Ayahs 7:1–2یہ کتاب مومنین کے لیے نصیحت ہے
ان آیات میں اولاً تو یہ فرمایا کہ آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں، ایمان کی دعوت دیں۔ اور جو لوگ نہ مانیں ان کو بتائیں کہ اس کتاب پر ایمان نہ لانے سے عذاب میں مبتلا ہوں گے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ) کہ آپ کے سینہ میں ذرا بھی تنگی نہ ہو۔ مخاطبین آپ کی دعوت کا جو تکذیب سے مقابلہ کریں اس کی آپ ذرا پرواہ نہ کریں آپ اپنا کام کرتے رہیں اس کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اتباع کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو ولی نہ بناؤ۔ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں آتی ہیں مگر تمہارا حال یہ ہے کہ نصیحت حاصل نہیں کرتے ہو۔
پھر فرمایا کہ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا جن پر ہمارا عذاب رات کے وقت میں آیا۔ اور بعض کے پاس ایسے وقت عذاب پہنچا جب کہ وہ قیلولہ کر رہے تھے یعنی دوپہر کے وقت سو رہے تھے، جو لوگ ہدایت سے رو گردانی کرتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور آخرت میں بھی ماخوذ ہوں گے اور عذاب دائمی میں مبتلا ہوں گے، ان لوگوں پر جب عذاب آیا تو بس یہی کہنے لگے کہ ہم ظالم تھے، عذاب آجانے کے بعد اپنے ظلم کا اعتراف اور اقرار کرنے سے عذاب واپس نہیں ہوتالہٰذا باو جود اقرار ظلم کے وہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 7:3–6قیامت کے دن رسولوں سے اور ان کی امتوں سے سوال اور اعمال کا وزن
ان آیات میں آخرت کے سوال و جواب اور عقائد و اعمال کے تولے جانے کا پھر اوزان کے ہلکا بھاری ہونے کا اور اس کے مطابق کامیاب اور نا کام ہونے کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن امتوں سے سوال ہوگا کہ تمہارے پاس رسول آئے تھے تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا کمافی سورة القصص (وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ )
اور حضرات رُسُلِ عظام و انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا آپ حضرات نے ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ بھی سوال ہوگا کہ امتوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا (اور متعدد نصیحتیں فرمائیں) اور آخر میں فرمایا کہ میرے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے ؟ حاضرین نے عرض کیا کہ ہم یہ گواہی دیں گے کہ آپ نے (اللہ کا پیغام) پہنچایا اور اپنی ذمہ داری پوری کی اور (امت کی) خیر خواہی کی، آپ نے اپنے انگوٹھے کے پاس والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر لوگوں کی طرف جھکایا اور تین بار اللہ تعالیٰ کے دربار میں عرض کیا اللّٰھُمَّ اشْھَدْ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ اے اللہ ! تو گواہ ہوجا۔ اے اللہ تو گواہ ہوجا۔ اے اللہ تو گواہ ہوجا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے روز حضرت نوح (علیہ السلام) کو لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم نے تبلیغ کی ؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! میں نے واقعتہً تبلیغ کی تھی، ان کی امت سے سوال ہوگا کہ انہوں نے تمہیں احکام پہنچائے تھے ؟ وہ کہیں گے نہیں ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا تمہارے دعویٰ کی تصدیق کے گواہ کون ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے امتی ہیں۔ یہاں تک واقعہ نقل کرنے کے بعد آنحضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو خطاب کر کے فرمایا کہ اس کے بعد تم کو لایا جائے گا اور تم گواہی دو گے کہ بیشک حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو تبلیغ کی تھی اس کے بعد حضور اقدس ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) (یہ صحیح بخاری ج 2 ص 645 کی روایت ہے) ، اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے علاوہ دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتیں بھی انکاری ہوں گی کہیں گی کہ ہم کو تبلیغ نہیں کی گئی، ان کے نبیوں سے سوال ہوگا کہ تم نے تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہیں گے کہ ہم نے تبلیغ کی تھی، ان سے گواہ طلب کیے جائیں گے تو وہ حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو گواہی میں پیش کردیں گے۔ چناچہ یہ حضرات عرض کریں گے کہ ہم پیغمبروں کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں اس معاملے کی کیا خبر ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ہمارے پاس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور انہوں نے خبر دی کہ تمام پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو تبلیغ کی۔ لہٰذا ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ (درمنثور ص 144 ج 1)
Ayah 7:7پھر فرمایا (فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآءِبِیْنَ ) (سو ہم ان کے روبرو ضرور بیان کردیں گے علم کے مطابق، اور ہم غائب نہ تھے) ۔ مفسر ابن کثیر ج 2 ص 201 اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ یوضع الکتٰب یوم القیامۃ فیتکلم بما کانوا یعملون کہ اعمال نامے رکھ دیئے جائیں گے وہ تمام اعمال کو ظاہر کردیں گے۔ پھر وَمَا کُنَّا غآءِبِیْنَ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں یعنی انہ تعالیٰ یخبر عبادہ یوم القیامۃ بما قالوا اوبما عملوا من قلیل و کثیر و جلیل و حقیر، لانہ تعالیٰ شھید علیٰ کل شیء الخ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے اقوال اور اعمال سب بتادے گا۔ چھوٹے اعمال ہوں یا بڑے اعمال ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔
Ayah 7:8اعمال کا وزن، بھاری اوزان والوں کی کامیابی :
