Explained with ayahs 2–4
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان
ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة الْاَنْفَال 2
یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور وہ اس کی تصدیق کر کے سر اطاعت جھکا دے، آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر اس موقع پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف، اس کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت میں ملے اور آدمی اس کو مان کر فرمان خدا و رسول کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو بدل ڈالے اور اس کی قبولیت میں تکلیف انگیز کرلے تو اس سے آدمی کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا کرنے میں آدمی دریغ کرے تو اس کے ایمان کی جان نکلنی شروع ہوجاتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کوئی ساکن و جامد چیز نہیں ہے، اور تصدیق و…
Read the full tafseer →چوتھی صفت اقامت صلوة
چوتھی صفت مومن کی اقامت صلوة بتلائی۔ اس میں یہ بات قابل یاد رکھنے کے ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کا نہیں بلکہ نماز کی اقامت کا ذکر ہے۔ اقامت کے لفظی معنی کسی چیز کو سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ مراد اقامت صلوة سے یہ ہے کہ نماز کے پورے آداب و شرائط اس طرح بجا لائے جس طرح رسول کریم ﷺ نے قول و عمل سے بتلائے ہیں۔ آداب و شرائط میں کوتاہی ہوئی تو اس کو نماز پڑھنا تو کہہ سکتے ہیں مگر اقامت صلوة نہیں کہہ سکتے۔ قرآن مجید میں نماز کے جو فوائد اور آثار اور برکات ذکر کی گئی ہیں اور فرمایا گیا ہے (آیت) ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ، یعنی نماز روکتی ہے بےحیائی اور ہر…
Read the full tafseer →ایمان چوتھی علامت : الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ یہ چوتھی علامت بیان ہوئی اور اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں۔ راس الصفات کی ہے اس لیے کہ انہی دو چیزوں۔ اہتمام نماز اور انفاق۔ سے ان تمام اوصفا کی شیرازہ بندی ہوتی ہے جن سے ایمان اہل ایمان کو سنوارتا ہے۔ گویا اوپر ان چند خاص اوصاف کو بیان کرنے کے بعد جن کا بیان کرنا پیش نظر گروہ کی خامیوں کی اصلاح کے لیے ضوری ہوا آخر میں ان دوچیزوں کا ذکر فرمایا جو سب کی جامع بھی ہیں اور سب کی محافظ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 1 ان آیات میں اہل ایمان کی 4 صفات بیان کی گئی ہیں 1، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ صرف اللہ کی یعنی قرآن کی۔ 2۔ اللہ کا ذکر سن کر، اللہ کی جلالت و عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 3۔ تلاوت قرآن سے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے (جس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے) 4۔ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی اسباب سے اعراض و گریز بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، لیکن اسباب ظاہری کو ہی نہیں سب کچھ ہی نہیں سمجھ لیتے بلکہ ان کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک حصہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مال غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہوگیا، یہ چونکہ پہلی جنگ تھی اور مال غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکھٹا کیا ہے وہ انہی کا ہے (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے ؛ بلکہ مال غنیمت اکھٹا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
درس نمبر 83 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 " بدر " میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مال غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے…
Read the full tafseer →آیت 3 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔۔
