Al-Anfaal 8:63

Al-Anfaal · from ayah 63

8:63

وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ ؕ— لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ ؕ— اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And brought together their hearts. If you had spent all that is in the earth, you could not have brought their hearts together; but Allah brought them together. Indeed, He is Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:63

اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقینا اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے دلوں میں میل کردیا اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے، بیشک وہی ہے غالب حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اسی نے) ان (مسلمانوں) کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ جو زمین میں ہے خرچ کر ڈالتے تو (ان تمام مادی وسائل سے) بھی آپ ان کے دلوں میں (یہ) الفت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان (ایک روحانی رشتے سے) محبت پیدا فرما دی۔ بیشک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی، اگر تو زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتا ان کے دلوں کے درمیان الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بیشک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان (صحابہ کرام) کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ خرچ کر ڈالتے جو اس زمین میں موجود ہے تو بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے تھے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے ان میں الفت ڈال دی کیونکہ وہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے دلوں کو باہم جوڑا اور اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دلوں کو باہم نہ جوڑ سکتے لیکن اللہ نے ان کو جوڑ دیا۔ بیشک وہ غالب اور حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی نے باہمی الفت ڈال دی ان کے دلوں میں، (اپنی خاص رحمت و عنایت سے، ورنہ) آپ اگر وہ سب کچھ خرچ کردیتے جو کہ روئے زمین پر (موجود ہے) تو بھی آپ ان کے دلوں کو آپس میں نہیں جوڑ سکتے تھے، لیکن اللہ ہی نے باہم جوڑ دیا، ان (کے پھٹے ہوئے دلوں) کو، بیشک وہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس نے ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا اگر آپ دنیا بھر کا مال خرچ کر ڈالتے جب بھی ان کے قلوب میں اتحاد نہ پیدا کرسکتے لیکن اللہ نے ان میں اتحاد پیدا کردیا بیشک وہ بڑا قدرت والا بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اِن (اہل ایمان) کے دلوں میں اس نے الفت پیدا کردی۔ اگر آپ ﷺ زمین کی ساری دولت بھی خرچ کردیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے لیکن یہ تو اللہ نے ان کے مابین (ایسی) الفت پیدا کردی یقیناً وہ زبر دست ہے حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی انکے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے مگر اللہ ہی نے الفت ڈال دی بیشک وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and joined their hearts. Had you given away all the riches of the earth you could not have joined their hearts, but it is Allah Who joined their hearts. Indeed He is All-Mighty. All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and united their hearts. Had you spent all that is on earth, you could not have united their hearts. But Allah did unite their hearts. Surely, He is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

and united their hearts. Had you spent all that is on earth, you could not have united their hearts. But Allah did unite their hearts. Surely, He is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He has united their (believers') hearts. If you had spent all that is in the earth, you could not have united their hearts, but Allah has united them. Certainly He is All-Mighty, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (as for the believers) hath attuned their hearts. If thou hadst spent all that is in the earth thou couldst not have attuned their hearts, but Allah hath attuned them. Lo! He is Mighty, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And brought together their hearts. If you had spent all that is in the earth, you could not have brought their hearts together; but Allah brought them together. Indeed, He is Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

among whose hearts He has placed affection and unity. If you were to spend the wealth of the whole earth, you would not have been able to unite their hearts but God has been able to unite them. God is Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And united their hearts; had you spent all that is in the earth, you could not have united their hearts, but Allah united them; surely He is Mighty, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And He united their hearts. Hadst thou expended all that is on the earth thou couldst not have united their hearts, but Allah united them; verily He is Mighty, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

And (moreover) He hath put affection between their hearts: not if thou hadst spent all that is in the earth, couldst thou have produced that affection, but Allah hath done it: for He is Exalted in might, Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–63

جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْاَنْفَال 46 اشارہ ہے اس بھائی چارے اور الفت و محبت کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والے اہل عرب کے درمیان پیدا کر کے ان کو ایک مضبوط جتھا بنادیا تھا، حالانکہ اس جتھے کے افراد ان مختلف قبیلوں سے نکلے ہوئے تھے جن کے درمیان صدیوں سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں۔ خصوصیت کے ساتھ اللہ کا یہ فضل اوس و خزرج کے معاملہ میں تو سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ یہ دونوں قبیلے دو ہی سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور مشہور جنگ بعاث کو کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے جس میں اوس نے خزرج کو اور خزرج نے اوس کو گویا صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا تہیہ کرلیا تھا۔ ایسی شدید عداوتوں کو دو تین سال کے اندر گہری دوستی و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (مسلمانوں کو ذریعہ امداد بنانے کے لئے) ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا (چناچہ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے اور ان میں بوجہ حب ریاست اور غلبہ بغض و عداوت اتفاق ایسا دشوار تھا کہ) اگر آپ (باوجودیکہ عقل و تدبیر بھی کامل رکھتے ہیں اور سامان بھی اس کے لئے آپ کے پاس کافی ہوتا یہاں تک کہ) دنیا بھر کا مال (اس کام کے لئے) خرچ کرتے تب بھی ان کے قلوب میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے لیکن (یہ) اللہ ہی (کا کام تھا کہ اس) نے ان میں باہم اتفاق پیدا کردیا بیشک وہ زبردست ہیں (کہ جو چاہیں اپنی قدرت سے کردیں اور) حکمت والے ہیں (کہ جس طریق سے مناسب جانیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خدا ساز بات : وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ۔ اوپر جو یہ اشارہ ہوا ہے کہ اللہ نے مومنین کے ذریعہ سے تمہاری مدد فرمائی، یہ اس کی وضاحت ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ خاص تائید غیبی ہی کا یہ کرشمہ ہے۔ کسی شیطانی مقصد کے لیے کسی بھیڑ کا اکٹھا کرلینا تو مشکل نہیں ہوتا۔ ہر نعرہ باز یہ کام کرسکتا ہے لیکن خاص اللہ کے کام کے لیے جس میں خدا کی خوشنودی اور آخرت کی طلب کے سوا کسی بھی دوسری چیز کا کوئی ادنی شائبہ نہ ہو، کلمہ حق کے جاں نثاروں کی ایک جمعیت کا فراہم ہوجانا بغیر اس کے ممکن نہیں ہوا کہ اللہ نے تائئید کی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

63۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے، ان میں سے ایک بڑے احسان کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کی مومنین کے ذریعے سے مدد فرمائی، وہ آپ کے دست بازو اور محافظ و معاون بن گئے۔ مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اسے محبت و الفت میں تبدیل فرما دیا، پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے، پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے اب آپس میں رحیم و شفیق ہوگئے صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کر کے، باہم پیار اور محبت پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت و مشیت کی کارفرمائی تھی، ورنہ یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–64

