Explained with ayahs 2–4
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان
ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة الْاَنْفَال 2
یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور وہ اس کی تصدیق کر کے سر اطاعت جھکا دے، آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر اس موقع پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف، اس کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت میں ملے اور آدمی اس کو مان کر فرمان خدا و رسول کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو بدل ڈالے اور اس کی قبولیت میں تکلیف انگیز کرلے تو اس سے آدمی کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا کرنے میں آدمی دریغ کرے تو اس کے ایمان کی جان نکلنی شروع ہوجاتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کوئی ساکن و جامد چیز نہیں ہے، اور تصدیق و…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(بس) ایمان والے تو وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر آتا ہے تو (اس کی عظمت کے استحضار سے) ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (اور) جو کہ نماز کی اقامت کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں (بس) سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لئے بڑے بڑے درجے ان کے رب کے پاس اور (ان کے لئے) مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔
معارف و مسائل
مؤ من کی مخصوص صفات
آیات مذکورہ میں ان مخصوص صفات کا بیان ہے جو ہر مومن میں ہونا چاہئے۔ اس میں اشارہ ہے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔
سچے اہل ایمان کے اوصاف : اب یہ حقیقی ایمان اور سچے اہل ایمان کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں۔ گویا ان کنتم مومنین کے الفاظ میں جن کمزور قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ تھا ان کے سامنے سچے اہل ایمان کی تصویر رکھ دی گئی کہ اگر ایمان کا دعوی ہے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ ان صفات کے بدوں یہ دعوی کسی کو زیب نہیں دیتا۔
اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا۔ ان کی پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 1 ان آیات میں اہل ایمان کی 4 صفات بیان کی گئی ہیں 1، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ صرف اللہ کی یعنی قرآن کی۔ 2۔ اللہ کا ذکر سن کر، اللہ کی جلالت و عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 3۔ تلاوت قرآن سے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے (جس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے) 4۔ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی اسباب سے اعراض و گریز بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، لیکن اسباب ظاہری کو ہی نہیں سب کچھ ہی نہیں سمجھ لیتے بلکہ ان کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک حصہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مال غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہوگیا، یہ چونکہ پہلی جنگ تھی اور مال غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکھٹا کیا ہے وہ انہی کا ہے (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے ؛ بلکہ مال غنیمت اکھٹا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات…
Read the full tafseer →(سورۃ کے تعارف کا تیسرا حصہ)
حضور ﷺ نے عمار ابن یاسر اور عبداللہ ابن مسعود کو بھیجا تاکہ وہ دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے دشمن کی قیام گاہ کے گرد چکر لگایا اور واپس آکر حضور ﷺ کو یہ رپورٹ دی کہ دشمن بہت پریشان حال ہے اور یہ کہ بارش ان پر خوب برس رہی ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ کنویں پر اترے تو آپ کے لیے ایک چبوترہ بنایا گیا ، کھجور کی شاخوں سے اور حضرت سعد ابن معاذ اپنی تلوار سونت کر اس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے میدان جنگ میں گشت کیا۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو قریش کے سرداروں میں سے ایک ایک کی قتل گاہ بتائی۔ آپ فرماتے یہاں فلان قتل ہوگا ، یہاں فلاں قتل ہوگا ، یہ سب قتل ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 " بدر " میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مال غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔
جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک…
Read the full tafseer →5 سچے مومن کی علامات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مومنوں کی چند علامات ذکر کر کے بتلایا ہے کہ مومن ہونے کا وہی دعویٰ کرسکتے ہیں جن میں یہ علامات پائی جاتی ہوں، سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان پر اللہ کے احکام بیان کئے جائیں تو وہ بسر و چشم اس کی اطاعت کرتے ہیں جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اللہ کی فرمانبرداری سے اس میں اضافہ اور اس کی نافرمانی سے اس میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے اور تیسری…
