Al-Anfaal 8:61

Al-Anfaal · from ayah 61

8:61

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‏

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if they incline to peace, then incline to it [also] and rely upon Allah. Indeed, it is He who is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:61

اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بیشک وہی ہے سنتا جانتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ (کفار) صلح کے لئے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ بیشک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجا اور اللہ پر بھروسا کر۔ بیشک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے صلح پر آمادہ ہوجائیے۔ یقینا وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ مصالحت کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جائیو اور اللہ پر بھروسہ رکھیو، بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر جھک جائیں یہ لوگ صلح (صفائی) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسہ بہرحال اللہ ہی پر رکھنا، بیشک وہی ہے سنتا (ہر کسی کو، اور) جانتا (سب کچھ)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرح تو (آپ کو اختیار ہے کہ) آپ بھی اس طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیے بیشک وہ خوب سننے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) اگر وہ اپنے بازو جھکا دیں امن کے لیے تو آپ بھی جھک جائیں اس کے لیے اور اللہ پر توکل کیجیے یقیناً وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہوجاؤ۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھو کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If they incline to peace, incline you as well to it, and trust in Allah. Surely He is All-Hearing. All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if they tilt towards peace, you too should tilt towards it, and place your trust in Allah. Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

And if they tilt towards peace, you too should tilt towards it, and place your trust in Allah. Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they incline to peace, you also incline to it, and trust in Allah. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if they incline to peace, incline thou also to it, and trust in Allah. Lo! He, even He, is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if they incline to peace, then incline to it [also] and rely upon Allah. Indeed, it is He who is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

If they (the unbelievers) propose peace, accept it and trust in God. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And if they incline to peace, then incline to it and trust in Allah; surely He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And if they incline unto peace, then thou mayest incline thereunto, and rely thou on Allah; verily He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

But if the enemy incline towards peace, do thou (also) incline towards peace, and trust in Allah: for He is One that heareth and knoweth (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–63

جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–61

سورة الْاَنْفَال 44 اس سے مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس سامان جنگ اور ایک مستقل فوج (Standing army) ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوراً جنگی کاروائی کرسکو۔ یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضا کار اور اسلحہ اور سامان رسد جمع کرنے کی کوشش کی جائے اور اس اثنا میں کہ یہ تیاری مکمل ہو، دشمن اپنا کام کر جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں صلح کے احکام اور اس کے متعلقات کا بیان ہے ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، لفظ سلم بفتح السین اور سلم بکسرا لسین دونوں طرح صلح کے معنی میں آتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر کفار کسی وقت صلح کی طرف جھکیں تو آپ کو بھی جھک جانا چاہئے۔ یہاں صیغہ امر تخییر کے لئے استعمال فرمایا ہے مراد یہ ہے کہ جب کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ کو بھی اختیار ہے اگر مسلمانوں کی مصلحت صلح میں محسوس کریں تو صلح کرسکتے ہیں۔ اور اِنْ جَنَحُوْا کی قید سے معلوم ہوا کہ صلح اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کفار کی طرف سے صلح کی خواہش ظاہر ہو۔ کیونکہ بغیر ان کی خواہش کے اگر مسلمان خود ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔ سلم یسلم صلح اور مصالحت کے معنی میں آت ہے اور یہ مؤنث بھی استعمال ہوتا ہے۔ اجتماعی اصول عدل کا احترام : اوپر جنگ کا جو حکم دیا ہے وہ حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کی تصریح کے ساتھ ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ قریش کے ساتھ یہ جنگ اس وقت تک ختم ہونے والی نہیں ہے جب تک فتنہ کا اور سرزمین حرم سے ہر شائبہ شرک و کفر کا استیصال نہ ہوجائے۔ یہاں یہ واضح فرمایا کہ یہ حکم اس بات کے منافی نہیں ہے کہ کسی مرحلے میں قریش اگر صلح کے خواہاں ہوں تو ان سے صلح کرلی جائے۔ ان کی صلح کی پیشکش کو قبول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–62

