Explained with ayahs 59–60
کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے اور آیت میں ہے برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ فرماتا ہے کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے اور فرمان ہے کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
سورة الْاَنْفَال 43
اس آیت کے رو سے ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یا گروہ یا ملک سے ہمارا معاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے، یا یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ موقع پاتے ہی ہمارے ساتھ غداری کر بیٹھے گا، تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ نہیں رہا اور یکایک اس کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا شروع کردیں جو معاہدہ نہ ہونے کہ صورت ہی میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کے برعکس ہمیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو ہم کوئی مخالفانہ کاروائی کرنے سے پہلے فریق ثانی کو صاف صاف بتادیں کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے یقینًا وہ لوگ (اللہ تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے کہ اس کے ہاتھ نہ آئیں یا تو دنیا ہی میں مبتلائے عقوبت کردے گا ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے) اور ان کافروں سے (مقابلہ کرنے) کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو کہ اس (سامان) کے ذریعہ سے تم (اپنا) رعب جمائے رکھو ان پر جو کہ (کفر کی وجہ سے) اللہ کے دشمن ہیں اور (تمہاری فکر میں رہنے کی وجہ سے) تمہارے دشمن ہیں (جن سے شب و روز تم کو سابقہ پڑتا رہتا ہے) اور ان کے علاوہ دوسرے (کافروں) پر بھی (رعب جمائے رکھو) جن کو تم (بالیقین) نہیں جانتے (بلکہ) ان کو اللہ…
Read the full tafseer →آیات 59۔ 66 کا مضمون : آگے مسلمانوں کو جہاد کے لیے برابر تیار رہنے اور اس کے لیے اسلحہ اور قوت فراہم کرنے پر ابھارا ہے۔ اس لیے کہ بدر میں قریش کو جو شکست ہوئی اس نے قریش میں بھی آگ لگا دی اور یہود بھی جو اب تک یہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ وہ قریش کے ہاتھوں مسلمانوں کو ختم کرا دیں گے۔ اپنی اس توقع میں ناکام ہو کر نئے منصوبے بنانے میں پوری طرح سرگرم ہوگئے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو بھی ہدایت ہوئی کہ اب پوری سرگرمی سے جہاد کے لیے تیاری کرو۔
اس ضمن میں پیغمبر ﷺ کو یہ اطمینان بھی دلایا گیا کہ اگر یہ معاندین کوئی مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کا رجحان ظاہر کریں تو تم بھی مصالحت سے گریز نہ کرنا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 1 خیانت سے مراد ہے معاہد قوم سے نقص عہد کا خطرہ، اور (برابری کی حالت میں) کا مطلب ہے کہ انہیں با قاعدہ مطلع کیا جائے کہ آئندہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں۔ تاکہ دونوں فریق اپنے اپنے طور پر اپنی حفاظت کے ذمہ دار ہوں، کوئی ایک فریق لا علمی اور مغالطے میں نہ مارا جائے۔
58۔ 2 یعنی یہ نقص عہد اگر مسلمانوں کی طرف سے بھی ہو تو یہ خیانت ہے جسے اللہ پسند نہیں فرماتا۔ حضرت معاویہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ تھا جب معاہدے کی مدت ختم ہونے کے قریب آئی تو حضرت معاویہ نے روم کی سرزمین کے قریب اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کردیں۔ مقصد یہ تھا کہ معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی رومیوں پر حملہ کردیا جائے…
Read the full tafseer →41: یہ ان کافروں کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر کے موقع پر بھاگ نکلے تھے۔
Read the full tafseer →ان ہدایات اور صاف ستھری پالیسی کے نتیجے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح و سرخروئی حاصل ہوگی اور یہ کہ ان کے لیے کفار کی قوت کا مقابلہ بہت ہی آسان ہوجائے گا۔
ان لوگوں کے خفیہ مشورے اور بد عہدی کے ارتکاب کے بارے میں منصوبے ان کو کامیاب اور مسلمانوں پر برتری عطا نہ کرسکیں گے کیونکہ اللہ مسلمانوں کی پشت پر ہے۔ اور خائن لوگ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ کفار کو جب اللہ پکڑنا چاہے تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اور جب اللہ مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے تو یہ ان کو شکست نہیں دے سکتے۔