اس سے انفاق فی سبیل اللہ مراد ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کے دین کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →6 ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب اور حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ ﷺ کے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں۔ مثلاً حج وعمرہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر حق ہے۔ اموال زکوٰۃ میں اللہ کا اور بندوں کا دونوں کا حق ہے۔ اسی طرح نفلی صدقات، اقرباء، فقراء اور مساکین کے لیے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی حقوق اللہ میں شعبہ بدنی اور شعبہ مالی دونوں کی ادائی کا پورا پورا اہتمام رکھتے ہیں، محققین نے کہا ہے اعمال باطنی میں توکل اور اعمال ظاہری میں صلوۃ وزکوۃ کے تصریحی ذکر سے اشارہ اس طرف ہے کہ باطنی اور ظاہری زندگی میں یہی اعمال سب سے اہم اور قابل اہتمام ہیں۔ خص من الصفات الباطنۃ التوکل بالذکر علی التعیین ومن الاعمال الظاھرۃ الصلوۃ والزکوۃ علی التعیین تنبیھا علی ان اشرف الاحوال الباطنۃ التوکل و اشرف الاعمال الظاھرۃ الصلوۃ والزکوۃ (کبیر) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اوصاف سالکین کی جامع ہے۔ یعنی اس میں حال بھی ہے وجل کے لفظ سے اور عقاید بھی ہیں ایمان کے واسطہ سے، اور عمل باطنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →الذین یقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون : اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے ‘ اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ یعنی نمازوں کو ان کے پورے حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس طرح سیدھا کرتے ہیں جس طرح تیر سیدھے کئے جاتے ہیں (یعنی اقامۃ الصلٰوۃ تقویم القداح کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ تقویم القداح آگ پر سینک کر تیر کو سیدھا کرنا۔ اقامۃ الصلٰوۃ نماز کو سیدھا کرنا۔ مراد ہے پورے حقوق اندرونی و بیرونی کے ساتھ ادا کرنا) ینفقون یعنی اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ اولٰٓءِکَمذکورۂ بالا مؤمن جو تمام مکارم و محاسن کے حامل ہیں ‘ ان کے دلوں میں اخلاص…
Read the full tafseer →(3) اور وہ حضرات پانچ وقتہ نمازوں کو ان کے اوقات پر وضو کے ساتھ کمال رکوع و سجود کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے، اسے اطاعت الہی میں صدقہ و خیرات کرتے ہیں یا یہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت نمبر : 2۔ 3۔ 4
قولہ تعالیٰ : آیت : انما المومنون۔۔ آیت کے آخر تک۔ یتوکلون۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
علماء نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے اس مال غنیمت کو تقسیم کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے یہ آیت اس بارے میں آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم پکڑنے پر برانگیختہ کرتی ہے۔ الوجل کا معنی خوف ہے۔ اس کے مضارع میں چار لغتیں ہیں : وجل، یوجل ویاجل وییجل وییجل، اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ اور مصدر وجل وجلا و موجلا بالفتح ہے۔ اور یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ موجل ہو تو پھر اسم ظرف بنتا ہے۔ پس جنہوں نے کہا ہے : یا جل انہوں نے مضارع میں واو ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا ہے اور قرآن کریم کی لغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1:۔ ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں ایمان عمل کی طرف پہنچ گیا۔ فرمایا (آیت) ” انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم واذا تلیت علیہم الصلوۃ ومما رزقنہم ینفقون (3) اولئک ھم المومنون حقا “۔
2:۔ ابن جرریر اور ابن حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہ کفر سے بری ہیں۔
3:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہ خالص مومن ہیں۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک ھم المومنون حقا “ یعنی وہی لوگ ایمان کے مستحق ہوگئے حق کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يُقِيْمُوْنَ : قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَمِمَّا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور پانچویں صفت یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ بدنی عبادات میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ مالی عبادات کا بھی باربار تذکرہ فرمایا ہے۔ اقامت صلوٰۃ یہ ہے کہ نماز کو اچھی طرح ادا کیا جائے جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں بیان کیا گیا ہے اور مَا رَزَقْنٰھُمْ کے عموم میں سب کچھ داخل ہے۔ یہ لفظ زکوٰۃ مفروضہ اور صدقات واجبہ اور نافلہ سب کو شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الانفال۔۔۔ الی۔۔۔ ومفرۃ ورزق کریم
سورة انفال کل مدنی ہے جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اسی وجہ سے اس سورت کو سورة بدر بھی کہتے ہیں اس میں پچھتر یا چھتر یا ستتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔
فائدہ : انفال۔ نفل بالتحریک کی جمع ہے جس سے مراد مال غنیمت ہے۔ نفل در اصل بمعنی زیارت ہے اور نفل کو نفل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اصل فرض سے زائد ہے اور غنیمت کو نفل اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور عطیہ ہے مال غنیمت پہلی امتوں پر حلال نہ تھا اس امت پر بطور فضل وزیادت حلال کردیا گیا اور غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو جہاد میں کافروں سے حاصل ہو اور فقہاء کی اصطلاح میں نفل کا اطلاق اس مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
4: یہاں سے لے کر “ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” تک ان مؤمنین کاملین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن میں صفات ذیل موجود ہوں۔ جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں، اللہ کی آیتیں سن کر ان کے ایمان میں پختگی پیدا ہو، وہ ہر کام میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوں نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جماعتی نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اختلافات ختم کر کے آپس میں صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنے کی تلقین کی تھی ، اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مال غنیمت پر کسی مجاہد یا غاذی کا براہ راست کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ کی ملکیت ہے جس اس کا رسول ہدایت الٰہی کے مطابق تصرف میں لاتا ہے اور اس کو تقسیم کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مرکزی بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ فرمایا ، اگر ان میں سے کسی معاملہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگی تو دشمن راہ پا کر غلبہ حاصل کرلے گا ، لہٰذا مذکورہ ہدایات پر سختی سے کاربند ہو جائو۔ اب آج…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ 3 ۭ
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43]
الاقامتہ
( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ اور اپنی حالت کو درست کرو۔
ترکیب : عن 2 ؎ الانفال یسئلون سے متعلق ‘ الانفال مبتداء للّٰہ والرسول خبر المؤمنون مبتداء الذین موصول اذا ذکر شرط وجلت جواب جملہ صلہ واذا تلیت شرط و جواب مل کر جملہ معطوف ہے پہلے صلہ میں داخل مجموعہ خبر و علی ربہم جملہ یا حال ہے یا صلہ میں داخل بذریعہ عطف الذین یقیمون صلہ و موصول پہلے الذین سے بدل حقًا مفعول مطلق ہے فعل محذوف سے عند ربہم درجات بمعنی اجر کا ظرف۔ 3 ؎
تفسیر : یہ سورة ایام جنگ بدر میں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حسن اور عکرمہ و جابر بن زید و عطا وغیرہم ائمہ تفسیر سے منقول ہے ابو الشیخ و ابن مردویہ و نحاس نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًاوَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ ج الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَرَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ ج (الانفال : 2 تا 4)
بلاشبہ مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ جو نماز قائم کریں اور اس مال میں سے جو ہم نے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : انفال کے بارے میں ابتدائی حکم دینے کے بعد مومن کی صفات کا بیان اور اس کا صلہ۔
پہلی آیت میں ایک سوال کا جواب دینے کے بعد مسلمانوں کو جامع ہدایات دی گئی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان میں یہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن سے وہ پکا مومن بن جاتا ہے۔ درجات بلند ہونے کے ساتھ مومن کو اللہ کی طرف سے اس کی بخشش اور بہترین رزق کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام ] نے مال غنیمت کی تقسیم کا حکم سنتے ہی ایک ایک چیز رسول اکرم ﷺ کے حوالے کی اور دل و جان سے اس پر راضی ہوگئے۔ اس پر ان کی تعریف کرتے ہوئے مزید تاکید کی گئی ہے کہ مومن تو وہ ہیں کہ جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو ان کے دل…
Read the full tafseer →علاماتِ مؤمنین :
آیت 3: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (جو نماز کو قائم کرتے اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اور وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں) اعمال قلوب نرمی، اخلاص اور توکل اور اعمال جوارح نماز و صدقہ کو جمع کردیا۔
