Explained with ayahs 5–8
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں
ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 4
یعنی جس طرح اس وقت یہ لوگ خطرے کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے تھے، حالانکہ حق کا مطالبہ اس وقت یہی تھا کہ خطرے کے منہ میں چلے جائیں، اسی طرح آج انہیں مال غنیمت ہاتھ سے چھوڑنا ناگوار ہو رہا ہے، حالانکہ حق کا مطالبہ یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑیں اور حکم کا انتظار کریں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اللہ کی اطاعت کرو گے اور اپنے نفس کی خواہش کے بجائے رسول کا کہا مانو گے تو ویسا ہی اچھا نتیجہ دیکھو گے جیسا ابھی جنگ بدر کے موقع پر دیکھ چکے ہو کہ تمہیں لشکر قریش کے مقابلہ پر جانا سخت ناگوار تھا اور اسے تم ہلاکت کا پیغام سمجھ رہے تھے لیکن جب تم نے حکم خدا و رسول کی تعمیل کی تو یہی…
Read the full tafseer →اور اسی واقعی کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپ سے حق کے معاملہ میں مجادلہ اور اختلاف کرتے ہیں گو یا ان کو موت کی طرف کھینچا جارہا ہے جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اگرچہ کوئی عدول حکمی نہ کی تھی بلکہ مشورہ کے جواب میں اپنے ضعف اور پست ہمتی کا اظہار کیا تھا۔ مگر رسول کے ساتھیوں سے ایسی رائے کا اظہار بھی ان کے مقام بلند کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند تھا اس لئے ناراضی کے الفاظ سے اس کو بیان فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ۔ کمزوروں کی کمزوری پر گرفت : لفظ مجادلۃ کے معنی یہاں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اس کی تحقیق بیان کرچکے ہیں، باصرار و بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اب یہ وضاحت ہو رہی ہے اس بات کی کہ جب ان کو خطرہ لاحق ہوگا کہ مقابلہ فوج سے درپیش ہے تو اس سے فرار کی انہوں نے کیا راہ نکالنی چاہی۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو باصرار اور بلطائف الحیل اپنی چرب زبانی سے اس رخ پر لانا چاہا کہ آپ تجارتی قافلے کا قصد کریں۔ بظاہر تو انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہوگی کہ یہ مشورہ وہ اسلام…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے اور اب لشکر قریش ہی سامنے ہے جس سے لڑائی ناگزیر ہے۔
6۔ 2 یہ بےسروسامانی کی حالت میں لڑنے کی وجہ سے بعض مسلمانوں کی جو کیفیت تھی اس کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا، ان کی خواہش یہ تھی کہ یہ مال انہی کے پاس رہے لیکن فیصلہ اس کے برعکس ہوا، اب ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ انسان کی ہر خواہش انجام کے اعتبار سے درست نہیں ہوتی، اسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو واقعہ اس کی خواہش کے خلاف ہوا بہتری اسی میں تھی، اور ایسا ہی ہے جیسے ابوجہل سے جنگ کرنے کا معاملہ میں ہوا، مدینہ منورہ سے نکلتے وقت چونکہ صرف ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنا پیش نظر تھا اور کوئی باقاعدہ لشکر تیار نہیں کیا گیا تھا، اس لئے جب یہ بات سامنے آئی کہ ابوجہل ایک بڑا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا ہے تو بعض صحابہ کی خواہش یہ تھی کہ ابوجہل سے جنگ کرنے کے بجائے فی الحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2 یعنی سوچو کہ اس جنگ (بدر) میں شروع سے آخر تک کس طرح حق تعالیٰ کی تحریک و تائید اور امداد اور توفیق مسلمانوں کے حق میں کارفرما رہی۔ خدا ہی تھا جو نصرت دین اسلام کے حق (سچے) وعدے کر کے اپنے نبی کو ایک امر حق یعنی کفار کے ساتھ جہاد کرانے کے لیے مدینہ سے باہر بدر کے میدان میں اس وقت لے آیا جبکہ ایک جماعت مسلمانوں کی لشکر قریش سے نبرد آزمائی کرنے پر راضی نہ تھی۔ یہ لوگ ایسی سچی اور طے شدہ چیز میں پس و پیش کر رہے اور حجتیں نکال رہے تھے جس کی نسبت بذریعہ پیغمبر انہیں ظاہر ہوچکا تھا وہ یقیناً خدا کی فرمائی ہوئی اٹل بات ہے (یعنی اسلام و پیران اسلام کا بذریعہ جہاد غالب و منصور ہونا) ابو جہل کے لشکر…
