بخاری شریف میں ہے
۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں سورة انفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔ فرماتے ہیں انفال سے مراد غنیمتیں ہیں جو صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے ہی تھیں ان میں سے کوئی چیز کسی اور کیلئے نہ تھی۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا گھوڑا بھی انفال میں سے ہے اور سامان بھی۔ سائل نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر پوچھا کہ جس انفال کا ذکر کتاب اللہ میں ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ غرض پوچھتے پوچھتے آپ کو تنگ کردیا تو آپ نے فرمایا اس کا یہ کرتوت اس سے کم نہیں جسے حضرت عمر نے مارا تھا۔ حضرت فاروق اعظم سے جب سوال ہوتا تو آپ فرماتے نہ تجھے حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں، ابن عباس فرماتے ہیں واللہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 1
یہ اس تبصرہ جنگ کی عجیب تمہید ہے۔ بدر میں جو مال غنیمت لشکر قریش سے لوٹا گیا تھا اس کی تقسیم پر مسلمانوں کے درمیان نزاغ برپا ہوگئی۔ چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان لوگوں کو پہلی مرتبہ پرچم اسلام کے نیچے لڑنے کا اتفاق ہوا تھا اس لیے ان کو معلوم نہ تھا کہ اس مسلک میں جنگ اور اس سے پیدا شدہ مسائل کے متعلق کیا ضابطہ ہے۔ کچھ ابتدائی ہدایات سورة بقرہ اور سورة محمد میں دی جا چکی تھیں۔ لیکن ”تہذیب جنگ“ کی بنیاد ابھی رکھنی باقی تھی۔ بہت سے تمدنی معاملات کی طرح مسلمان ابھی تک جنگ کے معاملہ میں بھی اکثر پرانی جاہلیت ہی کے تصورات لیے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے بدر کی لڑائی میں کفار کی شکست کے…
Read the full tafseer →مضامین سورت
سورة انفال جو اس وقت شروع ہو رہی ہے مدنی سورت ہے۔ اس سے پہلی سورت یعنی سورة اعراف میں مشرکین اور اہل کتاب کے جہل وعناد اور کفر و فساد کا تذکرہ اور اس کے متعلقہ مباحث کا بیان تھا۔
اس سورت میں زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے موقع پر انھیں لوگوں کے انجام بد، ناکامی اور شکست، اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی اور فتوحات سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے لئے احسان و انعام اور کفار کے لئے عذاب و انتقام تھا۔
اور چونکہ اس انعام کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا خلوص اور للّٰہیت اور ان کا باہمی اتفاق ہے اور یہ اخلاص و اتفاق نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کا اس لئے شروع سورت…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔
انفال، نفل کی جمع ہے، اس کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی وہ نفل ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو اس حصہ مزید کو نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے اس مال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ اس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دشمن…
Read the full tafseer →1۔ 1 اَنْفَا ل، نَفَل، ُ کی جمع ہے جس کے معنی زیادہ کے ہیں، یہ مال و اسباب کو کہا جاتا ہے، جو کافروں کے ساتھ جنگ میں ہاتھ لگے، جسے غنیمت بھی کہا جاتا ہے اس کو (نفل) (زیادہ) اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جو پچھلی امتوں پر حرام تھیں۔ یہ گویا امت محمدیہ پر ایک زائد چیز حلال کی گئی ہے اس لئے کہ یہ جہاد کے اجر سے (جو آخرت میں ملے گا) ایک زائد چیز ہے جو بعض دفعہ دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔
1۔ 2 یعنی اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ اللہ کے رسول اللہ کے حکم سے اسے تقسیم فرمائے گا۔ نہ کہ تم آپس میں جس طرح چاہو تقسیم کرلو۔
1۔ 3 اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ تینوں باتوں پر عمل بغیر ایمان مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک حصہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مال غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہوگیا، یہ چونکہ پہلی جنگ تھی اور مال غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکھٹا کیا ہے وہ انہی کا ہے (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے ؛ بلکہ مال غنیمت اکھٹا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات…
