Explained with ayahs 59–60
کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے اور آیت میں ہے برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ فرماتا ہے کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے اور فرمان ہے کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
سورة الْاَنْفَال 44
اس سے مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس سامان جنگ اور ایک مستقل فوج (Standing army) ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوراً جنگی کاروائی کرسکو۔ یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضا کار اور اسلحہ اور سامان رسد جمع کرنے کی کوشش کی جائے اور اس اثنا میں کہ یہ تیاری مکمل ہو، دشمن اپنا کام کر جائے۔
Read the full tafseer →جہاد کے لئے اسلحہ اور سامان حرب کی تیاری فرض ہے
دوسری آیت میں اسلام سے دفاع اور کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کے احکام ہیں، ارشاد فرمایا (آیت) وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ۔ یعنی سامان جنگ کی تیاری کرو کفار کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے۔ اس میں سامان جنگ کی تیاری کے ساتھ مّا اسْـتَـطَعْتُمْ کی قید لگا کر یہ اشارہ فرمادیا کہ تمہاری کامیابی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمہارے مقابل کے پاس جیسا اور جتنا سامان ہے تم بھی اتنا ہی حاصل کرلو۔ بلکہ اتنا کافی ہے کہ اپنی مقدور بھر جو سامان ہوسکے وہ جمع کرلو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد تمہارے ساتھ ہوگی۔
اس کے بعد اس سامان کی کچھ تفصیل اس طرح فرمائی…
Read the full tafseer →وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ۔ لفظ قوۃ قرآن میں جیسا کہ 69: توبہ، ہود :65۔ کہف :15، فصلت اور اور دوسری آیات سے واضح ہے، عددی قوت اور Man Power کے لیے بھی آتا ہے۔
رباط الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو خاص جنگ کے لیے تربیت دیے جائیں اور اسی غرض کے لیے محفوظ اور تیار رکھے جائیں۔ جنگ میں ہر قسم کے گھوڑے کام نہیں آتے۔ اس زمانے کی جنگ میں گھوڑوں ہی کی اصل اہمیت بھی تھی اور عرب کی مخصوص آب و ہوا کے لحاظ سے ان کے ہاں گھوڑوں کی تربیت کا خاص اہتمام بھی تھا۔ اسی چیز کی ہدایت یہاں مسلمانوں کو کی گئی ہے کہ جہاد کے لیے قابل جہاد لوگوں کو بھی منظم کرو اور…
Read the full tafseer →60۔ 1 فُوَّۃِ کی تفسیر نبی ﷺ سے ثابت ہے یعنی تیر اندازی کیونکہ اس دور میں یہ بہت بڑا جنگی ہتھیار تھا اور نہایت اہم فن تھا جس طرح گھوڑے جنگ کے لئے ناگزیر ضرورت تھے، جیسا کہ آیت سے واضح ہے۔ لیکن اب تیر اندازی اور گھوڑوں کی جنگی اہمیت اور افادیت و ضرورت باقی نہیں رہی اس لئے (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ) 8۔ الانفال :60) کے تحت آجکل کے جنگی ہتھیار (مثلًا میزائل، ٹینک، بم اور جنگی جہاز اور بحری جنگ کے لئے آبدوزیں وغیرہ) کی تیاری ضروری ہے۔
Read the full tafseer →42: یہ پوری امت مسلمہ کیلئے ایک ابدی حکم ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی دفاعی طاقت جمع کرنے کا اہتمام کرے، قرآن کریم نے طاقت کا عام لفظ استعمال کرکے بتادیا ہے کہ جنگ کی تیاری کسی ایک ہھتیار پر موقوف نہیں ؛ بلکہ جس وقت جس قسم کی دفاعی قوت کار آمد ہو اس وقت اسی طاقت کا حصول مسلمانوں کا فریضہ ہے، لہذا اس میں تمام جدید ترین ہھتیار اور آلات بھی داخل ہیں اور وہ تمام اسباب و وسائل بھی جو مسلمانوں کی اجتماعی معاشی اور دفاعی ترقی کے لئے ضروری ہوں، افسوس ہے کہ اس فریضے سے غافل ہو کر آج مسلمان دوسری قوموں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں اور ان سے مرعوب ہیں، اللہ تعالیٰ ہم کو اس…
