7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 7:1–10

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الٓمٓصٓ ۔

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب جو آپ پر نازل فرمائی گئی ہے سو اس کے سبب آپ کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے یہ اس لئے ہے کہ آپ اس کے ذریعے (انجام بد سے) ڈرائیں اور ایمان والوں کے لئے نصیحت ہے

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

لوگو ! اس کی پیرویکرو جو چیز تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آئی ہے اور اس کے علاوہ دوسرے دوستوں کی پیروی نہ کرو۔ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں ہیں جو ہم نے تباہ کردیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو سوتے میں آیا یا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پس جب ان پر ہمارا عذاب آتا تھا تو ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ بیشک ہم ہی ظالم تھے

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

سو جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے اور پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم انپے علم سے ضرور ان کو حالات بیان فرمائیں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز حق (انصاف) کے ساتھ وزن کیا جائے گا پھر جن کا پلڑا بھاری ہوگا

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

سو وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا (بہت) نقصان کرلیا اس لئے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ بےانصافی کرتے تھے

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور بیشک ہم ہی نے تم کو زمین میں بسنے کی جگہ دی اور تمہارے لئے اس میں سامان معیشت پیدا فرمائے۔ تم کم ہی شکر کرتے ہو

رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : کتاب کا مفہوم : حفورف مقطعات کے متعلق شروع میں ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ انھا سر بین اللہ ورسولہ نیز جنہیں قلب اطہر سے نسبت تام نصیب ہوجائے اللہ کی عطا سے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق آگاہ ہوجاتے ہیں ان پر ایمان ضروری ہے اور تلاوت سے وہ فائدہ جو مقصود ہے نصیب ہوجاتا ہے لہذا ہر کس و ناکس کو معافی کی کرید نہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ہے جامع مکمل اور سچی محض اوراق لکھ کر جوڑ دینا کتاب کا مفہوم ادا نہیں کرتا اس لیے کہ ہر کتاب کسی موضوع پر ہوتی ہے اور حق یہ ہے کہ اسے موضوع کے بارے مکمل سچی اور حتی بات قاری تک پہنچانا چاہئے۔ انسانی اندازے تو ہوتے ہیں قطعی بات کہنا اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں اس مفہوم کو صرف اللہ کی کتاب پورا کرتی ہے لہذا ارشاد ہوا یہ کتاب ہے اور اللہ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نافرمانوں کو اعمال بد کے خطرناک نتائج سے بروقت خبردار کردیجیے اور ایمان لانے والوں کو وہ طریقہ تعلیم فرمائیے کہ جن سے وہ زیادہ سے زیادہ قرب الہی حاصل کرسکتے ہیں لہذا آپ کو غمگین نہ ہونا چاہئے کہ اللہ کا ذاتی کلام ہے کتنی مشقت اٹھا کر لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے لیکن بدنصیب مان کر نہیں دیتے جس کے نتیجے میں جہنم میں گریں گے ہمیشہ کے لیے عذاب سے دوچار ہوں گے لوگ اگر ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کی اپنی پسند اور ذاتی انتخاب ہے آپ اس پر دلگیر نہ ہوا کریں۔ یہ رحمت عالم ﷺ کی فطری شفقت تھی کہ معاندین کے انجام کا دکھ محسوس فرماتے تھے تو متعلقین پر کتنا کرم ہوگا کاش مسلمان اندازہ کرسکے ک اور صرف اس لیے اللہ کی اطاعت کرلے کہ نافرمانی پہ صرف اپنا نقصان ہی مرتب نہ ہوگا رحمت عالم ﷺ کو بھی پریشانی لاحق ہوگی نیز یہ واضح ہوگیا کہ مفاہیم کتاب بیان کرنا منصب رسالت ہے ہر کوئی محض لغت سے معانی مقرر کرنے کا نہ مجاز ہے نہ کسی میں اس کی استعداد ، اسی لیے تفسیر صرف وہ معتبر ہوگی جو حدیث اور سنت سے ثابت ہو۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تزکیہ قلب نصیب نہ ہو تو آدمی اپنے پر جبر کرکے اطاعت کی صورت تو بنا سکتا ہے لطف غلامی سے نا آشنا ہی رہتا ہے۔ لوگو یہ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے یعنی اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ نہ صرف تمہاری جسمانی اور دنیوی حاجات کو پورا کرے بلکہ روحانی اور اخروی و ابدی ضروریات کی تکمیل بھی اشد ضروری ہے لہذا رب جلیل نے اس کا اہتمام کردیا اب جس طرح زندہ رہنے کے لیے غذا کھاتے تندرستی کے لیے دوا لیتے ہو اسی ابدی راحت کے لیے اطاعت اور عبادت کی ضرورت ہے اور یہ تمہارا کام ہے کہ آگے بڑھ کر اس پیغام کو سینے سے لگا لو زندگی ہار دو مگر آخرت کو ہاتھ سے جانے نہ دو یہ کام اسی صورت ممکن ہے کہ تم ساری امیدیں اللہ سے وابستہ کرلو اور اس کے بغیر کسی سے امید نہ رکھو ورنہ جس سے امید باندھو گے اسی کی غلامی میں گرفتار ہوجاؤگے بات بڑی سادہ ہے مگر ہمیشہ کم ہی لوگ سمجھ پائے ہیں دنیا کی چکا چوند میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ گناہ کرتے کرتے اس حد پہ جا پہنچے کہ حیات دنیا میں عذاب الہی کا شکار ہوئے کتنی قومیں راتوں رات تباہ ہوگئیں اپنے حال میں مست اور عیش کوشیوں میں مصرف کوئی دن کو لیٹے اور پھر اٹھنا نصیب نہ ہوا یہ لوگ اسی زمین پر آباد تھے اور احکامِ الہی کو خاطر میں نہ لاتے تھے حتی کہ جب گرفت میں آئے تو بےاختیار کہہ اٹھے کہ بلا شک ہم ہی غلط کار تھے آخر ہماری بےراہ روی رنگ لائی کیا ان کے حالات تمہارے لیے عبرت کا سامان نہیں ؟ دنیا محض تماشا نہیں بلکہ انبیاء ومرسلین تک سے ان کی زمہ داریوں کے بارے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اللہ کی بات پہنچا دی تھی یا نہیں یا وجود اس کے کہ سب نبی معصوم ہوتے ہیں اور پوری زندگی کی توانائیاں صرف اس مقصد پہ صرف کرتے ہیں جس کے لیے مبعوث ہوں حتی کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ حج میں ہی بات ارشاد فرما کر صحابہ کرام سے پوچھا تھا کہ تم لوگ میرے بارے کیا شہادت دو گے تو سب نے عرض کیا کہ آپ نے پہنچانے کا حق ادا کردیا تو آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر تین بار فرمایا اللھم اشہد اے اللہ گواہ رہنا۔ جب انبیا علیہم الصلوۃ والسلام سے پرسش ہوگی اگرچہ سب نے پوری پوری محنت کی تو بھلا جن کی طرف نبی بھیجے گئے وہ کیسے بچ سکیں گے کہ ان میں سے اکثر نے بات سننا بھی گوارا نہ کیا لہذا اس بات کی پوری تحقیق ہوگی اور چھوٹے سے چھوٹا کام جو لوگوں کو یاد بھی نہ ہوگا۔ اللہ کریم فرماتے ہیں ہم یاد دلائیں گے ہم کہیں غیر حاضر تو نہ تھے تم نے جو کچھ کیا اللہ کے روبرو کیا اور ہر بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ آج دار دنیا میں تو سمجھتے ہو کہ جابر یا دولت مند کا پلہ بھاری ہے اقتدار سے خائف رہتے ہو یا مل جائے تو ناز کرتے ہو مگر اس دن ٹھیک ٹھیک تول کیا جائے گا انسانوں کا ان کے عقاید اور اعمال کا ہر چیز میزان میں رکھ دی جائے گی پورے پورے انصاف کے ساتھ یعنی اعمال کو مھض اس لیے آسان نہ جانو کہ ان کا کوئی جرم ہی نہیں یا یہ مجسم تو ہیں نہیں پھر ان کا وزن کیسا اللہ قادر ہے یہ بھی مجسم ہوں گے انہیں جسم عطا کرنے پہ بھی قادر ہے اور بغیر جسم دئیے کیفیات کو لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے لہذا ایک پلڑے میں نافرمانیاں اور ایک پلڑے میں اطاعت رکھ دی جائے گی جس کی اطاعت کا پلڑا بھاری ہوگا وہی کامیاب ہوگا اگر نیکی کا پلڑا ہلکا اور گناہ کا بھاری ثابت ہوا تو بقدر گناہ جہنم میں جانا ہوگا جو بہت بڑا نقصان ہے کہ ناروا طریقے اختیار کرکے دولت یا شہرت و اقتدار حاصل کیا تھا تو وہ بھی گیا اور جہنم کی مصیبت اس کے سوال گلے پڑی اس نقسان کا بنیادی سبب یہی آیات الہی کا انکار ہے کفر تو گناہ ہی ایسا ہے جس کے ساتھ کوئی نیکی سرے سے اپنا وجود ہی نہیں رکھتی لہذا ہمیشہ دوزخ کو سدھارے گا سوائے اس کے اللہ کریم رحم کردے کہ ایمان رحمت کا محل تو ہے۔ مفسرین نے یہاں مختلف اعمال کی فضیتل ترازو میں ان کا بھاری ہونا اور تولنے کی کیفیت کافی بحث فرمائی ہے۔ لہذا ایمن ہو تو امید نجات بھی ہے اگر جہنم جانا پڑا تو بھی ہمیشہ تو نہ رہے گا اور کفر ہمیشہ کی مصیبت ہے۔ چاند پر یا دوسرے سیاروں پر آبادی : دیکھو ہم نے زمین میں تمہار اٹھکانہ بنا دی اور اس میں تمہاری ضرورت کی ہر شے مہیا کردی اس سے واضح ہے کہ انسان کی قدرتی حیات کے اسباب کرہ ارض پر ہی ہیں چاند پر اگر آباد ہونا چاہے یا کسی دوسرے سیارے پر تو زندگی کے اسباب یہاں سے لے کر جائے گا حتی کہ غذا کے علاوہ ماحول موسم اور فضا تک یعنی آکسیجن تک زمین سے جائے گی تو پھر وہاں رہنا کس قدر دشوار اور غیر طبیع ہوگا یہ بات بھی جواب طلب ہے کہ وہاں نسل چل سکے گی کاش یہ اربوں ڈالر جو وہاں جانے کے لیے خرچ ہو رہے ہیں زمین ہی پر انسان کی بہتری کے لیے صرف ہوتے۔ اتنی بیشمار نعمتوں کے باوجود بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں یعنی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔
Ayahs 7:11–25