Read the full tafseer →(سورۃ کے تعارف کا بقیہ حصہ)
جو لوگ نظریہ جہاد اسلامی کے اخلاقی جواز کے لیے صرف دار الاسلام کی حفاظت کے اسباب و وجوہ تلاش کرتے ہیں ، انہوں نے در اصل نظام اسلامی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ وہ اس نظام کو ایک وطن سے بھی کم تر درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطہ نظفر سے یہ خیال درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایک یا تصور ہے جو اسلامی تصور پر غالب ہورہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پہلے عقیدے کو اہمیت دیتا ہے ، پھر اس نظام کو جو اس عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ پھر اس معاشرے کو جس میں وہ نظام قائم ہوتا ہے یہی چیزیں اسلامی تصور حیات میں اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔ باقی رہی صرف کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 " بدر " میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مال غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔
جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک…
Read the full tafseer →1 انفال سے مراد کون سے اموال ہیں ؟:۔ اموال زائدہ یا انفال سے مراد وہ اموال ہیں جو کسی کی محنت کا صلہ نہ ہوں بلکہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے عطا کئے ہوں اور ان کی کئی اقسام ہیں مثلاً (1) اموال غنیمت جو اگرچہ مجاہدین کی محنت کا صلہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اسے اس لیے انفال میں شمار کیا گیا کہ پہلی امتوں پر غنیمت کے اموال حرام تھے۔ ایسے سب اموال ایک میدان میں اکٹھے کردیئے جاتے پھر رات کو آگ اتر کر ان کو بھسم کردیتی تھی۔ مگر اس امت پر حلال کی گئی ہے (2) اموال فے یعنی ایسے اموال جو لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں (3) اموال سلب یعنی وہ مال جو ایک مجاہد مقتول دشمن کے جسم سے اتارتا ہے (4) دیگر…
Read the full tafseer →1 ۔ (کہ یہ ملک کس کی ہیں اور انہیں تقسیم کس طرح کیا جائے) تقسیم مال غنیمت کے قدیم دستور کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ جب معرکہ بدر کے بعد مسلمانوں کو پہلی بار بہ حیثیت ایک جماعت کے شکست کھائے ہوئے کافروں سے مال ہاتھ آیا تو قدرۃ یہ سوال پیدا ہوا کہ (State property) حکومت کی آمدنی ملک کس کی ہے اور اسے سرکاری خزانہ میں داخل کس ترتیب سے کیا جائے ؟ (آیت) ” الانفال “۔ جمع ہے نفل (بہ حرکت فاء) کی اور نفل (بہ سکون فاء) کے معنی زاید یا اس چیز کے ہیں جو واجب کے علاوہ ہو۔ النفل اے الزیادۃ علی الواجب (راغب) نفل (بہ حرکت فاء) سے مراد (اصطلاح شریعت میں) وہ مال ہوتا ہے جو جنگ کے بعد دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →یسئلونک عن الانفال قل الانفال اللہ والرسول فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم واطعیوا اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین آپ ﷺ سے یہ لوگ مال غنیمت کا حکم دریافت کرتے ہیں ‘ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اموال غنیمت تو اللہ کی اور اللہ کے رسول ﷺ کی ہیں۔ پس اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات درست رکھو اور اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو۔
انفال ‘ نفل کی جمع ہے۔ نفل کا معنی ہے : مال غنیمت (مفت کا مال) مال غنیمت کو نفل (مال زائد) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض خداداد ہوتا ہے جو اللہ اپنی مہربانی سے عطا کرتا ہے (نہ تجارت و زراعت و صنعت کے ذریعہ سے حاصل کردہ ہوتا ہے ‘ نہ میراث و ہبہ کے ذریعہ سے حاصل…
Read the full tafseer →(1) بدر کے دن آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ سے خاص عنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ بدر کے دن کی غنیمتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ملک ہیں، تمہیں اس بارے میں کوئی اختیار نہیں۔ یہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور رسول اکرم ﷺ کا حکم اس میں نافذ ہوگا، غنائم کے لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور باہمی جھگڑوں کی اصلاح کرو کہ کہیں غنی فقیر پر اور قوی ضعیف پر اور جوان بوڑھے پر زیادتی نہ کربیٹھے ،