Read the full tafseer →لیکن اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دائرہ قوت کے اندر جو بھی ہوسکے وہ جائز ذرائع اختیار کرے اور تیاری کرے ، اگرچہ ان کو یہ اطمینان ہے کہ انہیں نصرت خداوندی حاصل ہے ، تاہم پھر بھی ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور وہ وسائل فراہم کریں جن کو انسانی فطرت جانتی ہے اور جو انسانوں کے تجربے کے اندر ہیں ، اسلام ان لوگوں کو عالم بالا کی نصرت کی طرف دیکھنے کا مشورہ اس وقت دیتا ہے جب وہ ظاہری اعتبار سے اپنی مکمل تیاری کرلیں اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کے لیے تیار ہوں تاکہ وہ اعلی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہوں جو اسلام کے پیش نظر ہیں۔
اپنی قوت اور مقدرت کے مطابق تیاری کرنا فریضہ جہاد کے…
Read the full tafseer →4 یعنی خدا پر بھروسہ کرنے کے معنی یہ نہیں کہ اسباب ضروریہ مشروعہ کو ترک کردیا جائے۔ نہیں، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جہاں تک ضرورت ہو سامان جہاد فراہم کریں۔ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں گھوڑے کی سواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی وغیرہ کی مشق کرنا، سامان جہاد تھا۔ آج بندوق، توپ، ہوائی جہاز، آبدوز کشتیاں، آہن پوش کروز وغیرہ کا تیار کرنا اور استعمال میں لانا اور فنون حربیہ کا سیکھنا، بلکہ ورزش وغیرہ کرنا سب سامان جہاد ہے۔ اسی طرح آئندہ جو اسلحہ و آلات حرب و ضرب تیار ہوں، انشاء اللہ وہ سب آیت کے منشاء میں داخل ہیں، باقی گھوڑے کی نسبت تو آپ خود ہی فرما چکے۔ " اَلْخَیْل مَعْقُودُ فِی نَوَاصِیْہَا الْخَیرِ…
Read the full tafseer →آیت 60 وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ یہاں مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ اب جبکہ تمہاری تحریک تصادم کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے تو تم لوگ اپنے وسائل کے مطابق ‘ مقدور بھر فن حرب کی صلاحیت و اہلیت ‘ اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ جہاد کے لیے تیار رکھو۔ اگرچہ ایک مؤمن کو اللہ کی نصرت پر توکل کرنا چاہیے ‘ مگر توکل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور امید رکھے کہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہی ہوجائے گا۔ بلکہ توکل یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے تمام ممکنہ مادی اور تکنیکی وسائل مہیا رکھے جائیں اور پھر اللہ کی نصرت پر توکل…
Read the full tafseer →62 سامان حرب و فنون سپہ گری کی ترغیب :۔ یعنی مسلمانوں کو عام حالات کے علاوہ کسی غدار معاہد کے ہنگامی حملہ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو اسلحہ جنگ مہیا رکھنا چاہیے۔ اس کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ تمہارے کھلے اور چھپے دشمن سب تم سے مرعوب رہیں گے اور اس غرض پر جتنا بھی تمہارا خرچ ہوگا سب فی سبیل اللہ شمار ہوگا، اور اس کا تمہیں اللہ تعالیٰ سے پورا پورا اجر مل جائے گا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسلحہ جنگ میں تیر نیزے تلوار اور جنگی گھوڑے ہوتے تھے۔ اور دفاعی سامان میں ڈھال، زرہ اور خود وغیرہ تھے اور جنگی تربیت کے لحاظ سے پہلا نمبر تیر اندازی کا تھا۔…
Read the full tafseer →89 ۔ (اور اس دشمنی کی علت ان لوگوں کا کفر ہے) آیت میں بڑی گہری حقیقت کی تعلیم ہے، وہ یہ کہ اہل کفر تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے تم ان سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ تیار رہو۔ ان کی طرف سے غافل کبھی نہ ہو اور اپنے پاس وہ سامان برابر تیار رکھو جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں، (آیت) ” من قوۃ “۔ قوۃ کا لفظ عام ہے، عددی قوت، سامان جنگ کی قوت، آلات حرب کی قوت، سب کچھ اس کے اندر آگیا، یہاں تک کہ بڑے ہوئے ناخن بھی، وقدروی فی القوۃ انھا الرمی (جصاص) عموم اللفظ شامل لجمیع مایستعان بہ علی العدو من سائر انواع السلاح والات الحرب (جصاص) عن الحکم بن عمیر قال امر رسول…