Read the full tafseer →4 ۔ (عظمت الہی کے استحضار سے) اور یہی حاصل ہے تقوی کا، خوف خدا و خشیت کی تاکید اگلے صحیفوں میں بھی ہے۔ توریت میں ایک مقام پر ہے ” خداوند کہتا ہے کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے ہو ؟ کیا تم میرے حضور میں نہیں تھرتھراتے ؟ (یرمیاہ، 5:2) اور انجیل میں ہے، جو سرتا سر رحمت و شفقت ہی کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔” اے خداوند کون تجھ سے نہ ڈرے گا ؟ اور کون تیرے نام کی بڑائی نہ کرے گا ؟ کیوں کہ صرف تو ہی قدوس ہے “ (مکاشفہ 15:4)
5 ۔ (قوت اور تازگی کے لحاظ سے) یہ بیان مومنین کا ملین کی صفائے باطنی کا ہوا۔
6 ۔ یہ بیان ہورہا ہے مومنین کی عملی حالت کا، توکل پر حاشیہ پارہ 4 سورة آل عمران میں آیت ” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →انما المؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانًا وعلی ربھم یتوکلون : (کیونکہ) ایمان والے تو بس ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کا کلام ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو اللہ کے کلام سے ان کے ایمان میں مزید پختگی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھی بھروسہ رکھتے ہیں۔
اِنَّمَا الْمؤُمِنُوْنَیعنی کامل الایمان وہی لوگ ہیں۔ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ یعنی اللہ کی عظمت و جلال اور ہیبت و عزت سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا : ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو کسی گناہ کا ارادہ کرتے ہیں مگر جب ان سے…
Read the full tafseer →(2) کیوں کہ جب اہل ایمان کو تو اللہ کی جانب سے جب کسی چیز مثلا صلح وغیرہ کا حکم دیا جاتا ہے تو ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔
اور جب ان کو آیات الہی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے یقین اور ایمان کو اور پکا کردیتی ہیں، وہ حضرات غنیمتوں پر انحصار نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت نمبر : 2۔ 3۔ 4
قولہ تعالیٰ : آیت : انما المومنون۔۔ آیت کے آخر تک۔ یتوکلون۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
علماء نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے اس مال غنیمت کو تقسیم کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے یہ آیت اس بارے میں آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم پکڑنے پر برانگیختہ کرتی ہے۔ الوجل کا معنی خوف ہے۔ اس کے مضارع میں چار لغتیں ہیں : وجل، یوجل ویاجل وییجل وییجل، اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ اور مصدر وجل وجلا و موجلا بالفتح ہے۔ اور یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ موجل ہو تو پھر اسم ظرف بنتا ہے۔ پس جنہوں نے کہا ہے : یا جل انہوں نے مضارع میں واو ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا ہے اور قرآن کریم کی لغت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا (آیت) ” الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم “۔ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔
منافق اور اہل ایمان میں فرق :
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم “۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافق وہ لوگ ہیں کیہ ان کے دلوں میں اللہ کے ذکر میں سے کوئی چیز داخل نہیں ہوتی اس کے فرائض کے ادا کرنے کے وقت اور وہ اللہ کی آیات میں سے کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے اور وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے اور وہ نماز نہیں پڑھتے جب وہ غائب ہوتے ہیں اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اللہ…
Read the full tafseer →[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ ہیں جو کہ ] [ اِذَا : جب کبھی بھی ] [ ذُكِرَ : ذکر کیا جاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ کا ] [ وَجِلَتْ : تو کانپ اٹھتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ تُلِيَتْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ] [ عَلَيْهِمْ : ان کو ] [ اٰيٰتُهٗ : اس کی آیات ] [ زَادَتْهُمْ : تو وہ زیادہ کرتی ہیں ان کو ] [ اِيْمَانًا : بلحاظ ایمان کے ] [ وَّعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر ہی ] [ يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ لوگ بھروسہ کرتے ہیں ]
وج ل۔ (س) : وجلا ۔ دل میں خوف محسوس کرنا ۔ کانپ اٹھنا ۔ ڈرنا ۔ زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →اہل ایمان کے اوصاف کا بیان
ان آیات میں اہل ایمان کے چند اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں :
اول : یہ فرمایا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ کی عظمت ایسی چھائی ہوئی ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ہیبت اور خوف کی وجہ سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں، مومن بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہتا ہے تو اللہ کی یاد سے اس کے دل کو اطمینان ہوتا ہے اور جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے اس کے دل میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ہی خوف تو ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الانفال۔۔۔ الی۔۔۔ ومفرۃ ورزق کریم
