7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 7:1–2

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

آل مّ ص

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب اتری ہے تجھ پر سو چاہیے کہ تیرا جی تنگ نہ ہو اس کے پہنچانے سے8 تاکہ تو ڈرائے اس سے اور نصیحت ہو ایمان والوں کو9

8 ابن عباس ؓ نے " حرج " کی تفسیر شک سے کی ہے گویا فلاَ یَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ کے ہم معنی ہوگا۔ یعنی پیغمبر جس پر خدا نے اپنی کتاب نازل فرمائی اس کی شان یہ نہیں کہ ذرا سا بھی کھٹکا یا شک و شبہ کتاب کے احکام و اخبار کے متعلق اس کے دل میں راہ پائے۔ دوسرے مفسرین نے الفاظ کو ان کے ظاہر پر رکھا۔ جیسا کہ مترجم محقق نے اختیار فرمایا ہے۔ یعنی تمام خلائق میں سے چن کر جس پر خدا نے اپنی کتاب اتاری اسے لائق نہیں کہ احمقوں اور معاندین کے طعن وتشنیع یا بیہودہ سوالات سے متاثر ہو کر اس کتاب کے کسی حصہ کی تبلیغ سے منقبض اور تنگ دل ہو (فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ) 11 ۔ ہود :12) اگر بفرض محال خود پیغمبر کے دل میں کتاب اور اس کے مستقبل کی طرف سے نہایت کامل وثوق و انشراح حاصل نہ ہو، تو وہ اپنے فرض انذار و تذکیر کو کس طرح قوت و جرأت کے ساتھ ادا کرسکے گا۔ 9 یعنی کتاب کے اتارنے سے غرض یہ ہے کہ تم ساری دنیا کو اس کے مستقبل سے آگاہ کردو اور بدی کے انجام سے ڈراؤ اور ایمان لانیوالوں کے حق میں خاص طور پر یہ ایک مؤثر پیغام نصیحت ثابت ہو۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

چلو اسی پر جو اترا تم پر تمہارے رب کی طرف سے اور نہ چلو اس کے سوا اور رفیقوں کے پیچھے تم بہت کم دھیان کرتے ہو10

10 آدمی اگر حق تعالیٰ کی تربیت عظیم، اپنے آغاز و انجام اور طاعت و معصیت کے نتائج پر پوری طرح دھیان کرے تو اس کو کبھی جرأت نہ ہو کہ اپنے رب کریم کی اتاری ہوئی ہدایات کو چھوڑ کر شیاطین الانس والجن کی رفاقت میں انہی کے پیچھے چلنا شروع کر دے۔ گذشتہ اقوام میں سے جنہوں نے خدا کی کتابوں اور پیغمبروں کے مقابلہ پر ایسا رویہ اختیار کیا، ان کو جو دنیاوی سزا ملی، وہ آگے مذکور ہے۔
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر یہی تھی ان کی پکار جس وقت کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب کہ کہنے لگے بیشک ہمیں تھے گناہ گار1

1 یعنی جب ان کے ظلم وعدوان اور کفر و عصیان کی حد ہوچکی، تو دنیا کی لذات و شہوات میں منہمک اور عذاب الہٰی سے بالکل بےفکر ہو کر خواب استراحت کے مزے لینے لگے کہ یکایک ہمارے عذاب نے آدبوچا۔ پھر ہلاکت آفرینیوں کے اس دہشت ناک منظر اور ہنگامہ دارو گیر میں ساری طمطراق بھول گئے چاروں طرف سے اِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ کی چیخ پکار کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ گویا اس وقت انہیں واضح ہوا اور اقرار کرنا پڑا کہ خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (تنبیہ) فَجَاءَھَا بَاْسُنَا کی " فائ " میں مفسرین کے کئی قول ہیں، غالباً مترجم محقق قدس سرہ، نے اس کو اَھْلَکْنٰھَاکی تفسیر و تفصیل قرار دیا ہے جیسے کہا جائے توضّاً فغسلَ وَجْھَہ، وذراعَیْہِ (فلاں شخص نے وضو کیا تو دھویا چہرہ اور ہاتھ وغیرہ) اس مثال میں منہ ہاتھ دھونا وضو کرنے ہی کی تفصیل و تفسیر ہے۔ اس طرح یہاں ہلاک کرنے کی تفسیر و تفصیل کیفیت عذاب کے بیان سے ہوگئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 7:6

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

سو ہم کو ضرور پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے2

2 جن امتوں کی طرف پیغمبر مبعوث ہوئے، ان سے سوال ہوگا (مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :65) (تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا تھا ؟ ) اور خود پیغمبروں سے پوچھیں گے ماذا اُجِبْتُمْ (تم کو امت کی طرف سے کیا جواب ملا تھا ؟ )
Ayah 7:7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم ان کو احوال سنائیں گے اپنے علم سے اور ہم کہیں غائب نہ تھے3

3 یعنی تمہارا کوئی جلیل و حقیر اور قلیل و کثیر عمل یا ظاہری و باطنی حال ہمارے علم سے غائب نہیں۔ ہم بلا توسط غیرے ذرہ ذرہ سے خبردار ہیں۔ اپنے اس علم ازلی محیط کے موافق سب اگلے پچھلے احوال تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیں گے۔ ملائیکۃ اللہ کے لکھے ہوئے اعمال نامے بھی علم الہٰی کے سرمو خلاف نہیں ہوسکتے ان کے ذریعہ سے اطلاع دینا محض ضابطہ کی مراعات اور نظام حکومت کا مظاہرہ ہے، ورنہ خدا اپنے علم میں ان ذرائع کا (معاذاللہ) محتاج نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 7:8–9

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور تول اس دن ٹھیک ہوگی پھر جس کی تولیں بھاری ہوئیں سو وہی ہیں نجات پانے والے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جس کی تولیں ہلکی ہوئیں سو وہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا4 اس واسطے کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے5

