Explained with ayahs 61–63
جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو
فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 45
یعنی بین الاقوامی معاملات میں تمہاری پا لیسی بزدلانہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ خدا کے بھروسہ پر بہادرانہ اور دلیرانہ ہونی چاہیے۔ دشمن جب گفتگوئے مصالحت کی خواہش ظاہر کرے، بےتکلف اس کے لیے تیار ہوجاؤ اور صلح کے لیے ہاتھ بڑھانے سے اس بنا پر انکار نہ کرو کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ صلح نہیں کرنا چاہتا بلکہ غداری کا ارادہ رکھتا ہے۔ کسی کی نیت بہر حال یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ واقعی صلح ہی کی نیت رکھتا ہو تو تم خواہ مخواہ اس کی نیت پر شبہ کر کے خونریزی کو طول کیوں دو۔ اور اگر وہ عذر کی نیت رکھتا ہو تو تمہیں خدا کے بھروسے پر بہادر ہونا چاہیے۔ صلح کے لیے بڑھنے والے ہاتھ کے…
Read the full tafseer →اس کے بعد چوتھی آیت میں اسی مضمون کو اور زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤ ْمِنِيْنَ۔
یعنی اگر یہی احتمال واقع ہوجائے کہ صلح کرنے سے ان کی نیت خراب ہو آپ کو دھوکہ ہی دینا چاہیں تب بھی آپ کوئی پروانہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہیں پہلے بھی اللہ تعالے ہی کی امداد و تائید سے آپ کا کام چلا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مدد سے آپ کی تائید فرمائی جو آپ کی فتح و کامیابی کی اصل بنیاد اور حقیقت ہے اور ظاہری طور پر مسلمانوں کی جماعت آپ کی امداد کے لئے کھڑی کردی…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ یعنی زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ یہی تو کہ وہ تمہیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے تو اس کی پروا نہ کرنا، اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ ‘ اللہ تمہارے لیے کافی ہے ’، کے اجمال میں جو کچھ مضمر ہے قلم اس کی تعبیر سے اگرچہ قاصر ہے لیکن وہ بغیر کسی اظہار کے بھی ظاہر ہے۔ یہاں خاص طور پر غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ اسلام حق و انصا کے جس اصول کی تلقین انسان کو اس کی انفرادی زندگی کے لیے کرتا ہے اسی کی تلقین اس کی اجتماعی زندگی کے لیے کرتا ہے اور اسی تلقین اس کی بین الاقوامی زندگی کے لیے بھی کرتا ہے اور اس تصریح کے ساتھ کرتا ہے کہ اگر اس میں کچھ خطرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61۔ 1 اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن بھی مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقینا اللہ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، اور وہ آپ کو کافی ہے۔ لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے جب مسلمان کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمان کا مفاد ہو لیکن جب اس کے برعکس ہوں، مسلمان قوت و وسائل میں ممتاز ہوں اور کافر کمزور تو اس صورت میں صلح کے بجائے کافروں کی قوت کو توڑنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
62 ۔ 63:۔ اب اللہ ان لوگوں کے دھوکے سے حضور کو مطمئن اور مامون فرماتا ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کا ارادہ کریں اور کوئی سازش کریں اور صلح اور دوستی کی پشت پر غداری کا کوئی منصوبہ ہو تو فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں ، اللہ کافی ہے ، وہ حافظ ہے ، وہی مددگار ہے اور بدر میں اسی کی نصرت تمہارے شامل حال رہی ہے۔ مومنین کے ذریعے اس نے تمہاری تائید کی۔ مومنین کو اتفاق و اتحاد عطا کیا حالانکہ جاہلیت میں ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا ، یہ اللہ حکیم و قدیر کا کارنامہ ہے۔
اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ آغاز تحریک میں اسی نے تو تمہاری امداد فرمائی اور تمہیں مومنین کا ایک ایسا سچا گروہ عطا کیا جنہوں…
Read the full tafseer →1 اگر صلح کر کے وہ لوگ دغابازی اور عہد شکنی کا ارادہ کرلیں تو فکر نہ کیجئے۔ خدا آپ کی مدد کے لیے کافی ہے ان کے سب فریب خدا بیکار کر دے گا۔ اسی نے بدر میں آپ کی غیبی امداد فرمائی، اور ظاہری طور پر جاں نثار سرفروش مسلمانوں سے آپ کی تائید کی۔
