Al-Anfaal 8:5

Al-Anfaal · from ayah 5

8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ ۪— وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۟ۙكَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّۖ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَۙ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] just as when your Lord brought you out of your home [for the battle of Badr] in truth, while indeed, a party among the believers were unwilling,

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:5

(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مال غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے رب نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) جس طرح آپ کا رب آپ کو آپ کے گھر سے حق کے (عظیم مقصد) کے ساتھ (جہاد کے لئے) باہر نکال لایا حالانکہ مسلمانوں کا ایک گروہ (اس پر) ناخوش تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس طرح تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ یقینا مومنوں کی ایک جماعت تو ناپسند کرنے والی تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جیسے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آپ کے گھر سے (جنگ بدر کے موقع پر) حق کام کے لئے نکال لایا تھا (مسلمانوں کو بھی ایسے ہی نکلنا چاہئے تھا) حالانکہ مومنوں کا ایک گروہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح کی بات اس وقت ظاہو ہوئی جب تمہارے رب نے ایک مقصد کے ساتھ تم کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ بات ناگوار تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جیسا کہ آپ کو نکالا آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ، (بدر کے معرکہ حق وباطل کی طرف) جب کہ ایمان والوں کے ایک گروہ کو یہ امر سخت ناگوار گزر رہا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

جیسا کہ آپ کے۔ پروردگار نے آپ کو حکمت کے سات آپ کے گھر سے باہر نکالا۔ اور مومنوں کا ایک گروہ (اس کو) گراں سمجھ رہا تھا ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جیسے کہ نکالا آپ کو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ اور یقیناً اہل ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیے تھا) جس طرح آپ کے رب نے آپ کو تدبیر کے ساتھ آپ کے گھر سے نکالا اور اس وقت مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Now with regard to the spoils the same situation exists as when) your Lord brought you forth from your home in a righteous cause while a party among the believers were much averse to it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is like when your Lord made you leave your home for the sake of truth, while a group from the believers were averse to it;

— Muhammad Taqi Usmani

It is like when your Lord made you leave your home for the sake of truth, while a group from the believers were averse to it;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As your Lord caused you to go out from your home with the truth; and verily, a party among the believers disliked it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Even as thy Lord caused thee (Muhammad) to go forth from thy home with the Truth, and lo! a party of the believers were averse (to it).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] just as when your Lord brought you out of your home [for the battle of Badr] in truth, while indeed, a party among the believers were unwilling,

— Saheeh International

A group among the believers dislike (God's decree about the booty captured in war) as well as His command that you come out of your home for a truthful purpose (to fight for justice).

— Muhammad Sarwar

Even as your Lord caused you to go forth from your house with the truth, though a party of the believers were surely averse;

— Muhammad Habib Shakir

This is like what time thy Lord had caused thee to go forthfrom thy house for a right cause, while a party among the believers were averse.

— Abdul Majid Daryabadi

Just as thy Lord ordered thee out of thy house in truth, even though a party among the Believers disliked it,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–8