44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–63

62 ۔ 63:۔ اب اللہ ان لوگوں کے دھوکے سے حضور کو مطمئن اور مامون فرماتا ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کا ارادہ کریں اور کوئی سازش کریں اور صلح اور دوستی کی پشت پر غداری کا کوئی منصوبہ ہو تو فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں ، اللہ کافی ہے ، وہ حافظ ہے ، وہی مددگار ہے اور بدر میں اسی کی نصرت تمہارے شامل حال رہی ہے۔ مومنین کے ذریعے اس نے تمہاری تائید کی۔ مومنین کو اتفاق و اتحاد عطا کیا حالانکہ جاہلیت میں ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا ، یہ اللہ حکیم و قدیر کا کارنامہ ہے۔ اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ آغاز تحریک میں اسی نے تو تمہاری امداد فرمائی اور تمہیں مومنین کا ایک ایسا سچا گروہ عطا کیا جنہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا بازار گرم تھا۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائل آپس میں ٹکراتے رہتے تھے۔ دو جماعتوں میں جب لڑائی شروع ہوجاتی تو صدیوں تک اس کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی تھی مدینہ کے دو زبردست قبیلوں " اوس " و " خزرج " کی حریفانہ نبرد آزمائی اور دیرینہ عداوت و بغض کا سلسلہ کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت و آبرو کے بھوکے تھے۔ ان حالات میں آقائے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالمگیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے۔ لوگوں نے انہیں بھی ایک فریق ٹھہرا لیا اور سب نے مل کر خلاف و شقاق کا رخ ادھر پھیر دیا۔ پرانے کینے اور عداوتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63 وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْط لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَہُمْ ط سورۂ آل عمران کی آیت 103 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فضل خاص کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا ط اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں باہم الفت پیدا کردی تو اس کی نعمت سے تم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 جانی دشمن قبائل میں الفت و محبت اللہ کی قدرت کا کرشمہ :۔ یعنی مسلمانوں کی جماعت میں تقریباً عرب کے تمام قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے اور عرب میں قبائلی نظام کی وجہ سے یہ سب ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ بالخصوص انصار کے قبائل اوس و خزرج کی تو یہ کیفیت تھی کہ مسلمانوں کی مدینہ میں آمد سے پہلے یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ایک دوسرے کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ یہ محض اللہ ہی کا فضل و کرم ہے کہ صرف دو تین سال کے عرصہ میں ان کے دلوں میں ایسی محبت و الفت ڈال دی کہ آج وہ حقیقی بھائیوں سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے ہمدرد بن گئے ہیں اور ایسا عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94 ۔ وہ جو چاہے اپنی قدرت سے اور جس طریق مناسب سے چاہے اپنی حکمت سے کردکھائے۔ (آیت) ” الفت بین قلوبھم “۔ یہ اللہ کی کریمی اور کارسازی تھی کہ مسلمانوں سے نسلی، قبائلی، لسانی تفریقیں مٹ مٹا کر سب نصرت دین پر متحد ویکجا ہوگئے۔ بغیر اس یکجہتی کے نصرت دین پوری طرح پر ممکن ہی نہ تھی اللہ کا خاص موقع احسان پر اس نعمت اتحاد کو یاد لانا دلیل ہے اس کی کہ یہ نعمت کتنی اہم وعظیم الشان ہے۔ (آیت) ” لوانفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم “۔ یعنی باوجود اس کے کہ آپ دنیابھر میں سب سے بڑھ کر صاحب حکمت، صاحب تدبیر ہیں، آپ تک سارے ممکن مالی ذرائع کے استعمال کے بعد بھی اس نعمت اتحاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 63–64

وَاَلَّفَ بین قلوبھم، الخ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مومنین پر جو احسانات فرمائے ان میں ایک بڑے احسان کا ذکر ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کی مومنین کے ذریعہ مدد فرمائی وہ آپ کے دست وبازو اور محافظ و معاون بن گئے، مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی اسے محبت و الفت میں تبدیل فرمادیا پہلے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اب ایک دوسرے کے جاں نثار بن گئے، خصوصیت کے ساتھ اللہ کا فضل اوس و خزرج کے معاملہ میں تو سب سے زیادہ نمایاں تھا، یہ دونوں قبیلے دو ہی سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور مشہور جنگ بعاث کو کچھ زیادہ دن نہیں گذرے تھے جس میں اوس نے خزرج کو اور خزرج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم انہ عزیز حکیم۔ اور مؤمنوں کے دلوں کو باہم جوڑ دیا۔ اگر زمین کی تمام چیزیں تم خرچ کر ڈالتے تب بھی ان کے دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے ‘ مگر اللہ ہی نے ان میں الفت پیدا کردی۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ مؤمنوں سے مراد ہیں قبیلۂ اوس و خزرج والے۔ دونوں قبائل میں اتنی عداوت اور کینہ و بغض اور شر و فساد تھا کہ دور ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ سورة آل عمران میں آیا ہے : اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِّہٖ اِخْوَانًا مطلب یہ ہے کہ ان میں باہم اتنی سخت دشمنی تھی کہ روئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اور ان سب کے دلوں اور زبانوں کو اسلام پر جمع کردیا اگر آپ دنیا بھر کی دولت بھی خرچ کردیتے پھر بھی ان کے دلوں اور ان کی زبانوں میں اتفاق نہ پیدا کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ ہی نے بذریعہ ایمان ان کے دلوں کے اندر اتفاق پیدا کردیا وہ اپنی ملوکیت اور بادشاہت میں بہت زبردست اور اپنے حکم اور فیصلہ میں بڑی حکمت والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 62–63

وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ : اس جملے میں پچھلی آیت کے جملے ”وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ“ کی مزید تفصیل و تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یقین دلایا کہ اگر ان کے ارادے میں فتور بھی ہے تب بھی آپ فکر نہ کریں، آپ کو اللہ تعالیٰ ہر طرح کافی ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح اپنی خاص نصرت کے ساتھ آپ کو قوت بخشی، اہل ایمان ساتھی عطا کیے، ان کی باہمی عداوتیں، جو آپ کے پوری زمین کی ہر چیز خرچ کرنے پر بھی دور نہیں ہوسکتی تھیں، اس نے اپنے خاص فضل سے دور کر کے ایمان کی بدولت ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی اور انھیں یک جان کر کے آپ کی پشت پر کھڑا کردیا۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے، مگر اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–63

قولہ تعالیٰ : وان یرید وا ان یخدعوک یعنی اس کے ساتھ کہ وہ آپ کے لیے صلح ظاہر کریں۔ اور باطن میں غدر اور خیانت رکھیں ‘ تو آپ مائل ہوجائیے پس آ پکا ان کی نیتیں فاسد ہونے کے سبب کوئی نقصان نہیں۔ فان حسبک اللہ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کافی ہے ‘ یعنی وہ ہی آپ کی کفایت اور آپ کی حفاظت کا والی اور ذمہ دار ہے۔ شاعر نے کہا ہے : اذا کا نت الھیجاء وانشقت العصا فحسبک والضحاک سیف مھند یعنی تجھے اور ضحاک کو تلوار کافی ہے ‘ تو اس میں بھی حسبک بمعین کا فیک ہے۔ قولہ تعالیٰ : ھوالذی ایدک بنصرہ یعنی وہی ہے جس نے آپ کو اپنی نصرت کے ساتھ قوت عطا کی۔ مراد بدر کا دن ہے۔ وبالمؤمنین نعمان بن بشر نے کہا ہے : یہ انصار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–63

اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ : 1۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وان یریدوا ان یخدعوک “ (یعنی اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں) میں بنوقریظہ کا تذکرہ ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے انصار مراد ہیں 3:۔ ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے ا نصار مراد ہیں۔ 5:۔ ابن عساکر نے ابورہریرہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَلَّفَ [ اور اس نے محبت پیدا کی ] بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ ان کے دلوں کے مابین ] لَوْ [ اگر ] اَنْفَقْتَ [ آپ خرچ کرتے ] مَا [ اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] جَمِيْعًا [ سب کا سب ] مَّآ اَلَّفْتَ [ تو آپ محبت پیدا نہ کرسکتے ] بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں کے مابین ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] اَلَّفَ [ محبت پیدا کی ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے مابین ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ) (اور اللہ نے مومنین کے دلوں میں الفت پیدا فرمائی) یہ آپس کی الفت و محبت ایسی چیز ہے جو دشمنوں کے مقابلہ میں جمنے اور ان کو زک دینے اور زیر کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ جو لوگ زمانہ کفر میں آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق دی پھر ان کے قلوب میں الفت پیدا کردی۔ جس کو آل عمران میں فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ ) (اور یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو اس نے تم پر فرمایا جبکہ تم دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی) یہ الفت پیدا فرمانا اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت اور صلح کے بعد مسلمانوں کو توکل کا حکم اور وعدۂ نصرت وحفاظت قال اللہ تعالیٰ ۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا۔۔۔ الی۔۔۔ ومن اتبعک من ال مومن ین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ارباب کفار کا بیان تھا یعنی اتنی قوت اور طاقت فراہم کرو کہ دشمن مرعوب ہوجائے اب آگے یہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت دشمن صلح کی طرف مائل اور تم سے صلح کی درخواست کرے تو حسب ضررت ومصلحت ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرنا جائز ہے مگر واجب نہیں اس لیے کہ اصل فریضہ کفار سے جہاد و قتال کرنا ہے البتہ حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت ہے حکم نہیں۔ شریعت نے کافروں سے اصل حکم جہاد کا دیا ہے اور بوقت ضرورت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–64

