اللہ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا
ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی اگر کسی سے تمہارا عہد و پیمان ہو اور تمہیں خوف ہو کہ یہ بدعہدی اور وعدہ خلافی کریں گے تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ برابری کی حالت میں عہد نامہ توڑ دو اور انہیں اطلاع کردو تاکہ وہ بھی صلح کے خیال میں نہ رہیں۔ کچھ دن پہلے ہی سے انہیں خبر دو۔ اللہ خیانت کو ناپسند فرماتا ہے کافروں سے بھی تم خیانت نہ کرو۔ مسند احمد میں ہے کہ امیر معاویہ نے لشکریوں کی روم کی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی کہ مدت صلح ختم ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ کردیں تو ایک شیخ اپنی سواری پر سوار یہ کہتے ہوئے آئے کہ وعدہ وفائی کرو، عذر درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
سورة الْاَنْفَال 43
اس آیت کے رو سے ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یا گروہ یا ملک سے ہمارا معاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے، یا یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ موقع پاتے ہی ہمارے ساتھ غداری کر بیٹھے گا، تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ نہیں رہا اور یکایک اس کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا شروع کردیں جو معاہدہ نہ ہونے کہ صورت ہی میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کے برعکس ہمیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو ہم کوئی مخالفانہ کاروائی کرنے سے پہلے فریق ثانی کو صاف صاف بتادیں کہ…
Read the full tafseer →معاہدہ صلح کو ختم کرنے کی صورت
پانچویں آیت میں رسول اللہ ﷺ کو جنگ و صلح کے قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی گئی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف سے خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو صاف طور پر ختم کردینے سے پہلے ہم ان کے خلاف کوئی اقدام کریں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ ان کو اطمینان و فرصت کی حالت میں اس سے آگاہ کردیا جائے کہ تمہاری بدنیتی یا خلاف ورزی ہم پر ظاہر ہوچکی ہے یا یہ کہ تمہارے معاملات مشتبہ نظر آتے ہیں اس لئے ہم…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ۔ یہ مذکورہ قسم کے تمام معاہدوں سے متعلق عام ہدایت دے دی کہ ان کی ذمہ داری تم پر یک طرفہ نہیں ہے صرف اسی صورت میں ہے جب دوسرا فریق بھی ان کا احترام کرے۔ اگر وہ احترام نہیں کرتا تو تم بھی اس معاہدہ کو ان کے منہ پر پھینک مارو۔ علی سواء کا مفہوم یہ ہے کہ انہی کے برابر کا اقدام تم بھی کرنے کے مجاز ہو۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہیے بلکہ جواب ہم وزن ہونا چاہیے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ لازم قرار دیا ہے کہ ختم معاہدہ کی اطلاع فریق ثانی کو دے دینی چاہیے۔ ان کی اس بات کو کوئی دلیل ان الفاظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 1 خیانت سے مراد ہے معاہد قوم سے نقص عہد کا خطرہ، اور (برابری کی حالت میں) کا مطلب ہے کہ انہیں با قاعدہ مطلع کیا جائے کہ آئندہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں۔ تاکہ دونوں فریق اپنے اپنے طور پر اپنی حفاظت کے ذمہ دار ہوں، کوئی ایک فریق لا علمی اور مغالطے میں نہ مارا جائے۔
58۔ 2 یعنی یہ نقص عہد اگر مسلمانوں کی طرف سے بھی ہو تو یہ خیانت ہے جسے اللہ پسند نہیں فرماتا۔ حضرت معاویہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ تھا جب معاہدے کی مدت ختم ہونے کے قریب آئی تو حضرت معاویہ نے روم کی سرزمین کے قریب اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کردیں۔ مقصد یہ تھا کہ معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی رومیوں پر حملہ کردیا جائے…
Read the full tafseer →40: یہ اس صورت کا حکم بیان ہورہا ہے جب ان لوگوں کی طرف سے کھلی بد عہدی تو نہ ہوئی ہو لیکن اندیشہ ہو کہ کسی وقت وہ بد عہدی کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچادیں گے، ایسے موقع کیلئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واضح طور پر معاہدے کے ختم کرنے کا اعلان کرنے کے لئے آزاد ہے، اس بات کو معاہدہ انکی طرف پھینکنے سے تعبیر کیا گیا ہے جو عربی محاورے میں اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، تاکید یہ کی گئی ہے کہ صرف دشمن کی بد عہدی کے اندیشے کی بنا پر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ اعلان کے بغیر معاہدے کی خلاف ورزی کریں، کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