اللہ رب العزت ہمیشہ سے ساری مخلوق کے اعمال سے واقف ہے اگر قیامت کے میدان میں صرف اپنی معلومات کی بناء پر اعمال کی جزا و سزا دے تو اس کو اس کا بھی حق ہے، لیکن میدان حشر میں ایسا نہ کیا جائے گا بلکہ بندوں کے سامنے ان کے اعمال نامے پیش کیے جائیں گے وزن ہوگا گواہیاں ہوں گی، اور مجرمین انکاری بھی ہوں گے اور دلیل سے جرم کا اثبات بھی کیا جائے گا تاکہ سزا بھگتنے والے یوں نہ کہہ سکیں کہ ہم کو ظلماً بلا وجہ عذاب میں ڈالا گیا۔ اسی کو فرمایا (وَ الْوَزْنُ یَوْمَءِذِ نِ الْحَقُّ ) اور اس دن وزن کرنا حق ہے سو جن کی تولیں بھاری پڑیں وہی لوگ با مراد ہوں گے، اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں سو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ وزن اعمال کا ذکر یہاں اعراف میں بھی ہے اور سورة مومنون رکوع (2) میں بھی ہے اور سورة القارعہ میں بھی ہے وہاں فرمایا ہے۔ (فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ) سو جس کے وزن بھاری ہوئے وہ خوشی کی زندگی میں ہوگا اور جس کے وزن ہلکے ہوئے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ یعنی دوزخ ہے۔ حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز (اعمال تولنے کی) ترازو رکھ دی جائے گی (اور وہ اس قدر لمبی چوڑی ہوگی کہ) اگر اس میں سارے آسمان و زمین رکھ کر وزن کیے جائیں تو سب اس میں آجائیں۔ اس کو دیکھ کر فرشتے بار گاہ خداوندی میں عرض کریں گے کہ یہ کس کے لیے تولے گی ؟ اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے کہ میں اپنی مخلوق میں سے جس کے لیے (حساب کرنے کے واسطے) تول قائم کروں (اس کے لیے تولے گی) یہ سن کر فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ ! آپ پاک ہیں جیسا عبادت کا حق ہے ہم نے ایسی عبادت آپ کی نہیں کی۔ (الترغیب و الترہیب ص 425 ج 4 رواہ الحاکم و قال صحیح علیٰ شرط مسلم)
حضرت انس ؓ آنحضرت سید عالم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا (قیامت کے روز) ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہوگا (اعمال کو وزن کرنے کے لیے) انسان اس ترازو کے پاس لائے جاتے رہیں گے، جو آئے گا ترازو کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا۔ پس اگر اس کے تول بھاری ہوئے تو وہ فرشتہ ایسی بلند آواز سے پکار کر اعلان کرے گا جسے ساری مخلوق سنے گی کہ فلاں ہمیشہ کے لیے سعادت مند ہوگیا، اب اس کے بعد بد نصیب نہ ہوگا اور اگر اس کے تول ہلکے رہے تو وہ فرشتہ ایسی بلند آواز سے پکار کر اعلان کرے گا جسے ساری مخلوق سنے گی کہ فلاں ہمیشہ کے لیے نامراد ہوگیا۔ اب کبھی اس کے بعد خوش نصیب نہ ہوگا (الترغیب و الترہیب ص 425 از بزار و بیہقی) حضرت شاہ عبدالقادر صاحب ؓ موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے عمل وزن کے موافق لکھے جاتے ہیں ایک ہی کام ہے اگر اخلاق و محبت سے حکم شرعی کے موافق کیا اور برمحل کیا تو اس کا وزن بڑھ گیا اور دکھاوے یا ریس کو کیا یا موافق حکم نہ کیا یا ٹھکانے پر نہ کیا تو وزن گھٹ گیا آخرت میں وہ کاغذ تلیں گے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برائیوں سے در گزر ہوا اور (جس کے نیک کام) ہلکے ہوئے تو پکڑا گیا۔
بعض علماء نے فرمایا کہ قیامت کے روز اعمال کو جسم دے کر حاضر کیا جائے گا اور یہ جسم تلیں گے اور ان جسموں کے وزنوں کے ہلکا یا بھاری ہونے پر فیصلے ہوں گے۔ کاغذوں کا تلنا یا اعمال کو جسم دے کر تولا جانا بعید نہیں ہے۔ اور اعمال کو بغیر وزن دیئے یونہی تول دینا بھی قادر مطلق کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔
آج جبکہ سائنس کا دور ہے اور ایجادات روز افزوں ترقی پر ہیں اعمال کا تول میں آجانا بالکل سمجھ میں آجاتا ہے۔ یہ عاجز بندے جن کو اللہ جل جلالہٗ و علم نوالہٗ نے تھوڑی سی سمجھ دی ہے تھرما میٹر کے ذریعے جسم کی حرارت کی مقدار بتا دیتے ہیں۔ اور اسی طرح کے بہت سے آلات ہیں جو اجسام کے علاوہ دوسری چیزوں کی مقدار معلوم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں تو اس وحدہ لا شریک کی قدرت سے یہ کیسے باہر مانا جائے کہ عمل تول میں نہ آسکیں۔ شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ اعمال تو حسی وجود نہیں رکھتے اور وجود میں آنے کے ساتھ ہی فنا ہوتے رہتے ہیں۔ پھر آخرت میں کیونکر جمع شدہ ملیں گے ؟ اس شبہ کی موجودہ دور میں کوئی حیثیت نہیں رہی کیونکہ اب تو ٹیلی ویژن اور وی سی آر نے بتادیا کہ حرکات سکنات اور آواز کو ریکارڈ کیا جاسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو الفاظ و کلمات اور حرکات و سکنات کو گرفت میں لا کر اکٹھا کرنے اور ریکارڈ میں لانے کی طاقت دی ہے تو وہ خود اس پر ضرور قادر ہے کہ اپنی مخلوق کے اعمال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار رکھے۔ جس میں سے ایک ذرہ اور شوشہ بھی غائب نہ ہو۔ اور حسی طور پر قیامت کے روز ان کا وزن سب کے سامنے عیاں اور ظاہر ہوجائے۔ (لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ )
صاحب تفسیر مظہری علامہ سیوطی (رح) سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ مومنین کے اعمال کا صرف وزن ہوگا، یا کافروں کے اعمال بھی تولے جائیں گے ؟ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ صرف مومنین کے اعمال تولے جائیں گے (کیونکہ) کافروں کی نیکیاں تو اکارت جائیں گی۔ پھر جب نیکی کے پلڑہ میں رکھنے کے لیے کچھ نہ رہا تو ایک پلڑا سے کیا تو لا جائے گا اس جماعت نے (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) سے استدلال کیا ہے۔
دوسری جماعت کہتی ہے کہ کفار کے اعمال بھی تولے جائیں گے، لیکن وہ بےوزن نکلیں گے ان کا استدلال آیت (وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ) سے ہے اور جن کی تول ہلکی نکلی سو یہ وہ لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان، یہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ استدلال (ھُمْ فیھَا خٰلِدُوْنَ ) سے ہے۔ (یہ سورة مومن کی آیت ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ہلکی تول نکلنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کے اعمال بھی تولے جائیں گے کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مومن کوئی بھی دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا۔
اس کے بعد صاحب تفسیر مظہری علامہ قرطبی (رح) کا قول نقل فرماتے ہیں کہ ہر ایک کے اعمال نہیں تولے جائیں گے (بلکہ اس میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ) جو لوگ بغیر حساب جنت میں جائیں گے یا جن کو دوزخ میں بغیر حساب میدان حشر قائم ہوتے ہی جانا ہوگا۔ ان دونوں جماعتوں کے اعمال نہ تولے جائیں گے اور ان کے علاوہ باقی مومنین و کفار کے اعمال کا وزن ہوگا۔
صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں کہ علامہ قرطبی کا یہ اشارہ دونوں جماعتوں کے مسلکوں اور دونوں آیتوں (آیت سورة کہف اور آیت سورة مومنون) کے مطالب کو جمع کردیتا ہے۔ حضرت حکیم الامت قدس سرہ (بیان القرآن میں) سورة اعراف کے شروع میں ایک تمہید مفید کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ ” پس اس میزان میں ایمان و کفر بھی وزن کیا جائے گا اور اس وزن میں ایک پلہ خالی رہے گا اور ایک پلہ میں اگر وہ مومن ہے تو ایمان اور اگر کافر ہے تو کفر رکھا جائے گا۔ جب اس تول سے مومن و کافر متمیز ہوجائیں گے (تو) پھر خاص مومنین کے لیے ایک پلہ میں ان کے حسنات اور دوسرے پلہ میں ان کے سیئات غالب رکھ کر ان کے اعمال کا وزن ہوگا اور جیسا کہ درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر (مومن کے) حسنات غالب ہوئے تو جنت اور اگر سیئات غالب ہوئے تو دوزخ اور اگر دونوں برابر ہوئے تو اعرف تجویز ہوگی پھر خواہ شفاعت سے قبل سزا خواہ سزا کے بعد مغفرت ہوجائے گی (اور سیئات غالب ہونے والے مومن بندے اور اعراف والے جنت میں داخل ہوجائیں گے) ۔
Ayah 7:9کفار کی نیکیاں بےوزن ہونگی :
سورۂ کہف کے آخری رکوع میں ارشاد ہے کہ (قُلْ ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا) آپ فرمادیجیے کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بڑے گھاٹے میں ہیں (یہ) وہ لوگ ہیں جن کی کوشش اکارت گئی دنیاوی زندگی میں وہ سمجھتے رہے کہ اچھے کام کر رہے ہیں (یہ) وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی آیتوں کے اور اس کی ملاقات کے سو اکارت گئے ان کے عمل پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے تول قائم نہ کریں گے۔
یعنی سب سے زیادہ ٹوٹے اور خسارہ والے حقیقت میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے برسہا برس دنیا میں گزارے اور محنت و کوشش کر کے نفع کماتے رہے اور دنیا جوڑ کر خوش ہوئے اور یہ یقین کرتے رہے کہ ہم بڑے کامیاب اور با مراد ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ضرور ایسا ہوگا کہ بعض بھاری بھر کم موٹے بدن والے آدمی اس حال میں آئیں گے کہ اللہ کے نزدیک ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا پھر فرمایا کہ تم لوگ (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) کو پڑھ لو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 484 از بخاری و مسلم)
صاحب تفسیر مظہری (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کافروں کے اعمال کا کوئی اعتبار یا قدر و منزلت نہ ہوگی۔ پھر حضور اقدس ﷺ کا ارشاد گرامی بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ نقل فرمایا ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار جو دنیا کی زندگی میں اپنے خیال میں نیک کام کرتے ہیں مثلاً پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں اور مجبور کی مدد کر گزرتے ہیں، یا اللہ کے ناموں کا ورد رکھتے ہیں الیٰ غیر ذالک۔ اس قسم کے کام بھی آخرت میں ان کو نجات نہ دلائیں گے۔
سادھو اور سنیاسی جو بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں اور مجاہدہ کر کے نفس کو مارتے ہیں۔ اور یہود و نصاریٰ کے راہب اور پادری جو نیکی کے خیال سے شادی نہیں کرتے ان کے اس قسم کے تمام افعال بےسود ہیں، آخرت میں کفر کی وجہ سے کچھ نہ پائیں گے۔ کافر کی نیکیاں مردہ ہیں۔ وہ قیامت کے روز نیکیوں سے خالی ہاتھ ہوں گے۔
پھر صاحب تفسیر مظہری آیت کے ان الفاظ کی دوسری تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ معنی ہیں کہ ان (کافروں) کے لیے ترازو نصیب ہی نہ کی جائے گی اور تولنے کا معاملہ ان کے ساتھ ہونا ہی نہیں کیونکہ ان کے عمال وہاں اکارت ہوجائیں گے لہٰذا سیدھے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔
آیت کے الفاظ مذکورہ کے تیسرے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ کفار اپنے جن اعمال کو نیک سمجھتے ہیں قیامت کے ترازو میں ان کا کچھ وزن نہ نکلے گا (کیونکہ وہاں اسی نیک کام کا وزن ہوگا جو ایمان کی دولت سے مشرف ہوتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے) دنیا میں کیا گیا تھا۔
Ayah 7:10بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور شیطان کی ملعونیت کا تذکرہ
یہ متعدد آیات ہیں پہلی آیت میں (جو بعد میں آنے والی آیات کی تمہید ہے) فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور نہ صرف جگہ دی بلکہ تمہارے لیے معیشت کا سامان بھی پیدا کیا کھانے پینے کی چیزیں پیدا فرمائیں۔ پہننے اور اوڑھنے بچھانے کے لیے کپڑے پیدا کیے۔ زمین کو نرم پیدا کیا اس کو کھودو بنیادیں ڈالو، عمارتیں بناؤ درخت لگاؤ، کھیتیاں بوؤ جانوروں کو چارہ کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ۔ طرح طرح کا سامان تمہارے لیے پیدا کردیا۔ ان سب نعمتوں کو استعمال کرو اور خالق کائنات جل شانہٗ کا شکر ادا کرو، لیکن تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
اس تمہید کے بعد جس میں یہ بتادیا کہ پیدا کرنے والے کا شکر کرنا لازم ہے مزید دو نعمتوں کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں (تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو) پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی (اولاً ) مٹی کا وہ مادہ جمع کیا جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمانا تھا۔ پھر اس مادہ سے ان کی صورت بنائی جو آدم کی صورت بنی وہی صورت ان کی ذریت کی بھی ہوگئی۔
یہی وہ صورت ہے جس کے بارے میں سورة التین میں فرمایا۔ (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ) اور حدیث میں فرمایا اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلیٰ صُوْرَتِہٖ پھر اس صورت میں روح پھونک دی۔ کیا تو وہ ایک مجسمہ کی شکل تھی پھر جیسے ہی اس میں روح پھونک دی وہ جیتی جاگتی دیکھتی بھالتی عقل اور سمجھ رکھنے والی ایک جاندار چیز بن گئی اس جاندار کو چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر فرشتوں پر پیش کیا کہ تم ان چیزوں کے نام بتاؤ وہ نہ بتاسکے۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی علمی فضیلت ظاہر ہوگئی۔
Ayah 7:11ابلیس کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا اور اللہ رب العزت پر اعتراض :