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْاَنْفَال 3 قصور بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر اہل ایمان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں، اور جب تک انسان انسان ہے یہ محال ہے کہ اس کا نامہ اعمال سراسر معیاری کارناموں ہی پر مشتمل ہو اور لغزش، کو تاہی، خامی سے بالکل خالی رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے یہ بھی ایک بڑی رحمت ہے کہ جب انسان بندگی کی لازمی شرائط پوری کردیتا ہے تو اللہ اس کی کوتاہیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور اس کی خدمات جس صلے کی مستحق ہوتی ہیں اس سے کچھ زیادہ صلہ اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔ ورنہ اگر قاعدہ یہ مقرر کیا جاتا کہ ہر قصور کی سزا اور ہر خدمت کی جزا الگ الگ دی جائے تو کوئی بڑے سے بڑا صالح بھی سزا سے نہ بچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (مال غنیمت کا لوگوں کی مرضی کے موافق تقسیم نہ ہونا بلکہ منجانب اللہ اس کی تقسیم ہونا اگرچہ بعض لوگوں کو طبعا گراں گزرا ہو مگر مصالح کثیرہ کی وجہ سے یہی خیر اور بہتر ہے۔ اور یہ معاملہ خلاف طبع مگر مصلح کثیرہ کو متضمن ہونے میں ایسا ہی ہے) جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر (اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ آپ کو (بدر کی طرف) روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت (اپنی تعداد اور سامان جنگ کی قلت کی وجہ سے طبعا) اس کو گراں سمجھتی تھی وہ اس مصلحت (کے کام) میں (یعنی جہاد اور مقابلہ لشکر کے معاملے میں) بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوچکا تھا (اپنے بچاؤ کے لئے بطور مشورہ کے) آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ۔ کَمَا کے مواقع استعمال : کَما عربی زبان میں کذالک، کدابک، اور کما، بسا اوقات واقعہ کی مماثلت واقعہ سے ظاہر کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں متعین الفاظ کے اندر ان کا مشبہ اور مشبہ بہ نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ کذلک بقرہ کی آیت 143 میں اسی نوعیت سے آیا ہے۔ امرؤالقیس اپنے مشہور قصیدہ میں پہلے اپنی ایک سرگزشت عشق بیان کی اس کے بعد کدابک من ام الحویرث قبلھا، کہہ کر اپنی اسی طرح کی دوسری سرگزشتوں کا ذکر شروع کردیا کہ اسی طرح کا ماجرا اس کو فلاں اور فلاں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی جس طرح مال غنیمت کی تقسیم کا معاملہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا تھا، پھر اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالہ کردیا گیا تو اسی میں مسلمان کی بہتری تھی، اسی طرح آپ کا مدینہ سے نکلنا اور پھر آگے چل کر تجارتی قافلے کے بجائے، لشکر قریش سے مڈ بھیڑ ہوجانا، بعض طبائع کے لئے ناگوار تھا لیکن اس میں بھی بلآخر فائدہ مسلمانوں ہی کا تھا۔ 5۔ 2 یہ ناگواری لشکر قریش سے لڑنے کے معاملے میں تھی، جس کا اظہار چند افراد کی طرف سے ہوا اور اس کی وجہ صرف بےسروسامانی تھی۔ اس کا تعلق مدینہ سے نکلنے سے نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا، ان کی خواہش یہ تھی کہ یہ مال انہی کے پاس رہے لیکن فیصلہ اس کے برعکس ہوا، اب ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ انسان کی ہر خواہش انجام کے اعتبار سے درست نہیں ہوتی، اسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو واقعہ اس کی خواہش کے خلاف ہوا بہتری اسی میں تھی، اور ایسا ہی ہے جیسے ابوجہل سے جنگ کرنے کا معاملہ میں ہوا، مدینہ منورہ سے نکلتے وقت چونکہ صرف ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنا پیش نظر تھا اور کوئی باقاعدہ لشکر تیار نہیں کیا گیا تھا، اس لئے جب یہ بات سامنے آئی کہ ابوجہل ایک بڑا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا ہے تو بعض صحابہ کی خواہش یہ تھی کہ ابوجہل سے جنگ کرنے کے بجائے فی الحال…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

2 یعنی سوچو کہ اس جنگ (بدر) میں شروع سے آخر تک کس طرح حق تعالیٰ کی تحریک و تائید اور امداد اور توفیق مسلمانوں کے حق میں کارفرما رہی۔ خدا ہی تھا جو نصرت دین اسلام کے حق (سچے) وعدے کر کے اپنے نبی کو ایک امر حق یعنی کفار کے ساتھ جہاد کرانے کے لیے مدینہ سے باہر بدر کے میدان میں اس وقت لے آیا جبکہ ایک جماعت مسلمانوں کی لشکر قریش سے نبرد آزمائی کرنے پر راضی نہ تھی۔ یہ لوگ ایسی سچی اور طے شدہ چیز میں پس و پیش کر رہے اور حجتیں نکال رہے تھے جس کی نسبت بذریعہ پیغمبر انہیں ظاہر ہوچکا تھا وہ یقیناً خدا کی فرمائی ہوئی اٹل بات ہے (یعنی اسلام و پیران اسلام کا بذریعہ جہاد غالب و منصور ہونا) ابو جہل کے لشکر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ ۔ یہ اس پہلی مشاورت کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مدینہ ہی میں فرمائی تھی۔ لشکر کے میدان بدر کی طرف روانگی کو ناپسند کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو منافقین تھے جو کسی قسم کی آزمائش میں پڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے منصوبے کے تحت اس طرح کی کسی مہم جوئی کی روایت کو Nip the evil in the bud کے مصداق ابتدا ہی میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ان کے دلائل بظاہر بڑے بھلے تھے کہ لڑائی جھگڑا اچھی بات نہیں ہے ‘ ہمیں تو اچھی باتوں اور اچھے اخلاق سے دین کی تبلیغ کرنی چاہیے ‘ اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–7

