Explained with ayahs 55–57
زمین کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں
زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بدتر اللہ کے نزدیک بےایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول وقرار کیا ادھر پھرگئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 42
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے ہمارا معاہدہ ہو اور پھر وہ اپنی معاہدانہ ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر ہمارے خلاف کسی جنگ میں حصہ لے، تو ہم بھی معاہدے کی اخلاقی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوجائیں گے اور ہمیں حق ہوگا کہ اس سے جنگ کریں۔ نیز اگر کسی قوم سے ہماری لڑائی ہو رہی ہو اور ہم دیکھیں کہ دشمن کے ساتھ ایک ایسی قوم کے افراد بھی شریک جنگ ہیں جس سے ہمارا معاہدہ ہے، تو ہم ان کو قتل کرنے اور ان سے دشمن کا سا معاملہ کرنے میں ہرگز کوئی تامل نہ کریں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں اپنی قوم کے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اپنے آپ کو اس کا مستحق نہیں رہنے دیا ہے کہ ان کی جان و…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان بد عہدوں کے بارے میں ایک ہدایت نامہ دیا جس کے الفاظ یہ ہیں
(آیت) فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ، اس میں لفظ تَثْقَفَنَّهُمْ کے معنی ہیں ان پر قابو پانے کے اور شَرِّدْ مصدر تشرید سے بنا ہے جس کے اصلی معنی بھگا دینے اور منتشر کردینے کے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر آپ کسی جنگ میں ان لوگوں پر قابو پالیں تو ان کو ایسی سخت دردناک سزا دیں جو دوسروں کے لئے عبرت ہوجائے ان کے پیچھے جو لوگ ان کے سہارے پر اسلام دشمنی میں لگے ہوئے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ اب خیر اسی میں ہے کہ یہاں سے بھاگ کر…
Read the full tafseer →فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۔ ثقف کے معنی پا لینے کے ہیں اور تشرید کے معنی پراگندہ کردینے، تتر بتر کردینے کے مطلب یہ ہے کہ ابھی تو یہ جو کچھ کر رہے ہیں پردے میں کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی سامنے آنے کی جرات نہیں کر رہا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی گروہ سامنے آنے کی جرات کرے اور جنگ کے میدان میں تمہیں مل جائے تو انہیں ایسی مار ماریو کہ ان کے بھی پرخچے اڑجائیں اور جو ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے پر تول رہے ہیں ان کے پر وبال بھی جھڑ جائیں۔
لعلہم یذکرون، یعنی ان کا انجام دیکھ کر ان کو بھی سبق حاصل ہو کہ اگر انہوں نے بھی یہی حرکت کی تو ان…
Read the full tafseer →57۔ 1 شَرِّدْبِھِمْ کا مطلب ہے کہ ان کو ایسی مار مار کہ جس سے ان کے پیچھے، ان کے حمایتوں اور ساتھیوں میں بھگدڑ مچ جائے، حتٰی کہ وہ آپ کی طرف اس اندیشے سے رخ ہی نہ کریں کہ کہیں ان کا بھی وہی حشر نہ ہو جو ان کے پیش رؤوں کا ہوا۔
Read the full tafseer →39: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی جنگ میں کھل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آجائیں تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے کہ نہ صرف ان کو بد عہدی کے انجام کا پتہ لگ جائے بلکہ جو کفار مکہ ان کو پیچھے سے اکساتے رہتے ہیں ان کو بھی ایسی عبرت ہو کہ ان کے منصوبے تتر بتر ہو کر رہ جائیں۔
Read the full tafseer →یہ ایک عجیب انداز کلام ہے۔ اس میں ایک خوفناک گرفت اور ہولناک رعب و دبدبہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے سنتے ہی انسان بھاگنے اور اپنا مقام چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہوجائے گا جو سنیں اور دیکھیں۔ رہے وہ لوگ جن کو یہ سزا دی جائے تو ان کی حالت تو معلوم ہے کہ کیا ہوگی ؟ یہ وہ ضرب ہے جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے عبرتناک بھی ہے جنہوں نے نقص عہد کی تیاری کر رکھی ہو ، جنہوں نے انسانی قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیا ہو۔ یہ ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلامی محاذ امن کا سانس لے اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خارجی قوتیں ، جو بھی ہوں ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