Read the full tafseer →وَآخرین من دونھم، لا تعلمونھم اللہ یعلمھم، اس آیت میں اشارہ ہے ان کافروں کے علاوہ جن سے تمہارا سابقہ پڑتا رہتا ہے ان کے علاوہ اور بھی قومیں ہیں جو تمہارے علم میں نہیں، مگر اللہ کے علم میں ہیں کہ کبھی ان سے تمہاری مڈبھیڑ ہوگی اس میں مجوسی اور روم کی مسیحی قومیں تو شامل ہیں ہی ان کے علاوہ قیامت تک آنیوالی تمام صیہونی قومیں بھی شامل ہیں۔
حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ کی رائے گرامی : حضرت نے فرمایا ان آیتوں میں جو تدابیر حرب و سیاست بتائی گئی ہیں ان سے صاف دلالت اس امر پر رہی ہے کہ یہ سیاسی تدبیریں بڑے سے بڑے کمالات باطنی کے بھی منافی نہیں، جیسا کہ غالی و ناقص صوفیہ نے خیال کیا ہے۔ (ماجدی)
اتفاق فی…
Read the full tafseer →واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃٍ :۔ مسلمانو ! تم سے جس قدر ہو سکے ان کافروں کے مقابلہ کیلئے طاقت فراہم کرلو۔
یعنی مسلمانو ! معاہدہ توڑنے والے یا عام کافروں کے مقابلہ کیلئے جو تیاری ممکن ہو ‘ کرلو۔ اِعْدَاد کا معنی ہے ضرورت کیلئے تیاری کرنا۔ قوت سے مراد ہے سامان ‘ اسلحہ ‘ ٹریننگ ‘ ریاضت جنگی ‘ گھوڑے ‘ کُشتی ‘ تیر اندزی کی مشق ‘ گولی چلانا وغیرہ۔ جہاد کیلئے مال فراہم کرنا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ بعض کے نزدیک قوت سے مراد ہیں قلعے۔
حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے : وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍخبردار ہوجاؤ ‘ قوت تیراندازی ہے۔…
Read the full tafseer →(60) تم قبیلہ بنی قریظہ وغیرہ کے لیے ہتھیار اور پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھو اور ان گھوڑوں سے ان کو ڈراتے رہو یہ دین اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور لڑائی میں تمہارے دشمن ہیں، اس قبیلہ بنی قریظہ کے علاوہ تمام عرب پر بھی یا یہ کہ تمام کفار اور جنوں پر اپنا رعب جمائے رکھو جن کی تعداد تمہیں معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد جاننے والا ہے۔
اور اطاعت خداوندی میں جو کچھ بھی مال تم ہتھیاروں اور گھوڑوں پر خرچ کرو گے اس کا تمہیں کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا، تمہارے ثواب میں کسی قسم کا کوئی کمی نہیں ہوگی ،
Read the full tafseer →وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ : ”قُوَّةٍ“ کا لفظ نکرہ لایا گیا ہے، ”مِّنْ“ کے ساتھ عموم اور زیادہ ہوگیا ہے، یعنی ہر قسم کی قوت، خواہ جو بھی ہو، تاکہ اس میں وہ تمام چیزیں آجائیں جو جنگ میں قوت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے یہ آیت تلاوت کی : (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ) اور فرمایا : (أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) تین دفعہ فرمایا کہ یاد رکھو اصل قوت ”رَمْیٌ“ ہے۔ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ۔۔ : 1917 ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
( آیت نمبر 59)
قولہ تعالیٰ : والا یحسبن الذین کفرو اسبقوا یعنی وہ واقعہ بدر سے بچ گئے اور حیات کی طرف نکل گئے۔ پھر نیا کلام فرمایا اور ارشاد فرمایا : انھم لایعجزون بیشک وہ دنیا میں عاجز نہیں کرسکتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح کامرائی عطا فرما دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا : مراد آخرت میں عاجز نہیں کر سکنا ہے۔ اور یہ حسن کا قول ہے۔ ابن عامر، حفص اور حمزہ نے یحسبن یا کے ساتھ اور باقیوں نے تا کے ساتھ قراءت کی ہے، اس بنا پر فعل میں ضمیر فاعل ہو۔ اور الذین کفرو مفعول اول ہو۔ اور سبقوا مفعول ثانی ہو۔ اور رہی یا کی قرات تو اس کے بارے نحویوں کی ایک جماعت جن میں سے ابوحاتم بھی ہیں، کا خیال ہے…