پھر فرشتوں سے فرمایا ان کو سجدہ کرو (جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا) سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا (یہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت نہیں تھا) وہیں ابلیس بھی تھا۔ یہ تھا تو جنات میں سے لیکن زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے وہیں فرشتوں کے ساتھ آسمان میں رہتا تھا۔ اس کو بھی حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کر، اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ حکم عدولی کی بلکہ باری تعالیٰ شانہٗ نے جب سوال فرمایا کہ میں نے تجھے ان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تو نے سجدہ کیوں نہ کیا ؟ اس پر وہ کٹ حجتی کرنے لگا اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہی کو غلط بتادیا وہ کہنے لگا کہ (اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ) (کہ میں اس سے بہتر ہوں) جو بہتر ہے اسے حکم دینا کہ اپنے سے کم تر کو سجدہ کرے یہ تو حکمت کے خلاف ہے۔ پھر بہتر ہونے کی یہ دلیل بیان کی کہ مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا اور آگ مٹی سے بہتر ہے لہٰذا میں اس سے افضل ہوں اس نے غلط دلیل دی کیونکہ آگ کی طبیعت میں فساد ہے اور اس کا زیادہ تر کام یہی ہے اور مٹی کی طبیعت میں تعمیر ہے اس میں آباد کاری کی طبیعت ہے تواضع ہے اس کے اندر غذائیں ہیں معا دن ہیں، اشجار ہیں اور بہت ہی خوبی کی صفات ہیں۔
Ayahs 7:12–13ابلیس کا نکالا جانا :
ابلیس کو اس کی انا (میں) لے ڈوبی۔ اگر وہ واقعتہً آدم (علیہ السلام) سے افضل ہوتا تب بھی احکم الحاکمین کا حکم بجا لانا ضروری تھا۔ لیکن اللہ کے حکم کو غلط قرار دیا اور حجت بازی پر اترآیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا) (تو یہاں سے اتر جا تیرے لیے یہ درست نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرے) (فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ ) (تو نکل جا بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے) مِنْھَا اور فِیْھَا کی ضمیر کس طرف راجع ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (ج 8 ص 90) لکھتے ہیں کہ ضمیر جنت کی طرف راجع ہے اور ابلیس پہلے سے وہاں رہتا تھا پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا ایک باغیچہ ہے جو عدن میں تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) وہیں پیدا کیے گئے تھے۔ (ابلیس کو وہیں سجدہ کرنے کا حکم ہو) اس نے سجدہ نہ کیا اور تکبر کیا تو وہاں سے نکل جانے کا حکم فرما دیا۔
پھر لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے سماء یعنی آسمان کی طرف ضمیر راجع کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ ایک جماعت کا قول ہے لیکن اس پر یہ اشکال کیا ہے کہ ابلیس کے مردود اور ملعون ہونے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو جنت عالیہ میں ٹھہرایا گیا اور اس کے بعد ابلیس نے وسوسہ ڈالا اور ان کو بہکایا۔ اگر وہ اس سے پہلے ہی آسمان سے اتار دیا گیا تھا تو پھر اس نے کیسے وسوسہ ڈالا۔ اور یہ اشکال اس صورت میں بھی ہوتا ہے جبکہ سجدہ کا واقعہ عدن والے باغ میں مانا جائے، سجدہ کا انکار کرنے کے بعد عدن والے باغ سے نکال دینے کے بعد اس نے کیسے وسوسہ ڈالا ؟ سیدھی اور صاف بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ ابلیس عالم بالا میں یعنی اوپر ہی رہتا تھا اور سجدہ کا حکم جو ہوا وہ بھی وہیں عالم بالا ہی میں ہوا تھا۔ جب ابلیس نے سجدہ نہ کیا تو ابلیس وہاں سے نکال دیا گیا اور آدم و حوا ( علیہ السلام) کو جنت میں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا۔ ابلیس عالم بالا سے نکالا تو گیا لیکن ابھی زمین پر نہیں آیا تھا کہ اس نے دونوں میاں بیوی کے دل میں وسوسہ ڈالا اور ان کو بہکا کر شجرہ ممنوعہ کھلانے پر آمادہ کردیا۔ وسوسہ کس طرح ڈالا اس کا کوئی جواب یقینی طور پر نہیں دیا جاسکتا۔
حضرت حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہو کر دور سے آواز دیدی تھی۔ اس بارے میں اور بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے بہر حال ابلیس ذلت کے ساتھ نکالا گیا۔ ملعون ہوا۔ اللہ کی رحمت سے دور ہوا۔ اس پر پھٹکار پڑی، دھتکارا گیا۔
Ayah 7:14ابلیس کا زندہ رہنے کے لیے مہلت طلب کرنا :
چونکہ اسے یہ پہلے سے معلوم تھا کہ یہ نئی مخلوق زمین میں آباد کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انہیں خلافت ارضی سونپی جائے گی اور اسے جو ملعونیت کا داغ لگا وہ بھی نئی مخلوق کی وجہ سے لگا اس لیے اس نے اول تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ مجھے مہلت دی جائے یعنی میری عمر اتنی لمبی کردی جائے کہ جس دن لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت تک جیتا رہوں اللہ تعالیٰ نے یوں تو نہیں فرمایا کہ قبروں سے اٹھنے کے دن تک تجھے مہلت ہے البتہ یوں فرمایا (فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ الیٰ یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ) کہ تجھے وقت معلوم کے دن تک مہلت دی گئی۔ ( سورة حجر اور ص میں یہی الفاظ ہیں) ۔
Ayahs 7:15–16ابلیس کا قسم کھانا کہ بنی آدم کو گمراہ کرتا رہوں گا :
جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے لمبی عمر دینے کا وعدہ فرما لیا تو ابلیس نے اپنے کینہ اور دشمنی کا اظہار کیا۔ بنی آدم سے اپنی ملعونیت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا کہ میں آپ کی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو ضرور ضرور گمراہ کروں گا۔ (یہ الفاظ سورة ص میں ہیں) اور یہاں سورة اعراف میں اس کا قول ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے۔ (فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ) کہ اس سبب سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا میں آپ کے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا اور ان کی راہ ماروں گا، اس نے مزید کہا (ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآءِلِھِمْ وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) (ان کے پاس ضرور آؤں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی داہنی جانب سے اور ان کی بائیں جانب سے اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے) ۔ ابلیس نے بنی آدم کو بہکانے کے لیے چار جہات کا ذکر کیا کیونکہ ان چار جہات سے کوئی کسی کے پاس آسکتا ہے مطلب اس کا یہ تھا کہ بقدر امکان جہاں تک ہو سکے گا میں ان کو بہکانے کی کوشش کروں گا۔
اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جہت فوق (اوپر کی جانب) سے رحمت مانع ہوتی ہے اس لیے ادھر سے شیطان کے آنے کا راستہ نہیں اور نیچے کی جانب سے بھی نہیں آسکتا اس لیے ان دونوں جہتوں کو چھوڑ دیا۔ یہ ابلیس کی دوسری ڈھٹائی ہے کہ گمراہی کی نسبت اب بھی اس نے اپنی طرف نہیں کی بلکہ اس نے یوں کہا کہ اے اللہ ! آپ نے مجھے گمراہ کیا میں ان کی راہ ماروں گا۔
سورة نحل میں ہے کہ اس نے انسانوں کو بہکانے کے لیے قسم کھاتے ہوئے یوں کہا (لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) اور سورة بنی اسرائیل میں کہا (اَھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ) (کیا یہ ہے جسے آپ نے میرے مقابلہ میں عزت دیدی) (لَءِنْ اَخَّرْتَنِ الیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَاَ حْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا) (اگر آپ نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دیدی تو بجز قدر قلیل کے میں اس کی ساری ذریت کو اپنے قابو میں کر لونگا۔ )
ابلیس تو اپنی قسم کو نہیں بھولا اپنی ضد اور ہٹ پر قائم ہے۔ بنی آدم کو بہکانے ورغلانے اور گمراہ کرنے میں اس نے اور اس کی ذریت نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی بنی آدم کو کفر پر شرک پر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرتا ہی رہتا ہے۔ گمراہ زیادہ ہیں۔ اہل ہدایت کم ہیں۔ صالحین مخلصین بہت کم ہیں اس نے پہلے ہی (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) کہہ کر مخلصین کا استثناء کردیا تھا اور جو اس نے (وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِرِیْنَ ) کہا تھا اس کے قول کو بنی آدم نے اس کا اتباع کر کے سچ کر دکھایا۔
Ayahs 7:17–18(قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا ذلیل و خوار ہو کر (یہ حکم دوسری بار ہے اس سے پہلے بھی یہ حکم ہوچکا تھا۔ لیکن وہ سجدہ نہ کرنے اور تکبر کرنے کی بنیاد پر تھا۔ اور یہ دو بارہ اس کی اس بات پر ہے کہ اس نے بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھائی اللہ جل شانہٗ نے یہ بھی فرمایا۔
ابلیس اور اس کا اتباع کرنے والوں کے لیے دوزخ کے داخلہ کا اعلان :
(لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (بنی آدم میں جو تیرا اتباع کریں گے تو سب سے میں دوزخ کو بھر دوں گا) ابلیس نے قسم کھا کر اپنی بات بتادی کہ میں ان سب کا ناس ماروں گا۔ راہ حق سے ہٹاؤں گا۔ اور اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اعلان فرما دیا کہ تجھے اور تیرے ماننے والوں سب کو دوزخ میں ڈال دوں گا۔ ابلیس کی بات اور احکم الحاکمین جل شانہٗ کا اعلان لوگوں کے سامنے ہے لیکن پھر بھی شیطان ہی کا اتباع کرتے ہیں۔ لا جعلنا اللہ منھم۔
Ayah 7:19حضرت آدم اور ان کی بیوی کا جنت میں رہنا اور شیطان کے ورغلانے سے شجرۂ ممنوعہ کو کھانا پھر وہاں سے دنیا میں اتارا جانا
شیطان تو مردود اور ذلیل ہو کر نکالا گیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو اور خوب بلا روک ٹوک اس میں سے کھاؤ بس اتنی پابندی ہے کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا اس میں نہی کو مؤکد فرمایا کہ کھانا تو کیا اس کے پاس بھی نہ جانا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان دونوں سے پہلے فرمایا تھا کہ (یٰٓاَدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقیٰ ) شیطان اس فکر میں تھا کہ خود تو جنت سے نکلا ہی ہے ان کو بھی وہاں سے نکلوائے چناچہ وہ تاک میں لگا رہا اور ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ دیکھو تمہیں اس درخت کے کھانے سے جو منع فرمایا ہے اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ اس درخت میں سے جو شخص کھالے گا وہ فرشتہ بن جائے گا اور اسے یہاں ہمیشہ رہنے کی دولت مل جائے گی۔ اور اس نے قسم کھائی کہ میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں جھوٹی قسم کھائی اور فرشتہ بن جانے کی اور ہمیشہ رہنے کی بات ان کے سامنے رکھی وہ اس کی باتوں میں آگئے اور فریب خوردہ ہو کر اس درخت میں سے کھا بیٹھے، ابھی ٹھیک طرح سے کھانے بھی نہ پائے تھے اس درخت کو چکھا ہی تھا کہ ان کے جسم سے کپڑے گرگئے اور ایک دوسرے کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اپنی شرم کی جگہوں کو ڈھکنے کے لیے جنت کے پتے لے کر اپنے جسموں پر جوڑنے لگے (جس سے اسی وقت ظاہر ہوگیا کہ یہاں ہمیشہ رہنا تو کجا اس درخت کو کھا کر یہاں کے کپڑے تک جسم پر نہیں رہ سکتے) ۔
حضرت آدم و حواء کا گناہ پر نادم ہونا اور توبہ کرنا :
اللہ جل شانہٗ نے دونوں کو پکارا کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا بلاشبہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے، دونوں حضرات سچے مومن تھے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا قصور مان لیا اور گناہ کا اقرار کرلیا۔ اور مغفرت طلب کی اور رحمت کی درخواست پیش کردی اور کہا۔ (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری بخشش نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے) اللہ جل شانہٗ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا ہے۔
(فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ) حضرت آدم اور حضرت حواء ( علیہ السلام) کی خطا تو معاف ہوگئی لیکن چونکہ انسان کی تخلیق اسی لیے تھی کہ اسے زمین کی خلافت سونپی جائے گی اور زمین پر اسے آنا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنت سے اتار کر دنیا میں بھیج دیا۔ (قَالَِ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍٍ عَدُوٌّ) تم یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ (وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ الیٰ حِیْنٍ ) اور تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک وقت تک نفع حاصل کرنا ہے۔ چناچہ زمین میں آگئے اور بودو باش شروع ہوگئی۔