4 قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔ جن کے اعمال قلبیہ و اعمال جوارح وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہیں اور جن کا وزن ہلکا رہا وہ خسارہ میں رہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " شخص کے عمل وزن کے موافق لکھے جاتے ہیں۔ ایک ہی کام ہے، اگر اخلاص و محبت سے حکم شرعی کے موافق کیا۔ اور برمحل کیا، تو اس کا وزن بڑھ گیا اور دکھاوے کو یا ریس کو کیا یا موافق حکم نہ کیا یا ٹھکانے پر نہ کیا تو وزن گھٹ گیا۔ آخرت میں وہ کاغذ تلیں گے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برائیوں سے درگزر ہوا اور ہلکے ہوئے تو پکڑا گیا " بعض علماء کا خیال ہے کہ اعمال جو اس وقت اعراض ہیں، وہاں اعیان کی صورت میں مجسد کردیے جائیں گے۔ اور خود ان ہی اعمال کو تولا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال تو غیر قارالذات اعراض ہیں جن کا ہر جزء وقوع میں آنے کے ساتھ ہی ساتھ معدوم ہوتا رہتا ہے۔ پھر ان کا جمع ہونا تلنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ گراموفون میں آجکل لمبی چوڑی تقریریں بند کی جاتی ہیں، کیا وہ تقریریں اعراض میں سے نہیں ؟ جن کا ایک حرف ہماری زبان سے اس وقت ادا ہوسکتا ہے جب اس سے پہلا حرف نکل کر فنا ہوجائے پھر یہ تقریر کا سارا مجموعہ گراموفون میں کس طرح جمع ہوگیا ؟ اسی سے سمجھ لو کہ جو خدا گراموفون کے موجد کا بھی موجد ہے اس کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ ہمارے کل اعمال کے مکمل ریکارڈ تیار رکھے جس میں سے ایک شوشہ اور ذرہ بھی غائب نہ ہو۔ رہا ان کا وزن کیا جانا تو نصوص سے ہم کو اس قدر معلوم ہوچکا ہے کہ وزن ایسی میزان (ترازو) کے ذریعہ سے ہوگا جس میں کفتین اور لسان وغیرہ موجود ہیں لیکن وہ میزان اور اس کے دونوں پلے کس نوعیت و کیفیت کے ہوں گے اور اس سے وزن معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ ان باتوں کا احاطہ کرنا ہماری عقول و افہام کی رسائی سے باہر ہے۔ اسی لئے ان کے جاننے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔ بلکہ ایک میزان کیا اس عالم کی جتنی چیزیں ہیں بجز اس کے کہ ان کے نام ہم سن لیں اور ان کا کچھ اجمالی سا مفہوم جو قرآن و سنت نے بیان کردیا ہو عقیدہ میں رکھیں، اس سے زائد تفصیلات پر مطلع ہونا ہماری حد پرواز سے خارج ہے۔ کیونکہ جن نوامیس و قوانین کے ماتحت اس عالم کا وجود اور نظم و نسق ہوگا، ان پر ہم اس عالم میں رہتے ہوئے کچھ دسترس نہیں پاسکتے۔ اسی دنیا کی میزانوں کو دیکھ لو کتنی قسم کی ہیں۔ ایک میزان وہ ہے جس سے سونا چاندی یا موتی تلتے ہیں۔ ایک میزان سے غلہ اور سوختہ وزن کیا جاتا ہے۔ ایک میزان عام ریلوے اسٹیشنوں پر ہوتی ہے جس سے مسافروں کا سامان تولتے ہیں۔ ان کے سوا " مقیاس الہوا " یا " مقیاس الحرارت " وغیرہ بھی ایک طرح کی میزانیں ہیں جن سے ہوا اور حرارت وغیرہ کے درجات معلوم ہوتے ہیں۔ تھرما میٹر ہمارے بدن کی اندرونی حرارت کو جو اعراض میں سے ہے تول کر بتلاتا ہے کہ اس وقت ہمارے جسم میں اتنے ڈگری حرارت پائی جاتی ہے۔ جب دنیا میں بیسیوں قسم کی جسمانی میزانیں ہم مشاہدہ کرتے ہیں جن سے اعیان و اعراض کے اوزان و درجات کا تفاوت معلوم ہوتا ہے تو اس قادر مطلق کے لئے کیا مشکل ہے کہ ایک ایسی حسّی میزان قائم کر دے جس سے ہمارے اعمال کے اوزان و درجات کا تفاوت صورۃً و حسّاً ظاہر ہوتا ہو۔ 5 اور آیات کا انکار کرنا ہی ان کی حق تلفی ہے جسے یظلمون سے ادا فرمایا ہے۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں اور مقرر کریں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو6

6 یہاں سے بعض آیات آفاقیہ و انفسیہ کا بیان شروع کیا ہے جس سے ایک طرف حق تعالیٰ کے وجود پر کارخانہ عالم کے حکیمانہ نظم ونسق سے استدلال اور احسانات و انعامات الہٰیہ کا تذکرہ فرما کر اس کی شکر گذاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف نبوت کی ضرورت انبیاء (علیہم السلام) کی آمد، ان کی سیرت، ان کے متبعین و مخالفین کا انجام جو اس سورت کا اصلی موضوع معلوم ہوتا ہے، اس کے بیان کے لئے یہ آیات بطور توطیہ و تمہید کے مقدم کی گئی ہیں۔
Ayahs 7:11–13

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر صورتیں بنائیں تمہاری پھر حکم کیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سجدہ کیا سب نے مگر ابلیس نہ تھا سجدہ والوں میں

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

کہا تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا بولا میں اس سے بہتر ہوں مجھ کو تو نے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

کہا تو اتر یہاں سے1 تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے یہاں پس باہر نکل تو ذلیل ہے2

1 یعنی تمہاری تخلیق سے پہلے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان کیا۔ پھر تمہارا مادہ پیدا فرمایا۔ پھر اس مادہ کو ایسا دلکش نقشہ اور حسین و جمیل صورت عطا کی جو کسی دوسری مخلوق کو عطا نہ کی گئی تھی۔ پھر اس تصویر خاکی کو وہ روح اور حقیقت مرحمت ہوئی جس کی بدولت تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) جن کا وجود تمام افراد انسانی کے وجود پر اجمالاً مشتمل تھا۔ " خلیفتہ اللہ " و " مسجود ملائکہ " بنے۔ پھر جس نے اس وقت سجود تعظیمی سے سرتابی کی وہ مردود ازلی ٹھہرا کیونکہ وہ سجود خلافت الہٰیہ کے نشان کے طور پر تھا " ملائیکۃ اللہ " جو بحث و تمحیص اور صریح امتحان کے بعد آدم کی علمی فضیلت اور روحانی کمالات پر مطلع ہوچکے تھے حکم الہٰی سنتے ہی سجدہ میں گرپڑے اور اس طرح خلیفۃ اللہ کے روبرو اپنے پروردگار حقیقی کی کامل وفا شعاری اور اطاعت پذیری کا ثبوت دیا اور ابلیس لعین جو ناری الاصل جنی مگر کثرت عبادت وغیرہ کی وجہ سے زمرہ ملائکہ میں شامل ہوگیا تھا، آخرکار اپنی اصل کی طرف لوٹا۔ اس کی نظر آدم کی مادی ساخت سے نفخت فیہ من روحی کے راز تک تجاوز نہ کرسکی۔ اسی لئے صریح حکم الہٰی کے مقابلہ پر انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین کا دعویٰ کرنے لگا۔ آخر اسی اباء و استکبار اور نص صریح قاطع کو محض رائے وہوا سے رد کردینے اور خدا سے بحث ومناظرہ ٹھان لینے کی پاداش میں ہمیشہ کے لئے مرتبہ قرب سے نیچے گرا دیا اور رحمت الہٰیہ سے بہت دور پھینک دیا گیا۔ فی الحقیقت جس چیز پر اسے بڑا فخر تھا کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے، وہ ہی اس کی ہلاکت ابدی کا سبب ہوئی۔ آگ کا خاصہ خفت و حدت، سرعت و طیش اور علوو افساد ہے بخلاف مٹی کے کہ اس میں مستقل مزاجی، متانت اور متواضعانہ حلم و تثبت پایا جاتا ہے۔ ابلیس جو ناری الاصل تھا سجدہ کا حکم سن کر آگ بگولا ہوگیا اور رائے قائم کرنے میں تیزی اور جلد بازی دکھلائی۔ چناچہ ان کی استقامت وانابت نے ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہ، فَتَابَ عَلَیہ وَھَدٰی کا نتیجہ پیدا کیا۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ ابلیس لعین نے مادی و عنصری لحاظ سے بھی اپنی تفصیل کے دعوے میں ٹھوکر کھائی۔ چناچہ حافظ شمس الدین ابن القیم نے بدائع لغوائد میں پندرہ وجوہ سے مٹی کا آگ سے افضل ہونا ثابت کیا ہے۔ من شآء فلیر جعہ۔ 2 یعنی جنت میں یا آسمانوں پر خدا کی مخلوق رہ سکتی ہے جو خدا کی پوری مطیع و فرمانبردار ہو، نافرمان متکبروں کے لئے وہاں گنجائش نہیں، بہرحال ابلیس لعین عزت کے اس مقام سے جس پر کثرت عبادت وغیرہ کی وجہ سے اب تک فائز تھا، بڑا بول بولنے کی بدولت نیچے دھکیل دیا گیا (تنبیہ) ابلیس کے مدت دراز تک زمرہ ملائکہ میں شامل رکھنے سے متنبہ کردیا ہے کہ حق تعالیٰ نے مکلفین میں کسی کی فطرت حتیٰ کہ شیطان کی بھی ایسی نہیں بنائی کہ وہ صرف بدی کی طرف جانے کے لئے مجبور و مضطر ہوجائے بلکہ خبیث سے خبیث ہستی بھی اصل فطرت کے اعتبار سے اس کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنے کسب و اختیار سے نیکی اور پرہیزگاری میں انتہائی ترقی کر کے زمرہ ملائکہ میں جا ملے۔
Ayahs 7:14–15