Read the full tafseer →آیت 62 وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط۔
گویا ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت دی جا رہی ہے۔
ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مدد اہل ایمان کے ذریعے سے کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپ ﷺ کو ایسے مخلص اور جاں نثار صحابہ عطا کیے کہ جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرا وہاں انہوں نے اپنے خون کی ندیاں بہا دیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس خصوصی امداد کی شان اس وقت خوب نکھر کر سامنے آتی ہے جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رض کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے…
Read the full tafseer →64 یہود جیسی غدار قوم سے معاہدہ اور اللہ کی مدد :۔ یعنی امن کا معاہدہ کرنے والے لوگ (یہود) پہلے بھی جب کبھی عہد شکنی اور غداری کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے خود بھی آپ کی مدد فرمائی اور بظاہر مسلمانوں کے ذریعہ سے بھی آپ کو یہ تائید حاصل ہوچکی۔ آئندہ بھی اگر کوئی معاہد قوم غداری کی نیت سے آپ سے معاہدہ کرے گی تو اللہ پھر آپ کی اسی طرح مدد فرمائے گا جس طرح پہلے کرچکا ہے۔
Read the full tafseer →93 ۔ (اور جس طرح اس نے یہ ماضی میں کیا، مستقبل پر بھی وہی قادر ہے) (آیت) ” ان یخدعوک “۔ یعنی اسی صلح ومصالحت کی آڑ میں وہ آپ کو دھوکا دینا چاہیں، (آیت) ” فان حسبک اللہ “۔ یہ محض اتفاق نہیں، اتفاق سے کچھ زائد ہی ہے کہ آیت کے نزول کے بعد کسی موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کید وخدع سے کامیابی ثابت نہیں۔ (آیت) بنصرہ “۔ کوئی خاص نصرت غیبی مثلا نزول ملائکہ (آیت) ” بال مومنین “۔ دین کی ظاہری نصرت ظاہر ہے کہ مسلمانوں ہی کے ذریعہ سے ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَان جنحواللسلم فاجنح لَھَا وتو کل علی اللہ انَّہ ھو السمیع العلیم یعنی اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں یقینا اللہ تعالیٰ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے کہ جب مسلمانوں کا پہلو کمزور ہو اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا مفاد ہو لیکن جب معاملہ اس کے بر عکس ہو تو اس صورت میں صلح کے بجائے دشمن کی قوت و شوکت کو توڑنا ہی ضروری ہے '' وَ قاتلو ھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ اللہ ''.(انفال)
مسلمانوں…
Read the full tafseer →وان یریدوآ ان یخدعوک فان حسبک اللہ اور اگر وہ تم سے فریب کرنا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لئے یقیناً کافی ہے۔ یعنی اگر وہ صلح کے پیرایہ میں جنگ کی تیاری کرنا چاہیں گے ‘ یا غداری کریں گے ‘ یا صلح میں کچھ فریب کریں گے تو ان کے فریب کو ناکام بنانے کیلئے اللہ تمہاری طرف سے کافی ہے۔
ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمؤمنین : اللہ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد اور مؤمنوں کے ذریعہ سے تم کو قوت عطا کی
Read the full tafseer →(62) اور اگر بنو قریظہ صلح کے ذریعے سے آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کے لیے کافی ہے اسی نے اپنی غیبی امداد سے غزوہ بدر کے دن اور قبیلہ اوس اور خزرج سے آپ کو طاقت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ : اس جملے میں پچھلی آیت کے جملے ”وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ“ کی مزید تفصیل و تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یقین دلایا کہ اگر ان کے ارادے میں فتور بھی ہے تب بھی آپ فکر نہ کریں، آپ کو اللہ تعالیٰ ہر طرح کافی ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح اپنی خاص نصرت کے ساتھ آپ کو قوت بخشی، اہل ایمان ساتھی عطا کیے، ان کی باہمی عداوتیں، جو آپ کے پوری زمین کی ہر چیز خرچ کرنے پر بھی دور نہیں ہوسکتی تھیں، اس نے اپنے خاص فضل سے دور کر کے ایمان کی بدولت ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی اور انھیں یک جان کر کے آپ کی پشت پر کھڑا کردیا۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے، مگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
