Ayah 7:1” ا لٓمّٓصٓ “ مقطعات سے ہے :
1: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے حاشیہ (1) میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ سورة البقرہ اور سورة آل عمران کے شروع میں ” الف لام۔۔۔۔ می۔۔۔ م “ تھا اس سورت میں ” صا۔۔۔ د “ کا اضافہ یہ بتا رہا ہے کہ اس سورت کا مضمون گزشتہ دونوں سورتوں سے جن کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں زیادہ اہم اور زیادہ ضروری ہے۔ اسی لئے سامعین کو متنبہ کرنے کے لئے متنبہ کرنے والے حروف میں ایک حرف کا اضافہ فرما دیا۔ پھر سورت کا مضمون شاہد ہے کہ ان مضامین کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ شروع ہی میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی اس کتاب الٰہی سے متعلق تمہاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو۔ یہ تذکیر کہ تم نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو کر شیطان کی دشمنی کو یاد نہ رکھا جو اس نے تمہارے باپ سے کی تھی۔ قریش کو تنبیہہ کہ تم نے اپنے جی سے یہ جو حرام حلال بنا رکھا ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اہل جنت کا اہل دوزخ سے خطاب اور اس کی اہمیت۔ کفار قریش کو تنبیہہ کہ خلق وامر سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ مختلف اقوام کی سرگزشتیں اور ان کا انجام۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت سے ظالم حکومتوں کا کردار اور ان کے انجام کا بیان۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کے تمام ادوار کا خلاصہ اور اختتام پر بنی اسرائیل کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت اور ہر آن یاد الٰہی کے ساتھ وابستہ رہنے کی ہدایت سے پوری سورت کی اہمیت واضح ہو رہی ہے اگر اس وضاحت سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔
Ayah 7:2قریش کی مخالفت کے دور شباب میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور دعوت کو جاری رکھنے کی ہدایت :
2: یہ سورت بعثت نبوی ﷺ کے نو ، دس سال کے بعد نازل ہوئی۔ اس وقت کفار کی اسلام دشمنی زوروں پر تھی۔ آیات الٰہی کی تکذیب ، احکام شرعی کا مذاق ، مسلمانوں پر جو رو ظلم اور نبی اعظم وآخر ﷺ پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے۔ انہیں راہ راست پر لانے کی ساری کوششیں بظاہر بےاثر معلوم ہو رہی تھیں۔ ان کی اس زور دار مخالفت کا مقابلہ ایک زور دار اعلان سے کرنے کا حکم ہوتا ہے اور وہ اعلان یہ ہے کہ جس مذہب کے تم پیشوا ہو وہ سرا سر گمراہی ہے۔ جس نظام تمدن کے تم سردار ہو وہ اپنی جڑ تک گلا اور سڑا ہوا نظام ہے۔ اللہ کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تلا کھڑا ہے اور تمہارے لئے اس سے بچنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ اس دین حق اور نظام صالح کو قبول کرلو جو میں اللہ کی طرف سے تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ اس شخص کے ساتھ اس کی پاک سیرت اور اس کی معقول باتوں کے سوا کوئی ایسی غیر معمولی چیز نہیں ہے جس سے عام لوگ اسے مامور من اللہ سمجھیں اور گردوپیش کے حالات میں بھی مذہب واخلاق اور تمدن کی گہری بنیادی خرابیوں کے سوا کوئی ایسی ظاہر علامت نہیں ہے جو نزول عذاب کی نشان دہی کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس تمام نمایاں علامتیں یہی ظاہر کر رہی ہیں کہ ان لوگوں پر اللہ کا اور ان کے عقیدے کے مطابق ان کے بزرگوں اور دیوتائوں کا بڑا فضل ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ بات کہنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اور اس کے سوا کچھ ہو بھی نہیں سکتا کہ چند نہایت صحیح الدماغ اور حقیقت رس لوگوں کے سوا بستی کے سب لوگ اس کے پیچھے پڑھ جاتے ہیں۔ کوئی ظلم وستم سے اس کو دبانا چاہتا ہے ، کوئی جھوٹے الزامات اور اوچھے اعتراضات سے اس کی ہوا اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی متعصبانہ بےرخی سے اس کی اہمیت شکنی کرتا ہے اور کوئی مذاق اڑا کر ، آوازے اور پھبتیاں کس کر اور ٹھٹھے لگا کر اس کی باتوں کو ہوا میں اڑا دینا چاہتا ہے۔ یہ استیصال جو کئی سال تک اس شخص کی دعوت کا ہوتا رہتا ہے جیسا کچھ دل شکن اور مایوس کن ہو سکتا ہے ظاہر ہے۔ بس یہی صورت حال ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی ہمت بندھانے کی تلقین فرماتا ہے کہ اچھے حالات میں پھول جانا اور برے حالات میں مایوس ہوجانا چھچورے لوگوں کا کام ہے۔ ہماری نگاہ میں قیمتی انسان وہ ہے جو خود نیک ہو اور نیکی کے راستے پر صبر وثبات اور پامردی کے ساتھ چلنے والا ہو۔ لہٰذا جس تعصب سے ، جس بےرخی سے ، جس تضحیک و استہزاء سے اور جن جاہلانہ اعتراضات سے تمہارا مقابلہ کیا جا رہا ہے ان کی وجہ سے تمہارے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آنے پائے۔ جو صداقت تم پر بذریعہ وحی منکشف کی گئی ہے اس کے اظہار واعلان میں اور اس کی طرف دعوت دینے میں تمہیں قطعاً کوئی باک نہ ہو۔ تمہارے دل میں اس خیال کا کبھی گزر تک نہ ہو کہ فلاں بات کیسے کہوں جب کہ لوگ سنتے ہی اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور فلاں حقیقت کا اظہار کیسے کروں جب کہ کوئی اس کے سننے تک کا روادار نہیں ہے۔ کوئی مانے نہ مانے تم جسے حق پاتے ہو اسے بےکم وکاست اور بےخوف وخطر بیان کئے جائو اور باقی سب معاملات اللہ کے سپرد کر دو ۔ اس بات کو سورة الحجر میں اس طرح بیان کیا گیا :
” پس اے پیغمبر اسلام ! جس چیز کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے اسے بےجھجھک کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی کچھ پرواہ نہ کرو۔ تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لئے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود قرار دیتے ہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کو فت ہوتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو ، اس کی جناب میں سجدہ بجا لائو اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔ “
(الحجر 15 : 59 ، 99)
ٓاور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا :
” پھر اے پیغمبر اسلام ! کیا تو ایسا کرے گا کہ جو کچھ تجھ پر وحی کیا جاتا ہے اس میں سے کچھ باتیں چھوڑ دے گا اور اس کی وجہ سے دل تنگ رہے گا ؟ اور یہ اس لئے کہ لوگ کہہ اٹھیں گے اس آدمی پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتر آیا یا ایسا کیوں نہ ہوا اس کے ساتھ ایک فرشتہ آکر کھڑا ہوجاتا ؟ تیرا مقام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تو خبردار کردینے والا ہے اور ہرچیز پر اللہ ہی نگہبان ہے۔ “ (ہود 11 : 12)
