Explained with ayahs 205–206
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے
اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کی بکثرت یاد کر۔ یہاں بھی یہ فرمایا اور جگہ بھی ہے آیت (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) یعنی اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے غدو کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو اصال جمع ہے اصیل کی۔ جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔ حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 155
مطلب یہ ہے کہ بڑائی کا گھمنڈ اور بندگی سے منہ موڑنا شیاطین کا کام ہے اور اس کا نتیجہ پستی و تنزل ہے۔ بخلاف اس کے خدا کے آگے جھکنا اور بندگی میں ثابت قدم رہنا ملکوتی فعل ہے اور اس کا نتیجہ ترقی و بلندی اور خدا سے تقرب ہے۔ اگر تم اس ترقی کے خواہشمند ہو تو اپنے طرز عمل کو شیاطین کے بجائے ملائکہ کے طرز عمل کے مطابق بناؤ۔
سورة الْاَعْرَاف 156
تسبیح کرتے ہیں، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا بےعیب اور بےتقص اور بےخطا ہونا، ہر قسم کی کمزوریوں سے اس کا منزہ ہونا، اور اس کا لا شریک اور بےمثل اور بےہمتا ہونا دل سے مانتے ہیں، اس کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں اور دائماً اس کے اظہار و اعلان میں…
Read the full tafseer →سجدہ کے بعض فضائل اور احکام
یہاں عبادت نماز میں سے صرف سجدہ کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ تمام ارکان نماز میں سجدہ کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ثوبان ؓ سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جس سے میں جنت میں جاسکوں، حضرت ثوبان خاموش رہے، اس نے پھر سوال کیا، پھر بھی خاموش رہے، جب تیسری مرتبہ سوال کو دھرایا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا، آپ نے مجھے یہ وصیت فرمائی کہ کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ جب تم ایک سجدہ کرتے ہو تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف فرما دیتے ہیں، یہ شخص کہتے ہیں کہ حضرت ثوبان کے بعد…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ۔
“ جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں ”سے اشارہ فرشتوں کی طرف ہے۔ ان کے بابت فرمایا کہ وہ خدا کی بندگی سے کسی وقت سرتابی نہیں کرتے، برابر اس کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ آیت ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں برابر سرگرم رہنے والوں کے زمرہ کو بتاتی ہے کہ جو لوگ خدا کو ہر وقت یاد رکھتے ہیں گو وہ رہتے بستے زمین میں ہیں لیکن ان کا تعلق فرشتوں کی بزم قدس سے ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح وہ ہر وقت زمزمہ سنج تسبیح و تہلیل رہتے ہیں، یہ بھی اسی طرح مصروفِ یاد الٰہی رہتے ہیں۔ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
24۔ 1 یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے، جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے (لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ) 41۔ فصلت :26) یہ قرآن مت سنو اور شور کرو، ان سے کہا گیا کہ اس کی بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔
Read the full tafseer →105: اس سے اشارہ ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے، اس میں (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اول تو اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کی عبادت یا ذکر سے بےنیاز ہے، دوسرے اس کی ایک بڑی مخلوق یعنی فرشتے، ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول ہیں۔ انسانوں کو جو ذکر کا حکم دیا گیا ہے، اس میں خود انسانوں کا فائدہ ہے کہ یہ ذکر جب دل میں سما جائے تو انہیں شیطان کے تصرفات سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت مفید ہے اور اس کے ذریعے وہ گناہوں اور جرائم و مظالم سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ آیت سجدہ تلاوت کی آیت ہے اور جو شخص عربی میں یہ آیت پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب…
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے سامنے ملائکہ مقربین کی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ جن پر شیطان کی اکساہٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے اندر تخلیقی اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہوتی نہ ان کے اندر شہوات ہوتی ہیں اور نہ میلانات ہوتے ہیں۔ وہ رات دن ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی میں نہ کوئی تقصیر کرتے ہیں اور نہ غرور کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی بندگی اور تسبیح کرنے کے معاملے میں انسان ان سے زیادہ محتاج ہے۔ انسان کی راہ میں زیادہ مشکلات ہیں اور اس پر شیطان کی اکساہٹ کا اثر بھی جلد ہوتا ہے۔ انسان تباہ کن غفلت کا ارتکاب بھی کرسکتا ہے۔ انسان کی سعی بھی محدود ہے ، اگر ذکر الہی کا توشہ نہ ہو تو اس…
Read the full tafseer →4 یعنی رات دن خصوصاً صبح و شام کے اوقات میں اس کی یاد سے غافل مت رہ۔ جب مقرب فرشتوں کو اس کی بندگی سے عار نہیں، بلکہ ہمہ وقت اسی کی یاد میں لگے رہتے ہیں، اسی کو سجدہ کرتے ہیں، تو انسان کو اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس کے ذکر و عبادت و سجود سے غافل نہ رہے۔ چناچہ اس آیت پر بھی سجدہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 206 اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ
یعنی ملأ اعلیٰ جو ملائکہ مقربین پر مشتمل ہے ‘ جس کا نقشہ امیر خسرو رح ؔ نے اپنے اس خوبصورت شعر میں اس طرح بیان کیا ہے :
خدا خود میر محفل بود اندر لامکاں خسروؔ
محمد ﷺ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم !
یعنی لامکاں کی وہ محفل جس کا میر محفل خود اللہ تعالیٰ ہے اور جہاں شرکائے محفل ملائکہ مقربین ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ روح محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس محفل میں گویا چراغ اور شمع کی حیثیت حاصل ہے۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ رات مجھے بھی اس محفل میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ
بارک اللّٰہ…
Read the full tafseer →205 کیونکہ اکڑنا شیطان کا کام ہے اس کے مقابلہ میں فرشتوں کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے، اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور ہر وقت اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں جیسا کہ سورة بقرہ میں قصہ آدم (علیہ السلام) و ابلیس میں گزر چکا ہے۔
206 اس آیت کے اختتام پر مسلمانوں کو بھی سجدہ کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس کا حال بھی ملائکہ مقربین کے حال کے مطابق ہوجائے۔ چناچہ :
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جب ابن آدم سجدہ کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے علیحدہ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے میری بربادی، ابن آدم کو سجدہ کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا اور اس کے لیے جنت ہے اور…
Read the full tafseer →301 ۔ یعنی دل سے، زبان سے، جوارح سے، سب طرح اس کی عبادت میں لگے رہتے اور اپنی عبدیت کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی بھی اپنے کو کسی صفت باری میں شریک نہیں سمجھتا۔ یہ آیت آیت سجدہ کہلاتی ہے۔ اور اس طرح کی آیتیں قرآن مجید میں بقول اصح چودہ ہیں۔ اور بعض کے شمار میں پندرہ (اختلاف سورة حج کے دوسرے سجدہ سے متعلق ہے) سجدۂ تلاوت، آیت سجدہ کی تلاوت کے وقت حنفیہ کے یہاں واجب ہے۔ تفصیلی احکام کتب فقہ میں ملیں گے۔ (آیت) ” ان الذین عند ربک “۔ مراد اصلی تو فرشتہ ہیں توسع کرکے انبیاء اولیاء مقربین بھی اس میں داخل کئے جاسکتے ہیں۔ یعنی الملائکۃ بالاجماع (قرطبی) عند سے مراد قرب منزلت ومرتبت ہے نہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
آیت نمبر 189 تا 206
ترجمہ : وہ یعنی اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا حوّاء کو پیدا کیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے اور اس سے الفت کرے، چناچہ جب اس کو ڈھانپ لیا یعنی اس سے مجامعت کی، اگر اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ (حمل) کوئی جانور نہ ہو تو انہوں نے اپنے رب اللہ سے دعاء کی، اگر آپ ہمیں نیک صحیح سالم بچہ عطا فرمائیں تو ہم اس پر آپ کے شکر گذار ہوں گے، چناچہ جب ان کو صحیح سالم اولاد دیدی تو دونوں (بیوی) نے (اللہ کے) عطا کردہ بچے کا نام عبدالحارث رکھ کر خدا کا شریک قراردیدیا، اور ایک قراءت میں شین کے کسرہ اور…
Read the full tafseer →ان الذین عند ربک لا یستکبرون عن عبادتہ ویسبحونہ ولہ یسجدون : بیشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں (یعنی مقرب ہیں) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ ۔ اَلَّذِیْنَسے ماد ہیں ملائکہ انبیاء اور نیک بندے۔ اللہ کا قرب جسمانی طور پر محال ہے۔ اللہ جسم نہیں ہے اس کے پاس ہونے اور مقرب ہونے کے معنی ہیں معزز ‘ مکرم ہونا۔ لا یستکبرون عن عبادتہ اللہ کی عبادت سے اپنے کو بڑا نہیں سمجھتے غرور نہیں کرتے بلکہ عبادت کی وجہ سے بڑے بنتے ہیں۔ ویسبحونہ اور نازیبا غیر مناسب صفات سے اس کو پاک سمجھتے ہیں اور پاک قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں…
Read the full tafseer →(206) اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اظہار عبودیت سے تکبر نہیں کرتے، ہر وقت اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سر بسجود رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”جب مقرب فرشتے بھی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں تو انسان کو چاہیے کہ اس کے سوا اور کسی کو سجدہ نہ کرے۔“ (موضح)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 206
