Ayah 7:11 ۔ حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا) یہاں ابن عباس ؓ سے ان حروف کے دو معنی منقول ہیں۔ ایک ان اللہ افضل۔ دوسرے ان اللہ اعلم و افضل (کبیر)
Ayah 7:22 ۔ یعنی اس کی نصیحتوں سے تو نفع اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ (آیت) ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “۔ یعنی یہ خیال کرکے اپنا دل نہ کڑھائیے کہ بہت سے لوگ اس سے انکار وتکذیب کے بھی مرتکب ہوں گے۔ ای لا یضیق صدرک الایومنوا بہ (قرطبی) (آیت) ” لتنذر بہ وذکری لل مومنین “۔ انذار، کافروں کے لیے ہے اور (آیت) ” ذکری “ مومینن کے حق میں۔ الانذار للکافرین وذکری للمومنین لانھم المنتفعون بہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا آیت میں شیخ کے لیے اشارہ ہے کہ مخاطب اگر اس کی بات نہ قبول کرے تو شیخ نہ تو بالکل ہی مستغنی رہے اور نہ زیادہ فکروتردد میں پڑے۔
Ayah 7:33 ۔ یہ رفیق وہیں ہیں جنہیں دوسری جگہ قرآن میں شیاطین الجن والانس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ای یضلونکم من الجن والانس (بیضاوی) انزل الیکم من ربکم “۔ یعنی جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے پیغمبر کے واسطے سے نازل ہوا ہے۔ ابھی انزل الیک میں خطاب پیغمبر ﷺ سے براہ راست تھا، اب خطاب مومنین سے ہے جن کا ذکر (آیت) ” ذکری لل مومنین “ کے تحت میں ابھی آچکا ہے۔ اور (آیت) ” انزل الیکم “ سے مراد نزول بواسطہ پیغمبر ہے۔ دونوں طرز تعبیر اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کے عموم میں محققین نے قرآن کے ساتھ سنت کو بھی بھی شامل کیا ہے کہ وہ بھی وحی خفی کی ایک صورت ہے، یعنی الکتاب والسنۃ (قرطبی) یتناول الکتاب والسنۃ (کبیر) ای القران والسنۃ (مدارک) لیکن خود خبر واحد کے قبول کا معیار یہی ہے کہ وہ کسی نص قرآنی کے مخالف نہ ہو اور حنفیہ نے اس پر خاص طور سے زور دیا ہے۔ دلیل علی وجوب اتباع القرآن فی کل حال وانہ غیر جائز الاعتراض علی حکمہ باخبار والاحاد لان الامر باتباعہ قدثبت بنص التنزیل و قبول خبر واحد غیر ثابت بنص التنزیل وھذا یدل علی صحۃ قول اصحابنا فی ان قول من خالف القران فی اخبار الاحاد غیر مقبول (جصاص) (آیت) ” من دونہ “۔ میں ضمیر ربکم کی طرف ہے یعنی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنا مطاع مت قرار دو ۔ والھاء تعود علی الرب سبحانہ والمعنی لاتعبدوا معہ غیرہ (قرطبی) ای من دون اللہ (مدارک) آیت سے صاف ظاہر ہے نہ نص کے ہوتے ہوئے رائے کی پیروی ممنوع ہے۔ ودلت الایۃ علی ترک اتباع الاراء مع وجود النص (قرطبی)
4 ۔ چناچہ گمراہی اور گمراہوں دونوں کی کثرت ظاہر ہے۔ (آیت) ” ماتذکرون “۔ میں ما زایدہ قلت تذکر کی تاکید کے لیے ہے۔ اصل ترکیب کلام یوں ہے۔ تذکرون تذکرا قلیلا۔ مامزیدۃ لتوکید القلۃ (کشاف، بیضاوی)
Ayah 7:45 ۔ یعنی عموما ایسے وقت جب وہ غفلت اور بےفکری میں پڑے تھے ان دونوں وقتوں کی تصریح اس لیے کی گئی کہ یہی دو وقت عموما غفلت وبے فکری کے ہوتے ہیں۔ نص ھذان الوقتان لانھما وقتا الغفلۃ (مدارک) معنی الایۃ انھم جاء ھم بأسناوھم غیرمتوقعین لہ اما لیلا وھم نائمون اونھارا وھم قائلون والمقصود انھم جاء ھم العذاب علی حین غفلۃ منھم (کبیر) (آیت) ” اوھم قآئلون “۔ قائل قیلولہ کرنے والے کے معنی میں ہے اور قیلولہ کہتے ہیں دوپہر میں آرام کرنے کو۔ یعنی القائلۃ وھی القیلولۃ وھی نوم نصف النھار وقیل الاستراحۃ نصف النھار اذا اشتدالحر وان لم یکن معنی معھا نوم (قرطبی) قال قال اللیث القیلولۃ نومۃ نصف النھار وقال الازھری القیلولۃ عند العرب الاستراحۃ نصف النھار اذا اشتدالحروان لم یکن مع ذلک نوم (کبیر)
Ayah 7:56 ۔ دنیا میں بھی جب کوئی قوم ادبار وتباہی کے عذاب میں مبتلا ہولیتی ہے تو بعد کو اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کا اقرار ہی کرتے اسے بنتا ہے، اور پھر اسباب پر بحث شروع ہوتی ہے۔
Ayah 7:67 ۔ ان امتوں سے تو یہ کہ تم نے انبیاء کی دعوت کہاں تک قبول کی ؟ اور پیغمبروں سے یہ کہ تمہاری دعوت کہاں تک قبول کی گئی ؟
Ayah 7:78 ۔ اس میں اثبات ہے حق تعالیٰ کے علم کامل وعلم صادق کا۔ ابھی اوپر حشر میں سوالات کا ذکر ہے۔ اب یہ ارشاد ہورہا ہے کہ یہ پوچھ پاچھ کچھ اس لیے تو ہوگی نہیں کہ (نعوذ باللہ) ہم کچھ ناواقف تھے۔ علم وتحقیق کا مصدر ومخذن تو خود ہماری ذات ہے۔۔ ہر کیفیت ہم پر خو آئینہ ہے۔ پورے پورے حالات تحقیق کے ساتھ تو ہم خود ہی بیان کردیں گے اور کیوں نہ بیان کریں، کیا ہم کہیں کچھ دیر کے لیے چلے گئے یا غائب ہوگئے تھے ؟ ہمہ وقت تو ہم خود ہی حاضر وموجود رہے ہیں۔ اس میں رد آگیا اس احمق جاہلی فلسفیوں کا جو سمجھتے تھے کہ حق تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں۔
Ayah 7:89 ۔ الفاظ میں ” وزن “ ہونا رائے میں ” وزن “ ہونا، معانی میں ” وزن “ ہونا یہ تو ہم لوگ گفتگو میں روز مرہ بولتے اور مجازی حیثیت سے برابر تسلیم ہی کرتے ہیں یوم حشر کشف حقائق کا دن ہوگا، ہر مجاز عین حقیقت بن جائے گا۔ ” وزن “ کے لیے جسمیت کی شرط تو مخصوص اس عالم ناسوت کے ساتھ ہے۔ اس عالم میں تو مجردات بھی محسوسات کے لباس میں ملبوس ہوں گے۔ (آیت) ” الوزن “ کے مجازی معنی یہی کیے گئے ہیں۔ لیکن اکابر اہل سنت کے یہاں بلاضرورت ظاہر کو چھوڑ کر مجاز ماننا درست نہیں۔ وقد اجمعت الامۃ فی الصدر الاول علی الاخذ بھذہ الظواھر من غیر تاویل واذا اجمعوا علی منع التاویل وجب الاخذ بالظاھر وصارت ھذہ الظواھر نصوصا (قرطبی) (آیت) ” یومئذ “۔ سے مراد قیامت کا دن ہونا ظاہرہی ہے۔ وہ دن تو کشف حقائق کا ہوگا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اعمال میں وزن تو آج بھی ہو۔ لیکن آج ہمارے قوی کے لیے غیر مدرک ہو، اور اس روز جب ہمارا ادراک خود ہی سوگنا اور ہزار گنا بڑھ چکے گا، اعمال کی یہ کیفیت بھی ہمارے علم و شعور میں آنے لگے۔ بارکلے برطانیہ کے مشہور فلسفی نے ثابت کیا ہے کہ مادہ کے جتنے بھی اعراض تسلیم کیے گئے ہیں، ان کی اصل تو ان کی محسوسیت ہی ہے۔ اگر وہ سرے سے کسی کو محسوس ہی نہ ہوں تو ان کے وجود ہی کے کوئی معنی نہیں۔ اعمال کی صفت وزن آج ہمارے موجودہ قوی کے لیے غیرمحسوس ہے، کل ہمارے ترقی یافتہ قوی کے لیے محسوس ومدرک ہوجائے گی، (آیت) ” الوزن “۔ عقائد و اعمال کا وزن مراد ہے اور، یہ معنی صحابہ وتابعین سے مروی ہے۔ صحائف اعمال کا وزن بھی مراد لیا گیا ہے۔ ای وزن الاعمال (مدارک) والجمھور علی ان صحائف الاعمال توزن بمیزان (بیضاوی) والمراد بالوزن اعمال العباد بالمیزان (قرطبی) والذی یوضع فی المیزان یوم القیمۃ قیل الاعمال وان کانت اعراضا الاان اللہ تعالیٰ یقلبھا یوم القیامۃ اجساما (ابن کثیر) امام رازی (رح) نے ایک روایت میں حدیث رسول ﷺ کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ مفسرین کا عام مذہب اس باب میں وزن صحائف اعمال کا ہے۔ سئل رسول اللہ ﷺ عمایوزن یوم القیامۃ فقال الصحف وھذا القول مذھب عامۃ المفسرین فی ھذہ الایۃ (کبیر)
Ayah 7:910 ۔ دین حق کو نہ قبول کرنا اور نظام خداوندی سے انکار وبغاوت کیے جانا آیات الہی کے حق میں ظلم وبے انصافی کرنا ہے۔ اصل زندگی اصل جان، اصل حسن، اصل وزن، صرف طاعتوں یا نیکیوں میں ہے جو یہاں سے کہیں بڑھ کر وہاں نمایاں ہوگا۔ اور ہر معصیت وبدی کی زندگی عارضی ونمائشی ہے۔ ان کا کھوکھلاپن بھی حشرہی میں جو کشف حقائق کا مقام ہے خوب نمایاں ہوگا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے وہاں نمایاں ہوگا۔ اور ہر معصیت وبدی کی زندگی عارضی ونمائشی ہے۔ ان کا کھوکھلا پن بھی حشر ہی میں جو کشف حقائق کا مقام ہے خوب نمایاں ہوگا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دنیا میں لوگوں کے ساتھ معاملت کرنے کا ایک دستور العمل ہاتھ آجاتا ہے۔ جن لوگوں کی غالب حالت صلاح کی ہو، انہیں صالح ہی سمجھاجائے گا، اگرچہ ان میں خفیف جزء نقص کا بھی ہو۔ البتہ خود ایسے شخص پر واجب ہوگا کہ اپنے نفس کی اصلاح کرے۔
Ayah 7:101 1 ۔ (اے انسانو ! ) خطاب عام عالم انسانی کو ہے۔ (آیت) ” قلیلاماتشکرون “۔ گرفت کے قابل اور اصل جرم یہ عدم شکر گزاری یا برائے نام شکرگزاری ہے۔ اور ادائے شکر کے معنی ادائے حقوق کے ہیں۔ یعنی جس نعمت کے برتنے کے جو حقوق شریعت الہی نے بتائے ہیں انہیں برتنا۔ (آیت) ” ولقد مکنکم فی الارض وجعلنا لکم فیھا معایش “۔ زمین پر سکھ کے ساتھ رہنے سہنے کی جگہ ملنا، سامان معیشت بہ افراط ملنا، خاص طور پر محرکات شکر ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں جن دونعمتوں کا ذکر ہے۔ ان سے اول کا حاصل جاہ ہے اور دوسرے کا خلاصہ مال، تو جاہ ومال کا ذکر موقع نعمت پر آنے سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزوں مطلق صورت میں مذموم نہیں بلکہ قابل شکر ہیں۔ البتہ ان میں انہماک مذموم ہے۔
Ayah 7:1112 ۔ یعنی پہلے تمہاری نوع کا سلسلہ قائم کرنے کو مادہ بنایا، پھر اس مادہ کو صورت بشری دی اور آدم (علیہ السلام) وجود میں آگئے۔
13 ۔ (از راہ استکبار) (آیت) ” قلنا للمآئکۃ “۔ یہ حکم جب ملائکہ کو ملا، تو جو مخلوق (مثلا جن) ان سے ادنی تھی، اس کو تو یہ حکم بدرجہ اولی ملا، ملاحظہ ہو حواشی نمبر 123، نمبر 124، پ 1، سجدوا۔ سجدہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس نماز والے سجدہ کی ہئیت متعارف ومخصوص کے ساتھ ہو، سجود کے لفظی معنی تو اضع وتذلل کے ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوپ 1، حاشیہ 125 ۔ (آیت) ” لادم “۔ ل، یہاں الی کا مرادف ہے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کی سمت میں (جیسے آج بھی کعبہ کی سمت میں ہوتا ہے) نہ کہ آدم (علیہ السلام) کو۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 125، پ 1 ،۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ایک ناری مخلوق یعنی جن تھا، جیسا کہ قرآن مجید میں تصریح کے ساتھ آیا ہے نہ کہ نوری مخلوق یا فرشتہ جیسا کہ عوام کا عقیدہ مسیحیت کے اثر سے ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 126، پ 1 ۔
Ayah 7:1214 ۔ ارشاد الہی کا کوئی اور جواب بجز تعمیل کے ممکن ہی نہیں، پھر تجھے آخر نافرمانی کیا سوجھی ؟ کونسی چیز تجھے اس پر لائی ؟ (آیت) ” الا “۔ یہاں لا نافیہ یا ناہبہ نہیں بلکہ زایدہ ہے۔ اور زایدہ اصطلاح نحو میں حشو کے مرادف نہیں بلکہ یہ لا جو مضمون بیان ہورہا ہے اس میں اور زور وتاکید پیدا کردیتا ہے۔ زائدۃ ای لتاکید معنی النفی فی منعک (جمل)
15 ۔ (اور یہ دلیل ہے میری افضیلت کی) ابلیس کے اس دعوی اور دلیل کو منطقی شکل میں اگر مرتب کیا جائے تو مقدمات اور نتائج کی صورت حسب ذیل ہوگی :۔ ( 1) آگ خاک سے افضل ہے۔ (2) افضل غیر افضل کے آگے نہیں جھک سکتی، لہذا آگ خاک کے آگے نہیں جھک سکتی، میں فرع ہوں آگ کی، اور آدم (علیہ السلام) فرع ہیں خاک کی، اس لیے میں آدم (علیہ السلام) کے آگ نہیں جھک سکتا۔ ابلیس کو اپنی عقل و ذہانت پر بہت ناز ہے۔ لیکن یہ استدلال تو مغالطوں کی ایک پوٹ ہے۔ اول تو یہ بنیادی دعوی ہی غلط ہے کہ آگ، خاک سے افضل ہے۔ آگ اور خاک دونوں کے الگ الگ خصوصیات ہیں، کسی لحاظ سے یہ افضل کسی اعتبار سے وہ پھر یہ دعوی بھی تمام تر باطل ہے کہ ہمیشہ غیر افضل ہی کو افضل کے آگے جھکنا چاہیے۔ بہت سے موقع اعلی کے لیے بھی ادنی کے آگے جھکنے کے ہوتے ہیں، اور پھر یہ مفروضہ تو اور بھی مہمل ہے کہ افضل کی فرع ہر حال میں غیر افضل کی فرع سے افضل ہی ہوتی ہے، ابلیس اب نافرمانی وکفر اختیار کرچکا تھا اور کافر ونافرمان کی عقل میں نورانیت کی عقل میں نورانیت کہاں، وہ تمام تر ظلمانیت سے بھر جاتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہر ایسا شخص شیطان کا وارث ہے جو اپنی رائے اور رؤیت کو چاہے وہ کشف پر مبنی یا وجدان وذوق پر، شریعت کے مقابلہ میں ترجیح دیتا ہے۔
