Al-Anfaal 8:64

Al-Anfaal · from ayah 64

8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟۠يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, sufficient for you is Allah and for whoever follows you of the believers.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:64

اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مومن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبئ (معّظم!) آپ کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ مسلمان جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کرلی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! ایمان والوں کو لڑائی پر ابھار، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں تو ان میں سے ہزار پر غالب آئیں جنھوں نے کفر کیا۔ یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! آپ کے لئے اور ان مومنوں کے لئے جو آپ کے حکم پر چلتے ہیں اللہ ہی کافی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی تمہارے لیے اللہ اور یہی مومنین جنہوں نے تمہاری پیروی اختیار کی ہے کافی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبر ! کافی ہے آپ کو بھی، اور ان تمام اہل ایمان کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی آپ کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ مومنین بھی جنہوں نے آپ کو اتباع کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ آپ کے لیے کافی ہے اللہ اور وہ جو پیروی کر رہے ہیں آپ کی اہل ایمان میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے نبی ! اللہ آپ کو اور مومنو کو جو تمہاری پیروی کرنیوالے ہیں کافی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet! Allah is sufficient for you and the believers who follow you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O Prophet, Allah is sufficient for you, and the believers who followed you.

— Muhammad Taqi Usmani

O Prophet, Allah is sufficient for you, and the believers who followed you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Allah is sufficient for you and for the believers who follow you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Allah is Sufficient for thee and those who follow thee of the believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, sufficient for you is Allah and for whoever follows you of the believers.

— Saheeh International

Prophet, God and the believers who follow you are sufficient support for you.

— Muhammad Sarwar

O Prophet! Allah is sufficient for you and (for) such of the believers as follow you.

— Muhammad Habib Shakir

0 Prophet! sufficient unto thou is Allah and those who follow thee of believers.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! sufficient unto thee is Allah,- (unto thee) and unto those who follow thee among the Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–66

ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْاَنْفَال 46 اشارہ ہے اس بھائی چارے اور الفت و محبت کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والے اہل عرب کے درمیان پیدا کر کے ان کو ایک مضبوط جتھا بنادیا تھا، حالانکہ اس جتھے کے افراد ان مختلف قبیلوں سے نکلے ہوئے تھے جن کے درمیان صدیوں سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں۔ خصوصیت کے ساتھ اللہ کا یہ فضل اوس و خزرج کے معاملہ میں تو سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ یہ دونوں قبیلے دو ہی سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور مشہور جنگ بعاث کو کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے جس میں اوس نے خزرج کو اور خزرج نے اوس کو گویا صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا تہیہ کرلیا تھا۔ ایسی شدید عداوتوں کو دو تین سال کے اندر گہری دوستی و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں بھی یہی مضمون خلاصہ کے طور پر بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے لئے حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور ظاہر کے اعتبار سے مؤمنین کی جماعت کافی ہے آپ کسی بڑے سے بڑے دشمن کی تعداد یا سامان سے خوف زدہ نہ ہوں۔ حضرت مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے میدان میں جنگ شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی تاکہ قلیل التعداد، بےسامان مسلمان اپنے مقابل کی بھاری تعداد اور بھاری سامان سے مرعوب نہ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کی ہدایت : یہ آیت تمہید ہے اس حکم کی جو بعد والی آیت میں مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے نبی ﷺ کو دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ کی مدد اور ان تھوڑے سے مسلمانوں ہی کی رفاقت کافی ہے، تو تم کفار کی کثرت اور اپنے ساتھیوں کی قلت کی فکر نہ کرو۔ گویا وہی بات جو اوپر فان حسبک اللہ ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین۔ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے، یہاں دوسرے اسلوب سے کہی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ ومن اتبعک کا عطف، اللہ پر ماننے سے شرک کا پہلو پیدا ہوتا لیکن یہ خیال کلام کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

63۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے، ان میں سے ایک بڑے احسان کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کی مومنین کے ذریعے سے مدد فرمائی، وہ آپ کے دست بازو اور محافظ و معاون بن گئے۔ مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اسے محبت و الفت میں تبدیل فرما دیا، پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے، پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے اب آپس میں رحیم و شفیق ہوگئے صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کر کے، باہم پیار اور محبت پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت و مشیت کی کارفرمائی تھی، ورنہ یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–64