ربطِ آیات : گذشتہ درس میں فرضیت جہاد کے ضمن میں اہل ایمان کو حکم دیا جا چکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں حسب استطاعت قوت فراہم کریں۔ اس سے مراد نہ صرف انفرادی قوت ہے بلکہ زمانے کی مناسبت سے جدید ترین اسلحہ ، ذرائع نقل وحمل اور بہترین ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن اسلام بھی اپنے باطل پروگرام کی تکمیل کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ، لہٰذا ایمان والوں کا بھی فرض ہے ، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کہ بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں جنگ کے سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا سارے اہم اصول بیان کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ۝ 0 ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰكِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝ 63 ألف الأَلِفُ من حروف التهجي، والإِلْفُ : اجتماع مع التئام، يقال : أَلَّفْتُ بينهم، ومنه : الأُلْفَة ويقال للمألوف : إِلْفٌ وأَلِيفٌ. قال تعالی: إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ [ آل عمران/ 103] ، وقال : لَوْ أَنْفَقْتَ ما فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً ما أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ [ الأنفال/ 63] . والمُؤَلَّف : ما جمع من أجزاء مختلفة، ورتّب ترتیبا قدّم فيه ما حقه أن يقدّم، وأخّر فيه ما حقّه أن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–67

ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔ تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–63

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْآاَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط لَوْاَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ ط اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ( الانفال : 61 تا 63) (اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کے لیے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ آپ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دشمن کے خلاف جہاد میں ہر قسم کی تیاری کے ساتھ قوم میں اتحاد اور محبت کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے پہلی آیت میں حکم تھا کہ کفار کی پیشکش کے پیش نظر مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔ اب مسلمانوں کی باہمی محبت کا تذکرہ کرنے کے دو مقاصد معلوم ہوتے ہیں۔ بے شک تمہیں دشمن کے ساتھ صلح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس پر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ وہ تمہارے دشمن ہیں ذرا سوچو تو سہی ماضی میں تم بھی ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی جس سے تم آپس میں شیر و شکر ہوگئے کیا ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ آج کے دشمن کو تمہارا کل کا مسلمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اوس و خزرج میں الفت کا امتنان : آیت 63: وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (اور ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا) ایک سو بیس سال سے جنگی دشمنی تھی ان اوسؔ و خزرجؔ کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ لَوْ اَنْفَقْتَ مَافِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (اگر آپ دنیا بھر کا مال خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے) ان کی عداوت اس مقام تک پہنچ چکی تھی۔ اگر کوئی خرچ کرنے والا ان کی عداوت کو مٹانے کیلئے زمین کے تمام مال بھی خرچ کر ڈالتا پھر بھی عداوت کو الفت سے نہ بدل سکتا تھا۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ (لیکن اللہ تعالیٰ ہی نے ان میں باہم الفت ڈال دی) اپنے فضل و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63(والف بین قلوبھم) یعنی اوس اور خزرج میں کہ جاہلیت میں ان کے درمیان دشمنیاں تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھائی بھائی بنادیا۔ (لو انفقت مافی الارض جمعاً ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم ط انہ عزیز حکیم)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–63

61۔ 63۔ اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو اسی واسطے حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کے موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس صلح کے پیغام کر مان لیا اور جو جو شرطیں انہوں نے پیش کیں انہیں قبول کرلیا مسند امام احمد میں حضرت علی ابن ابوطالب ؓ کی ایک حدیث ہے کہ جب اختلاف ہوتا دکھلائی دے تو اگر تجھ سے صلح ہو سکے تو کرلے صحیح بخاری و مسلم میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان سے حضرت علی ؓ کی روایت کی پوری تقویت ہوتی ہے کیونکہ یہ صلح آپ کا اختلاف رفع کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–63

آیت 61 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و ان جنحوا) ” اگر وہ مائل ہوں “ یعنی جنگ کرنے والے کفار (للسلم) ” صلح کی طرف “ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف (فاجنح لھا و توکل علی اللہ) ” تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں “ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو ، کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں، مثلا : 1 ۔ ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتداء کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ 2 ۔ اس سے تمہاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہوجائے تو تمہاری یہ جنگی استعداد تمہارے کام آئے گی۔ 3 ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 63–64

اخوت اسلامی قول باری ہے (والف بین قولبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما اتفت بین قلوبھم اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان کے دل جوڑ نہ سکتے تھے) تا اخر آیت۔ ایک روایت ہے کہ اس سے قبیلہ اوس اور خزرج مراد ہیں۔ یہی دو قبیلے مدینے کے اصلی باشندے تھے اور ان کے درمیان اسلام سے قبل انتہائی درجے کی دشمنی اور بغض و عداوت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے اور یہی لوگ پھر حضرات انصار کہلائے بشیر بن ثابت الانصاری، ابن اسحاق اور سدی سے یہی مروی ہے مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو صرف اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