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین عند ربک اس میں الذین سے مراد بالاجماع ملائکہ ہیں۔ اور فرمایا عند ربک۔ اللہ تعالیٰ کا تعلق تو ہر مکان کے ساتھ ہے لیکن چونکہ وہ اس کی رحمت کے قریب ہیں اور ہر وہ جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہے تو وہ اس کے پاس ہی ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ اور اس کے سوا کسی نے کہا ہے : کیونکہ ایسی جگہ میں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا کوئی اور حکم نافذ ہی نہیں ہوتا ( اس لیے فرمایا وہ تیرے رب کے مقرب ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغامبر ہیں، جیسے کہا جاتا ہے : عند الخلیفۃ جیش کثیر (خلیفہ کے پاس بہت…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ نے ابو الریان مجاشعی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن کے سجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ (ان سورتوں میں سجدے ہیں) اعراف، رعد، نحل، بنو اسرائیل، مریم، حج میں ایک سجدہ، ثمل، فرقان، الم تنزیل، حم تنزیل اور ص اور مفصل (سورتوں) میں کوئی سجدہ نہیں ہے۔
(2) امام ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ علی بن عباس نے قرآن مجید میں دس سجدے کئے۔ اعراف میں، رعد میں، نحل میں، بنو اسرائیل میں، مریم میں، حج میں پہلا سجدہ، فرقان میں، نحل میں، تنزیل السجدہ میں اور حم السجدہ میں۔
(3) امام ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں ابو درداء ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ عِنْدَ رَبِّكَ : آپ کے رب کے نزدیک ہیں ] [ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : وہ بڑائی نہیں چاہتے ] [ عَنْ عِبَادَتِهٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ : اور اور تسبیح کرتے ہیں اس کی ] [ وَلَهٗ : اور اس کے لیے ہی ] [ يَسْجُدُوْنَ : وہ سجدہ کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →فرشتوں کی تسبیح اور عبادت :
اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے ملاء اعلیٰ کے فرشتوں کی تسبیح اور عبادت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ بلاشبہ جو تیرے رب کے مقرب بندے ہیں وہ اپنے رب کی عبادت سے استکبار نہیں کرتے یعنی اپنی ذات کو بڑا نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے اللہ کی عبادت سے رو گردانی کریں، وہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ جانتے اور مانتے ہیں اور بندگی کے آداب بجا لاتے ہیں اور اپنی مملوکیت اور عاجزی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کو سورة نساء میں یوں بیان فرمایا (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الْمَلآءِکَۃُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
آداب زکر خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ واذ کر ربک فی نفسک تضرعا۔۔۔ الی۔۔۔ ولہ یسجدون
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کریم کے ادب اور احترام کا ذکر تھا جو سب سے بڑا ذکر ہے اور اللہ کا کلام ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ کانوں سے بغور توجہ اس کو سناجائے اور زبان سے سکوت اور خاموشی رکھی جائے اب ان آیات میں عام ذکر کر کے آداب کی تلقین فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور سماعت کے بعد ذکر الٰہی کا درجہ ہے اس کا ادب یہ ہے :
1 ۔ آہستہ ہو بلند آواز سے نہ ہو (2) اور تضرع اور زاری کے ساتھ ہو (3) اور خوف و خشیت کے ساتھ ہو (4) اور صبح وشام کے وقت میں خاص طور پر اس کا اہتمام ہو یہ دو وقت عالم آخرت میں…