اس لیے وہ لوگ جو اچھے مقاصد کے لیے اچھے ذرائع اختیار کرتے ہیں ، اگر ان کی نیت درست ہے تو انہیں…
Read the full tafseer →3 نبذ عہد کا جو حکم اوپر مذکور ہوا، ممکن تھا کہ کفار اس کو مسلمانوں کی سادہ لوحی پر حمل کر کے خوش ہوتے کہ جب ان کے یہاں خیانت و غدر جائز نہیں تو ہم کو خبردار اور بیدار ہونے کے بعد پورا موقع اپنے بچاؤ اور مسلمانوں کے خلاف تیاری کرنے کا ملے گا۔ اس کا جواب دے دیا کہ کتنی ہی تیاری اور انتظامات کرلو۔ جب مسلمانوں کے ہاتھوں خدا تم کو مغلوب و رسوا کرنا اور دنیا یا آخرت میں سزا دینا چاہے گا، تو تم کسی تدبیر سے اس کو عاجز نہ کرسکو گے۔ نہ اس کے احاطہ قدرت و تسلط سے نکل کر بھاگ سکو گے۔ گویا مسلمانوں کی تسلی کردی کہ وہ خدا پر بھروسہ کر کے اس کے احکام کا امتثال کریں تو سب پر غالب آئیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 59 وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا ط
غزوۂ بدر میں کفار کے ایک ہزار افراد میں سے بہت سے لوگ صحیح سلامت بچ بھی نکلے تھے۔ یہ ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے ہیں۔
اِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُوْنَ ۔
وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے۔
Read the full tafseer →61۔ الف یعنی کافروں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ان کا جھوٹ، دغا، مکر و فریب، عیاری و مکاری اور ان کی سازشیں اسلام کا راستہ روکنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ اس آیت کے مخاطب بھی یہود مدینہ اور منافقین ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو زیر کرنے کی تدبیر سوچتے اور ایک دوسرے کے ہمراز بنے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →88 ۔ یعنی یہ کہ اس کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 59 تا 64
ترجمہ : آئندہ آیت ان (مشرکین) کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے یوم بدر میں راہ فرار اختیار کی تھی، اے محمد ﷺ تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ یہ کافر اللہ ( کی پکڑ) سے بچ کر نکل جائیں گے، یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اس سے بچکر نکل سکتے ہیں، اور ایک قراءت میں ( لا یحسَبَنَّ ) یاء تحتانیہ کے ساتھ (یحسَبَنَّ ) کا مفعول اول محذوف ہے اور وہ اَنفُسَھُمْ ، ہے اور ایک قراءت میں اَنَّھم ہمزہ کے فتحہ اور لام کے ساتھ ہے ای لاِ نَّھُمْ ، اور ان سے جنگ کے لئے مقدور بھر قوت مہیا رکھو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ تیر اندازی ہے (رواہ مسلم) اور (تیار) بندھے رہنے والے گھوڑے، (رباط) مصدر ہے بمعنی اللہ کے…
Read the full tafseer →ولا یحسبن الذین کفروا سبقواط اور یہ کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے۔ بغوی نے لکھا ہے : بدر کے دن جو مشرک شکست کھا کر بھاگے تھے ‘ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
انھم لا یعجزون : یقیناً وہ لوگ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →(59) محمد ﷺ بنی قریظہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمارے عذاب سے بچ گئے اور ہمارے عذاب سے بالکل نہیں بچ سکتے
Read the full tafseer →وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا : یہاں سب سے پہلے وہ کفار قریش مراد ہیں جو میدان بدر سے جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر نکل گئے ہیں، اس کی گرفت سے کون نکل سکتا ہے اور اسے کون عاجز اور بےبس کر کے بھاگ سکتا ہے ؟ ویسے الفاظ کے عموم کا تقاضا اور حقیقت واقعی یہی ہے کہ کافر کوئی بھی ہو وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نکلنے میں ہرگز کامیاب نہ سمجھے، اگر دنیا میں اس گرفت کا مظاہرہ نہ ہو تو موت کے وقت اور اس کے بعد وہ بچ کر کہاں جائیں گے ؟ وہ کبھی اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے جیسا چاہے ان پر عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
( آیت نمبر 59)