Read the full tafseer →آیت 6 یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ
یہ آیت میرے نزدیک دوسری مشاورت کے بارے میں ہے جو مقام صفراء پر منعقد ہوئی تھی۔ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے قریش کے تجارتی قافلے کا پیچھا کرنے کے ارادے سے نکلے تھے ‘ اور یہ بظاہر اسی طرح کی ایک مہم تھی جس طرح کی آٹھ مہمات اس علاقے میں پہلے بھی بھیجی جا چکی تھیں۔ اس وقت تک لشکر قریش کے بارے میں نہ کوئی اطلاع تھی اور نہ ہی ایسا کوئی گمان تھا۔ لیکن جب آپ ﷺ مدینہ سے نکل کر صفراء کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ کو اپنے ذرائع سے بھی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی کی اطلاع مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بھی آپ ﷺ کو اس بارے میں مطلع فرما دیا۔ چناچہ جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
8 جنگ بدر کا پس منظر :۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کرچکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کردی جائے چناچہ اس غرض کے لیے آپ نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو…
Read the full tafseer →12 ۔ یہ تفصیل بیان ہوئی اسی کراہت طبعی لکارھون کی (ملاحظہ ہوں اوپر کے دونوں حاشیے) ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے الفاظ میں مدینہ سے چلتے وقت مسلمانوں کو یقین نہ تھا کہ آیا وہ قافلہ سے ملیں گے یا امدادی دستہ سے مڈبھیڑ ہوگی، دونوں امکانات تھے چونکہ قریشی قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل اور پانچ لاکھ درہم کا اسباب لارہا تھا، اس لیے مدینہ والوں کو یقین تھا کہ اس کی مدد اور حفاظت کے لیے قریش اپنے تمام حلیفوں کی مدد سے ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ اور کشمکش کریں گے۔ مدینہ سے زیادہ دور مکہ کی سمت جانا بہتوں کے لیے موت کا منہ میں جانا معلوم ہوتا تھا۔ (کتاب مذکور) ۔ صفحہ 17 ۔ 18 ۔ (آیت) ” یجادلونک “۔ جدال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ : (اور) وہ اس مصلحت کے کام میں بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوگیا تھا (اپنے بچاؤ کیلئے) آپ سے (بطور مشورہ) اس طرح جھگڑا کر رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں : واؤ کا استیناف کیلئے اور کلام کا استینافیہ ہونا ظاہر ہے (واؤ حالیہ نہیں ہے) کیونکہ ذوالحال اور حال کا زمانہ ایک ہونا چاہئے (حالانکہ مسلمانوں کو مدینہ سے نکلنا ناگوار اور ناپسند نہیں تھا) بلکہ بنی نضیر کے ساتھ جب لڑائی پڑگئی تو اس وقت مسلمانوں کو مدینہ سے نکلنا ناپسند ہوا تھا (پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) یہ امر بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ محمد ﷺ آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینہ منورہ سے قرآن حکیم کے ساتھ یا جنگ کے ارادہ سے (بدر کی طرف) روانہ کیا اور ایک جماعت لڑائی کو شاق اور ناگوار سمجھ رہی تھی اور اس کے باوجود کہ ان پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ آپ بغیر حکم خداوندی کے کوئی کام نہیں کرتے، وہ آپ سے جنگ کے بارے میں بطور مشورہ جھگڑ رہے تھے۔
شان نزول : (آیت) ”کما اخرجک ربک من“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منور میں تھے ہمیں اطلاع ملی کہ ابوسفیان کا قافلہ آرہا ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا ارادہ ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں…