جب تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو صلح کے معاملات میں ان ہی کی پیروی کرو۔
شان نزول : (آیت) ”یسئلونک عن الانفال“۔ (الخ)
امام ابوداؤد ؒ ،…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ : ”الْاَنْفَالِ“ یہ ”نَفَلٌ“ (نون اور فاء کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ ”فَرَسٌ“ کی جمع ”اَفْرَاسٌ“ ہے۔ جس کا معنی زائد چیز ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ) [ بنی إسرائیل : 79 ] ”اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔“ یعنی رات کا قیام فرض نمازوں سے زائد ہے۔ یہ لفظ کئی معنوں میں آتا ہے : 1 مال غنیمت، کیونکہ جہاد کا اصل مقصد تو ثواب اور حصول جنت ہے، غنیمت تو ایک زائد چیز ہے۔ شاید اسی لیے پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی، اس امت کو ثواب پر مزید غنیمت بھی حلال کردی گئی۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 1
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں دشمن کا مقابلہ کیا، جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دو چار کردیا ( اور وہ بھاگ نکلے) تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے انہیں قتل کرنے کے لیے ان کا تعاقب کیا اور ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ کے اردگرد رہا اور ایک گروہ جمع شدہ مال اور چھینے ہوئے مال غنیمت پر قابض رہا، پس جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو بھگا دیا اور جو ان کے تعاقب میں گئے تھے وہ واپس لوٹ آئے تو انہوں نے کہا : مال غنیمت ہمارا ہے، ہم وہ ہیں جنہوں نے دشمن کا پیچھا کیا اور ہمارے سبب ہی اللہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شعبہ واحمد وابن جریر وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ جب بدر کا دن تھا میرا بھائی عمیر قتل کردیا گیا اور میں نے سعید ابن عاص کو قتل کردیا اور اس کی تلوار لے لی جس کو ذوالکتیعہ کہا جاتا تھا میں رسول ﷺ کے پاس اس کو لے کر آیا آپ نے فرمایا جاؤ اور اس کو مال مقبوض (یعنی مال غنیمت) میں ڈال دو میں لوٹ آیا اور جو کچھ میرے ساتھ سازوسامان تھا اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا میرے بھائی کے قتل اور میرے مال کو لینے کے بارے میں، میں تھوڑا سا چلا تھا حتی کہ سورة انفال نازل ہوئی مجھ کو رسول ﷺ نے فرمایا چلا جا اور اپنی تلوار کو لے لے۔
2:۔ احمد وابوداود والترمذی (اور اس کو صحیح کہا…
Read the full tafseer →[ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ : یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے ] [ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭ : اموال غنیمت کے بارے میں ] [ قُلِ : آپ کہہ دیجیے ] [ الْاَنْفَالُ : اموال غنیمت ] [ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ہے ] [ وَالرَّسُوْلِ ۚ : اور ان رسول کے لیے ہے ] [ فَاتَّقُوا : پس تم لوگ تقوی اختیار کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ وَاَصْلِحُوْا : اور اصلاح کرو ] [ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ : تمہارے درمیان والی (رنجش ) کی ] [ وَاَطِيْعُوا : اور اطاعت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗٓ: اور اس کے رسول کی ] [ اِنْ : اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ہو ]
نل ۔ (ن) : نفلا ۔ (1) زیادہ عطیہ دینا ۔ (2) مال…
Read the full tafseer →انفال یعنی مال غنیمت کا بیان
لفظ انفال نفل کی جمع ہے، نفل لغت میں شی زائد کو کہتے ہیں اسی لیے فرائض کے علاوہ جو نمازیں پڑھی جائیں اور روزے رکھے جائیں انہیں نفل کہا جاتا ہے کیونکہ نوافل اس عمل سے زائد چیز ہے جس کا لازمی طور پر حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کے موقعہ پر جو دشمنوں کے اموال ہاتھ آجائیں جنہیں مال غنیمت کہا جاتا ہے۔ یہاں انفال سے وہ مراد ہیں اور امیر لشکر جو غازی کے لیے اس کے مقررہ حصہ سے زائد دینے کا اعلان کر دے اس کو بھی نفل کہا جاتا ہے، مسلمان کی جنگ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہوتی ہے وہ مال کے لیے نہیں لڑتا، اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ جو مال غنیمت میں حصہ مل جائے وہ اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الانفال۔۔۔ الی۔۔۔ ومفرۃ ورزق کریم