8 جنگ بدر کا پس منظر :۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کرچکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کردی جائے چناچہ اس غرض کے لیے آپ نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9 ۔ یعنی مال غنیمت کا یہ خدائی طرز تقسیم گو بعض طبائع کو اپنے خلاف مرضی ہونے کی بنا پر ناگوار گزرے لیکن حقیقۃ یہ حکم ایسا ہی پر مصلحت ہے جیسا وہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہورہا ہے۔ کما اس لفظ کی ترکیب قرآن مجید کی مشکل ترین ترکیبات نحوی میں سے ہے اضطرب المفسرون فی قولہ کما الخ (بحر) چناچہ صاحب بحر نے 15 مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ ان میں ایک دلنشین قول زجاج لغوی کا ہے۔ الانفال ثابتۃ للہ کما اخرجک ربک (محر) زمخشری جیسے امام ادب نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور تقدیر کلام یوں رکھی ہے۔ الانفال استقرت للہ والرسول وثبتت مع کر اھیتھم تباتا مثل ثبات اخراج ربک ایاک من بیتک وھم کارھون (کشاف) صاحب بحر نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ : جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر (اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ (بدر کی طرف) آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔ کَمَا اَخْرَجَکَ- کَمََایا مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا : مال انفال کا اللہ اور رسول ﷺ کے اختیار میں ہونا اور رسول اللہ ﷺ کا سب کو برابر تقسیم کرنا اور جہادی جنگی جوانوں پر اس تقسیم کا گراں گذرنا ایسا ہی ہے جیسے تم کو جب اللہ نے مدینہ سے نکالا تھا اور تم بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے اور بعض لوگوں کو بدر کی جنگ کیلئے جانا گراں گذرا تھا ‘ یا فعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) یہ امر بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ محمد ﷺ آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینہ منورہ سے قرآن حکیم کے ساتھ یا جنگ کے ارادہ سے (بدر کی طرف) روانہ کیا اور ایک جماعت لڑائی کو شاق اور ناگوار سمجھ رہی تھی اور اس کے باوجود کہ ان پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ آپ بغیر حکم خداوندی کے کوئی کام نہیں کرتے، وہ آپ سے جنگ کے بارے میں بطور مشورہ جھگڑ رہے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”کما اخرجک ربک من“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منور میں تھے ہمیں اطلاع ملی کہ ابوسفیان کا قافلہ آرہا ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا ارادہ ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی بات ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اسی طرح ہے جیسے تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا۔ مفسرین نے اس ”ۚكَمَآ“ (جس طرح) کی کئی توج ہیں کی ہیں، بعض نے وہ بیس تک پہنچا دی ہیں، البتہ صاحب کشاف نے صرف دو توج ہیں کی ہیں، جن میں سے زیادہ واضح یہ ہے کہ یہاں مبتدا محذوف ہے اور عبارت یوں ہوگی ”ھٰذِہِ الْحَالُ کَحَالِ إِخْرَاجِکَ یَعْنِیْ اَنَّ حَالَہُمْ فِیْ کَرَاہِیَۃِ مَا رَأَیْتَ مِنْ تَنْفِیْلِ الْغَزْوَۃِ مِثْلُ حَالِہِمْ فِیْ کَرَاہَۃِ خُرُوْجِکِ لِلْحَرْبِ“ یعنی غزوۂ بدر سے حاصل ہونے والی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 5 قولہ تعالیٰ : آیت : کما اخرجک ربک من بیتک بالحق زجاج نے کہا ہے : کاف محل نصب میں ہے، یعنی الانفال ثابتۃ لک کما اخرجک ربک من بیتک بالحق ( مال غنیمت آپ کے لیے ثابت ہے جس طرح نکال لایا آپ کو آپ کا رب آپ کے گھر سے حق کے ساتھ) یعنی مثل اخراجک ربک من بیتک بالحق اور معنی یہ ہے : غنائم میں اپنا حکم جاری کردیجیے اور جسے چاہیں بطورر نفل دیجئے اگرچہ وہ ناپسند کریں، کیونکہ بعض صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت کہا جب آپ ﷺ نے ہر قیدی بنا کر لانے والے کے لیے کوئی شے مقرر فرمائی : بہت سے لوگ بغیر شے کے باقی رہ جائیں گے۔ ( یعنی بہت سے لوگوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آئے گا) پس کما میں کاف کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