Read the full tafseer →1۔ احمد مسلم وابوداود ابن ماجہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ وابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم قراب نے فی کتاب فضل الدارمی اور بیہقی نے شعب میں عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ (آیت) ” واعدوالہم ما استطعتم من قوۃ “ یعنی خبردار قوت تیر اندازی میں ہے خبردار قوت تیر اندازوں میں ہے اس کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔
تیر اندازی سیکھنے کا حکم :
2:۔ ابن منذر نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” واعدوالہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل “ یعنی خبردار کہ…
Read the full tafseer →وَاَعِدُّوْا [ اور تم لوگ تیار کرو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] مَّا [ اس کو جو ] اسْـتَـطَعْتُمْ [ تمہارے بس میں ہے ] مِّنْ قُوَّةٍ [ قوت میں سے ] وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ [ اور گھوڑوں کے تیار کرنے سے ] تُرْهِبُوْنَ [ تم لوگ دھاک بٹھاؤگے ] بِهٖ [ اس سے ] عَدُوَّ اللّٰهِ [ اللہ کے دشمنوں پر ] وَعَدُوَّكُمْ [ اور اپنے دشمنوں پر ] وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ [ ان کے علاوہ میں سے ] لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ [ تم لوگ نہیں جانتے ان کو ] اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ ۭ [ اللہ جانتا ہے ان کو ] وَمَا [ اور جو ] تُنْفِقُوْا [ تم لوگ خرچ کروگے ] مِنْ شَيْءٍ [ کس چیز میں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ…
Read the full tafseer →دشمنوں سے مقابلہ کے لیے سامان حرب تیار رکھو اور انہیں ڈراتے رہو
ان آیات میں اول تو کافروں کو تنبیہ فرمائی کہ یہ کفار جو جنگ کے موقعہ پر بچ کر نکل گئے مقتول بھی نہ ہوئے اور قید میں بھی نہ آئے یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے اور بچ نکلے تو کامیاب ہوگئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقتی طور پر بچ جانا مستقل بچاؤ نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر نہیں ہیں وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے، وہ چاہے گا تو دنیا میں بھی انہیں عقوبت میں مبتلا فرمائے گا اور آخرت میں تو بہرحال ہر کافر کے لیے سخت سزا ہے جس کا بیان قرآن مجید میں بار بار کیا گیا ہے۔
اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم سے جو…
Read the full tafseer →سامان جنگ کی بھر پور تیاری کا حکم
قال اللہ تعالیٰ ۔ واعدو لھم ما استطعتم من قوۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم لا تظلمون
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کے قتل و قتال اور ان سے جنگ وجدال اور اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی عداوتوں کا اور خیانتوں کا اور بدعہدیوں کا ذکر فرمایا اب ان ا آیات میں دشمنان اسلام سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے ساز و سامان کی تیاری اور سامان حرب کے مہیا کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ دشمنان اسلام کے مقابلہ کے لیے جس قدرمادی قوت اور طاقت تم مہیا کرسکو اس میں دقیقہ اتھا نہ رکھو اور اتنی طاقت کے فراہم کرو کہ تمہارا رعب دشمن پر قائم ہوجائے اور وہ تمہاری طاقت سے اتنا مرعوب اور خوفزدہ ہوجائے کہ وہ خود…
Read the full tafseer →60: تیسرا قانون جنگ برائے مؤمنین یہاں مسلمانوں کو جنگی سامان کی تیاری کا حکم دیا گیا۔ یعنی مسلمان ہر زمانے کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے سامان جنگ تیار رکھیں جب تیر و تفنگ اور نیز و تلوار کا زمانہ تھا اس وقت ان ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کی ٹریننگ ضروری تھی۔ اب جبکہ مشین گن، توپ، ٹینک اور بمبار طیاروں کا زمانہ ہے اس وقت ان ہتھیاروں کا استحاصل اور ان کے استعمال کی تربیت لازمی ہے۔ تاکہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب رہیں یعنی سامان جنگ کی اس لیے ضرورت ہے کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے کافروں پر تمہاری طاقت کا رعب بیٹھ جائے باقی فتح و شکست کا مدار سامان کی کثرت و قلت پر نہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