44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 64–65

تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔ یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اے پیغمبر ! خدا تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو کافی ہے۔ یعنی قلت عدد اور بےسروسامانی سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اور بعض علماء نے یہ معنی لیے ہیں کہ اے پیغمبر ! تجھ کو فی الحقیقت اکیلا خدا کافی ہے اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے مخلص مسلمانوں کی جماعت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو کافی ہے۔ پہلے جو فرمایا تھا۔ ( ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ ) 8 ۔ الانفال :62) گویا یہ اسی کا خلاصہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اگر اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : اے نبی ﷺ اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں ان کے لیے بھی۔ عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ آپ کو بھی کافی ہے اور ان مومنوں کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور مسلمانوں کی یہ جماعت جو آپ کی پیروی کرتی ہے۔ آپ کو کافی ہے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہو۔ گویا یہ مطلب سابقہ آیت (هُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ ) 8 ۔ الانفال :62) کا ہی خلاصہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 63–64

وَاَلَّفَ بین قلوبھم، الخ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مومنین پر جو احسانات فرمائے ان میں ایک بڑے احسان کا ذکر ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کی مومنین کے ذریعہ مدد فرمائی وہ آپ کے دست وبازو اور محافظ و معاون بن گئے، مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی اسے محبت و الفت میں تبدیل فرمادیا پہلے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اب ایک دوسرے کے جاں نثار بن گئے، خصوصیت کے ساتھ اللہ کا فضل اوس و خزرج کے معاملہ میں تو سب سے زیادہ نمایاں تھا، یہ دونوں قبیلے دو ہی سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور مشہور جنگ بعاث کو کچھ زیادہ دن نہیں گذرے تھے جس میں اوس نے خزرج کو اور خزرج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المؤمنین۔ اے نبی ! آپ کیلئے اللہ اور وہ مؤمن جنہوں نے آپ کا اتباع کیا ہے ‘ کافی ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ من اتبعک کا عطف حَسْبُکَ کے کاف پر ہے خواہ اس کو حَسْبُکَ کا مضاف الیہ مجرور قرار دیا جائے جیسا کہ علمائے کوفہ کا قول ہے ‘ یا مفعول معہ منصوب مانا جائے جیسے ایک شاعر کا قول ہے : حسبک والضحاک سیف عھند اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ” اے نبی ! تمہارے لئے اور تمہارے اتباع کرنے والے مؤمنوں کیلئے اللہ کافی ہے۔ “ اس ترکیب کلام میں معنوی لحاظ سے تو قرب فہم ہے مگر لفظی بعد ضرور ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ من اتبعک کا عطف اللّٰہُ پر ہے ‘ اس وقت مطلب اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) اللہ تعالیٰ ہی آپ کے لیے کافی ہے اور اوس و خزرج ظاہرا آپ کے لیے کافی ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا النبی حسبک اللہ“۔ (الخ) بزار ؒ نے ضعیف سند کے ساتھ بذریعہ عکرمہ ؒ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو مشرکین کہنے لگے کہ آج کے دن ہم سے آدمی قوم تقسیم ہوگئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس روایت کے اور بھی شواہد ہیں۔ اور طبرانی ؒ وغیرہ نے سعید بن جبیر ؒ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب 39 مرد وعورتوں نے رسول اکرم ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو چالیس کی تعداد پوری…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے یہاں دوبارہ اس جملے کو لا کر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی پیروی کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ”وَمَنِ اتَّبَعَنَ“ میں واؤ کا عطف ”حَسْبُكَ“ کے کاف پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والے مومنوں کو کافی ہے۔ یہ واؤ بمعنی ”مَعَ“ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو مع آپ کے ساتھیوں کے سب کو کافی ہے۔ بعض لوگوں نے اس واؤ کا عطف لفظ ”اللّٰهُ“ پر ڈالا ہے، اس صورت میں ترجمہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یایھا النبی حسبک اللہ ومن التبعک من المؤمنین۔ ” اے نبی ( مکرم) کافی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ اور جو آپ کے فرمانبردار ہیں مومنوں سے “ یہ تکرار نہیں ہے ‘ کیونکہ ماسبق کلام میں فرمایا ہے : وان یریدوا ان یخدعوک فان حسبک اللہ اور یہ کفایۃ خاصہ ہے اور اس ارشاد یا یھا النبی حسبک اللہ میں تعمیم کا ارادہ فرمایا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں آ پکو کافی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : یہ آیت حضرت عمر ؓ کے اسلام کے بار میں نازل ہوئی ‘ کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تنتیس آدمی اور چھ عورتیں اسلام لاچکی تھیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا اور وہ (مسلمان) چالیس ہوگئے۔ یہ آیت مکی ہے اور رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا تو مشرکین نے کہا آج قوم ہمارے آدھے تک پہنچ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ 2:۔ طبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب انتالیس مرد اور عورتیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے پھر حضرت عمر ؓ ایمان لے آئے تو یہ لوگ چالیس ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (64) “۔ 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کے ساتھ تینتیس مرد اور چھ عورتیں مسلمان ہوگئیں پھر نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [ اے نبی ] حَسْبُكَ [ کافی ہے آپ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَمَنِ [ اور ان کو جو ] اتَّبَعَكَ [ ہم قدم رہے آپ کے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اے نبی آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور مومنین کافی ہیں جنہوں نے آپ کا اتباع کیا) ۔ اصل مدد تو اللہ ہی کی ہے۔ جو حقیقی مدد ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر مسلمانوں کی جماعت اور جمعیت بھی آپ کے ساتھ ہے۔ یہ حضرات آپ کا اتباع کرنے والے ہیں جہاں دیگر مسائل معاد اور اسباب معاش میں آپ کا حکم بجالاتے ہیں وہاں جہاد میں بھی وہ دل سے اور جان و مال سے آپ کا اتباع کرنے والے ہیں، اہل ایمان کی جماعت مخلص ہو، رسول اللہ ﷺ کی متبع اور مجتمع ہو تو پھر دشمن ان پر غالب نہیں آسکتا۔ صاحب روح المعانی ص 30 ج 10 نے حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت اور صلح کے بعد مسلمانوں کو توکل کا حکم اور وعدۂ نصرت وحفاظت قال اللہ تعالیٰ ۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا۔۔۔ الی۔۔۔ ومن اتبعک من ال مومن ین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ارباب کفار کا بیان تھا یعنی اتنی قوت اور طاقت فراہم کرو کہ دشمن مرعوب ہوجائے اب آگے یہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت دشمن صلح کی طرف مائل اور تم سے صلح کی درخواست کرے تو حسب ضررت ومصلحت ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرنا جائز ہے مگر واجب نہیں اس لیے کہ اصل فریضہ کفار سے جہاد و قتال کرنا ہے البتہ حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت ہے حکم نہیں۔ شریعت نے کافروں سے اصل حکم جہاد کا دیا ہے اور بوقت ضرورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64: چوتھا قانونِ جہاد مخصوص بآنحضرت ﷺ ۔ اگر مشرکین آپ کے ساتھ صلح کرنے کا ارادہ ظاہر کریں تو آپ بھی اگر اس میں مصلحت سمجھیں تو صلح کا ہاتھ آگے بڑھا دیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ آپ کا حامی وناصر ہے۔ “ جَنَحُوْا اي مالوا ” اور “ سلم ” کے معنی صلح کے ہیں۔ “ اِنَّهٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” جملہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ “ وَ اِنْ يُّرِیْدُوْا الخ ” صلح کی صورت میں مشرکین کی طرف سے دھوکے اور فریب کا اندیشہ ہوکستا تھا کہ بظاہر وہ صلح کا ارادہ ظاہر کریں اور اس سے ان کا مقصد آپ کو جنگی تدبیروں سے غافل اور ان کے خطرے سے مطمئن کرنا ہو تو اس کا جواب بھی ارشاد فرما دیا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں آپ کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–64

ربطِ آیات : گذشتہ درس میں فرضیت جہاد کے ضمن میں اہل ایمان کو حکم دیا جا چکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں حسب استطاعت قوت فراہم کریں۔ اس سے مراد نہ صرف انفرادی قوت ہے بلکہ زمانے کی مناسبت سے جدید ترین اسلحہ ، ذرائع نقل وحمل اور بہترین ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن اسلام بھی اپنے باطل پروگرام کی تکمیل کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ، لہٰذا ایمان والوں کا بھی فرض ہے ، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کہ بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں جنگ کے سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا سارے اہم اصول بیان کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 64 ۧ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–67

ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔ تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع (اے نبی ! کافی ہے آپ کے لیے اللہ اور وہ مومن جو آپ کے پیروکار ہیں۔ ) سیاقِ کلام کے اعتبار سے آیت کا مفہوم پہلی آیت کریمہ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ایک تو وہ جو ہم نے آیت کے نیچے لکھا ہے اور دوسرا یہ کہ (اے نبی ! اللہ آپ کو کافی ہے اور آپ کے پیروکار مومنوں کے لیے کافی ہے ) ان دونوں میں معنویت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں لیکن سیاق کلام کے اعتبار سے پہلا معنی زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت نمبر 61 میں فرمایا گیا ہے : اے نبی ! اگر دشمن آپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کی کوشش کرے تو آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–66

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور اپنی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد قتال کا حکم دیا۔ سربراہ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کرنے کا حکم دینا چاہیے جب مسلمان کردار کے حوالے سے پختہ تھے تو اس وقت کفار کے خلاف تناسب یہ قائم کیا گیا کہ اگر کفار اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو دس کفار کے مقابلے میں ایک مسلمان کافی ہے یہ تعداد اس لیے کافی ہے کہ کافر موت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ قتال اور موت سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد اور منزل نہیں ہوتی۔ جس وجہ سے اس میں وہ جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا جو مجاہد کے سینے میں موجزن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ کی مدد اور مؤمنوں کا تعاون کافی ہے : آیت 64: یٰٓاَیـُّـھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اے نبی (ﷺ) آپ کیلئے اللہ کافی ہے اور جن مؤمنین نے آپ کا اتباع کیا وہ کافی ہیں) وائو بمعنی مع ہے۔ نمبر 1۔ اور اس کا مابعد منصوب ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے پیرو کار مؤمنین کی مدد کیلئے کافی ہے۔ نمبر 2۔ اور محل رفع میں بھی جائز ہے۔ ای کفاک اللہ و کفاک المؤمنون تمہیں اللہ تعالیٰ کافی ہے مددگار ہونے کے لحاظ سے اور مومن کافی معاون ہونے کے اعتبار سے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تینتیس مرد اور چھ عورتیں ایمان لائے پھر حضرت عمر ؓ اسلام لائے تو یہ آیت اتری۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

64(یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من الممونین) سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں نبی کریم ﷺ پر تینتیس (33) مرد اور چھ عورتیں اسلام لائیں۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ اسلام لائے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور (من) کے محل میں اختلاف ہوا ہے اکثر مفسرین فرماتے ہیں اس کا محل جر ہے (حسبک اللہ) کی کاف پر عطف کرتے ہوئے اور حسبک من اتبعک اور بعض نے کہا ہے یہ مرفوع ہے اللہ کے اسم پر عطف کرتے ہوئے اس کا معنی اللہ اور آپ کے ممن متبعین آپ پر کافی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

64۔ طبرانی بزار تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابوالشیخ میں عکرمہ سعید بن جبیر سعید بن مسیب کے واسطہ سے حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کی روایت ہے کہ انتالیس مسلمان پہلے سے تھے جب حضرت عمر ؓ اسلام لائے اور چالیس مسلمان پورے ہوگئے تو حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لیکن حافظ عما دالدین ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور حضرت عمر ؓ کا اسلام ہجرت سے پہلے ہے پھر یہ آیت حضرت عمر ؓ کے اسلام کے وقت کیونکر نازل ہوسکتی ہے جواب اس اعتراض کا اور مفسیرین نے یہ دیا ہے کہ اس آیت کو مدنی فقط اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے لیکن جب یہ کہا جائے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–66

آیت 64 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یایھا النبی حرص المومنین علی القتال) ” اے نبی ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو “۔ یعنی آپ انہیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو۔ یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پر مرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کئے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 63–64

اخوت اسلامی قول باری ہے (والف بین قولبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما اتفت بین قلوبھم اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان کے دل جوڑ نہ سکتے تھے) تا اخر آیت۔ ایک روایت ہے کہ اس سے قبیلہ اوس اور خزرج مراد ہیں۔ یہی دو قبیلے مدینے کے اصلی باشندے تھے اور ان کے درمیان اسلام سے قبل انتہائی درجے کی دشمنی اور بغض و عداوت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے اور یہی لوگ پھر حضرات انصار کہلائے بشیر بن ثابت الانصاری، ابن اسحاق اور سدی سے یہی مروی ہے مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو صرف اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