غزوہ بدر کیسے پیش آیا : 1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ہم مدینہ منورہ میں تھے اور آپ کو یہ خبر پہنچی کہ ابو سفیان کا قافلہ قریب آگیا ہے آپ نے فرمایا اس میں تمہارا کیا خیال ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لئے مال غنیمت بنا دے گا اور ہم کو سلامتی عطا فرما دے گا (چنانچہ) ہم نکلے اور جب ہم ایک یا دو دن سفر کرچکے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم اپنے آپ کو شمار کرلیں تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ اچانک ہم تین سو تیرہ افر تھے ہم نے نبی ﷺ کو اپنی تعداد بتائی تو آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اَخْرَجَكَ : آپ کو نکالا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ مِنْۢ بَيْتِكَ : آپ کے گھر سے ] [ بِالْحَقِّ ۠ : حق کے ساتھ ] [ وَاِنَّ : اور بیشک ] [ فَرِيْقًا : ایک فریق ] [ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں میں سے ] [ لَكٰرِهُوْنَ : یقینا ناپسند کرنے والا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–8

غزوۂ بدرکا تذکرہ ان آیات میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے اور رکوع کے ختم تک بلکہ اس کے بعد بھی متعدد آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر مزید تفصیل اس سورت کے پانچویں اور چھٹے رکوع میں بیان فرمائی ہے، غزؤہ بدر کا کچھ تذکرہ سورة آل عمران کے رکوع دوم (انوار البیان ج 2) میں اور کچھ آل عمران کے رکوع نمبر 12 (انوار البیان ج 2) میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے (وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ) (اور یہ بات واقعی اور حقیقی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقام بدر میں تمہاری مدد فرمائی جب کہ تم کمزور تھے) ۔ آگے بڑھنے سے پہلے پورا واقعہ ذہن نشین کرلینا چاہئے تاکہ آیت کریمہ میں جو اجمال ہے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