Ayah 7:1316 ۔ یعنی یہ جگہ تو خاشعین اور فرمانبرداروں کے لیے ہے، تجھ بڑائی ہانکنے والے کا یہاں کیا کام، تو نکل یہاں سے حقیر و خوار ہوکر۔ (آیت) ” انک من الصغرین “۔ فقہاء ومفسرین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ معصیت ونافرمانی میں بندہ کی ذلت ہے۔ دل ھذا ان من عصی مولاہ فھو ذلیل “ (قرطبی) (آیت) ” فاھبط منھا “۔ یہ نکلنے اور نیچے اترنے کا حکم کہاں سے ہورہا ہے ؟ ہبوط آسمان سے زمین کی طرف بھی مراد ہوسکتا ہے۔ قیل من السماء الی الارض (معالم) ای من السماء (قرطبی) لیکن اکثر نے ضمیر ھا جنت کی جانب سمجھی ہے۔ ؛ اور قول اصح یہی ہے کہ حکم جنت سے نکل جانے کا مل رہا ہے۔ قال کثیر من المفسرین عائد الی الجنۃ (ابن کثیر) ۔ ای من الجنۃ (معالم) قال ابن عباس یرید من الجنۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کبر کی بنا پر درگارالہی سے نکالا جانا، اس کی دلیل ہے کہ کبر وصول حق سے مانع ہے۔
Ayah 7:1417 ۔ مہلت کس چیز سے ؟ موت اور عذاب سے۔ سأل النظرۃ والامھال الی یوم البعث والحساب (قرطبی) (آیت) ” الی یوم یبعثون “۔ یعنی قیامت تک، شیطان کا صاحب کشف ہونا اسی درخواست سے ظاہر ہے۔ جانتا تھا ضرور منظور ہوجائے گی، باوجود عتاب شدید کے موقع کے پیش کردی۔
Ayah 7:1518 ۔ کیا ٹھکانا ہے حق تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کا، عین انتہائی عتاب کے وقت ایسے موذی نافرمان کی درخواست قبول کرلینا بس حضرت حق ہی کا حصہ تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دعا کا قبول ہوجانا مقبولیت کی کافی دلیل نہیں دعا تو شیطان کی بھی قبول ہوگئی لیکن شیطان بدستور مردور رہا۔
Ayah 7:1619 ۔ (آدم (علیہ السلام) وذریت آدم (علیہ السلام) کی رہزنی کرنے کے لیے اور انہیں راہ حق سے بےراہ کرکے رہوں گا) (آیت) ” بمآاغویتنی “۔ ابلیس کے دوسرے باطل اور مغالطہ پروردعو وں کی طرح یہ بھی ایک تمامتر شیطانی مغالطہ ہی ہے۔ تکوینی حیثیت سے خدا جس طرح ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری، زہر سب کا خالق ہے غوایت ابلیس کا بھی آخری سبب وہی ہے لیکن ابلیس نے اسے یہاں جس معنی میں استعمال کیا ہے یعنی گویا گمراہی کی ترغیب بھی اللہ ہی نے دی یا شیطان کو اس پر مجبور کیا، اس معنی میں یہ تمامتر حقیقت وصداقت سے معری ہے۔ بما میں ب، سببیہ ہے۔ اے بسبب اغوائک ایای (کبیر۔ مدارک) ای لاجل انک اغویتنی (معالم) (آیت) ” لاقعدن لھم “۔ فعل قعد کا صلہ جب ل کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی گھات میں بیٹھ جانے کے ہوتے ہیں۔ عبرعن الترصد صد للشیء عن القعودلہ (راغب)
Ayah 7:1720 ۔ (اس لیے ان اکثر کو میں اپنی راہ پر لگالوں گا) (آیت) ” ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمآئلھم “۔ یعنی ان پر ہر طرف سے حملہ کروں گا، انہیں ہر سمت سے گھیرلوں گا، کوشش کا کوئی دقیقہ ان کے گمراہ کرنے میں اٹھا نہ رکھوں گا، باقی ان چاروں فقروں کی الگ الگ تفسرین بھی مختلف مفسرین وحکماء اسلام سے منقول ہیں۔ (آیت) ” من بین ایدیھم “۔ سے مراد دنیا لی گئی ہے اور (آیت) ” من خلفھم “ سے دین گویا ابلیس یہ کہہ رہا ہے کہ میں ان پر دنیا کی راہ سے بھی حملہ کروں گا اور دین کے راستے سے بھی، حکماء اسلام نے اول الذکر سے مراد انسان کی قوت خیالی لی ہے۔ اور آخر الذکر سے قوت وہمی۔ (آیت) ” عن ایمانھم “۔ سے مراد نیکی سے روکنا اور (آیت) ” عن شمآئلھم “۔ سے مراد بدی پر جرأت دلانا لیا گیا ہے۔ گویا ابلیس یہ اعلان کررہا ہے کہ میں انہیں نیکیوں سے روکوں گا بھی اور بدی پر آمادہ بھی کروں گا۔ حکماء اسلام نے پہلے فقرہ سے مراد قوت شہوی لی ہے اور دوسرے سے قوت غضبی۔ امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں اس قسم کے اقوال کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔ (آیت) ” ولا تجد اکثرھم شکرین “۔ سے ایک نکتہ یہ ذہن میں آتا ہے کہ محض کشف اگر مقبولیت کی دلیل ہوتا تو شیطان کے مقبول ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے کشف سے قیامت تک کے لیے یہ نقشہ کھینچ دیا۔
Ayah 7:1821 ۔ (سواے مردود تو یہ ڈراتا دھمکاتا کسے ہے ؟ تیری ان دھمکیوں سے ہوتا کیا ہے ؟ ساری مخلوق میں ایک متنفس بھی اگر ہماری عبادت نہ کرے تو ہمارا کیا ضرر ؟ ) کثرت سے جاہلی اور شرکیہ مذاہب میں خود معبود کو ایک بڑی حد تک بندوں کی عبادت کا محتاج مانا گیا ہے۔ قرآن مجید ضمنا ان عقائد باطل کی بھی اصلاح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” قال اخرج منھا مذء و ما مدحورا لمن تبعک منھم لاملئن جھنم منکم اجمعین “ مکالمہ کا سارا لب و لہجہ مجوس کی ثنویت کی قطعی تردید میں ہے۔ جنہوں نے شیطان (اہرمن) کو بھی خدائی کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور یہی گمراہی ذرا ہلکی صورت میں مسیحیت اور یہودیت میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے، قرآن میں شیطان کا درجہ اللہ کے مقابلہ میں ایک مدمقابل ہمسر وحریف یا کسی چھوٹے موٹے دیوتا کا نہیں، وہ اللہ کی مخلوق ہے اور تمامتر حقیر و خوار۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ محض مکالمت ومخاطبت ہرگز مقبولیت کے مرادف نہیں۔
Ayah 7:1922 ۔ ان سب واقعات پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ رکوع 4 (پارۂ اول) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فکلا من حیث شئتما “۔ کھانے پینے کی یہ عام اجازت مل رہی ہے جہاں سے اور جو کچھ ان کا جی چاہے :۔