138 اور کافی ہے اللہ آپ کو اور جملہ اہل ایمان کو : یعنی { وَمَنْ } کا عطف لفظ اللہ ۔ جَلَّ جَلَالَہ ۔ پر نہیں، بلکہ { حَسْبُکَ } کے مضاف الیہ پر ہے۔ یعنی ضمیر مجرور پر کہ کفایت صرف اللہ ہی کی کفایت ہے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا { فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ } نیز دوسری متعدد آیات کریمہ میں بھی یہی بیان فرمایا گیا۔ جیسے { حَسْبُنَا اللّٰہُ } " کافی ہے ہمیں اللہ " اور { حَسْبِیَ اللّٰہُ } " کافی ہے مجھے اللہ " وغیرہ۔ اس لئے حضرات مفسرین کرام بالعموم اسکا مطلب یہی بیان کرتے ہیں یعنی " اَللّٰہُ کَافِیْکَ وَکَافِی مَنْ اَتَّبَعَکَ " یعنی " اللہ کافی ہے آپ کو بھی اور ان سب اہل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–64

جہاد کی تیاری کا حکم اور اللہ کی قدرت کا کرشمہ تشریح : پہلی آیت میں تو کفار کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی مصیبت اور پریشانی سے نجات پا جائے اور اپنے گناہ سے بجائے توبہ کرنے کے اس پر اور بھی ڈٹا رہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو صرف اس کو ڈھیل دی گئی ہے یہ اس کی کامیابی نہیں کیونکہ جب اللہ چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی چال چلنا ہرگز ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی جنگ کے کچھ اصول مسلمانوں کو بتائے گئے ہیں اسی طرح امن کے زمانے میں بھی دشمنوں سے غافل ہونے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امن کے زمانے میں ملک کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–64

آیات 59 تا 64 اسرار و معارف اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 ور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کا فی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے یہاں دوبارہ اس حملہ کو لاکر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی پیروری کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ( کذافی الوحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 63–64

(8:63) والف۔ اس نے الفت دی۔ اس نے محبت ڈال دی۔ تالیف (باب تفعیل) سے جس کے معنی جمع کرنے اور الفت پیدا کرنے کے ہیں۔ صیغہ ماضی واحد مذکر غائب۔ قلوبھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مؤمنین کی طرف راجع ہے۔ عرب کے سارے جزیرہ میں ہر طرف عداوت و نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی مزاج اتنے آوارہ اور جذبات اتنے مشتعل تھے کہ ذرا ذرا سی بات پر لڑائی شروع ہوجاتی ۔ اور برسوں جاری رہتی۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بعد نقشہ ہی بدل گیا۔ خدا نے ایسی تالیف القلوب کی کہ اسلام کے دائرہ میں آتے ہی وہ حقیقی بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ اوس اور خزرج کے قبائل ایک بین مثال تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

آیات : 63 تا 66 لغات القرآن۔ الف۔ محبت ڈال دی۔ انفقت۔ تو نے خرچ کیا۔ حرض۔ رغبت دلائیے۔ آمادہ کیجئے۔ عشرون۔ بیس۔ ماتین۔ دو سو۔ لا یفقھون۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ الئن۔ اب۔ اس وقت۔ خفف۔ ہلکا کردیا۔ مائۃ۔ ایک سو۔ الف۔ ایک ہزار۔ تشریح : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ دشمن کے مقابلے میں ہر ممکن قوت کو حاصل کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہارا رعب جم جائے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کی گیا ہے کہ اصل قوت و طاقت ہتھیر نہیں ہوتے بلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ محبت، قربانی بھائی چارہ اخوت، اتحادو اتفاق، یک سوئی، یک نظری سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی قوم بہت سے ہتھیار جمع کرلے لیکن ان میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے وقت مسلمانوں کی تعداد شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ انتالیس مسلمان پہلے تھے۔ جب حضرت عمر ؓ اسلام لائے اور چالیس مسلمان پورے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس شان نزول کے اختلاف کا یوں فیصلہ کیا ہے کہ آیت خواہ مکی ہو یا مدنی، اس لئے آیت کا مضمون عام ہے۔ اس واسطے اس آیت کو بدر کی لڑائی کی آیتوں میں رکھایا گیا ہے تاکہ حاصل مطلب آیت کا یہ ٹھر جاوے کہ اس لڑائی میں جس طرح کچھ اوپر تین سو مسلمانوں کو غیبی مدد سے ہزار دشمنوں پر فتح ہوئی، اسی آئندہ بھی مسلمانوں کی جس قدر جماعت لڑائی میں اللہ کے رسول کے ساتھ ہوگی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–65