Read the full tafseer →196: اسم موصول سے باجماع مفسرین فرشتے مراد ہیں اور اللہ کے قریب ہونے سے منزلت اور مرتبہ میں قرب مراد ہے۔ “ ھذا علی جهة التشریف لھم وانھم بالمکان المرکم فھو عبارة عن قربھم فی الکرامةلا فی المسافة ” (قرطبی ج 7 ص 356) ۔ “ فالمراد من العندیة القرب من اللہ تعالیٰ بالزلفی والرضاء الخ ” (روح ج 9 ص 155) ۔ یعنی ملا اعلیٰ جو ہر وقت اللہ کے قرب و رضاء میں رہتے ہیں۔ وہ بھی اللہ کی عبادت اور اس کی پکار سے استکبار نہیں کرتے اور ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں اور اللہ ہی کے سامنے سجدہ کر کے غایت خضوع و تذلل کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ “ اخبر اللہ عن حال الملائکة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
سجدہ تلاوت
سورۃ اعراف کی یہ آخری آیتیں ہیں اور بالکل آخری آیت سجدے والی آیت ہے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں کل چودہ مقامات پر سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے جن میں سے پہلا مقام یہ ہے یہ سجدہ ہر پڑھنے والے اور سننے والے پر لازم آتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے جب کہ باقی ائمہ کے نزدیک سنت موکدہ ہے بہتر تو یہی ہے کہ جس وقت کوئی شخص تلاوت کرے یا سنے تو اس وقت سجدہ کرلے مگر فی الفور کرنا ضروری بھی نہیں بلکہ بعد میں بھی کیا جاسکتا ہے سجدہ تلاوت کے بھی وہی شرائط ہیں جو سجدہ نماز کے ہیں اس کے لیے بھی جگہ ، جسم اور کپڑے کی پاکیزگی ضروری ہے قبلہ رو ہونا بھی لازم ہے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَيُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ يَسْجُدُوْنَ 206 ۧ۞
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
واذکر ربک الخ جبکہ قرآن مجید کے سننے کا حکم دیا جو ایک جماعت تھی تو اس کے بعد بندہ کو ازخود بھی ذکر الٰہی کرنے کا حکم دینا کلام سابق کا تتمہ بیان کردینا ہے اور نیز قصص و احکام وعظ و پند بیان کرکے سورة کو ذکر الٰہی کے حکم پر تمام کرنا گویا تمام شریعت کا عطر کھینچ دینا ہے اور دنیا کے سب کاروبار کا آخرکار بتلا دینا ہے ذکر خواہ بالقلب ہو خواہ باللسان خواہ قرآن مجید کے پڑھنے سے ہو خواہ اس کا کوئی نام پاک ورد کرنے سے۔ علیٰ حسب مراتب سب ذکر الٰہی ہے۔ آیت میں اس ذکر کے لئے چند قیدیں لگائی ہیں (1) فی نفسک اس سے مراد یہ کہ جن الفاظ کو زبان سے ادا کرتا ہو ان کے معانی سے واقف ہو دل بھی اس کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو ایک اور پہلو سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ایک وارننگ بھی دی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے۔
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ ع (الاعراف : 205، 206)
یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو صبح اور شام اور غافلوں میں سے نہ بنو بیشک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے تکبر نہیں کرتے وہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
فہم القرآن
ربط کلام : تبلیغ کے میدان میں ایک مبلغ کو کفار سے جھگڑنے اور الجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔
سورۃ الاعراف کا آغاز اس فرمان سے ہوا تھا کہ اے نبی ﷺ ! یہ قرآن آپ کی طرف اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجے سے ڈرائیں بیشک یہ کام مشکل ہے لیکن اس پر آپ کے دل میں کوئی گھٹن محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تو مومنوں کے لیے ایک ذکر اور نصیحت ہے اب اس سورة کا اختتام بھی قرآن اور ذکر سے کیا جا رہا ہے کیونکہ قرآن مجید ملائکہ کے سردار جبرائیل امین (علیہ السلام) کے واسطے سے نازل ہوا ہے۔ اس لیے یہاں ملائکہ کی عجز و عاجزی…
Read the full tafseer →مقربین بارگاہ نہ تو متکبر ہیں اور نہ عبادت میں کسی کو شریک بناتے ہیں :