Read the full tafseer →دوسرا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جس سے نقص عہد کی علامات کا ظہور ہوچکا ہو اور یہ توقع پیدا ہوگئی ہو کہ وہ جلدہی نقص عہد کا ارتکاب کریں گے۔ اور یہ علامات واضح ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔
اسلام معاہدہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرے ، جب فریق دوم عمل کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ اس عہد کو منسوخ کرنے کا اعلان اس کے سامنے رکھ دیتا ہے اور علانیہ اس کو ختم ردیتا ہے۔ خیانت اور غداری کا اسلام قائل نہیں ہے۔ دھوکے اور چالبازی کا بھی اسلام روادار نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
2 یعنی اگر یہ دغا باز غدار معاہدوں کو اعلانیہ پس پشت ڈال کر آپ کے مقابل میدان جنگ میں آجائیں تو ان کو ایسی سخت سزا دیجئے، جسے دیکھ کر ان کے پیچھے رہنے والے یا ان کے بعد آنے والی نسلیں بھی عبرت حاصل کریں اور عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ کرسکیں اور اگر ایک قوم نے اعلانیہ دغابازی نہیں کی، ہاں آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ عہد شکنی پر آمادہ ہے تو آپ کو اجازت ہے کہ مصلحت سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دستبرداری کی اطلاع کر کے مناسب کارروائی کریں۔ تاکہ فریقین پچھلے معاہدات کی نسبت شک و اشتباہ میں نہ رہیں۔ دونوں مساویانہ طور پر آگاہ و بیدار ہو کر اپنی تیاری اور حفاظت میں مشغول ہوں۔ آپ کی…
Read the full tafseer →آیت 58 وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ط
پچھلی آیات میں انفرادی فعل کے طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کا ذکر تھا۔ مثلاً کسی قبیلے کا کوئی فرد اس طرح کی کسی سازش میں ملوث پایا جائے تو ممکن ہے ایسی صورت میں اس کے قبیلے کے لوگ یا سردار اس سے برئ الذمہ ہوجائیں کہ یہ اس شخص کا ذاتی اور انفرادی فعل ہے اور اجتماعی طور پر ہمارا قبیلہ بدستور معاہدے کا پابند ہے۔ لیکن اس آیت میں قومی سطح پر اس مسئلے کا حل بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر آپ کو کسی قوم یا قبیلے کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں آپ ان کے معاہدے کو علی الاعلان منسوخ abrogate…
Read the full tafseer →61 معاہدہ قوم کے ساتھ اسلام کی خارجہ پالیسی مکر و فریب کی شدید مذمت :۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی قوم جس سے تمہارا معاہدہ امن ہوچکا ہو، خواہ وہ تمہاری ریاست کے اندر ہو باہر ہو اور اس قوم سے تمہیں عہد شکنی یا دغا بازی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو تم اس کے خلاف کوئی خفیہ کارروائی یا سازش نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت میں تمہیں علی الاعلان اس قوم پر واضح کردینا چاہیے کہ اب ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے تاکہ وہ کسی طرح کے دھوکہ میں نہ رہیں اور تم پر عہد شکنی کا الزام نہ آئے۔ اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہ اور روم میں میعادی معاہدہ تھا، دشمن کی حرکات و سکنات دیکھ کر سیدنا…
Read the full tafseer →87 ۔ قرآن مجید کی اس قسم کی آیتیں عربی اسلوب بیان کے مطابق ہیں، اردوادب میں ایسے موقع پر کہا جائے گا کہ اللہ خائنوں کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (آیت) ” اما تخافن من قوم خیانۃ “۔ یعنی اس قوم نے ابھی بدعہدی عملا کی نہ ہو لیکن قرائن سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ بدعہدی کرنے پر ہے۔ اے اذا ظھرت اثار الخیانۃ وتثبت دلائلھا (قرطبی) (آیت) ” فانبذالیھم علی سوآء “۔ یعنی اسی طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع اس فریق کو کردیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ امر واجب نہیں، تخییری ہے۔ اور امام کے اختیار تمییزی پر موقوف ہے۔ (آیت) ” علی سوآء “۔ یہ اعلان استرداد معاہدہ کی تاکید اس لیے ہے کہ کہیں مخالفین نقض عہد کی ابتداء…