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

بولا کہ مجھے مہلت دے اس دن تک کہ لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی3

3 یعنی جب تو نے یہ درخواست کی تو سمجھ لے کہ یہ پہلے سے علم الہٰی میں طے شدہ ہے کہ تجھ کو مہلت دی جائے۔ جب حکمت الہٰیہ مقتضی ہوئی کہ حق تعالیٰ اپنی صفات کمالیہ و شہنشاہانہ عظمت و جبروت کا مظاہرہ کرے تو اس نے عالم کو پیدا فرمایا۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا) 65 ۔ الطلاق :12) یعنی زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے کل نظم و نسق سے مقصود یہ ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ اور علم محیط وغیرہ صفات کی معرفت لوگوں کو حاصل ہو۔ اسی معرفت الہٰیہ کو آیت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدْون میں بعض سلف کی تفسیر کے موافق عبادت سے تعبیر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ تخلیق عالم سے یہ غرض بوجہ اتم جب ہی پوری ہوسکتی ہے کہ مخلوقات میں اس کی ہر قسم کی صفات و کمالات کا اظہار ہو، اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ عالم میں مطیع و وفادار اور باغی و مجرم ہر قسم کی مخلوق موجود ہو۔ نیز اعداء اللہ کو پوری زور آزمائی اور ان کے پیدائشی اختیار و قوت کے تمام وسائل استعمال کرنے کی آخری حد تک مہلت و آزادی دی جائے پھر انجام کار حکومت الہٰیہ کا لشکر غالب ہو، دشمن اپنے کیفر کردار کو پہنچیں اور بعد امتحان آخری کامیابی دوستوں کے ہاتھ رہے، اس کے بدون کل صفات کمالیہ کے ظاہر ہونے کی صورت نہیں۔ پس خیر و شر اور منبع خیر و شر کا پیدا کرنا، اسی حکمت سے ہے کہ جو غرض تخلیق عالم کی ہے یعنی " صفات کمالیہ کا مظاہرہ " وہ بغیر اس کے پوری نہ ہوسکتی تھی (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ 118؀ۙ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ) 11 ۔ ہود :18-19) اسی لئے ضروری ہوا کہ عدو اکبر ابلیس لعین کو جو منبع شر ہے پوری مہلت دی جائے کہ وہ تا قیام قیامت اپنے قویٰ و وسائل کو جی کھول کر استعمال کرلے لیکن یہ چیز ظاہر ہے کہ براہ راست اس محیط کل اور قادر مطلق کے مقابلہ پر ممکن نہ تھی، اس لئے ضروری ہوا کہ خدا کی طرف سے بطور نیابت و خلافت ایک ایسی مخلوق مقابلہ پر لائی جائے جس سے ابلیس لعین کو آزادی کے ساتھ جنگ آزمائی کا موقع مل سکے۔ (وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :64) اور پھر جب تک وہ مخلوق حق نیابت اور وظیفہ خلافت ادا کرتی رہے، خاص شاہی فوج (ملائکہ) سے اس کو کمک پہنچائی جائے اور باوجود ضعف و قلت کے اپنے فضل رحمت سے انجام کار دشمنوں کے مقابلہ میں مظفر و منصور کیا جائے۔ پس خوب سمجھ لو کہ یہ زمین ابلیس اور آدم کا میدان جنگ ہے اور چونکہ پوری طرح جان توڑ مقابلہ اسی وقت ہوسکتا تھا کہ دونوں حریف ایک دوسرے سے خار کھائے ہوں اس لئے تکویناً دو صورتیں ایسی پیش آگئیں جن سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کی دشمنی جاگزیں ہوجائے۔ ابلیس آدم کو سجدہ نہ کرنے کی بناء پر نیچے گرایا گیا اور آدم کو ابلیس کی وسوسہ اندازی کی بدولت جنت سے علیحدہ ہونا پڑا۔ ان واقعات سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کی عداوت کی جڑ قائم ہو کر معرکہ کار زار گرم ہوگیا۔ والحرب سجال وانما العبرۃ للخواتیم۔
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

بولا تو جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر4

4 یعنی رہزنوں کی طرح ان کے ایمانوں پر ڈاکہ مارونگا جن کے سبب مجھے یہ روز بد دیکھنا پڑا۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے5 اور نہ پائے گا تو اکثروں کو ان میں شکر گزار6

5 یعنی ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہونگا۔ جہات اربعہ کا ذکر تعمیم جہات کی طرف اشاہ کرنے کے لئے ہے۔ 6 یہ ابلیس لعین کا تخمینہ تھا جو صحیح نکلا۔ (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 34 ۔ سبأء :22)
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

کہا نکل یہاں سے برے حال سے مردود ہو کر جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں ضرور بھر دوں گا دوزخ کو تم سب سے7

7 یعنی اکثر آدمی ناشکرے ہونگے تو ہمارا کیا بگاڑیں گے۔ انجام کار ان ہی تھوڑے وفاداروں کے لئے کامیابی اور فلاح ہوگی اور ناشکروں کی کثرت دوزخ کی نذر ہوجائے گی۔ گویا اس طرح واضح کردیا جائے گا کہ جنود الشیطان کی اس قدر کثرت بھی " خلیفۃ اللہ " کے قلیل التعداد لشکر کو مغلوب و مقہور نہیں کرسکی۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم رہ تو اور تیری عورت جنت میں پھر کھاؤ جہاں سے چاہو اور پاس نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم ہوجاؤ گے گناہ گار8

8 آدم و حوا کو اجازت تھی کہ بلا روک ٹوک جو چاہیں کھائیں پئیں۔ بجز ایک معین درخت کے جس کا کھانا ان کی بہشتی زندگی اور استعداد کے مناسب نہ تھا، اسے فرما دیا کہ اس کے پاس نہ جاؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے میرے نزدیک یہاں فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کا ترجمہ اگر یوں کیا جاتا تو زیادہ موزوں ہوتا " پھر ہوجاؤ گے تم نقصان اٹھانے والوں میں سے۔ " ظلم کے معنی نقصان اور کمی و کوتاہی کے آتے ہیں جیسا کہ (وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَـيْــــًٔـا) 18 ۔ الکہف :33) میں۔
Ayahs 7:20–22