کفار کی خام خیالی :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوا تھا کہ سازشی یہودیوں کو ایسی عبرتناک سزا دو کہ ان کے پیچھے آنے والوں کو بھی اس سے عبرت ہو۔ مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خدشہ پید ہو سکتا تھا کہ ہماری اس سادہ لوحی سے کافر لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ہمیں دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ دیانتداری اور اصول کی پابندی مسلمانوں کا شعار ہے اور اسی پر مدار فلاح ہے اور اگر کافرلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے اللہ نے خبردار کیا (آیت) ”…
Read the full tafseer →وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ 0 ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ 0 ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ 60
عد ( اعداد)
والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
1 ؎ ورنہ حقیقی تو معنی مراد ہی ہیں کہ فرشتے ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ 12 منہ
2 ؎ وآخرین من دونہم لا تعلمونھم مرا وایران و روم دویگر بلاد کے وہ کافر ہیں کہ جن کو مسلمان اس زمانہ میں اچھی طرح جانتے بھی نہ تھے جیسا کہ کئی صدیوں سے فرانس و روس و انگلینڈ وغیرہ نئی طاقتیں پیدا ہوگئی ہیں جو اسلام کے جھنڈے کو زمین پر گرا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ حرمت صلیب میں چاہا تھا 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَ اَعِدُّوْ لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّااللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ ج لاَ تَعْلَمُوْنَھُمْج اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْط وَمَاتُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (الانفال : 60)
(اور تیار کرو ان سے لڑائی کے لیے جتنی طاقت رکھتے ہو قوت سے اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے، ہیبت زدہ کردو اس سے اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے اللہ انھیں جانتا ہے اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا کردیا جائے گا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جب تک مسلمان اپنا دفاع مضبوط رکھیں گے کافر مسلمانوں کو کبھی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتے۔
مسلمان اگر کفار کی سازشوں اور جارحیت سے بچنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنا دفاع ہر وقت مضبوط رکھنا ہوگا قرآن مجید نے مضبوط دفاع کا اصول اس وقت پیش کیا جب دنیا کے بڑے بڑے جنگجو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اگر مسلمان دشمن کی جارحیت سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بہترین اصول یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھوڑے ہر وقت تیار رکھیں۔ جس سے اللہ اور مسلمانوں کے دشمن اور وہ دشمن بھی جو خفیہ سازشیں کرتے ہیں۔ خوف زدہ ہوں گے اور مسلمانوں پر جارحیت کرنے کا تصور بھی دل میں نہیں لائیں گے۔
مضبوط دفاع کے لیے…
Read the full tafseer →کفار کے مقابلہ کی پوری تیاری کرو :
آیت 60: وَاَعِدُّوْا (اور تم سامان درست رکھو) اے ایمان والو ! لَھُمْ (ان کافروں کیلئے) وعدہ خلافوں کیلئے یا تمام کفار کیلئے مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ (جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے) ہر وہ چیز جس سے لڑائی میں مدد مل سکتی ہے۔ حدیث میں ہے الا ان القوۃ الرمی آپ نے منبر پر یہ بات فرمائی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد قلعے ہیں۔ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ (اور پلے ہوئے گھوڑوں سے) یہ ان گھوڑوں کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں باندھے جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ رباط جمع ہے ربیط کی جیسے فصیل و فصال۔ گھوڑوں کو قوت کیلئے اسی طرح خاص کیا۔ جیسے جبرائیل اور میکائیل کو ملائکہ میں…