Ayah 7:2023 ۔ (اس درخت کا پھل کھلا کر) معلوم ہوتا ہے کہ اس شجر ممنوع کے پھل میں یہ تاثیر بالذات تھی۔ (آیت) ” لیبدی “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی ایسا عمل جس کا نتیجہ یہ ہونا تھا۔ اللام لام العاقبۃ (قرطبی) (آیت) ” فوسوس لھما الشیطن “۔ اس تصریح نے صاف کردیا کہ معصیت کا خیال آدم (علیہ السلام) کے اندر سے اور طبعی طور پر پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ تمامتر باہر سے ڈالا گیا۔ اور ڈالنے والا وہی موذی شیطان تھا وسوسہ چونکہ ایک تصرف نفسانی و خیالی کا نام ہے۔ اس لیے اتصال مادی یاقرب مکانی اس کی شرط نہیں اور یہ بالکل ہی ضروری نہیں کہ شیطان اصالۃ بھی آدم وحوا (علیہما السلام) سے ملا ہو، بہ آسانی ہوسکتا ہے کہ اس نے زمین ہی پر رہ کر ان کے دلوں میں آسمان پر وسوسہ ڈال دیا ہو، بلکہ عجب نہیں جو آدم (علیہ السلام) کو وسوسہ ہونے ہی کا احساس نہ ہوا ہو۔ قال الحسن کان یوسوس من الارض الی السماء (کبیر) بائبل میں اغواء آدم (علیہ السلام) کے سلسلہ میں ذکر شیطان کا نہیں۔ بلکہ سانپ کا ہے، اور عجب نہیں جو انہی یہودی ومسیحی روایتوں سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں بھی ایک عام روایت شیطان کے سانپ کے جسم میں حلول کرکے داخل جنت ہونے کی چل پڑی ہو، محققین کے نزدیک یہ قصہ بالکل لغو ہے۔ فتلک القصۃ الرکیکۃ مشھورۃ (کبیر) (آیت) ” فوسوس لھما “۔ نے ذمہ داری آدم (علیہ السلام) وزوج آدم (علیہ السلام) (حوا علیہما السلام) پر یکساں رکھ دی ہے بہ خلاف بائبل کے جو اصلی ذمہ دار حضرت حوا ہی کو ٹھہراتی ہے :۔ ”’ اور عورت نے جوں دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا ہے، اور دیکھنے میں خوشنما، اور عقل بخشنے میں خوب ہے تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھالیا، اور اپنے خصم کو بھی دیا “۔ (پیدائش۔ ؛3:6) (آیت) ” لیبدی لھما ما وری عنھما من سواتھما “۔ اس تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم وحوعلیہما السلام کے جسم اس وقت تک لباس نور سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے جسم کے قابل ستر حصے خود ان کی نظروں سے پوشیدہ تھے، اس سے تردید ہوگئی، بائبل کے اس بیان کی کہ ” اور وہ دونوں آدم اور اس کی جو روننگے تھے اور شرماتے نہ تھے “۔ (پیدائش۔ 2:25) فقہاء ومفسرین نے اس قرآنی تصریح سے یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ کشف ستر اہم ممنوعات میں سے ہے۔ وفیہ دلیل علی ان کشف العورۃ من عظائم الامور (مدارک) دل ھذا علی قبح کشفھا (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس قصہ آدم (علیہ السلام) سے معلوم ہوا کہ عصمت کے ساتھ بھی تصرف شیطانی اس حد تک جمع ہوسکتا ہے جو درجہ معصیت کو نہ پہنچے، اس لیے کہ آدم (علیہ السلام) سے جو کچھ واقع ہوا وہ محض اجتہادی غلطی اور معصیت لغوی تھی معصیت بہ اصطلاح شرعی نہ تھی ،
24 ۔ (اور یہ دونوں باتیں یعنی ملکیت اور حیات ابدی آپ کے لیے اس وقت کے حالات کے اعتبار سے مناسب تھیں بھی نہیں۔ لیکن اب آپ کی استعداد ترقی کرگئی ہے اس لیے اب وہ ممانعت کا حکم باقی ہی نہیں رہا) بائبل میں اس کے بالکل برعکس امتناع خداوندی کی علت ہی یہ بیان کی گئی ہے کہ شجر ممنوع کے پھل کھانے سے موت طاری ہوجائے گی ! کیونکہ جس دن تو اس سے کھائے گا تو ضرور مرے گا “۔ (پیدائش۔ 2: 17) (آیت) ” الاان تکونا “۔ یعنی کہیں ایسانہ ہوجائے کہ، بمعنی الاکراھیۃ ان (قرطبی)
Ayah 7:2125 ۔ (دل وجان سے) یعنی قسمیں کھاکھا کر خوب باتیں بنائیں اور اپنے اخلاص و خیرخواہی کا خوب یقین دلایا۔ آدم (علیہ السلام) اور حواعلیہما السلام جنتی بھولے اپنے اوپر قیاس کرکے یہ خیال بھی نہیں کرسکے کہ کوئی اللہ کے نام جھوٹی قسم کے سلسلہ میں لے سکتا ہے، یہ قسما قسمی بھی اسی وسوسۂ شیطانی کا ایک جزء تھی ،
Ayah 7:2226 ۔ (اپنا پوشیدہ بدن چھپانے کے لیے) اس سے معلوم ہوا کہ شرم و حجاب وانسان کے لیے بالکل فطری و طبعی ہے، اور بےستری وبے حجابی کی جتنی کوششیں آج مختلف خوشنماناموں سے کی جارہی ہیں۔ سب آدمی کو آدمیت کی بلندی سے ابلیسیت کی پستی ہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔ دلت ھذہ الایۃ علی ان کشف العورۃ میں المنکرات وانہ لم یزل مستھجنا فی الطباع مستقبحا فی العقول (کبیر) وفی الایۃ دلیل علی قبح کشف العورۃ وان اللہ وجب علیھما الستر (قرطبی) فیہ دلیل علی ان کشف العور ۃ قبیح میں لدن ادم (کبیر) (آیت) ” طفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ “۔ بائبل میں اس موقع پر ہے کہ :۔” تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ ہم ننگے ہیں، اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں (پیدائش 3:7) ان پتوں کے نام ہمارے یہاں کی بھی بعض تفسیری روایتوں میں انجیر اور زیتون اور کیلے کے درختوں کے لیے خاموش ہیں۔ ولم یثبت تعینھا لافی القران ولا فی الحدیث الصحیح (بحر) (آیت) ” علیھما “۔ من ضمیر تثنیہ اہل نحونے لکھا ہے کہ آدم وحواعلیہما السلام کی جانب نہیں، بلکہ بدن یا عورۃ کی جانب ہے، اور تقدیر کلام یوں ہے علی عورتیھما۔ وتقدیرہ یخصفان علی بدنیھما (بحر) ولایجوزان یعود الضمیر علی ادم (علیہ السلام) وحواء (علیہ السلام) (بحر) (آیت) ” دلھما بغرور “۔ ادلاء کے معنی اوپر سے نیچے لانے کے ہیں، یہ اتار اور نزول مرتبہ وحیثیت کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور مکان مادی کے اعتبار سے بھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس فریبئے کے دھوکے میں آکر آدم (علیہ السلام) اپنی رائے عالی سے اس کی رائے سافل کی طرف مائل ہوگئے، جس سے جنت سے اسفل کی طرف اتار دیئے گئے۔ (آیت) ” بغرور “۔ نے اسے بالکل صاف کردیا کہ آپ (علیہ السلام) سے لغزش جو کچھ بھی ہوئی، ایک مکار کے کہے میں آجانے سے ہوئی نہ کہ کسی قصد نافرمانی سے۔ قصہ آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کے لیے ملاحظہ ہو پارہ کے آخر میں ضمیمہ۔
27 ۔ (اس لیے اس کے کہے سنے میں نہ آجانا)
Ayah 7:2328 ۔ (کہ بلاتحقیق وتامل شیطان کی بات کو مان گئے) مقبولین وخاصان خدا کی ایک خاص شناخت یہ ہے کہ وہ غلبہ خشیت سے اپنی ہر معمولی لغزش کو بھی سخت ترین قصور سمجھتے رہتے۔ اور اس پر انتہائی ندامت و استغفار کے لیے تیاررہتے ہیں۔
29 ۔ بائبل، آدم (علیہ السلام) اور زوج آدم کی اس مؤثر مناجات سے یکسر خالی ہے۔ ابوالبشر (علیہ السلام) اور ام البشر کی اس مناجات میں ادب اور استغفار کی تعلیم سارے آدم زادوں کے لیے قیامت تک ہے۔