61۔ 1 اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن بھی مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقینا اللہ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، اور وہ آپ کو کافی ہے۔ لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے جب مسلمان کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمان کا مفاد ہو لیکن جب اس کے برعکس ہوں، مسلمان قوت و وسائل میں ممتاز ہوں اور کافر کمزور تو اس صورت میں صلح کے بجائے کافروں کی قوت کو توڑنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–64

44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان آیات میں تیسرا حکم ان اقوام کے بارے میں ہے جو اسلامی کیمپ کے ساتھ دوستی اور امن کا عہد کرنا چاہتے ہیں اور امن و سلامتی کی طرف مائل ہیں اور ان کے ظاہری حالات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ لوگ فی الواقعہ امن چاہتے ہیں۔ اور اے نبی اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یہ ایک لطیف انداز تعبیر ہے۔ یعنی پرندے پر امن اور آشتی کی طرف مائل ہیں اور پرندہ اپنے پروں کو نرم کر رہا ہے اور حالت امن اور مصالحت اور موانست کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر مصالحت اور موادعت میں توکل علی اللہ کا حکم بھی دیا گیا ہے ، جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 مسلمانوں کی تیاری اور مجاہدانہ قربانیوں کو دیکھ کر بہت ممکن ہے کہ کفار مرعوب ہو کر صلح و آشتی کے خواستگار ہوں تو آپ کو ارشاد ہے کہ حسب صوابدید آپ بھی صلح کا ہاتھ بڑھا دیں۔ کیونکہ جہاد سے خونریزی نہیں، اعلائے کلمۃ اللہ اور دفع فتنہ مقصود ہے۔ اگر بدون خونریزی کے یہ مقصد حاصل ہو سکے تو خواہی نخواہی خون بہانے کی کیا حاجت ہے اگر یہ احتمال ہو کہ شاید کفار صلح کے پردہ میں ہم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو کچھ پروا نہ کیجئے اللہ پر بھروسہ رکھئے وہ ان کی نیتوں کو جانتا اور ان کے اندرونی مشوروں کو سنتا ہے اس کی حمایت کے سامنے ان کی بدنیتی نہ چل سکے گی آپ اپنی نیت صاف رکھئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا اگر مخالف فریق صلح پر آمادہ نظر آئے تو آپ ﷺ بھی امن کی خاطر مناسب شرائط پر ان سے صلح کرلیں۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یعنی آپ ﷺ ان کی منفی چالوں سے فکر مند نہ ہوں ‘ اللہ پر توکل رکھیں اور صلح کا جواب صلح سے ہی دیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

63 معاہدہ کے لئے تیار رہنا چاہئے خواہ دشمن سے غداری کا خطرہ ہو کیونکہ اسلام امن پسند مذہب ہے :۔ یعنی جو قوم بھی مسلمانوں سے صلح یا معاہدہ امن کے لیے پیش قدمی یا پیشکش کرے تو مسلمانوں کو یہ نہ سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے یہ لوگ اپنی کسی ذاتی مصلحت کے لیے یا کسی مناسب موقعہ کے انتظار کے لیے ایسا کر رہے ہیں اور جب انہیں موقعہ میسر آئے گا تو وہ مسلمانوں سے فریب اور غداری کر جائیں گے بلکہ دلیر ہو کر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی اس پیش کش کو قبول کرلینا چاہیے۔ رہا ان کی نیت کا فتور تو وہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے۔ ایسی صورت میں اللہ یقیناً ان لوگوں کی مدد کرے گا جو صلح اور امن کے لیے ہر وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

