Ayah 7:1المص سورة بقرہ میں ایسے الفاظ کی تشریح کردی گئی ہے۔
Ayah 7:2کتب انزل الیک یہ ایک کتاب ہے جو آپ ﷺ کے اوپر اتاری گئی ہے۔ کتابٌ خبر ہے۔ مبتدا محذوف ہے
یعنی ہذا کتابیا المصمبتدا ہے اگر اس سے سورت یا قرآن مراد ہو اور کتاب اس کی خبر ہے اُنْزِلَ الیَک۔ کتابٌ کی صفت ہے۔
فلا یکن فی صدرک حرج منہ آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہونا چاہئے حرجکا لغوی معنی ہے تنگی۔ مجاہد کے نزدیک اس جگہ شک مراد ہے کیونکہ دل کی تنگی شک کا سبب ہے اور سینہ کی کشائش یقین کا سبب۔ سینہ کی کشائش اور تنگی کی بحث سورة انعام کی آیت : (فمن یرد اللّٰہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام) کی تفسیر کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ ابوالعالیہ نے کہا کہ تبلیغ قرآن کی راہ میں لوگوں کے خوف کا حائل ہونا حرج ہے یعنی اس بات سے ڈر کر تبلیغ میں کمی نہ کرو کہ لوگ مخالفت کریں گے اور ایذا پہنچائیں گے کیونکہ اگر کوئی کام کرنے میں ڈر لگا ہو تو آدمی بشاشت خاطر اور چستی سے اس کام کو نہیں کرتا اور اس کام کے لئے سینہ میں کشائش نہیں پیدا ہوتی بعض نے کہا کہ قرآن کا پورا پورا حق ادا کرنے سے ڈرنا مراد ہے۔
اصل خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے (یعنی آپ ایسا نہ کریں) لیکن ممانعت میں زور پیدا کرنے کے لئے نہی کا رخ حرج کی طرف پھیر دیا گیا (اور فرمایا کہ تمہارے دل میں تنگی نہ ہو) مراد آیت یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں شک نہ کریں۔ یا کسی شخص سے نہ ڈریں کسی کی پروا نہ کریں ہم آپ کے محافظ ہیں۔ یا حقوق کتاب کو پورا طور پر ادا نہ کرنے کا آپ اندیشہ نہ کریں ہم آپ کو اس کی سہولت فراہم کریں گے اور اداء حقوق کی توفیق عطا کریں گے۔
لتنذر بہ تاکہ اس کے ذریعہ سے آپ (منکروں اور نافرمانوں کو) ڈرائیں۔ لتنذرکا تعلق انزل سے ہے
(کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ آپ ڈرائیں) یا لایکن سے مربوط ہے کیونکہ جب رسول ﷺ : کو یہ یقین ہوجائے گا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے آئی ہے تو جراء ت کے ساتھ لوگوں کو نافرمانی سے ڈرائیں گے یا کافروں سے بالکل خوف نہ کریں گے یا اس بات کا یقین کرلیں گے کہ اللہ اس کتاب کی تبلیغ و اقامت میں میری مدد کرے گا مجھے توفیق عطا فرمائے گا (یہ تینوں شقیں جدا جدا مؤلف نے حرج کے مرادی معنی کے اختلاف کے پیش نظر بیان کی ہیں) ۔
وذکر للمومنین اور اہل ایمان کے لئے یہ یادداشت یعنی نصیحت ہے۔ ذکرٰیکا عطف کتاب پر ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے یا محذوف فعل کا مفعول ہے یا محل تُنْذِرَپر معطوف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔
Ayah 7:3اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم (رسول کے ذریعہ سے) جو ہدایت تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے اس پر چلو۔ خواہ وحی جلی ہو یا خفی۔ ما انزل کے تحت حدیث بھی آگئی۔
ولا تتبعوا من دونہ اولیآء اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع نہ کرو یعنی جن و انس کی اطاعت اللہ کی معصیت میں نہ کرو۔ من دونہ کے لفظ سے انبیاء و اولیاء کے اتباع کی ممانعت آیت کے حکم سے خارج ہوگئی کیونکہ اس مقدس گروہ کی ولایت کا حکم تو اللہ کی طرف سے ہے۔
قلیلا ما تزکرون تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔
قلیْلاً کا موصوف محذوف ہے یعنی تَذَکُّرًا قَلِیْلاً یا زمانًا قَلِیْلاً لفظ۔ ما۔ کی زیادتی قلت کی تاکید کے لئے ہے یہ مَا مصدری نہیں ہے ورنہ قلیلاً ۔ تذکرون کا مفعول نہیں ہوسکتا۔ قلت تذکر کا مخاطب پورا انسانی گروہ ہے اس گروہ میں سے کچھ لوگ یعنی اہل ایمان تذکر کی کثرت رکھتے ہیں۔
Ayah 7:4وکم من قریۃ اہلکنہا فجآء ہا باسنا بیاتا او ہم قائلون اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ دوپہر کے وقت وہ آرام میں تھے۔ ہلاک کرنے سے مراد ہے بستی والوں کو تباہ کرنے کا ارادہ کرنا یا ان کو بےمدد چھوڑ دینا۔ باس عذاب بیات مصدر ہے بمعنی اسم فاعل (جب وہ رات کو آرام کر رہے تھے) قیلولہ دوپہر کو آرام کے لئے لیٹنا نیند ہو یا نہ ہو یا جاءَ ہَا بَاْسُنَا۔ اَہْلَکْنَا ہَا سے بدل ہے اس صورت میں ہلاک کرنے کی تشریح اور توضیح اس سے ہو رہی ہے جیسے محاورہ بولا جاتا ہے تم نے میرے ساتھ احسان کیا کہ مجھے اتنا مال دے دیا۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ بہت بستیاں ایسی تھیں کہ جب ان کے باشندوں کو ہلاک کرنے کا ہم نے ارادہ کیا اور وہ غفلت کی حالت میں پڑے تھے ان کو کوئی اندیشہ نہ تھا بس ان کو رات کے وقت سوتے میں کبھی ہمارے عذاب نے آلیا جیسے قوم لوط پر آیا اور کبھی دوپہر کو آرام کے وقت غیبی عذاب آگیا جیسے قوم شعیب پر آیا۔ رات اور دوپہر کے وقت کا خصوصی ذکر بستی والوں کی انتہائی غفلت کو ظاہر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔
Ayah 7:5فما کان دعوہم اذ جآء ہم باسنا الا ان قالوا ان کنا ظلمین سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے کوئی بات نہیں نکلتی تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ دعویبمعنی قول۔ دعائ گڑگڑانا۔ سیبویہ نے کہا عرب کہتے ہیں اے اللہ مسلمانوں کے اچھے دعوے میں تو ہم کو شامل کر دے یعنی اچھی دعاؤں میں۔ مقصد یہ ہے کہ عذاب کو رد کردینے کی تو ان میں سکت نہیں تھی۔ مجبوراً اپنی ناحق کوشیوں کا ان کو اقرار کرنا پڑا مگر ایسے وقت میں اعتراف سود مند نہ تھا۔
Ayah 7:6فلنسئلن الذین ارسل الیہم ولنسئلن المرسلین پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا اور پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔
بیہقی نے ابو طلحہ ؓ کی سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہم لوگوں سے پوچھیں گے کہ پیغمبروں کی دعوت کا تم نے کیا جواب دیا اور پیغمبروں سے سوال کریں گے کہ تم نے ہمارے احکام پہنچائے یا نہیں۔ ابن مبارک نے وہب (بن منبہ) کا قول بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن اسرافیل کو طلب کیا جائے گا اسرافیل لرزتے کپکپاتے حاضر ہوں گے دریافت کیا جائے گا۔ لوح محفوظ نے جو کچھ تم کو دیا تھا تم نے اس کا کیا کیا۔ اسرافیل عرض کریں گے میں نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو پہنچا دیا جبرئیل ( علیہ السلام) کو بلایا جائے گا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) لرزاں ترساں حاضر ہوں گے دریافت کیا جائے گا اسرافیل نے جو کچھ تم کو پہنچایا تھا تم نے اس کا کیا کیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) عرض کریں گے میں نے پیغمبروں کو پہنچا دیا۔ پیغمبروں کی پیشی ہوگی اور دریافت کیا جائے گا جبرئیل نے تم کو جو کچھ پہنچایا تھا تم نے اس کے متعلق کیا کیا پیغمبر عرض کریں گے ہم نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہی مطلب ہے آیت (فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ المُرسَلِیْنَ ) کا۔