اور زیر نظر آیت میں فرمایا کہ : ” اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ ” تم اس کے ذریعہ سے منکرین کو ڈرائو اور ایمان لانے والوں کو یاد دہانی ہوجائے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک انذار کا تعلق ہے وہ تو سیدھا کفار کو کرو لیکن اس سے یاد دہانی کا فائدہ اہل ایمان خود بخود اٹھا لیں گے اس لئے کہ کفار سنی ان سنی کردینے والے ہیں لیکن مسلمان جو کان سے سنیں گے اس پر عمل کرنے کے لئے پہلے ہی تیار بیٹھے ہوں گے۔
Ayah 7:3اللہ کے نازل کردہ قرآن کی پیروی کرو اور اپنے مددگاروں کے پیچھے مت لگو :
3: ” اولیاء “ ولی کی جمع ہے اس کے معنی ” مددگار “ اور ” سرپرست “ کے ہیں۔ اس جگہ یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے کہ انسان جس کی رہنمائی پر چلتا ہے اسے درحقیقت ” ولی “ یعنی مددگار یا سرپرست بناتا ہے خواہ زبان سے اس کی حمد وثنا کے گیت گاتا ہو یا اس پر لعنت کی بوچھاڑ کرتا ہو۔ اس کی مددگاری اور سرپرستی کا معترف ہو خواہ بہ شدت اس سے انکار کرتا ہے۔ معبودان باطل کے متعلق گمراہ انسانوں کے مختلف عقائد اور بہت سے مختلف طرز عمل ہیں جن کو قرآن کریم نے ” اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنانے “ سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات کریمات سے لفظ ” ولی “ کے حسب ذیل مفہوم معلوم ہوتے ہیں۔
1۔ جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ وہ دنیا میں ما فوق الفطرت طریقے سے اس کی مدد کرتا ہے۔ آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرتا ہے ، اسے روز گار دلاتا ہے ، اولاد دیتا ہے ، مرادیں برلاتا ہے اور اسی طرح دوسری ہر طرح کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لئے سورة ہود 11 کی آیت 20 ، سورة الرعد 13 کی آیت 16 اور سورة العنکبوت 29 کی آیت 41 پر نظر کرلیں۔
2۔ جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ میں دنیا میں خواہ کچھ کرتا رہوں وہ مجھے ان کے برے نتائج سے اور اگر خدا ہے اور آخرت بھی ہونے والی ہے تو وہ اس کے عذاب سے بچا لے گا۔ اس مضمون کو دیکھنے کے لئے سورة النساء 4 کی آیت 123 ، 173 ، سورة الانعام کی آیت 51 سورة الرعد کی آیت 3 ، سورة العنکبوت 29 کی آیت 22 ، سورة الاحزاب 33 کی آیت 65 ، سورة الزمر 39 کی آیت 13 ملاحظہ کرلیں۔
3۔ جس کی رہنمائی پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے والا اور غلطی سے بچانے والا ہے۔ اس طرح کا مضمون آپ سورة البقرہ کی آیت 275 ، سورة بنی اسرائیل 17 کی آیت 97 ، سورة الکہف 18 کی آیت 17 ، 50 اور سورة الجاثیہ 45 کی آیت 19 ملاحظہ کریں۔
4۔ جس کے کہنے پر آدمی چلے ، جس کی ہدایات پر عمل کرے اور جس کے مقرر کئے ہوئے طریقوں ، رسموں ، رواجوں اور قوانین و ضوابط کی پیروی کرے۔ اس مضمون کو دیکھنے کے لئے سورة النساء 4 کی آیت 18 تا 20 ، سورة الاعراف 7 کی آیت 3 ، 27 تا 30 کا مضمون دیکھیں۔
قرآن کریم کے بعض مقامات پر ” ولی “ کا لفظ ان معنوں میں کسی ایک یا دو معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر جامعیت کے ساتھ اس کے سارے ہی مفہومات مراد ہیں اور آیت زیر نظر کی تشریح انہی میں سے ایک ہے۔ اس جگہ ” اللہ کے سوا دوسروں کو ولی بنانے “ سے مراد مذکورہ بالا چاروں معنوں میں ان کو اپنا سرپرست اور حامی و مددگار سمجھنا ہے۔ یہ آیت تقلید شخصی کی جڑیں کاٹ دیتی ہے اور دنیا کے سارے مقلدین کو چیلنج کرتی ہے کہ تم انہوں نے ؟ ؟ ؟ تم کو کب اپنی تقلید کا حکم دیا تھا اگر اس کی کوئی دلیل ہے تو پیش کرو اور اگر دلل نہیں اور یقیناً نہیں تو تقلید شخصی کے اندھیرگھپ گھیر گڑھے سے باہر نکل آئو اور اس سورج کی روشیی سے فائدہ حاصل کرو جس کو اللہ نے ” سراجاً منیراً “ کہہ کر چمکایا ہے اور جس کی چکا چوند روشنی کے سامنے سارے ستارے اور چاند ماند پڑجاتے ہیں اور جو قیامت تک غروب ہونے والا نہیں ہے۔