Read the full tafseer →60(واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ) الاعد اد ضرورت کے وقت کے لئے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ آلات جو تمہارے لئے قوت کا سبب بنیں جیسے گھوڑے ہتھیار وغیرہ۔ عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے منبر پر فرمایا اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے، سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے، سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے اور اسی سند کے ساتھ عقبہ میں عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عنقریب تم پر روم فتح کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ تمہیں کافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60۔ اللہ پاک نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی فرمائی کہ جنگ بدر سے جو کفار بچ کر بھاگ نکلے ہیں یہ خیال نہ کیا جاوے کہ ان پر پھر کوئی موقعہ ہاتھ نہ آویگا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ اب بچ گئے ہیں مگر اللہ کو وہ عاجز نہیں کرسکتے وہ ہر وقت اللہ کے قبضہ میں ہیں تم ان کے واسطے سامان جنگ تیار رکھو اور جہاں تک ممکن ہو تیر اندازی کے ہنر کی مشقیں کرو آیت میں جو سن قوۃ کا لفظ ہے اس کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ قوۃ سے مطلب تیراندازی ہے عقبہ ؓ بن عامر کی حدیث جو مسلم وابن ماجہ و ابوداؤد میں ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے…
Read the full tafseer →آیت 60
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا : (واعدوا) ” اور تیار کرو تم “ یعنی اپنے کفار دشمنوں کے لئے تیار کرو جو تمہیں ہلاک کرنے اور تمہارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں۔ (ما استطعتم من قوۃ) ” اپنی طاقت بھر قوت ‘ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مکتلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمہاری مدد کریّکفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں، مثلاً توپیں، مشین گنیں، بندوقیں، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں، دفاعی قلعہ بندیاں، مورچی اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا، جس کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →جہاد کے لئے قوت کی فراہمی
قول باری ہے (واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃ و من رباط الخیل۔ اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو قتال کے وقت کی آمد سے پہلے ہتھیار اور گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ دشمن کے دل میں ان کا خوف طاری ہوجائے۔ نیز بندھے رہنے والے گھوڑے پہلے سے تیار رکھجنے کا حکم دیا گیا تاکہ مشرکین سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے پوری تیاری ہوجائے۔ ایک روایت کے مطابق قوت سے مراد تیراندازی ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں سعید بن منصور نے، انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
125 دشمنانِ حق کے مقابلے کیلئے ہر ممکن قوت تیار کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان دشمنان حق کے مقابلے کے لیے جو بھی قوت تم سے ہو سکے تیار کرو { مِنْ قُوَّۃٍ } کا عموم پہلے زمانے کے تیر و تفنگ سے لے کر دور حاضر کے ٹینک، راکٹ اور بم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ اور حدیث شریف میں اس کی تفسیر میں جو فرمایا گیا ہے " اَلا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ " کہ " قوت تیر اندازی ہے " تو یہ اس دور کے لحاظ سے ایک اہم قوت کا بیان ہے، نہ کہ حصر و قصر کا ذکر وبیان۔ کیونکہ اس دور میں دست بدست لڑائی کے علاوہ تلوارں، نیزوں اور تیروں سے ہی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان سب میں سب سے زیادہ سلامتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ
تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیات 59 تا 64
اسرار و معارف
اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…
Read the full tafseer →ف 3 یعن تمہیں دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور ضرورت اور زمانہ کے حالات کے مطابق جس قدر اسلحہ حرب اور مسلح افواج تم بہم پہنچا سکتے وہ بہم پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (کذافی الکبیر و ابن کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ ترھبو ن بہ فرمایا تاکہ سمجھ لیں کہ فتح کا نحصار صرف اسباب پر نہیں اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی نصرت وامداد پر ہے ( موضح)4 جن کے دلوں کا حال تم نہیں جانتے لیکن وہ ہر آن موقع کی تلاش میں ہیں کہ کبھی تمہیں کمزور پائیں تو حملہ کردیں یا تمہارے کھلم دشمنوں سے مل جائی ایسے لوگ نبی ﷺ کے زمانے میں یہودی اور منا فق تھے۔5 یعنی تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور معمولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(8:60) اعدوا۔ تم تیار کر رکھو۔ اعداد سے امر جمع مذکر حاضر۔ الاعداد بمعنی تیار کر نا۔ مہیا کرنا۔ یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعدوت ھذا لک کے معنی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو۔
رباط۔ باندھنا۔ سرحد پر چوکی دینا۔ باب مفاعلہ سے مصدر ہے ثلاثی مجرد میں ربط کا بھی مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں مضبوط اور مستحکم باندھنا۔ نیز اسم بھی آتا ہے۔ جس چیز کے ساتھ گھوڑے باندھے جائیں اس کو بھی رباط کہتے ہیں اور جس جگہ دشمن کے دفاع کے لئے گھوڑے باندھے جائیں مثلاً پڑاؤ۔ چھاؤنی اس کو بھی رباط کہتے ہیں۔ یہاں بطور مصدر ہی استعمال ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
آیات : 60 تا 62
لغات القرآن۔
اعدوا۔ تیاری رکھو۔ تیاری کرو۔ استطعتم۔ جتنی تمہاری طاقت ہے۔ قوۃ۔ طاقت۔ ہیبت۔ رباط الخیل۔ پلے ہوئے گھوڑے۔ ترھبون۔ تم ہیبت طاری کرتے ہو۔ عدواللہ ۔ اللہ کے دشمن۔ اخرین۔ دوسرے۔ یوف۔ پورا کرد یا جائے گا۔ جنحوا۔ وہ جھکیں۔ مائل ہوں۔ السلم۔ صلح۔ اجنح۔ تو جھک جا۔ توکل۔ بھروسہ کر۔ یخدعوک۔ وہ آپ کو دھوکہ دیں گے۔ حسبک اللہ۔ اللہ آپ کا کافی ہے۔ ایدک۔ اس نے تجھے طاقت دی۔ تیری مدد کی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔
تشریح : غزوہ بدر کے پس منظر میں اہل ایمان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان تم دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہو۔ غزوہ بدر کی کامیابی پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائو جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سامان جنگ کا حکم
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی یہ تسلی فرمائی کہ جنگ بدر سے جو کفار بچکر بھاگ نکلے، یہ خیال نہ کیا جاوے کہ ان پر پھر کوئی موقع ہاتھ نہ آوے گا۔ کیونکہ یہ لوگ اگرچہ اب بچ گئے ہیں مگر اللہ کو وہ عاجز نہیں کرسکتے۔ وہ ہر وقت اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ تم ان کے واسطے سامان جنگ تیار رکھو اور جہاں تک ممکن ہوسکے تیر اندازی کے ہنر کی مشاقی کرو اور باقی سامان جنگ کی تیاری کے بعد گھوڑے بھی پالو۔ اس لئے حکم دیا کہ تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا ہو۔ پھر یہ فرمایا کہ ان کفار کے سوا اور لوگ بھی ہیں جن کو تم نہیں جانتے ہو اللہ کو ان کا علم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا کی راہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 1) قوت کا مفہوم بہت وسیع ہے ، غرض یہ ہے کہ مسلمان تو دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت صاحب قوت رہنا چاہئے ،