سورة انفال کل مدنی ہے جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اسی وجہ سے اس سورت کو سورة بدر بھی کہتے ہیں اس میں پچھتر یا چھتر یا ستتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔
فائدہ : انفال۔ نفل بالتحریک کی جمع ہے جس سے مراد مال غنیمت ہے۔ نفل در اصل بمعنی زیارت ہے اور نفل کو نفل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اصل فرض سے زائد ہے اور غنیمت کو نفل اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور عطیہ ہے مال غنیمت پہلی امتوں پر حلال نہ تھا اس امت پر بطور فضل وزیادت حلال کردیا گیا اور غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو جہاد میں کافروں سے حاصل ہو اور فقہاء کی اصطلاح میں نفل کا اطلاق اس مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
4: یہاں سے لے کر “ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” تک ان مؤمنین کاملین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن میں صفات ذیل موجود ہوں۔ جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں، اللہ کی آیتیں سن کر ان کے ایمان میں پختگی پیدا ہو، وہ ہر کام میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوں نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جماعتی نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اختلافات ختم کر کے آپس میں صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنے کی تلقین کی تھی ، اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مال غنیمت پر کسی مجاہد یا غاذی کا براہ راست کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ کی ملکیت ہے جس اس کا رسول ہدایت الٰہی کے مطابق تصرف میں لاتا ہے اور اس کو تقسیم کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مرکزی بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ فرمایا ، اگر ان میں سے کسی معاملہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگی تو دشمن راہ پا کر غلبہ حاصل کرلے گا ، لہٰذا مذکورہ ہدایات پر سختی سے کاربند ہو جائو۔ اب آج…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ 2 ۚ ۖ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ اور اپنی حالت کو درست کرو۔
ترکیب : عن 2 ؎ الانفال یسئلون سے متعلق ‘ الانفال مبتداء للّٰہ والرسول خبر المؤمنون مبتداء الذین موصول اذا ذکر شرط وجلت جواب جملہ صلہ واذا تلیت شرط و جواب مل کر جملہ معطوف ہے پہلے صلہ میں داخل مجموعہ خبر و علی ربہم جملہ یا حال ہے یا صلہ میں داخل بذریعہ عطف الذین یقیمون صلہ و موصول پہلے الذین سے بدل حقًا مفعول مطلق ہے فعل محذوف سے عند ربہم درجات بمعنی اجر کا ظرف۔ 3 ؎
تفسیر : یہ سورة ایام جنگ بدر میں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حسن اور عکرمہ و جابر بن زید و عطا وغیرہم ائمہ تفسیر سے منقول ہے ابو الشیخ و ابن مردویہ و نحاس نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًاوَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ ج الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَرَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ ج (الانفال : 2 تا 4)
بلاشبہ مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ جو نماز قائم کریں اور اس مال میں سے جو ہم نے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : انفال کے بارے میں ابتدائی حکم دینے کے بعد مومن کی صفات کا بیان اور اس کا صلہ۔
پہلی آیت میں ایک سوال کا جواب دینے کے بعد مسلمانوں کو جامع ہدایات دی گئی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان میں یہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن سے وہ پکا مومن بن جاتا ہے۔ درجات بلند ہونے کے ساتھ مومن کو اللہ کی طرف سے اس کی بخشش اور بہترین رزق کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام ] نے مال غنیمت کی تقسیم کا حکم سنتے ہی ایک ایک چیز رسول اکرم ﷺ کے حوالے کی اور دل و جان سے اس پر راضی ہوگئے۔ اس پر ان کی تعریف کرتے ہوئے مزید تاکید کی گئی ہے کہ مومن تو وہ ہیں کہ جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو ان کے دل…
Read the full tafseer →مومن کے سامنے ذکر اللہ سے اس کے ایمان میں اضافہ :