2 یعنی اگر یہ دغا باز غدار معاہدوں کو اعلانیہ پس پشت ڈال کر آپ کے مقابل میدان جنگ میں آجائیں تو ان کو ایسی سخت سزا دیجئے، جسے دیکھ کر ان کے پیچھے رہنے والے یا ان کے بعد آنے والی نسلیں بھی عبرت حاصل کریں اور عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ کرسکیں اور اگر ایک قوم نے اعلانیہ دغابازی نہیں کی، ہاں آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ عہد شکنی پر آمادہ ہے تو آپ کو اجازت ہے کہ مصلحت سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دستبرداری کی اطلاع کر کے مناسب کارروائی کریں۔ تاکہ فریقین پچھلے معاہدات کی نسبت شک و اشتباہ میں نہ رہیں۔ دونوں مساویانہ طور پر آگاہ و بیدار ہو کر اپنی تیاری اور حفاظت میں مشغول ہوں۔ آپ کی…
Read the full tafseer →آیت 57 فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِی الْْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِمْ مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔
یہ یہودی آپ لوگوں کے خلاف کفار مکہ کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر سازشیں تو ہر وقت کرتے ہی رہتے ہیں ‘ لیکن اگر ان میں سے کچھ لوگ میدان جنگ میں بھی پکڑے جائیں کہ وہ قریش کی طرف سے جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں ان کو ایسی عبرت ناک سزا دو کہ قریش مکہ جو پیچھے بیٹھ کر ان کی ڈوریں ہلا رہے ہیں اور ان سازشوں کی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں ان کے ہوش بھی ٹھکانے آجائیں۔
Read the full tafseer →60 یہود مدینہ کی لاف زنی اور بزدلی اور انجام :۔ یہود مسلمانوں سے معاہدہ امن و آشتی کے باوجود اپنی شرارتوں، فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ بڑ مارنے اور شیخیاں بگھارنے میں بڑے ماہر تھے۔ مگر بزدل انتہا درجہ کے تھے غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ان کے بازار واقع محلہ بنو قینقاع میں تشریف لے گئے اور یہود کو جمع کر کے انہیں ان کی ایسی شر انگیز حرکتوں پر عار دلائی اور فرمایا کہ ایسے کاموں سے باز آجاؤ اور اسلام قبول کرلو تو تمہارے حق میں بہتر رہے گا۔ ورنہ تمہیں بھی ایسی ہی مار پڑے گی جیسی قریش مکہ کو پڑچکی ہے۔ اس دعوت کا انہوں نے انتہائی توہین آمیز جواب دیا اور کہنے لگے۔…
Read the full tafseer →86 ۔ (کہ عہد شکنی کا انجام یہی ہوتا ہے) لعلھم یتعظون (کشاف) حتی لایجسر علیک احد بعدھم اعتارا بھم واتعاظا بحالھم (کشاف) (آیت) ” تثقفنھم “۔ یعنی آپ ان پر قابوپاجائیں۔ فاما تصادفنھم وتظفرن بھم (کشاف) قال اللیث یقال ثقفنا فلانا فی موضع کذا اے اخذناہ وظفرنا بہ (کبیر) (آیت) ” فشردبھم “۔ یعنی ان کے واسطہ سے، انہیں نمونہ بنا کر انہیں پارہ پارہ کردے، التشرید عبارۃ عن التفریق مع الاضطراب (کبیر) والتشرید فی اللغۃ التبدید والتفریق (قرطبی) (آیت) ” من خلفھم “۔ خلف یہاں علاوہ کے معنی میں ہے اور من، الذی کے مرادف ہے۔ اے من وراءھم (کشاف) من بمعنی الذی (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ذالک باَنَّ اللہ لَمْ یک مغیراً نعمة الخ اللہ تعالیٰ نے اعطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا نہ ان کے لئے کوئی قید لگائی نہ ان کو کسی اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جلّ شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں جب کہ نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل، اگر حق تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔
حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالیمن اور رحمٰن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے البتہ اس نعمت و…
Read the full tafseer →فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون۔ سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں کو پائیں تو ان (کو سخت سزا دے کر ان) کے ذریعہ سے ان لوگوں کو منتشر کردیں جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں۔