Read the full tafseer →(3) الذین یقیمون الصلوۃ وما رزقنھم ینفقون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 4۔ اللہ پاک نے تخصیص کے ساتھ پانچ صفتیں اس آیت میں بیان فرمائیں کہ کامل مومن وہی ہے جس میں یہ صفتیں پائی جاویں۔ پہلی صفت یہ بیان کی کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر آوے تو دل میں اس کے ڈر پیدا ہو کیونکہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ مومنوں کے دل خدا کے ذکر سے اطیمنان پاتے ہیں اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن کے دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہوتا ہے ان دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ خوف خدا کا عذاب سن کر اور اس کا جلال وہیبت یاد کر کے ہونے لگتا ہے اور اطیمنان اس کی رحمتیں اور اوصاف سن کر ہوتا ہے علماء سلف نے لکھا ہے کو خوف کی دو قسمیں ہیں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(آیت 1)
(الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چناچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
(یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں “ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے ! (الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں “ وہ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الانفال
مال غنیمت اور اس کے احکام
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 نفل کا معنیٰ و مفہوم اور اس کا حکم ؟ : " انفال "، " نفل " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ زیادہ کے آتے ہیں۔ نفل نماز کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ فرض سے زائد ہوتی ہے۔ اور مال غنیمت کو " نفل " اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ اصل مقصود سے ایک زائد چیز ہوتی ہے جو مجاہد کو اللہ پاک کی طرف سے عطیہ و انعام کے طور پر ملتی ہے کہ جہاد سے مجاہد کا اصل مقصود تو آخرت کا اجر وثواب اور رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے نہ کہ دنیوی مفاد اور دنیا کا فانی مال و متاع۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔ غزوئہ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے بارے میں جب اختلاف پیدا ہوا، نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ جہاد ہم نے کیا، تو بڑوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مؤمنین کی صفات
تشریح : ان آیات میں بھی مومن کی خاص صفات بتائی گئی ہیں۔ سچے مومن کی پانچ علامات بتائی گئی ہیں۔
-1 اللہ کا نام سن کر اس کی عزت و احترام اور بڑائی کا خیال ان کے دلوں میں یوں پیدا ہوتا ہے کہ دل خوف سے لرز اٹھتے ہیں۔
-2 جیسا کہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بڑی پر اثر بات کو غور سے سنتا ہے تو اس بات کے مطابق اس کے دل میں زیادہ اثر اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب مومن غور سے قرآن کی آیات سنتا ہے تو اس کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اس کے دل میں نور ایمان روشن ہوتا ہے۔ اس کی روح اور بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے اور اس کا چہرہ نور ایمان سے دمکنے لگتا ہے۔
-3 وہ نماز قائم رکھتے ہیں۔ پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →ف 3 اس میں فرض نفل ہر قسم کے نفقات اور جملہ حقوق العباد آجاتے ہیں اور یہ آیت اعمال خیر کی تمام انواع کی شامل۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(8:2) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) ڈرجاتے ہیں (ان کے بل) موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ
تلیت ماضٰ مجہول ۔ واحد مؤنث غائب۔ تلاوت کیجاتی ہیں۔ پڑھی جاتی ہیں (آیات اسکی) ۔
زادتھم۔ تو وہ زیادہ کردیتی ہیں ان کو ۔ وہ بڑھا دیتی ہیں ان کو۔ ایمانا بحیثیت ایمان کے یعنی ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا ایمان اور قوی ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
الانفال۔ (نفل) ۔ مال غنیمت۔ اصلحوا۔ درست کرلو۔ اصلاح کرلو۔ ذات بینکم۔ تم آپس میں (ذات۔ والا ۔ بین ۔ درمیان) ۔ ذکر اللہ ۔ اللہ کا ذکر کیا گیا۔ وجلت۔ (وجل) ۔ ڈر گئی۔ (ڈر گئے) ۔ تلیت۔ تلاوت کی گئی۔ (پڑھا گیا) ۔ زادت اضافہ ہوگیا۔ بڑھ گئی۔ یتوکلون۔ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یقیمون۔ وہ قائم کرتے ہیں۔ رزقنا۔ ہم نے دیا ۔ ینفقون۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ عزت کا رزق۔