ہر شخص آتا ہے اور مدت مقررہ تک رہتا ہے اور کچھ نفع حاصل کرتا ہے پھر مرجاتا ہے اور زمین کے اندرچلا جاتا ہے۔ پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو اسی زمین سے نکل کھڑے ہوں گے اور حساب و کتاب کے لیے جمع ہوں گے اسی کو فرمایا۔ (فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَفِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ) حضرت آدم اور حضرت حوا ( علیہ السلام) کے قصہ اور ابلیس کی شرارت اور شقاوت کے واقعات کے متعلق بہت سی چیزیں سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں اور وہاں فوائد ضرور یہ متعلقہ واقعہ حضرت آدم (علیہ السلام) لکھ دیئے گئے ہیں (انوار البیان ج 1) من شاء فلیراجع۔
Ayahs 7:20–26لباس اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس سے پردہ پوشی بھی ہے اور زینت بھی
گزشتہ رکوع میں شیطان کی انسان دشمنی کا ذکر ہوا اس نے بہت جم کر یہ اعلان کیا تھا کہ میں اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور ورغلاؤں گا اور ان میں سے بہت تھوڑے ہی بندے خدائے پاک کے شکر گزار ہوں گے اور اس کا بھی ذکر ہے کہ اس نے حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) کو جنت سے نکلوا دیا۔ اب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے خطاب ہو رہا ہے۔ جس میں انعامات خدا وند یہ کا بھی ذکر ہے اور اولاد آدم کو تنبیہ بھی ہے کہ شیطان کی طرف سے چوکنے رہیں۔
اول تو اولاد آدم کو اللہ جل شانہٗ نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یاد دلائی اور وہ نعمت لباس ہے، اس کو لفظ اَنْزَلْنَا سے تعبیر فرمایا، لباس کا مادہ روئی وغیرہ محض اللہ کا عطیہ ہے جیسے بحکم خداوندی آسمان سے بارش اترتی ہے ایسے یہ لباس کا مادہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے پیدا ہوتا ہے اگر وہ پیدا نہ فرمائے تو بندے کچھ نہیں کرسکتے۔ پھر لباس کے دو فائدے بتائے اول یہ کہ وہ شرم کی جگہوں کو ڈھانکتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ بتایا کہ لباس سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے اور اس کے ذریعے انسان حسین اور جمیل بن جاتا ہے۔
سورۂ نحل میں لباس کا فائدہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ (وَ جَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّوَ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ ) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تمہاری حفاظت کرتے ہیں اور ایسے کرتے بنائے جو تمہاری لڑائی میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ (تَقِیْکُمُ الْحَرَّ ) جو فرمایا یہ برسبیل کفایت ہے یعنی گرمی کا ذکر فرما دیا چونکہ سردی اس کی مقابل ہے اس لیے ایک کے ذکر کرنے سے دوسرے کا تذکرہ بھی ہوگیا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ سردی سے بچنے کا ذکرسورۂ نحل کے شروع میں فرمایا ہے۔ وَ ھُوَ قَولُہٗ تَعَالٰی (وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ فِیْھَا دِفْ ءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْھَا تَأْکُلُوْنَ ) اسی لیے دوسری جگہ ذکر نہیں فرمایا۔ بہر حال لباس اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اس سے ستر بھی چھپتا ہے سردی گرمی سے بھی حفاظت ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ انسان حسین و جمیل بھی نظر آتا ہے۔ یہ لباس پہلے تو روئی اور اون تک ہی منحصر تھا لیکن اب تو بہت سی چیزوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سب اشیاء و اجناس اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں جن سے لباس بھی بنایا جاتا ہے اور دوسرے کاموں میں بھی آتی ہیں۔ جسم چھپانے والے لباس کی نعمت کا ذکر فرمانے کے بعد ایک عظیم لباس کی طرف توجہ دلائی اور ارشاد فرمایا۔ (وَ لِبَاس التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ) اور تقویٰ کا لباس یہ بہتر چیز ہے۔ تقویٰ گناہوں سے بچنے کا نام ہے جو شخص گناہوں سے بچے اور اعمال صالحہ فرائض و واجبات کی بجا آوری کرے منکرات سے بچے۔ وہ شخص تقویٰ والا ہے انسان میں جتنے عیوب ہیں ان سے تقویٰ بچاتا ہے۔ فواحش و منکرات سے دور رکھتا ہے۔ بےحیائی سے باز رکھتا ہے۔ جس میں تقویٰ ہوگا وہ ستر ڈھانکنے کی بھی کوشش کرے گا اور جس میں تقویٰ نہیں وہ زینت کے لیے لباس پہنے گا لیکن ستر عورت کا اس میں کوئی جذبہ نہ ہوگا اسی لیے دیکھا جاتا ہے کہ جن قوموں میں ایمان نہیں ان میں تقویٰ بھی نہیں تقویٰ نہیں تو ستر پوشی کا بھی اہتمام نہیں۔
حیاء انسان کا فطری تقاضا ہے :
چونکہ تقویٰ ہی ستر پوشی کرواتا ہے۔ اس لیے تقویٰ کے لباس کی اہمیت بیان فرما دی پہلے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ستر ڈھانکنا انسانیت کا فطری تقاضا ہے اس لیے تو حضرت آدم اور حوا ( علیہ السلام) نے جب شجرہ ممنوعہ کھالیا اور ان کے جسم سے کپڑے گرگئے تو فوراً جنت کے پتے جوڑ کر ستر ڈھانکنے لگے حالانکہ دونوں آپس میں میاں بیوی تھے۔ شیطان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ انسانوں کو فواحش و منکرات میں مبتلا کرے اور ننگا پہناوا پہننے کی ترغیب دے اس نے ننگوں کے کلب کھلوا ہی دیے اور ایسے لباس رواج پا گئے جس میں عریانی ہے اور جن اعضاء کو چھپانا چاہیے تھا ان کا ابھار ہے اگر کسی کی کسی ہوئی پتلون نہ ہو تو اس بات سے شرماتا ہے کہ اپنی سوسائٹی میں جاؤں گا تو لوگ یہ سوچیں گے کہ دیکھو یہ کیسا دقیانوسی ہے اس کا دھڑ بھی ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ عورتوں کا عریاں لباس، چست لباس اور باریک لباس اسی بےحیائی کا نتیجہ ہے جسے شیطان اور ان کے اہل کار رواج دینے پر کمر باندھے ہوئے ہیں۔
باریک لباس جس سے جسم نظر آئے اس کا پہننا نہ پہننا برابر ہے۔ جو مرد، عورت ایسا لباس پہنے وہ شرعاً ننگوں میں شمار ہے اور خاص کر عورتوں کے لیے اس بارے میں وعید شدید وارد ہوئی ہے۔
ان عورتوں کے لیے وعید جو کپڑا پہنے ہوئے بھی ننگی ہوں :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخیوں کی دو جماعتیں ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا (کیونکہ وہ میرے بعد ظاہر ہونگے) اول تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے ان سے لوگوں کو ماریں گے۔ اور دوسری جماعت ایسی عورتوں کی جو کپڑے پہنے ہوئے بھی ننگی ہونگی، مردوں کو مائل کرنے والی اور خود ان کی طرف مائل ہونے والی ہونگی۔ ان کے سر خوب بڑے بڑے اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے جو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی۔ (رواہ مسلم ص 205)