قولہ تعالیٰ : والا یحسبن الذین کفرو اسبقوا یعنی وہ واقعہ بدر سے بچ گئے اور حیات کی طرف نکل گئے۔ پھر نیا کلام فرمایا اور ارشاد فرمایا : انھم لایعجزون بیشک وہ دنیا میں عاجز نہیں کرسکتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح کامرائی عطا فرما دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا : مراد آخرت میں عاجز نہیں کر سکنا ہے۔ اور یہ حسن کا قول ہے۔ ابن عامر، حفص اور حمزہ نے یحسبن یا کے ساتھ اور باقیوں نے تا کے ساتھ قراءت کی ہے، اس بنا پر فعل میں ضمیر فاعل ہو۔ اور الذین کفرو مفعول اول ہو۔ اور سبقوا مفعول ثانی ہو۔ اور رہی یا کی قرات تو اس کے بارے نحویوں کی ایک جماعت جن میں سے ابوحاتم بھی ہیں، کا خیال ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم لا یعجزون “ یعنی وہ ہم سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
Read the full tafseer →وَلَا يَحْسَبَنَّ [ اور ہرگز گمان نہ کریں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] سَبَقُوْا ۭ [ (کہ ) وہ لوگ بھاگ نکلے ] اِنَّهُمْ [ یقینا وہ لوگ ] لَا يُعْجِزُوْنَ [ عاجز نہیں کریں گے (ہم کو ) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
اہل ایمان کو غدر اور خیانت کی اجازت نہیں :
اہل ایمان کو کبھی نقض عہد کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور یہ جب ہوتا ہے جب دشمن سے خطرہ ہو کہ وہ اپنا عہد توڑنے والا ہے اگر ہم نے اپنے عہد کی پاسداری کی اور انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور اچانک غفلت میں انہوں نے حملہ کردیا تو ہمیں تکلیف پہنچے گی۔ ایسے موقعہ پر طریق کار یہ ہے کہ خود ان پر غفلت میں حملہ نہ کریں۔ ہاں ایسا کریں کہ پہلے اعلان کردیں اور ان کو بتادیں کہ ہمارا تمہارا جو معاہدہ تھا ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔ اسی کو فرمایا۔ (وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ) اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
بیان احوال وحاکم کفار اہل کتاب
قال اللہ تعالیٰ ان شر الدواب عندا لہ الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔ انھم لا یعجزون
(ربط) شروع سورت سے یہاں تک کفار مشرکین کے احوال و قتال کا بیان تھا اب ان آیات میں کفار اہل کتاب یعنی یہود کے احوال و قتال کا بیان ہے کیونکہ ان آیات کا سبب نزول یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی اور اسلام کی دشمنی ہے یہود نے آں حضرت ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے دشمنوں (کفار مکہ) کو کوئی مدد نہ دیں گے مگر پھر ان کی غزوہ احراب میں مدد کی اور بھی چند بار ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ یہ کہ دیتے کہ ہمیں عہد یاد نہیں رہا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی اور اسی عہد شکنی اور حق کی دشمنی کی وجہ سے ان کو بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
59: لیکن اگر کسی قوم نے ابھی تک صریح عہد شکنی نہیں کی لیکن آثار و قرائن سے آپ کو اندازہ ہوجائے کہ وہ عہد توڑنے والے ہیں تو آپ کو اجازت ہے کہ اگر مناسب سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دست برداری کی ان کو اطلاع دے کر مناسب کاروائی کریں تاکہ معاہدہ کے بارے میں دونوں فریق علم وآگاہی میں برابر ہوجائیں اور کوئی فریق اندھیرے میں نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
کفار کی خام خیالی :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوا تھا کہ سازشی یہودیوں کو ایسی عبرتناک سزا دو کہ ان کے پیچھے آنے والوں کو بھی اس سے عبرت ہو۔ مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خدشہ پید ہو سکتا تھا کہ ہماری اس سادہ لوحی سے کافر لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ہمیں دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ دیانتداری اور اصول کی پابندی مسلمانوں کا شعار ہے اور اسی پر مدار فلاح ہے اور اگر کافرلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے اللہ نے خبردار کیا (آیت) ”…
Read the full tafseer →وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا 0ۭ اِنَّہُمْ لَا يُعْجِزُوْنَ 59
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ترکیب : الذین کفروا خبر ان فاما شرط تثقفنھم تجدنہم چونکہ شرط کا کلمہ ان ما کے ساتھ مؤکد ہوگیا اس لئے اس کے بعد فعل کو نون تاکید کے ساتھ لانا مستحسن ہو۔ افشرد جواب شرط فرق بہم ای بسببہم متعلق ہے شرد سے۔ من موصولہ خلفہم ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ یہ سب شرد کا مفعول ہوا خیانۃ مفعول ہے تخافن کا فانبذا طرح عہد ھم علی سوا حال ہے ای مستویاسب جواب شرط۔ من قوۃ ومن رباط الخیل ما کا بیان ہے الذین کفروا یحسبن کا فاعل ‘ سبقوا مفعول اور بعض نے تحسبن بھی پڑھا ہے۔