92 ۔ اس میں تعلیم اس کی آگئی کہ احکام خداوندی کے ماتحت ظاہری تدابیر اختیار کرتے رہئے اور مخالفوں کو جھکتے ہوئے دیکھئے تو آپ بھی صلح کے مجاز ہیں۔ لیکن اصل اعتماد اللہ ہی پر رکھیے۔ اس کا ہر حکم مصالح پر مبنی ہوتا ہے، وہی بندوں کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور وہی باطن کو بھی، (آیت) ” وان جنحوا “۔ مراد ظاہر ہے کہ کفار معاندین ہیں۔ (آیت) ” فاجنح لھا “۔ ضمیر مونث السلم کی جانب ہے، سلم مذکر بھی ہے اور مؤنث بھی السلم یذکر ویؤنث (ابوالبقاء) یذکر ویؤنث (لسان تاج) (آیت) ” فاجنح لھا “۔ یہ حکم نہیں ہے صرف اجازت ہے یعنی آپ اگر مصلحت صلح ہی میں دیکھیں تو کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کے اختیار تمییزی پر ہے۔ صحح ان الامر فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–62

وَان جنحواللسلم فاجنح لَھَا وتو کل علی اللہ انَّہ ھو السمیع العلیم یعنی اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں یقینا اللہ تعالیٰ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے کہ جب مسلمانوں کا پہلو کمزور ہو اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا مفاد ہو لیکن جب معاملہ اس کے بر عکس ہو تو اس صورت میں صلح کے بجائے دشمن کی قوت و شوکت کو توڑنا ہی ضروری ہے '' وَ قاتلو ھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ اللہ ''.(انفال) مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان جنحوا للسلم فاجنح لھا و توکل علی اللہ انہ ھو السمیع العلیم۔ اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کی طرف جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ وہ (تمہارے اقوال کو) سننے والا اور (تمہاری نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ سلم (صلح) کا مقابل حرب (جنگ) چونکہ عربی زبان میں مؤنث ہے ‘ اسلئے سلم کو بھی مؤنث استعمال کیا۔ مراد یہ ہے کہ اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں اور معاہدہ کرنا چاہیں تو تم بھی صلح کی طرف جھک جاؤ اور معاہدہ کرلو۔ حسن و قتادہ کا خیال ہے کہ آیت اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْسے اس آیت کا حکم منسوخ کردیا گیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا حکم اہل کتاب کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) یعنی اگر بنو قریظہ صلح کی طرف مائل ہوں اور صلح کرنا چاہیں تو آپ کو بھی صلح کرنے کی اجازت ہے اور ان لوگوں کی عہد شکنی اور وفائے عہد پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کی بدعہدی اور وفاء عہد کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا : بھر پور جنگی تیاری اور جہاد جاری رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دشمن صلح کی طرف مائل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح کی طرف مائل ہونے والوں سے صلح کرلینے کا حکم دیا، کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے، ہر حال میں غیر مسلموں کو تہ تیغ کرنا نہیں، نہ انھیں زبردستی مسلمان بنانا ہے۔ اس صلح کے نتیجے میں بہت سی دینی اور دنیوی برکات حاصل ہوں گی، مسلمانوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کفار اسلام سے واقف ہوں گے، اسلام کی اشاعت بڑھے گی، جس کا نتیجہ اسلام کا غلبہ ہوگا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو ”فتح مبین“ قرار دیا۔ بعض اوقات جزیے پر صلح ہوگی جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( آیت نمبر 61) اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وان جنحوا للسلم فاجنح لھا اس میں لھا فرمایا ہے کیونکہ السلم مونث ہے، اور جائز ہے کہ تانیث فعلتہ کے لیے ہو۔ اور جنوح کا معنی مائل ہونا ہے۔ وہ فرماتا ہے : اگر وہ مائل ہوں۔ یعنی وہ جن کے عہد توڑنے کا علم آپ کو ہوا۔ صلح کی طرف، تو پھر آپ بھی صلح کی طرف مائل ہوجائے۔ اور جنع الرجل الی الآخر کا معنی ہے آدمی دوسرے کی طرف مائل ہوا۔ اور اسی وجہ سے پسلیوں کو جو انح کہا گیا ہے، کیونکہ وہ انتڑویوں پر جھکی ہوئی ہیں۔ (1) اور جنعت الابل ( یہ تب کہا جاتا ہے) جب چال میں اونٹ کی گردن جھک جائے اور ذوا لرمہ نے کہا ہے : اذ مات فوق الرحل احییت روحہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان جنحوا للسلم “۔ میں بنی قریظہ کا ذکر ہے۔ 2:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “ (یہ آیت) بنوقریظہ کے بارے میں نازل ہوئی جس کو اس آیتیں (آیت) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ (سورۃ محمد آیت 35) نے مسنوخ کردیا۔ 3:۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن ریزی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان جنحوا للسلم “ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان جنحوا للسلم “ سے مراد ہے اطاعت۔ 5:۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “ سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ [ اور اگر ] جَنَحُوْا [ وہ لوگ مائل ہوں ] لِلسَّلْمِ [ صلح کے لیے ] فَاجْنَحْ [ تو آپ بھی مائل ہوں ] لَهَا [ اس کے لیے ] وَتَوَكَّلْ [ اور آپ بھروسہ رکھیں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دشمن صلح پر آمادہ ہوں تو صلح کی جاسکتی ہے اس سے پہلی آیات میں جہاد کے لیے سامان تیار کرنے کا حکم تھا اور نقض عہد کے سلسلہ میں بعض ہدایات دی تھیں۔ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ دشمن اگر صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی جھک جائیں۔ یہ امر وجوبی نہیں ہے موقع مصلحت سے متعلق ہے۔ اگر اس میں دار الاسلام اور اہل اسلام کی مصلحت ہو تو صلح ہوسکتی ہے۔ جنگ کرنا مقاصد میں سے نہیں ہے۔ اگر صلح سے کام چلتا ہو تو صلح کرلیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان سے جزیہ لینا قبول کرلیں۔ صلح کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ وہ لوگ اس کی بنیاد پر ملیں جلیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا ہوگا۔ اس سے اہل کفر مسلمانوں کے اخلاق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت اور صلح کے بعد مسلمانوں کو توکل کا حکم اور وعدۂ نصرت وحفاظت قال اللہ تعالیٰ ۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا۔۔۔ الی۔۔۔ ومن اتبعک من ال مومن ین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ارباب کفار کا بیان تھا یعنی اتنی قوت اور طاقت فراہم کرو کہ دشمن مرعوب ہوجائے اب آگے یہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت دشمن صلح کی طرف مائل اور تم سے صلح کی درخواست کرے تو حسب ضررت ومصلحت ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرنا جائز ہے مگر واجب نہیں اس لیے کہ اصل فریضہ کفار سے جہاد و قتال کرنا ہے البتہ حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت ہے حکم نہیں۔ شریعت نے کافروں سے اصل حکم جہاد کا دیا ہے اور بوقت ضرورت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–64