بعض لوگوں نے اس آیت کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کو شامل کر کے احادیث کی روشنی میں انکار کرنے کی کوشش کی ہے اور بڑے زور دار الفاظ میں یہ کہا ہے کہ قرآن کریم کی موجودگی میں رسول ﷺ کی حدیث کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ لیکن ان کو یہ بھول لگی ہے کہ اگر اللہ کی موجودگی میں رسول ﷺ کی ضرورت ہے تو اللہ کے کلام کی موجودگی میں کلام رسول ﷺ کی بھی یقیناً ضرورت ہے۔ ہمت کر کے رسول کی رسالت سے انکار کرو ورنہ کامیابی تمہارے لئے ممکن نہیں اور یاد رہے کہ رسول کی رسالت کا انکار اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کا انکار ہے۔ رہی یہ بات کہ رسول کی رسالت کیا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کا دوسرا نام رسول ﷺ کی رسالت ہے۔ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری اور رسول ﷺ کی رسالت دونوں لازم وملزوم ہیں۔ جن میں سے ایک کا انکار دوسرے کا خود بخود انکار ہے اس لئے کہ ” مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ 1ۚ“ قرآن کریم کا اعلان عام ہے۔ بلاشبہ رسول آیا اور اپنے وقت پر چلا گیا لیکن اس کی رسالت تا قیامت جاری وساری رہے گی اور کوئی زمانہ بھی اس کی رسالت سے خالی نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کو رسول کی رسالت کے ساتھ پیوست کیا گیا کیونکہ اللہ کی فرمانبرداری رسول کی فرمانبرداری کے سوا ممکن نہیں ہے۔ اس بات میں اختلاف ممکن ہے کہ آیا یہ کلام یا یہ بات رسول ﷺ کی ہے یا نہیں ؟ جب یہ بات طے ہوجائے کہ یہ کلام رسول اللہ ﷺ کا ہے تو اس سے انکار کتاب اللہ سے انکار کے مترادف ہے۔ اسی طرح ” کتاب اللہ “ طے ہے اور وہ ” الحمد “ سے لے کر ” والناس “ تک الفاظ اور رسم الخط تک محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے ذمہ ہے جو ظن و گمان سے مبرا ہے اور احادیث کا درجہ ثانی پوری امت میں تسلیم ہے اور ان کی درجہ بندی کردی گئی ہے مزید کلام کی یہاں گنجائش نہیں۔
Ayah 7:4کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو اللہ نے اپنے قانون کے مطابق ہلاک کردیا :
4: قابل غور بات یہ ہے کہ جن جماعتوں نے دعوت حق کا مقابلہ کیا۔ وہ پاداش عمل میں ہلاک ہوگئیں کیونکہ انکار وسرکشی کا نتیجہ ہلاکت ونامرادی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دعوت حق کو ماننے والے باقی رہے ؟ کامیابی و کامرانی کے بعد موت کا آنا اور ناکام ونامراد حکم الٰہی کے مطابق عذاب کی صورت میں ہلاک ہونے میں اگر کوئی فرق نہیں تو سوال صحیح ہے اور اگر ان دونوں مدتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو یہی اس کا جواب ہے۔ اس دنیا میں جو پیدا ہوا اس کو بہرحال مرنا لازم ہے کافر ومسلم کی موت میں فرق یہ ہے کہ مسلم مرنے کے بعد جب دوبارہ اٹھایا جائے گا تو ابدی انعامات الٰہی میں رہے گا اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے گا اور کافر مرنے کے بعد جب دوبارہ اٹھایا جائے گا تو ابدی عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور وہیں دوزخ کے قید خانہ میں بند کردیا جائے گا جہاں سے نکلنا اس کے لئے محال ہوگا اور اب نہیں تو انشاء اللہ یقیناً اس وقت دونوں زندگیوں کا فرق معلوم ہوجائے گا۔