سورة انفال کل مدنی ہے جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اسی وجہ سے اس سورت کو سورة بدر بھی کہتے ہیں اس میں پچھتر یا چھتر یا ستتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔
فائدہ : انفال۔ نفل بالتحریک کی جمع ہے جس سے مراد مال غنیمت ہے۔ نفل در اصل بمعنی زیارت ہے اور نفل کو نفل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اصل فرض سے زائد ہے اور غنیمت کو نفل اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور عطیہ ہے مال غنیمت پہلی امتوں پر حلال نہ تھا اس امت پر بطور فضل وزیادت حلال کردیا گیا اور غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو جہاد میں کافروں سے حاصل ہو اور فقہاء کی اصطلاح میں نفل کا اطلاق اس مال…
Read the full tafseer →2: مضمون اول یا دعوی اولی (تقسیم انفال کا حق اللہ کو ہے مع علل)
“ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ الخ ” میں پہلا دعوی بالاجمال مذکور ہے اور دوسرے حصے کے شروع میں “ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِيْ الْقُرْبٰی الخ ” سے اس کی تفصیل کی گئی ہے۔ “ اَنْفَال ” نفل کی جمع ہے مراد مال غنیمت ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ غنائم بدر کی تقسیم کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو انہوں نے حضرت رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ انہیں کس طرح تقسیم کیا جائے اور تقسیم کا حق کس کو حاصل ہے۔ مہاجرین کو یا انصار کو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کو تقسیم کا حق اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔…
Read the full tafseer →کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة الانفال ہے۔ جو کہ پہلی ہی آیت سے ماخوذ ہے انفال ، نفل کی جمع ہے اور اس کا معنی زائد چیز کا ہوتا ہے ۔ یہ سورة ہجرت کے بعد 2 ھ میں نازل ہوئی جب کہ غزوہ بدر واقع ہوا تھا ، اس سورة کی پچھتر آیات اور دس رکوع ہیں۔ یہ سورة 1631 الفاظ اور 6294 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے سورة اعراف اور سورة انعام مکی سورتیں تھیں البتہ سورة مائدہ ، نسائ ، آل عمران اور بقرہ مدنی تھیں ، اسی طرحی یہ سورة مبارکہ بھی مدنی ہے۔ اس کے بعد آنے والی سورة توبہ بھی مدنی ہے اور ان دونوں سورتوں کا مضمون آپس میں ملتا جلتا ہے ۔ سورة انفال ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کہ سورة توبہ آخری حصہ…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ 0 ۭ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلہِ وَالرَّسُوْلِ 0 ۚ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ 0 ۠ وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 1
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ؎ اور اپنی حالت کو درست کرو۔
ترکیب : عن 2 ؎ الانفال یسئلون سے متعلق ‘ الانفال مبتداء للّٰہ والرسول خبر المؤمنون مبتداء الذین موصول اذا ذکر شرط وجلت جواب جملہ صلہ واذا تلیت شرط و جواب مل کر جملہ معطوف ہے پہلے صلہ میں داخل مجموعہ خبر و علی ربہم جملہ یا حال ہے یا صلہ میں داخل بذریعہ عطف الذین یقیمون صلہ و موصول پہلے الذین سے بدل حقًا مفعول مطلق ہے فعل محذوف سے عند ربہم درجات بمعنی اجر کا ظرف۔ 3 ؎
تفسیر : یہ سورة ایام جنگ بدر میں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حسن اور عکرمہ و جابر بن زید و عطا وغیرہم ائمہ تفسیر سے منقول ہے ابو الشیخ و ابن مردویہ و نحاس نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور…
Read the full tafseer →اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک یقینا تمہارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ وہ حق کو حق ثابت کرے اور باطل کو باطل ثابت کرے اگرچہ ناراض ہوں گناہ گار۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ اور نہیں کیا اللہ نے (فرشتوں کی خبر دینے کو) مگر خوشخبری تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کے پاس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