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر بہکایا ان کو شیطان نے تاکہ کھول دے ان پر وہ چیز کہ ان کی نظر سے پوشیدہ تھی ان کی شرمگاہوں سے اور وہ بولا کہ تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کبھی تم ہوجاؤ فرشتے یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والے

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان کے آگے قسم کھائی کہ میں البتہ تمہارا دوست ہوں

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پھر مائل کرلیا ان کو فریب سے1 پھر جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو کھل گئیں ان پر شرمگاہیں ان کی2 اور لگے جوڑنے اپنے اوپر بہشت کے پتے3 اور پکارا ان کے رب نے کیا میں نے منع نہ کیا تھا تم کو اس درخت سے اور نہ کہہ دیا تھا تم کو کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے

1 آدم و حوا شیطان کی قسموں سے متاثر ہوئے کہ خدا کا نام لے کر کون جھوٹ بولنے کی جرأت کرسکتا ہے، شاید وہ یہ سمجھے کہ واقعی اس کے کھانے سے ہم فرشتے بن جائیں گے، یا پھر کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اور حق تعالیٰ نے جونہی فرمائی تھی اس کی تعلیل یا تاویل کرلی ہوگی، لیکن غالباً (فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :19) اور (اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي) 20 ۔ طہ :117) وغیرہ سے نسیان ہوا، اور یہ بھی خیال نہ رہا کہ جب وہ مسجود ملائکہ بنائے جاچکے، پھر ملک بننے کی کیا ضرورت رہی۔ ( فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا) 20 ۔ طہ :115) واضح ہو کہ امر و نہی کبھی تو تشریعاً ہوتے ہیں اور کبھی شفقۃً ۔ اس کو یوں سمجھو کہ مثلاً ایک تو ریل میں بدون ٹکٹ سفر کرنے کی ممانعت ہے یہ تو قانونی حیثیت رکھتی ہے جس کا اثر کمپنی کے حقوق پر پڑتا ہے اور ایک جو گاڑیوں میں لکھا ہوتا ہے کہ " مت تھوکو کہ اس سے بیماری پھیلتی ہے۔ " یہ نہی شفقۃً ہے جیسا کہ بیماری پھیلنے کی تعلیل سے ظاہر ہے۔ اسی طرح خدا کے اوامرو نواہی بعض تشریعی ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم سمجھا جاتا ہے اور جن کا ارتکاب کرنا ان حقوق کے منافی ہے جن کی حفاظت کرنا تشریع کا منشا تھا۔ دوسرے وہ اوامرو نواہی ہیں جن کا منشا تشریع نہیں محض شفقت ہے جیسا کہ طب نبوی ﷺ وغیرہ کی بہت سی احادیث میں علماء نے تصریح کی ہے۔ شاید آدم (علیہ السلام) نے اکل شجرہ کی ممانعت کو نہی شفقت سمجھا، اسی لئے شیطان کی وسوسہ اندازی کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے کو زیادہ بھاری خیال نہ کیا۔ مگر چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی چھوٹی سی لغزش بھی ان کے مرتبہ قرب کے لحاظ سے عظیم و ثقیل بن جاتی ہے اس لئے اپنی غلطی کا ظاہری نقصان اٹھانے کے علاوہ مدت دراز تک توبہ و استغفار میں مشغول گریہ و بکا رہے آخرکار ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہ، فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی کے نتیجہ پر پہنچ گئے بود آدم دیدہ نور قدیمموئے دردیدہ بود کوہ عظیم۔ 2 یعنی عدول حکمی کرا کر لباس بہشتی ان پر سے اتروا دیا۔ کیونکہ جنتی لباس حقیقت میں لباس تقویٰ کی ایک محسوس صورت ہوتی ہے کسی ممنوع کے ارتکاب سے جس قدر لباس تقویٰ میں رخنہ پڑے گا اسی قدر جنتی لباس سے محرومی ہوگی۔ غرض شیطان نے کوشش کی عصیان کرا کر آدم کے بدن سے بطریق مجازات جنت کا خلعت فاخرہ اتروا دے۔ یہ میرا خیال ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب نے نزع لباس کو اکل شجرہ کے ایک طبعی اثر کے طور پر لیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ " حاجت استنجا اور حاجت شہوت جنت میں نہ تھی ان کے بدن پر کپڑے تھے جو کبھی اترتے نہ تھے کیونکہ حاجت اتارنے کی نہ ہوتی تھی، آدم و حوا اپنے اعضاء سے واقف نہ تھے جب یہ گناہ ہوا تو لوازم بشری پیدا ہوئے اپنی حاجت سے خبردار ہوئے اور اپنے اعضاء دیکھے۔ " گویا اس درخت کے کھانے سے جو پردہ انسانی کمزوریوں پر پڑا تھا وہ اٹھ گیا " سوأۃ " کے لغوی معنی میں بہت وسعت ہے قابیل ہابیل کے قصہ میں " سَوَئَۃَ اَخِیْہِ " فرمایا اور حدیث میں ہے " اِحْدٰی سَوْءَ تِکَ یَا مِقْدَادُ " اب تک آدم کی نظر میں صرف اپنی سادگی اور معصومیت اور ابلیس کی نظر میں صرف اس کی خلقی کمزوریاں تھیں لیکن اکل شجرہ کے بعد آدم کو اپنی کمزوریاں پیش نظر ہوگئیں اور جب اس غلطی کے بعد انہوں نے توبہ وانابت اختیار کی تو ابلیس لعین کو ان کے اعلیٰ کمال اور انتہائی نجابت اور شرافت کا مشاہدہ ہوگیا۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ مخلوق لغزش کھا کر بھی میری مار کھانے والی نہیں۔ (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ) 17 ۔ الاسراء :65) شاید اسی لحاظ سے تورات میں ابن قتیبہ صاحب معارف کی نقل کے موافق اس درخت کو " شجرۃ علم الخیر والشر " سے موسوم کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔ 3 یعنی برہنہ ہو کر شرمائے اور پتوں سے بدن ڈھانپنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ آدمی پیدائش کے وقت ننگا ہوتا ہے مگر فطری حیا مانع ہے کہ ننگا رہے۔
Ayahs 7:23–24

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

بولے وہ دونوں اے رب ہمارے ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور ہوجائیں گے تباہ

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا تم اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے4 اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک

4 مفسرین کے نزدیک یہ خطاب آدم و حوا اور ابلیس لعین سب کو ہے کیونکہ اصل عداوت آدم اور ابلیس کی ہے اور اس عداوت کا دنگل ہماری زمین بنائی گئی جس کی خلافت آدم کو سپرد ہوئی تھی۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا اسی میں تم زندہ رہو گے5 اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے

5 یعنی عموماً تمہارا مسکن اصلی و معتاد یہ ہی زمین ہے۔ اگر خرق عادت کے طور پر کوئی شخص کسی وقت ایک معین مدت کے لئے اس سے اوپر اٹھا لیا جائے مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام، تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیا جو شخص چند روز یا چند گھنٹے کے لئے زمین سے جدا ہو کر ہوائی جہاز میں مقیم ہو یا فرض کیجئے وہیں مرجائے وہ (فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :52) کے خلاف ہوگا۔ کیونکہ وہ اس وقت زمین پر نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے (مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ ) 20 ۔ طہ :55) جو اموات زمین میں مدفون نہ ہوں ان کو فیھا نعیدکم الخ میں کیسے داخل کیا جائے گا معلوم ہوا کہ اس قسم کے قضایا کلیہ کے رنگ میں استعمال نہیں ہوئے۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی ہم نے اتاری تم پر پوشاک جو ڈھانکے تمہاری شرمگاہیں اور اتارے آرایش کے کپڑے6 اور لباس پرہیزگاری کا وہ سب سے بہتر ہے7 یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ لوگ غور کریں8

6 اتارنے سے مراد اس کا مادہ وغیرہ پیدا کرنا اور اس کے تیار کرنے کی تدبیر بتلانا ہے گو اتارنے کا لفظ اکثر اس موقع پر بولتے ہیں جہاں ایک چیز کو اوپر سے نیچے لایا جائے مگر بہت دفعہ اس سے مکانی فوق و تحت مراد نہیں ہوتا۔ بلکہ جو مرتبہ کے اعتبار سے اونچا ہو، اس کی طرف سے کوئی چیز نیچے والوں کو عطا کئے جانے پر بھی یہ لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ) 39 ۔ الزمر :6) یا (وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ) 57 ۔ الحدید :25) 7 یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے صرف بدن کا تستّر یا تزیّن ہوتا ہے ایک معنوی پوشاک بھی ہے جس سے انسان کی باطنی کمزوریاں جن کے ظاہر کرنے کی اس میں استعداد پائی جاتی تھی پردہ خفا میں رہتی ہیں، منصّہ ظہور و فعلیت پر نہیں آنے پاتیں اور یہ ہی معنوی پوشاک جسے قرآن نے لباس التقویٰ فرمایا، باطن کی زینت و آرائش کا ذریعہ بنتی ہے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو ظاہری بدنی لباس بھی اسی باطنی لباس کو زیب تن کرنے کے لئے شرعاً مطلوب ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے پھر ہم نے تم کو دنیا میں تدبیر لباس کی سکھا دی۔ اب وہ ہی لباس پہنو جس میں پرہیزگاری ہو، یعنی مرد لباس ریشمی نہ پہنے اور دامن دراز نہ رکھے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھاوے۔ 8 یعنی ان نشانات میں غور کر کے حق تعالیٰ کے قادرانہ انعام و اکرام کے معترف اور شکر گزار ہوں۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی نہ بہکائے تم کو شیطان جیسا کہ اس نے نکال دیا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے اتروائے ان سے ان کے کپڑے1 تاکہ دکھلائے ان کو شرمگاہیں ان کی وہ دیکھتا ہے تم کو اور اس کی قوم جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھتے2 ہم نے کردیا شیطانوں کو رفیق ان لوگوں کا جو ایمان نہیں لاتے3

1 اخراج و نزاع کی اضافت ان کے سبب کی طرف کی گئی یعنی آدم و حوا کو جنت سے علیحدہ کرنے اور کپڑے اتارے جانے کا سبب وہ ہوا۔ اب تم اس کے فریب میں مت آؤ اور اس کی مکاریوں سے ہوشیار رہو۔ 2 یعنی جو دشمن ہم کو اس طرح دیکھ رہا ہو کہ ہماری نظر اس پر نہ پڑے اس کا حملہ سخت خطرناک اور مدافعت سخت دشوار ہوتی ہے۔ اس لئے تم کو بہت مستعد و بیدار رہنا چاہئے۔ ایسے دشمن کا علاج یہ ہی ہے کہ ہم کسی ایسی ہستی کی پناہ میں آجائیں جو اسے دیکھتی ہے پر وہ اسے نہیں دیکھتا۔ (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 6 ۔ الانعام :103) (ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ) 7 ۔ الاعراف :27) قضیہ مطلقہ ہے دائمہ نہیں یعنی بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ ہم کو دیکھتے ہیں اور ہم ان کو نہیں دیکھتے۔ اس کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی وقت بھی کوئی شخص کسی صورت میں ان کو نہ دیکھ سکے۔ پس آیت سے رویت جن کی بالکلیہ ہی نفی پر استدلال کرنا کوتاہ نظری ہے۔ 3 یعنی جب انہوں نے اپنی بےایمانی سے خود شیاطین کی رفاقت کو اپنے لئے پسند کرلیا۔ جیسا کہ چند آیات کے بعد آرہا ہے۔ (ۭاِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :30) تو ہم نے بھی اس انتخاب میں مزاحمت نہیں کی۔ جس کو انہوں نے اپنا رفیق بنانا چاہا اسی کو رفیق بنادیا گیا۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کرتے ہیں کوئی برا کام تو کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا اسی طرح کرتے اپنے باپ دادوں کو اور اللہ نے بھی ہم کو یہ حکم کیا ہے تو کہہ دے کہ اللہ حکم نہیں کرتا برے کام کا کیوں لگاتے ہو اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں4

4 یعنی برے اور بےحیائی کے کاموں مثلاً مرد و عورت کا برہنہ طواف کرنا، جو ان آیات کی شان نزول ہے جن سے عقل سلیم اور فطرت صحیحہ نفرت کرتی ہے۔ خدائے قدوس کی شان نہیں کہ ان کی تعلیم دے وہ تو پاکی اور حیا کا سرچشمہ ہے۔ گندے اور بےحیائی کے کاموں کا حکم کیسے دے سکتا ہے اصل میں بےحیائی اور برائی کی تعلیم دینے والے وہ شیاطین ہیں جن کو انہوں نے اپنا رفیق بنا رکھا ہے۔ دیکھو تمہارے سب سے پہلے ماں باپ کو شیطان نے فریب دیکر برہنہ کرایا۔ مگر وہ شرم و حیاء کے مارے درختوں کے پتے بدن پر لپیٹنے لگے معلوم ہوا کر برہنگی شیطان کی جانب سے اور ستر کی کوشش تمہارے باپ کی طرف سے ہوئی۔ پھر برہنہ طواف کرنے پر باپ دادوں کی سند لانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے نیز بقول حضرت شاہ صاحب سن چکے کہ پہلے باپ نے شیطان کا فریب کھایا پھر باپ کی کیوں سند لاتے ہو یہ کس قدر بےحیائی کی بات ہے کہ جو کام شیطان کے حکم سے ہو رہا ہے اسے کہا جائے کہ ہم کو خدا نے یہ حکم دیا ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میرے رب نے حکم کردیا انصاف کا5 اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اس کو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر6 جیسا تم کو پہلے پیدا کیا دوسری بار بھی پیدا ہو گے7

