Explained with ayahs 2–4
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان
ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الْاَنْفَال 3
قصور بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر اہل ایمان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں، اور جب تک انسان انسان ہے یہ محال ہے کہ اس کا نامہ اعمال سراسر معیاری کارناموں ہی پر مشتمل ہو اور لغزش، کو تاہی، خامی سے بالکل خالی رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے یہ بھی ایک بڑی رحمت ہے کہ جب انسان بندگی کی لازمی شرائط پوری کردیتا ہے تو اللہ اس کی کوتاہیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور اس کی خدمات جس صلے کی مستحق ہوتی ہیں اس سے کچھ زیادہ صلہ اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔ ورنہ اگر قاعدہ یہ مقرر کیا جاتا کہ ہر قصور کی سزا اور ہر خدمت کی جزا الگ الگ دی جائے تو کوئی بڑے سے بڑا صالح بھی سزا سے نہ بچ…
Read the full tafseer →مرد مومن کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا، یعنی ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں جن کا ظاہر و باطن یکساں اور زبان اور دل متفق ہیں ورنہ جن میں یہ صفات نہیں وہ زبان سے تو اشھد ان لآ الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ کہتے ہیں مگر ان کے دلوں میں نہ توحید کا رنگ نہ اطاعت رسول کا۔ ان کے اعمال ان کے اقوال کی تردید کرتے ہیں۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے جب وہ حاصل نہ ہو حق حاصل نہیں ہوتا۔
ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے پوچھا کہ اے ابو سعید کیا آپ مومن ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بھائی ایمان دو قسم کے ہیں۔…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۔ یعنی جن کے اندر یہ اوصاف ہیں سچے مومن وہی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اہل ایمان کی صفوں میں آ تو گھسے ہیں لیکن ان اوصاف سے عاری ہیں، وہ محض مدعی ایمان ہیں، سچے مومن نہیں ہیں۔ گویا اوپر ان کنتم مومنین کے الفاظ میں جو بات اشارۃ فرمائی گئی تھی اب وہ پوری طرح واضح ہو کر سامنے آگئی۔ rnۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہاں جو درجے اور مرتبے ہیں وہ مدعی ایمان کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سیاق میں مغفرۃ کا لفظ بڑا بلیغ اور بشارت انگیز ہے جس سے یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 1 ان آیات میں اہل ایمان کی 4 صفات بیان کی گئی ہیں 1، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ صرف اللہ کی یعنی قرآن کی۔ 2۔ اللہ کا ذکر سن کر، اللہ کی جلالت و عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 3۔ تلاوت قرآن سے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے (جس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے) 4۔ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی اسباب سے اعراض و گریز بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، لیکن اسباب ظاہری کو ہی نہیں سب کچھ ہی نہیں سمجھ لیتے بلکہ ان کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک حصہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مال غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہوگیا، یہ چونکہ پہلی جنگ تھی اور مال غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکھٹا کیا ہے وہ انہی کا ہے (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے ؛ بلکہ مال غنیمت اکھٹا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
درس نمبر 83 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 " بدر " میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مال غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے…
Read the full tafseer →آیت 4 اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط۔
یہاں پر ایک مؤمن کی تعریف definition کا پہلا حصہ بیان ہوا ہے ‘ جب کہ اس کا دوسرا اور تکمیلی حصہ اس سورت کی آیت 74 میں بیان ہوگا ‘ یعنی آخری سے پہلی second last آیت میں۔ اس آیت میں بھی یہی الفاظ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط ایک دفعہ پھر آئیں گے۔ ایمان کے ان حقائق کو تقسیم کر کے سورت کے آغاز اور اختتام پر اس طرح رکھا گیا ہے جیسے ساری سورت اس مضمون کی گود میں آگئی ہو۔
Read the full tafseer →7 سچے مومنوں کا درجہ :۔ جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہوجانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہوگی اور بدنی…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی جیسا کامل ان کا ایمان ہے ویسے ہی جزاء بھی انہی ہر اعتبار سے کامل ہی ملے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →اولئک ھم المؤمنون حقا لھم درجت عند ربھم و مغفرت ورزق کریم : بس سچے ایمان والے یہی ہیں۔ ان کیلئے ان کے رب کے ہاں بڑے درجے ہیں اور ان کیلئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