ربطِ آیات : گذشتہ درس میں فرضیت جہاد کے ضمن میں اہل ایمان کو حکم دیا جا چکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں حسب استطاعت قوت فراہم کریں۔ اس سے مراد نہ صرف انفرادی قوت ہے بلکہ زمانے کی مناسبت سے جدید ترین اسلحہ ، ذرائع نقل وحمل اور بہترین ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن اسلام بھی اپنے باطل پروگرام کی تکمیل کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ، لہٰذا ایمان والوں کا بھی فرض ہے ، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کہ بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں جنگ کے سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا سارے اہم اصول بیان کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 61 جنح الجَنَاح : جناح الطائر، يقال : جُنِحَ «4» الطائر، أي : کسر جناحه، قال تعالی: وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] ، وسمّي جانبا الشیء جَناحيه، فقیل : جناحا السفینة، وجناحا العسکر، وجناحا الوادي، وجناحا الإنسان لجانبيه، قال عزّ وجل : وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22] ، أي : جانبک وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] ، عبارة عن الید، لکون الجناح کالید، ولذلک قيل لجناحي الطائر يداه، وقوله عزّ وجل : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ [ الإسراء/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–62

1 ؎ ورنہ حقیقی تو معنی مراد ہی ہیں کہ فرشتے ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ 12 منہ 2 ؎ وآخرین من دونہم لا تعلمونھم مرا وایران و روم دویگر بلاد کے وہ کافر ہیں کہ جن کو مسلمان اس زمانہ میں اچھی طرح جانتے بھی نہ تھے جیسا کہ کئی صدیوں سے فرانس و روس و انگلینڈ وغیرہ نئی طاقتیں پیدا ہوگئی ہیں جو اسلام کے جھنڈے کو زمین پر گرا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ حرمت صلیب میں چاہا تھا 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–63

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْآاَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط لَوْاَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ ط اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ( الانفال : 61 تا 63) (اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کے لیے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ آپ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–62

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کی بھرپور دفاعی تیاری کے باوجود اگر دشمن صلح کے لیے آمادہ ہو تو مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔ اسلام کے مخالف ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اسلام جارحیت پسند اور مسلمان جنگ جو قوم ہے۔ حالانکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو کفار تبلیغ دین میں رکاوٹ اور کسی پر ظلم زیادتی نہیں کرتے ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ خواہ تم کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر دشمن تمہارے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہو۔ تو کسی گھمنڈ میں آنے کے بجائے صلح کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لو اور اللہ تعالیٰ پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 61: وَاِنْ جَنَحُوْا (اگر وہ صلح کی طرف جھکیں) مائل ہوں۔ جنح کا صلہ لام ہو یا الیٰ اسکا معنی مائل ہونا آتا ہے۔ لِلسَّلْمِ صلح کیلئے قراءت : ابوبکر نے سین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ سِلم یہ مؤنث ہے اس کی ضد بھی تانیث ہے اور وہ الحرب کا لفظ ہے۔ فَاجْنَحْ لَھَا (تو آپ بھی جھک جائیں) تو ان کی طرف مائل ہو۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور اللہ پر بھروسہ کریں) اور ان کے باطن میں مکر ہو کہ مائل ہو کر دھوکہ کریں گے تو پرواہ نہ کریں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہے اور ان کے مکر سے بچانے والا ہے۔ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے) وہ آپ کے اقوال کو سننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 61(وان جنحوا للسلم) یعنی صلح کی طرف مائل ہوں (فاجنح لھا) یعنی ان سے صلح کرلیں۔ قتادہ اور حسن رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ” اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ کی وجہ سے منسوخ ہوچکی ہے (و توکل علی اللہ ط انہ ھو السمیع العلیم)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–63

61۔ 63۔ اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو اسی واسطے حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کے موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس صلح کے پیغام کر مان لیا اور جو جو شرطیں انہوں نے پیش کیں انہیں قبول کرلیا مسند امام احمد میں حضرت علی ابن ابوطالب ؓ کی ایک حدیث ہے کہ جب اختلاف ہوتا دکھلائی دے تو اگر تجھ سے صلح ہو سکے تو کرلے صحیح بخاری و مسلم میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان سے حضرت علی ؓ کی روایت کی پوری تقویت ہوتی ہے کیونکہ یہ صلح آپ کا اختلاف رفع کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–63

آیت 61 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و ان جنحوا) ” اگر وہ مائل ہوں “ یعنی جنگ کرنے والے کفار (للسلم) ” صلح کی طرف “ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف (فاجنح لھا و توکل علی اللہ) ” تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں “ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو ، کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں، مثلا : 1 ۔ ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتداء کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ 2 ۔ اس سے تمہاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہوجائے تو تمہاری یہ جنگی استعداد تمہارے کام آئے گی۔ 3 ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–62