Read the full tafseer →يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ : حق سے مراد کفار کا قافلہ نکل جانے کے بعد کفار سے ہر صورت لڑائی ہے، جس کا انجام فتح اور غنائم ہوگا۔ مختصراً واقعہ یہ ہے کہ سن 2 ھ میں نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ کفار قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ جا رہا ہے اور مدینہ کے قریب کے راستے پر پہنچ چکا ہے، آپ ﷺ مسلمانوں کی مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی، لے کر قافلے کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان کو آپ کے نکلنے کی اطلاع ہوگئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعے سے مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاطاً اصل راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کرلیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچی تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 6
قولہ تعالیٰ : آیت : یجادلونک فی الحق بعد ما تبین ان کا جھگڑا، ان کا یہ قول تھا کہ جب آپ ﷺ نے انہیں ( ابو سفیان کا تجارتی) قافلہ کے مقابلہ کی دعوت دی اور پھر وہ قافلہ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور پھر آپ نے انہیں جنگ لڑنے کا حکم دیا اور ان کے پاس کوئی زیادہ سازوسامان نہ تھا تو یہ حکم ان پر گراں گزر اور انہوں نے کہا : اگر آپ ہمیں جنگ لڑنے کی خبر دیتے تو ہم یقینا تیاری کے ساتھ آتے اور فی الحق سے مراد فی القتال ( جنگ کے بارے میں) ہے۔ آیت : بعد ما تبین یعنی ان کے لیے یہ واضح ہونے کے بعد کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی شی کے بارے کوئی حکم نہیں دیتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
غزوہ بدر کیسے پیش آیا :
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ہم مدینہ منورہ میں تھے اور آپ کو یہ خبر پہنچی کہ ابو سفیان کا قافلہ قریب آگیا ہے آپ نے فرمایا اس میں تمہارا کیا خیال ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لئے مال غنیمت بنا دے گا اور ہم کو سلامتی عطا فرما دے گا (چنانچہ) ہم نکلے اور جب ہم ایک یا دو دن سفر کرچکے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم اپنے آپ کو شمار کرلیں تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ اچانک ہم تین سو تیرہ افر تھے ہم نے نبی ﷺ کو اپنی تعداد بتائی تو آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →[ يُجَادِلُوْنَكَ : وہ لوگ بحث کرتے تھے آپ سے ] [ فِي الْحَقِّ : حق (بات ) میں ] [ بَعْدَمَا : اس کے بعد کہ جو ] [ تَبَيَّنَ : واضح ہوا ] [ كَاَنَّمَا : گویا کہ ] [ يُسَاقُوْنَ : وہ لوگ ہانکے جاتے ہیں ] [ اِلَى الْمَوْتِ : موت کی طرف ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ ] [ يَنْظُرُوْنَ : دیکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
غزوۂ بدرکا تذکرہ
ان آیات میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے اور رکوع کے ختم تک بلکہ اس کے بعد بھی متعدد آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر مزید تفصیل اس سورت کے پانچویں اور چھٹے رکوع میں بیان فرمائی ہے، غزؤہ بدر کا کچھ تذکرہ سورة آل عمران کے رکوع دوم (انوار البیان ج 2) میں اور کچھ آل عمران کے رکوع نمبر 12 (انوار البیان ج 2) میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے (وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ) (اور یہ بات واقعی اور حقیقی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقام بدر میں تمہاری مدد فرمائی جب کہ تم کمزور تھے) ۔
آگے بڑھنے سے پہلے پورا واقعہ ذہن نشین کرلینا چاہئے تاکہ آیت کریمہ میں جو اجمال ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ذکر انعامات خداوندی در واقعہ بدر بہ برکت ایمان وتقوی وتوکل
قال اللہ تعالیٰ ٰ کما اخرجک ربک من بیتک بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ وھم ینظرون