Ayah 7:2430 ۔ یعنی وقت موت تک۔ گویا حکم یہ ملا کہ اب بجائے جنتی اور آسمانی زندگی کے، مدت العمر زمینی زندگی پر گزر بسر کرنا ہوگا (آیت) ” اھبطوا “ یعنی جنت سے اترو۔ خطاب اب محض آدم (علیہ السلام) وحوا سے نہیں۔ ذریت آدم (علیہ السلام) وذریت ابلیس سے بھی ہے۔ اسی لیے اب خطاب میں صیغہ تثنیہ کا نہیں جمع کا ہے۔ یہ ہبوط دنیا میں کہاں ہوا تھا ؟ قرآن اس باب میں خاموش ہے۔ اور تفسیروں میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے کوئی حدیث صحیح کے درجہ کی نہیں، بلکہ سب کا ماخذ اسرائیلیات ہی ہیں۔ اس لیے مسلمان کے لیے سکوت ہی اولی ہے۔ وقد ذکر المفسرون الا ماکن التی ھبط فیھا کل منھم ویرجع حاصل تلک الاخبار الی الاسرائیلیات واللہ اعلم بصحتھا (ابن کثیر) اور مفسر ابن کثیر نے ایک بات یہاں بڑے پتہ کی کہہ دی ہے جو صرف اسی موقع کے لیے نہیں بلکہ ہر ایسے موقع کے لیے کارآمد ہے۔ وہ یہ کہ جب قرآن و حدیث دونوں اس تعین سے خاموش ہیں تو اس کے معنی یہی ہیں، کہ خدا و رسول ﷺ کے نزدیک اس کا علم دین ودنیا کی ضروریات میں داخل نہیں۔ ولو کان فی تعین تعین تلک البقاع فائدۃ تعود علی المکلفین فی امر دینھم اودنیاھم لذکرھا اللہ تعالیٰ فی کتابہ ورسولہ ﷺ (آیت) ” بعضکم لبعض عدو “۔ دنیا میں انسان بھی انسان کا دشمن ہے۔ لیکن اصلی دشمنی تو ذریت آدم سے ذریت ابلیس ہی کو ہے۔ بمعنی العداوۃ ثابتۃ بین الجن والانس لا تزول البتۃ (کبیر) (آیت) ” ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین “۔ یعنی اب زمین ہی تمہارا مسکن ہوگی، وہی تم آباد ہوگے۔ اور وہی تمہیں اسباب معیشت موجود ملیں گے۔ بائبل نے آدم (علیہ السلام) کی جنت کو آسمان پر نہیں اسی روئے زمین پر مانا ہے اور ہمارے ہاں کے جو مفسرین زمین جنت کے قائل ہوگئے ہیں وہ عجب نہیں جو بائبل ہی سے تاثر کا نتیجہ ہو ورنہ قرآن کے الفاظ (آیت) ” ولکم فی الارض مستقر “ تو اس باب میں صریح میں کہ آدم (علیہ السلام) (معہ اپنی آیندہ ذریت کے) زمین پر پہلی بار بھیجے جارہے ہیں۔ (آیت) ” الی حین “۔ سے اشارہ اس جانب بھی ہورہا ہے کہ زمینی زندگی بھی مستقل نہیں اور آدم زاد کو اس پر قانع نہ ہوجانا چاہیے۔
Ayah 7:2531 ۔ (قیامت کے دن) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا کسی دوسرے نبی کے بہ طور خرق عادت آسمان پر جانے کے امکان کو اس آیت کی رو سے جھٹلانا اور یہ دعوی کر بیٹھنا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اس آیت قرآنی کے خلاف ہے محض اپنی سطحیت کا مظاہرہ ہے۔ یہاں بیان محض ایک عام حالت اور عمومی دستور کا ہے۔ اور معمولات عام کے خلاف مستثنیات وعجائبات تو ہر روز مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ چہ جائیکہ جو خرق عادت بہ طور معجزہ کے ہو !
Ayah 7:2632 ۔ آیت سے پھر ایک بار یہ حقیقت ظاہر ہورہی ہے کہ لباس و حجاب مقاصد شرعی میں سے ہیں۔ اور برہنگی ونیم برہنگی کا فلسفہ خواہ اس کی تبلیغ یورپ اور امریکہ سے ہورہی ہو یا اس کی ترویج وحشی وغیر مہذب قوموں میں ہو بہرحال ایک شیطانی فلسفہ ہے۔ قال کثیر من العلماء ھذہ الایۃ دلیل علی وجوب ستر العورۃ (قرطبی) یدل علی فرض ستر العورۃ لاخبارہ انہ انزل علینا لباسا یواری سو اتنا (جصاص) وقد اتفقت الامۃ علی معنی ما دلت علیہ الایۃ من لزوم فرض ستر العورۃ (جصاص) (آیت) ” قد انزلنا علیکم لباسا “۔ تمہارے لیے لباس پیدا کیا ہے بہ طور اپنے ایک انعام خاص کے۔ انزلنا کے لفظی معنی تو اتارنے کے ہیں۔ یہاں خلقنا کا مرادف قرار دیا گیا ہے۔ لفظ انزال میں اس کی برکتوں کی طرف اشارہ ہے کہ گویا وہ آسمان سے اترا ہوا ہے۔ قیل انہ وصفہ بالانزال لان البرکات تنسب الی انھا تاتی من السماء (جصاص) غور کیا جائے تو ہر لباس اپنی تیاری کے لیے اسباب آسمانی ہی کا محتاج نظر آئے گا۔ ریشم، اون، سوت، سب کی پیدوار کے آخری، ظاہری اسباب جاکر بارش ہی پر ٹھہرتے ہیں۔ (آیت) ” ریشا “۔ ہر برٹ اسپنسر وویسٹر مارک وغیرہ مغربی فلسفیوں نے بھی لباس کی ایک غایت زینت و آرائش ہی بتائی ہے۔
33 ۔ (اس انعام الہی کو، اور ادائے حق نعمت کرتے رہیں) (آیت) ” و لباس التقوی، ذلک خیر “۔ یعنی وہ دینداری کا معنوی لباس اس ظاہری لباس سے بھی بڑھ کر ضروری ہے۔ (آیت) ” ذلک من ایت اللہ “۔ یعنی یہ لباس کا پیدا کرنا، جس سے ستر جسم اور زینت دونوں مقاصد حاصل ہوتے رہیں، اللہ کے فضل وکرم کی نشانیوں میں سے ہے۔
Ayah 7:2734 ۔ حجاب وستر پوشی کی جو اہمیت اسلام میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ قصہ آدم (علیہ السلام) کے ضمن میں یہ ذکر کس تکرار وتاکید کے ساتھ آرہا ہے۔ ویف ھذا ایضا دلیل علی وجوب ستر العورۃ (قرطبی) (آیت) ” لایفتننکم “۔ یعنی اب جبکہ تمہیں شیطان کی موروثی عداوت کا حال بخوبی معلوم ہوچکا۔ ہرگز اس کے پھندے میں نہ آجانا۔ انما معناہ التحذیر من فتنۃ الشیطان والزام التحرزمنہ (جصاص) (آیت) ” اخرج ابویکم من الجنۃ “۔ یعنی اس سے ایسا عمل صادر کرا دیا، جس سے انہیں جنت چھوڑنا پڑی۔ ای اغواھما حتی فعلا ما استحقابہ الاخراج منھا (جصاص)
35 ۔ (عموما وعادۃ) اور چونکہ وہ مخلوق تمہارے لیے غیر مرئی ہے، اس لیے اس کے مخفی کید سے بچنے کے لیے بھی بڑی احتیاط اور ہمہ وقت چوکنے رہنے کی ضرورت ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ انسان کا جنات کو دیکھنا عادت عامہ کے خلاف ہے لیکن دیکھنے کی قطعا نفی بھی نہیں ہے۔ چناچہ بعض اوقات انبیاء (علیہ السلام) یا غیر انبیاء بلکہ عوام سے بھی جو جنات کا دیکھنا مروی ہے وہ اس آیت کے خلاف نہیں۔ ورؤیتھم ایانا من حیث لانراھم فی الجملۃ لا تقتضی امتناع رؤیتھم وتمثلھم لنا (بیضاوی) (آیت) ” ھو وقبیلہ “۔ سے مراد جن و شیاطین سمجھے گئے۔ قال مجاھد یعنی الجن والشیاطین (قرطبی) (آیت) ” من حیث “۔ کیفیت کا بیان ہے یعنی اس طرح پر شیطان اور شیطانی لشکروں کے غیرمرئی ہونے کا اثبات ہے۔
36 ۔ (چنانچہ جو مومن کامل ہیں ان پر شیطان کا زور نہیں چل پاتا۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تم جس قدر شیطان کے کہے میں آؤگے، معلوم ہوگا کہ اسی قدر ایمان میں کچے اور کمزور ہو) آیت میں بڑی تسلی مومنین صادقین کے لیے ہے۔ شیطان کو پوری دست اندازی کا موقع تو بس وہیں ملتا ہے جہاں ایمان کا فقدان ہے۔