5 روح المعانی میں ہے " اَلْقِسْطُ عَلٰی مَا قَالَ غَیْرُ وَاحِدٍ اَلْعَدْلُ وَ ھُوَ الْوَسْطُ مِنْ کُلِّ شَیءٍ اَلْمُتَجَافِیْ عَنْ طَرَفَیِ الْاِفْرَاطِ وَ التَّفْرِیْطِ " آیت کا حاصل یہ ہوا کہ حق تعالیٰ نے ہر کام میں توسط و اعتدال پر رہنے اور افراط وتفریط سے بچنے کی ہدایت کی ہے پھر بھلا فواحش کا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔ 6 مترجم محقق نے " مسجد " کو غالباً مصدر میمی بمعنی سجود لیکر تجوزاً نماز کا ترجمہ کیا ہے اور " وجوہ " کو اپنے ظاہر پر رکھا ہے یعنی نماز ادا کرنے کے وقت اپنا منہ سیدھا (کعبہ کی طرف) رکھو۔ مگر دوسرے بعض مفسرین اَقِیْمُوا وُجُوْھَکُمْ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ خدا کی عبادت کی طرف ہمیشہ استقامت کے ساتھ دل سے متوجہ رہو۔ ابن کیثر کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی عبادت میں سیدھے رہو۔ جو راستہ پیغمبر (علیہ السلام) کا ہے اس سے ٹیڑھے ترچھے نہ چلو۔ عبادت کی مقبولیت دو ہی چیزوں پر موقوف تھی۔ خالص خدا کے لئے ہو۔ جس کو آگے فرمادیا۔ وَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اور اس مشروع طریق کے موافق ہو جو انبیاء مرسلین (علیہ السلام) نے تجویز فرمایا ہے۔ اس کو وَاَقِیْمُوا وُجُوھَکُمْ میں ادا کیا گیا۔ بہرحال اس آیت میں اوامر شرعیہ کی تمام انواع کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ جو بندوں کے معاملات سے متعلق ہیں وہ سب " قسط " میں آگئے اور جن کا تعلق خدا سے ہے اگر قالبی ہیں تو " واقیموا وجوھکم " میں اور قلبی ہیں تو وادعوہ مخلصین لہ الدین میں مندرج ہوگئے۔ 7 یعنی انسان کو اعتدال، استقامت اور اخلاص کی راہوں پر چلنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ملنے والی ہے جس میں موجودہ زندگی کے نتائج سامنے آئیں گے اس کی فکر ابھی سے ہونی چاہئے۔ (وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ) 59 ۔ الحشر :18)
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فرقہ کو ہدایت کی اور ایک فرقہ پر مقرر ہوچکی گمراہی انہوں نے بنایا شیطانوں کو رفیق اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں8

8 یعنی جن پر گمراہی مقرر ہوچکی، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست اور رفیق ٹھہرا لیا ہے۔ اور تماشا یہ ہے کہ اس صریح گمراہی کے باوجود سمجھتے یہ ہیں کہ ہم خوب ٹھیک چل رہے ہیں اور مذہبی حیثیت سے جو روش اور طرز عمل ہم نے اختیار کرلیا ہے وہ ہی درست ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ( اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا) 18 ۔ الکہف :104) (تنبیہ) آیت کے عموم سے ظاہر ہوا کہ کافر معاند کی طرح کافر مخطی بھی جو واقعی اپنی غلط فہمی سے باطل کو حق سمجھ رہا ہو (وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ ) 7 ۔ الاعراف :30) میں داخل ہے، خواہ یہ غلط فہمی پوری طرح غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے ہو، یا اس لئے کہ گو اس نے بظاہر پوری قوت غور فکر میں صرف کردی، لیکن ایسے صریح اور واضح حقائق تک نہ پہنچنا خود بتلاتا ہے کہ فی الحقیقت اس سے قوت فکرو استدلال کے استعمال میں کوتاہی ہوئی ہے۔ گویا جن چیزوں پر ایمان لانا مدارنجات ہے وہ اس قدر روشن اور واضح ہیں کہ ان کے انکار کی بجز عناد یا قصور فکر و تامل کے اور کوئی صورت نہیں۔ بہرحال کفر شرعی ایک ایسا سنکھیا (زہر) ہے جو جان بوجھ کر یا غلط فہمی سے کسی طرح بھی کھایا جائے انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ " اہلسنت والجماعت " کا مذہب یہ ہی ہے اور " روح المعانی " میں جو بعض کا اختلاف اس مسئلہ میں نقل کیا ہے، اس بعض سے مراد جاحظ و عنبری ہیں جو اہل السنت والجماعت میں داخل نہیں بلکہ باوجود " معتزلی " کہلائے جانے کے خود معتزلہ کو بھی ان کے اسلام میں کلام ہے۔ اسی لئے صاحب روح المعانی نے ان کا مذہب نقل کرنے کے بعد لکھ دیا " وللّٰہ تعالیٰ الحجۃ البالغۃ والتزام ان کل کافر معاند بعد البعثت و ظھور امر الحق کفار علی علٰم
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو اور بیجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے9

9 یہ آیات ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئیں جو کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے تھے اور اسے بڑی قربت اور پرہیزگاری سمجھتے تھے اور بعض اہل جاہلیت ایام حج میں سد رمق سے زائد کھانا اور گھی یا چکنائی وغیرہ کا استعمال چھوڑ دیتے تھے بعضوں نے بکری کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کر رکھا تھا۔ ان سب کو بتلا دیا کہ یہ کوئی نیکی اور تقویٰ کی باتیں نہیں۔ خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا تستّر اور آرائش ہے اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو، خدا نے جو کچھ پہننے اور کھانے پینے کو دیا ہے اس سے تمتّع کرو۔ بس شرط یہ ہے کہ اسراف نہ ہونے پائے۔ " اسراف " کے معنی ہیں " حد سے تجاوز کرنا " جس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً حلال کو حرام کرلے، یا حلال سے گزر کر حرام سے بھی متمتع ہونے لگے یا اناپ شناپ بےتمیزی اور حرص سے کھانے پر گرپڑے، یا بدون اشتہاء کے کھانے لگے، یا ناوقت کھائے یا اس قدر کم کھائے جو صحت جسمانی اور قوت عمل کے باقی رکھنے کے لئے کافی نہ ہو، یا مضر صحت چیزیں استعمال کرے وغیر ذٰلک، لفظ " اسراف " ان سب امور کو شامل ہوسکتا ہے۔ بےجا خرچ کرنا بھی اس کی ایک فرد ہے۔ اسی تعمیم کے لحاظ سے بعض سلف نے فرمایا کہ " جمع اللّٰہ الطب کلہ فی نصف اٰیۃ " (خدا نے ساری طب آدھی آیت میں اکٹھی کردی) ۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

تو کہہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اس نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی تو کہہ یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن اسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں1

1 عالم کی تمام چیزیں اسی لئے پیدا کی گئی ہیں کہ آدمی ان سے مناسب طریقہ سے منتفع ہو کر خالق جلّ و علیٰ کی عبادت، وفاداری اور شکر گزاری میں مشغول ہو۔ اس اعتبار سے دنیا کی تمام نعمتیں اصل میں مومنین و مطیعین ہی کے لئے پیدا ہوئی ہیں البتہ کافروں کو بھی ان چیزوں سے روکا نہیں گیا وہ بھی اپنے اعمال و تدابیر سے دنیاوی مفاد حاصل کرلیتے ہیں۔ بلکہ جب اہل ایمان قوت ایمان وتقویٰ میں کمزور ہوں، تو یہ غاصبین اپنی عملی تگ و دو میں بظاہر زیادہ کامیاب معلوم ہوتے ہیں جسے کچھ تو کفار کے اعمال فانیہ کا ثمرہ سمجھنا چاہیے اور کچھ مومنین کے حق میں تنبیہ و توبیخ (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ 15؀ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 16؀) 11 ۔ ہود :15-16) رہی آخرت کی نعماء وہ خالص اہل ایمان کا حصہ ہے۔ بعض علماء نے خالصۃً یوم القیامہ کے معنی یہ لئے ہیں کہ دنیاوی نعمتیں خالص نہیں کیونکہ ان کے ساتھ بہت سے غم و فکر اور تکلیفیں برادشت کرنا پڑتی ہیں۔ آخرت کی نعمتیں ہر قسم کی کدورات سے خالی ہوں گی اور ابن عباس سے " در منثور " میں آیت کے معنی یہ نقل کئے ہیں کہ دنیاوی نعمتیں اس شان سے کہ آخرت میں وبال نہ بنیں صرف مومنین کے لئے ہیں کفار کے حق میں یہاں کا تنعّم ان کے کفر و حق ناشناسی کی وجہ سے عذاب و وبال بن جائے گا۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