صلح کے معاہدے کا بیان قول باری ہے (وان جنحوالسلم فجنح لھا و توکل علی اللہ۔ اور اے نبی ﷺ ! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے جھک جائو اور اللہ پھر بھروسہ کرو) جنوح میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اگر کشتی ایک طرف کو جھک جائے تو کہا جاتا ہے ” جنحت السفینۃ “ اور سلم مسالمت کو کہتے ہیں جس کے معنی جنگ سے سلامتی چاہنے کے ہیں۔ آیت میں حضور ﷺ کو صلح و سلامتی کی طرف مائل ہونے اور اسے قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (فاجنح لھا) فرمایا اسئے کہ یہ لفظ صلح و سلامتی سے کنایہ ہے اس حکم کے باقی ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ سعید اور معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–61

125 دشمنانِ حق کے مقابلے کیلئے ہر ممکن قوت تیار کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان دشمنان حق کے مقابلے کے لیے جو بھی قوت تم سے ہو سکے تیار کرو { مِنْ قُوَّۃٍ } کا عموم پہلے زمانے کے تیر و تفنگ سے لے کر دور حاضر کے ٹینک، راکٹ اور بم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ اور حدیث شریف میں اس کی تفسیر میں جو فرمایا گیا ہے " اَلا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ " کہ " قوت تیر اندازی ہے " تو یہ اس دور کے لحاظ سے ایک اہم قوت کا بیان ہے، نہ کہ حصر و قصر کا ذکر وبیان۔ کیونکہ اس دور میں دست بدست لڑائی کے علاوہ تلوارں، نیزوں اور تیروں سے ہی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان سب میں سب سے زیادہ سلامتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–64

جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–64

آیات 59 تا 64 اسرار و معارف اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کیونکہ اسلام میں طاقت کے استعمال کا مقصد زمین میں خون ریزی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند اور کفر و شرک کے فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے، اگر یہ مقصد صلح کی صورت میں حاصل ہو تو ہو تو قبول کرلینا چاہیے چناچہ آنحضرت ﷺ نے قریش سے معاہدہ کر ہی لیا تھا لہذا یہ آیت آیتہ قتال سے منسوخ نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی اگر دشمن دل میں کھوٹ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اور ہو تمہارے نیتوں کو بھی خوب جانتا ہے اس میں نقض عہد پر سر زنش ہے۔ ( کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 60–61

(8:60) اعدوا۔ تم تیار کر رکھو۔ اعداد سے امر جمع مذکر حاضر۔ الاعداد بمعنی تیار کر نا۔ مہیا کرنا۔ یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعدوت ھذا لک کے معنی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو۔ رباط۔ باندھنا۔ سرحد پر چوکی دینا۔ باب مفاعلہ سے مصدر ہے ثلاثی مجرد میں ربط کا بھی مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں مضبوط اور مستحکم باندھنا۔ نیز اسم بھی آتا ہے۔ جس چیز کے ساتھ گھوڑے باندھے جائیں اس کو بھی رباط کہتے ہیں اور جس جگہ دشمن کے دفاع کے لئے گھوڑے باندھے جائیں مثلاً پڑاؤ۔ چھاؤنی اس کو بھی رباط کہتے ہیں۔ یہاں بطور مصدر ہی استعمال ہوا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

آیات : 60 تا 62 لغات القرآن۔ اعدوا۔ تیاری رکھو۔ تیاری کرو۔ استطعتم۔ جتنی تمہاری طاقت ہے۔ قوۃ۔ طاقت۔ ہیبت۔ رباط الخیل۔ پلے ہوئے گھوڑے۔ ترھبون۔ تم ہیبت طاری کرتے ہو۔ عدواللہ ۔ اللہ کے دشمن۔ اخرین۔ دوسرے۔ یوف۔ پورا کرد یا جائے گا۔ جنحوا۔ وہ جھکیں۔ مائل ہوں۔ السلم۔ صلح۔ اجنح۔ تو جھک جا۔ توکل۔ بھروسہ کر۔ یخدعوک۔ وہ آپ کو دھوکہ دیں گے۔ حسبک اللہ۔ اللہ آپ کا کافی ہے۔ ایدک۔ اس نے تجھے طاقت دی۔ تیری مدد کی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔ تشریح : غزوہ بدر کے پس منظر میں اہل ایمان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان تم دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہو۔ غزوہ بدر کی کامیابی پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائو جب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–63