عربوں کے ہاں یہ اصول تھا کہ جنگ میں شریک ہونے والے شخص کے جو ہاتھ آتا وہ اسی کا مال سمجھا جاتا تھا غزوۂ بدر میں جب مسلمانوں کو مال غنیمت ہاتھ آیا تو اس کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس جنگ میں کچھ صحابہ ] رسول معظم ﷺ کے کیمپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ ایک گروہ نے بھاگتے ہوئے کفار کا تعاقب کیا اور دوسروں نے مال غنیمت جمع کیا۔ اس صورت حال میں مال غنیمت جمع کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ یہ مال و اسباب ہم نے جمع کیا لہٰذا قدیم اصول کے مطابق اس کا استحقاق ہمارے سوا کسی کو نہیں ہے اس پر کچھ صحابہ ] نے نبی معظم سے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں سوال کیا۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرماتے ہوئے…
Read the full tafseer →تقسیم غنائم فقط اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے :
آیت 1: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَ نْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (آپ سے یہ لوگ مال غنیمت کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیں۔ یہ غنیمتیں تو اللہ کی ہیں اور رسول اللہ کی ہیں) النفل غنیمت کو کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطیہ ہے۔ الْاَنْفَالُ الغنائم بدر کے غنائم کے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ اس کا مستحق کون اور تقسیم کس طرح ہے۔ پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ ہم کس طرح تقسیم کریں۔ اور تقسیم میں مہاجرین و انصار یا دونوں ہی کا حق ہے۔ تو جواب آیا کہ ان سے فرما دیں کہ وہ حق رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ اور وہی اس…
Read the full tafseer →سورة الانفال کا شان نزول
تفسیر (1) (یسئلونک عن الانفال) مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا تھا کہ جو اس جگہ آیا تو اس کے لئے مال غنیمت میں اتنا حصہ اور جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لئے اتنا حصہ اور جس نے کسی کو قیدی بنایا تو اس کے لئے اتنا حصہ۔ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو نوجانوں نے جلدی کی اور بزرگ حضرات نے ثابت قدمی دکھائی اور لوگوں کے چہرے جھنڈوں کی طرف تھے جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔
تو نوجوان مطالبہ کرنے آئے تو بزرگ حضرات نے کہا کہ ہم تمہارے پیچھے ڈھال تھے اگر تمہیں پسپائی ہوتی تو ہماری طرف لوٹتے تو اکیلے مال غنیمت نہ…
Read the full tafseer →1۔ ترمذی ابوداؤد ‘ نسائی مسند امام احمد بن حنبل حاکم اور صحیح ابن حبان میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کے لشکر کے تین گروہ تھے ایک گروہ جھنڈے کے پاس آنحضرت سے لڑنے والے گروہ میں سے کچھ لوگ دشمنوں کا وہ مال جو دشمنوں کے بھاگنے میں رہتا جاتا تھا وہ مال کو جمع کرتے جاتے تھے لڑائی ختم ہونے کے بعد ہر ایک گروہ نے اپنے آپ کو لوٹ کے مال کا زیادہ مستحق قرار دیا اور اس میں جھگڑا کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں معتبر سند سے ترمذی میں یہ شان نزول کی روایت عبادہ بن الصامت ؓ سے ہے جس سے اور روایتوں کو تقویت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(آیت 1)
(الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چناچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
(یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں “ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے ! (الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں “ وہ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الانفال
مال غنیمت اور اس کے احکام
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 نفل کا معنیٰ و مفہوم اور اس کا حکم ؟ : " انفال "، " نفل " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ زیادہ کے آتے ہیں۔ نفل نماز کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ فرض سے زائد ہوتی ہے۔ اور مال غنیمت کو " نفل " اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ اصل مقصود سے ایک زائد چیز ہوتی ہے جو مجاہد کو اللہ پاک کی طرف سے عطیہ و انعام کے طور پر ملتی ہے کہ جہاد سے مجاہد کا اصل مقصود تو آخرت کا اجر وثواب اور رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے نہ کہ دنیوی مفاد اور دنیا کا فانی مال و متاع۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔ غزوئہ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے بارے میں جب اختلاف پیدا ہوا، نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ جہاد ہم نے کیا، تو بڑوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →مال غنیمت کی تقسیم
