ فتح ان کے قدم چومتی اور جب وہ ظالم یا فاسق ہوتے اور عیش و عشرت یا باہمی لڑائیوں میں مصروف ہوتے، تو اللہ کی مدد اٹھ جاتی اور دشمن ان کے علاقوں پر قابض ہوجاتے۔ اب بھی اللہ تعالیٰ کی معیت، ساتھ اور نصرت و تائید حاصل کرنی ہے تو وہ تقویٰ کے ساتھ ہی حاصل ہوگی، محض سائنسی ترقی یا کثرت تعداد سے کبھی نہیں۔
Ayahs 9:124–125وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ : ”’ يَسْتَبْشِرُوْنَ“ حروف کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے، ایسی زبردست خوشی جس کے آثار بشرے پر بھی ظاہر ہوں۔”سُوْرَةٌ“ سے مراد پوری سورت بھی ہوسکتی ہے اور آیات کا کوئی ٹکڑا بھی۔ کسی بھی سورت کے نزول پر اسے قبول کرنے میں اہل ایمان اور اہل نفاق کا واضح فرق ہوتا ہے، بیج کی عمدگی زمین کی قابلیت کے بغیر فائدہ مند نہیں ہوتی، چناچہ منافقین ایک دوسرے سے بطور استہزا و مذاق یا بعض کمزور ایمان والے مسلمانوں کو شک میں ڈالنے کے لیے پوچھتے ہیں کہ ان آیات کے ساتھ تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کے ایمان میں تو ان سے اضافہ اور زیادتی ہوتی ہے، دل کے علم اور یقین میں بھی، زبانی تصدیق میں بھی اور عمل میں بھی اور ان تینوں کا نام ایمان ہے۔ ”وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ“ اور وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں، جس کے آثار ان کے چہرے پر بھی نمایاں ہوتے ہیں اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کفر اور نفاق کا مرض ہے وہ پہلی سورتوں اور آیات ہی کے منکر تھے، جب اس سے بھی انکار کیا تو کفر کا ایک اور ردّہ ان کے دلوں پر چڑھ گیا اور ان کی کفر پر موت کا باعث بن گیا۔
یہ آیت اور قرآن مجید کی کئی اور آیات واضح الفاظ میں ایمان کے زیادہ ہونے کی صراحت فرما رہی ہیں۔ امام بخاری ؓ نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان کے شروع میں آٹھ آیات اور پھر بہت سی احادیث ذکر فرمائی ہیں جو صاف ایمان کی کمی اور زیادتی پر دلالت کرتی ہیں اور صرف عمل کے لحاظ ہی سے نہیں، بلکہ نفس تصدیق اور یقین میں بھی کمی اور زیادتی پر دلالت کرتی ہیں۔ تعجب ہے ان شیوخ الحدیث والتفسیر پر جو ساری عمر صحیح بخاری اور قرآن مجید پڑھاتے ہیں مگر ایمان کے زیادہ یا کم ہونے کی آیات و احادیث آتی ہیں تو یا تو انھیں مذہب کے خلاف کہہ کر رد کردیتے ہیں، یا ایسی تاویل کرتے ہیں جو آیات و احادیث کے منشا کے صریح خلاف اور تاویل کے بجائے تحریف کہلانے کے زیادہ لائق ہے۔ اس وقت تو ان کے سامنے شاید کوئی نہ بول سکے مگر وہ پاک پروردگار جو آیات کے ساتھ مومنوں کے دلوں میں ایمان و یقین بڑھاتا ہے، اس کے سامنے کیا تاویل کریں گے ؟ اور وہ حضرات اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے جو کہتے ہیں کہ میرا اور ابوبکر صدیق ؓ کا اور میرا اور جبریل ؑ کا ایمان ایک جیسا ہے، کیونکہ ایمان سب کا برابر ہے، اس میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ وہ خود ہی سوچیں کہ کیا انھیں اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا وہ یقین حاصل ہے جو ابوبکر صدیق ؓ اور جبریل ؑ کو حاصل تھا ؟
Ayah 9:126اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ : اکثر جنگ و جہاد کے وقت منافق معلوم ہوجاتے تھے (مگر پھر بھی وہ نفاق پر قائم رہتے تھے)۔ (موضح) اسی طرح ہر آدمی پر کوئی نہ کوئی آزمائش بیماری یا خوف وغیرہ کی صورت میں ہر سال ایک دو مرتبہ آتی رہتی ہے، تاکہ اسے سوچنے کا موقع ملے، فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) [ السجدۃ : 21 ] ”اور یقیناً ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ سعادت مندوں کو اس سے توبہ اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق ملتی ہے، مگر منافق محروم رہتا ہے۔ پہلا معنی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔
Ayah 9:127وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب منافقین رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں موجود ہوتے اور ان کے راز کھولنے والی یا جہاد کے حکم پر مبنی کوئی سورت یا آیات اترتیں، پھر وہ کمینگی اور شرارت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور موقع پا کر کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، مجلس سے کھسک جاتے۔ ان کی سمجھ میں صاف آ رہا ہوتا کہ ان آیات کا مصداق وہی ہیں، کیونکہ جہاد کے لیے نکلنا ان کے لیے موت تھی اور اس مجلس میں بیٹھنا ان کے لیے سراسر تذلیل کا باعث ہوتا، چناچہ وہ تائب ہونے کے بجائے نکل جانے کو ترجیح دیتے۔ فرمایا : (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا) [ النور : 63 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔“
صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَھُمْ : ”اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں“ کیونکہ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ ہماری فلاح اور بھلائی کس چیز میں ہے، یا یہ بددعا ہے کہ وہ اس کے اہل ہیں کہ ان کے حق میں کہا جائے کہ اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔
Ayah 9:128لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ : اس میں آپ ﷺ کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت ”لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ“ میں لفظ ”رَسُوْلٌ“ ہے کہ آپ ﷺ رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان ”جَاۗءَكُمْ“ ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمہیں منتخب فرمایا ہے۔ ”كُمْ“ کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان ”مِّنْ اَنْفُسِكُمْ“ ہے کہ آپ ﷺ تمہاری جنس سے، یعنی انسانوں میں سے ہیں، انھیں تمام انسانی ضروریات لاحق ہیں، وہ آدم کی اولاد سے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہیں، قریش کے ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی رشتہ داری ہے، بیویاں اور اولاد بھی ہیں، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بھوک، پیاس اور وفات سب کچھ آپ پر گزرا، صحت و مرض، رنج و راحت ہر مرحلے سے گزرے، اس لیے آپ ﷺ ہر چیز میں تمہارے لیے نمونہ ہیں۔ اگر وہ جن یا فرشتہ یا کوئی اور جنس ہوتے تو تمہارے لیے نمونہ اور اسوۂ حسنہ کیسے بنتے ؟ اللہ کا احسان مانو کہ اس نے خود تم میں سے ایک نمونہ اپنا پیغام دے کر بھیجا کہ اس کی بات بھی سنو اور اس کی ذات کو دیکھ کر اس کے مطابق عمل بھی کرو۔ مزید دیکھے سورة آل عمران (164) چوتھی یہ کہ ”عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ“ تمہارا کسی طرح بھی مشقت یا مصیبت میں پڑنا اس پر نہایت شاق ہے، وہ برداشت ہی نہیں کرسکتا کہ تم کفر اختیار کرکے دنیا میں حیوانوں سے بدتر زندگی گزارو، پھر آخرت میں جہنم کا ایندھن بنو، اس فکر میں وہ گھلتا جا رہا ہے، اتنا کہ اللہ تعالیٰ کو اسے تسلی دلانا پڑتی ہے۔ دیکھیے سورة کہف (6) ، آل عمران (176) ، شعراء (3) اور شوریٰ (48) پھر وہ ایسا دین لے کر آیا ہے جس میں کوئی مشکل نہیں، نہایت آسان اور سادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : (اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃٍ سَمْحَۃٍ) [ أحمد : 6؍116، ح : 24908، عن عائشۃ ؓ ، قال شعیب الأرنؤوط وغیرہ حدیث قوی، إسنادہ حسن ] ”مجھے حنیفی (ابراہیم حنیف والی) آسان شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔“ اور فرمایا : (اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ) ”یہ دین سراسر آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : 39، عن أبی ہریرہ ؓ ] ایسا مہربان نبی کہ طائف میں دس دن رہ کر مار کھا کر زخمی اور بےہوش ہو کر نکلا اور ہوش آنے پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا کہ اگر کہو تو میں (دو پہاڑوں) اخشبین میں ان کفار کو پیس دوں ؟ تو عرض کیا : ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا قال إحدکم آمین۔۔ : 3231، عن عائشۃ ]
پانچویں یہ کہ ”حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ“ رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے تم دوزخ سے بچ جاؤ اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کرلو۔ شاہ عبد القادر ؓ نے ”حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ“ کا ترجمہ کیا ہے ”تلاش رکھتا ہے تمھاری۔“ اس کی وضاحت میں فرمایا : ”چاہتا ہے کہ میری امت زیادہ ہوتی رہے۔“ (موضح) اس لیے زیادہ اولاد دینے والے خاندانوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دی، فرمایا : (تَزَوَّجُوا الْوُلُوْدَ الْوَدُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ) ”ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے دینے والی، بہت محبت کرنے والی ہوں، کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں۔“ [ نسائی، النکاح، باب کراھیۃ تزویج العقیم : 3229۔ أبو داوٗد : 2050 ] چھٹی ”بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ“ نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لیے جاتے، ان کے جنازے میں پہنچتے، نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر ماں کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے نماز مختصر کردیتے، خود بھوکے رہ کر انھیں کھلاتے پلاتے، نبوت سے پہلے آپ ﷺ کی تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کو دیکھیں جس کی شہادت ام المومنین خدیجہ ؓ نے دی، تو مومنوں پر آپ کی نرمی اور رحمت کا خود بخود اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے جو ایک مقبول دعا ہر نبی کی طرح آپ کو عطا کی، سب نے کرلی، مگر آپ نے اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لیے سنبھال کر رکھ لی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے جنت میں اپنے اس مہربان نبی کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayah 9:129فَاِنْ تَوَلَّوْا : یعنی ایسے مہربان نبی، اس کی مومنوں پر شفقت و رحمت و حرص اور اس قدر سہل دین کے باوجود اگر وہ منہ موڑیں، تو آپ یہ کہیں : (حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ) صرف یہ عقیدہ ہی نہ رکھیں، بلکہ برملا اعلان کریں اور اللہ کے کافی ہونے پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کریں
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
حَسْبِيَ اللّٰهُ : ”حَسْبِيَ“ پہلے آنے کی وجہ سے معنی میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی مجھے صرف اللہ کافی ہے، خواہ سب لوگ مجھے چھوڑ جائیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
بے شک اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسباب بنائے ہیں، ساتھیوں کی مدد سے قوت ملتی ہے اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم بھی ہے : (ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى) [ المائدۃ : 2 ] ”اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“ مگر کافر اور مومن کا یہی فرق ہے کہ دنیاوی اسباب ختم ہونے پر کافر ناامید ہوجاتا ہے اور مشرک کو اپنے معبودوں پر اتنا اعتماد ہو ہی نہیں سکتا جتنا موحد کو ایک اللہ پر ہوتا ہے، اس لیے مومن کبھی ناامید ہو کر کفر کے مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اس لیے قرآن و حدیث کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب و ضروریات مہیا کرنے کی پوری کوشش کرو، وہ جمع ہوجائیں تب بھی ان پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو اور ایک بھی سبب مہیا نہ ہو سکے تب بھی صرف اللہ پر بھروسا رکھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ کوئی عام بادشاہ نہیں، عرش عظیم کا رب ہے، کوئی چیز اس کی سلطنت اور دسترس سے باہر نہیں۔ تمام اسباب ختم ہونے پر ایک اللہ پر اسی اعتماد اور اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مدد کا مظاہرہ غار ثور میں ہوا، فرمایا : (اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ) [ التوبۃ : 40 ] اسی کا مظاہرہ جنگ احد کے اختتام پر دشمن کے اجتماع کی خبر پر اہل ایمان کے قول کے وقت ہوا اور اسی کا مظاہرہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے پر آگ میں پھینکے جانے کے وقت ابراہیم ؑ کے قول (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) کہنے اور بلا اسباب آگ کو گلزار بنا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کی صورت میں ہوا۔ دیکھیے سورة آل عمران (173، 174) اور سورة بروج میں مذکور اصحاب الاخدود والے لڑکے کے پاس جب تمام اسباب ختم ہوگئے تو اس نے انھی الفاظ کے ہم معنی الفاظ (اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِءْتَ) (اے اللہ ! مجھے ان سے کافی ہوجا جس چیز کے ساتھ تو چاہے) کے ساتھ دعا کی تو پہاڑ سے گرانے والے خود گر کر مرگئے اور سمندر میں ڈبونے والے خود ڈوب گئے، مگر اس کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ [ دیکھیے مسلم، الزھد، باب قصۃ أصحاب الأخدود۔۔ : 3005، عن صہیب۔ ] اب بھی اگر کوئی یقین کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرنے والا یہ دعائیں پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اسی طرح آئے گی، خواہ ساری دنیا اس سے منہ موڑ جائے۔ بندۂ عاجز عبد السلام عرض کرتا ہے کہ یہ ان مبارک دعاؤں میں سے ہے جن کے پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو قرآن مجید میں ”قُلْ“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اپنے صبح و شام کے اذکار میں اسے شامل کرنا چاہیے۔ ابودرداء ؓ فرماتے ہیں : ”جو شخص یہ دعا (حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ) صبح و شام سات سات دفعہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے تمام فکروں سے کافی ہوجاتا ہے۔“ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے تو ثابت نہیں، ہاں ابودرداء ؓ کے قول کی سند کے راوی اچھے ہیں، البتہ اس میں (صَادِقًا کَانَ بِھَا اَوْ کَاذِبًا) کے الفاظ صحیح نہیں، بلکہ منکر ہیں۔ [ دیکھیے سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ : 5286 ] بالفرض اگر صحابی کا قول بھی نہ ہو تو اس کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ”قُلْ“ ہی کافی ہے۔