یعنی اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ اور گرفتار کرلو۔ فَشَرِّدْبِھِمْ ‘ تشرید کا لغوی معنی ہے بےچین کر کے متفرق کردینا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو ایسی سزا دو کہ پیچھے والوں کو عبرت ہو۔ یعنی ان عہدشکنوں کو اس طرح قتل کرو اور سزا دو کہ مکہ اور یمن کے رہنے والے جو ان کے پیچھے ہیں ‘ ان کو عبرت ہو ‘ وہ ڈر جائیں اور اپنے جتھوں کو تمہارے مقابلہ پر نہ لائیں۔ اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →(57) آپ ان کو قید کرکے جلاوطن کردیجیے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو اور اس سے نصیحت حاصل کرکے بدعہدی چھوڑ دیں ،
Read the full tafseer →فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ : ”تَشْرِیْدٌ“ کا معنی خوف پیدا کرنے کے ساتھ بھگدڑ مچا کر انھیں منتشر کرنا ہے، یعنی اگر کبھی لڑائی میں آپ انھیں کہیں پالیں تو انھیں بد عہدی کی ایسی سخت سزا دیں کہ ان کے پیچھے جو دوسرے ایسے کفار ہیں اور جن سے تمہارا معاہدہ ہے، وہ بھی مرعوب اور خوف زدہ ہوجائیں اور انھیں ایسی عبرت حاصل ہو کہ معاہدے کی خلاف ورزی کا نام تک نہ لیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ اس سے پہلے یہود بنو نضیر اور بنو قینقاع کی جلاوطنی ہی پر اکتفا فرمایا تھا، مگر بنو قریظہ کی مسلسل بد عہدیوں اور عین خندق کے موقع پر معاہدہ توڑنے کے نتیجے میں انھیں 25 دن کے محاصرے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
مسئلہ نمبر 2 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اگر یہ کہا جائے کہ خیانت کے خوب کے ساتھ معاہدہ توڑنا کیسے جائز ہو سکتا ہے، حالانکہ خوف ظن ہے جس کے ساتھ یقین نہیں ہے، تو عہد کا یقین خیانت کے ظن کے ساتھ کیسے ساقط ہو سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب دو اعتبار سے ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوف کبھی یقین کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ رجائ) امید) علم (یقین) کے معنی میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشار فرمایا : مالکم لاترجون اللہ وقار۔ ( نوح) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم پرواہ نہیں کرتے اللہ کی عظمت و جلال کی) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خیانت کے آثار ظاہر ہوجائیں اور اس کے دلائل ثابت ہوجائیں، تو معاہدہ کو توڑنا واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1۔ ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ان شرالدوآب عند اللہ الذین کفروا فہم لا یومنون (55) یہودیوں کے چھ گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں ایک تابوت بھی تھا۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) الذین عھدت منہم ثم ینقضون عہدھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودیوں کا قبیلہ قریظہ ہے جس نے جنگ خندق کے دوران محمد ﷺ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کی۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فشردبہم من خلفہم ‘ تم ان کو عبرت ناک سزا دو کو جو ان کے بعد ہیں۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس سے روایت ہے کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →فَاِمَّا [ تو اگر کبھی بھی ] تَثْقَفَنَّهُمْ [ آپ پائیں ان کو ] فِي الْحَرْبِ [ جنگ میں ] فَشَرِّدْ [ تو آپ بھگائیں ] بِهِمْ [ ان کے ذریعہ سے ] مَّنْ [ ان کو جو ] خَلْفَهُمْ [ ان کے پیچھے ہیں ] لَعَلَّهُمْ [ شاید وہ لوگ ] يَذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کریں ]
ش ر د : (ن) شردا ۔ بدکنا ۔ بھاگنا ۔ (تفعیل ) تشریدا ، ڈرانا ۔ بھگانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔
(آیت ۔ 57) فشرد کا مفعول من ہے جبکہ خلفہم ظرف ہونے کی وجہ سے نصیب میں ہے۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ ) (سو اگر آپ انہیں جنگ میں پالیں تو ان کے ذریعے ان لوگوں کو منتشر کردیں جو ان کے پیچھے ہیں) یعنی لڑائی کے موقعہ پر آپ ان پر ایسا حملہ کریں کہ یہ نا کام ہوجائیں۔ ان کی نا کامی اور آپ کی کامیابی کا جب شہرہ ہوگا تو ان کے پیچھے یعنی ان کے علاوہ جو بہت سے قبائل ہیں وہ بھی منتشر ہوجائیں گے اور آپ پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کریں گے (لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ) تاکہ ان کو عبرت حاصل ہو اور وہ جان لیں کہ نقض عہد کرنے والوں کا اور کفر سے چمٹنے والوں کا کیا انجام ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