آیت 206: اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ (بےشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں) معز ّزو مکرم ہیں۔ مکان و جگہ کا قرب مراد نہیں مراد اس سے فرشتے ہیں۔ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ (وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے) اس سے تکبر نہیں کرتے۔ بڑے نہیں بنتے وَیُسَبِحُّوْنَہٗ (اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں) اس کو پاک سمجھتے ہیں۔ ان باتوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کے لائق نہیں۔ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ (اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور اسی کو عبادت کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔ اور دوسروں کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے۔
Read the full tafseer →تفسیر 206 (ان الذین عند ربک) یعنی مقرب فرشتے (لایستکبرون عن عبادتہ و یسبحونہ) اس کو یاد کرتے ہیں اور پاکی بیان کرتے ہیں اور سبحان اللہ کہتے ہیں (ولہ یسجدون) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ابن آدم آیت سجدہ کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کو جنت ملے گی اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی تو میرے لئے جہنم ہے۔ معدان سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ؓ سے سوال کیا کہ مجھے ایک ایسی حدیث بیان کریں جس کے ذریعے مجھے اللہ تعالیٰ نفع دیں تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ اللہ کے لئے سجدہ…
Read the full tafseer →206۔ اللہ پاک نے اپنے بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دے کر اس آیت میں اپنے فرشتوں کا حال بیان فرمایا اور انسان کو اس بات کی ترغیب دلائی ہے کہ دیکھو خدا کے پاس جتنے فرشتے ہیں وہ تکبر نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت چاہئے اس لئے وہ ہر وقت خدا کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور ہر گھڑی اس کی پاکی بیان کرتے ہیں سُبَحان اللہ ربنا سبحانَ اللّٰہ ربنا کہتے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ بھی کیا کرتے ہیں اب تمہیں بھی مناسب ہے کہ ان باتوں کو اختیار کرو اور ہر وقت خدا کا ذکر کر کے فرشتہ خصلت اور ان کے ہم رتبہ ہوجاؤ، اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمل دو طرح کے ہیں ایک تو وہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
آیت 205
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ (تضرعا) ” عاجزی اور تذلل سے “ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ پانی زبان سے ذکر کریں (وخیفۃ) ” اور ڈرتے ہوئے “ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علاتم یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے قرات کرنا
قول باری ہے واذاقری القران فاستمعوالہ وانصتوالعلکم ترحمون۔ اور جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے نماز میں قرات کی اور آپ کی اقتداء میں پڑھنے والے حضرات نے بھی قرات کی جس کی وجہ سے حضور ﷺ کی قرات گڈ مڈ ہوگئی۔ اس پر درج بالا آیت کا نزول ہوا ثابت بن عجلان نے سعید بن جیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے درج بالا آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ مومن کے لئے قرآن توجہ سے سننے کے حکم میں گنجائش موجود ہے البتہ اگر فرض نماز یا جمعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
283 ذکر و دعا کے بعض اہم آداب کا بیان : یہ دعا کے بعض اہم آداب ہیں جو یہاں ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ ایک تضرع اور عاجزی جو کہ اللہ پاک کی رحمت کو کھینچنے کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور دوسرے اخفاء و پوشیدگی اور آواز کو زیادہ بلند کرنے سے احتراز جو کہ رحمت خداوندی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے اور خوف و خشیت عبدیت کا مظہر ہے۔ اور آہستگی کو اپنانے اور آواز بلند نہ کرنے سے ریاکاری سے بچاؤ ملتا ہے۔ اسی لئے حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ آہستہ دعا کرنا بلند آواز سے دعا کرنے کے مقابلے میں ستر گنا زیادہ بہتر ہے۔ اسی لیے علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ بلند آواز سے کم میں دعا کرنا حسن تفکر کے زیادہ قریب ہے۔ اور صحیحین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