تشریح :
انفال ۔ نفل کی جمع ہے جس کے معنی ” زائد “ کے آتے ہیں۔ شرعی طور پر اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہوتا ہے اسی کو مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں۔
یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
کامل مومن کی پہچان
مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ صفتیں ایماندار کی بیان فرمائیں :۔ (1) اول یہ کہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہو جس سے عقبیٰ کے عذاب کا خیال مراد ہے۔ (2) دوسرے قرآن کی آیتیں سننے سے وحدانیت کی دلیلیں اور نیک خصلتیں زیادہ ہوں، (3) تیسرے ہر کام میں خدا کا بھروسہ کرے دوسرے کو شریک نہ کرے (4) چوتھی اور پانچویں صفت جو ظاہر کی تھی وہ نماز کی شرائط اور امور نماز کے مثل وضو سب کو ادا کرنا اور خیرات کرنا زکوۃ سب داخل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی تعریف فرمائی کہ ان کے ایمان میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے، ان کے لئے جنت میں درجے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 2) درحقیقت مومن وہ ہے جو صلوۃ وزکوۃ کے نظام پر عمل پیرا ہے ، اس کے لئے روحانی درجات ہیں ، یہی مغفرت الہی کا حصہ دار ہے اور یہی وہ ہے جس کی روزی پاک اور طیب ہے ۔
مگر صلوۃ وزکوۃ کا مفہوم محض مرسومہ اذکار وادعیہ کا ادا کرنا نہیں ، نہ سال کے بعد ایک متعین رقم ادا کرنا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ روح ومغز کا حصول ضروری ہے ، نماز پڑھے ، اور نمازی کی عادات وخصائل کا حامل بنے ، زکوۃ دے اور قومی وملی ضروریات سے آگاہ رہے ۔
Read the full tafseer →(3) یہ حقیقی مومن ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات بھی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دنیا ہے اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ اوپر کی سورت میں زیادہ مشرکین کے جہل وعناد کا اور کسی قدر اہل کتاب کے کفروفساد کا ان پر جو دنیا میں وبال ونکال بدر میں مشرکین پر اور دیگر بعض وقائع میں اہل کتاب یہود پر نازل ہوا اس کا بیان ہے بدر کا زیادہ اور واقعہ اہل کتاب کا کم۔
Read the full tafseer →مومن کی چوتھی صفت جو اس جگہ بیان ہوئی وہ نماز کا قیام ہے :
7: اس جگہ جو مومن کی صفات گنائی گئی ہیں ان میں سے چوتھی صفت قیام صلوۃ ہے اور اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہاں نماز پڑھنا ہی فقط مراد نہیں بلکہ اقامت نماز کا بیان ہے اور اقامت کے لفظی معنی سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں اور اس س سے مراد یہ ہے کہ نماز سے وہ نتجہس حاصل ہوجائے جو اس عبارت کے ادا کرنے کا اصل مقصود ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ :
اَقِمِ الصَّلٰوةَ 1ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ 1ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ 1ؕ (العنکبوت 29 : 45) نماز قائم کرو یقیناً نماز فحش اور برے…
Read the full tafseer →The Fourth Attribute: Establishment of Salah
The fourth attribute of the believers has been described as: ' (They are) those who establish Sarah.' At this point, it is worth keeping in mind that the text is not talking about making, saying, offering or performing Salah, instead, what has been mentioned here is Iqamah of Salah. Literally, Iqamah means 'to make something stand straight.' The sense of Iqamah (translated as 'establish' in absence of a precise equivalent) is that one should carry out the obligation of Salah with the fullest consideration for its etiquette and relevant conditions,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2. A man's faith grows as he is able to confirm and submit to the command of God which he comes across. This is especially so where he submits to commands which go against his own personal predilections. A man's faith attains great heights if instead of trying to twist and distort the commands of God and the Prophet (peace he on him), he develops the habit of accepting and submitting to all the commands of God and the Prophet (peace be on him); if he strives to shape his conduct to the teachings which go against his personal opinions and conceptions, which are contrary to his habits,…
Read the full tafseer →