136 تالیف قلوب کی عنایت کا ذکر وبیان : سو تالیف قلوب کا معجزہ ایک عظیم الشان معجزہ تھا جو پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر قدرت کی طرف سے ظاہر ہوا کہ صدیوں سے بگڑے اور کٹے ہوئے اور اہواء و اَغراض کے جالوں میں پھنسے، جکڑے اور الجھے ہوئے دلوں اور پشت در پشت عداوت و دشمنی پر پلنے بڑھنے والے ان لوگوں کو باہم ملا کر شیرو شکر کردینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ بلکہ ایسا کرنا عام انسانی قوت سے خارج اور بشری استطاعت سے باہر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ وہ لوگ تھے جن کے اندر طرح طرح کے تعصبات پائے جاتے تھے۔ ان کے معبود اور ان کے خود ساختہ بت بھی آپس میں مختلف تھے۔ ان کے اندر موجود اسی طرح کے جاہلی تعصبات کی بناء پر ان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–64

جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–64

آیات 59 تا 64 اسرار و معارف اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یہ اس بھائی چارے اور الفت کی طرف اشارہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر کے انہیں ایک مظبوط جب تھے کی شکل دے دی تھی حالانکہ عرب مختلف قبائل میں منقسم تھے، اور آئے دن معمولی معمولی باتوں پر ان کے درمیان ایسی ایسی جنگیں چھڑتی رہئی تھیں جن کا سلسلہ بر سوں بلکہ بعض اوقات صدیوں تک ختم نہ ہوتا تھا۔ ایسی ایک قوم کو ملاکر شیر و شکر کردینا اور چند بر سوں میں تمام جاہلی عصبیتوں کو مٹاکر دینا یقینا انسانی طاقت سے باہر اور دوسرا سرا للہ تعالیٰ ہی کا فضل و کرم تھا۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے خاص آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے یہ احسان جتلایا کہ جب ہماری تائید و نصرت نے آپ ﷺ کو اس طرح تقویت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 63–64

(8:63) والف۔ اس نے الفت دی۔ اس نے محبت ڈال دی۔ تالیف (باب تفعیل) سے جس کے معنی جمع کرنے اور الفت پیدا کرنے کے ہیں۔ صیغہ ماضی واحد مذکر غائب۔ قلوبھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مؤمنین کی طرف راجع ہے۔ عرب کے سارے جزیرہ میں ہر طرف عداوت و نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی مزاج اتنے آوارہ اور جذبات اتنے مشتعل تھے کہ ذرا ذرا سی بات پر لڑائی شروع ہوجاتی ۔ اور برسوں جاری رہتی۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بعد نقشہ ہی بدل گیا۔ خدا نے ایسی تالیف القلوب کی کہ اسلام کے دائرہ میں آتے ہی وہ حقیقی بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ اوس اور خزرج کے قبائل ایک بین مثال تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

آیات : 63 تا 66 لغات القرآن۔ الف۔ محبت ڈال دی۔ انفقت۔ تو نے خرچ کیا۔ حرض۔ رغبت دلائیے۔ آمادہ کیجئے۔ عشرون۔ بیس۔ ماتین۔ دو سو۔ لا یفقھون۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ الئن۔ اب۔ اس وقت۔ خفف۔ ہلکا کردیا۔ مائۃ۔ ایک سو۔ الف۔ ایک ہزار۔ تشریح : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ دشمن کے مقابلے میں ہر ممکن قوت کو حاصل کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہارا رعب جم جائے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کی گیا ہے کہ اصل قوت و طاقت ہتھیر نہیں ہوتے بلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ محبت، قربانی بھائی چارہ اخوت، اتحادو اتفاق، یک سوئی، یک نظری سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی قوم بہت سے ہتھیار جمع کرلے لیکن ان میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–63