تشریح : اس آیت کا اصل مضمون مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے اصول بتانا ہے۔ یہ اصول جو یہاں بتائے جا رہے ہیں یہ صرف ان مسلمانوں کے لیے خاص نہیں جنہوں نے غزوئہ بدر میں حصہ لیا بلکہ یہ اصول و قوانین تمام امت مسلمہ کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ موقع کی مناسبت سے احکامات دیتے ہیں تاکہ یہ بات پوری طرح واضح ہوجائے۔ یہ سورت جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اور اس کا شان نزول یہ کہ جنگ بدر کفر اور اسلام کے درمیان پہلی جنگ تھی اس میں فتح و کامیابی کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ پیش آیا۔ اور مال غنیمت کے تقسیم پر مسلمانوں میں کچھ جھگڑا پیدا ہوگیا۔ تو اللہ رب العزت نے ان کو یاد دلایا کہ تم مومن ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →ف 11 بد کے روز جب مسلمان کو ہاتھ مال غنیمت آیا تو اس کے بارے میں جھگڑا کرنے لگے اور آنحضر ﷺ سے اس کا مصرف پو چھنے لگے، اس پر یہ آیت ناز ہوئی ،۔ ( فتح البیان)12 یعنی اس کے با رے میں کوئی فیصلہ کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اختیار میں ہے۔
1 اس آیت میں اللہ تعا کی اطاعت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کو بھی ایمان کی شرط قراردیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی طاعت سے مراد، جیسا کہ ظاہر ہے۔ آپ ﷺ کی سنت کی ابتاع ہے۔ لہذا جو شخص آپ ﷺ کی سنت سے منہ موڑکر صرف قرآن کی اطاعت کرنا چاہتا ہے، اگرچہ عملا قطعیکک محال ہے) وہ قرآن کی واضح تصریح کے مطابق دائرہ سے خارج ہے۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں : جنگ میں…
Read the full tafseer →(8:1) الانفال۔ مال غنیمت نفل کی جمع جس کے معنی زیادتی کے ہیں۔ اسی لئے زائد نماز کو نافلہ کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : امن اللیل فتھجد بہ بانل لک (17:79) اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوکر تہجد کی نماز پڑھا کر یہ تمہارے لئے نفل ہے۔
اسی اعتبار سے اولاد کی اولاد کو نافلہ کہتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ووھنبا لہ اسحاق و یعقوب نافلۃ (21:72) اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم کو) اسحاق عطا کی اور مزید برآں یعقوب بھی۔ پھر عطیہ اور بخشش کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ کیونکہ بخشش بھی بغیر استحقاق ایک شی مزید ہے۔
بعض کے نزدیک نفل اور غنیمت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ان میں صرف اعتباری فرق ہے وہ مال جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن۔
الانفال۔ (نفل) ۔ مال غنیمت۔ اصلحوا۔ درست کرلو۔ اصلاح کرلو۔ ذات بینکم۔ تم آپس میں (ذات۔ والا ۔ بین ۔ درمیان) ۔ ذکر اللہ ۔ اللہ کا ذکر کیا گیا۔ وجلت۔ (وجل) ۔ ڈر گئی۔ (ڈر گئے) ۔ تلیت۔ تلاوت کی گئی۔ (پڑھا گیا) ۔ زادت اضافہ ہوگیا۔ بڑھ گئی۔ یتوکلون۔ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یقیمون۔ وہ قائم کرتے ہیں۔ رزقنا۔ ہم نے دیا ۔ ینفقون۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ عزت کا رزق۔
تشریح :
انفال ۔ نفل کی جمع ہے جس کے معنی ” زائد “ کے آتے ہیں۔ شرعی طور پر اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہوتا ہے اسی کو مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں۔
یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز ”…
Read the full tafseer →جنگ بدر میں مال غنیمت کا فیصلہ
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بدر میں بوڑھے مسلمان اسلامی جھنڈے کے نیچے کھڑے رہے اور جوان دلیر لوگ آگے بڑھ کر کفار سے لڑے۔ جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا تو نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا ہی حق ہے کیونکہ ہم قوت بازو سے کافروں کو شکست دے کر یہ مال لائے ہیں۔ بوڑھے بولے :'' اس میں ہم بھی شریک ہیں کیونکہ تم ہماری قوت سے لڑے ہو اس لئے کہ ہم تمہارے مدد گار اور پشت پناہ تھے ''۔ اس پر جھگڑا ہونے لگا اور حضور ﷺ سے فیصلہ چاہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں او فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے نہ نوجوانوں کی قوت نہ بڈھوں کی پشت پناہی سے ہے۔ ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…