تفسیر : کافروں کو کہا تھا کل کانوا ظالمین اب ان ظالموں میں سے زیادہ تر راندہ درگاہوں کا ذکر اور ان کی عادت کا بیان فرماتا ہے کہ ان سے کیا…
Read the full tafseer →وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْاطاِنَّھُمْ لَایُعْجِزُوْنَ ۔ (الانفال : 59)
(اور گمان نہ کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے۔ )
دشمنانِ اسلام کو وارننگ
جنگ بدر میں جو لوگ بچ کر نکل گئے وہ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے آئندہ کے لیے اسلام کے خلاف مزید منصوبہ بندیوں میں مصروف ہوگئے۔ قافلہ تجارت کے منافع کو اسلام اور مسلمانوں کے استیصال میں صرف کرنے کے فیصلے ہونے لگے۔ یہود نے اس آگ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے قریش کے حوصلے بڑھائے اور انھیں یقین دلایا کہ تم نے جلد بازی میں مکمل تیاری کیے بغیر لڑائی کا ڈول ڈال دیا۔ لیکن اس لڑائی کو آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیو ستہ : آل فرعون جیسا کردار اختیار کرنے والے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
رسول معظم ﷺ نے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد اہل مدینہ سے بقائے باہمی کا معاہدہ کیا جسے تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے مدینے کے یہودیوں اور باسیوں سے طے کیا کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم سب مل کر شہر کا دفاع کریں گے۔ اس عہد کی رو سے یہودی آپ ﷺ کے حلیف تھے لیکن جب کفار نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تو اس موقع پر یہودیوں کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ تھیں اور انھوں نے میثاق مدینہ کی پرواہ نہ کی۔
جب بدر میں مسلمان کا میاب ہوئے تو یہودیوں کے سب سے بڑا قبیلہ…
Read the full tafseer →کافر ہم سے بھاگ نہیں سکتے :
آیت 59: وَلَایَحْسَبَنَّ (اور اپنے متعلق یہ خیال نہ کریں) قراءت : شامی، حمزہ، یزید، حفص نے یَحْسَبَنَّ پڑھا ہے۔ ابوبکر نے تَحْسَبَنَّ پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر قراء نے تَحْسِبَنَّ سین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا (کافر کہ وہ بچ گئے) نکل گئے اور قابو میں نہیں آئے۔ اِنَّھُمْ لَایُعْجِزُوْنَ (یقینا وہ لوگ عاجز نہیں کرسکتے) وہ بچ کر نہیں نکل سکتے اور ڈھونڈنے والے کو عاجز بھی نہیں کرسکتے۔
قراءت : شامی نے اَنَّھُمْ پڑھا ہے۔ ای لانہم ہمزہ مک سورة ہو یا مفتوحہ دونوں ہی تعلیل کیلئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ مک سورة مستانفہ ہو کر تعلیلیہ ہے اور مفتوحہ صراحۃً…
Read the full tafseer →59(ولا یحسبن الذین کفروا سبقوا) ابو جعفر، ابن عامر، حمزہ اور حفص رحمہما اللہ نے ” یحسبن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ۔ ” سبقوا “ چھوٹ گئے۔ یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بدر کے دن بھاگ گئے تھے۔ پس جنہوں نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ کہتے ہیں ” لایحسبن الذین کفروا “ مطلب یہ ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمارے عذاب سے بھاگ نکلے اور جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو یہ خطاب کا صیغہ ہے۔ ابن عامر (رح) نے ” انھم لایعجزون “ الف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس لئے کہ وہ عاجز نہیں کرسکتے اور مجھ سے چھوٹ نہیں سکتے اور دیگر حضرات نے الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ابتداء کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60۔ اللہ پاک نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی فرمائی کہ جنگ بدر سے جو کفار بچ کر بھاگ نکلے ہیں یہ خیال نہ کیا جاوے کہ ان پر پھر کوئی موقعہ ہاتھ نہ آویگا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ اب بچ گئے ہیں مگر اللہ کو وہ عاجز نہیں کرسکتے وہ ہر وقت اللہ کے قبضہ میں ہیں تم ان کے واسطے سامان جنگ تیار رکھو اور جہاں تک ممکن ہو تیر اندازی کے ہنر کی مشقیں کرو آیت میں جو سن قوۃ کا لفظ ہے اس کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ قوۃ سے مطلب تیراندازی ہے عقبہ ؓ بن عامر کی حدیث جو مسلم وابن ماجہ و ابوداؤد میں ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے…