Ayah 7:2837 ۔ آج بھی اہل باطل اور فسق پیشہ گروہ کے پاس عموما یہی جواب اپنی ہر بیہودگی کی حمایت میں رہتا ہے۔ پہلے تو خاندانی رواج اور برادری کے دستور اور ملکی رسم کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں۔ خدا نے ہم کو رکھا ہی اسی حال میں اور اسی طریق پر ہے۔ یہ ہم جو کچھ کررہے ہیں۔ اگر اس کی مرضی نہ ہوتی تو ہم کرتے کیسے ؟ (آیت) ” واذا فعلوا فاحشۃ “۔ فاحشۃ کے تحت میں اعتقادی، عملی، ہر قسم کی بیہودگی آگئی۔
38 ۔ یہ کیسا جہل مرکب ہے کہ اللہ نے جو تمہیں آزادی عمل دے رکھی ہے اس سے غلط کام لینے کو خدا کی مرضی قرار دے رہے ہو ؟ اور جو طرز زندگی سرتاسر قانون الہی کے منافی ہے، اسے اس کا منظور شدہ بتا رہے ہو ؟
Ayah 7:2939 ۔ یعنی ہر امر میں توسط و توازن کا طریقہ جو مغز شریعت ہے۔ اور اصل اصول ہے عبادات، معاملات واخلاق میں اس کو کسی قسم کے الفاحشۃ (بیہودگی) سے نسبت کیا ؟ ای بالعدل وھو الوسط من کل شیء المتجافی عن طرفی الافراط والتفریط (بیضاوی)
40 ۔ (اپنے وقت مقرر پر یعنی حشر میں) (آیت) ” کما بداکم “۔ یعنی جس طرح اول بار تمہیں محض اپنی قدرت سے پیدا کردیا تھا۔ (آیت) ” وادعوہ مخلصین لہ الدین “۔ یعنی اس کی عبادت میں ہرگز کسی اور کی شرکت یا آمیز ش نہ ہونے پائے (آیت) ” واقیموا وجوھکم “۔ یعنی ہر عبادت کے وقت اپنی توجہ اللہ ہی کی طرف رکھو، قال ربیع بن انس تو جھوا بالاخلاص للہ تعالیٰ لالوثن ولا لغیرہ (جصاص) (آیت) ” عند “ یہاں فی کے معنی میں ہے۔ عند بمعنی فی (روح) (آیت) ” عند کل مسجد “۔ مسجد ظرف زمان ومکان دونوں ہے۔ معنی سجدہ کے وقت کے بھی ہیں۔ اور سجدہ کی جگہ کے بھی۔ یہاں مراد اول الذکر یعنی سجدہ کے وقت سے لی گئی ہے۔ فی کل وقت سجود اوفی کل مکان سجود (کشاف) واختلفوا فی ان المراد منہ زمان الصلوۃ اومکانھا والا قرب ھو الاول (کبیر) ای فی وقت کل سجود (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت جامع ہے اصلاح ظاہر و باطن کی (آیت) ” اقیموا وجوھکم سے طاعت ظاہری اور مخلصین سے طاعت باطنی کی جانب اشارہ ہے۔
Ayah 7:3041 ۔ جیسا کہ آج بھی تمام اہل باطل اپنے لیے ہی حسن ظن رکھے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” فریقا ھدی “۔ یہ ہدایت یاب گروہ وہ ہے جس نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے صحیح کام لیا ہے۔ (آیت) ” فریقا حق علیھم الضللۃ “۔ یہ گم راہ گروہ وہ ہے جس نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے غلط کام لیا۔
Ayah 7:3142 ۔ (اس لیے اسراف کے قریب بھی نہ جاؤ) اسراف نام ہے صرف کرنے میں حد اعتدال سے تجاوز کرنے کا الاسراف ھو مجاوزۃ الحد فی الانفاق (جصاص) اور اندازۂ معتبر شرعی ہے اور اس کے بعد اندازۂ عقلی نہ کہ اندازۂ نفسانی یا جذباتی، اسی لیے (آیت) ” لاتسرفوا کے معنی یہ لیے گئے ہیں کہ کھانے پینے میں حدود سے تجاوز نہ کرو نہ کیفیت کے لحاظ سے نہ کمیت کے لحاظ سے۔ لا تسرفوا ای بالافراط فی الطعام والشراب کما ذھب الیہ کثیر (روح) (آیت) ” کلواواشربوا “۔ کے مطلق صورت میں آنے سے امام رازی (رح) نے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ مطعومات ومشروبات میں اصل حلت ہی ہے۔ صرف حرمت کے لیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت ہے اور تقاضائے عقل بھی یہی ہے کہ اباحت کے لیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت نہیں۔ یتناول جمیع المطعومات والمشروبات فوجب ان یکون الاصل فیھا ھو الحل فی کل الاوقات وفی کل المطعومات والمشروبات الاما خصہ الدلیل المنفصل والعقل ایضا مؤکد لہ لان الاصل فی المنافع الحل والا باحۃ (کبیر) (آیت) ” زینتکم “۔ یہاں زینت لباس یا لباس زینت کے معنی میں ہے۔ ای زیتکم و لباس زینتکم (کشاف) یعنی الثیاب قال مجاھد ما یواری عورتک (معالم) المراد من الزینۃ لبس الثیاب (کبیر) (آیت) ” عند کل مسجد “۔ مسجد یہاں نماز و طواف کے معنی میں ہے۔ ای کلما صلیتم اوطفتم (کشاف) ای طواف او صلاۃ والی ذلک ذھب مجاھد وابو الشیخ وغیرھما (روح) (آیت) ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “۔ مشرکین عرب طواف کعبہ کے برہنہ ہو کر کرنے کے قائل تھے۔ وجوب اس کے برعکس کا مسلمانوں کو تعلیم ہورہا۔ روی عن ابن عباس ؓ و ابراہیم و مجاھد وطاؤس والزھری۔ ان المشرکین کانوا یطوفون بالبیت عراۃ (جصاص) مفسرتھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ ستر پوشی تو دوسرے اوقات میں بھی واجب ہے، اس وقت کے ذکر کرنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ اس وقت برہنہ ہوجایا کرتے تھے، نیز اس وقت وجوب اور زیادہ مؤکدہوتا ہے۔ فقہاء ومفسرین نے اس سے نماز میں ستر پوشی کی فرضیت پر استدلال کیا ہے۔ ھذہ الایۃ تدل علی فرض ستر العورۃ فی الصلوۃ (جصاص) یدل علی ان حکم الایۃ غیر مقصور علی الطواف وان المراد بھا الصلوۃ (جصاص) خذوازینتکم امر وظاھر الامر الوجوب فھذا یدل علی وجوب ستر العورۃ عند اقامۃ کل صلاۃ (کبیر) (آیت) ” انہ لا یحب المفسرفین “۔ اس کے تحت میں امام رازی (رح) نے یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ کوئی مکلف بندہ ایسا نہیں جو کسی حال میں ثواب و عقاب دونوں سے خالی ہو۔ اب جب ثواب کی اس سے نفی ہورہی ہے تو لازم ہے کہ وہ مستوجب عتاب ہو۔ لان معنی محبۃ اللہ تعالیٰ للعبد ایصالہ الثواب الیہ فعدم ھذہ المحبۃ عبارۃ عن عدم حصول الثواب ومتی لم یحصل الثواب فقد حصل العقاب لانعقاد الاجماع علی انہ لیس فی الوجود مکلف لایثاب ولا یعاقب (کبیر)