تو کہہ دے میرے رب نے حرام کیا ہے صرف بےحیائی کی باتوں کو جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو2 اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری اور اس بات کو کہ لگاؤ اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں3

2 " اثـــم " سے عام گناہ مراد ہیں اور بعض مخصوص گناہوں کو مناسبت مقام یا اہمیت کی وجہ سے بیان فرما دیا۔ " اثم " وہ گناہ ہے جس کا تعلق گناہ کرنے والے کے سوا دوسرے لوگوں سے نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ 3 جیسا کہ فحشاء کے متعلق کہتے تھے واللّٰہُ اَمَرنَا بِھَا۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر فرقے کے واسطے ایک وعدہ ہے پھر جب آپہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے4

4 بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ جب وعدہ کا وقت آپہنچا اور بعض کے نزدیک تو تاخیر کا امکان عقلی تھا اس لئے اس کی نفی ضروری ہوئی مگر تقدیم تو عقلاً ممکن ہی نہیں۔ اس کی نفی سے کیا فائدہ ہے ؟ اسی شبہ کی وجہ سے بعض مفسرین نے لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ کا عطف شرطیہ اِذَا جَاءَ اَجَلُھُمْ الخ پر مانا ہے اور بعض نے جاءَ اَجَلُھُمْ سے قرب و دُنوُّ مراد لیا ہے۔ میرے نزدیک ان تکلفات کی حاجت نہیں۔ محاورات میں کسی ایسی چیز کو جس کے مقابل دو طرفیں ہوں زور اور تاکید سے ثابت کرنے کے لئے بسا اوقات ایک طرف کی جو محتمل الثبوت ہو نفی مقصوداً کی جاتی ہے اور دوسری طرف کی جو پہلے سے غیر محتمل ہے نفی کو محض مبالغہ تاکید اور تحسین کلام کے طور پر استطراداً ذکر کردیتے ہیں۔ ایک خریدار دکاندار سے کسی چیز کی قیمت معلوم کر کے کہتا ہے کہ کچھ " کم و بیش " دکاندار بھی کہہ دیتا ہے کہ " کم و بیش نہیں ہوسکتا۔ " دونوں جگہ " کم " کا ذکر مقصود ہے۔ اور " بیش " کا لفظ محض تعیین قیمت کی تاکید و مبالغہ کے لئے استطراداً ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں بھی غرض اصلی کلام سے یہ ہے کہ خدا کا وعدہ جب آپہنچے تو پھر اٹل ہے ایک منٹ کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ مقصود تاخیر کی نفی کرنا ہے۔ تقدیم جو پہلے سے ظاہر الانتفاء تھی اس کی نفی کرنا محض وعدہ کے اصل ہونے پر زور ڈالنے کا ایک پیرا یہ ہے یعنی خدا پر افترا کرنے والے اور اس کی طرف نسبت کر کے حرام کو حلال بنانے والے خدا کی ڈھیل پر مغرورو بےفکر نہ ہوں۔ ہر امت اور ہر فرد کی خدا کے یہاں ایک معین مدت ہے، جب سزا کی گھڑی آجائے گی پھر ٹل نہ سکے گی۔
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے کہ سنائیں تم کو آیتیں میری تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے وہی ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے5

5 ابن جریر نے ابو یسار سلمی سے نقل کیا ہے کہ یہ خطاب (يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ ) 7 ۔ الاعراف :35) کل اولاد آدم کو عالم ارواح میں ہوا تھا۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ (قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى) 2 ۔ البقرۃ :38) اور بعض محققین کے نزدیک جو خطاب ہر زمانہ میں ہر قوم کو ہوتا رہا، یہ اس کی حکایت ہے میرے نزدیک دو رکوع پہلے سے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کی ترتیب و تنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم و حوا اپنے اصلی مسکن (جنت) سے جہاں ان کو آزادی و فراخی کے ساتھ بلا روک ٹوک زندگی بسر کرنے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ عارضی طور پر محروم کردیئے گئے تو ان کی مخلصانہ توبہ وانابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولاد آدم کو اپنی آبائی میراث واپس دلانے کے لئے کچھ ہدایات کی جائیں۔ چناچہ ہبوط آدم کا قصہ ختم کرنے کے بعد معًا ( يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا) 7 ۔ الاعراف :26) سے خطاب شروع فرما کر تین چار رکوع تک ان ہی ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔ ان آیات میں کل اولاد آدم کو گویا بیک وقت موجود تسلیم کر کے عام خطاب کیا گیا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد ہم نے بہشتی لباس و طعام کی جگہ تمہارے لئے زمینی لباس و طعام کی تدبیر فرما دی گو جنت کی خوشحالی اور بےفکری یہاں میسر نہیں تاہم ہر قسم کی راحت و آسائش کے سامان سے منتفع ہونے کا تم کو موقع دیا تاکہ تم یہاں رہ کر اطمینان سے اپنا مسکن اصلی اور آبائی ترکہ واپس لینے کی تدبیر کرسکو۔ چاہیے کہ شیطان لعین کے مکرو فریب سے ہشیار رہو، کہیں ہمیشہ کے لئے تم کو اس میراث سے محروم نہ کر دے۔ بےحیائی اور اثم وعدوان سے بچو۔ اخلاص و عبودیت کا راستہ اختیار کرو۔ خدا کی نعمتوں سے تمتع کرو مگر جو حدود وقیود مالک حقیقی نے عائد کردی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ پھر دیکھو ہر قوم اپنی اپنی مدت موعودہ پوری کر کے کس طرح اپنے ٹھکانہ پر پہنچ جاتی ہے۔ اس اثناء میں اگر خدا کسی وقت تم ہی میں سے اپنے پیغمبر مبعوث فرمائے جو خدا کی آیات پڑھ کر سنائیں جن سے تم کو اپنے باپ کی اصلی میراث (جنت) حاصل کرنے کی ترغیب و تذکیر ہو اور مالک حقیقی کی خوشنودی کی راہیں معلوم ہوں، ان کی پیروی اور مدد کرو۔ خدا سے ڈر کر برے کاموں کو چھوڑ دو اور اعمال صالحہ اختیار کرو تو پھر تمہارا مستقبل بالکل بےخوف و خطر ہے۔ تم ایسے مقام پر پہنچ جاؤ گے جہاں سکھ اور امن و اطمینان کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں، ہاں اگر ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان پر عمل کرنے سے کترائے تو مسکن اصلی اور آبائی میراث سے دائمی محرومی اور ابدی عذاب و ہلاکت کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ بہرحال جو لوگ اس آیت سے ختم نبوت کی نصوص قطعیہ کے خلاف قیامت تک کے لئے انبیاء ورسل کی آمد کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ان کے لئے اس جگہ کوئی موقع اپنی مطلب برآوری کا نہیں۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا جھٹلائے اس کے حکموں کو6 وہ لوگ ہیں کہ ملے گا ان کو جو ان کا حصہ لکھا ہوا ہے کتاب میں1 یہاں تک کہ جب پہنچیں ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کو تو کہیں کیا ہوئے وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے سوا اللہ کے بولیں گے وہ ہم سے کھوئے گئے اور اقرار کرلیں گے اپنے اوپر کہ بیشک کافر تھے2