ذکر انعامات خداوندی در واقعہ بدر بہ برکت ایمان وتقوی وتوکل قال اللہ تعالیٰ ٰ کما اخرجک ربک من بیتک بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ وھم ینظرون (ربط): اس سورت میں عموما غزوہ بدر کی کامیابی کے واقعات کا ذکر ہے اور اس ضمن میں جو انعامات خداوندی مبذول ہوئے ان کی تذکیر اور یاد دہانی مقصود ہے اور یہ بتلانا ہے کہ دیکھو تو سہی کہ باوجود بےسروسامانی کے جنگ بدر میں کس طرح از اول تا آخر تائید غیبی تمہاری معین اور مددگار رہی یہ سب ایمان اور تقوی اور توکل اور اطاعت خدا اور رسول کی برکت تھی۔ شروع سورت میں اجمالی طور پر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں اس غیبی کامیابی کے کچھ واقعات ذکر کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5: یہ دعوی اولی “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْل الخ ” کی پہلی علت ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ “ کَمَا ” میں کاف تعلیلیہ ہے جیسا کہ علامہ ابو حیات اندلسی نے لکھا ہے۔ “ و یظھر ان الکاف فی ھذا التخریج المنامی لیست لمحض التشبیه بل فیھا معنی التعلیل الخ ” (بحر ج 4 ص 463) اور “ اَلْحَق ” سے حکمت اور صواب مراد ہے۔ “ اخراجاً متلبساً با لحکمة والصواب ” (مدارک ج 2 ص 72، جامع البیان ص 152) ۔ سن 2 ھ کا واقعہ ہے کہ ابو سفیان کی سر کردگی میں مشرکین کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس آرہا تھا جو قریش کے ساٹھ آدمیوں اور دیگر ملازمین پر مشتمل ہےحضور ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کے نظم وضبط کا قانون بیان فرمایا۔ پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا اور آخر میں ان انعامات کا ذکر کیا جو ان کو ملنے والے ہیں۔ یہ تین انعامات درجات کی بلندی ، گناہوں کی معافی اور باعزت روزی ہیں آج کا درس بھی اسی آیت کے ساتھ مربوط ہے کہ یہ انعامات اسی طرح ۔۔ یقینی ہیں جس طرح اے پیغمبر ! آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینے سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا یعنی جنگِ بدر میں کامیابی عطا فرمائی۔ ” کما “ بطور تشبیہ آج کا درس لفظ کما سے شروع ہو رہا ہے جس کا معنی ” جس طرح “ ہے مفسرین کرام نے اس کی بہت سے توجیہات کی ہیں۔ بعض فرماتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَـمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ۝ 0 ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِہُوْنَ۝ 5 ۙ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

ترکیب : کما صفت ہے مصدر محذوف کی اے ھذہ الحالۃ فی کراھتھم لھا مثل اخراجک فی حال کر اہتھم وقد کان خیرا پس یہ کما خبر ہوگی مبتداء محذوف کی جو ھذہ ہے وان فریقاً جملہ حال ہے کہ اخرجک سے یجادلونک الخ جملہ حال ثانی ہے کانما جملہ صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اذ یعدکم کا عامل اذکر محذوف کم مفعول اول احدی الطائفتین مفعول ثانی یعد کا انہالکم بدل ہے مفعول ثانی سے بدل الاشتمال۔ تفسیر : کما اخرجک اس تشبیہ میں علمائِ مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ ازانجملہ سب سے راجح یہ ہے کہ تقسیم بھی مسلمانوں کو بظاہر ایسی ہی ناگوا رہے جیسا کہ اے پیغمبر اس جنگ کے لئے آپ کا بحکم الٰہی گھر سے نکلنا ناگوار تھا لیکن جس طرح وہاں ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

کَمَااَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ ص وَاِنْ فَرِیْقًامِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ ۔ لا یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ ط (الانفال : 5، 6) (اسی طرح نکالا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ایک مقصد حق کی خاطر اور اہل ایمان کی ایک مختصر ٹولی ناخوش تھی۔ وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑتے تھے اس کے بعد کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جارہے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ) کما کا مفہوم قرآن کریم نے ” کذلک، کدأبک، کما “ یہ تینوں الفاظ مختلف مواقع پر تشریح کے لیے استعمال کیے ہیں۔ البتہ ! دوسرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : انفال کے بارے چند بنیادی احکام کے بعد غزوۂ بدر کی چند تفصیلات کہ غنیمتیں کیوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ رسول محترم اور آپ کے عظیم رفقاء نے مکہ میں تیرہ سال بےپناہ مصائب و آلام کا سامنا کیا بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے مکہ والوں نے آخر وقت تک آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر و سلامتی کے ساتھ آپ کو مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ یہاں پہنچ کر رسول معظم ﷺ نے مسلمانوں میں مواخات قائم فرمائی اور یہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا۔ جس میں فریقین کے حلیف قبیلے بھی شامل تھے۔ عبداللہ بن ابی جسے آپ کی آمد سے پہلے اہل مدینہ نے اپنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 5: کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ 7 بَیْتِکَ (جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو گھر سے روانہ کیا) : کَمَا کا کاف محل نصب میں واقع ہے کیونکہ یہ فعل مقدر کے مصدر کی صفت ہے تقدیرعبارت اس طرح ہے قل الا نفال استقرت للّٰہ والرسول وثبتت مع کر اہتھم ثباتا مثل اخراج ربک ایاک من بیتک و ھم کارھون کہ دیں کہہ غنائم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کیلئے پختہ ہوچکے اور ان کی ناپسندیدگی کے باوجود ثابت ہوچکے پورے طور پر ثابت ہونا جبکہ آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے نکالا اس حال میں کہ وہ اس کو ناپسند کر رہے تھے۔ مِنْم بَیْتِکَ نمبر 1۔ مدینہ میں حجرات نبوت یا، نمبر 2۔ مدینہ منورہ مراد ہے۔ کیونکہ وہ آپ کا بیت ہجرت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (5) (کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و ان فریقاً من المومنین لکرھون) اس میں اختلاف ہے کہ باری تعالیٰ کے قول ” کما اخرجک ربک “ میں کاف کو لانے کی وجہ کیا ہے ؟ مبر و (رح) فرماتے ہیں اس کی اصل عبارت ” الانفال للہ و الرسول و ان کرھوا کما اخرجک ربک من بیتک بالحق وان کرھوا “ ہے اور بعض نے کہا ہے اصل عبارت یہ ہے۔ انفال کے بارے اللہ کے حکم کو جاری کریں۔ اگرچہ وہ اس کو ناپسند کریں۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے تجارتی قافلہ کی تلاش میں گھر سے نکلنے میں اللہ کے حکم کو جاری کیا تھا اور لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے اور عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتی ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان معاملہ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

5۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابوسفیان کی شام سے مال لے کر راستہ میں ہونے کی خبر سن کر جب مدینہ سے حضرت ﷺ نکلے اور ہزار آدمیوں کی جمعیت سے قریش ابوسفیان کی مدد کو آگئے تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت سے یہ عرض کیا کہ ہم تو فقط ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے مدینہ سے نکلے تھے لڑائی کے لئے حسب دل خواہ اس وقت ہم میں طاقت نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح لڑائی کے ختم ہونے کے بعد تم نے غنیمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–8

آیت 5 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انہیں اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لئے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لئے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة الانفال مال غنیمت اور اس کے احکام ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

9 اِطاعت خدا و رسول ہی ذریعہ فوز و فلاح : سو انسان کی بہتری و بھلائی اطاعت خدا و رسول ہی میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کو یہ امر سخت ناگوار گزر رہا تھا اپنی بےسروسامانی اور شکتہ حالی کی بناء پر جو کہ ایک طبعی امر ہے کہ ایسی صورت حال میں اس طرح کی کراہت و ناگواری لوازم بشریہ میں سے ہے جس سے کوئی پاک و مبرا نہیں ہوسکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی بڑی شان اور اونچے مرتبے والاکیوں نہ ہو ۔ اِلّا ماشاء اللہ ۔ بہرکیف جیسے اس وقت تمہاری ناگواری کا نتیجہ تمہارے لیے عظیم الشان کامیابی اور سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنا تھا، اسی طرح اب " انفال " کے بارے میں یہ حکم خداوندی اگرچہ وقتی طور پر تم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–6