آیت 2: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ (بےشک ایمان والے) بیشک کامل الایمان الَّذِیْنَ اِذَاذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ (تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خاطر اس کے ذکر سے ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس کی عزت و دبدبہ اور جلال سے ان پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ ٰایٰتُہٗ (جب اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں) یعنی قرآن زَادَ تْھُمْ اِیْمَانًا (تو وہ آیات ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں) انکا اطمینان اور یقین بڑھ جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →تفسیر 2 (ان کنتم مئومنین) یعنی وہ لوگ مئومن نہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں سچے مئومن تو وہ ہیں (انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم) بعض نے کہا جب اللہ سے ڈرائے جائیں تو اس کے عذاب کے خوف سے مطیع ہوجائیں (واذا تلیث علیھم ایتہ زادتھم ایماناً ) تصدیق اور یقین میں۔ عمیر بن حبیب ؓ فرماتے ہیں ان کو شرف صحابیت حاصل ہے کہ ایمان کے لئے بھی کمی اور زیادتی ہے۔ عرض کیا گیا اس کی زیادتی کیا ہے ؟ تو فرمایا کہ جب ہم اللہ کا ذکر اور اس کی حمد کرتے ہیں تو یہ ایمان کی زیادتی ہے اور جب غفلت کرتے ہیں تو یہ ایمان کی کمی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے عدی بن عدی کی طرف خط لکھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2۔ 4۔ اللہ پاک نے تخصیص کے ساتھ پانچ صفتیں اس آیت میں بیان فرمائیں کہ کامل مومن وہی ہے جس میں یہ صفتیں پائی جاویں۔ پہلی صفت یہ بیان کی کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر آوے تو دل میں اس کے ڈر پیدا ہو کیونکہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ مومنوں کے دل خدا کے ذکر سے اطیمنان پاتے ہیں اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن کے دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہوتا ہے ان دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ خوف خدا کا عذاب سن کر اور اس کا جلال وہیبت یاد کر کے ہونے لگتا ہے اور اطیمنان اس کی رحمتیں اور اوصاف سن کر ہوتا ہے علماء سلف نے لکھا ہے کو خوف کی دو قسمیں ہیں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(آیت 1)
(الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چناچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
(یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں “ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے ! (الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں “ وہ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الانفال
مال غنیمت اور اس کے احکام
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 نفل کا معنیٰ و مفہوم اور اس کا حکم ؟ : " انفال "، " نفل " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ زیادہ کے آتے ہیں۔ نفل نماز کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ فرض سے زائد ہوتی ہے۔ اور مال غنیمت کو " نفل " اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ اصل مقصود سے ایک زائد چیز ہوتی ہے جو مجاہد کو اللہ پاک کی طرف سے عطیہ و انعام کے طور پر ملتی ہے کہ جہاد سے مجاہد کا اصل مقصود تو آخرت کا اجر وثواب اور رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے نہ کہ دنیوی مفاد اور دنیا کا فانی مال و متاع۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔ غزوئہ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے بارے میں جب اختلاف پیدا ہوا، نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ جہاد ہم نے کیا، تو بڑوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مؤمنین کی صفات
تشریح : ان آیات میں بھی مومن کی خاص صفات بتائی گئی ہیں۔ سچے مومن کی پانچ علامات بتائی گئی ہیں۔
-1 اللہ کا نام سن کر اس کی عزت و احترام اور بڑائی کا خیال ان کے دلوں میں یوں پیدا ہوتا ہے کہ دل خوف سے لرز اٹھتے ہیں۔
-2 جیسا کہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بڑی پر اثر بات کو غور سے سنتا ہے تو اس بات کے مطابق اس کے دل میں زیادہ اثر اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب مومن غور سے قرآن کی آیات سنتا ہے تو اس کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اس کے دل میں نور ایمان روشن ہوتا ہے۔ اس کی روح اور بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے اور اس کا چہرہ نور ایمان سے دمکنے لگتا ہے۔
-3 وہ نماز قائم رکھتے ہیں۔ پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →ف 2 اوپر بیان فرمایا کہ ایمان اطاعت کو مستلزم ہے۔ اب اس آیت میں اموف طاعت کی تفصیل فرمادی ہے توکل کا مفہوم یہ ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اصل اعتماد اور بھروسہ اللہ تعالیٰ کے باعث جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نازل ہوگی اس کے ساتھ تمہارا یمان کے اعتبار سے بھی جیسا کہ حدیث شعب ایمان میں ہے اور دلائل کی کثرت اور قوت سے بھی جیسا کہ حدیث میں ہے لو و زن ایمان ابی بکر بیاھل الارض لور جع، کہ حضرت ابوبکر ؓ کا ایمان کا ایمان تمام اہل زمین کے ایمان سے بھاری ہے اہل حدیث کا یہی مسلک ہے ( کذافی ابن کثیر، کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(8:2) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) ڈرجاتے ہیں (ان کے بل) موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ
تلیت ماضٰ مجہول ۔ واحد مؤنث غائب۔ تلاوت کیجاتی ہیں۔ پڑھی جاتی ہیں (آیات اسکی) ۔
زادتھم۔ تو وہ زیادہ کردیتی ہیں ان کو ۔ وہ بڑھا دیتی ہیں ان کو۔ ایمانا بحیثیت ایمان کے یعنی ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا ایمان اور قوی ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