Read the full tafseer →آیت 59
یعنی اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والے اور اس کی آیات کو جھٹلانے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بازی لے گئیّوہ اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور کفار کو مہلت دینے اور ان کو سزا دینے میں عجلت نہ کرنے میں اللہ تعاعلیٰ کی حکمت بالغہ پنہاں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کی آزمائش، ان کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کو زادراہ بنانا جس کے ذریعے سے وہ مقامات بلند پر پہنچتے ہیں اور ان کا اپنے آپ کو ان اخلاق واوصاف سے متصف کرنا جن کے بغیر وہ اس منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔۔۔ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہی کا حصہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
دشمن کی بد عہدی کی علانیہ منسوخی
قول باری ہے (واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ علیھم علی سواء ا اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ) تا آخر آیت۔ اس کے معنی… واللہ اعلم… یہ ہیں کہ جب تمہیں ان کی بد عہدی، چال بازی، اور سلمانوں پر ان کے اچانک حملے کا خطرہ ہو، اور اگرچہ ظاہری طور پر نقض عہد نہ کریں لیکن خفیہ طور پر ان تیاریوں میں مصروف ہوں تو پھر تم ان کے معاہدے کو علانیہ ان کے سامنے پھینک دو یعنی تمہارے اور ان کے درمیان صلح کا جو معاہدہ ہو اس کی منسوخی کا کھلم کھلا اعلان کر دو تاکہ سب کو اس کا علم ہوجائے۔ قول باری (علی سوا) کے یہی معنی ہیں…
Read the full tafseer →123 کافر لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتے : سو اس ارشاد سے کافروں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ وہ ہماری گرفت سے کبھی باہر نہیں ہوسکتے۔ پس لوگ کبھی یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہماری گرفت و پکڑ سے نکل گئے ہیں اور اب ان کو کوئی سزاملنے والی نہیں، خبردار ایسا خیال بھی کبھی نہیں کرنا، کہ ایسے لوگ ہماری گرفت اور پکڑ سے کسی بھی طور پر نکل نہیں سکتے۔ سو ایسا کبھی خیال بھی نہ کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ اَنْ یَّسْبِقُوْناَ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ۔ (العنکبوت : 4) یعنی " کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کیے جا رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ
تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
آیات 59 تا 64
اسرار و معارف
اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…
Read the full tafseer →ف 2 کبھی ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ ہم جب چاہیے ان کی گردن مروڑ دیں اور جس قسم کا عذاب چاہیں ان پر نازل کردیں، ( کذافی )
Read the full tafseer →(8:59) لایحسبن۔ نہی غائب واحد مذکر غائب۔ بانون ثقیلہ (باب سمع) وہ ہرگز خیال نہ کرے۔
سبقوا۔ انہوں نے سبقت کی۔ وہ آگے نکل گئے۔ سبق سے ماضی جمع مذکر غائب وہ بازی لے گئے۔
لایحسبن الذین کفروا سبقوا۔ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ خیال نہ کریں کہ وہ بازی لے گئے۔
انھم لا یعجزون۔ یقینا وہ (پیروان حق کو ) درماندہ نہیں کرسکتے۔ یقینا وہ (اللہ تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ ہرا نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
آیات : 55 تا 59
لغات القرآن۔
عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔
تشریح :
سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سامان جنگ کا حکم
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی یہ تسلی فرمائی کہ جنگ بدر سے جو کفار بچکر بھاگ نکلے، یہ خیال نہ کیا جاوے کہ ان پر پھر کوئی موقع ہاتھ نہ آوے گا۔ کیونکہ یہ لوگ اگرچہ اب بچ گئے ہیں مگر اللہ کو وہ عاجز نہیں کرسکتے۔ وہ ہر وقت اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ تم ان کے واسطے سامان جنگ تیار رکھو اور جہاں تک ممکن ہوسکے تیر اندازی کے ہنر کی مشاقی کرو اور باقی سامان جنگ کی تیاری کے بعد گھوڑے بھی پالو۔ اس لئے حکم دیا کہ تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا ہو۔ پھر یہ فرمایا کہ ان کفار کے سوا اور لوگ بھی ہیں جن کو تم نہیں جانتے ہو اللہ کو ان کا علم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا کی راہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