جنگ کے ابتدائی اسباب تشریح : ان آیات کے حوالے سے جنگ کے ابتدائی مراحل کا ذکر اسباب کے ساتھ کردینا ضروری ہے۔ ہوا اس طرح کہ جب سے نبی اکرم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے کفار کو ان کی یکجہتی اور مضبوطی بری طرح کھٹک رہی تھی۔ اسی بات کے پیش نظر کہ مسلمان کہیں ایک مضبوط طاقت نہ بن جائیں اہل مکہ اکثر ان کو تنگ کرتے رہتے اسی کوشش میں کرزبن جابر کی سر کردگی میں مدینہ کے قریب چرنے والے مویشیوں کو لوٹا گیا۔ غرض ہر وقت اسی کوشش میں رہتے کہ کسی طرح مسلمانوں کو تہس نہس کردیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی کچھ نہ کچھ تدابیر کر رکھی تھیں کیونکہ یہ فیصلہ کن مرحلہ تھا اور کفر و اسلام کی بقاء و ترقی کا پہلا ایسا معرکہ تھا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سورة الانفال یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ، آیات 1 تا 10 اسرار و معارف آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 6 یعنی انہیں یہ معلوم تھا کہ آپ ﷺ جو حکم دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اھد ی الطا ئفتین کا وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے لیکن پھر یہ آپ ﷺ سے جھگڑ کرو ہے ہیں، ابن کثیر) بعض صحابہ ؓ نے جو اس وقت لشکر سے نہ لڑنے کا مشہورہ دیا تھا اس کی مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے۔7 یعنی سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے مسلح لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:5) کما جیسے۔ ان آیات کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے مختصراً ان کا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے۔ شعبان المعظم سنہ 2 ھ میں مدینہ کے شمال جانب ابو سفیان کی قیادت میں ایک تاجرتی وفد شام سے مکہ کی جانب لوٹ رہا تھا۔ ان کی گزرگاہ مسلمانان مدینہ کی زد میں تھی۔ ابو سفیان نے حفظ ما تقدم کے طور پر امداد کے لئے مکہ کو اپنا آدمی دوڑایا۔ جس نے حالات کو نہایت مبالغہ کے ساتھ مکہ والوں کے سامنے بیان کی۔ اس پر مکہ سے ابوجہل کی سرکردگی میں ایک لشکر جرار جملہ سامان حرب سے لیس ہوکر جنوب سے مدینہ کی جانب چڑھ نکلا۔ جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ان وک معلوم ہوا کہ قافلہ مسلمانوں کی زد سے بچ کر نکل گیا ہے اس پر ابو جہل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–8

لغات القرآن۔ اخرج۔ نکالا۔ بیت۔ گھر۔ لکرھون۔ البتہ برا سمجھنے والے ہیں۔ ناگوار محسوس کرنے والے ہیں۔ یجادلون۔ وہ جھگڑتے ہیں۔ تبین۔ کھل گیا۔ کھل چکا۔ واضح ہوگیا۔ کانما۔ جیسے۔ گویا کہ وہ۔ یساقون۔ وہ ہانکے جا رہے ہیں۔ ینظرون۔ وہ دیکھ رہے ہیں۔ یعد۔ وہ عدد کرتا ہے۔ احدی۔ کوئی ایک۔ الطائفین۔ دو جماعتیں۔ تو دون۔ تم پسند کرتے ہو۔ غیر ذات الشوکۃ۔ کانٹانہ لگے۔ ان یحق۔ یہ کہ وہ ثابت کردے۔ یقطع۔ وہ کاٹتا ہے۔ دابر۔ (دبر) ۔ جڑ ۔ بنیاد۔ یبطل۔ وہ باطل کرتا ہے۔ مٹاتا ہے۔ کرہ۔ برا لگا۔ تشریح : درحقیقت غزوہ بدر ہر اعتبار سے اس قدر فیصلہ کن تاریخی واقعہ ہے جس نے کفار مکہ کو نہ صرف ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تھا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فرشتوں کی امداد شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان کا شام سے مال لے کر راستہ میں ہونے کی خبر سن کر جب مدینہ سے آنحضرت ﷺ نکلے اور ہزار آدمیوں کی جمعیت سے اہل قریش ابو سفیان کی مدد کو آگئے۔ ابو سفیان کا قافلہ تو سمندر کے کنارے کنارے مکہ کو چلا گیا تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہم تو فقط ابو سفیان کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے مدینہ سے نکلے تھے لڑائی کے لئے حسب دلخواہ اس وقت ہم میں طاقت نہیں ہے، نہ ہمارے پاس سامان ہے۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح لڑائی کے ختم ہونے کے بعد تم نے مال غنیمت میں جھگڑا کیا اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–7