ان صفات کے مؤمن ہی ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاپ کے سچے مؤمن ہیں۔ حقًّایا ایمانًا محذوف کی صفت ہے یعنی پکا ایمان ‘ یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے جو فعل کی تاکید کر رہا ہے یعنی ان کا ایمان پکا ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔
حسن بصری سے ایک شخص نے دریافت کیا : آپ مؤمن ہیں ؟ فرمایا : اگر تیرا سوال یہ ہے کہ میرا ایمان اللہ پر ‘ اللہ کے ملائکہ اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور جنت و دوزخ پر اور حشر و حساب آخرت پر ہے یا نہیں تو میں یقیناً مؤمن…
Read the full tafseer →(4) بس کامل اور سچے ایمان والے یہی لوگ ہیں، ان کے لیے آخرت میں بڑے بڑے درجاتا اور دنیا میں ان کے گناہوں کی معافی ہے اور جنت میں ان کے لیے بہترین ثواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت نمبر : 2۔ 3۔ 4
قولہ تعالیٰ : آیت : انما المومنون۔۔ آیت کے آخر تک۔ یتوکلون۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
علماء نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے اس مال غنیمت کو تقسیم کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے یہ آیت اس بارے میں آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم پکڑنے پر برانگیختہ کرتی ہے۔ الوجل کا معنی خوف ہے۔ اس کے مضارع میں چار لغتیں ہیں : وجل، یوجل ویاجل وییجل وییجل، اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ اور مصدر وجل وجلا و موجلا بالفتح ہے۔ اور یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ موجل ہو تو پھر اسم ظرف بنتا ہے۔ پس جنہوں نے کہا ہے : یا جل انہوں نے مضارع میں واو ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا ہے اور قرآن کریم کی لغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1:۔ ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں ایمان عمل کی طرف پہنچ گیا۔ فرمایا (آیت) ” انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم واذا تلیت علیہم الصلوۃ ومما رزقنہم ینفقون (3) اولئک ھم المومنون حقا “۔
2:۔ ابن جرریر اور ابن حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہ کفر سے بری ہیں۔
3:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہ خالص مومن ہیں۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہی لوگ ایمان کے مستحق ہوگئے حق کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →[ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ : ہی ایمان لانے والے ہیں ] [ حَقًّا ۭ : حقیقتا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ہی ] [ دَرَجٰتٌ: درجے ہیں ] [ عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ] [ وَمَغْفِرَةٌ: اور مغفرت ہے ] [ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ: اور باعزت رزق ہے ]
Read the full tafseer →مذکورہ صفات والے سچے مومن ہیں :
آخر میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ) (یہ لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات ہیں اور مغفرت ہے اور رزق کریم ہے) اس میں اول تو یہ فرمایا کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا یہی سچے مومن ہیں پھر ان کے لیے درجات اور مغفرت اور رزق کریم کی بشارت دی، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ تین انعام مذکورہ بالا تین قسم کے اوصاف کے مقابل ہیں ایمان باللہ اور اللہ کے ذکر کے وقت ہیبت سے سہم جانا اور اس کی آیات سن کر ایمان کا بڑھ جانا اور اس کی ذات پر بھروسہ کرنا، یہ امور قلب یعنی دل سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الانفال۔۔۔ الی۔۔۔ ومفرۃ ورزق کریم
سورة انفال کل مدنی ہے جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اسی وجہ سے اس سورت کو سورة بدر بھی کہتے ہیں اس میں پچھتر یا چھتر یا ستتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔
فائدہ : انفال۔ نفل بالتحریک کی جمع ہے جس سے مراد مال غنیمت ہے۔ نفل در اصل بمعنی زیارت ہے اور نفل کو نفل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اصل فرض سے زائد ہے اور غنیمت کو نفل اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور عطیہ ہے مال غنیمت پہلی امتوں پر حلال نہ تھا اس امت پر بطور فضل وزیادت حلال کردیا گیا اور غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو جہاد میں کافروں سے حاصل ہو اور فقہاء کی اصطلاح میں نفل کا اطلاق اس مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