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم کو پیدا فرمایا پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو پس انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا جب میں نے تجھے حکم دیا تو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا۔ کہنے لگا میں ان (آدم علیہ السلام) سے افضل ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا اور ان کو مٹی سے پیدا فرمایا

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو یہاں سے نکل (اتر) جا تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اس جگہ تکبر کرے پس نکل جا۔ بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

کہنے لگا کہ مجھ کو اس دن تک مہلت دیجئے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا یقینا تجھ کو مہلت دی جاتی ہے

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

کہنے لگا کہ مجھے آپ نے گمراہ کیا اس کے سبب (قسم کھاتا ہوں کہ) میں ان کی تاک میں آپ کی سدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان پر ان کے آگے سے آؤں گا اور ان کے پیچھے سے آؤں گا اور ان کے دائیں سے آؤں گا اور ان کے بائیں سے آؤں گا اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والا نہ پائیں گے

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

ارشاد ہوا یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔ ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم (علیہ السلام) ! آپ اور آپ کی بیوی جنت میں رہیں پھر جہاں سے چاہیں ، کھائیں اور اس درخت کے قریب بھی مت جائیں ورنہ آپ غلط کام کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا کہ ان کے ستر کی جگہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کردے اور ان سے کہنے لگا کہ آپ کو آپ کے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ رہنے والے نہ ہوجائیں

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور دونوں کے روبرو قسم کھائی کہ بیشک میں آپ کا خیر خواہ ہوں

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پس دھوکہ دے کر ان کو (خطا کی طرف) کھینچ لیا پس جب ان دونوں نے درخت (کا پھل) چکھا تو دونوں کے پردہ کا بدن ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہوگیا اور وہ بہشت (کے درختوں) کے پتے (توڑ توڑ کر) اپنے اوپر چپکانے لگے اور (تب) ان کے پروردگار نے ان کو پکار کر فرمایا کیا ہم نے آپ کو اس درخت سے روکا نہ تھا اور آپ کو بتا نہ دیا تھا بیشک شیطان آپ کا کھلادشمن ہے

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

ان دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں نے اپنے آپ پر زیادتی کی اور اگر آپ ہماری بخشش نہ فرمائیں گے اور ہم پر رحم نہ فرمائیں گے تو واقعی ہم بہت بڑا نقصان پانے والوں میں ہوجائیں گے

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے نیچے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانہ ہے اور ایک خاص وقت تک (زندگی) کا سامان ہے

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا اسی میں آپ کا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کے روز) نکالے جاؤ گے