مسلم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج وداع کے خطبہ میں فرمایا تم سے میرے متعلق دریافت کیا جائے گا تم کیا کہو گے۔ حاضرین نے عرض کیا ہم شہادت دیں گے کہ آپ نے (اللہ کا پیام) پہنچا دیا ادا کردیا اور نصیحت کردی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہنا امام احمد نے حضرت معاویہ ﷺ بن جیدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا رب مجھے بلائے گا اور پوچھے گا کیا تو نے میرے بندوں کو (میرا پیام) پہنچا دیا۔ میں جواب دوں گا۔ بیشک میں نے ان کو پہنچا دیا۔ لہٰذا جو لوگ موجود ہیں وہ غیر موجود لوگوں تک یہ پیام پہنچا دیں۔ پھر (قیامت کے دن) تم کو طلب کیا جائے گا اس وقت تمہارے منہ بند ہوں گے (کچھ بول نہ سکو گے) سب سے پہلے تمہاری ران اور ہتھیلی (بولے گی اور) اظہار خیال کرے گی۔
ابوالشیخ نے العظمۃ میں ابو سنان کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن حساب فہمی کے لئے سب سے پہلے لوح کو طلب کیا جائے گا لوح لرزاں تراساں حاضر ہوگی دریافت کیا جائے گا کیا تو نے (میرے احکام) پہنچا دئیے لوح عرض کرے گی جی ہاں ! اللہ فرمائے گا تیرا گواہ کون ہے لوح عرض کرے گی۔ اسرافیل۔ اسرافیل کو طلب کیا جائے گا وہ لرزتے کپکپاتے حاضر ہوں گے اللہ فرمائے گا کیا لوح نے تجھے پہنچا دیا اسرافیل عرض کریں گے جی ہاں اس پر لوح کہے گی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے محاسبہ کے برے نتیجہ سے محفوظ رکھا۔
ابن مبارک نے الزہد میں ابو حیلہ کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے اسرافیل کو طلب کیا جائے گا اور اللہ فرمائے گا کیا تو نے میرا حکم پہنچا دیا اسرافیل عرض کریں گے جی ہاں ! میں نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو پہنچا دیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) کی طلبی ہوگی اور ان سے اللہ پوچھا گا کیا اسرافیل ( علیہ السلام) نے تجھے میرا حکم پہنچا دیا جبرئیل ( علیہ السلام) عرض کریں گے جی ہاں اس پر اسرافیل کی چھوٹ ہوجائے گی پھر جبرئیل ( علیہ السلام) سے اللہ فرمائے گا تو نے میرے حکم کے متعلق کیا کیا جبرئیل ( علیہ السلام) عرض کریں گے پروردگار میں نے پیغمبروں کو پہنچا دیا۔ اس پر پیغمبر بلائے جائیں گے اور ان سے دریافت ہوگا کہ کیا میرا حکم جبرئیل ( علیہ السلام) نے تم کو پہنچا دیا پیغمبر عرض کریں گے جی ہاں ! دریافت کیا جائے گا پھر تم نے کیا کیا پیغمبر عرض کریں گے ہم نے امتوں کو پہنچا دیا۔ امتوں سے دریافت کیا جائے گا کیا پیغمبروں نے تم کو پہنچا دیا تھا اس پر کچھ لوگ پیغمبروں کے قول کی تکذیب کریں گے اور کچھ تصدیق پیغمبر عرض کریں گے ہمارے پاس اپنے قول کے گواہ ہیں جو ان (تکذیب کرنے والوں) کے خلاف شہادت دے سکتے ہیں اللہ فرمائے گا وہ کون ہیں پیغمبر عرض کریں گے۔ محمد ﷺ : کی امت اس پر امت محمدیہ ﷺ : کی طلبی ہوگی اور اس سے دریافت کیا جائے گا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ پیغمبروں نے اپنی امتوں کو میرا حکم پہنچا دیا تھا۔ امت محمدیہ جواب دے گی جی ہاں ! انبیاء کی امتیں کہیں گی جو لوگ ہمارے زمانہ میں نہیں ہوئے وہ ہمارے خلاف کیسے شہادت دیتے ہیں اللہ امت محمدیہ سے فرمائے گا تم ان پر کس طرح شہادت دیتے ہو تم تو ان کے زمانہ میں موجود نہ تھے وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس پیغمبر بھیجا تھا اور اپنی کتاب بھی اتاری تھی جس میں تو نے بیان فرما دیا تھا کہ پیغمبروں نے اپنی امتوں کو تیرا پیام پہنچا دیا آیت (وکذلک جعلنکم امۃ وسطا) کا یہی مطلب ہے۔ سورة بقرہ کی اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت کردہ حدیث جس کا تعلق شہادت امت سے ہے ذکر کردی ہے وہاں مطالعہ کرو۔
ولنسئلن المرسلینکا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم پیغمبروں سے پوچھیں گے تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا یہی مضمون دوسری آیت میں آیا ہے فرمایا ہے : (یوم یجمع اللّٰہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب) اس آیت کی تفسیر سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔
Ayah 7:7فلنقصن علیہم بعلم وما کنا غآئبین پھر چونکہ ہم پوری خبر رکھتے تھے ان کے روبرو بیان کردیں گے اور ہم بیخبر نہ تھے۔ یعنی جب پیغمبر کہیں گے ہم کو کوئی علم نہیں ‘ یا جب امتیں تبلیغ کا انکار کردیں گی اور امت محمدیہ ﷺ شہادت دے گی تو ہم پیغمبروں اور ان کی امتوں کے روبرو بیان کردیں گے۔ بعلمکا مطلب یہ ہے کہ ہم کو چونکہ معلوم تھا یا ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے تھے (اوّل صورت میں مصدر بمعنی اسم مفعول اور دوسری صورت میں بمعنی اسم فاعل ہوگا) ہم غافل نہ تھے کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کی تبلیغ سے یا امتوں کے جواب اور امت محمدیہ ﷺ : کی شہادت سے بیخبر نہ تھے مگر کافروں کو زجر و سرزنش کرنی انبیاء اور مسلمانوں کے شرف کو ظاہر کرنا اور شہادت دلوا کر امت محمدیہ ﷺ : کو فضیلت عطا کرنا چونکہ مقصود ہوگا اس لئے یہ سوالات کئے جائیں گے۔
Ayah 7:8والوزن یومئذ الحق اور ٹھیک ٹھیک تول اس روز ہوگی۔
یعنی جس روز پیغمبروں سے اور ان کی امتوں سے سوال ہوگا۔ اس روز میزان عدل سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ضرور ہوگا۔ الوزنمبتدا ہے اور یومئذخبر اور الحقمبتدا کی صفت۔ الحق سے مراد ہے ٹھیک برابر یا الحق خبر ہے اور مبتدا محذوف ہے یعنی وہ حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اس پر ایمان لانا واجب ہے۔
حدیث جبرئیل ( علیہ السلام) میں حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا محمد ﷺ ایمان (سے مراد) کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ کو اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں کو مانو اور جنت و دوزخ اور میزان پر یقین رکھو اور مرنے کے بعد حشر جسمانی کو تسلیم کرو اور اس بات پر ایمان رکھو کہ ہر اچھی بری چیز قدر (الٰہی) کے اندر ہے (یعنی اللہ کی تقدیر سابق سے کوئی چیز خارج نہیں) اگر تم نے ایسا کرلیا تو بس قطعی مؤمن ہو۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا جی ہاں آپ نے سچ فرمایا۔ رواہ البیہقی فی البعث عن ابن عمر۔ ابن مبارک نے الزہد میں اور اجری نے الشریعۃ میں حضرت سلمان کی روایت سے اور ابوالشیخ نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ میزان کی ایک زبان اور دو پلڑے ہوں گے۔