Read the full tafseer →معاہدہ صلح کو ختم کرنے کی صورت : وَاِمّا تخافنَّ مِن قوم خیانة فانبذ الیھم عَلیٰ سَوائ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جنگ و صلح کے قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو علی الاعلان ختم کئے بغیر ہم فریق ثانی کے خلاف کوئی اقدام کریں، بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ فریق مخالف صاف صاف بتادیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب معاہدہ باقی نہیں رہا، تاکہ فسخ معاہدہ کا…
Read the full tafseer →واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیھم علی سوآئط اور اگر آپ کو کسی قوم سے غداری کا اندیشہ ہو تو آپ ان کا معاہدہ ان کو واپس کردیں کہ آپ اور وہ اس (اطلاع) میں برابر ہوجائیں۔ خیانۃً یعنی عہدشکنی۔ مطلب یہ کہ اگر علامات اور حالات سے تم کو اندازہ ہوجائے کہ یہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ فَانْبِذْم یعنی تم بھی ان کا معاہدہ ان پردے مارو ‘ پھینک دو ۔ عَلٰی سَوَآءٍ انصاف کے موافق ‘ یا یہ مطلب کہ تمہاری طرف سے (ان کو) نقض معاہدہ کی خبر دینے میں برابری ہو۔ حاصل یہ کہ معاہدہ توڑنے کی اطلاع پہلے ان کو دے دو تاکہ تمہاری طرف سے خیانت نہ ہو۔
ابو الشیخ نے زہری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے رسول…
Read the full tafseer →(58) اور اگر آپ کو بنی قریظہ سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو آپ ان کو بتا کر وہ عہد واپس کردیجیے بنو قریظہ وغیرہ جو عہد شکنی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بالکل پسند نہیں کرتے۔
شان نزول : (آیت) ”واما تخافن من قوم خیانۃ“۔ (الخآرضی اللہ تعالیٰ عنہ ابوالشیخ ؒ نے ابن شہاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے اور میں تو قوم کی تلاش میں ہوں، چلیے آپ کے پروردگار نے بنوقریظہ کے بارے میں آپ کو اجازت دی ہے اور یہ حکم نازل کیا ہے یعنی اگر آپ کو کسی قسم سے بعدعہدی کا اندیشہ ہوالخ۔
Read the full tafseer →وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً : یعنی عہد توڑنا خیانت ہے جو مسلمان کے لیے کسی صورت جائز نہیں، حتیٰ کہ اگر کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو ان کے خلاف کوئی بھی کار روائی جائز نہیں، خواہ وہ لوگ تمہاری ریاست کے اندر ہوں یا باہر۔ اگر فی الواقع ان کی طرف سے عہد توڑنے یا دھوکا دینے کا خطرہ پیدا ہوجائے، جو آثار سے نظر آجاتا ہے تو پھر بھی آگاہ کیے بغیر ان کے خلاف خفیہ کارروائی یا کھلا حملہ کردینا جائز نہیں، بلکہ صاف اعلان کر کے واضح کر دو کہ ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے، تاکہ تم پر عہد توڑنے یا دھوکا دینے کا الزام نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
مسئلہ نمبر 2 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اگر یہ کہا جائے کہ خیانت کے خوب کے ساتھ معاہدہ توڑنا کیسے جائز ہو سکتا ہے، حالانکہ خوف ظن ہے جس کے ساتھ یقین نہیں ہے، تو عہد کا یقین خیانت کے ظن کے ساتھ کیسے ساقط ہو سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب دو اعتبار سے ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوف کبھی یقین کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ رجائ) امید) علم (یقین) کے معنی میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشار فرمایا : مالکم لاترجون اللہ وقار۔ ( نوح) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم پرواہ نہیں کرتے اللہ کی عظمت و جلال کی) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خیانت کے آثار ظاہر ہوجائیں اور اس کے دلائل ثابت ہوجائیں، تو معاہدہ کو توڑنا واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1۔ ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ان شرالدوآب عند اللہ الذین کفروا فہم لا یومنون (55) یہودیوں کے چھ گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں ایک تابوت بھی تھا۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) الذین عھدت منہم ثم ینقضون عہدھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودیوں کا قبیلہ قریظہ ہے جس نے جنگ خندق کے دوران محمد ﷺ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کی۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فشردبہم من خلفہم ‘ تم ان کو عبرت ناک سزا دو کو جو ان کے بعد ہیں۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس سے روایت ہے کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَاِمَّا [ اور اگر کبھی بھی ] تَخَافَنَّ [ آپ کو خوف ہو ] مِنْ قَوْمٍ [ کسی قوم سے ] خِيَانَةً [ کسی خیانت کا (معاہدہ میں )] فَانْۢبِذْ [ تو آپ پھینک دیں (معاہدہ کو ) ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ [ برابر برابر پر ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْخَاۗىِٕنِيْنَ [ خیانت کرنے والوں کو ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 58 کی رو سے ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اگر کسی سے ہمارا معاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے یا یہ اندیشہ ہو کہ موقع پاتے ہی وہ ہمارے ساتھ غداری کرے گا ، تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
اہل ایمان کو غدر اور خیانت کی اجازت نہیں :
اہل ایمان کو کبھی نقض عہد کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور یہ جب ہوتا ہے جب دشمن سے خطرہ ہو کہ وہ اپنا عہد توڑنے والا ہے اگر ہم نے اپنے عہد کی پاسداری کی اور انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور اچانک غفلت میں انہوں نے حملہ کردیا تو ہمیں تکلیف پہنچے گی۔ ایسے موقعہ پر طریق کار یہ ہے کہ خود ان پر غفلت میں حملہ نہ کریں۔ ہاں ایسا کریں کہ پہلے اعلان کردیں اور ان کو بتادیں کہ ہمارا تمہارا جو معاہدہ تھا ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔ اسی کو فرمایا۔ (وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ) اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
بیان احوال وحاکم کفار اہل کتاب
قال اللہ تعالیٰ ان شر الدواب عندا لہ الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔ انھم لا یعجزون
(ربط) شروع سورت سے یہاں تک کفار مشرکین کے احوال و قتال کا بیان تھا اب ان آیات میں کفار اہل کتاب یعنی یہود کے احوال و قتال کا بیان ہے کیونکہ ان آیات کا سبب نزول یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی اور اسلام کی دشمنی ہے یہود نے آں حضرت ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے دشمنوں (کفار مکہ) کو کوئی مدد نہ دیں گے مگر پھر ان کی غزوہ احراب میں مدد کی اور بھی چند بار ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ یہ کہ دیتے کہ ہمیں عہد یاد نہیں رہا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی اور اسی عہد شکنی اور حق کی دشمنی کی وجہ سے ان کو بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
59: لیکن اگر کسی قوم نے ابھی تک صریح عہد شکنی نہیں کی لیکن آثار و قرائن سے آپ کو اندازہ ہوجائے کہ وہ عہد توڑنے والے ہیں تو آپ کو اجازت ہے کہ اگر مناسب سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دست برداری کی ان کو اطلاع دے کر مناسب کاروائی کریں تاکہ معاہدہ کے بارے میں دونوں فریق علم وآگاہی میں برابر ہوجائیں اور کوئی فریق اندھیرے میں نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ربطِ آیات :
اللہ تعالٰٰ نے جہاد سے متعلق سات اہم اصول بیان کردیے ہیں۔ منافقوں کا حال بھی بیان ہوا ہے کہ جب مسلمان بدر کی طرف روانہ ہوئے تو منافق کہنے لگے کہ مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ دھوکہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے جو کوئی اللہ کی ذات پر بھروسہ کریگا تو اللہ تعالیٰ اسے غلبہ نصیب فرمائے گا پھر اللہ نے منافقوں اور مشرکوں کی عادت کو آلِ فرعون کی عادت سے تشبیہ دی جنہوں نے کفر پر اصرار کیا اور دین حق کی مخالفت کی ، وہ اپنے گناہوں کے بدلے میں پکڑے گئے اور اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کیا ۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں ، وہ ان کو چھوڑتا…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَۃً فَانْۢبِذْ اِلَيْہِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58 ۧ
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية .
قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ، وحقیقته : وإن وقع لکم خوف من ذلک لمعرفتکم . والخوف من اللہ لا يراد به ما يخطر بالبال من الرّعب، کاستشعار الخوف من الأسد، بل إنما يراد به الكفّ عن المعاصي واختیار الطّاعات، ولذلک قيل : لا يعدّ خائفا من لم يكن للذنوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ترکیب : الذین کفروا خبر ان فاما شرط تثقفنھم تجدنہم چونکہ شرط کا کلمہ ان ما کے ساتھ مؤکد ہوگیا اس لئے اس کے بعد فعل کو نون تاکید کے ساتھ لانا مستحسن ہو۔ افشرد جواب شرط فرق بہم ای بسببہم متعلق ہے شرد سے۔ من موصولہ خلفہم ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ یہ سب شرد کا مفعول ہوا خیانۃ مفعول ہے تخافن کا فانبذا طرح عہد ھم علی سوا حال ہے ای مستویاسب جواب شرط۔ من قوۃ ومن رباط الخیل ما کا بیان ہے الذین کفروا یحسبن کا فاعل ‘ سبقوا مفعول اور بعض نے تحسبن بھی پڑھا ہے۔
تفسیر : کافروں کو کہا تھا کل کانوا ظالمین اب ان ظالموں میں سے زیادہ تر راندہ درگاہوں کا ذکر اور ان کی عادت کا بیان فرماتا ہے کہ ان سے کیا…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْاِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآئٍ ط اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِیْنَ ۔ ع
(اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو پھینک دیجئے ان کی طرف ان کا عہد اس طرح کہ آپ اور وہ برابر ہوجاؤ، یقینا اللہ تعالیٰ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ ) (الانفال : 58)
اس آیت کی تفسیر میں صاحب تفہیم القرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ اسے یہاں نقل کیا جائے۔
معاہدات سے متعلق ضروری ہدایات
اس آیت کی رو سے ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یا گروہ یا ملک سے ہمار امعاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیو ستہ : آل فرعون جیسا کردار اختیار کرنے والے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
رسول معظم ﷺ نے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد اہل مدینہ سے بقائے باہمی کا معاہدہ کیا جسے تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے مدینے کے یہودیوں اور باسیوں سے طے کیا کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم سب مل کر شہر کا دفاع کریں گے۔ اس عہد کی رو سے یہودی آپ ﷺ کے حلیف تھے لیکن جب کفار نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تو اس موقع پر یہودیوں کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ تھیں اور انھوں نے میثاق مدینہ کی پرواہ نہ کی۔
جب بدر میں مسلمان کا میاب ہوئے تو یہودیوں کے سب سے بڑا قبیلہ…
Read the full tafseer →خطرئہ خیانت سے معاہدہ واپس کردو :
آیت 58: وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ (اور اگر آپ کو کسی قوم سے) معاہدہ والے۔ خِیَانَۃً (خیانت کا) نشانات سے معاہدہ توڑنا معلوم ہو رہا ہو۔ فَانچْبِذْ اِلَیْھِمْ (تو ان کا عہد ان کو اسی طرح واپس کردیں) انکا عہد ان کی طرف پھینک دو واپس کردو۔ عَلٰی سَوَآئٍ (کہ تم اور وہ برابر ہوجائیں) تاکہ تمہیں اور انہیں برابر نقض عہد کا علم ہوجائے۔ یہ نابذ اور منبوذ سے حال ہے۔ ای حاصلین علی استواء فی العلم دونوں کو برابر علم ہوجائے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْخَآ پنِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) وعدہ توڑنے والے کو۔