Read the full tafseer →(ف 2) مدنی ہے بدر میں غنائم کے سلسلہ میں تنازع پیدا ہو تو یہ نازل ہوئی ، اس میں حصص کی تفصیل ہے ، نوجوان یہ کہتے تھے کہ ہم غنیمت کے زیادہ حقدار ہیں شیوخ کو یہ فضیلت تسلیم نہ تھی اللہ تعالیٰ نے اس عقدہ میں فرمایا اصل میں یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے قبضہ وملک میں ہے ، وہ جیسا چاہیں ، تقسیم کردیں تمہیں اعتراض نہیں کرنا چاہئے ۔
حضور ﷺ نے خمس نکال لینے کے بعد نوجوانوں اور بوڑھوں میں مال برابر تقسیم کردیا ۔
حل لغات :
انصتوا ، مصدر انصات کچھ سننے کے لئے خاموش ہوجانا ۔
انفال : جمع نفل ، بمعنی مال غنیمت ۔
Read the full tafseer →سورة الانفال مدنی ہے اور پچھتر 75 آیتیں اور دس رکوع ہیں
1 اے پیغمبر ! لوگ آپ سے مال غنائم کی تقسیم کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ مال غنیمت اللہ کا اور اللہ کے رسول کا ہے تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور تم آپس میں صلح جویانہ رویہ رکھو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہامانو اگر تم اہل ایمان اور فرماں بردار ہو۔ یعنی جہاد میں دشمنوں کا مال ہاتھ آئے اس کو غنیمت کہتے ہیں۔ جنگ بدر کے بعد اس مال غنیمت کی تقسیم کا سوال پیش آیاتولوگوں نے پیغمبر سے سوال کیا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اس جنگ کے اصول وقواعد تعلیم فرمائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ اوپر کی سورت میں زیادہ مشرکین کے جہل وعناد کا اور کسی قدر اہل کتاب کے کفروفساد کا ان پر جو دنیا میں وبال ونکال بدر میں مشرکین پر اور دیگر بعض وقائع میں اہل کتاب یہود پر نازل ہوا اس کا بیان ہے بدر کا زیادہ اور واقعہ اہل کتاب کا کم۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام لوگ آپ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کیا ہے ؟
1: الْاَنْفَالِ 1ؕ ، نفل کی جمع ہے جس کے متعنی زائد ، فضل اور انعام کے ہیں جیسا کہ نگلی عبادت یعنی نماز ، روزہ اور صدقہ و خیرات کو بھی کہا جاتا ہے جو فرض واجب نہ ہو اس کو نفل محض اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کے ذمہ لازم نہیں ہوتا۔ کرنے والے کی خوشی ہے چاہے کرے تو اجر پائے اور چاہے نہ کرے اس جگہ نفل سے مراد وہ مال ہے جو کفار سے لڑائی کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اس کو غنیمت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سوال کی ضرورت کیا پیش آئی ؟
مکہ میں جب بنی اعظم و آخر ﷺ کی دعوت کا ظہور ہوا تو قدرتی طور پر دو گروہ پیدا ہوگئے۔ ایک ان…
Read the full tafseer →Commentary
This verse is related to an event which came to pass in the battle of Badr. If this event is kept in sight before going to the detailed explanation of the verse, it will make it easy to understand.
What happened is that Muslims, when they won in the battle of Badr - the first confrontation of Kufr and Islam - they had some war spoils on their hands. Its distribution led to a state of affairs among the noble Companions which did not befit the high standard of sincerity and unity around which the whole life of these blessed souls was moulded. Therefore, it was within the very first…
Read the full tafseer →1. The critique of the battle opens with this unusual note. Some disagreements had arisen among the Muslims with regard to sharing the spoils of war. As it was their first experience of fighting under the banner of Islam, the Muslim soldiers had scarcely any notion of the regulations they were required to follow on the battlefield and for settling problems arising from warfare. Doubtlessly some preliminary instructions had been laid down for them in Surah al-Baqarah 2 and Surah Muhammad 47, (See 2: 190 ff. and 47: 4 ff. - Ed.) However the full set of regulations that could contribute to…
Read the full tafseer →