وزن کس چیز کا اور کس طرح ہوگا اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں بعض علماء نے کہا اعمال نامے تولے جائیں گے۔ ترمذی ابن ماجہ ابن حبان حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کے ایک آدمی کو سب کے سامنے لایا جائے گا اور اس کے ننانوے اعمال نامے کھولے جائیں گے ہر اعمال نامہ کی لمبائی بقدر رسائی نگاہ ہوگی اللہ اس سے فرمائے گا کیا تجھے اس میں سے کسی بات کا انکار ہے ‘ کیا میرے نگراں محرروں نے (لکھنے میں) کچھ تیری حق تلفی کی ہے وہ شخص جواب دے گا ‘ نہیں۔ میرے مالک (حق تلفی نہیں کی) اللہ فرمائے گا کیوں نہیں ‘ تیری ایک نیکی ہمارے پاس موجود ہے اور آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا اس کے بعد ایک چھوٹا پرچہ نکالا جائے گا جس میں اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ لکھا ہوگا وہ شخص عرض کرے گا میرے مالک ان دفتروں کے مقابلہ میں اس چھوٹے پرچہ کی کیا حقیقت ہے اللہ فرمائے گا تجھ پر ظلم نہیں ہوگا پھر تمام دفاتر اعمال ایک پلڑے میں اور وہ چھوٹا پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اعمال ناموں والا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور پرچہ والا پلڑا بھاری نکلے گا اللہ کے نام سے کوئی چیز بھاری نہیں۔
امام احمد نے حسن سند سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ترازوئیں قائم کی جائیں گی پھر ایک آدمی کو لا کر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اس چیز کو بھی اس پلڑے میں رکھ دیا جائے گا جس میں اس کے اعمال کا گنتی کے ساتھ اندراج کیا گیا تھا ترازو اس کو لے کر جھک جائے گی نتیجہ میں اس کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا جونہی اس کی پشت پھرائی جائے گی۔ رحمن کی طرف سے ایک منادی بلند آواز سے پکارے گا جلدی نہ کرو ابھی اس کا کچھ رہ گیا ہے چناچہ ایک چھوٹا پرچہ لایا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا۔ وہ پرچہ (دوسرے پلڑے میں) اس آدمی کے ساتھ رکھ دیا جائے گا فوراً ترازو ادھر کو جھک جائے گی۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے حضرت آدم کے ٹھہرنے کا ایک خاص مقام ہوگا دو سبز کپڑے پہنے وہ ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی کھجور کا لمبا درخت۔ اپنی جگہ کھڑے کھڑے دوزخ کی طرف جانے والوں کو دیکھتے ہوں گے اسی اثناء میں امت محمدیہ کے ایک شخص کو دوزخ کی طرف لے جاتا دیکھ کر پکاریں گے۔ احمد۔ میں جواب دوں گا ابوالبشر میں یہ ہوں حضرت آدم ( علیہ السلام) کہیں گے تمہاری امت کے اس آدمی کو دوزخ کی طرف لے جایا جا رہا ہے میں یہ سنتے ہی فوراً جلد جلد تیاری کر کے فرشتوں کے پیچھے جاؤں گا اور کہوں گا اے اللہ کے قاصدو ٹھہر جاؤ فرشتے کہیں گے ہم سخت خو اور طاقتور ہیں اللہ جو حکم دیتا ہے اس کے خلاف نہیں کرسکتے جیسا حکم ملتا ہے ویسا ہی کرتے ہیں (راوی نے کہا) جب رسول اللہ ﷺ ناامید ہوجائیں گے تو بائیں ہاتھ کی مٹھی میں ریش مبارک پکڑ کر عرش کی طرف رخ کر کے عرض کریں گے میرے مالک تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے میری امت میں رسوا نہ کرے گا فوراً عرش سے ندا آئے گی۔ محمد کا کہنا مانو اور مقام (میزان) کی طرف اس بندہ کو واپس لے آؤ (حضور نے فرمایا ( پھر میں پورے برابر ایک سفید پرچہ اپنی گود سے نکال کر بسم اللہ کہہ کر ترازو کے دائیں پلڑے میں ڈالوں گا جس سے نیکیوں کا پلڑہ جھک جائے گا فوراً ندا ہوگی کامیاب ہوگیا۔ اس کی کوشش کامیاب ہوگئی (اس کی نیکیوں کا وزن) بھاری نکلا اس کو جنت کو لے جاؤ وہ شخص (فرشتوں سے) کہے گا اے میرے رب کے کارندو ذرا ٹھہر جاؤ میں اس معزز بندہ سے کچھ دریافت کرلوں جس کی بارگاہِ الٰہی میں اتنی عزت ہے پھر ( رسول اللہ کی طرف رخ کر کے) کہے گا آپ پر میرے ماں باپ قربان۔ آپ کون ہیں آپ کا چہرہ کتنا حسین اور آپ کے اختلقف کتنے اعلیٰ ہیں آپ نے مجھے لوٹا دیا اور میری آبرو پر رحم فرمایا میں جواب دوں گا۔ میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں اور یہ تیری وہ درودیں تھیں جو تو مجھ پر پڑھتا تھا آڑے وقت میں یہ تیرے کام آئیں۔
بعض علماء کا قول ہے کہ (اعمال کو نہیں) اشخاص کو تولا جائے گا صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ بڑے قد آور موٹے آدمی قیامت کے دن ایسے ہوں گے کہ اللہ کے نزدیک ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا پھر حضور ﷺ نے آیت (فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا) تلاوت فرمائی۔ ابو نعیم اور اجری نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تشریح کے ذیل میں فرمایا کہ (بعض) طاقتور قوی الجثہ بہت کھانے پینے والے آدمیوں کو ترازو میں رکھا جائے گا۔ تو ان کا وزن جو برابر بھی نہیں نکلے گا۔ فرشتہ ایسے ستر ہزار آدمیوں کو ایک دم دھکا دے کر دوزخ میں پھینک دے گا۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اعمال کو مجسم بنا دیا جائے گا اور پھر ان کو تولا جائے گا۔ کیونکہ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (لیکن) میزان میں بھاری (اور) اللہ کو پیارے ہیں سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم وبحمدہ اصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے سبحان اللہ ترازو کے آدھے پلڑے کو اور الحمد للہ پوری ترازو کو بھر دے گا۔ مسلم نے حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طہارت نصف ایمان ہے اور الحمدللہ ترازو کو پُر کر دے گا۔ ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ترغیب کی روایت کی طرح حدیث نقل کی ہے۔ بزار اور حاکم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت نوح ( علیہ السلام) نے اپنی وفات کے وقت دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا میں تم کو لا الٰہ الا اللہ (کے یقین رکھنے اور اعتراف کرنے) کا حکم دیتا ہوں کیونکہ آسمانوں اور زمین کو مع اس کی موجودات کے اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ کو رکھا جائے تو یہ (موخر الذکر) پلڑا بھاری پڑے گا۔ ابویعلی ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے) فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) اگر تمام آسمان اور میرے علاوہ ان کی ساری موجودات اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ ہو تو یہ ان (آسمان و زمین) کو لے جھکے گا (یعنی ان کا پلڑا اونچا ہوجائے گا)
طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمام آسمان و زمین اور ان کے اندر کی موجودات اور دونوں کے درمیان کی کائنات اور زمینوں کے نیچے کی مخلوقات سب کو لا کر میزان کے ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھ دی جائے تو یہ ان سب سے وزنی ہوگی۔ ابو داؤد ‘ ترمذی اور ابن حبان نے حضرت ابو داؤد کی روایت سے لکھا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسن اخلاق سے زیادہ بھاری ‘ میزان میں کوئی چیز نہیں (ہو گی) بزار ‘ طبرانی ‘ ابویعلی ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حسن سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ابوذر ؓ سے) فرمایا ابوذر ؓ : کیا میں تجھے دو خصلتیں ایسی بتاؤں جو پشت پر تو ہلکی ہیں (یعنی جن کو اٹھانا آسان ہے) مگر میزان میں تمام دوسری چیزوں سے بھاری ہوں گی حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے۔ فرمایا حسن خلق اور زیادہ خاموشی کو اختیار کر قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان دونوں کے برابر مخلوق کا کوئی عمل نہیں۔ امام احمد (رح) نے الزہد میں حازم نامی ایک شخص کی روایت سے لکھا ہے کہ حضور اقدس ﷺ : کی خدمت میں ایک شخص (بیٹھا) رو رہا تھا اتنے میں حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) اترے اور پوچھا یہ کون ہے حضور ﷺ نے فرمایا فلاں شخص ہے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا اولاد آدم ( علیہ السلام) کے تمام اعمال کا وزن ہوسکتا ہے صرف رونے کا وزن نہیں ہوسکتا اللہ ایک آنسو سے آگ کے سمندر کو بجھا دے گا۔ بیہقی نے حضرت معقل بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آنکھ آنسو بہاتی ہے تو اللہ تمام جسم کو (اس کی وجہ سے) دوزخ پر حرام کردیتا ہے اور جب قطرہ رخسار پر بہتا ہے تو اس چہرہ پر بدرونقی اور ذلت نہیں چھائے گی ہر چیز (یعنی عمل) کا ایک اندازہ اور وزن ہے مگر کسی قوم میں سے اگر کوئی شخص (اللہ کے سامنے اس کے خوف سے) روتا ہے تو اس کا ایک آنسو آگ کے سمندروں کو بجھا دیتا ہے۔
میں کہتا ہوں مذکورۂ بالا احادیث سے بظاہر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ نفس اعمال کا وزن کیا جائے گا لیکن ان ہی احادیث کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اعمال ناموں کا اور اعمال کرنے والوں کا وزن کیا جائے گا۔ اعمال کو مجسم بنا کر تولنے کا ثبوت مندرجۂ ذیل روایات سے ملتا ہے۔
بیہقی نے شعب الایمان میں (بطریق سدی صغیر از کلبی از ابو صالح) حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ میزان کی ایک زبان اور دو پلڑے ہوں گے نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی۔ نیکیوں کو حسین ترین شکل میں لا کرمیزان کے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور بدیوں کے پلڑے سے اس کا وزن زیادہ نکلے گا تو اس خوبصورت شکل کو لے کر جنت کے اندر اس کے مقام پر رکھ دیا جائے گا۔ پھر مؤمن سے کہا جائے گا اپنے عمل سے جا کر مل جا مؤمن جنت کی طرف چلا جائے گا اور وہاں اپنا مقام اپنے عمل کی وجہ سے پہچان لے گا (کیونکہ اس کا عمل حسین شکل میں وہاں پہلے سے موجود ہوگا) اور بدیوں کو مکروہ ترین شکل میں لا کر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا۔ یہ پلڑا ہلکا نکلے گا اور باطل کا وزن ہلکا ہوتا ہی ہے پھر اس کو جہنم میں اس کے مقام پر پھینک دیا جائے گا اور اس (گناہگار ‘ بدکار) سے کہا جائے گا ‘ جا دوزخ میں اپنے عمل سے جا کر مل جا وہ دوزخ میں چلا جائے گا اور اپنے عمل کو دیکھ کر ہی اپنا مقام اور طرح طرح کے ان عذابوں کو پہچان جائے گا جو اللہ نے اس کے لئے فراہم کر رکھے ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو لوگ جمعہ کے دن (جمعہ کی نماز کے بعد) اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں اور اپنے اپنے مقاموں کو پہچان لیتے ہیں۔ دوزخی اور جنتی دوزخ اور جنت کے اندر اپنے اعمال کی موجودگی کی وجہ سے اپنے اپنے مقاموں کو ان نمازیوں سے بھی زیادہ جانتے ہوں گے چونکہ اس حدیث کی روایت سدی صغیر کے طریق سند سے ہے اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے۔
ابن مبارک نے حماد بن ابی سلیمان کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو اپنا عمل حقیر دکھائی دے گا اتنے میں ایک چیز بادل کی طرح آکر میزان کے پلڑے میں گرجائے گی اور (فرشتہ یا کوئی اور) کہے گا یہ وہی نیکی ہے جس کی تعلیم تو لوگوں کو دیتا تھا۔ تیرے بعد وہ نیکی نسل در نسل چلتی رہی (یہاں تک کہ آج) اسی کا تجھے اجر دیا جا رہا ہے ابن عبدالرزاق نے ابراہیم نخعی کی روایت سے بھی یہ قول نقل کیا ہے۔
طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ جائے گا اس کے لئے میزان میں (نیکی کے) دو قیراط جو کوہ کے برابر ہوں گے رکھے جائیں گے۔ اصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرض نماز کا اللہ کے نزدیک ایک وزن ہے جو شخص فرض نماز میں کچھ کمی کرے گا اس سے اس کمی کی حساب فہمی ہوگی ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ فرض نماز میں اگر کچھ نقصان ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرماتا ہے دیکھو میرے بندہ کے کچھ نوافل ہیں اگر کچھ نوافل ہوئے تو فرض کی کمی نوافل سے پوری کردی جاتی ہے۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل سے تعلق رکھنے والے جسم کا وزن کیا جائے گا طبرانی نے الاوسط میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بندہ کی ترازو میں سب سے پہلے اس نفقہ کو رکھا جائے گا جو بندہ نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے اللہ کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے اور ایمان رکھتے ہوئے کوئی گھوڑا (اپنے جہاد یا دوسرے مسلمان مجاہد کے لئے) روک رکھا ہوگا تو اس گھوڑے کا کھانا پینا لید اور پیشاب (سب کچھ) قیامت کے دن اس کی میزان (کے نیکیوں کے پلڑے) میں رکھا جائے گا۔ طبرانی نے حضرت علی ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی گھوڑا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے باندھ رکھا تو گھوڑے کا چارہ اور نشانات قدم قیامت کے دن اس کی (نیکیوں کی) میزان میں رکھے جائیں گے۔ اصفہانی نے حسن سند سے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا اٹھو اور اپنی قربانی (ذبح) ہونے کے وقت اس کے پاس خود موجود رہو جو قطرہ اس کے خون کا ٹپکے گا وہ تمہارے لئے ہر گناہ کی مغفرت کا سبب ہوگا۔ خوب سن لو اس کا خون اور گوشت لا کر ستر گنا کر کے تمہاری میزان میں (قیامت کے دن وزن کے وقت) رکھ دیا جائے گا۔ یہ سن کر ابو سعید نے عرض کیا یا رسول اللہ : ﷺ کیا یہ حکم آل محمد ﷺ کے لئے مخصوص ہے فرمایا آل محمد ﷺ کے لئے بھی ہے اور عام مسلمانوں کے لئے بھی۔ بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے اور ابن حبان نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے اور ابن عساکر نے ضعیف سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے وضو کر کے صاف کپڑے سے (وضو کا پانی) پونچھ لیا تو کوئی ہرج نہیں اور اگر ایسا نہیں کیا (یعنی وضو کا پانی نہ پونچھا) تو یہ افضل ہے کیونکہ قیامت کے دن دوسرے اعمال کے ساتھ وضو کو بھی طلب کیا جائے گا ابن ابی شیبہ نے مصنف میں لکھا ہے کہ سعید بن مسیب نے وضو کے بعد رومال کو پسند نہیں کیا اور فرمایا اس کا بھی (نیکیوں کے ساتھ) وزن کیا جائے گا۔
طبرانی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا میں نے ایک اونٹنی اللہ کی راہ میں دے دی پھر اس کا بچہ خرید لینے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا فرمایا رہنے دو ‘ قیامت کے دن یہ اور اس کی اولاد سب تمہاری میزان میں آئے گی۔ ذہبی نے حضرت عمران بن حصین کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہیدوں کے خون کا وزن کیا جائے گا۔ علماء کی روشنائی شہیدوں کے خون سے بھاری نکلے گی۔