[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–64

(ف 2) یعنی مسلمانوں کے دلوں میں جو مضبوط وحدت واخوت کے جذبات ہیں ، اور دل ایک دوسرے سے وابستہ ہیں تو یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کوئی دنیوی لالچ ان کو اس طرح ایک مرکز پر جمع نہیں کرسکتا ۔ اسلام سے پہلے عرب ہمیشہ باہم دست و گریبان رہتے ، ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن ہوتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکا دیتیں ، بچے جب پیدا ہوتے ، تو انتقام کی فضا میں بڑھتے ، اور پروان چڑھتے ، اس لئے وہ مخالفت وعداوت کے طوفان میں مبتلا رہتے ، اور بالطبع مسلسل لڑائیوں میں گرفتار ، اسلام آیا تو دلوں کے کینے دور ہوگئے سب مسلمان بھائی بھائی قرار پائے سب کا مفاد یکسان عزیز اور محبوب باہمی تفریق مٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

64 اے نبی ﷺ ! آپ کو اور مسلمانوں کو جو آپ کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس آپ کے لئے بھی کافی اور جو مسلمان آپ کے پیرو ہیں ان کی مدد کو بھی اللہ کافی ہے۔ بعض نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حمایت کے لئے کافی ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر وہ مسلمان جو آپ کے پیرو ہیں وہ آپ کی مدد کو کافی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ نے مدینہ میں آکر مسلمان شمار کروائے مرد قابل جنگ چھ سو ہوئے سب خوش ہوئے کہ اب ہم کو کس کافر کا ڈر ہے۔ 12 یعنی مردم شماری میں چھ سو جوان لڑائی کے قابل نکلے اس زمانے کے لحاظ سے یہ تعداد قابل اطمینان سمجھی گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

ف 3۔ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! اگر آپ سب کچھ خرچ کردیتے تو بھی ان دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے : 84: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے دنیا میں کوئی کام انسان کے لئے اس سے زیادہ مشکل نہیں ہے کہ بکھرے ہوئے انسانی دلوں کو ایک رشتہ الفت میں وہ پرو دے اور یہ کام تقریباً نامممکن ہوجاتا ہے جب معاملہ ایسے انسانوں کا ہو جو صدیوں سے باہمی جنگ وجدال کی آب و ہاو کی پرورش پاتے رہے ہوں اور جن کے نفسیاتی سانچوں میں باہمی آمیزش کا کوئی ڈھنگ باقی نہ رہا ہو۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا ظہور ایسے ہی لوگوں میں ہوا تھا مگر ابھی ان کی دعوت پر دس بارہ ہی برس گزرے تھے کہ مدینہ میں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا جو اس اعتبار سے بالکل ایک نئی قسم کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (64) as well, by stating the same subject briefly, the Holy Prophet ﷺ has been comforted by telling him that sufficient for him is Allah Ta` ala in the real sense, and the group of believers in the physical sense. So, he should have no fear of an enemy, no matter how big, strong, numerous or well-equipped. Commentators have said that this verse was revealed before actual fighting started in the battle of Badr so that Muslims, small in numbers and virtually unequipped, would not be overawed by the heavy numerical and technical superiority of their adversary.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

46. Here the allusion is to that strong bond of love and brotherhood that developed among the Arabs who embraced Islam and whose conversion brought them solidarity. This strong solidarity existed despite the fact that they came from a variety of tribes which had long-standing traditions of mutual enmity. This was a special favour of God on the Muslims, especially evident in the case of the Aws and Khazraj. It was barely a couple of years before their acceptance of Islam that the two clans virtually thirsted for each other's blood. During the battle of Bu'ath both seemed set to exterminate…

Read the full tafseer →