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 11 تا 25: اسرار و معارف : انسانی زندگی محض ایک حادثہ نہیں اور نہ نیک و بد کی آویزش محض کھیل ہے اس کا ایک پس منظر ہے جو تمہاری بھلائی کے لیے بیان کردیا جاتا ہے مقصد سامنے آجائے گا تو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنا تمہیں آسان ہوگا اب تو صرف مادی ترقی کو کمال سمجھ رہے ہو پھر جان سکو گے کہ اول ضرورت روحانی ترقی کی ہے مادی کمالات اس کے تابع ہیں اگر روحانی ارتقا سے آدمی محروم ہوجائے تو مادی انکشافات دکھوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ان میں سے بھی بھلائی اور بہتری کا پہلو رخصت ہوجاتا ہے۔ اصل بات یوں ہے۔ انانیت : کہ ہم نے تمہیں یعنی تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا فرمایا کہ ان کا مادہ تخلیق فرمایا پھر سے یجا کرکے ایک بہترین صورت عطا کی پھر اسے کائنات کے بارے علوم عطا فرمائے اور یوں مدتوں پہلے سے پیدا شدہ نوری اور اطاعت شعار مخلوق یعنی فرشتوں پر بھی اسے اس قدر برتری بخشی کہ انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا سب نے سر تسلیم خم کردیا مگر ایک ابلیس جو جنوں میں تھا مگر اپنی عباد و مجاہدے سے فرشتوں کے ساتھ دینے کا درجہ پا لیا تھا وہ نہ جھکا اور سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ فرمایا پوچھا گیا کہ جب بارگاہ صمدیت سے حکم تھا تو تجھے کونسی بات مانع ثابت ہوئی کیوں تعمیل ارشاد سے محروم رہا۔ تو پکار اٹھا اللہ میں اس سے بہتر ہوں۔ اسی کو انانیت کہا گیا ہے کہ آدمی جب ان اوصاف یا کمالات کو دیکھتا ہے جو اس کی ذات میں واقعی موجود ہوں تو بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کے ان پر اکڑ جاتا ہے اور خود کو اس کا اہل سمجھنا شروع کردیتا ہے چونکہ یہ سخت ترین گناہ اور ایسا جرم ہے جس پر ابلیس بھی رد ہوا لہذا وہ کوشش کرتا ہے کہ جو آدمی بھی قابو آئے اسے اسی گناہ میں مبتلا کرے تاکہ وہ ہلاکت و بربادی میں اس کا ساتھی بن جائے اگر غور کریں تو دنیا میں سب خرابیوں کی جڑ ہی جملہ ہے۔ انا خیر منہ۔ میں اس سے بہتر ہوں۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اور اس پر دلیل یہ دی کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے۔ جاہل کہیں کا یہ کیسے ثابت ہے کہ آگ مٹی سے بہتر ہے لیکن اس بحث کی ضرورت بھی کیا ہے جب خود یہ اقرار کر رہا ہے کہ خالق آپ ہی ہیں آپ ہی نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے پیدا فرمایا ہے تو یہ کیوں نہ جان سکا کہ حکم بھی تو وہی ہستی دے رہی ہے لہذا کون بہتر ہے اور کون نہیں وہ خوب جانتا ہے مگر تکبر جو اس کے اندر تھا اس نے اسے اندھا کردیا۔ تکبر کے باوجود ترقی ہوتی ہے مگر پائیدار نہیں : ارشاد ہوا یہاں سے یعنی آسمانوں سے نیچے چلے جاؤ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ ان رفعتوں پہ تکبر کا اظہار کرو نکل جاؤ کہ تم ذلیل ہو۔ یہی حال بعض طالبوں کا ہوتا ہے کسی شیخ کامل کی صحبت نصیب ہو تو مراقبات اور درجات روحانی طے کرتے جاتے ہیں اگرچہ اندر اپنی بڑائی کا خیال ہی چھپا ہوا و مگر ایسے لوگ آخر کار اظہار تکبر پر یک لخت گر کر تباہ ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی اور تباہی کا سبب بنتے ہیں یاد رہے مخلصین کو گمراہ نہیں کرسکتے انہیں کو ساتھ ملاتے ہیں جن میں یہ مادہ ہو کہنے لگا اللہ مجھے یوم حشر تک زندہ رہنے دے تو اللہ نے ایک خاص وقت مہلت عطا فرما دی۔ اللہ قادر ہے دنیا میں کافر کی دعا بھی قبول کرلے تو اسے کوئی مانع نہیں مگر آخرت میں کافر کی دعا قبول نہ فرمائے گا یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ابلیس نے تو حشر تک مہلت بخشی اور تھوڑی سی تبدیلی سے دعا قبول فرمائی حدیث شریف میں وضاحت ہے کہ جب دنیا فنا ہوگی یعنی پہلا نفخہ ہوگا تو ابلیس کو موت آئے گی۔ کافر کی دعا : کہنے لگا جس طرح تو نے مجھے گمراہ کردیا میں بھی تیری راہ میں ڈیرہ ڈالوں گا اور اولاد آدم (علیہ السلام) کو ہر طرف سے گھیرنے کی اور راستے سے بھٹکانے کی پوری کوشش کروں گا اور اے اللہ تو دیکھ لے گا کہ اکثر تیری ناشکری کریں گے اور میری بات مانیں گے۔ گناہ کی نسبت تقدیر کی طرف کرنا شیطانی کام ہے : فرمایا دفع ہوجا اور رد ہو کر تیرا ٹھکانہ تو جہنم ہے یہی جو تیری اطاعت کریں گے ان کو بھی تیرے ہمراہ کردوں گا یہ حالت تب ہوتی ہے جب گناہ سے دل سیاہ ہوجائے تو آدمی برائی کو تقدیر کا اثر بتا کر اللہ کے ذمہ کرنے لگتا ہے اور بارگاہ الہی میں شیطان کی طرح بےباک ہوجاتا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا آپ اور آپ کی زوجہ مھترمہ دونوں جنت میں رہو اور جو چاہو کھاؤ پیو مگر اس ایک درخت کے قریب مت جانا ورنہ غلط کام کر بیٹھو گے۔ ابلیس کو یہ خبر تھی کہ اس غذا سے انسانی توالد و تناسل کے آلات اپنا کام کرنے لگیں گے اور ظاہر ہوجائیں گے جن سے ابھی آدم (علیہ السلام) آگاہ نہ تھے کمال قدرت دیکھئے جہان کی اشیاء کا علم عطا کردیا مگر اپنے وجود کے اسرار سے ابھی واقف نہ تھے لہذابلیس نے وسوسے القا کرنے شروع کردئیے اور کہنے لگا اگر تم یہ کھالو تو فرشتوں کی طرح ہوجاؤ گے اور یہیں ہمیشہ رہنے لگو گے پھر تمہیں زمین پر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی اس پر اللہ کی قسمیں دیں کہ صرف آپ کی بھلائی کے لیے کہہ رہا ہوں وہ دھوکے میں آگئے ان کے دل تو شفاف تھے وہ یہ بھی نہ کرسکے کہ کوئی جھوٹ پر بھی اللہ کی قسم کھا سکتا ہے مگر ابلیس کا دل سیاہ تھا ان کے سامنے قسمیں دیں تو جب انہوں نے وہ پھل چکھا ہی تھا کہ ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں تب وہ جنت کے بڑے بڑے پتوں سے جسم ڈھانپنے لگے تو ارشاد ہوا کیا اس پھل کے کھانے سے روکا نہیں گیا تھا اور یہ بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اگرچہ ان سے دھوکا ہوا مگر حکم الہی کے خلاف تو صادر ہوا تھا لہذا پکار اٹھے اے ہمارے پروردگار اے ہماری امیدوں کے مرکز ہم اپنی جانوں پہ زیادتی کرچکے اب اگر تیری رحمت و مغفرت ہمیں تھام نہ لے تو ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں فرمایا ٹھیک ہے اب تم جاؤ زمین پہ رہو بسو وہیں تمہاری دنیا کی زندگی ہے اور وہیں تمہیں اور تمہاری نسل کو موت آئے گی لیکن یہ بات یاد رکھو کہ اب یہ دشمنی تمہارے درمیان چلتی رہے گی لہذا اس سے غافل نہ ہوجانا کہ تمہیں پھر سے زندہ ہو کر اپنی اس منزل یعنی جنت میں ہپنچنا ہے ایسا نہ ہو کہ دشمن انسانیت تمہیں پھر دھوکا دے کر ایسے افعال میں مبتلا کردے کہ اصل راہ سے بھٹک کر منزل سے محروم ہوجاؤ ۔ خطاب اگر آدم (علیہ السلام) کو ہے مگر مراد ساری نسل آدم ہے۔
Ayahs 7:26–31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! یقینا ہم نے تم پر لباس اتارا (پہننے کی چیزیں عطا کیں) جو تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہیں) زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) ! کہیں شیطان تم کو بہکا نہ دے کہ جس طرح تمہاری ماں باپ کو بہشت سے نکلوادیا (اور) ان کا لباس ان سے اتروا دیا تاکہ ان کا سر ان پر کھل جائے یقینا وہ اس کا کنبہ تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہو یقینا ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ہم کو اسی کا حکم دیا ہے۔ فرمادیجئے کہ بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں فرماتے کیا تم اللہ کے ذمہ ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