(ربط): اس سورت میں عموما غزوہ بدر کی کامیابی کے واقعات کا ذکر ہے اور اس ضمن میں جو انعامات خداوندی مبذول ہوئے ان کی تذکیر اور یاد دہانی مقصود ہے اور یہ بتلانا ہے کہ دیکھو تو سہی کہ باوجود بےسروسامانی کے جنگ بدر میں کس طرح از اول تا آخر تائید غیبی تمہاری معین اور مددگار رہی یہ سب ایمان اور تقوی اور توکل اور اطاعت خدا اور رسول کی برکت تھی۔ شروع سورت میں اجمالی طور پر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں اس غیبی کامیابی کے کچھ واقعات ذکر کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5: یہ دعوی اولی “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْل الخ ” کی پہلی علت ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ “ کَمَا ” میں کاف تعلیلیہ ہے جیسا کہ علامہ ابو حیات اندلسی نے لکھا ہے۔ “ و یظھر ان الکاف فی ھذا التخریج المنامی لیست لمحض التشبیه بل فیھا معنی التعلیل الخ ” (بحر ج 4 ص 463) اور “ اَلْحَق ” سے حکمت اور صواب مراد ہے۔ “ اخراجاً متلبساً با لحکمة والصواب ” (مدارک ج 2 ص 72، جامع البیان ص 152) ۔ سن 2 ھ کا واقعہ ہے کہ ابو سفیان کی سر کردگی میں مشرکین کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس آرہا تھا جو قریش کے ساٹھ آدمیوں اور دیگر ملازمین پر مشتمل ہےحضور ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ربط آیات :
اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کے نظم وضبط کا قانون بیان فرمایا۔ پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا اور آخر میں ان انعامات کا ذکر کیا جو ان کو ملنے والے ہیں۔ یہ تین انعامات درجات کی بلندی ، گناہوں کی معافی اور باعزت روزی ہیں آج کا درس بھی اسی آیت کے ساتھ مربوط ہے کہ یہ انعامات اسی طرح ۔۔ یقینی ہیں جس طرح اے پیغمبر ! آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینے سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا یعنی جنگِ بدر میں کامیابی عطا فرمائی۔
” کما “ بطور تشبیہ
آج کا درس لفظ کما سے شروع ہو رہا ہے جس کا معنی ” جس طرح “ ہے مفسرین کرام نے اس کی بہت سے توجیہات کی ہیں۔ بعض فرماتے…
Read the full tafseer →يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَہُمْ يَنْظُرُوْنَ 6 ۭ
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ترکیب : کما صفت ہے مصدر محذوف کی اے ھذہ الحالۃ فی کراھتھم لھا مثل اخراجک فی حال کر اہتھم وقد کان خیرا پس یہ کما خبر ہوگی مبتداء محذوف کی جو ھذہ ہے وان فریقاً جملہ حال ہے کہ اخرجک سے یجادلونک الخ جملہ حال ثانی ہے کانما جملہ صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اذ یعدکم کا عامل اذکر محذوف کم مفعول اول احدی الطائفتین مفعول ثانی یعد کا انہالکم بدل ہے مفعول ثانی سے بدل الاشتمال۔
تفسیر : کما اخرجک اس تشبیہ میں علمائِ مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ ازانجملہ سب سے راجح یہ ہے کہ تقسیم بھی مسلمانوں کو بظاہر ایسی ہی ناگوا رہے جیسا کہ اے پیغمبر اس جنگ کے لئے آپ کا بحکم الٰہی گھر سے نکلنا ناگوار تھا لیکن جس طرح وہاں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
کَمَااَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ ص وَاِنْ فَرِیْقًامِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ ۔ لا یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ ط
(الانفال : 5، 6)
(اسی طرح نکالا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ایک مقصد حق کی خاطر اور اہل ایمان کی ایک مختصر ٹولی ناخوش تھی۔ وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑتے تھے اس کے بعد کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جارہے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے۔ )
کما کا مفہوم
قرآن کریم نے ” کذلک، کدأبک، کما “ یہ تینوں الفاظ مختلف مواقع پر تشریح کے لیے استعمال کیے ہیں۔ البتہ ! دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : انفال کے بارے چند بنیادی احکام کے بعد غزوۂ بدر کی چند تفصیلات کہ غنیمتیں کیوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