بیان احوال وحاکم کفار اہل کتاب
قال اللہ تعالیٰ ان شر الدواب عندا لہ الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔ انھم لا یعجزون
(ربط) شروع سورت سے یہاں تک کفار مشرکین کے احوال و قتال کا بیان تھا اب ان آیات میں کفار اہل کتاب یعنی یہود کے احوال و قتال کا بیان ہے کیونکہ ان آیات کا سبب نزول یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی اور اسلام کی دشمنی ہے یہود نے آں حضرت ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے دشمنوں (کفار مکہ) کو کوئی مدد نہ دیں گے مگر پھر ان کی غزوہ احراب میں مدد کی اور بھی چند بار ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ یہ کہ دیتے کہ ہمیں عہد یاد نہیں رہا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی اور اسی عہد شکنی اور حق کی دشمنی کی وجہ سے ان کو بدترین…
Read the full tafseer →58 ۔ یہ دوسرا قانونِ جنگ ہے اور نبی کریم ﷺ سے مخصوص ہے یعنی جو لوگ آپ کے ساتھ اس طرح بار بار عہد شکنی کر رہے ہیں اگر کبھی جنگ میں آپ کے بالمقابل آجائیں تو آپ انہیں ایسی سزائے سخت دیں کہ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی خوفزدہ ہوجائیں یا ان کی آنے والی نسلیں بھی اس سے عبرت حاصل کریں اور آئندہ کبھی نقض عہد (عہد توڑنے) کی جرات نہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ربطِ آیات :
اللہ تعالٰٰ نے جہاد سے متعلق سات اہم اصول بیان کردیے ہیں۔ منافقوں کا حال بھی بیان ہوا ہے کہ جب مسلمان بدر کی طرف روانہ ہوئے تو منافق کہنے لگے کہ مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ دھوکہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے جو کوئی اللہ کی ذات پر بھروسہ کریگا تو اللہ تعالیٰ اسے غلبہ نصیب فرمائے گا پھر اللہ نے منافقوں اور مشرکوں کی عادت کو آلِ فرعون کی عادت سے تشبیہ دی جنہوں نے کفر پر اصرار کیا اور دین حق کی مخالفت کی ، وہ اپنے گناہوں کے بدلے میں پکڑے گئے اور اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کیا ۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں ، وہ ان کو چھوڑتا…
Read the full tafseer →فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِمْ مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَ 57
ثقف
الثَّقْفُ : الحذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه قيل : رجل ثَقِفٌ ، أي : حاذق في إدراک الشیء وفعله، ومنه استعیر : المُثَاقَفَة ورمح مُثَقَّف، أي : مقوّم، وما يُثَقَّفُ به : الثِّقَاف، ويقال : ثَقِفْتُ كذا : إذا أدركته ببصرک لحذق في النظر، ثم يتجوّز به فيستعمل في الإدراک وإن لم تکن معه ثِقَافَة . قال اللہ تعالی: وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ [ البقرة/ 191] ، وقال عزّ وجل : فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ [ الأنفال/ 57] ، وقال عزّ وجل : مَلْعُونِينَ أَيْنَما ثُقِفُوا أُخِذُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ترکیب : الذین کفروا خبر ان فاما شرط تثقفنھم تجدنہم چونکہ شرط کا کلمہ ان ما کے ساتھ مؤکد ہوگیا اس لئے اس کے بعد فعل کو نون تاکید کے ساتھ لانا مستحسن ہو۔ افشرد جواب شرط فرق بہم ای بسببہم متعلق ہے شرد سے۔ من موصولہ خلفہم ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ یہ سب شرد کا مفعول ہوا خیانۃ مفعول ہے تخافن کا فانبذا طرح عہد ھم علی سوا حال ہے ای مستویاسب جواب شرط۔ من قوۃ ومن رباط الخیل ما کا بیان ہے الذین کفروا یحسبن کا فاعل ‘ سبقوا مفعول اور بعض نے تحسبن بھی پڑھا ہے۔
تفسیر : کافروں کو کہا تھا کل کانوا ظالمین اب ان ظالموں میں سے زیادہ تر راندہ درگاہوں کا ذکر اور ان کی عادت کا بیان فرماتا ہے کہ ان سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اِنَّ شَرَّالدَّ وَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّھُمْ لَایَتَّقُوْنَ ۔ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِیْ الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ ( الانفال : 55 تا 57)
(بےشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔ (خصوصاً ان میں سے وہ لوگ) جن سے آپ نے معاہدہ کیا ہے پھر وہ ہر مرتبہ اس معاہدے کو توڑ دیتے ہیں اور وہ بالکل نہیں ڈرتے۔ سو اگر آپ پائیں انھیں لڑائی میں تو انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیو ستہ : آل فرعون جیسا کردار اختیار کرنے والے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