[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

غزوہ بدر : (ف 1) 2 ھ؁ میں مسلمانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ مکہ والوں کی شرارتوں کا قطعی سدباب کردیا جائے یہ تقریبا 300 میل کی دوری کے باوجود مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے اکثر دھمکیاں دیتے ، کہ ہم یثرب پہنچ کر تمہیں مزہ چکھائین گے ربیع الاول 2 ھ؁ میں ایک شخص کو زبن جابر الفہری مدینہ پہنچا اور اونٹ لوٹ کرلے گیا ، حضور ﷺ نے فیصلہ کرلیا ، کہ مدینے سے باہر نکل کر فیصلہ کن جنگ ہوجائے ، تاکہ کفر کو آیندہ ایمان کے خلاف جرات نہ رہے ۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مشورہ کیا ، سب نے رضا مندی کا اظہار کیا یہ ایک جماعت ایسی تھی ، جسے باہر نکل کر کامیابی کا بھروسہ نہ تھا وہ کہتے تھے ہم اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اے پیغمبر مال غنیمت کی تقسیم کا حال بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے پروردگار نے ایک امر حق کے لیے آپ کو آپ کے گھر سے نکالا تھا حالانکہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے نکلنے اور بدر کی طرف خروج کرنے کو ناپسند کرتی تھی ، یعنی یہ اختلاف بھی اسی قسم کا ہے جب مدینے سے ہم نے بدر کی طرف جانے کا حکم ایک مصلحت کے ماتحت دیا تھا اور چونکہ ہماری مصلحت کا علم عوام کو نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنی سمجھ کے موافق اس میں اختلاف کرتے ہیں جب مصلحت کے ماتحت نتیجہ سامنے آتا ہے تب مطمئن ہوتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غنیمت کا جھگڑا بھی ایس اہی ہے جیسا نکلتے وقت عقل کی تدبیریں کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی نکلا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

ف 4۔ ایک قافلہ مختصر تاجران مکہ کا شام سے مکہ کو چلا جس کے ساتھ مال و اسباب بہت تھا آپ کو وحی سے معلوم ہوا آپ نے صحابہ کو خبر دی صحابہ کو قلت رجال اور کثرت مال کا حال معلوم ہونے سے غنیمت کا خیال ہوا اور اسی ارادہ سے مدینہ سے چلے یہ خبر جو مکہ پہنچی تو ابوجہل وہاں کے روساء وجنود کے ہمراہ اس قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلا اور قافلہ سمندر کے کنارہ کنارہ ہولیا اور ابوجہل مع لشکر بدر میں آکر ٹھہرا اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ وادی وجران میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کو سارا قصہ بذریعہ وحی معلوم ہوا اور آپ سے وعدہ خداوندی ہوا کہ ان دو گروہ یعنی قافلہ اور لشکر میں سے آپ کو ایک گروہ پر غلبہ ہوگا آپ نے صحابہ سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کما اخرجل ربک کے لفظ کما پر بحث : 10: سورة الانفال کی آیت پانچ جو کَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ سے شروع ہورہی ہے اس کے لفظکَمَاۤ پر بحث کی گئی ہے اور مفسرین نے اس کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ کَمَاۤ ایک لفظ ہے جو تشبیہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور غور طلب بات اس جگہ یہ ہے کہ یہاں تشبیہ کسی چیز کی کس چیز سے ہے ؟ اس کی مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں اور خصوصاً امام تفسیر ابو حیان (رح) نے اس طرح کے پندرہ اقوال نقل کئے ہیں اور تقریباً اکثر مفسرین نے بحث کی ہے اور کسی نے کسی اور کسی نے کسی کو ترجیح دی ہے اور پھر تین احتمالات کو زیادہ پسند کیا گیا ہے۔ 1 : یہ کہ گزشتہ آیات میں سچے مومنین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It has already been stated at the beginning of the Su-rah that most of the subjects taken up in Surah Al-Anfal relate to the retribution and punishment which visited the disbelievers and polytheists, and to the favour shown and reward given to Muslims. Also, described there as a corollary are injunctions which provide for both parties necessary lessons and advices. Out of what had transpired between them, the first and the most important event was that of the battle of Badr in which the polytheists were defeated, suffering heavy losses in men and materials, despite the support of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

3. Even the best and the most devoted believers are liable to commit lapses. As long as man is man, it is impossible for his record to be filled exclusively with righteousness of the highest order and to be free from all lapses, shortcomings and weaknesses. Out of His infinite mercy, however, God overlooks man's shortcomings as long as he fulfils the basic duties incumbent upon him as God's servant, and favours him with a reward far greater than that warranted by his good works. Had it been a rule that man would be judged strictly on the basis of his deeds, that he would be punished for every…

Read the full tafseer →