فرما دیجئے میرے پروردگار نے انصاف کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا (قبلہ کی طرف) کرو اور خاص اسی کو پکارو (اسی کی عبادت کرو) فرماں بردار ہو کر جیسے تم کو پہلے پیدا فرمایا تھا (پھر) ویسے ہی لوٹائے جاؤ گے

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

بعض لوگوں کو تو اس نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہوچکی ہے بیشک ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ وہ راہ (حق) پر ہیں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) ! ہر نماز کے وقت اچھا لباس پہنا کرو اور کھاؤ اور پیو اور بےجا خرچ نہ کرو بیشک وہ (اللہ) بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 26 تا 31: اسرار و معارف : گناہ اور خطا کی نسبت اپنی طرف کرکے اللہ سے توبہ کی جائے : اے اولاد آدم (علیہ السلام) ہم تمہیں لباس عطا فرمایا ہے جو تمہارے لیے ستر عورت کا کام بھی کرتا ہے اور زینت کا باعث بھی ہے یعنی ایسی اشیا پیدا فرمائیں جن سے لباس تیار ہوسکتا ہے اور تمہیں یہ شعور عطا فرمایا کہ طرح طرح کے لباس بناتے ہو جس سے تمہارے جسم کے پردے کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور تمہیں سجتا بھی ہے باعث زینت بھی ہے۔ اگر انسانیت فنا نہ ہوچکی ہو اور انسان محض ایک حیوان کی سطح پر نہ گر جائے تو جسم کے پوشیدہ حصوں کو کھولنا گوارا نہیں کرتا جانوروں اور پرندوں میں تو اعضا ہی ایسے طریقے سے پیدا فرمائے کہ ان کا قدرتی لباس ہی انہیں ڈھانک لیتا ہے مگر انسان کو علیحدہ سے لباس عطا فرمادیا کہ اپنی مرضی اور پسند سے طرح طرح کے لباس تیار کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد تو جسم کی ستر پوشی ہے مگر ساتھ میں موسموں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں انسان ہر موسم اور ہر موقع کی مناسبت سے لباس بناتا ہے اور ایسے بنتا ہے جن سے اس کے وقار اور سنجیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لباس کا مقصد اور ضرورت : حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر تنبیہ فرما دی کہ کہیں کہیں ابلیس تمہیں بھی بےلباس نہ کردے تہذیب جدید کے برہنہ کلب اور بےلباس شہر در اصل اس بات کی علامت ہیں کہ یہ لوگ شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں اگر کسی انسان کو ستر پوشی کا خیال بھی نہ رہے تو دنیا کے کسی بھی برے کام پر ندامت محسوس نہیں کرے گا اسی لیے ایمان کے بعد پہلا فرض ستر پوشی ہے عبادات اس کے بعد ہیں اور جو لوگ ہوش و حواس رکھتے ہوئے بےلباس رہنا شروع کردیتے ہیں ابلیس کے پیروکار بن جاتے ہیں جہلا انہیں ولی کامل تصور کرتے ہیں اور یا پھر پاگل اور حواس سے بیگانہ حرکت کرسکتا ہے ورنہ انسانی مزاج میں پوشیدہ حصوں کو ڈھانپ کر رکھنا شامل ہے نیز لبا س تفاخر اور اظہار تکبر کے لیے بھی نہیں حدیث شریف میں اس فعل کی بہت شدت سے مذمت کی گئی ہے بلکہ نئے لباس پر دعا تعلیم فرما کر پرانا لباس غربا کو صدقہ کرنے کا بہت ثواب ہے۔ اور اصل لباس تو کردار ہے جس سے اللہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہو صرف رنگ برنگے اور قیمتی کپڑوں سے جسم کو ڈھانپنا ہی لباس نہیں بلکہ ذات باری کے ساتھ اطاعت اور عبادت کا تعلق جو خلوص دل سے ہو ایسا لباس ہے جو دو عالم کی رسوائی سے بچاتا ہے اور ابدی عظمت و کامرانی نصیب ہوتی ہے چونکہ برہنگی کو عبادت کا حصہ بنا لیا گیا تھا اور اسی حال میں طواف تک کرتے تھے لہذا ارشاد ہوا ایسا نہ ہو کہ ابلیس نے جس طرح تمہارے والدین حضرت آدم (علیہ السلام) کو دھوکا دے کر انہیں جنت میں بےلباس کردیا اور فوراً زمین پر اترنے کا سبب بنا تمہیں بھی بےلباس کردے اور تم اخلاقی پستیوں میں غرق ہوجاؤ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابلیس اور اس کی اولاد تو تمہیں دیکھتے ہیں مگر تمہاری مادی آنکھیں انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں تم بہت خطرے میں ہو مگر اللہ کریم نے اس کا بھی اہتمام کردیا ہے کہ اس کی دوستی ان لوگوں سے مھدود کردی ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے دوستی سے مراد ایمان نصیب ہو تو ابلیس کی چالوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے نیز ہر گناہ دل پر ابلیس کے لیے جگہ بناتا ہے مگر نیکی اور اطاعت دل کو روشن کردیتی ہے جس پر شیطانی وسواس اثر نہیں کرتے۔ کفر کی مصیبت : اور اگر دل پہ ابلیس قابض ہوجائے تو پھر بدکار بھی کہتے ہیں کہ ہم نے جب سے آنکھ کھولی دنیا میں یہی ہوتا تھا اور ہوتا آیا ہے اللہ نے ہی سب کچھ بنایا ہے لہذا اس عمل میں قباحت کیسی یعنی بجائے گناہ پر ندامت کے اس کا جواز ثابت کرتے ہیں اور یہی نئی تہذیب کا کرشمہ ہے جو سامنے نظر آ رہا ہے آپ فرما دیجئے کہ اللہ کریم نے کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیا یہ جہالت کی بات ہے کہ تم برائی کرکے اسے اللہ کا حکم بتانے پہ بھی مصر ہو۔ کفر کی سب سے بڑی مصیبت یہی ہے کہ خوف خدا نہیں رہتا پھر محض لوگوں کے روبرو سچا ہونے کے لیے جواز تلاش کیے جاتے ہیں اللہ کے احکام پورے پورے انصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی احکام شرعی میں نہ تو اس قدر تنگی ہوتی ہے کہ مفید اشیاء سے بھی روک دیا جائے اور نہ بےجا آزادی کہ جو جی میں آئے کرو لہذا زندگی میں اعتدال کمال کی دلیل ہے غیر ضروری طور پر کم کھانا یا بات نہ کرنا یا جان بوجھ کر پھٹے ہوئے میلے لباس میں رہنا ریا کا سبب تو ہوسکتا ہے نیکی کا نہیں اور اپنی حیچیت سے بڑھ کر نظر آنا بیہودہ اور لغو باتیں کرنا یا جانوروں کی طرح بےانداز کھانا بھی سخت نا مناسب ہے لہذا ہر کام میں اعتدال شرط ہے اور دین اسلام سب کاموں میں اعتدال ہی پر حکم پر دیتا ہے۔ زندگی میں اعتدال ہی دلیل کمال ہے : مثال کے طور پر دو چیزیں جو بنیادی ہیں ارشاد فرمائیں کہ ہر نماز میں اپنا رخ سیدھا کرلو یعنی اعمال ظاہری میں بھی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو عند کل مسجد سے نماز کے علاوہ ہر کام جو اطاعت میں کیا جائے مراد ہوسکتا ہے لہذا اعمال میں راستی شرط ہے اور دوسرا حکم قلب اور اس کی کیفیات باطنی متعلق ہے کہ دل اور باطن بھی درست رکھو صرف اور خالصۃً اللہ ہی کو پکارو نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ اور نہ کسی دوسرے سے شاباش لینے کے لیے عبادات اختیار کرو کہ یہ بھی ریا ہے ایک پہلو کو چھوڑ دیں تو دوسرا بھی بےاثر ہوجاتا ہے اگر کوئی کہے کہ ظاہر اعمال کی ضرورت نہیں میرا باطن درست ہے تو جھوٹ کہتا ہے اگر باطن واقعی روشن ہو تو ظاہر نافرمانی اختیار نہیں کرسکتا یا کوئی بظاہر بڑا متقی نظر آئے مگر دل میں حصول دنیا ہو اور سارے وظیفے اور لمبے لمبے سجدے اسی کی خاطر ہوں تو سخت نقصان دہ ہوں گے لہذا طریقت یہ ہے کہ ظاہراً عمل شریعت کے مطابق ہو اور باطناً خلوص نیب ہوجائے یاد رکھو جس طرح تمہیں عدم سے وجود عطا کردیا ویسے ہی قیامت کو موت کی گھاٹیوں سے واپس زندہ کردے گا یہ نہ سوچہ کہ مر کر وجود فنا ہوگیا تو پھر کیسے زندہ ہوسکے گا۔ شریعت کے دونوں پہلو لازم و ملزوم ہیں : دنیا میں فریق اور جماعتیں تو ہمیشہ دو ہی ہوتی ہیں اور رہیں گی ایک جماعت اہل حق اور اطاعت شعاروں کی دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی بد اعمالی کے نتیجہ میں ان پر گمراہی مسلط کردی گئی انہوں نے ظلم بھی تو بہت کیا ہے کہ اللہ کریم کو چھوڑ کر شیطان کی پناہ میں چلے گئے اور اس کی غلامی اختیار کرلی۔ اور برائی میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ اب اسی کو راہ راست خیال کرنے لگے یعنی حق تو یہ تھا کہ انبیاء اور رسل کی اطاعت کرتے اللہ کی کتاب پر ایمان لاتے مگر انہوں نے خود ساختہ رسومات کو دین سمجھ لیا۔ نماز کے لیے لباس : چونکہ نزول قرآن کے وقت بھی برہنگی اور بےحیائی بہت زیادہ تھی پھر عرب میں تو ننگا ہو کر طواف کرنا عبادت سمجھا جاتا تھا اسلام نے آج سے چودہ صدیاں قبل اس برائی کو للکار اور مٹا کر دکھا دیا اور نماز کے لیے اچھا لباس پہنو ستر پوشی تو ویسے ہی فرض ہے اس کے بغیر تو نماز نہ ہوگی بلکہ بالغ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر بھی نہ ہوگی یہاں زینت اختیار کرنے کا حکم ہے جیسے آپ دفتر جانے کے لیے یا کسی سے ملاقات کے لیے لباس کا اہتمام کرتے ہیں تو اللہ کریم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے لباس اچھا اور ناسب ہو لہذا ایسے لباس میں جس میں آپ دوستوں میں جانا پسند نہیں کرتے نماز بھی مکروہ ہوگی اگرچہ محض ستر عورت سے ادا ہوجائے گی مگر عام سی دھوتی اور ساتھ بنیان پہن لینا یا جیب سے رومال لے کر سر پہ رکھ لینا وغیرہ سب حالتوں میں نماز مکروہ ہے لباس کے مناسب ہونے کا حکم ہے اور کھاؤ پیو کہ صحت مند رہنا اور ضرورت کے لیے کھانا پینا فرض ہے اگر کوئی جان بوجھ کر فاقہ کشی شروع کردے اور خود کو اس قدر کمزور کرلے کہ احکام شرعی کی تعمیل اور فرائض منصبی کی ادائیگی دشوار ہوجائے تو سخت گناہگار ہوگا۔ علماء نے اسی آیت سے دلیل اختیار کی ہے کہ ہرچیز حلال ہے جب تک کسی چیز کی حرمت شریعت سے ثابت نہ ہو یعنی اصل اشیاء میں حلت ہے۔ بقدر حاجت کھانا پینا فرض ہے۔ مگر کھانے پینے میں بھی اعتدال کو ہاتھ سے نہ دو اسراف نہ کرو یعنی ضرورت سے زیادہ نہ کھاؤ یا اس قدر بڑھتے نہ جاؤ کہ حلال سے گزر کر حرام کھانے لگو حلال کو حرام سمجھ لینا یا حرام کو حلال کی طرح کھانا سب ہی تو اللہ کی نافرمانی میں داخل ہے۔ لہذا غذا میں اعتدال صح تبخشتا ہے صحت مند جسم میں صحت مند ذہن ہوتا ہے جو امور دنیا کو بھی بہتر سمجھ سکتا ہے اور اطاعت الہی بن کر قلبی کیفیات عطا کفرتا ہے توفیق عمل ارزاں ہوتی ہے علماء کرام نے اس موضوع پر نبی اکرم ﷺ کے بہت سے ارشادات نقل فرمائے ہیں روح المعانی۔ ابن کثیر اور مظہری میں خصوصاً دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسراف کسی بھی کام میں اختیار کرنا جائز نہیں نمائشی دعوتیں اور حیثیت سے بڑھ کر لباس یا ادھار لے کر دھوم دھام سے شادیاں کرنا حتی کہ وضو میں ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرنا بھی اسراف ہے خواہ لب دریا ہی کیوں نہ وضو کر رہا ہو اسراف کا ظاہری نقصان تو واضح ہے اصلی نقصان یہ ہے کہ اللہ کریم ایسے لوگوں کو پسند نہیں فرماتے۔
Ayahs 7:32–39