فمن ثقلت موازنیہ فاولئک ہم المفلحون سو جن لوگوں (کی نیکیوں) کے پلڑے بھاری ہوں گے تو ایسے ہی لوگ (پورے پورے) کامیاب ہوں گے۔
موازین موزون کی جمع ہے یعنی تولے جانے والے اعمال مراد ہیں نیکیاں مجاہد کا یہی قول ہے یا موازین میزان کی جمع ہے اور اس سے مراد ہے میزان کا نیکیوں والا پلڑا۔ اس توجیہ پر یہ ماننا پڑے گا کہ آیت کی روشنی میں ہر شخص کی میزان جدا جدا ہے۔ المفلحون سے مراد یہ ہے کہ وہی لوگ نجات اور ثواب پائیں گے (باقی مسلمان گناہگار جن کی مغفرت ہوجائے گی وہ اگرچہ عذاب سے نجات پالیں گے مگر چونکہ ان کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی اس لئے ثواب نہیں پائیں گے) ۔
Ayah 7:9ومن خفت موازنیہ فاولئک الذین خسروا انفسہم بما کانوا بایتنا یظلمون : اور جن (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوں گے سو وہ لوگ وہی ہوں گے جنہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا ہماری آیتوں کی حق تلفی کرنے کے سبب۔
موازین سے اس جگہ بھی نیکیاں یا نیکیوں کا پلڑا مراد ہے۔ بظاہر اس آیت کے عموم میں بدکار کافر بھی داخل ہیں اور مؤمن بھی جن کی بدیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہو لیکن اس جگہ صرف کفار مراد ہیں کیونکہ قرآنی بیان کا اسلوب ہی یہ ہے کہ نیکو کار مومنوں کے مقابلہ میں کافروں کا تذکرہ کرتا ہے باقی جو مسلمان مخلوط الاعمال ہیں نیکیاں بھی کرتے ہیں اور بدیاں بھی ان کا ذکر عموما نہیں کیا جاتا۔ الذین خسروا سے یہ مراد ہے کہ ان لوگوں نے اپنی پیدائشی فطرت سلیمہ کو کھو دیا اور عذاب آفریں اعمال کا ارتکاب کیا اور آیات کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کرنے لگے اس طرح آیات کے ساتھ ظلم کیا سورة القارعہ کی آیت : (فمن ثقلت موازنیہ فہو فی عیشۃ راضیۃ و اما من خفت موازنیہ فامہ ہاویۃ) کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے حاضر الذکر آیت کے مضمون کی تشریح کردی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے وفات کے وقت حضرت عمر ؓ فاروق کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا قیامت کے دن جس کی میزان بھاری ہوگی وہ صرف اس وجہ سے بھاری ہوگی کہ دنیا میں وہ کا اتباع کرتا تھا جس میزان میں کل حق کو رکھا جائے گا اس کو بھاری ہونا ہی چاہئے اور جس کی میزان قیامت کے دن ہلکی ہوگی اس کے ہلکے ہونے کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ وہ دنیا میں باطل کا اتباع کرتا تھا اور جس میزان میں باطل کو رکھا جائے گا اس کو ہلکا ہونا ہی چاہئے۔
میں کہتا ہوں اس میں میزان سے مراد ہے نیکیوں کا پلڑا اور باطل سے مراد ہیں وہ باطل عقائد و اعمال جن کو اہل باطل نیکیاں سمجھتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک وہ سراسر کفریات اور بدعات ہیں اللہ کے نزدیک ان کا کوئی وزن نہیں جیسے لق و دق بیابان میں سراب جس کو دور سے دیکھنے والا پیاسا پانی سمجھتا ہے اور قریب جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا اسی طرح کافر اور مبتدع کو اللہ کے پاس جا کر کچھ نہیں ملے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوری پوری حساب فہمی کرے گا۔
Ayah 7:10ولقد مکنکم فی الارض اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر جمایا۔ یعنی زمین پر رہنے کھیتی اور دوسرے کاروبار کرنے کی ہم نے تم کو قدرت عطا کی۔
وجعلنا لکم فیہا معایش اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا۔
معایش مَعِیْشَۃٌکی جمع ہے یعنی زندگی بسر کرنے کے اسباب کھیتی باڑی مویشی کھانے پینے کا سامان ‘ تجارت اور کمائی کے پیشے وغیرہ۔
قلیلا ما تشکرون (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ یعنی میرے ان احسانات کا تم تھوڑا شکریہ یا تھوڑے وقت شکریہ ادا کرتے ہو۔
Ayah 7:11ولقد خلقنکم اور ہم نے تمہارا اندازہ کیا۔ یعنی اپنے علم میں ہم نے تمہارا اندازہ کرلیا تھا جبکہ تم (عالم وجود و مادیت میں آنے سے پہلے) اعیان ثابتہ (حقائقِ کونیہ ماہیات امکانیہ اور مرتبۂ تقرر) میں تھے (اعیان ثابتہ کا مرتبہ وجود ہونے سے پہلے کا تھا جب کہ ہر ممکن الوجود چیز اللہ کے کشفی اجمالی علم کے اندر اپنی تمام کیفیات و کمیات کے ساتھ متقر تھی)
ثم صورنکم پھر تمہاری صورت بنائی یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی مطلب یہ کہ تمہاری تخلیق اور صورت سازی کا آغاز اس طرح کیا کہ تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کا اوّل علمی اندازہ کیا پھر اس کی صورت بنائی یہی تمہاری تخلیق و صورت گری کی ابتدا ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ :‘ قتادہ ؓ :‘: ضحاک اور سدی (رح) نے آیت کی تشریح اس طرح کی کہ ہم نے تمہارے اصول و آباء کو پیدا کیا۔ پھر ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورتیں بنائیں۔ مجاہد نے کہا ہم نے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کو بنایا۔ پھر آدم ( علیہ السلام) کی پشت میں تمہاری صورتیں بنائیں۔ آدم چونکہ ابوالبشر تھے اس لئے ان کی تخلیق کو تمام نسل کی تخلیق قرار دیا۔ بعض نے صورنکمکا مطلب اس طرح لکھا ہے کہ روز میثاق میں تمہاری صورتیں پیدا کیں جبکہ چیونٹیوں کی طرح تم کو برآمد کیا۔
عکرمہ نے کہا ہم نے باپوں کی پشت میں تم کو پیدا کیا پھر ماؤں کے پیٹوں کے اندر تمہاری شکلیں پیدا کیں۔ یمان نے کہا رحم کے اندر انسان کو بنایا پھر اس کی صورت گری کی۔ کان ‘ آنکھیں اور انگلیاں چیریں۔ بعض علماء کے نزدیک آیت میں لفظ ثم (تراخی کے لئے نہیں ہے بلکہ) واؤ کی طرح صرف عطف کے لئے ہے یعنی تم کو پیدا کیا اور تمہاری صورت بنائی (یہ صراحت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ) بعض مخلوقات کو صورت نہیں دی گئی ہے جیسے ارواح (اور ہوائیں)
ثم قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس لم یکن من السجدین پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا۔ اگر مخاطب کی ضمیر (جمع) سے صرف آدم مراد ہوں تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اور اگر نسل آدم مراد ہو تو (اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ نسل آدم کو پیدا کرنے کے بعد تو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم نہیں دیا گیا) اس وقت توجیہ کرنی ہوگی اس صورت میں بعض کے نزدیک ثم مطلق عطف کے لئے ہوگا اور بعض کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم کو پیدا کرنے کے بعد ہم نے تم کو اطلاع دی کہ ہم نے فرشتوں کو سجدۂ آدم کا حکم دیا تھا۔ آیت کی پوری تفسیرہ سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