6 یعنی ان سچے پیغمبروں کی تصدیق کرنا ضروری ہے جو واقعی خدا کی آیات سناتے ہیں، باقی جو شخص پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کر کے اور جھوٹی آیات بنا کر خدا پر افتراء کرے یا کسی سچے پیغمبر کو اور اس کی لائی ہوئی آیات کو جھٹلائے ان دونوں سے زیادہ ظالم کوئی نہیں۔ 1 یعنی دنیا میں عمر و رزق وغیرہ جتنا مقدر ہے یا یہاں کی ذلت و رسوائی جو ان کے لئے لکھی ہے وہ پہنچے گی، پھر مرتے وقت اور مرنے کے بعد جو درگت بنے گی اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ اور اگر نَصِیْبُھُم مِّنَ الْکِتَابِ سے دنیا کا نہیں عذاب اخروی کا حصہ مراد لیا جائے تو حتی اذا جاءتھم سے اس پر تنبیہ ہوگی کہ اس عذاب کے مبادی کا سلسلہ اسی دنیاوی زندگی کے آخری لمحات میں شروع ہوجاتا ہے۔ 2 یعنی جب فرشتے نہایت سختی سے ان کی روح قبض کر کے برے حال سے لے جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ خدا کے سوا جن کو تم پکارا کرتے تھے وہ کہاں گئے جو اب تمہارے کام نہیں آتے، انہیں بلاؤ تاکہ اس مصیبت سے تمہیں چھڑائیں۔ اس وقت کفار کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہم سخت غلطی میں پڑے تھے کہ ایسی چیزوں کو معبود و مستعان بنا لیا جو اس کے مستحق نہ تھے۔ آج ہماری اس مصیبت میں ان کا کہیں پتا نہیں۔ لیکن یہ ناوقت کا اقرار و ندامت کیا نفع دے سکتی ہے حکم ہوگا اُدْخُلُوْ فِیْ اُمَمٍ الخ باقی بعض مواضع میں جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک سے انکار کریں گے، اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ قیامت میں مواقف اور احوال مختلف ہوں گے اور جماعتیں بھی بیشمار ہوں گی کہیں ایک موقف یا ایک جماعت کا ذکر ہے کہیں دوسری کا۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

فرمائے گا داخل ہوجاؤ ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے ہوچکی ہیں جن اور آدمیوں میں سے دوزخ کے اندر3 جب داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی دوسری امت کو4 یہاں تک کہ جب گر چکیں گے اس میں سارے تو کہیں گے ان کے پچھلے پہلوں کو اے رب ہمارے ہم کو انہی نے گمراہ کیا سو تو ان کو دے دونا عذاب آگ کا فرمائے گا کہ دونوں کو دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے5

3 یعنی آگے پیچھے کفار کو دوزخ ہی میں داخل ہونا ہے۔ 4 یعنی اس مصیبت میں باہم ہمدردی تو کیا ہوتی، دوزخی ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے۔ شاید اتباع اپنے سرداروں سے کہیں کہ تم پر خدا کی لعنت ہو تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبے اور سردار اتباع سے کہیں کہ ملعونو ! اگر ہم گڑھے میں گرپڑے تھے تو تم کیوں اندھے بن گئے۔ وغیرذالک 5 یعنی ایک حساب سے پہلوں کا گناہ دگنا کہ خود گمراہ ہوئے اور دوسرے آنے والوں کے لئے راہ ڈالی۔ اور ایک طرح پچھلوں کا دگنا کہ خود بہکے اور پہلوں کا حال دیکھ سن کر عبرت حاصل نہ کی۔ یا چونکہ ہر دوزخی کا عذاب اپنے اپنے درجہ کے موافق وقتاً فوقتاً بڑھتا رہے گا اس لئے فرمایا کہ ہر ایک کا عذاب دگنا ہوتا چلا جائے گا۔ ابھی آغاز تعذیب میں تمہیں انجام کی خبر نہیں یعنی پہلوں کا عذاب دگنا کردینے سے تم پچھلوں کو کوئی شفاء اور راحت نصیب نہیں ہوگی۔ یہ تقریر اس صورت میں ہے کہ لِکُلِّ ضعفٌ سے دونوں فریق مراد لئے جائیں۔ لیکن ابن کثیر کے نزدیک اس آیت میں پچھلوں کو مطلع کیا گیا ہے کہ بیشک ہم نے پہلوں میں سے ہر ایک کے لئے اس کے درجہ کے موافق دگنا ہی عذاب رکھا ہے جیسا کہ دوسری جگہ خبر دی ہے (اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ ) 16 ۔ النحل :88) (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ) 29 ۔ العنکبوت :13) (وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ) 16 ۔ النحل :25)
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے6

6 یعنی ہماری سزا میں اضافہ کی درخواست کر کے تمہیں کیا مل گیا ؟ کیا تمہارے عذاب میں کچھ تخفیف ہوگئی ؟ نہیں، تم کو بھی اپنی کرتوت کا مزہ چکھنا ہے
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا نہ کھولے جائیں گے ان کیلئے دروازے آسمان کے7 اور نہ داخل ہوں گے جنت میں یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں8 اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو

7 یعنی نہ زندگی میں ان کے اعمال کے لئے آسمانی قبول و رفعت حاصل ہے۔ نہ موت کے بعد ان کی ارواح کو آسمان پر چڑھنے کی اجازت ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ " بعد موت کافر کی روح کو آسمان کی جانب سے سجین کی طرف دھکے دئیے جاتے ہیں اور مومن کی روح ساتویں آسمان تک صعود کرتی ہے۔ " مفصل احوال کتب احادیث میں ملاحظہ کرو۔ 8 یہ تعلیق بالمحال کے طور پر فرمایا۔ ہر زبان کے محاورات میں ایسی امثال موجود ہے جن میں کسی چیز کے محال ہونے کو دوسری محال چیز پر معلق کر کے ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح یہ ناممکن ہے کہ اونٹ اپنی اسی کلانی اور جسامت پر رہے اور سوئی کا ناکہ ایسا ہی تنگ اور چھوٹا ہو۔ اس کے باوجود اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ اسی طرح ان مکذبین و متکبرین کا جنت میں داخل ہونا محال ہے کیونکہ حق تعالیٰ جہنم میں ان کے " خلود " کی خبر دے چکا ہے اور علم الہٰی میں یہ ہی سزا ان کے لئے ٹھہر چکی ہے پھر خدا کے علم اور اخبار کے خلاف کیسے وقوع میں آسکتا ہے۔