صلح کا حکم اور غیبی مدد اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو۔ چناچہ حضور نے ایسا ہی کیا کہ حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کی موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس کو مان لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس صلح میں خدا پر بھروسہ رکھو اگر اس صلح سے ان کا کوئی اور مطلب ہے تو خدا ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ اس لئے اگر ان کا ارادہ اس صلح سے یہ ہے کہ تھوڑے روز تک جنگ موقوف کر کرکے قوت پکڑ کر جاویں اور بہت سامان مہیا کر کے پھر لڑائی پر آمادہ ہوں تو خدا نے تمہیں بدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–65

[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–62

مذہب امن : (ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے وہ از خود نہیں چاہتا ، کہ جنگ کی آگ بھڑکائی جائے البتہ جب مخالفین مجبور کردیں ، تو وہ بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ (آیت) ” و توکل علی اللہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ صلح کا میلان زیادہ رہے ، اور خدا پر بھروسہ کرکے ایک دفعہ مخالفین کو موقع دیا جائے کہ وہ بااعتماد ثابت ہوں اور جنگ رک جائے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 61–62

61 اور اگر کافر و منکرین دین حق صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح کے لئے مائل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی اگر کفار صلح کی خواہش کریں تو حسب صواب دید اگر آپ مصلحت سمجھیں تو آپ بھی صلح کے لئے جھک جائے اور خدا پر بھروسہ رکھئے کیونکہ بسا اوقات صلح کے نام پر دشمن دھوکہ دینا چاہتا ہے اس لئے آپ کا توکل خدا پر ہونا چاہئے ان کے خفیہ مشوروں کو سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اگر دل میں دغا رکھیں گے اللہ کو معلوم ہے اس کی سزا دے گا۔ 12 اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں گے تو یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–62

ف 2۔ حدیث میں تیراندازی کی مشق اور گھوڑوں کے رکھنے اور سواری سیکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے اب بندوق اور توپ قائم مقام تیر کے ہے اور عموم قوت میں یہ سب اور ورزش بھی داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنگ کے سلسلہ میں ہدایت نامہ الٰہی کی چوتھی ہدایت اہل اسلام کو : 81: فرمایا میدان جنگ کے اندر یا باہر جب بھی تمہارا دشمن صلح کی طرف جھکے تو تم کو بھی بغیر کسی حیل و حجت ان کی طرف جھکنا چاہئے اس لئے کہ لڑائی تو دشمن لڑ رہا تھا تمہارا کام تو دفاع ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بطور دفاع ہے پھر جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو تم کو دیر نہیں کرنا چاہئے حالات کتنے خوش کن کیوں نہ ہوں۔ اس آیت نے قطعی فیصلہ کردیا کہ اسلام کی دعوت اعلام امن ہے اگ اسلام جنگ لڑتا ہے تو وہ بھی محض قیام امن کے لئے ملک کی ہوس اسلام کے پیش نظر مطلق نہیں۔ غور کرو کہ یہ آیتت اس وقت نازل ہوئی جب جنگ بدر کے فیصلہ نے مسلمانوں کی فتح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The third verse (61) takes up injunctions of peace and aspects related to it. It was said: وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (And if they tilt towards peace, you tilt towards it). The word: سَلم (salm) with fatha (′)on sin (س), or: سِلم (silm with kasrah ( ِ ) on sin (س) are both used in the sense of peace. The meaning of the verse - as fairly evident from the translation - is that should the disbelievers incline towards peace on some occasion, you too should incline towards it. At this point, it should be borne in mind that the imperative form has been used here to carry the sense of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–61

44. Muslims should he equipped with military resources and should have a standing army in a state of preparedness, in order that it may be used when needed. Never should it happen that the Muslims are caught unawares and have to hurriedly look around right and left to build up their defences and collect arms and supplies in order to meet the challenge of the enemy. For then it might be too late and the enemy might have accomplished its purpose.

Read the full tafseer →