Ayah 7:12قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک اللہ نے فرمایا (اے ابلیس) جب میں نے تجھ کو حکم دے دیا تو سجدہ نہ کرنے کی وجہ مانع کون سی ہے۔ اَلاَّ تَسْجُدَمیں لا زائد ہے جیسے لئلا یعلم میں یہ جس فعل پر داخل ہوا ہے اس کو مضبوط کر رہا ہے اور اس بات پر تنبیہ کر رہا ہے کہ ترک سجود موجب سرزنش ہے بعض نے کہا کہ (لازائد نہیں ہے) جس شخص کو کسی کام سے روک دیا جائے تو وہ اس کام کے مخالف کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے گویا اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کس چیز نے سجدہ نہ کرنے پر تجھے مجبور کیا۔ بعض نے کہا کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے اصل کلام اس طرح تھا تجھے تعمیل حکم سے کس چیز نے روکا اور سجدہ نہ کرنے کا باعث کیا ہے۔ اللہ کو تعمیل حکم نہ کرنے کی وجہ معلوم تھی لیکن باوجود علم کے اس لئے استفسار کیا کہ ابلیس کو سرزنش ہو اور اس کے عناد و کفر اور غرور کا اظہار ہوجائے۔ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مطلق امر وجوب کے لئے ہوتا ہے (یعنی امر کا صیغہ اگر استعمال کیا جائے اور خلاف وجوب کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو اس کی تعمیل لازم ہے۔ )
قال انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین ابلیس نے کہا میں اس سے افضل ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اس کو مٹی سے (یہ کلام بظاہر لفظ کے اعتبار سے تو سوال کا جواب نہیں ہے مگر) معنی کے لحاظ سے سوال کا پورا جواب ہے اسی لئے جملہ کو (بغیر حرف ربط کے) بصورت استقلال ذکر کیا گویا ابلیس نے اپنی ہستی کو آدم ( علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے بہت بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرے لئے سجدہ سے مانع میری افضیلت اور برتری ہے فاضل کا مفضول کو سجدہ کرنا زیبا نہیں اس لئے مفضول کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا فاضل کو حکم دینا نامناسب ہے پس ابلیس کے کلام میں اللہ کے حکم پر اعتراض ہے۔ نار سے مراد ہے اوپر کو چڑھنے والا نورانی جوہر اور طین سے نیچے گرنے والی تاریک شے مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سب سے پہلے ابلیس نے قیاس سے کام لیا اور قیاس میں غلطی کی ‘ لہٰذا جو شخص دین کا قیاس اپنی رائے پر کرتا ہے اللہ ابلیس سے اس کا جوڑ لگا دے گا۔ ابن سیرین نے فرمایا سورج کی پوجا محض قیاس کے ہی گھوڑے دوڑانے کی بنیاد پر کی گئی۔
میں کہتا ہوں ان دونوں قولوں سے قیاس کا بےحقیقت ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ ابلیس کے قیاس کا غلط ہونا ظاہر کیا گیا ہے (صحیح قیاس کی ممانعت نہیں کی گئی) کیونکہ ابلیس نے نص شرع کے مقابل اپنے قیاس سے کام لیا تھا اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا من قاس الدین بشئی من رایہ یعنی شرعی نصوص کے مقابل اور مخالف جس نے اپنی رائے چلائی اس کو اللہ ابلیس کا جوڑی دار بنا دیتا ہے۔ پھر بجائے خود بھی یہ بات غلط ہے کہ برتری اور افضیلت کی بنیاد روشنی اور بلندی کی جانب حرکت کو قرار دیا جائے (جیسا کہ آگ میں ہوتا ہے اور اسی علت کو ابلیس نے اپنی دلیل میں پیش کیا) بلکہ عطائے برتری اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے فضیلت سے نوازتا ہے اللہ نے اپنی مشیت سے آدم کو تمام مخلوق پر بزرگی عطا فرمائی اپنے دست قدرت سے خصوصی طور پر ان کو بنایا اپنی روح (کا ایک جلوہ) ان کے اندر پھونک دیا ان کو تمام اسماء کو سیکھنے کے قابل بنایا اپنی تجلیات کی پر تو اندازی کی منزل ان کو کردیا تعمیل احکام اور اجتناب از ممنوعات کے ساتھ فرائض و نوافل کی ادائیگی کے ذریعہ سے ان کو اپنا قرب عطا فرما دیا وہ امانت جس کو برداشت کرنے سے آسمان زمین اور پہاڑ بھی خوف زدہ ہوگئے تھے اس کا حامل ان کو بنا دیا۔
ایک شبہ : اجتہادی خطا تو معاف ہے پھر قیاسی غلطی پر شیطان کی کیوں گرفت کی گئی۔
ازالہ : اجتہادی غلطی معاف ہے بشرطیکہ اجتہاد کرنے والا حق کا طلب گار ہو اور حق کی تلاش میں اپنی امکانی اجتہادی کوشش صرف کر دے اس شخص کی اجتہادی خطا معاف نہیں جو سرکش ہو بہرطور اپنے حریف پر غالب آجانے کا خواستگار اور اپنے تفوق کا طالب ہو۔ دیکھو انی جاعل فی الارض خلیفۃ کے جواب میں فرشتوں نے بھی تو کہا تھا اتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدماء ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک اور اس قیاس میں انہوں نے غلطی بھی کی تھی اسی لئے اللہ نے ان کے قول کی تردید میں فرمایا انی اعلم ما لا تعلمون مگر چونکہ فرشتوں کا قول غرور تکبر اور سرکشی کے زیر اثر نہ تھا بلکہ طلب حق اور استفہام حکمت کے ماتحت تھا اس لئے ان کو مردود نہیں بنایا فرشتوں کے جویائے حق ہونے اور سرکشی نہ کرنے کا ثبوت ان کے آخری قول سے ملتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیماہل دانش کا قول ہے کہ مٹی کی سرشت میں وزن وقار برداشت اور صبر داخل ہے یوں تو آدم کے لئے پہلے سے ہی ازلی سعادت مقدر تھی مگر مٹی کی سرشت ہی ان کو تو بہ عجز اور زاری کی طرف لے گئی اور اس فطرت کی وجہ سے ان کو تو بہ ہدایت اور برگزیدگی نصیب ہوئی اور آگ کی فطرت میں ہلکا پن ‘ اضطراب تیزی اور بلند طلبی داخل ہے ابلیس کے لئے یوں تو پہلے سے بدبختی مقدر ہوچکی تھی مگر اس کی آتشیں فطرت نے ہی اس کو تکبر اور ضد پر آمادہ کیا اور لعنت و شقاوت کا مستحق بنایا۔ اس سے آگ پر مٹی کی برتری ثابت ہوتی ہے آگ پر مٹی کی فضیلت اس وجہ سے بھی ہے کہ مٹی اشیاء کو سمیٹتی اور جمع کرتی ہے اور آگ منتشر اور پراگندہ کرتی ہے۔ مٹی نباتات کی زندگی کا سبب ہے اور آگ نباتات کو تباہ کردیتی ہے۔
انسان کی مکمل ساخت مٹی کی اور شیطان کی پوری بناوٹ آگ کی اگرچہ نہیں ہے لیکن انسان کی ساخت میں بیشتر حصہ مٹی کا اور شیطان کی ساخت میں بیشتر حصہ آگ کا ہے اور دونوں کا غالب عنصر مٹی اور آگ ہی ہے اس لئے اوّل الذکر کو مٹی کا ساختہ اور موخر الذکر کو آگ کا ساختہ قرار دیا۔ من طینکے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ انسان کا امتیازی نشان عالم خلق (یعنی مادی عنصر) ہے عالم امر (یعنی روح اور اس کی غیر مادی طاقتیں) عالم خلق کا تابع ہے اس کو خیر و شر سے متصف عالم خلق کی نیکی و بدی کی وجہ سے بالتبع کرلیا جاتا ہے اور عالم خلق کے رنگ ہی سے عالم امر رنگ جاتا ہے جیسے سورج کا عکس اگر آئینہ پر پڑتا ہے تو آئینہ کی جیسی شکل ہوتی ہے سورج کی روشنی کی بھی وہی شکل ہوجاتی ہے (پس روح سورج کی شعاعوں کی طرح ہے اور جسم آئینہ کی طرح) حضرت مجدد (رح) نے فرمایا عالم امر کی وجہ سے نفس کی انتہائی ترقی صفات کے پَر تو تک ہوتی ہے (صفات تک پہنچ نہیں ہوتی) ہاں مرتبۂ اخفی کی ترقی بعض صفات تک ہوجاتی ہے اور لطائف عالم خلق سے جو کمال نفس کو ملتا ہے اس کی ترقی ظاہر صفات تک ہوجاتی ہے اور ہوا پانی آگ ان تینوں عناصر کی ترقی کا منتہا باطن صفات ہے (ظاہر صفات اور باطن صفات کا فرق یہ ہے کہ ظاہر صفات میں اس بات کا عرفان نہیں ہوتا کہ ان صفات کا قیام کسی ذات سے ہے یا نہیں اور باطن صفات میں ذات کے ساتھ صفات کا قیام ملحوظ ہوتا ہے) اور مرتبۂ ذات تک ترقی صرف عنصر خاک کے ساتھ مخصوص ہے جیسے آفتاب کی شعاعیں لطیف ترین چیز میں نمایاں نہیں ہوتیں اندر گھس کر پار نکل جاتی ہیں اور کثیف جسم پر پڑتی ہیں تو نمایاں ہوجاتی ہیں۔