Read the full tafseer →58(واما تخافن من قوم خیانۃ) جیسے بنو قریظہ اور بنو نضیر سے ظاہر ہوا (فام نبذ الیھم علی سوآئ) یہی جنگ سے پہلے ان کو اطلاع کردیں کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا ہے تاکہ معاہدہ کے ٹوٹنے کے علم میں تم سب برابر ہو جائو تاکہ ان کو یہ وہم نہ ہو کہ آپ (علیہ السلام) نے لڑائی کر کے توڑا ہے (ان اللہ لایحب الخآئنین) سلیم بن عامر نے حمیر کے ایک شخص سے روایت کیا ہے وہ کہتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ اور رو م کے درمیان معاہدہ تھا۔ آپ ؓ فوج لے کر ان کے شہروں کی طرف چل پڑے کہ جیسے ہی عہد ٹوٹے گا تو ان پر حملہ کردیں تو ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور کہا اللہ اکبر اللہ اکبر ! وعدہ پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 58۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد سے اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اور یہود بنی قریظہ کا یہ معاہدہ تھا کہ نہ وہ لوگ آنحضرت سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کے دشمن کو مدد دینگے پہلے انہوں نے خلاف معاہدہ کر کے مشرکین مکہ کو ہتھیاروں کی مدد دی اور جب ان سے پوچھا گیا تو معاہدہ کے یاد نہ رہنے کا عذر کیا پھر دوبارہ معاہدہ کیا اور پھر معاہدہ کے برخلاف تمام قبائل عرب کو بہکا کر خندق کی لڑائی میں چڑھا لائے ان میں ایک شخص کعب بن اشرف شاعر بڑا شریر تھا مسلمانوں کی ہمیشہ ہجو کیا کرتا تھا یہ وہی کعب بن اشرف ہے جس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا…
Read the full tafseer →آیت 58
یعنی جب آپ ﷺ کے اور کسی قوم کے درمیان جنگ نہ کرنے کا عہد اور میثاق ہو اور آپ کو اس قوم کی طرف سے خیانت اور بدعہدی کا خدشہ ہو، یعنی ان کی طرف سے معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کے بغیر، ایسے قرائن و احوال ہوں جو عہد میں ان کی خیانت پر دلالت کرتے ہوں (فاتبذ الیھم) ” تو انہی کی طرف پھینک دیں “ ان کا عہد، یعنی ان کی طرف پھینک دیں اور ان کو اطلاع دے دیں کہ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں (علی سواء) ” تاکہ تم اور وہ برابر ہوجاؤ “ یعنی معاہدہ ٹوٹنے کے بارے میں آپ ﷺ کا علم اور ان کا علم مساوی ہو، آپ کے لئے جائز نہیں کہ آپ ان کے ساتھ بدعہدی کریں یا کوئی ایسی کوشش کریں کہ موجبات عہد اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
دشمن کی بد عہدی کی علانیہ منسوخی
قول باری ہے (واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ علیھم علی سواء ا اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ) تا آخر آیت۔ اس کے معنی… واللہ اعلم… یہ ہیں کہ جب تمہیں ان کی بد عہدی، چال بازی، اور سلمانوں پر ان کے اچانک حملے کا خطرہ ہو، اور اگرچہ ظاہری طور پر نقض عہد نہ کریں لیکن خفیہ طور پر ان تیاریوں میں مصروف ہوں تو پھر تم ان کے معاہدے کو علانیہ ان کے سامنے پھینک دو یعنی تمہارے اور ان کے درمیان صلح کا جو معاہدہ ہو اس کی منسوخی کا کھلم کھلا اعلان کر دو تاکہ سب کو اس کا علم ہوجائے۔ قول باری (علی سوا) کے یہی معنی ہیں…
Read the full tafseer →121 معاہدے کی پابندی کا احترام طرفین سے مطلوب ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو، اور اس کی علامات اور نشانیاں پائی جائیں کہ وہ لوگ عہد شکنی پر تلے ہوئے ہیں، تو ایسی صورت میں تم پر ایسے کسی عہد کی پابندی لازم اور ضروری نہیں، بلکہ ایسے میں تم بھی اس عہد کو ان کے حوالے کرکے اس سے سکبدوش ہوجاؤ۔ مگر نقض عہد سے ان کو آگاہ کئے بغیر ان کے خلاف کوئی ایکشن و اقدام نہیں کرنا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ اے مسلمانو ! تم لوگ ان کی غداری کے باوجود ان کو آگاہ کیے بغیر نقض عہد کا ارتکاب نہیں کرنا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ عہد کی پابندی تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
عہد توڑنے والوں کی سزا، اسلامی سیاست کا آغاز