قولہ تعالیٰ : وان یرید وا ان یخدعوک یعنی اس کے ساتھ کہ وہ آپ کے لیے صلح ظاہر کریں۔ اور باطن میں غدر اور خیانت رکھیں ‘ تو آپ مائل ہوجائیے پس آ پکا ان کی نیتیں فاسد ہونے کے سبب کوئی نقصان نہیں۔ فان حسبک اللہ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کافی ہے ‘ یعنی وہ ہی آپ کی کفایت اور آپ کی حفاظت کا والی اور ذمہ دار ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
اذا کا نت الھیجاء وانشقت العصا فحسبک والضحاک سیف مھند
یعنی تجھے اور ضحاک کو تلوار کافی ہے ‘ تو اس میں بھی حسبک بمعین کا فیک ہے۔
قولہ تعالیٰ : ھوالذی ایدک بنصرہ یعنی وہی ہے جس نے آپ کو اپنی نصرت کے ساتھ قوت عطا کی۔ مراد بدر کا دن ہے۔ وبالمؤمنین نعمان بن بشر نے کہا ہے : یہ انصار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ :
1۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وان یریدوا ان یخدعوک “ (یعنی اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں) میں بنوقریظہ کا تذکرہ ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے انصار مراد ہیں
3:۔ ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔
4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین (62) “ سے ا نصار مراد ہیں۔
5:۔ ابن عساکر نے ابورہریرہ ؓ سے…
Read the full tafseer →وَاِنْ [ اور اگر ] يُّرِيْدُوْٓا [ وہ لوگ ارادہ کریں ] اَنْ [ کہ ] يَّخْدَعُوْكَ [ وہ دھوکہ دیں آپ کو ] فَاِنَّ [ تو بیشک ] حَسْبَكَ [ کافی ہے آپ کو ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَيَّدَكَ [ تقویت دی آپ کو ] بِنَصْرِهٖ [ اپنی مدد کے ذریعہ سے ] وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں کے ذریعہ سے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبُکَ اللّٰہُ ) اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ذریعہ بنائیں تو اللہ آپ کی مدد کے لیے کافی ہے ان کا مکرو فریب اور چالبازی سب خاک میں مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ نصیب فرمائے گا۔
پھر فرمایا ( ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بالْمُؤْمِنِیْنَ ) اللہ وہی ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعہ آپ کو قوت عطا فرمائی (جس میں فرشتوں کا غیبی امداد کرنا بھی شامل ہے) اور اس نے مسلمانوں کے ذریعہ بھی آپ کو قوت دی اور مسلمانوں کا لشکر آپ کے ساتھ رہا جنہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ جنگ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت اور صلح کے بعد مسلمانوں کو توکل کا حکم اور وعدۂ نصرت وحفاظت
قال اللہ تعالیٰ ۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا۔۔۔ الی۔۔۔ ومن اتبعک من ال مومن ین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ارباب کفار کا بیان تھا یعنی اتنی قوت اور طاقت فراہم کرو کہ دشمن مرعوب ہوجائے اب آگے یہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت دشمن صلح کی طرف مائل اور تم سے صلح کی درخواست کرے تو حسب ضررت ومصلحت ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرنا جائز ہے مگر واجب نہیں اس لیے کہ اصل فریضہ کفار سے جہاد و قتال کرنا ہے البتہ حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت ہے حکم نہیں۔
شریعت نے کافروں سے اصل حکم جہاد کا دیا ہے اور بوقت ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
63: یہ جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ربطِ آیات :
گذشتہ درس میں فرضیت جہاد کے ضمن میں اہل ایمان کو حکم دیا جا چکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں حسب استطاعت قوت فراہم کریں۔ اس سے مراد نہ صرف انفرادی قوت ہے بلکہ زمانے کی مناسبت سے جدید ترین اسلحہ ، ذرائع نقل وحمل اور بہترین ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن اسلام بھی اپنے باطل پروگرام کی تکمیل کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ، لہٰذا ایمان والوں کا بھی فرض ہے ، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کہ بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں جنگ کے سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا سارے اہم اصول بیان کرنے…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْـبَكَ اللہُ 0 ۭ ہُوَالَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62 ۙ