Ayah 7:13قال فاہبط منہا پس اللہ نے (ابلیس سے) فرمایا یہاں (یعنی جنت یا آسمان سے) اتر جا۔ یعنی جب تو مغرور ہے تو اتر جا یہ جگہ اہل تواضع اور اطاعت شعار بندوں کی ہے۔
فما یکون لک ان تتکبر فیہا ہو نہیں سکتا کہ آسمان میں رہ کر تو تکبر کرے یعنی تیرے لئے آسمان میں رہ کر تکبر جائز نہیں۔ اس جملہ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اہل جنت کے لئے تکبر زیبا نہیں۔ کبریائی تو اللہ ہی کے لئے ہے ابلیس تکبر کی وجہ سے ہی راندۂ درگاہ ہوا اور آسمان سے نکالا گیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بڑائی ہوگی جنت میں نہیں جائے گا۔ رواہ مسلم۔ مسلم کی دوسری روایت میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ بعض لوگ (اپنے لئے) اچھا کپڑا اور اچھا جوتہ پسند کرتے ہیں (کیا یہ بھی غرور کی علامت ہے) فرمایا اللہ (خود) جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے غرور تو حق کے مقابلہ میں اکڑنا اور لوگوں کی تحقیر کرنا ہے۔
حضرت حارثہ ؓ بن وہب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کو بتاؤں کہ جنتی کون ہے اور دوزخی کون ؟ وہ کمزور آدمی جس کو لوگ کمزور سمجھتے ہیں (یعنی ذلیل سمجھتے ہیں) لیکن اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لیتا ہے تو اللہ اس کی قسم پوری کردیتا ہے (جنتی ہے) اور ہر بدخلق ‘ درشت خو ‘ تند مزاج مغرور دوزخی ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ کا ارشاد ہے کہ) بزرگی میری چادر اور بڑائی میری لنگی ہے جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے لئے بھی مجھ سے کشاکشی کرے گا میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا دوسری روایت میں ہے میں اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا۔ رواہ مسلم۔
فاخرج انک من الصغرین (یہاں سے) نکل جا بلاشبہ تو ذلت پانے والوں میں سے ہے یعنی اللہ اور اللہ کے دوستوں کی نظر میں ذلیل ہے ہر شخص تجھے برا کہے گا اور ہر زبان تجھ پر لعنت کرے گی۔ قاموس اور دوسری لغت کی کتابوں میں ہے کہ صاغر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے ذلیل مقام پر خوش ہو اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ غرور کرنے اور بڑائی کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے لئے ذلت و حقارت لازم ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اللہ کے لئے فروتنی کرتا ہے اللہ اس کو اونچا کرتا ہے وہ خود اپنے کو تو چھوٹا سمجھتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے اللہ اس کو پست کردیتا ہے وہ اپنے خیال میں تو بڑا ہوتا ہے مگر لوگوں کی آنکھوں میں کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ رواہ البہیقی فی شعب الایمان از عمرو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا برا ہے وہ بندہ جو غرور کرتا اور اتراتا ہے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جاتا ہے۔ ترمذی نے حضرت اسماء ؓ کی روایت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے لیکن صراحت کردی ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Ayah 7:14قال انظرنی الی یوم یبعثون ابلیس نے کہا مجھے اس دن تک چھوٹ دے دے جس دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا یعنی تو میری میعاد زندگی طویل کر دے اور روز بعثت تک یعنی اس روز تک کہ دوبارہ صور پھونکا جائے اور لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے مجھ پر موت کو مسلط نہ کر۔
Ayah 7:15قال انک من المنظرین اللہ نے فرمایا یقیناً تو مہلت پانے والوں میں سے ہے (یعنی تجھے موت سے چھوٹی دے دی گئی) ۔
یہاں وقت مہلت کی حد بندی نہیں کی گئی مگر دوسری آیت میں مہلت زندگی کی تعیین فرما دی ہے فرمایا ہے انک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوموقت معلوم کے دن تک تجھے چھوٹ دے دی گئی۔ وقت معلوم سے مراد یا تو وہ وقت ہے جس کی انتہا اللہ کے علم میں ہے (ہم کو نہیں بتائی گئی) یا وہ وقت مراد ہے جب پہلا صور پھونکنے سے سب لوگ مرجائیں گے۔ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ دعا کی قبولیت صرف فرماں بردار اور اطاعت گزاروں کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے نہ یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا مقبول بندہ ہو بلکہ کبھی کافر کی دعا ڈھیل دینے کے لئے بھی قبول کرلی جاتی ہے اس میں بندوں کا امتحان ہوتا ہے اور درپردہ اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ بہتری اس کی دعا کے خلاف کرنے میں ہی ہوتی ہے۔
Ayah 7:16قال فبما اغویتنی لا قعدن لہم صراطک المستقیم وہ کہنے لگا اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے تو میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو گمراہ کرنے کے لئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔ فَبِمَا میںتعقیبیہ اور با سببیہ ہے فعل قسم مقدر ہے اور مَا مصدری ہے یعنی اب جب کہ تو نے مجھے مہلت دے دی اور ان انسانوں کے سبب سے کجراہ بنا دیا میں تیری قسم کھاتا ہوں کہ جس طریقہ سے مجھ سے ممکن ہوگا میں ان کو بےراہ کرنے کی کوشش کروں گا چونکہ لا قعدن میں لام تاکیدی موجود ہے اس لئے بما کا تعلق اقعدن سے نہیں ہوسکتا بعض علماء کا قول ہے کہ بما اغویتنی میں ب قسمیہ ہے یعنی تیرے اغواء کرنے کی قسم مراد یہ ہے کہ تیری نافذ الحکم قدرت کی قسم۔
لا قعدن جواب قسم ہے اور صراط سے مراد ہے اسلام صراطک میں حرف جر مقدر ہے جیسے عَسَلَ الطَرِیْقَ الثعلب لومڑی راستہ میں تیز بھاگی۔ یا حرف جر نکال لیا گیا ہے اور مجرور کو منصوب کردیا گیا ہے جیسے ضرب زید الظہر والبطنزید نے پشت اور پیٹ پر مارا۔ راستے پر بیٹھنے سے مراد ہے راہ روی سے روکنے کی انتہائی کوشش کرنا جیسے راہزن قافلہ کے لئے بیٹھے ہوتے ہیں۔
Ayah 7:17ثم لاتینہم من بین ایدیہم ومن خلفہم وعن ایمانہم وعن شمائلہم پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے بھی اور پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے بھی۔ دشمن کے آنے اور حملہ کرنے کی جہات چار ہی ہیں بطور تشبیہ ان ہی چہار جہات کا ذکر کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طریقہ سے گمراہ کرنا اور بہکانا ممکن ہوگا میں بہکاؤں گا۔ اسی لئے جہت فوق و تحت کا ذکر نہیں کیا (کیونکہ دشمن کا حملہ عموماً مذکورہ چار جہات سے ہی ہوتا ہے) بعض علماء نے کہا کہ جہت فوق کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ اوپر سے رحمت آتی ہے اور جہت تحت کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ نیچے سے آنا باعث توحش ہے۔ آگے پیچھے کے ساتھ لفظ منذکر کیا جو ابتداء غایت کے لئے ہے اور ایمان و شمائل کے ساتھ لفظ عنذکر کیا کیونکہ عنکا معنی ہے تجاوز کرنا یعنی دائیں بائیں ہٹنا۔