4: یہاں سے لے کر “ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” تک ان مؤمنین کاملین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن میں صفات ذیل موجود ہوں۔ جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں، اللہ کی آیتیں سن کر ان کے ایمان میں پختگی پیدا ہو، وہ ہر کام میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوں نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جماعتی نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اختلافات ختم کر کے آپس میں صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنے کی تلقین کی تھی ، اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مال غنیمت پر کسی مجاہد یا غاذی کا براہ راست کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ کی ملکیت ہے جس اس کا رسول ہدایت الٰہی کے مطابق تصرف میں لاتا ہے اور اس کو تقسیم کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مرکزی بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ فرمایا ، اگر ان میں سے کسی معاملہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگی تو دشمن راہ پا کر غلبہ حاصل کرلے گا ، لہٰذا مذکورہ ہدایات پر سختی سے کاربند ہو جائو۔ اب آج…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا 0 ۭ لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ 4 ۚ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ اور اپنی حالت کو درست کرو۔
ترکیب : عن 2 ؎ الانفال یسئلون سے متعلق ‘ الانفال مبتداء للّٰہ والرسول خبر المؤمنون مبتداء الذین موصول اذا ذکر شرط وجلت جواب جملہ صلہ واذا تلیت شرط و جواب مل کر جملہ معطوف ہے پہلے صلہ میں داخل مجموعہ خبر و علی ربہم جملہ یا حال ہے یا صلہ میں داخل بذریعہ عطف الذین یقیمون صلہ و موصول پہلے الذین سے بدل حقًا مفعول مطلق ہے فعل محذوف سے عند ربہم درجات بمعنی اجر کا ظرف۔ 3 ؎
تفسیر : یہ سورة ایام جنگ بدر میں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حسن اور عکرمہ و جابر بن زید و عطا وغیرہم ائمہ تفسیر سے منقول ہے ابو الشیخ و ابن مردویہ و نحاس نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًاوَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ ج الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَرَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ ج (الانفال : 2 تا 4)
بلاشبہ مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ جو نماز قائم کریں اور اس مال میں سے جو ہم نے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : انفال کے بارے چند بنیادی احکام کے بعد غزوۂ بدر کی چند تفصیلات کہ غنیمتیں کیوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
رسول محترم اور آپ کے عظیم رفقاء نے مکہ میں تیرہ سال بےپناہ مصائب و آلام کا سامنا کیا بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے مکہ والوں نے آخر وقت تک آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر و سلامتی کے ساتھ آپ کو مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ یہاں پہنچ کر رسول معظم ﷺ نے مسلمانوں میں مواخات قائم فرمائی اور یہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا۔ جس میں فریقین کے حلیف قبیلے بھی شامل تھے۔ عبداللہ بن ابی جسے آپ کی آمد سے پہلے اہل مدینہ نے اپنا…
Read the full tafseer →پختہ مومن :
آیت 4: اُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُؤْ مِنُوْنَ حَقًّا (سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں) نمبر 1۔ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ یعنی وہی سچا ایمان رکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ اولئک ھم المؤمنون جملے کی یہ تاکید ہے جیسا کہا جاتا ہے۔ ہو عبداللہ حقًّا یعنی یہ بالکل پختہ بات ہے۔
نکتہ : حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا۔ أمؤمن انت ؟ میں نے جواب دیا اگر تم مجھ سے ایمان باللہ، اور ملائکہ اور اس کی کتابوں، اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن اور جنت و دوزخ اور بعث و حساب پر ایمان کے متعلق پوچھتے ہو۔ تو میں مومن ہوں اور اگر تیرا سوال انما المؤمنون الاٰیۃ کے متعلق ہے۔ تو پھر مجھے معلوم نہیں کہ آیا…
Read the full tafseer →(4) (اولئک ھم المئومنون حقاً ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کفر سے بری ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ کسی کے لئے جائز نہیں کہ اپنے آپ کو مئومن حق کہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صفت مخصوص صفات والے لوگوں کی بیان کی ہے اور ہر ایک میں یہ صفات پائی نہیں جا سکتیں۔ ابن ابی لجیح فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت حسن (رح) سے سوال کیا کہ کیا آپ مئومن ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تو اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور آخرت کے دن اور جنت اور جہنم اور دوبارہ جی اٹھنے اور حساب پر ایمان رکھنے کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو میں ان پر ایمان رکھتا ہوں اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 4۔ اللہ پاک نے تخصیص کے ساتھ پانچ صفتیں اس آیت میں بیان فرمائیں کہ کامل مومن وہی ہے جس میں یہ صفتیں پائی جاویں۔ پہلی صفت یہ بیان کی کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر آوے تو دل میں اس کے ڈر پیدا ہو کیونکہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ مومنوں کے دل خدا کے ذکر سے اطیمنان پاتے ہیں اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن کے دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہوتا ہے ان دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ خوف خدا کا عذاب سن کر اور اس کا جلال وہیبت یاد کر کے ہونے لگتا ہے اور اطیمنان اس کی رحمتیں اور اوصاف سن کر ہوتا ہے علماء سلف نے لکھا ہے کو خوف کی دو قسمیں ہیں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(آیت 1)
(الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چناچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
(یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں “ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے ! (الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں “ وہ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الانفال
مال غنیمت اور اس کے احکام
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…
Read the full tafseer →8 سچے ایمان والوں کیلئے عظیم الشان انعامات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مومنوں کے لئے ان کے رب کے یہاں بڑے درجے بھی ہیں اور عظیم الشان بخشش اور عزت کی روزی بھی۔ ایسے بڑے درجے، اتنی عظیم الشان مغفرت و بخشش اور ایسی عزت کی روزی اور رزق کریم کہ اس کا تصور کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے لئے ممکن نہیں کہ یہ سب کچھ کرم و عنایت اور انعام و احسان اس وہاب مطلق کی طرف سے ہوگا جس کے نہ کرم کی کوئی انتہاء ہے اور نہ اس کے فضل و عنایت کی کوئی حد و نہایت ۔ شَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحَمِیْن وَیَآ اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مؤمنین کی صفات
تشریح : ان آیات میں بھی مومن کی خاص صفات بتائی گئی ہیں۔ سچے مومن کی پانچ علامات بتائی گئی ہیں۔
-1 اللہ کا نام سن کر اس کی عزت و احترام اور بڑائی کا خیال ان کے دلوں میں یوں پیدا ہوتا ہے کہ دل خوف سے لرز اٹھتے ہیں۔
-2 جیسا کہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بڑی پر اثر بات کو غور سے سنتا ہے تو اس بات کے مطابق اس کے دل میں زیادہ اثر اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب مومن غور سے قرآن کی آیات سنتا ہے تو اس کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اس کے دل میں نور ایمان روشن ہوتا ہے۔ اس کی روح اور بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے اور اس کا چہرہ نور ایمان سے دمکنے لگتا ہے۔
-3 وہ نماز قائم رکھتے ہیں۔ پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جنت کے میوے اور کھانے5 یہاں غزوہ بدر کے لیے روانگی کے واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو 2 ھ میں پیش آیا، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان سر کردگی میں شام سے مکہ جارہا ہے اور مدینہ کے راستہ پر پہنچ چکا ہے آپ ﷺ مسلمانوں کو مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی لے کر قافلہ کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے ابو سفیان کو آنحضرت ﷺ کے نکلنے کی اطلاع ہوگئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعہ مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاط اصل رستہ چھوڑ کر ساحلی اختیار کرلیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچتی تو ابو جہل ایک بڑا مسلح لشکر لے کر قافلہ کی حفاظت کے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(8:2) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) ڈرجاتے ہیں (ان کے بل) موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ
تلیت ماضٰ مجہول ۔ واحد مؤنث غائب۔ تلاوت کیجاتی ہیں۔ پڑھی جاتی ہیں (آیات اسکی) ۔
زادتھم۔ تو وہ زیادہ کردیتی ہیں ان کو ۔ وہ بڑھا دیتی ہیں ان کو۔ ایمانا بحیثیت ایمان کے یعنی ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا ایمان اور قوی ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
الانفال۔ (نفل) ۔ مال غنیمت۔ اصلحوا۔ درست کرلو۔ اصلاح کرلو۔ ذات بینکم۔ تم آپس میں (ذات۔ والا ۔ بین ۔ درمیان) ۔ ذکر اللہ ۔ اللہ کا ذکر کیا گیا۔ وجلت۔ (وجل) ۔ ڈر گئی۔ (ڈر گئے) ۔ تلیت۔ تلاوت کی گئی۔ (پڑھا گیا) ۔ زادت اضافہ ہوگیا۔ بڑھ گئی۔ یتوکلون۔ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یقیمون۔ وہ قائم کرتے ہیں۔ رزقنا۔ ہم نے دیا ۔ ینفقون۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ عزت کا رزق۔
تشریح :
انفال ۔ نفل کی جمع ہے جس کے معنی ” زائد “ کے آتے ہیں۔ شرعی طور پر اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہوتا ہے اسی کو مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں۔
یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
کامل مومن کی پہچان
مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ صفتیں ایماندار کی بیان فرمائیں :۔ (1) اول یہ کہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہو جس سے عقبیٰ کے عذاب کا خیال مراد ہے۔ (2) دوسرے قرآن کی آیتیں سننے سے وحدانیت کی دلیلیں اور نیک خصلتیں زیادہ ہوں، (3) تیسرے ہر کام میں خدا کا بھروسہ کرے دوسرے کو شریک نہ کرے (4) چوتھی اور پانچویں صفت جو ظاہر کی تھی وہ نماز کی شرائط اور امور نماز کے مثل وضو سب کو ادا کرنا اور خیرات کرنا زکوۃ سب داخل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی تعریف فرمائی کہ ان کے ایمان میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے، ان کے لئے جنت میں درجے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 2) درحقیقت مومن وہ ہے جو صلوۃ وزکوۃ کے نظام پر عمل پیرا ہے ، اس کے لئے روحانی درجات ہیں ، یہی مغفرت الہی کا حصہ دار ہے اور یہی وہ ہے جس کی روزی پاک اور طیب ہے ۔
مگر صلوۃ وزکوۃ کا مفہوم محض مرسومہ اذکار وادعیہ کا ادا کرنا نہیں ، نہ سال کے بعد ایک متعین رقم ادا کرنا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ روح ومغز کا حصول ضروری ہے ، نماز پڑھے ، اور نمازی کی عادات وخصائل کا حامل بنے ، زکوۃ دے اور قومی وملی ضروریات سے آگاہ رہے ۔
Read the full tafseer →(4) یہی لوگ سچے ایمان والے اور حقیقی اہل ایمان ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے بڑے بڑے درجے ہیں اور ان کے رب کے پاس ان کے لیے مغفرت و بخشش اور باعزت روزی یعنی مال غنیمت کی تقسیم پر جھگڑے کا اندیشہ تھا اسلیے دین کا خلاصہ اور مسلمانوں کو اخلاق سکھایا مثلا دین کے احکام کی دو قسمیں ہیں حقوق اللہ ، اور حقوق العباد، اصلحوا، سے حقوق العباد کو سمجھایا حقوق اللہ میں مالی حق کا ذکر، ینفقون، میں اور بدنی کا ذکر ، یقیمون الصلوۃ مال غنیمت کی زیادہ فکر نہ کرو اور اس کی وجہ سے آپس میں دست و گریبان نہ ہو، بلکہ اعتقاد اور اعمال اور اخلاق کی اصلاح کرو یہی چیز اللہ کے نزدیک مقبول اور موجب درجات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ اوپر کی سورت میں زیادہ مشرکین کے جہل وعناد کا اور کسی قدر اہل کتاب کے کفروفساد کا ان پر جو دنیا میں وبال ونکال بدر میں مشرکین پر اور دیگر بعض وقائع میں اہل کتاب یہود پر نازل ہوا اس کا بیان ہے بدر کا زیادہ اور واقعہ اہل کتاب کا کم۔
Read the full tafseer →جن لوگوں میں یہ صفات پائی جائیں وہی سچے مومن ہیں :
9: مرد مومن کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ (ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں) یعنی جن کا ظاہر و باطن یکسان اور زبان اور دل متفق ہیں ورنہ جن میں یہ صفات نہیں وہ اگرچہ کلمہ شہادت اپنی زبانوں سے ادا کرتے ہوں لیکن ان کے دلوں میں نہ توحید کا رنگ ہے نہ اطاعت رسول اللہ ﷺ کا اور ان کا اعمال خود ان کے اقوال کی تردید کرتے ہیں اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے جب وہ حقیقت حاصل نہ ہو تو حق حاصل نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ حسن بصری (رح) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ آپ مومن ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر تیرا سوال یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →After describing these five virtues of the model believer, it was said: أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا Those are the believers in reality) - that is, they are the same, outwardly and inwardly, they say what is there in their heart, otherwise, there are those who say: اَشھَدُ اَنَّ لا إله إلا اللہ و اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُولُ اَلله (I testify that there is no god worthy of worship but Allah and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah) which is only verbal as far as it goes. Their hearts do not throb with belief in the Oneness of Allah, nor do they have the passion for…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3. Even the best and the most devoted believers are liable to commit lapses. As long as man is man, it is impossible for his record to be filled exclusively with righteousness of the highest order and to be free from all lapses, shortcomings and weaknesses. Out of His infinite mercy, however, God overlooks man's shortcomings as long as he fulfils the basic duties incumbent upon him as God's servant, and favours him with a reward far greater than that warranted by his good works. Had it been a rule that man would be judged strictly on the basis of his deeds, that he would be punished for every…
Read the full tafseer →