رسول محترم اور آپ کے عظیم رفقاء نے مکہ میں تیرہ سال بےپناہ مصائب و آلام کا سامنا کیا بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے مکہ والوں نے آخر وقت تک آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر و سلامتی کے ساتھ آپ کو مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ یہاں پہنچ کر رسول معظم ﷺ نے مسلمانوں میں مواخات قائم فرمائی اور یہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا۔ جس میں فریقین کے حلیف قبیلے بھی شامل تھے۔ عبداللہ بن ابی جسے آپ کی آمد سے پہلے اہل مدینہ نے اپنا…
Read the full tafseer →گھبراہٹ کی کیفیت :
آیت 6: یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ (وہ اس مصلحت میں جھگڑ رہے تھے) وہ حق جس کے متعلق وہ رسول اللہ ﷺ سے جھگڑاکر رہے تھے وہ قافلے کو لشکر پر ترجیح کی بات تھی۔ بَعْدَ مَاتَبَیَّنَ (اس کے ظاہر ہوجانے کے بعد) رسول اللہ ﷺ کے بتلا دینے کے باوجود کہ ان کو فتح ہوگی۔ جدال سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم لشکر کیلئے تیار ہو کر نہیں نکلے۔ آپ ہمیں بتلاد یتے تاکہ ہم تیاری کرلیتے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑائی کو ناپسند کرتے تھے۔ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ (کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں) ان کی زیادہ گھبراہٹ کو، باوجود یکہ…
Read the full tafseer →(6) (یجادولونک فی الحق) قتال میں (بعد ماتبین) اس کا پس منظر یہ ہے کہ مئومنین کو جب لڑائی کا یقین ہوگیا تو یہ بات ناپسندیدہ ہوئی اور کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ دشمن سے ٹکرائو ہوگا تاکہ ہم بھی لڑائی کی تیاری کرلیتے ہم تو تجارتی قافلہ کے لئے نکلے تھے تو یہ ان کا جھگڑا ہے اس بات کے ظاہر ہونے کے بعد کہ آپ (علیہ السلام) وہی کرتے ہیں جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے (کانما یساقون الی الموت) ان کے قتال کو سخت ناپسند سمجھنے کی وجہ سے (وھم ینظرون) اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں بنے گی۔” وان فریقاً من المئومنین لکارھون کانما یساقون الی الموت وھم ینظرون یجادلونک فی الحق بعد ماتبین “
ابن زید…
Read the full tafseer →6۔ آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ بغیر حکم خدا کے کوئی کام نہیں کرتے ہیں حضرت ﷺ ابوسفیان کے قافلہ کے پیچھے نکالے تھے اور مومنین بھی آپ کے ساتھ تھے سامان جنگ کسی کے پاس مہیا نہ تھا کیونکہ یہ لوگ تیس آدمیوں کے قافلہ کو لوٹنے کے ارادہ سے آئے تھے لیکن جب یہ قافلہ ہاتھ سے نکل گیا اور مشرکین مکہ کی ہزارہا آدمیوں کی فوج مقام بدر پر پہنچ گئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب ان سے لڑائی چاہئے اس بات کو لوگوں نے سخت سمجھا اور کہنے لگے کہ اگر پہلے سے ہم کو لڑائی کا ارادہ معلوم ہوتا تو ہم سامان جنگ سے درست ہو کر آتے مگر بعد میں ان کو معلوم ہوگیا کہ حضرت کا حکم ٹھیک تھا آپ جو کام کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
آیت 5
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انہیں اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لئے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لئے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الانفال
مال غنیمت اور اس کے احکام
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9 اِطاعت خدا و رسول ہی ذریعہ فوز و فلاح : سو انسان کی بہتری و بھلائی اطاعت خدا و رسول ہی میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کو یہ امر سخت ناگوار گزر رہا تھا اپنی بےسروسامانی اور شکتہ حالی کی بناء پر جو کہ ایک طبعی امر ہے کہ ایسی صورت حال میں اس طرح کی کراہت و ناگواری لوازم بشریہ میں سے ہے جس سے کوئی پاک و مبرا نہیں ہوسکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی بڑی شان اور اونچے مرتبے والاکیوں نہ ہو ۔ اِلّا ماشاء اللہ ۔ بہرکیف جیسے اس وقت تمہاری ناگواری کا نتیجہ تمہارے لیے عظیم الشان کامیابی اور سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنا تھا، اسی طرح اب " انفال " کے بارے میں یہ حکم خداوندی اگرچہ وقتی طور پر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