[20] یعنی کھلے طور پر خبر دے دو کہ معاہدہ فسخ ہوگیا تاکہ فسخ معاہدہ کے علم میں دونوں فریق برابر ہوجائیں اور تیاری کے لئے دونوں کے مواقع یکساں ہوں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ قرآن نے ہر معاملے میں حتیٰ کہ جنگ میں بھی سچائی اور دیانت کا جو معیار قائم کیا ہے وہ کتنا بلند ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 2) یہود سے بنی قریظہ نے غداری کی اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کو مدد دی ، حضور ﷺ نے باز پرس کی تو کہہ دیا ہم بھول گئے تھے آئندہ محتاط رہیں گے ، غزوہ خندق میں پھر ان لوگوں کے ساتھ مل گئے ، اس لئے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ بار بار کی کی معاہدہ شکنی ناقابل برداشت ہے ، ان لوگوں کے معاہدہ کو توڑ دو ، اور عبرتناک سزائیں دو ، تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو ، اور آئے دن کی شرارتوں سے امن ملے ۔
حل لغات :
فشردبھم : تتر بتر کہ ہوئے ، فشرید کے معنی بری طرح منتشر کردینے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →59 اور جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کررکھی ہے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ بچ گئے بلاشبہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ممکن ہے کہ غدر و خیانت سے بچنے کی تاکید سن کر یہ سمجھے ہوں کہ اب ہم مسلمانوں کے قبضے میں نہ آسکیں گے جب یہ اطلاع دیکر حملہ کریں گے تو ہم بچ جائیں گے شاید اس کا جواب دیا کہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے نہ اس کو ہرا سکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 1۔ یعنی اس طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع کردیجیے۔ فائدہ۔ بدون ایسی اطلاع کے لڑناخیانت ہے۔
Read the full tafseer →یاد رکھو کہ کفر کی راہ اختیار کرنے والے اللہ کو عاجز نہیں رکھ سکتے :
78: آیت کا ماحصل یہ ہے کہ کوئی مجرم اگر اس جرم کی مصیبت اور تکلیف سے نجات پاجائے اور پھر بھی بدبخت توبہ نہ کرے بلکہ اپنے جرم پر ڈٹا ہی رہے تو یہ اس کی علامت نہ سمجھو کہ وہ بڑا کامیاب ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا۔ نہیں ، بلکہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور یہ ڈھیل اس کے عذاب اور مصیبت کو اور بڑھا رہی ہے اگرچہ اس کو ابھی یہ محسوس نہیں ہو رہا اور ساتھ ان کفار کو جو بدر کے میدان میں اپنے ساتھیوں یعنی مشرکوں کے ساتھ اترے تھے یہ بات بتادی کہ وہ اس وقت اگر شریک ہو کر بچ گئے ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ بھی وہ اس…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the first of the four verses cited above are disbelievers who had not participated in the battle of Badr, therefore, they survived or there were those of them who deserted the battlefield after showing up as participants and were thus able to save their lives. It is about these people that it was said in this verse that these people should not think that they have made their escape good because the battle of Badr was Divine punishment for disbelievers and escaping from its grip was not possible for anyone. Therefore, it was said: إِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُونَ 'Surely, they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
43. According to the above verse, it is not lawful for Muslims to decide unilaterally that their treaty with an ally is annulled either because of their grievance that their ally did not fully observe the terms of the treaty in the past or on ground of the fear that he would treacherously breach it in the future. There is no justification for Muslims to make such a decision nor to behave as if no treaty bound the two parties. On the contrary, whenever the Muslims are forced into such a situation they are required to inform the other party, before embarking on any hostile action, that the…
Read the full tafseer →