تلاوت قرآن مجید کے آداب
تشریح : یہ آیات پورے قرآن کا خلاصہ بیان کر رہی ہیں۔ کیونکہ مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن پر ایمان لائے۔ اور پھر پکا سچا اور بہترین مومن وہ ہے جو پورے کا پورا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غلامی میں زندگی بسر کرے۔ تو وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اپنے خالق اپنے مالک رب العالمین کو ہر وقت دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے رہو اس سے مغفرت اور مدد کی دعائیں کرتے رہو۔ قرآن پاک کو صبح شام یعنی دنیا کے دھندے شروع ہونے سے پہلے اور ختم ہونے کے بعد آرام سے پہلے ضروری ہی سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر یعنی سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ آخر میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–206
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 189 ۔ تا۔ 206
جہاں تک علوم غیبیہ اور نفع و نقصان کا تعلق ہے تو یہ اوصاف تو اس ذات حمید کے ہیں جس نے تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ایسا کریم ہے کہ انسان کی نسل بقا کے لیے اسی وجود میں سے اس کا جوڑا یعنی حوا کو پیدا فرما
کر ان میں باہمی محبت و الفت اور ایک لذت وصال رکھ دی کہ انسان نہ صرف بقائے نسل کا کام کرے بلکہ ایک دوسرے سے انس اور روحت بھی حاصل کریں۔ یہ اس کے احسانات ہیں۔
مگر انسانوں کا یہ حال ہے کہ مرد و عورت جمع ہوئے اور حمل قرار پا گیا اب خالق کو اس کا علم ہے جس کی پشت میں تھا وہ بیخبر رہا جس کے پیٹ میں پہنچا اسے پتہ نہیں بغیر کسی پرواہ کے…
Read the full tafseer →ف 9 قرآن کے سجدوں میں یہ پہلا سجدہ ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں جب مقرب فرشتے بھی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں تو انسان کو چاہیے کہ اس کے سوا اور کسی سجدہ نہ کرے۔ ( موضح )
Read the full tafseer →(7:206) ان الذین عند ربک۔ بیشک وہ جو تیرے رب کے قرب میں ہیں۔ یہاں مراد فرشتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
لغات القرآن۔
قری۔ پڑھا گیا۔ پڑھا جاتا ہے۔ استمعوا۔ غور سے سنو۔ انصتوا۔ خاموشی اختیار کرو۔ فی نفسک۔ اپنے دل میں۔ بالغدو۔ صبح کے وقت۔ اصال۔ (اصل) ۔ دن کا آخری وقت۔ رات۔ لا یستکبرون۔ وہ تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یسبحون۔ وہ تسبیح کرتے ہیں۔ یسجدون۔ وہ (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔
تشریح :
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے یہاں آیت نمبر 204 میں اس کے سننے کے آداب ہیں نمبر 205 میں اس کے پڑھنے کے آداب ہیں اور آخری آیت میں ان لوگوں کی شناخت ہے جو قرآن کریم پڑھتے سمجھتے اور عمل کرتے ہیں۔
قرآن کریم کی تمام کیفیات اسی وقت دل پر اپنا پورا اثر ڈالتی ہیں…
Read the full tafseer →مقررہ وقت سجدہ کا حکم
شان نزول : مطلب یہ ہے کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے سرکشی کرتے اور کہتے تھے :'' جس کو محمد ﷺ سجدہ کرتے ہیں کیا ہم بھی اسی کو سجدہ کرنے لگیں ''۔ اس آیت کے پڑھنے اور سننے والوں دونوں پر سجدہ لازم آتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے انسان کو اس بات کی ترغیب دلائی کہ دیکھو خدا کے فرشتے ہیں وہ تکبر نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی ہر وقت عبادت کرتے رہتے ہیں۔ سبحان اللہ ربنا، سبحان اللہ ربنا کہتے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ بھی کیا کرتے ہیں۔ اب تمہیں بھی مناسب ہے کہ سجدہ کرو اور ہر وقت خدا کا ذکر کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