بغوی نے علی ؓ بن طلحہ کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ من بین ایدیہم سے مراد ہے من قبل الاخرۃ یعنی آخرت کے معاملہ میں ان کو شک میں ڈال دوں گا اور من خلفہم سے مراد ہے من دنیاہم یعنی دنیا کی رغبت دلاؤں گا اور عن ایمانہم سے مراد ہے امر دین یعنی امر دین کو مشتبہ بنا دوں گا اور عن شمائلہم سے مراد ہیں گناہ یعنی گناہوں کی طرف راغب کر دوں گا عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا تفسیری قول اس طرح آیا ہے من بین ایدیہم دنیا کی طرف سے یعنی دنیا کو ان کے دلوں میں رچا دوں گا۔ من خلفہم آخرت کی طرف سے یعنی ان سے کہوں گا کہ نہ جنت ہے نہ دوزخ نہ کبھی حشر ہوگا۔ عن ایمانہم نیکیوں کی طرف سے عن شمائلہم۔
بدیون کی طرف سے قتادہ کا قول بھی یہی ہے کہ اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اے انسان ابلیس ہر طرف سے تیرے پاس پہنچا مگر اوپر سے نہیں پہنچا کیونکہ اس میں یہ سکت نہیں کہ اللہ کی رحمت اور تیرے درمیان حائل ہو سکے۔ کذا ذکر السیوطی قول ابن عباس ؓ ۔
مجاہد نے من بین ایدیہم وعن ایمانہم کی تشریح میں کہا یعنی ادھر سے آؤں گا جدھر وہ دیکھتے ہوں گے اور من خلفہم و عن شمائلہم کی تشریح میں کہا یعنی اس طرف سے آؤں گا جہاں وہ نہیں دیکھتے ہوں گے۔ ابن جریح نے مجاہد کے قول کی تشریح میں کہا دیکھتے ہوں اور نہیں دیکھتے ہوں گے یعنی دانستہ خطا کرتے ہوں گے یا نادانستہ۔
ولا تجداکثرہم شکرین اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار یعنی مؤمن نہیں پائے گا۔
ابلیس نے یہ بات اپنے ظن کے اعتبار سے کہی تھی (اس کو علم غیب نہ تھا) کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے۔ (ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقا) (اس آیت میں صراحت ہے کہ ابلیس نے اپنے ظن کو انسانوں کے متعلق صحیح پایا چناچہ ایک خاص گروہ کو چھوڑ کر اکثر نے شیطان کی پیروی کی)
Ayah 7:18قال اخرج منہا مذوما مدحورا اللہ نے فرمایا (جنت یا آسمان سے) نکل جا ذلیل و خوار ہوکر۔
قاموس میں ہے ذَاَمَہٗجیسے مَنَعَہٗاس کو حقیر کردیا برا قرار دے دیا ‘ دھتکار کر نکال دیا رسوا کردیا۔
جوہری نے لکھا ہے ذَاَمَہٗ ذَاْمًا یعنی ہمزہ کے ساتھ اور ذَاَمَہٗ ذَیْمًا یعنی یائ کے ساتھ اور ذَمَّہٗ ذَمًّا یعنی میم کی تشدید کے ساتھ تینوں ہم معنی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے ذَیْم اور ذَأمسخت ترین مذمت کرنا (یعنی بغوی کے نزدیک ذَمٌّ کے معنی سے ذیم اور ذَأَمکے معنی میں شدت ہے) مدحورکا معنی ہے دور دور دھتکارا ہوا۔
لمن تبعک منہم لاملئن جہنم منکم اجمعین ان میں سے (یعنی آدمیوں میں سے) جو تیرے پیچھے چلیں گے میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا یعنی ابلیس سے اور ابلیس کی پیروی کرنے والوں سے۔
Ayah 7:19ویا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ فکلا من حیث شئتما ولا نقربا ہذہ الشجرۃ فتکونا من الظلمین : اور (اے) آدم تم اور تمہاری بی بی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو کھاؤ مگر دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ان لوگوں کی شمار میں آجاؤ گے جو بےجا کام کرتے ہیں اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہئے۔
Ayah 7:20فوسوس لہما الشیطن لیبدی لہما ما وری عنہما من سو اتہما پھر شیطان نے دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے پردہ کا بدن جو اب تک دونوں سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو کر دے۔ قاموس میں ہے دل کے اندر پیدا ہونے والا یا شیطان کا ڈالا ہوا ایسا خیال جو غیر مفید ہو وسوسہ ہے بغوی نے لکھا ہے وسوسہ وہ بات جو شیطان میں دل میں ڈال دیتا ہے۔ وسوسہ کا اصل لغوی معنی ہے زیور کی آواز اور پست آہٹ۔ لَہُمَا میں لام اجلیہ ہے دونوں کے لئے۔ لِیُبْدِی میں لام نتیجہ ہے یا لام غرض کیونکہ کشف ستر کرا کے شیطان کو دونوں سے برائی کرنی مقصود ہی تھی۔ سواتہما یعنی قابل ستر اعضاء جن کو دونوں میں سے کوئی بھی نہیں دیکھتا تھا نہ اپنے نہ دوسرے کے۔ اس فقرہ سے اس امر پر روشنی پڑ رہی ہے کہ بےضرورت تنہائی میں ہو یا شوہر کے سامنے اپنی عورت کھولنا طبعاً بھی قبیح ہے اور شرعاً و عقلاً بھی۔
وقال ما نہکما ربکما عن ہذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین او تکونا من الخلدین : اور کہنے لگا تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے نہیں روکا ‘ مگر صرف اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتہ ہوجاؤ یا ہمیشہ ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔
Ayah 7:21وقاسمہما انی لکما لمن النصحین اور دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ یقین جانئے میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔
الا ان تکونا اور تکونا سے پہلے لامحذوف ہے یا لفظ کراہیۃ مقدر ہے یعنی ابلیس نے آدم و حوا سے کہا تمہارے رب نے جو اس درخت کے پاس جانے کی ممانعت کی ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہوجاؤ یا ہمیشہ کی زندگی تم کو نہ مل جائے یا یہ مطلب ہے کہ اس کو تمہارا فرشتہ ہوجانا یا دوامی زندگی پانا پسند نہ تھا صرف اس لئے درخت کے پاس جانے کی ممانعت کردی ‘ بعض لوگوں نے اس آیت سے انبیاء پر ملائکہ کی فضیلت کو ثابت کیا ہے مگر یہ غلط ہے اس سے انبیاء پر ملائکہ کی بہمہ وجوہ کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتی صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آدم و حوا کو ان کمالات و فضائل کی رغبت تھی جو فرشتوں کو حاصل تھے۔ کھانے پینے اور دوسرے لوازم مادی سے بےنیازی ملائکہ کی خصوصیت ہے اور فضیلت عمومی کا معیار یہ نہیں بلکہ اللہ کا مقرب ترین ہونا فضیلت تامہ کا معیار ہے (جو ملائکہ کو حاصل نہ تھا آدم کو حاصل تھا)
قَاسَمَہْمَا یعنی ابلیس نے آدم و حواء کے سامنے اللہ کی پُر زور قسم کھائی قَاسَمَ (باب مفاعلت) کا استعمال مبالغہ کے لئے ہے۔ پورا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ قتادہ نے کہا شیطان نے اللہ کی قسم کھا کر دونوں کو دھوکہ دے دیا اور اللہ کے نام پر مؤمن کبھی فریب بھی کھا جاتا ہے کہنے لگا میں تم سے پہلے پیدا ہوا ہوں اور تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور تم دونوں میرے کہے پر چلو میں تمہاری صحیح رہنمائی کروں گا۔ ابلیس نے ہی سب سے پہلے اللہ کی جھوٹی قسم کھائی۔ آدم ( علیہ السلام) کا گمان تھا کہ کوئی بھی اللہ کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا اس لئے دھوکہ کھا گئے۔