Ayah 7:3243 ۔ یعنی اللہ کی جائز کی ہوئی نعمتوں کو حرام کردینے کا حق کس مخلوق کو حاصل ہے ؟ ظاہر ہے کہ کسی کو نہیں، اور جو لوگ اس میں مبتلا ہیں وہ گناہ ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” من حرم “۔ استفہام انکاری ہے اور انکار میں زور وتاکید مقصود ہے۔ المراد منہ تقریر الانکار والمبالغۃ فی تقریر ذلک الانکار (کبیر) (آیت) ” زینۃ اللہ “۔ زینت خدداد سے یہاں مراد کیا ہے ؟ لباس فاخرہ کا مراد ہونا تو سب کے نزدیک مسلم ہے۔ الزینۃ منھا الملبس الحسن اذا قدر علیہ صاحبہ (قرطبی) لیکن اکثر نے اسے وسعت دے کر جملہ سامان آرائش اس میں شامل رکھے ہیں۔ ای من الثیاب وکل الملبس یتجمل بہ (کشاف، بیضاوی) امام المفسرین امام رازی (رح) نے مزید دقت نظر سے کام لے کر اس کے اندر سواری، زیور وغیرہ سارے مرغوبات داخل کیے ہیں۔ بجز ان کے جو کسی نص سے حرام قرار پاچکے ہیں۔ زینت سے مراد انہوں نے جمیع انواع زینت کی ہے۔ (آیت) ” والطیبت من الرزق “۔ یعنی کھانے پینے کی جائز، پاکیزہ، لذیز اشیاء۔ الطیبت اسم عام لما طاب کسبا وطعما (قرطبی) قیلھی کل مستلذمن الطعام (قرطبی) کل ما یستلذ ویشتھی من انواع الماکولات والمشروبات (کبیر) یتناول جمیع انواع الزینۃ فیدخل تحت الزینۃ جمیع انواع التزیین ویدخل تحتھا تنظیف البدن من جمیع الوجوہ ویدخل تحتھا المرکوب ویخدل تحتھا ایضا انواع الحلی لان کل ذلک زینۃ ولولا النص الوارد فی تحریم الذھب والفضۃ والابریسم علی الرجال لکان ذلک داخلا تحت ھذالعموم (کبیر) امام رازی (رح) نے اسے وسعت دے کر دوسرے مرغوبات ولذات بھی اس کے اندر مانے ہیں۔ مثلا خوشبو یا حسن نسوانی، یدخل ایضا تحتہ التمتع بالنساء وبالطیب (کبیر) آیت سے ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کھانے پینے کی چیزوں میں سے کچھ جائز و حلال ہیں اور کچھ ناجائز و حرام اور یہیں سے تردید ہوگئی اس مسیحی عقیدہ کی کہ ” کوئی چیز باہر سے آدمی میں داخل ہو کر اسے ناپاک نہیں کرسکتی “۔ (مرقس 7: 15) فقہاء ومفسرین نے آیت سے عید اور دعوت وغیرہ کے موقعوں پر خوشی لباسی کے استحباب پر استدلال کیا ہے۔ دلت الایۃ علی لباس الرفیع من الثیاب والتجمل بھا فی الجمع والاعیاد وعندلقاء الناس ومز اورۃ الاخوان (قرطبی) محققین نے اس آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ ذائقہ دار کھانے بجائے خود ہرگز قابل ترک نہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے محض لذت کی بنا پر کسی بھی لذیذ غذا سے نہیں روکا ہے۔ البتہ ان کے شوق کی زیادتی اور لت کو جو شغل آخرت سے روک دینے والی ہوتی ہے، منع کیا ہے۔ قال ابوالحسن علی بن المفضل المقدسی شیخ اشیاخنا وھو الصحیح انشاء اللہ عزوجل فانہ لم ینقل عن النبی ﷺ انہ امتنع من طعام لاجل طیبہ قط بل کان یا کل الحلوی والعسل والبطیغ والرطب وانما یکرہ التکلف لمافیہ من التشاغل بشھوت الدنیا عن مھمات الاخرۃ (قرطبی)
44 ۔ (اور اپنی قوت علمیہ سے صحیح کام لیتے رہتے ہیں) (آیت) ” ھی للذین۔۔ یوم القیمۃ “۔ یعنی ساری نعمتیں اہل ایمان کا حصہ دنیا میں بھی۔ اور آخرت میں تو خاص الخاص انہی کے لیے ہوں گی ہی، بغیر کسی غیر مومن کی شرکت کے۔ تم الکلام علی الحیوۃ الدنیا ثم قال خالصۃ یوم القیمۃ ای یخلص اللہ الطیبات فی الاخرۃ للذین امنوا ولیس للمشرکین فیھا شیء کما کان لھم فی الدنیا من الاشتراک فیھا (قرطبی) وھی خالصۃ لھم دون المشرکین (جصاص) ابن عباس صحابی ؓ اور متعدد تابعین سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ ھذا قول ابن عباس والضحاک والحسن وقتادہ والسدی وابن جریج وابن زید (قرطبی) زمخشری نے کہا کہ صرف (آیت) ” ھی للذین امنوا “۔ اور لغیرھم کی تصریح نہ کرنے میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ اصالۃ تو ان نعمتوں کے حقدار مومنین ہی ہیں۔ کافروں کو بھی یہ نعمتیں اگر دنیا میں مل رہی ہیں تو محض تبعا۔ لینبہ علی انھا خلقت للذین امنوا علی طریق الاصالۃ وان الکفرۃ تبع لھم (کشاف) دوسری تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ایسی نعمتیں جو دنیا میں جان کو لگیں اور آخرت میں وبال بن کر سامنے نہ آئیں خاص اہل ایمان ہی کا حصہ ہیں۔ وقیل المعنی ان ھذہ الطیبت الموجودات فی الدنیاھی خالصۃ یوم القیامۃ لل مومنین فی الدنیا وخلوصھا انھم لایعاقبون علیھا ولا یعذبون (قرطبی) ھی خالصۃ یوم القیمۃ لھم من شوائب التنقیص والتکدیر (جصاص)
Ayah 7:3345 ۔ یعنی اس کی ذات وصفات سے متعلق مشرکانہ وملحدانہ عقیدے گڑھ گڑھ کر بیان کرتے رہو یا جو احکام وہدایات اس کی طرف سے نہیں انہیں اس کی جانب منسوب کرتے رہو۔ (آیت) ” انما حرم ربی “۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اپنے وہم وظن سے یا تقوی کے جوش میں چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے کون۔ حقیقۃ حرام چیزیں تو عقائد و اعمال کے دائرہ میں فلاں اور فلاں ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ جس طرح امر ربی بالقسط الخ میں تمام مامورات داخل ہوگئے۔ اسی طرح اب انما حرم ربی میں تمام منہیات آگئے۔ (آیت) ” الفواحش ما ظھرمنھا وما بطن “۔ کی تصریح وتاکید سے ظاہر ہے کہ اسلام جس چیز کو روکنا چاہتا ہے وہ محض وہ فضیحتے ہی نہیں جو منظر عام پر آچکے ہوں، بلکہ بدی کا فی نفسہ استیصال کرنا چاہتا ہے۔ خواہ اس کا ارتکاب اس خاموشی سے کیا جائے گا کہ کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہونے پائے۔ پاک نفسوں اور پاکیزہ طینتوں کی سوسائٹی اسلام ہی کی ہدایات پر عمل کرنے سے میسر آسکتی ہے نہ کہ ان جاہلی تہذیبوں کے قانون پر عمل کرنے سے جو صرف ظاہر کی لیس پوت کرتے رہنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” الفواحش “۔ وہ اعمال جو اپنی بیہودگی میں بہت بڑھے ہوئے ہوں، الاعمال المفرطۃ فی القبح (قرطبی) ما تفاحش قبحہ ای تزاید (کشاف) (آیت) ” الاثم “۔ اس کے تحت میں جملہ معاصی آگئے۔ الاثم اسم للافعال المبطءۃ عن الثواب (راغب) عام لکل ذنب (کشاف) (آیت) ” المغی “۔ اس میں معاملات کی ساری خرابیاں آگئیں۔ یعنی معاصی متعدی۔ ای الظلم وتجاوز الحدفیہ (قرطبی) ای الظلم والکبر (کشاف) روح المعانی کے اشارات میں ہے کہ (آیت) ” الفواحش “۔ سے اشارہ رذائل قوت بہیمیہ کی جانب ہے۔ اور (آیت) ” البغی “۔ سے رذائل قوت سبعیہ کی جانب اور (آیت) ” ان تقولوا “۔ سے رذائل قوت نطقیہ کی جانب۔ (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ یعنی کوئی دلیل نہیں اتاری نہ جزوی نہ کلی، نہ عقلی نہ نقلی۔