اس حدیث میں ایسی عورتوں کے بارے میں پیش گوئی فرمائی جو کپڑے پہنے ہوئے ہونگی پھر بھی ننگی ہوں گی یعنی ایسے باریک کپڑے پہنے ہوئے ہونگی جس سے کپڑے پہننے کا فائدہ نہ ہو۔ اور ایسا چست کپڑا جو بدن کی ساخت پر کس جائے یہ بھی ایک طرح سے ننگا پن ہے۔
عریاں لباس کی مذمت :
نیز بدن پر کپڑا ہوتے ہوئے ننگے ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بدن پر صرف تھوڑا سا کپڑا ہو اور بدن کا بیشتر حصہ خصوصاً وہ اعضاء کھلے رہیں جن کو باحیاء عورتیں چھپاتی ہیں۔ بہت سی عورتیں یورپ اور امریکہ کی بےدین لیڈیوں کی تقلید میں ایسے لباس میں باہر آجاتی ہیں جو عریانی والا لباس ہوتا ہے۔ گھٹنوں تک فراک جس میں آستین بھی نہیں پنڈلیاں ننگی سر پر دوپٹہ نہیں اور فراک کا ایسا کاٹ کہ نصف کمر اور نصف سینہ کھلا ہوا ہوتا ہے یہ سب عریانی ہے۔
قرآن مجید میں تو لباس کی صفت بتاتے ہوئے یوں فرمایا (لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَّرِیْشًا) یعنی ایسا لباس جو شرم کی جگہوں کو ڈھانک دے اور زینت ہو۔ اب تو ننگا ہونے کو زینت سمجھا جاتا ہے۔ اور ننگے پہناوے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قرآن پر ایمان لانے والے مرد اور عورتیں غور کریں کہ قرآن کیا بتاتا ہے اور ہم کیا کرتے ہیں۔
اسلام میں ستر کے ڈھانکنے کی اس قدر تاکید فرمائی ہے کہ تنہائی میں بھی ننگا رہنے کی اجازت نہیں سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ننگے ہونے سے بچو کیونکہ تمہارے ساتھ ایسے افراد ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے (یعنی فرشتے) لہٰذا تم ان سے شرم کرو، ان کا اکرام کرو۔ البتہ بیت الخلاء میں جانے کے وقت اور جب انسان اپنی بیوی کے پاس جائے اس وقت (بقدر ضرورت) برہنہ ہونے کی اجازت ہے) سنن ترمذی میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو اپنی شرم کی جگہ کی حفاظت کر۔ الایہ کہ اپنی بیوی یا مملوکہ (یعنی حلال باندی) سے استمتاع کے لیے استعمال کرے۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص تنہائی میں ہو تو شرم کی جگہ کھولنے میں کیا حرج ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
مرد کا مرد سے اور عورت کا عورت سے کتنا پردہ ہے اور عورت کا اپنے محرموں سے کتنا پردہ ہے۔ اور مرد کا اپنی محرم عورتوں سے کتنا پردہ ہے۔ یہ سب تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اور عورت کا نا محرموں سے جو پردہ ہے وہ تو سب کو معلوم ہی ہے۔ پھر فرمایا (ذٰلِکَ مِنْ اٰیاَتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ) کہ یہ لباس کا پیدا فرمانا اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ کے فضل عظیم اور کرم عمیم کا پتہ چلتا ہے لوگ اگر اس میں غور کریں تو اللہ کی نعمتوں کو پہچان سکتے ہیں اور نصیحت حاصل کرسکتے ہیں اس کے بعد بنی آدم کو متنبہ فرمایا کہ شیطان کے بہکانے میں نہ آجانا۔ ارشاد ہے۔
Ayah 7:27بنی آدم کو تنبیہ کہ شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے :
(یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ ) (اے بنی آدم ! ہرگز شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے) (کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ ) (جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا) یعنی ان سے ایسا کام کروا دیا جو ان کے جنت سے نکالے جانے کا سبب بن گیا۔ (یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِھِمَا) (وہ اتروا رہا تھا ان کا لباس تاکہ انہیں دکھا دے ان کی شرم کی جگہیں) اس میں بنی آدم (اولاد آدم) کو نصیحت فرمائی ہے اور وہ ہوشیار رہیں شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
شیاطین کی حرکتیں :
پھر فرمایا (یَرٰیکُمْ ھُوَ وَ قَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ ) بیشک وہ اور اس کی جماعت تمہیں ایسے طور سے دیکھتی ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ شیاطین عموماً انسانوں کو نظر نہیں آتے وسوسے ڈالتے ہیں اور طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں جو دشمن نظر نہ آئے اس سے بچاؤ مشکل ہوتا ہے اس لیے تنبیہ فرمائی کہ تم انہیں نہیں دیکھتے وہ تمہیں دیکھتے ہیں لہٰذا ان سے ہوشیار رہو۔
قال صاحب الروح ج 8 ص 105 لان العدو اذا اتی من حیث لا یُرٰی کان اشد و اخوف۔
شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور گناہ کراتا ہے اور کفر و شرک پر ڈالتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حرکتیں ہیں جن کا ذکر احادیث شریف میں آیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اولاد آدم میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تولد کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور وہ شیطان کے ہاتھ لگانے سے چیخ اٹھتا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) کہ وہ دونوں اس سے محفوظ رہے۔ (رواہ البخاری ص 88 ج 1)
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قضائے حاجت کی جگہیں (شیاطین کے) حاضر ہونے کی جگہیں ہیں۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو (اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ساتھ) یوں دعا مانگے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الْخُبُثِ وَ الْخَبَآءِثِ (میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں شیاطین سے ان کے مردوں سے اور عورتوں سے) ۔ (رواہ ابو داؤد ج 1 ص 2)
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی انسان بیت الخلاء میں داخل ہو تو اس کی شرمگاہ اور شیاطین کی آنکھوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ (داخل ہونے سے پہلے) بِسْمِ اللّٰہِ کہہ لے۔ (رواہ الترمذی و قال ہذا حدیث غریب و اسنادہ لیس بقوی)
حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وضوء کا ایک شیطان ہے جسے و لہان کہا جاتا ہے اس لیے تم پانی کے (متعلق) وسوسہ ڈالنے والے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ ص 34)