صلح کا حکم اور غیبی مدد اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو۔ چناچہ حضور نے ایسا ہی کیا کہ حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کی موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس کو مان لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس صلح میں خدا پر بھروسہ رکھو اگر اس صلح سے ان کا کوئی اور مطلب ہے تو خدا ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ اس لئے اگر ان کا ارادہ اس صلح سے یہ ہے کہ تھوڑے روز تک جنگ موقوف کر کرکے قوت پکڑ کر جاویں اور بہت سامان مہیا کر کے پھر لڑائی پر آمادہ ہوں تو خدا نے تمہیں بدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–65

[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–64

(ف 2) یعنی مسلمانوں کے دلوں میں جو مضبوط وحدت واخوت کے جذبات ہیں ، اور دل ایک دوسرے سے وابستہ ہیں تو یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کوئی دنیوی لالچ ان کو اس طرح ایک مرکز پر جمع نہیں کرسکتا ۔ اسلام سے پہلے عرب ہمیشہ باہم دست و گریبان رہتے ، ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن ہوتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکا دیتیں ، بچے جب پیدا ہوتے ، تو انتقام کی فضا میں بڑھتے ، اور پروان چڑھتے ، اس لئے وہ مخالفت وعداوت کے طوفان میں مبتلا رہتے ، اور بالطبع مسلسل لڑائیوں میں گرفتار ، اسلام آیا تو دلوں کے کینے دور ہوگئے سب مسلمان بھائی بھائی قرار پائے سب کا مفاد یکسان عزیز اور محبوب باہمی تفریق مٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63 اور اس نے مسلمانوں کے قلوب میں باہمی الفت و محبت پیدا کردی اگر آپ روئے زمین کی تمام دولت بھی خرچ کردیتے تو بھی ان کے دلوں میں اتفاق اور باہمی الفت نہیں پیدا کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان میں محبت و الفت پیدا کردی اور سب میں اتفاق پیدا کردیا بیشک وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے ظاہر ہے کہ ملک عرب میں اسلام سے پہلے سخت نااتفاقی پھیلی ہوئی تھی اور پورا ملک دشمنی اور باہمی عداوت کا گہوارہ بنا ہوا تھا اگر کوئی یہ چاہتا کہ روئے زمین کی دولت خرچ کرکے اس عداوت و دشمنی کی آگ بجھا دے تو ناممکن تھا لیکن نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کی برکت سے اور اسلامی تعلیم کی بدولت سب بھائی بھائی ہوگئے اور سب کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

ف 3۔ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی تو ہے جو تمہارے دلوں میں الفتت پیدا کرنے والا ہے : 83: غور کرو کہ تم اے پیغمبر اسلام کتتنی دیر مکہ میں رہے لیکن وہاں کے لوگوں نے وہ کونسی تکلیف ہے جو آپ کو نہیں پہنچائی اور پھر اللہ نے وہاں سے نکال کر آپ کو مدینہ لا بسایا اور ساتھ ہی لوگوں کے دلوں کو بھی تمہاری طرف پھیر دیا یہ کوئی معمولی بات نہ توی بلکہ یہ خاص تائید غیبی ہی کا کرشمہ ہے۔ کسی شیطانی مقصد کے لئے کسی بھیڑ کا اکھٹا کرلینا اتنا مشکل نہیں ہوتا ابھی ڈگڈگی بجی اور ابھی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے اور تیل کی تھاپ پر کتنے ہیں جو سر دھننے لگے اور ڈھولک بجنے پر کتنوں نے ٹانگ اٹھالی لیکن خاص اللہ کے کام کے لئے جس میں اللہ کی خوشنودی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The first (63) of the four verses from Surah Al-Anfal cited above describes the cause of Muslim victory and the method through which it was achieved. In the verse appearing previous to it (62), the address was to the Holy Prophet ﷺ where he was told that it was but Allah who had helped him in His own special way, and through the community of Muslims with him. This verse is telling us that help from the community of Muslims can only be made available when this community is mutually in agreement with each other and united as one. Thus, the power and weight it carries emerges to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

46. Here the allusion is to that strong bond of love and brotherhood that developed among the Arabs who embraced Islam and whose conversion brought them solidarity. This strong solidarity existed despite the fact that they came from a variety of tribes which had long-standing traditions of mutual enmity. This was a special favour of God on the Muslims, especially evident in the case of the Aws and Khazraj. It was barely a couple of years before their acceptance of Islam that the two clans virtually thirsted for each other's blood. During the battle of Bu'ath both seemed set to exterminate…

Read the full tafseer →