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ زینت اور کھانے پینے کی پاک صاف چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے بنائی ہیں کس نے حرام کی ہیں ؟ فرما دیجئے کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح جاننے والوں کے لئے ہم (اپنی) آیات کھول کر بیان فرماتے ہیں

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ بیشک میرے پروردگار نے بےحیائیاں حرام فرمائی ہیں ان میں جو اعلانیہ ہوں وہ بھی اور جو پوشیدہ ہوں وہ بھی اور گناہ اور ناحق سرکشی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ ایسی چیز کے شریک کرنے کو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور یہ بھی کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر امت (طبقے) کے لئے ایک وقت مقرر ہے پس جب ان کا وقت آجائے گا تو نہ ایک گھڑی دیر کرسکیں گے اور نہ جلدی

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! اگر تمہارے پاس تہی میں سے پیغمر آئیں کہ تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائیں سو جس نے پرہیزگاری اختیار کی اور اپنی حالت درست رکھی تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ وہ افسوس کریں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہ لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگ جس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا یا اس کی آیات کو جھٹلایا ان لوگوں کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کی جان قبض کرنے کے لئے آئیں گے تو کہیں گے وہ کہاں گئے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے (عبادت کرتے تھے) وہ کہیں گے وہ تو ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ تم سے پہلے جو (کافر) گروہ جنوں نور انسانوں میں سے گزر چکے ہیں تم بھی دوزخ میں ان میں شامل ہوجاؤجب ایک جماعت داخل ہوگی تو اپنی بہن (اپنے جیسی پہلی جماعت) یہ لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب اس میں جمع ہوجائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کے بارے میں کہے گی اے ہمارے پروردگار ! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا سو ان کو جہنم کی آگ کا دگنا عذاب دیجئے۔ ارشاد ہوگا تم سب کو دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی پس تم کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں سو جو عمل تم کرتے تھے اس کے بدلے عذاب چکھتے رہو