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
1 ؎ ورنہ حقیقی تو معنی مراد ہی ہیں کہ فرشتے ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ 12 منہ
2 ؎ وآخرین من دونہم لا تعلمونھم مرا وایران و روم دویگر بلاد کے وہ کافر ہیں کہ جن کو مسلمان اس زمانہ میں اچھی طرح جانتے بھی نہ تھے جیسا کہ کئی صدیوں سے فرانس و روس و انگلینڈ وغیرہ نئی طاقتیں پیدا ہوگئی ہیں جو اسلام کے جھنڈے کو زمین پر گرا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ حرمت صلیب میں چاہا تھا 12 منہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْآاَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط لَوْاَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ ط اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ( الانفال : 61 تا 63)
(اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کے لیے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کی بھرپور دفاعی تیاری کے باوجود اگر دشمن صلح کے لیے آمادہ ہو تو مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔
اسلام کے مخالف ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اسلام جارحیت پسند اور مسلمان جنگ جو قوم ہے۔ حالانکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو کفار تبلیغ دین میں رکاوٹ اور کسی پر ظلم زیادتی نہیں کرتے ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ خواہ تم کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر دشمن تمہارے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہو۔ تو کسی گھمنڈ میں آنے کے بجائے صلح کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لو اور اللہ تعالیٰ پر…
Read the full tafseer →آیت 62: وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ (اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں) وہ مکر کریں گے اور دھوکہ دیں گے۔ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ، (اللہ آپ کو کافی ہے) اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہے۔ ھُوَالّذِیْ اَیَّدَکَ (وہ وہی ہے جس نے آپ کو قوت دی) بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ (اپنی امداد سے اور مسلمانوں سے) تمام ایمان والوں سے یا انصار کے ذریعہ۔
Read the full tafseer →62(وان یریدوآ ان یخدعوک) وہ غداری کریں یا کوئی دھوکہ کریں تمہارے ساتھ بنو قریظہ کے لوگ (فان حسبک اللہ) اللہ تمہیں کافی ہے۔ (ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین) انصار کے مددگاروں کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
61۔ 63۔ اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو اسی واسطے حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کے موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس صلح کے پیغام کر مان لیا اور جو جو شرطیں انہوں نے پیش کیں انہیں قبول کرلیا مسند امام احمد میں حضرت علی ابن ابوطالب ؓ کی ایک حدیث ہے کہ جب اختلاف ہوتا دکھلائی دے تو اگر تجھ سے صلح ہو سکے تو کرلے صحیح بخاری و مسلم میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان سے حضرت علی ؓ کی روایت کی پوری تقویت ہوتی ہے کیونکہ یہ صلح آپ کا اختلاف رفع کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیت 61
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و ان جنحوا) ” اگر وہ مائل ہوں “ یعنی جنگ کرنے والے کفار (للسلم) ” صلح کی طرف “ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف (فاجنح لھا و توکل علی اللہ) ” تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں “ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو ، کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں، مثلا :
1 ۔ ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتداء کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔
2 ۔ اس سے تمہاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہوجائے تو تمہاری یہ جنگی استعداد تمہارے کام آئے گی۔
3 ۔ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
صلح کے معاہدے کا بیان
قول باری ہے (وان جنحوالسلم فجنح لھا و توکل علی اللہ۔ اور اے نبی ﷺ ! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے جھک جائو اور اللہ پھر بھروسہ کرو) جنوح میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اگر کشتی ایک طرف کو جھک جائے تو کہا جاتا ہے ” جنحت السفینۃ “ اور سلم مسالمت کو کہتے ہیں جس کے معنی جنگ سے سلامتی چاہنے کے ہیں۔ آیت میں حضور ﷺ کو صلح و سلامتی کی طرف مائل ہونے اور اسے قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (فاجنح لھا) فرمایا اسئے کہ یہ لفظ صلح و سلامتی سے کنایہ ہے اس حکم کے باقی ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ سعید اور معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ حکم…
Read the full tafseer →133 بھروسہ اللہ پر رکھیں اور دشمن کی پرواہ نہ کریں : کہ اگر اللہ پر صحیح طور سے بھروسہ ہو تو پھر کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی { اِنْ یُّرِیْدُوا } کے جملہ شرطیہ کا جو اب شرط محذوف ہے جو اسی طرح کے کسی جملے سے مقدر مانا جاسکتا ہے۔ اور { فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہِ } اس محذوف و مقدر کی علت اور دلیل ہے۔ اور یہ قرآن حکیم کا ایک معروف اسلوب ہے جو جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ اگر اللہ پر صحیح طور سے بھروسہ و اعتماد ہے تو پھر کفار و مشرکین کے شرور سے ڈرنے اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ اللہ آپ کو کافی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ
تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیات 59 تا 64
اسرار و معارف
اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…
Read the full tafseer →ف 8 وہ ان کی تمام مکاریوں اور چالباز یوں کو اپنی قدرت کاملہ سے بیکار کر دے گا۔
9 ہر قسم کی تائید اللہ ہی کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ کبھی اسباب ظاہری کے بغیر جس کی طرف حسبک اللہ میں اشارہ ہے اور کبھی اسباب ظاہری ہے جس کی طرف وبالمومنین سے اشارہ فرمایا ہے۔ ( کبیر) مطلب یہ ہے کہ ظاہری باطنی دونوں قسم کے اسباب سے آپ ﷺ کو قوت بخشی ،
Read the full tafseer →(8:62) یخدعون۔ وہ تجھے دھوکہ دیں۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر غائب ل ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔
حسبک۔ حسب اسم فعل ہے بمعنی کافی۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ تیرے لئے کافی ہے۔ حسب یحسب (باب نصر) کا مصدر بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
آیات : 60 تا 62
لغات القرآن۔
اعدوا۔ تیاری رکھو۔ تیاری کرو۔ استطعتم۔ جتنی تمہاری طاقت ہے۔ قوۃ۔ طاقت۔ ہیبت۔ رباط الخیل۔ پلے ہوئے گھوڑے۔ ترھبون۔ تم ہیبت طاری کرتے ہو۔ عدواللہ ۔ اللہ کے دشمن۔ اخرین۔ دوسرے۔ یوف۔ پورا کرد یا جائے گا۔ جنحوا۔ وہ جھکیں۔ مائل ہوں۔ السلم۔ صلح۔ اجنح۔ تو جھک جا۔ توکل۔ بھروسہ کر۔ یخدعوک۔ وہ آپ کو دھوکہ دیں گے۔ حسبک اللہ۔ اللہ آپ کا کافی ہے۔ ایدک۔ اس نے تجھے طاقت دی۔ تیری مدد کی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔
تشریح : غزوہ بدر کے پس منظر میں اہل ایمان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان تم دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہو۔ غزوہ بدر کی کامیابی پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائو جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
صلح کا حکم اور غیبی مدد
اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو۔ چناچہ حضور نے ایسا ہی کیا کہ حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کی موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس کو مان لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس صلح میں خدا پر بھروسہ رکھو اگر اس صلح سے ان کا کوئی اور مطلب ہے تو خدا ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ اس لئے اگر ان کا ارادہ اس صلح سے یہ ہے کہ تھوڑے روز تک جنگ موقوف کر کرکے قوت پکڑ کر جاویں اور بہت سامان مہیا کر کے پھر لڑائی پر آمادہ ہوں تو خدا نے تمہیں بدر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