Ayah 7:3446 ۔ (بلکہ علم الہی میں جو وقت بہ تقاضائے حکمت اس سزا کے لیے معین ہے۔ مجرد اس کے آتے ہی وہ سزا جاری ہوجائے گی) (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی ہر قوم کے لیے، عذاب وہلاکت کا ایک وقت علم الہی میں مقرر ہے۔ (آیت) ” ساعۃ “۔ ساعت کا لفظ اس لیے لایا گیا ہے کہ عرف عام میں وقت کے چھوٹے سے چھوٹے حصہ کے اظہار کے لیے مستعمل ہے۔ ساعت اصطلاحی وفل کی مراد نہیں۔ لانھا اقل الاوقات فی استعمال الناس یقول المستعجل لصاحبہ فی ساعۃ یرید اقصر وقت واقربہ (کشاف) ذکر الساعۃ لان ھذا اللفظ اقل اسماء الاوقات (کبیر) قطعۃ من الزمان فی غایۃ القلۃ ولیس المراد بھا الساعۃ فی مصطلح المنجمین (روح)
Ayah 7:3547 ۔ (ایسے آدم زادوں کو اپنی اصلی میراث یعنی جنت حاصل کرلینا بھی دشوار نہیں) (آیت) ” یبنی ادم “۔ یہ ذکر ارواح کا ہے۔ یہ مخاطبہ انسان سے اس وقت ہوا تھا جب اس کی آفرینش ابھی عالم ناسوت میں ہوئی بھی نہ تھی۔ اور ابھی وہ عالم ارواح ہی میں تھا (آیت) ” اما “۔ ان شرطیہ ہے اور ماصلہ کا۔ ما صلۃ ای ان یتکم (قرطبی) ان شرطیۃ ضمت الیھا ما مؤکدۃ بمعنی الشرط (کشاف) (آیت) ” ایتی “۔ یعنی میرے احکام وہدایات۔ ای فرائضی واحکامی (قرطبی) جن علمائے محققین کا مسلک یہ ہے کہ قیامت میں مومینن ومطیعین کو کوئی خوف وغم نہ ہوگا، وہ ایسی آیت سے استشہاد کرتے ہیں (کبیر)
Ayah 7:3648 ۔ کیسے صاف لفظوں میں دو گروہ الگ الگ بتادیئے ہیں۔ ایک طرف اہل صلاح وتقوی کا گروہ ہے۔ دوسری طرف ان منکرین ان و متکبرین کا۔ ھم۔ آیت میں موقع حصر پر آیا ہے۔ اور اسی سے اہل سنت نے استدلال کیا ہے کہ گنہگار مومن آخر عذاب سے نجات پاجائے گا، عذاب دائمی میں رہنے والے صرف مکذبین ومنکرین ہوں گے۔ وقد تمسک اصحابنا بھذہ الایۃ علی ان الفاسق من اھل الصلوۃ لایبقی مخلدا فی النار لانہ لانہ تعالیٰ بین ان المکذبین بایات اللہ والمستکبرین عن قبولھا ھم الذین یبقون مخلدین فی النار وکلمۃ ” ھم “ تفید الحصر (کبیر) (آیت) ” استکبروا عنھا “۔ یعنی ہمارے آیات و احکام کے قبول کرنے سے تکبر کریں گے، اپنی عقل کو وحی الہی سے بڑھ چڑھ کر سمجھیں گے۔
Ayah 7:3749 ۔ (آیت) ” ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ افتراء علی اللہ کی مثال یہ ہے کہ جو احکام خدائی نہ ہوں، بلکہ انسانی ہوں انہیں خدا کی جانب منسوب کردینا۔ (آیت) ” تکذیب یا بات اللہ کی مثال یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا فرمان ہے اسے اس کا فرمان نہ ماننا۔ (آیت) ” نصیبھم من الکتب “۔ یعنی رزق، عمر، اعمال وغیرہ جو کچھ ان کے لیے مقدر ہوچکے ہیں۔ ای ما کتب لھم من رزق وعمر وعمل (قرطبی)
50 ۔ (لیکن اس وقت کا اقرار جبکہ عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوچکے گا، سرتاسر لا حاصل رہے گا) (آیت) ” رسل “۔ یہاں ظاہر ہے کہ فرشتوں کے معنی میں ہے۔ ای ملائکۃ العذاب (کبیر) (آیت) ” حتی “۔ یہاں، یہاں تک کے معنی میں نہیں، چناچہ کے معنی میں ہے۔ حتی لیست غایۃ بلھی ابتداء خبر عنھم (قرطبی)
Ayah 7:3851 ۔ مصیبت اور پھر ایسی شدید اور انتہائی مصیبت کے وقت کچھ تھوڑی بہت تسکین اگر ہوسکتی تھی تو باہمی ہمدردی سے لیکن بدبخت اہل دوزخ اس آخری اور برائے نام راحت سے بھی محروم ہوں گے۔ وہ عالم انکشاف حقائق کا ہوگا۔ ہر بدکار دوسرے بدکار کو نہایت درجہ مبغوض رکھے گا۔ (آیت) ” امم۔ من الجن والانس “۔ جن وانس دونوں کے بدگروہ ظاہر ہے کہ کافر ہی ہوں گے۔ اور آگے پیچھے، نئے پرانے ہر قسم کے کافر جہنم میں اکٹھے ہوں گے، (آیت) ” فی امم “۔ فی یہاں مع کے معنی میں ہے۔ بعض نے فی ما بینھم کے معنی میں بھی لیا ہے۔ ای مع امم ففی بمعنی مع (قرطبی) ومعنی الدخول فی الامم الدخول فی ما بینھم (کبیر) (آیت) ” اختھا “۔ یعنی اسی کی ہم عقیدہ وہم مسلک۔ ای اختھا فی الدین والملۃ (قرطبی)
52 ۔ (کہ عذاب کی زیادتی تمہاری ہی طرح دوسرے بھی محسوس کررہے ہیں) اس لاعلمی وبے خبری میں بھی ایک حکمت ہے اگر دوسروں کی زیادتی عذاب کا علم انہیں ہوجاتا تو کچھ تو تسلی ان کی ہوجاتی۔ اس لیے انہیں ان کے حال کی خبر ہی سرے سے نہ دی گئی۔ ای لایعلم کل فریق ما بالفریق الاخر اذلو علم بعض من فی النار ان عذاب احد فوق عذابہ لکان نوع سلوۃ لہ (قرطبی) (آیت) ” ربنا ھؤلآء اضلونا “۔ اے ہمارے پروردگار انہی نے تو ہمیں گمراہ کیا تھا اور ہم اپنے کفر وضلالت میں تو بس انہی کے تابع اور پیرو تھے۔ (آیت) ” عذابا ضعفا من النار، قال لکل ضعف “۔ ضعف کے عام مشہور معنی تو دوگنے کے ہیں۔ لیکن دوسرے معنی مطلق زیادتی وشدت کے ہیں، کوئی متعین درجہ، مقدار مراد نہیں ہوتی۔ قال الازھری الضعف فی کلام العرب المثل الی ما زاد ولیس بمقصور علی المثلین (کبیر) والضعف فی الاصل زیادۃ غیرمحصورۃ (کبیر) جائز فی الکلام العرب ان یقال لک ضعفہ یریدون مثلیہ وثلاثۃ امثالہ لانہ ای الضعف فی الاصل زیادۃ غیر محصورۃ (تاج) خود قرآن مجید میں بھی ایک دوسری جگہ ہے۔ فاولئک لھم جزاء الضعف بما عملوا کہ یہاں کوئی معین نسبت نہیں بلکہ مطلق زیادتی مراد ہے اور یہی مفہوم یہاں بھی ہے۔ ضعفا ای زائدا علی عذابنا (بحر) واختارہ ھنا غیرواحد (روح) اور اگر معنی دوگنے ہی کے سمجھے جائیں تو توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ دوزخ کا عذاب ہر ساعت بڑھتا ہی جائے گا۔ اس لیے ہر دوزخی کو اپنا عذاب پہلے سے دوگنا ہی محسوس ہوگا (آیت) ” لاولھم “۔ میں ل اجل کا ہے یعنی ” ان کی بابت “۔ کہیں گے، نہ کہ ” ان سے “ کہیں گے۔ اللامر لام اجل لانھم لھم یخاطبوا اولھم ولکن قالوا فی حق اولھم (قرطبی) (آیت) ” اخرھم “۔ کے معنی پیروؤں مقتدیوں اور کم درجہ والوں کے بھی ہوسکتے ہیں۔ اور (آیت) ” اولھم “۔ کے معنی سرداروں، مقتداؤں اور بڑے درجہ والوں کے۔ چناچہ زمخشری، بیضاوی وغیرہ نے یہی مفہوم لیا ہے۔
Ayah 7:3953 ۔ غرض اہل جہنم میں باہم سخت گلخپ شروع ہوجائے گی، ایک دوسرے پر الزام وطعن سے کام لینے لگیں گے اور یہ بجائے خود ایک عذاب ہوگا۔ (آیت) ” قالت اولھم لاخرھم “۔ اگلوں کا یہ خطاب اپنے بعد والوں سے حق تعالیٰ کا یہ جواب سننے کے بعد ہوگا۔ (آیت) ” ماکان لکم علینا من فضل “۔ یعنی تخفیف عذاب کے بارے میں تم ہم سے کچھ بھی بہتر نہیں، تخفیف سے جس طرح ہم محروم ہیں تم بھی محروم ہو۔