تشریح : ان آیات میں بنو قریظہ اور بنو نضیر کی بدعہدی اور ان کے ساتھ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے پھر اسلامی سیاست کی بنیاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ بنو قریظہ یہودی قبیلہ تھا جو مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ سے دوستی کا وعدہ کرلیتے مگر حقیقت میں کفار مکہ کے ساتھ ملے رہتے، پھر عہد کرتے، پھر توڑ ڈالتے یہ لوگ ہرگز اعتبار کرنے کے قابل نہ تھے۔ یہود کا سردار کعب بن اشرف تھا جیسا کہ کفار مکہ کا سردار ابوجہل تھا۔ تو ایسے بدعہد لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ غداری کے ثابت ہوجانے پر بڑی سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو کبھی معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 1 مطلب یہ ہے کہ ان پر حملہ کرنا چاہو تو انہیں پہلے سے مطلع کردو کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ ہمیں اند یشہ ہے کہ تم معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والے ہو لیکن اگر معاہدہ ختم کئے بغیر ان پر چڑھ دوڑ وگے تو یہ دغا معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی اور اللہ تعالیٰ دغا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ( وحیدی) چناچہ آنحضرت ﷺ کے خلفا کی یہی سیرت رہی کہ نقص عہد کی خطرہ کی صورت میں معاہدہ کے خاتمے کا اعلان فرمادیتے اور پھر حملہ آور ہوتے۔ ( ازابن کثیر، قر طبی) مگر جب کسی قوم نے بد عہد ی کردی ہو تو اس پر بیخبر ی میں حملہ کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کے ساتھ کیا ( کبیر )
Read the full tafseer →(8:58) تخافن۔ خوف سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ ۔ تو ڈرے۔ تجھ کو ڈر ہو۔
فانبذ الیہم۔ ای اطرح الیہم العھد تو تو اس عہد کو (جو تو نے انکے ساتھ کیا ہے) ان کی طرف پھینک مار۔ یعنی منسوخ کردو۔
علی سوائ۔ واضح طور پر ۔ یعنی ان کو اس منسوخی کا علم ہوجائے اور وہ نتائج کی ذمہ داری کا احساس کرنے لگیں (یعنی دونوں فریقوں کو مساوی طور پر معلوم ہوجائے کہ اب عہد منسوخ ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
آیات : 55 تا 59
لغات القرآن۔
عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔
تشریح :
سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
یہود کی بدعہدی
جس کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں میں تو عقل نہیں کہ وہ اس سے کام لیں۔ کافروں میں عقل ہے، اور پھر اس سے کام نہیں لیتے۔ عقل سے کام لیں تو چاروناچار ایمان لے آویں۔ یہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ آگے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہود بنی قریظہ اور مسلمانوں کا عہد و پیمان ہوگیا تھا کہ ہمارے مقابلہ میں کفار کو مدد نہ دینا۔ انہوں نے عہد توڑ دیا اور اور جنگ احد میں ہتھیاراوں سے دشمنوں کی مدد کی اور بعد میں کہنے لگے کہ ہم بھول گئے تھے۔ پھر دوسری بار عہد ہوا کہ آئندہ ہم مسلمانوں کے دشمنوں کو ہرگز ہرگز مدد نہ پہنچائیں گے، لیکن جنگ خندق میں کفار سے پھر اتفاق کر کے دوسری بار عہد توڑا۔ اس پر یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
[20] یعنی کھلے طور پر خبر دے دو کہ معاہدہ فسخ ہوگیا تاکہ فسخ معاہدہ کے علم میں دونوں فریق برابر ہوجائیں اور تیاری کے لئے دونوں کے مواقع یکساں ہوں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ قرآن نے ہر معاملے میں حتیٰ کہ جنگ میں بھی سچائی اور دیانت کا جو معیار قائم کیا ہے وہ کتنا بلند ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 2) یہود سے بنی قریظہ نے غداری کی اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کو مدد دی ، حضور ﷺ نے باز پرس کی تو کہہ دیا ہم بھول گئے تھے آئندہ محتاط رہیں گے ، غزوہ خندق میں پھر ان لوگوں کے ساتھ مل گئے ، اس لئے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ بار بار کی کی معاہدہ شکنی ناقابل برداشت ہے ، ان لوگوں کے معاہدہ کو توڑ دو ، اور عبرتناک سزائیں دو ، تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو ، اور آئے دن کی شرارتوں سے امن ملے ۔