[82] یہ آیت آیت سجدہ کہلاتی ہے۔ جو شخص اس آیت کو پڑھے یا سنے وہ سجدہ کرے۔ اس طرح کی آیتیں قرآن مجید میں چودہ ہیں۔ امام ابوحنیفہ نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے اور دوسرے ائمہ کے نزدیک سنت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ آداب ذکر میں ہے کہ انسان دل میں اللہ کو یاد کرے تاکہ شوروشغب سے ان کے قلب میں فرق نہ آئے
بات یہ تھی کہ مسلمان جب ذکر وشغل میں مصروف ہوتے مشرکین شور مچاتے ، اور دخل انداز ہوتے اس پر یہ ہدایت ہوئی کہ صبح وشام جب چاہو خدا کو یاد کرو اور عاجزی اور اخفاء کا اظہار ہو ، یہ ضرور سنیں کہ دوسرے بھی سنیں البتہ غفلت نہیں کرنی چاہئے ۔
Read the full tafseer →206 بلاشبہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے استکبار اور سرتابی اور گردن کشی نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کے لئے سجدہ ریز رہتے ہی۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مخلوق ہے وہ سب خدا کی یاد میں مشغول ہیں حضرت حق کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ خدا کی عبادت کو موجب عزت سمجھتے ہیں اور صرف اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مقرب فرشتے بھی اس کی یاد سے غافل نہیں تو انسان کو اور بھی ضرور ہے اور اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرے اس جا پر سجدہ آتا ہے۔ 12 مختصراً
تم تفسیر سورة اعراف
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
ف 2۔ حاصل ادب کا یہ ہے کہ دل اور ہییت میں تذلل اور خوف ہو اور آواز کے اعتبار سے جہر مفرط نہ ہو یا تو بالکل آہستہ ہو یعنی مع حرکت لسانی کے اور یا جہر معتدل ہو۔
Read the full tafseer →مقربین اللہ کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے بلکہ وہ سر بسجود رہتے ہیں :
236: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں یعنی مقرب اور پرہیز گار بندے ہیں ( اللہ کے پاس ہونے) کا مطلب معزز و مکرم ہونا ہے وہ اللہ کی عبادت سے کبھی تکبر نہیں کرتے بلکہ وہ تو عبادت کی وجہ سے بڑے بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہنا ان کا شیوہ ہے اور ان کی زبانیں اپنے رب قدیر کی حمد وثناء اور تسبیح وتحمید میں زمزمہ سنج ہیں اور ان کے دل اللہ کی یاد میں محو ہیں اور ان کی پیشانیاں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں ۔ وہ اپنے خالق ومالک کی عبادت وطاعت میں صبح و شام کوشاں ہیں اور ہر دم اس کے ذکر اور اس کی…
Read the full tafseer →Sajdah: Some merits and rules
Sajdah (prostration) as a unit of the Islamic ` Ibadah of Salahhas been mentioned here exclusively since it occupies a distinct place among the rest of the units of Salah.
It appears in Sahih Muslim that a person asked Sayyidaa Thawban ؓ 'tell me about something I should do that will take me to Paradise.' Sayyidna Thawban remained silent. He repeated the question. He still remained silent. When he came up with the question the third time, he said, 'I had asked the same question from the Holy Prophet ؓ and he had ordered me to make sajdah repeatedly because for…
Read the full tafseer →155. It is Satan who behaves arrogantly and disdains to worship God, and such an attitude naturally brings about degradation and abasement. But an attitude marked by consistent surrender to God characterizes angels and leads people to spiritual elevation and proximity to God. Those interested in attaining this state should emulate the angels and refrain from following the ways of Satan.
156. To celebrate God's praise signifies that the angels acknowledge and constantly affirm that God is beyond any flaw, free from every defect, error and weakness; that He has no partner or peer; that none is…
Read the full tafseer →