جنگ کے ابتدائی اسباب
تشریح : ان آیات کے حوالے سے جنگ کے ابتدائی مراحل کا ذکر اسباب کے ساتھ کردینا ضروری ہے۔ ہوا اس طرح کہ جب سے نبی اکرم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے کفار کو ان کی یکجہتی اور مضبوطی بری طرح کھٹک رہی تھی۔ اسی بات کے پیش نظر کہ مسلمان کہیں ایک مضبوط طاقت نہ بن جائیں اہل مکہ اکثر ان کو تنگ کرتے رہتے اسی کوشش میں کرزبن جابر کی سر کردگی میں مدینہ کے قریب چرنے والے مویشیوں کو لوٹا گیا۔ غرض ہر وقت اسی کوشش میں رہتے کہ کسی طرح مسلمانوں کو تہس نہس کردیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی کچھ نہ کچھ تدابیر کر رکھی تھیں کیونکہ یہ فیصلہ کن مرحلہ تھا اور کفر و اسلام کی بقاء و ترقی کا پہلا ایسا معرکہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 6 یعنی انہیں یہ معلوم تھا کہ آپ ﷺ جو حکم دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اھد ی الطا ئفتین کا وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے لیکن پھر یہ آپ ﷺ سے جھگڑ کرو ہے ہیں، ابن کثیر) بعض صحابہ ؓ نے جو اس وقت لشکر سے نہ لڑنے کا مشہورہ دیا تھا اس کی مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے۔7 یعنی سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے مسلح لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔
Read the full tafseer →(8:6) یجادلونک فی الحق بعد ماتبین۔ اس (تصادم) کو حق بجانب سمجھتے ہوئے بھی وہ آپ سے چوں و چرا کر رہے تھے (حق ظاہر ہوجانے کے بعد بھی وہ آپ سے مجادلہ کر رہے تھے)
کانما یساقون الی الموت وہم ینظرون۔ (وہ یوں محسوس کر رہے تھے) گویا وہ موت کو سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی اس کے منہ میں (علی الرغم) ہانکے جارہے تھے۔ (اس آیۃ پر انفال کے حکم اور کفار کے خلاف قتال کے حکم کا موازنہ ختم ہوا۔ ازاں بعد جنگ بدر کے واقعات کی تفصیل ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
لغات القرآن۔
اخرج۔ نکالا۔ بیت۔ گھر۔ لکرھون۔ البتہ برا سمجھنے والے ہیں۔ ناگوار محسوس کرنے والے ہیں۔ یجادلون۔ وہ جھگڑتے ہیں۔ تبین۔ کھل گیا۔ کھل چکا۔ واضح ہوگیا۔ کانما۔ جیسے۔ گویا کہ وہ۔ یساقون۔ وہ ہانکے جا رہے ہیں۔ ینظرون۔ وہ دیکھ رہے ہیں۔ یعد۔ وہ عدد کرتا ہے۔ احدی۔ کوئی ایک۔ الطائفین۔ دو جماعتیں۔ تو دون۔ تم پسند کرتے ہو۔ غیر ذات الشوکۃ۔ کانٹانہ لگے۔ ان یحق۔ یہ کہ وہ ثابت کردے۔ یقطع۔ وہ کاٹتا ہے۔ دابر۔ (دبر) ۔ جڑ ۔ بنیاد۔ یبطل۔ وہ باطل کرتا ہے۔ مٹاتا ہے۔ کرہ۔ برا لگا۔
تشریح : درحقیقت غزوہ بدر ہر اعتبار سے اس قدر فیصلہ کن تاریخی واقعہ ہے جس نے کفار مکہ کو نہ صرف ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تھا…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ تم سے حق بات میں جھگڑتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دیدہ و دانستہ موت کے منہ میں جھونکے جاتے ہیں حالانکہ ان پر حق بات ظاہر ہوگئی ہے کہ رسول کا حکم بغیر خدا کے نہیں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
غزوہ بدر :
(ف 1) 2 ھ میں مسلمانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ مکہ والوں کی شرارتوں کا قطعی سدباب کردیا جائے یہ تقریبا 300 میل کی دوری کے باوجود مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے اکثر دھمکیاں دیتے ، کہ ہم یثرب پہنچ کر تمہیں مزہ چکھائین گے ربیع الاول 2 ھ میں ایک شخص کو زبن جابر الفہری مدینہ پہنچا اور اونٹ لوٹ کرلے گیا ،
حضور ﷺ نے فیصلہ کرلیا ، کہ مدینے سے باہر نکل کر فیصلہ کن جنگ ہوجائے ، تاکہ کفر کو آیندہ ایمان کے خلاف جرات نہ رہے ۔
حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مشورہ کیا ، سب نے رضا مندی کا اظہار کیا یہ ایک جماعت ایسی تھی ، جسے باہر نکل کر کامیابی کا بھروسہ نہ تھا وہ کہتے تھے ہم اچھی طرح…