حل لغات :
فشردبھم : تتر بتر کہ ہوئے ، فشرید کے معنی بری طرح منتشر کردینے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →58 یہ تو ذکر تھا ان کا جو نقض عہد کرنے کے خوگر ہیں اور اگر آپ کو کسی قوم معاہد کی جانب سے نقض عہد کا اندیشہ ہو تو آپ ان کے عہد کو ان پر واپس کردیجئے درآنحالیکہ آپ اور وہ عہد سے سبکدوش عہد توڑنے والے تو سزا کے مستحق ہی ہیں لیکن جس معاہد قوم کی طرف سے تم کو خیانت اور نقض عہد کا اندیشہ ہو تو ان پر حملہ کرنے سے پیشتر ان کو اطلاع دے دو تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں نے معاہدہ ختم کردیا تم اور وہ دونوں اس اطلاع میں برابر ہوجائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر ایک قوم نے کافروں سے صلح کی ہو پھر ان کی طرف سے دغا ہوچکے اب ان کو بیخبر ماردیئے اور جو دغا نہیں ہوئی لیکن اندیشہ ہے تو خبردار کر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 1۔ یعنی اس طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع کردیجیے۔ فائدہ۔ بدون ایسی اطلاع کے لڑناخیانت ہے۔
Read the full tafseer →الٰہی ہدایت نامہ کی دوسری ہدایت جو نبی و اعظم و آخر ﷺ کو دی گئی :
77; : فرمایا اے پیغمبر اسلام ! اگر یہ گروہ ابھی تک دشمنوں کے ساتھ نکلا نہیں لیکن ان کے خلاف ورزی کرنے کا آپ ﷺ کو اندیشہ ہے تو چاہئے کہ آپ ان کا عہد انہیں پر لوٹا دیں یعنی اعلان کردیں کہ آج سے ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد و پیمان ہوا تھا وہ منسوخ ہے اور ہم آپ کو اس کا پابند نہیں کرتے اور نہ خود پابند ہوتے ہیں یہ اعلان ہوجائے گا تو دونوں فریق کو یکساں طور پر تیاری کی مہلت مل جائے گی اور وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کھل کر کریں گے اور آپ جو دفاع کرنا چاہیں کھل کر کریں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور…
Read the full tafseer →The Option to Cancel a Peace Treaty
In the fifth verse (58), the Holy Prophet has been told about an important article which forms part of the law of war and peace. Here, after placing due stress on the importance of complying with the terms of a treaty, an alternative has also been laid out to cover a situation in which there may arise a danger of breach of trust from the other party to the treaty any time during its legal tenure. Given this situation, it remains no more necessary that Muslims should continue to abide by their allegiance to the treaty. But, also not permissible for Muslims…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
43. According to the above verse, it is not lawful for Muslims to decide unilaterally that their treaty with an ally is annulled either because of their grievance that their ally did not fully observe the terms of the treaty in the past or on ground of the fear that he would treacherously breach it in the future. There is no justification for Muslims to make such a decision nor to behave as if no treaty bound the two parties. On the contrary, whenever the Muslims are forced into such a situation they are required to inform the other party, before embarking on any hostile action, that the…
Read the full tafseer →