رسول معظم ﷺ نے مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد اہل مدینہ سے بقائے باہمی کا معاہدہ کیا جسے تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے مدینے کے یہودیوں اور باسیوں سے طے کیا کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم سب مل کر شہر کا دفاع کریں گے۔ اس عہد کی رو سے یہودی آپ ﷺ کے حلیف تھے لیکن جب کفار نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تو اس موقع پر یہودیوں کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ تھیں اور انھوں نے میثاق مدینہ کی پرواہ نہ کی۔
جب بدر میں مسلمان کا میاب ہوئے تو یہودیوں کے سب سے بڑا قبیلہ…
Read the full tafseer →آیت 57: فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ (پس اگر آپ لڑائی میں ان پر قابو پالیں) جب آپ کا ان سے سامنا ہوجائے اور ان پر کامیابی پالو۔ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ (تو ان کے ذریعہ پچھلے لوگوں کو منتشر کردو) اپنی لڑائی اور قتل سے ان کو اس طرح منتشر کردو کہ ان کے پچھلے کافروں کو بھی عبرت ہو تاکہ وہ آئندہ جرأت نہ کریں اور ان سے عبرت حاصل کرلیں۔ زجاج کہتے ہیں۔ ان سے ایسا سلوک کرو جس سے ان کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوجائے اور ان کے علاوہ بھی ان سے منتشر کردو۔ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں) شاید کہ منتشر ہونے والے نْصیحت حاصل کرلیں۔
Read the full tafseer →57(فاما تثقفنھم فی الحرب فشر دبھم من خلفھم) مقاتل (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) ان کو لڑائی میں پائیں۔ تو ان کو ایسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کے پچھلوں کے لئے عبرت بنادیں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ان کے ذریعے پچھلوں کو ڈرا دیں اور تشدید کی اصل جدا کرنا ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہر عہد توڑنے والے کی قوت و جماعت کو متفرق کردیں۔ یعنی جن لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کا عہد توڑا اور آپ (علیہ السلام) سے لڑائی کے لئے آئے ان کو قتل کریں اور ایسی سزا دیں کہ وہ عبرت بن جائیں جس کی وجہ سے ان کے پچھلے اہل مکہ و اہل یمن آپ (علیہ السلام) سے ڈریں۔ (لعلھم یذکرون)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 58۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد سے اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اور یہود بنی قریظہ کا یہ معاہدہ تھا کہ نہ وہ لوگ آنحضرت سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کے دشمن کو مدد دینگے پہلے انہوں نے خلاف معاہدہ کر کے مشرکین مکہ کو ہتھیاروں کی مدد دی اور جب ان سے پوچھا گیا تو معاہدہ کے یاد نہ رہنے کا عذر کیا پھر دوبارہ معاہدہ کیا اور پھر معاہدہ کے برخلاف تمام قبائل عرب کو بہکا کر خندق کی لڑائی میں چڑھا لائے ان میں ایک شخص کعب بن اشرف شاعر بڑا شریر تھا مسلمانوں کی ہمیشہ ہجو کیا کرتا تھا یہ وہی کعب بن اشرف ہے جس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آیت 55
فرمایا (ان) بیشک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں۔۔۔ یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت۔۔۔ خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں اس پر پکے نہیں رہتے (شرالدوآب عنداللہ) ” سب جان داروں میں بدترین ہیں اللہ کے ہاں “ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے، لہٰذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لئے فرمایا : (فاما تتقفنھم فی الحرب) ” پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ ‘ ق جب کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ (…
Read the full tafseer →دشمن پر ضرب کاری کی ضرورت ہے