مذہب امن :
(ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے وہ از خود نہیں چاہتا ، کہ جنگ کی آگ بھڑکائی جائے البتہ جب مخالفین مجبور کردیں ، تو وہ بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
(آیت) ” و توکل علی اللہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ صلح کا میلان زیادہ رہے ، اور خدا پر بھروسہ کرکے ایک دفعہ مخالفین کو موقع دیا جائے کہ وہ بااعتماد ثابت ہوں اور جنگ رک جائے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61 اور اگر کافر و منکرین دین حق صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح کے لئے مائل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی اگر کفار صلح کی خواہش کریں تو حسب صواب دید اگر آپ مصلحت سمجھیں تو آپ بھی صلح کے لئے جھک جائے اور خدا پر بھروسہ رکھئے کیونکہ بسا اوقات صلح کے نام پر دشمن دھوکہ دینا چاہتا ہے اس لئے آپ کا توکل خدا پر ہونا چاہئے ان کے خفیہ مشوروں کو سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اگر دل میں دغا رکھیں گے اللہ کو معلوم ہے اس کی سزا دے گا۔ 12
اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں گے تو یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ حدیث میں تیراندازی کی مشق اور گھوڑوں کے رکھنے اور سواری سیکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے اب بندوق اور توپ قائم مقام تیر کے ہے اور عموم قوت میں یہ سب اور ورزش بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →اگر دشمن تمہیں دھوکا دینے کی کوشش کرے گا تو اللہ تمہارا مددگار ہوگا :
82: اے پیغمبر اسلام ! اور اے مسلمانو ! اگر وہ بظاہر صلح پر آمادہ ہوں اور اندر ہی اندر تم کو زک پہنچانے کی تیاریاں کر رہے ہوں تب بھی تم چوکنے ہو کر صلح کے لئے بڑھنے والے ہاتھ کو جھٹتک نہ دو بلکہ اسے گرم جوشی سے تھام لو۔ اللہ تعالیٰ جس نے پہلے بھی ہر مشکل میں تمہاعی اعانت کی ہے اور اب بھی قادر ہے کہ تمہارے دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دے اور تمہیں کامیاب و کامران کر دے۔ تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ اسلام صلح ، امن اور آشتی کا دین ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو فقط اس وقت جنگ کی اجازت دیتا ہے جب اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو اور…
Read the full tafseer →After that, in the fourth verse (62), the same subject has been taken up with added clarity where it was said:
وَإِن يُرِيدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّـهُ ۚ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ﴿62﴾
And if they intend to deceive you, then, Allah is all-sufficient for you. He is the One who supported you with His help and with the believers.
It means that should this very probability turn out to be the reality on the ground - that their intention is bad and they stop at nothing short of a deceptive strike against you - even then, you do not have to bother about…
Read the full tafseer →45. In international dealings Muslims should not act with timidity. They should rather have faith in God and should act with courage and bravery. However, as soon as the enemy is inclined to reconciliation, they should welcome the move and should not he reluctant to make peace even if they are unsure whether or not the enemy is sincere about peace, and whether or not he intends to use the settlement as a ruse to Commit later treachery.
Since it is impossible to know the true intention of others, allowance should be made for their words. If the enemy is sincere in his offer of reconcoliation,…
Read the full tafseer →