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 39: اسرار و معارف : اچھا کھانا اور لباس : چونکہ انسانی شرف کا مدار ہی اللہ کریم کی رضا ہے لہذا اصل کام خلوص دل سے اطاعتِ الہی کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے اسلام نے باطل مذاہب کی طرح فضول اور خود ساختہ مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا ہے اور لذیذ کھانوں سے اجتناب یا اچھا لباس پہننا کوئی عبادت نہیں نہ رب جلیل نے اس کا حکم دیا ہے جب مالک اللہ ہے اور اس نے بہتر رزق اچھے پھل مزیدار کھانے جو حلال اور جائز ذرائع سے حاصل کئے گئے ہوں ایسے ہی خوبصورت اور آرام دہ لباس یا بہتر سواری اور خوبصورت گھر سے منع نہیں فرمایا پھر دوسرا کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کے بندوں کو ان چیزوں سے روک دے یعنی کوئی نہیں ہوسکتا یہ اس دور میں بھی اور آج بھی یہ خیال عام ہے کہ نیک لوگ پھٹے پرانے کپڑے پہنتے ہیں روکھی سوکھی کھاتے ہیں اچھا بستر استعمال نہیں کرتے اس پر اسلام کے ابتدائی دور کے حالات بیان کرکے واعظین اور بھی رنگ آمیزی کرتے رہتے ہیں حالانکہ حق یہ ہے کہ جب صحابہ پر تنگی کا زمانہ تھا تو پھٹے ہوئے لباس اور خالی پیٹ کے ساتھ بھی اللہ کریم کی راہ میں ثابت قدم تھے خود آقائے نامدار ﷺ نے بھی عمدہ لباس استعمال کیا ہے بلکہ ایک دفعہ آپ کے جسم اطہر پر ایسی چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار دینار تھی عہد خلافت راشدہ میں اور خصوصاً روم و ایران کی فتح کے بعد تو صحابہ بہت امیر ہوگئے تھے۔ مال غنیمت نے ان کی حالت بدل دی اور حضرت ابوہریرہ جن کا عہد نبوی میں فاقوں سے بےہوش ہوجانا مشہور ہے کے گھر میں ایسی قالین تھی جس میں ٹخنوں تک پاؤں دھنس جاتے اور آپ خود سے فرماتے بخ بخ ابوہریرہ اپنی پہلی حالت یاد رکھو۔ حضرت علی بہت زیادہ مالدار ہوگئے تھے اور حسنین کریمین واقعی شاہزادے تھے۔ خوبصورت گھوڑے بہترین لباس اور اعلی کھانے یہ سب میسر تھا بعد میں بھی حضرت ابوحنیفہ (رح) بہترین لباس پہنتے تھے حضرت امام مالک ایک جوڑا صرف ایک روز پہن لے کر خیرات کردیتے تھے کہ کسی نے ان کے لیے سال کے 365 جوڑوں کا اہتمام کردیا تھا اسی طرح حضرت عبدالقادر گیلانی (رح) اور حضرت عبیداللہ احرار امیر ترین لوگ اور نفیس ترین لباس استعمال کرنے والے تھے اور آج بھی جو لوگ مھض فریب دینے کے لیے نئے لباس پر بھی پیوند لگا لیتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ اللہ کریم کا حکم ہے کہ جو نعمت میسر ہو اس کا اثر لباس سوار اور دسترخوان پہ بھی ظاہر ہونا چاہئے۔ ورنہ سخت ناشکری ہوگی ہاں رسول اللہ ﷺ سے یا خلافت راشدہ کے ابتدائی عہد کے جو واقعات معمول لباس اور فقروفاقہ کے ملتے ہیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں مسلمانوں کو فراغت یعنی دنیا کی دولت زیادہ نصیب نہ تھی اور اکثر جو مال آتا بھی تھا مساکین پہ خرچ ہوجاتا تھا مگر جب اللہ نے فراغت دی تو بہترین لباس بھی صحابہ کرام نے استعمال فرمائے ہاں سنت یہ ہے کہ خوراک اور پوشاک میں دکھاوے کے لیے تکلف نہ کرے اور جو کچھ آسانی سے میسر آسکتا ہو استعمال کرے اگر سادہ غذا یا موٹا کپڑا میسر ہو تو اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرے یہ نہ ہو کہ خواہ قرض لینا پڑے مگر چیزیں ضرور اعلی ہوں اسی طرح اگر اللہ کریم وسعت دیں اور اعلی لباس اچھی سواری یا بہترین کھانا میسر ہو تو اس کو خواہ مخواہ ترک نہ کرے کہ اسے خراب کرے یا اچھی چیز کو چھوڑ کر گھٹیا استعمال کرنے لگے یہ سب ناپسندیدہ حرکات ہیں بعض اوقات صوفیاء بھی طالبوں کو اچھے کھانے اور لباس سے روک دیتے ہیں مگر یہ بطور علاج اور تربیت کے ہوتا ہے کہ نفس سے خود نمائی کا جذبہ ختم ہوجائے جب وہ خواہشات نفسانی پہ کسی حد تک قابو پا لے کہ تفاخر میں مبتلا نہ ہو یا حرام کی طرف نہ چلا جائے تو پھر ایسی قید نہیں رہتی بلکہ اللہ کریم نے فیصلہ دے دیا کہ نعمتوں کے اصل حقدار تو ایمان دار بندے ہیں قل ھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصہ یوم القیام۔ آپ فرم ادیجئے کہ دنیا کی زندگی میں بھی بہترین چیزوں کے مستحق تو مومن ہی ہیں کافر تو طفیلی ہیں یعنی مومنین کے نفیل رزق پاتے ہیں دنیا میں اللہ کی شان رحمانیت کا ظہور ہے جسے آپ رحمت عامہ کہہ سکتے ہیں لہذا رزق بارش کھیتیاں اور پھل یا سارا نظام مومن کی وجہ سے قائم ہے کہ اس کائنات کی روح ذکر الہی ہے جو مومن کرتا ہے اگر کائنات میں اللہ کا ذکر نہ رہے تو یہ تباہ ہوجائے لہذا ان سب نعمتوں کی بقا کا باعث مومن ہے اور وہی ان کا زیادہ مستحق بھی ہے نیز مومن حصول نعمت کے جائز ذرائع اختیار کرتا ہے اور کسی دوسرے کا حق نہیں چھینتا اس کے برخلاف کافروں کے نظام معیشت کو دیکھیں تو آدمی کی تجوری بھرنے کے کس قدر لوگوں کو اپنے پیٹ تک خالی رکھنا پڑتے ہیں کیا ایسے ظالم بہتر چیزوں کو استعمال کرنے کا حق مومن سے زیادہ رکھتے ہیں ہرگز نہیں اور یہ بھی مومن کی شان ہے کہ ناجائز ذرائع سے اور دکھاوے کے لیے اچھا لباس یا عیش کوشی کے لیے حرام غذا کے قریب بھی نہیں جاتا بلکہ جو حلال ذرائع سے نصیب ہو اس پہ قناعت اختیار کرتا ہے۔ کافر بھی مومنین کے طفیل دنیا کی نعمتیں پاتے ہیں : بعض مفسرین کرام نے یہ معنی بھی نقل فرمایا ہے کہ اگر کافر کو نعمت دنیا ملے بھی تو وہ اخروی عذاب میں زیادتی کا باعث ہی بنتی ہے اگرچہ دنیا میں بھی اس پہ زوال کا اندیشہ اور پھر عند الموت تو چھوٹ ہی جاتی ہے اس کے برعکس مومن نعمت پہ شکر ادا کرکے مزید اجر کا مستحق بنتا ہے الفاظ کے اختلاف کے باجود مفہوم اس کا بھی وہی ہے۔ اور حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ قیامت تب قائم ہوگی جب کوئی الہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا یہ بھی اسی بات پہ شاہد ہے کہ دنیا کی نعمتیں بھی ایمان والوں کے دم سے قائم ہیں لہذا اپنی حیثیت کے مطابق انہیں استعمال کرنے کا نہ صرف حق ہے بلکہ جان بوجھ کر اپنی حیثیت سے کمتر لباس وغیرہ کا استعمال بھی متعدد گناہوں کو شامل ہے جس میں ناشکری اور دکھاوا سر فہرست ہیں۔ یہ حال تو دنیا میں ہے اور آخرت میں رحمت عامل نہ ہوگی بلکہ رحمت خاصہ کا ظہور ہوگا لہذا کافر ہر طرح کی نعمت سے محروم رہے گا اور مومنین ہی تمام نعمتوں اور راحتوں سے مستفید ہوں گے وہاں یہ بات واجح ہوجائے گی کہ نعمتوں کا اصل حق دار کون ہے اور کون ان سے محروم رہا اللہ کریم فرماتے ہیں کہ ہم بات تفصیل سے بیان فرما دیتے ہیں کہ ہر خاص و عام اسے سمجھ سکے۔ یہ خیال کہ اچھا کھانا یا اچھا لباس تو نیکی کے خلاف ہے لوگوں میں آج تک رچا بسا ہوا ہے مگر قرآن حکیم نے پوری قوت سے اس کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ مسکینوں جیسا حلیہ بنا کر ایسے کام گزرنا جو دراصل اللہ کی طرف سے ممنوع ہیں صحیح نہیں اسی پر ابدی عذاب کی وعید ہے اللہ کی رضا ان امور سے بچنے میں ہے جن سے اس نے منع فرما دیا ہے جیسے اللہ نے بےحیائی کے کاموں کو حرام قرار دے دیا وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے ظاہر جیسے برسر مجلس یا پردے میں یا دوسروں کو جتا کر یا اپنے اندر سوچتے ہوئے اور اللہ نے گناہ کے ہر کام سے منع فرما دیا ہے نیز ناحق ظلم سے بھی اثم ایسے گناہ جن کا تعلق اپنی ذات سے ہو اور بغی سے مراد ایسے معاملات جن کا تعلق دوسروں کے حقوق سے ہو یہ ایسے امور ہیں جن سے اللہ کریم نے سختی سے روکا ہے اور اپنی ذات یا صفات میں کسی کو بھی شریک ٹھہرانے کی اجازت نہیں دی نہ اس پر کوئی دلیل نازل فرمائی بلکہ یہ بھی بہت بڑا طلم ہے اور ایسے ہی اللہ کریم کے ذمے وہ باتیں لگانا جن کا حکم اللہ نے نہیں دیا بہت بڑی زیادتی ہے جیسے دین میں بدعات جاری کرنا اور جن کاموں کے کرنے کا شرعی حکم موجود نہیں انہیں باعث ثواب بتانا یا ثواب جان کر اختیار کرنا وغیرہ یہ سب منع ہیں اور مشرکین اور جاہلوں کا یہ حال ہے کہ بظاہر پھٹے پرانے کپڑے پہن لیں گے بھوک کاٹتے رہیں گے اور اس کے ساتھ لوگوں پر اپنی نیکی کا سکہ جما کر ان کا مال لے کر کھا جائیں گے یا انہیں مختلف مشرکانہ رسوم میں مبتلا کردیں گے یا بدعات کو رواج دے کر اپنی عاقبت برباد کرلیں گے۔ لیکن یہ بات یاد رکھ لو کہ ہر قوم کے لیے اور ہر طبقے کے لیے ایک خاص وقت تک اور ایک حد تک ہی مہلت ہوتی ہے جب وہ وقت مقررہ آجائے تو پھر لمحہ بھر آگے پیچھے نہیں ہوسکتا کوئی کتنی سرکشی اور کس قدر دھکو کرسکے گا بالآخر ہر کوئی اپنے انجام کو پا لے گا۔ اتباع نبوت ہی نجات کا واحد راستہ ہے : اے اولاد آدم یہ بات تو روز میثاق ہی بتا دی گئی تھی کہ میرے نبی اور رسول تم تک میرے ارشادات پہنچاتے رہیں گے کوئی زمانہ اور کوئی آبادی اس نعمت سے خالی نہ رہے گی اور یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ جس نے ان کی اطاعت اختیار کرکے میری زات سے تعلق جوڑ لیا اور اس پر قائم رہا تو اسے اندیشہ ہوگا نہ دکھ ماضی پہ بھی مطمئن ہوگا اور مستقبل لیے بھی پر امید اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی کردی گئی تھی کہ جن لوگوں نے انبیاء کی تعلیمات کا انکار کیا اور اپنے آپ ہی کو بڑا آدمی سمجھا ایسے لوگوں کو انجام کار دوزخ میں ٹھکانا ملے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کا جرم بھی تو بہت بڑا ہے کہ تعلیمات نبوت کا انکار دو طرح پر ہی تو ہوگا یا تو سرے سے ذات باری کا انکار کردیں گے اور مخلوق کے لیے اپنے خالق ہی کا انکار بہت بڑا ظلم ہے یا پھر ان کے مقابلے میں جھوٹا مذہب پیش کریں اپنی گھڑی ہوئی رسومات کو دین ، عبادت اور باعث ثواب ثابت کریں گے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے کے جرم میں مبتلا ہوں گے ظاہر ہے یہ ایسے مظالم ہیں جن پر اللہ کا غضب مرتب ہوگا جس کا مظہر جہنم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے دنیا میں جو بھی رزق اور عمر مقرر فرما دی ہے اکثر اوقات وہ اس سے مستفید ضرور ہوتے ہیں اس لیے کہ خود اللہ کریم نے مہتل بھی دی ہے اور حق و باطل میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت بھی لہذا اگر کوئی باطل کو اپنا لے تو محض اس وجہ سے نہ اس کا رزق روکا جاتا ہے اور نہ موت مسلط کی جاتی ہے ماشاء اللہ مگر کافروں کے اس حال پہ دھوکا بھی نہ رکھا جانا چاہئے کہ جب موت کے فرشتے روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں تو انہیں کہہ دیتے ہیں بھئی دار عمل کی فرصت ختم ہوئی اب دار جزا کو چلو مگر کیا بات ہے اللہ کریم کو چھوڑ کر جن کی غلامی اور اطاعت میں تمہاری زندگی گزری آج جب اطاعت کا بدلہ چکانے کی نوبت ہے وہ نظر نہیں آتے آج کی مشکل گھڑی میں تمہارے کام نہیں آ رہے تو کفار کہیں گے ہم سے کھو گئے کوئی نظر نہیں آ رہا اور نظر بھی کیا خاک آئیں گے کہ یہ مقام تو اللہ کریم کا تھا جو بہت بڑی گمراہی میں پڑ کر ہم نے دوسروں کے لیے مان لیا اور یوں اپنے کفر پر خود ہی گواہ بن رہے ہوں گے۔ موت کے وقت فرشتہ کافر سے بھی بات کرتا ہے : اور فیصلے کے وقت بھی یہی حکم ہوگا کہ کافر جن اور انسان اپنے سے پہلے گزرنے والے کافروں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوتے چلے جاؤ یعنی جس درجے کا کافر ہوگا اس درجے کے کفار میں داخل کردیا جائے گا اور جو بھی قوم داخل ہوگی اپنے سے پہلے پہنچی ہوئی جماعت کو لعنت کرے گی کہ کس قدر برا راستہ چھوڑ کر آئے تھے جس پر چل کر ہم بھی تباہ ہوگئے۔ جب سب دوزخی اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکیں گے تو بعد میں آنے والے اپنے سے پہلے آنے والوں کے لیے درخواست کریں گے کہ اے اللہ انہیں دوگنا عذاب دیجئے کہ یہ خود بھی گمراہ تھے ہمیں بھی گمراہ کرنے کا سبب بنے لہذا ان پر دوچند آگ بھڑکائی جائے ارشاد ہوگا بدبختو تم سب ایسے عذاب میں مبتلا ہو جو بڑھتا ہی رہے گا اور سب پر دوچند ہوتا چلا جائے گا لیکن تمہیں ان حقائق کی خبر نہیں یہ برائی اور گناہ پر دوستی کا انجام ہے جو بدترین دشمنی کی شکل میں ظاہر ہوگا ۔ اور پہلے والے کہیں گے کہ تم بھی برائی میں ہم سے کم نہیں ہو تم نے اللہ کے ارشادات سے منہ موڑ کر ہماری خرافات کو کیوں اپنایا تھا کیا تم نے کم ظلم کیا ہے اب اپنے کیے کا مزہ چکھو اور اپنے کردار کا نتیجہ بھگتو۔ اعاذنا اللہ منھا۔