الانفال۔ (نفل) ۔ مال غنیمت۔ اصلحوا۔ درست کرلو۔ اصلاح کرلو۔ ذات بینکم۔ تم آپس میں (ذات۔ والا ۔ بین ۔ درمیان) ۔ ذکر اللہ ۔ اللہ کا ذکر کیا گیا۔ وجلت۔ (وجل) ۔ ڈر گئی۔ (ڈر گئے) ۔ تلیت۔ تلاوت کی گئی۔ (پڑھا گیا) ۔ زادت اضافہ ہوگیا۔ بڑھ گئی۔ یتوکلون۔ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یقیمون۔ وہ قائم کرتے ہیں۔ رزقنا۔ ہم نے دیا ۔ ینفقون۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ عزت کا رزق۔
تشریح :
انفال ۔ نفل کی جمع ہے جس کے معنی ” زائد “ کے آتے ہیں۔ شرعی طور پر اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہوتا ہے اسی کو مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں۔
یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
کامل مومن کی پہچان
مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ صفتیں ایماندار کی بیان فرمائیں :۔ (1) اول یہ کہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہو جس سے عقبیٰ کے عذاب کا خیال مراد ہے۔ (2) دوسرے قرآن کی آیتیں سننے سے وحدانیت کی دلیلیں اور نیک خصلتیں زیادہ ہوں، (3) تیسرے ہر کام میں خدا کا بھروسہ کرے دوسرے کو شریک نہ کرے (4) چوتھی اور پانچویں صفت جو ظاہر کی تھی وہ نماز کی شرائط اور امور نماز کے مثل وضو سب کو ادا کرنا اور خیرات کرنا زکوۃ سب داخل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی تعریف فرمائی کہ ان کے ایمان میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے، ان کے لئے جنت میں درجے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مومن کو غیر مشروط طور پر مطیع ہونا چاہئے اس کا دل ایسا اثر پذیر ہوتا ہے کہ خدا کا نام سن کر کانپ جاتا ہے ، قرآن کی آیات کو سنتا ہے تو دل میں ایمان کا سمندر موجزن ہوجاتا ہے ، اس کی بصیرت اور معارف دینیہ میں معتدبہ اضافہ ہوتا رہتا ہے ، وہ متوکل ہے ہر بات میں اللہ پر اسے بھروسا ہے ۔
Read the full tafseer →(2) بس حقیقی اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جب ان کے روبرو اللہ کا نام لیاجاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور ان کے قلوب خائف ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کی آییتں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور خدا کی آیتیں ان پر تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو مضبوط کردیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار ہی پر توکل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ اوپر کی سورت میں زیادہ مشرکین کے جہل وعناد کا اور کسی قدر اہل کتاب کے کفروفساد کا ان پر جو دنیا میں وبال ونکال بدر میں مشرکین پر اور دیگر بعض وقائع میں اہل کتاب یہود پر نازل ہوا اس کا بیان ہے بدر کا زیادہ اور واقعہ اہل کتاب کا کم۔
Read the full tafseer →مؤمن کی مخصوص صفات کی مزید وضاحت کہ اس کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے :
4: اس آیت میں مؤمن کی مخصوص صفات کا بیان ہے جو ہر مؤمن میں لازم ہیں تاکہ ہر مؤمن اپنی ظاہری اور باطنی کیفیت اور صفات کا جائزہ لیتا رہے اگر اس میں یہ صفات موجود ہیں تو اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اس کو مؤمن کی صفات خاص سے نواز ہے اور اگر ان میں سے کوئی صفت اس میں موجود نہ ہو یا ہو لیکن ضعیف و کمزور ہو تو اس کو حاصل کرنے یا قوی کرنے کا موقع مل جائے کیونکہ جب تک زندگی کی رمق موجود ہے اس وقت تک اس کو یہ موقع فراہم ہے۔
اس سلسلہ میں پہلی مخصوص صفت یہ ارشاد فرمائی کہ جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کا دل سہم…
Read the full tafseer →Commentary
Particular Attributes of the Believer
Described in the verses cited above are particular attributes which should be the hallmark of every believer. The hint given here is that every believer should keep checking on his or her physical and spiritual condition and assess if these attributes are present in his or her person. If they are, this calls for being grateful to Allah that He blessed His servant with the attributes of true believers. And should it be that none of these attributes is present there, or is weak or feeble despite being present, then, one must either start being…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2. A man's faith grows as he is able to confirm and submit to the command of God which he comes across. This is especially so where he submits to commands which go against his own personal predilections. A man's faith attains great heights if instead of trying to twist and distort the commands of God and the Prophet (peace he on him), he develops the habit of accepting and submitting to all the commands of God and the Prophet (peace be on him); if he strives to shape his conduct to the teachings which go against his personal opinions and conceptions, which are contrary to his habits,…
Read the full tafseer →