قول باری ہے (فاما ثقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم۔ پس گر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہوجائیں) تثقفھم کے معنی تصادفھم کے ہیں یعنی تمہیں مل جائیں۔ حسن، قتادہ اور سعید بن جبیر نے (فشردبھم من خلفھمض کی تفسیر میں کہا ہے کہ جب تم انہیں گرفتار کرلو تو انہیں ایسی سزا دو کہ اس کے خوف سے دوسرے ناقضین عہد (معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والوں) کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ انہیں اس طرح تہہ تیغ کرو جو لوگ ان کے پیچھے رہ کر تمہارے خلاف جنگ کرنے میں ان کی مدد کرتے…
Read the full tafseer →120 عہد شکنوں کی سرکوبی کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا اگر تم ان پر جنگ میں قابو پالو تو ان کی اچھی طرح خبر لو تاکہ یہ سبق لیں اور بچیں عہد شکنی اور اس کے برے عواقب و نتائج سے اور اس طرح نجات مل سکے عامۃ الناس اور پورے معاشرے کو ایسے رذائل و قبائح سے۔ سو دینی تعلیمات و ارشادات رحمت ہی رحمت اور برکت ہی برکت ہیں سب کے لئے ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف ایسے لوگوں کیلئے جو کہ اعلانیہ اور بار بار عہد شکنی کرتے ہیں، اس طرح سختی سے نمٹنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ دوسروں کیلئے عبرت بن جائیں اور دوسرے ایسے جرائم کے ارتکاب سے باز رہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کفار و مشرکین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
عہد توڑنے والوں کی سزا، اسلامی سیاست کا آغاز
تشریح : ان آیات میں بنو قریظہ اور بنو نضیر کی بدعہدی اور ان کے ساتھ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے پھر اسلامی سیاست کی بنیاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ بنو قریظہ یہودی قبیلہ تھا جو مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ سے دوستی کا وعدہ کرلیتے مگر حقیقت میں کفار مکہ کے ساتھ ملے رہتے، پھر عہد کرتے، پھر توڑ ڈالتے یہ لوگ ہرگز اعتبار کرنے کے قابل نہ تھے۔ یہود کا سردار کعب بن اشرف تھا جیسا کہ کفار مکہ کا سردار ابوجہل تھا۔ تو ایسے بدعہد لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ غداری کے ثابت ہوجانے پر بڑی سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو کبھی معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی انہیں بد عہدی کی ایسی سخت سزا دو کہ ان کے پیچھے جو دوسرے ایسے کفار موجود ہیں اور جن سے تمہارا معاہدہ ہے وہ بھی مر عوب جائیں اور انہیں ایسی عبرت حاصل ہو کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کا نام تک نہ لیں۔ ( از وحیدی)
Read the full tafseer →(8:57) اما۔ اگر۔ تثقفنھم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ۔ (باب سمع) تو ان کو پائے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اصل میں ثقف کے معنی کسی چیز کے ادراک کرنے اور اس کے سرانجام دینے میں حذاقت (کام کو اچھی طرح کرنا) اور مہارت کے ہیں۔ لیکن بعد میں صرف ادراک کرنے اور پانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اگرچہ حذاقت نہ ہو۔ قرآن میں ہے وافتلوہم حیث ثقفتموھم (2:191) اور قتل کر ڈالو انہیں جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ۔
فشردبھم۔ شرر البعیر۔ کے معنی ہیں اونٹ بدک کر بھاگ نکلا اور شررت بہ میں نے اس سے ایسا برتاؤ کیا کہ اسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس جیسا کام نہ کریں۔ جیسے نکلت بہ کے مطلب ہے کہ میں نے اسے دوسروں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
آیات : 55 تا 59
لغات القرآن۔
عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔
تشریح :
سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
یہود کی بدعہدی
جس کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں میں تو عقل نہیں کہ وہ اس سے کام لیں۔ کافروں میں عقل ہے، اور پھر اس سے کام نہیں لیتے۔ عقل سے کام لیں تو چاروناچار ایمان لے آویں۔ یہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ آگے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہود بنی قریظہ اور مسلمانوں کا عہد و پیمان ہوگیا تھا کہ ہمارے مقابلہ میں کفار کو مدد نہ دینا۔ انہوں نے عہد توڑ دیا اور اور جنگ احد میں ہتھیاراوں سے دشمنوں کی مدد کی اور بعد میں کہنے لگے کہ ہم بھول گئے تھے۔ پھر دوسری بار عہد ہوا کہ آئندہ ہم مسلمانوں کے دشمنوں کو ہرگز ہرگز مدد نہ پہنچائیں گے، لیکن جنگ خندق میں کفار سے پھر اتفاق کر کے دوسری بار عہد توڑا۔ اس پر یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →[19] یعنی مشرکین مکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 2) یہود سے بنی قریظہ نے غداری کی اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کو مدد دی ، حضور ﷺ نے باز پرس کی تو کہہ دیا ہم بھول گئے تھے آئندہ محتاط رہیں گے ، غزوہ خندق میں پھر ان لوگوں کے ساتھ مل گئے ، اس لئے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ بار بار کی کی معاہدہ شکنی ناقابل برداشت ہے ، ان لوگوں کے معاہدہ کو توڑ دو ، اور عبرتناک سزائیں دو ، تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو ، اور آئے دن کی شرارتوں سے امن ملے ۔
حل لغات :
فشردبھم : تتر بتر کہ ہوئے ، فشرید کے معنی بری طرح منتشر کردینے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →57 لہٰذا اگر آپ لڑائی میں ایسے عہد شکن کافروں پر قابو پالیں تو آپ ان کو ایسی سزا دیجئے کہ آپ اس سزا کے باعث ان لوگوں کو منتشر کردیں اور بھگا دیں جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں اور عبرت پکڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بار بار نقض عہد کرتے ہیں ان پر اگر آپ لڑائی میں قابو پالیں اور ان سے مقابلہ ہوجائے اور ایسے لوگ آپ کے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو ایسی سزا دیجئے کہ اس سزا کی وجہ سے آپ ان کافروں کے پائوں بھی اکھیڑ دیں جو ان کے علاوہ ہیں اور ان کی پشت پناہی کررہے ہیں وہ بھی منتشر ہوجائیں ان میں سے بھی کسی کی ہمت نہ پڑے کہ وہ آپ کے مقابلہ میں آسکے اور ان کو ایسا سبق دیجئے جس سے آئندہ نسلیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 10۔ سبب نزول اس آیت کا یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے مخالفین کو مدد نہ دیں گے اور پھر بھی غزوہ احزاب میں مشرکین کو مدد دی اور بھی چند بار ایسا ہوچکا تھا ہر بار کہہ دیتے تھے کہ ہم بھول گئے پھر تازہ عہد کرتے تھے پھر ایسا ہی کرتے تھے اس پر ان آیتوں میں آپ کو حکم ہوا ان سے قتال کا۔
Read the full tafseer →جو ڈھیل ان کو دی جا چکی وہ دی گئی ، آئندہ اگر وہ کوئی خلاف ورزی کریں تو کوئی معافی نہیں :
76: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اعظم و آخر ﷺ کو ایک قانونی ہدایت نامہ دیا گیا کہ آئندہ اگر لڑائی میں انہیں موجود پاؤ یعنی براہ راست وہ میدان میں اتریں یا تمہارے دشمنوں کو کمک و مدد پہنچائیں تو ان کو ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھی عبرت ہوجائے اور وہ سمجھ لیں کہ اب خیر اسی میں ہے کہ اب یہاں سے بھاگ کر جان بچائیں۔ مطلب یہ ہے کہ آئندہ ان کا کوئی عذر قبول نہ کیا جائے اور نہ ان کو مہلت دی جائے بس آج کے بعد ان کی سزا صرف اور صرف ان کا قتل ہے۔ ہاں ! یہ خود بھاگ کر یہاں سے نکال جائیں اور جانیں…
Read the full tafseer →In the fourth verse (57), Allah Ta` ala has given a standing instruction to His Rasul ﷺ about such evil breakers of solemn pledges in the following words:
فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ﴿57﴾
So, if you find them in war, make them an example (deterrent) for those behind them, so that they take a lesson.
Here, the word: تَثْقَفَنَّهُمْ (tathqafannahum) means to get the upper hand against them and the word: شرّدَ (sharrada) is a derivation from the infinitive noun: تَشرِید (tashrid) which essentially means to drive out or…
Read the full tafseer →42. The verse makes it lawful for Muslims to feel absolved of the obligations of a treaty with a people who, despite that alliance, threw the obligations of the treaty overboard and engaged in hostile actions against the Muslims. It would even be lawful for the Muslims to engage in hostilities against them. Likewise, if the Muslims are engaged in hostilities against a people and the non-Muslims who are bound in treaties of alliance or friendship with the Muslims, array themselves on the side of the enemy and fight against the Muslims, it would he lawful for the Muslims to treat them as…
Read the full tafseer →