حضرت ابوہریرہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جب کوئی شخص سونے لگتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ لگاتے ہوئے لوری دیتا ہے کہ ابھی رات لمبی ہے سو جا۔ پس اگر وہ بیدار ہوا اور بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس نے وضو کیا تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اس کے بعد جب نماز پڑھ لیتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ خوش طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کی طبیعت گندی ہوتی ہے اور اس پر سستی چھائی ہوتی ہے۔ (رواہ البخاری ج 1 ص 53)
حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لیے نہ اٹھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص ایسا ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 423)
شیطان کس پر قابو پاتا ہے :
پھر فرمایا (اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (بےشک ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے) اگر ایمان بالکل نہیں تو دوستی پکی ہے اور اگر ایمان ہے لیکن ساتھ ساتھ عصیان بھی ہے تو اسی حد تک شیطان کی دوستی بھی ہے رہے کامل مومن تو ان سے شیطان کی دوستی نہیں ہے ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔
سورة نحل میں فرمایا (اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ) ( یقیناً ان لوگوں پر اس کا قابو نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس انہیں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
Ayah 7:28جاہلوں کی جہالت جو فحش کام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے
شیطان کی تعلیم وتلبیس کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ حال تھا جو اوپر بیان فرمایا اور جو لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیرو نہیں ہیں ان کا اب بھی یہی حال ہے کہ فواحش کے مرتکب ہوتے ہیں اور بےحیائی کے کام کرتے ہیں، جب انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام برا ہے تو وہ اپنی بد عملی اور بےحیائی کے جواز کے لیے یوں کہے دیتے ہیں کہ اجی ! ہمارے باپ دادے ایسا ہی کرتے آئے ہیں کیا ہمارے باپ دادوں کو اچھے برے کی تمیز نہ تھی۔ (اس کا جواب سورة مائدہ میں دیدیا گیا اور وہ یہ کہ (اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ ) (کیا اپنے باپ دادوں کی اقتداء کریں گے۔ اگرچہ وہ کچھ بھی علم نہ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں) اور ایسے منچلے بھی ہیں جو فحش کام کرتے ہیں اور یوں کہہ دیتے ہیں کہ (وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا) کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے یہ کتنی ڈھٹائی ہے کہ برے کام کریں اور اللہ کے ذمہ لگا دیں کہ اس نے ان کا حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بالْفَحْشَآءِ ) (بےشک اللہ تعالیٰ برے کام کا حکم نہیں دیتا) (اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) (کیا تم اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں) بلا سند اٹکل پچو باتیں کرتے ہو۔
Ayah 7:29پھر فرمایا (قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے اپنی جہالت سے یوں کہا کہ اللہ نے ہمیں فحش کاموں کا حکم دیا پہلے تو سلبی طور پر ان کی تردید فرمائی کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا، پھر ایجابی طور پر ان کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان کو تو نہیں کرتے اور جن کاموں سے منع فرمایا ہے ان کو کرتے ہو اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب بھی کرتے ہو یہ سراپا گمراہی ہے۔ اب تم سن لو کہ اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں کا حکم دیا ہے اول تو یوں فرمایا (اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِ ) کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے ہر معاملہ میں انصاف کو سامنے رکھو۔ اسی میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو کیونکہ یہ بہت بڑی بےانصافی ہے کہ خالق ومالک قادر و رازق کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک کردیا جائے۔
انصاف میں سب احکام شرعیہ یعنی اللہ کے حقوق کی ادائیگی اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی دونوں باتیں داخل ہوگئیں لفظ (مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ) ہر طرح کے اخلاص کو شامل ہے غیر اللہ کی عبادت اخلاص فی العبادۃ کے خلاف ہے اور عبادت میں ریا کاری کرنا اخلاص فی رضاء اللہ کے خلاف ہے غیر اللہ کی عبادت شرک جلی اور ریا کاری شرک خفی ہے۔
پھر فرمایا (وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) (کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو یعنی صرف معبود برحق ہی کی عبادت کرو۔ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ مزید فرمایا (وَ ادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ) یعنی اللہ کی اس طور پر عبادت کرو کہ عبادت کو اللہ ہی کے لیے خالص کرنے والے ہو اس میں بھی مضمون سابق مذکور ہے اور توحید فی العبادت کی تاکید ہے۔
پھر فرمایا (کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ ) (یعنی اس نے جس طرح تمہیں ابتداءً پیدا فرمایا تھا اسی طرح تم دوبارہ لوٹ جاؤ گے۔ اس سے مشرکین کا یہ وسوسہ دور فرما دیا کہ اس دنیا میں رہیں گے اور مرجائیں گے آباؤ اجداد کے طریقے پر رہے تو کیا حرج ہے ؟ انہیں بتادیا کہ یہاں ہمیشہ رہنا نہیں مرو گے پھر جیو گے اور کفر و شرک پر عذاب ہوگا۔
Ayah 7:30پھر فرمایا (فَرِیْقًا ھَدٰی وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلٰلَۃُ ) (کہ اللہ نے ایک جماعت کو ہدایت دی اور ایک جماعت ایسی ہے جس پر گمراہی مقرر ہوچکی ہے)
پھر فرمایا (اِنَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) بلاشبہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست بنا لیا اور یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں) اول تو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے پھر شیاطین کو دوست بنایا جن کا کام ہی گمراہ کرنے کا ہے پھر اپنے بارے میں یہ خیال کہ ہم ہدایت پر ہیں یہ سب گمراہی در گمراہی ہے۔