Read the full tafseer →(6) وہ لوگ جو آپ کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے اس امر حق کے ظاہر ہوجانے کے باوجود آپ سے اس حق بات میں اس طرح جھگڑا کررہے تھے جیسے وہ اپنی آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہنکائے جارہے ہیں ۔ یعنی پیغمبر کی زبانی یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ بدر میں جا کر جہاد کرنا اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہوگا، پھر بھی وہ لوگ جو قریش سے نبرد آزماد ہونے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے پیغمبر کو یہی سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ قریش سے مقابلہ نہ کیا جائے اور ان کی حالت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بدر کی طرف جانے کو ایسا سمجھ رہے ہیں جیسا کہ کوئی موت کی جانب ہنکارہا ہو ، اور موت بھی سامنے نظر آرہی ہو۔
بہرحال بدر کے موقعہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 4۔ ایک قافلہ مختصر تاجران مکہ کا شام سے مکہ کو چلا جس کے ساتھ مال و اسباب بہت تھا آپ کو وحی سے معلوم ہوا آپ نے صحابہ کو خبر دی صحابہ کو قلت رجال اور کثرت مال کا حال معلوم ہونے سے غنیمت کا خیال ہوا اور اسی ارادہ سے مدینہ سے چلے یہ خبر جو مکہ پہنچی تو ابوجہل وہاں کے روساء وجنود کے ہمراہ اس قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلا اور قافلہ سمندر کے کنارہ کنارہ ہولیا اور ابوجہل مع لشکر بدر میں آکر ٹھہرا اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ وادی وجران میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کو سارا قصہ بذریعہ وحی معلوم ہوا اور آپ سے وعدہ خداوندی ہوا کہ ان دو گروہ یعنی قافلہ اور لشکر میں سے آپ کو ایک گروہ پر غلبہ ہوگا آپ نے صحابہ سے…
Read the full tafseer →بادل نخواستہ میدان کار زار کی طرف سے نکلنے والوں کی حالت کا بیان :
12: اہل سنہ کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام ؓ کے سوا کوئی شخص اس نیا میں بلوغت کے بعد معصوم نہیں رہتا خواہ وہ کتنا ہی صالح اور نیک کیوں نہ ہو ؟ اس لئے کہ قصور بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر اہل ایمان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں اور یہی بات اس زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے۔ دراصل انسانی کمزوریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی اس کی رائے کے خلاف عمل کیا جائے تو وہ کسی حد تک بددل سا رہتا ہے اور حصوصاً جب رائے بھی خلوص اور نیت کے ساتھ دی گئی ہو۔ یہی حالت اس وقت پیش آئی کہ جب آپ ﷺ نے رائے معلوم کی تو بعض لوگوں کی رائے مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Then, the same event has been alluded to in the second verse (6): يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ (they were disputing with you about the truth after it became clear, as if they were being driven to a death being seen by them).
Though the noble Companions had not disobeyed any command given to them - in fact, what they had done was a certain expression of their weakness and lack of courage as part of their response when consulted. But, even such expression of personal opinion coming from the Companions of the…
Read the full tafseer →4. When the people in question were required to fight, they were disinclined to do so for they felt that they were being driven to death and destruction. Their condition is somewhat similar for they are now required not to contend about spoils of war and wait for God's command as to how the spoils of war should be distributed.
This verse could also mean that if Muslims obeyed God and followed the Prophet (peace be on him) rather than their own desires, they would witness as good a result as they witnessed on the occasion of the Battle of Badr. On this occasion too many were reluctant to take…
Read the full tafseer →