توپ وتفنگ کے مقابلہ میں توپ وتفنگ ، اور علم وسنان کے مقابلہ میں علم وسنان ، جس طرح کے حالات ہوں جو ذرائع ہوں ، قوت و غلبہ کے حصول کے لئے وہ سب مسلمان کو معلوم ہونا چاہئیں ۔
ہر زمانے اور ہر دور میں مسلمان کے پاس قوت کا ایک خزانہ ہو ، جس سے وہ دشمنوں کو ڈرا دھمکا سکے ،
مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں خوفناک و خطرناک رہے ،
اگر حصول علم قوت کے مفہوم میں داخل ہو تو سب سے زیادہ عالم ہو ، اگر ثروت و دولت کے اسلحہ کی حاجت ہو ، تو سرمایہ دار بنے ، اگر سائنس اور علوم جدیدہ قوت کے…
Read the full tafseer →60 اور اے مسلمانو ! تم سے جس قدر ہوسکے اور تم میں جس قدر استطاعت ہو کافروں کے مقابلے کیلئے ہر قسم کی جنگی قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں کے باندھنے سے تیاری کرتے رہو تاکہ اس تیاری اور آمادگی کی وجہ سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک اور ہیبت بٹھائے رکھو اور ان موجودہ کافروں کے علاوہ جن کا تم سے رات دن سابقہ پڑتا رہتا ہے اور دوسرے کافروں پر بھی ہیبت او دھاک پڑے جن کو تم نہیں جانتے پر اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہاری کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی اور تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ حدیث میں تیراندازی کی مشق اور گھوڑوں کے رکھنے اور سواری سیکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے اب بندوق اور توپ قائم مقام تیر کے ہے اور عموم قوت میں یہ سب اور ورزش بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →بسلسلہ جنگ الٰہی ہدایت نامہ کی تیسری ہدایت جو مسلمانوں کو دی گئی :
79: الٰہی ہدایت نامہ کی تیسری ہدایت جو مسلمانوں کو اس جنگ کے موقع میں دی گئی وہ یہ تھی کہ اب جب کہ جہاد فرض ہوچکا اور ضرورت پڑنے پر یہ تا قیامت جاری رہے گا کیونکہ محمدرسول اللہ ﷺ کے بعد نہ کوئی نیا رسول و نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی نیام پیام و پیغام۔ اس لئے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلی جائے کہ ہر دور کے مسلمانوں کو ہر طح کے سامان جنگ سے لیس (Fully Armed) ہونے کی تاکید کی جاتی ہے اور تم میں سے کوئی کوتاہ اندیش توکل کو بےعملی کا مترادف نہ سمجھ لے۔ اسباب بھی اسی نے بنائے ہیں۔ ان میں حیرت زا تاثیرات اسی کی حکمت نے رکھ دی ہیں اور…
Read the full tafseer →Production and Supply of Military Hardware for Jihad is a Religious Obligation
Given in the second verse (60), there are injunctions relating to preparations for the defence of Islam against disbelievers. It was said: وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم (And make ready against them whatever you can - 60). Here, by placing the restriction of: مَّا اسْتَطَعْتُم (whatever you can) with the need to produce and supply war materials, the hint given is that it is not necessary for your success that you go about acquiring the same quantity and quality of military equipment as is available to your…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
44. Muslims should he equipped with military resources and should have a standing army in a state of preparedness, in order that it may be used when needed. Never should it happen that the Muslims are caught unawares and have to hurriedly look around right and left to build up their defences and collect arms and supplies in order to meet the challenge of the enemy. For then it might be too late and the enemy might have accomplished its purpose.
Read the full tafseer →