بلا شبہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی معاشی خوش حالی اور دنیاوی عزوجاہ کی وجہ سے یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ زندگی کا جو راستہ اس نے اختیار کر رکھا ہے وہ راہ راست ہے اور اس کا آفتاب اقبال اسی طرح ہمیشہ درخشاں رہے گا اس لئے وہ کسی رہنما کی دعوت کو غور سے سننا ہی گوارا نہیں کرتا۔ یہی حالت مکہ کے سرداروں اور دولت مندوں کی تھی وہ اپنے جاہ و جلال اور عزت ووقار پر اتنے مطمئن تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پیغام کی طرف متوجہ ہونا ہی غیر ضروری سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت اور اس جیسی بہت سی آیات میں ان کی چشم ہوش سے غفلت کا پردہ اٹھانے کے لئے سابقہ قوموں کے عبرت ناک انجام کا ذکر فرماتا ہے کہ تمہاری طرح وہ بھی دنیا کی فنا پذیر لذتوں میں محو تھے اور ہمارے نبیوں کی دعوت پر غوروفکر تک کرنا اپنے لئے کسر شان سمجھتے تھے لیکن جب انہوں نے ہدایت قبول کرنے سے پیہم انکار کیا تو ایسے لمحوں میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا ایسے وقت میں جب کہ وہ خواب راحت کے مزے لوٹ رہے تھے۔ ان کو خبر تک نہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کو نیست ونابود کردیا گیا۔ اس لئے اے اہل مکہ اس ڈھیل پر مت غرور کرو کہ مہلت کی گھڑیوں کو غنیمت جانو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی ایسے ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے۔ ان کا عذاب اکثر موعود تھا لیکن ان کو اپنے اپنے نبی کی بات پر یقین کب تھا ؟ وہ جس چیز کو مذاق سمجھتے تھے وہ اچانک ان کے سروں پر آکھڑی ہوئی اور جن کے لئے رات کے وقت کی تعین تھی ان پر رات کے وقت ہی عذاب آیا جیسے قوم لوط (علیہ السلام) پر اور جن کے لئے دن کی گھڑیاں مقرر تھیں ان پر دن کے قیلولہ کے وقت کہ وہ آرام کر رہے تھے جیسے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر۔ اس طرح جب وہ عذاب میں مبتلا ہوئے تو ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکا۔
Ayah 7:5عذاب میں مبتلا ہونے والوں نے اعتراف کیا کہ ہم ہی ظالم تھے :
5: عذاب میں مبتلا ہوجانے کے بعد انہوں نے اعتراف کیا اس کے ذکر کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ یہ بتانا مقصود تھا کہ تلافی کا وقت گزر جانے کے بعد کسی کا ہوش میں آنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بیکار ہے۔ سخت نادان ہے وہ شخص اور وہ قوم جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت کو غفلتوں اور سرشاریوں میں ضائع کر دے اور داعیان حق کو بہرے کانوں سے سنے جائے اور ہوش میں صرف اس وقت آئے جب اللہ کی گرفت کا مضبوط ہاتھ اس پر پڑچکا ہو اور مہلت کا سارا وقت نکل چکا ہو اور یہ کہ افراد کی زندگیوں میں بھی اور اقوام کی زندگیوں میں بھی ایک دو نہیں بیشمار مثالیں تمہارے سامنے گزر چکی ہیں کہ جب کسی کی غلط کاریوں کا پیمانہ لبریز ہو چکتا ہے اور وہ اپنی مہلت کی حد کو پہنچ جاتا ہے تو پھر خدا کی گرفت اچانک اسے آپکڑتی ہے اور ایک مرتبہ پکڑ میں آجانے کے بعد چھٹکارے کی کوئی سبیل اسے نہیں ملتی۔ معلوم ہوا کہ یہ سنت اللہ ہے جس کو بدلنا محال ہے اس لئے کہ اللہ نے آج تک اپنی سنت نہیں بدلی اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کو بدلنے دیتا ہے یہی اس کے طاقتور ہونے کی دلیل ہے۔
Ayah 7:6یقیناً ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے اور رسولوں سے بھی :
6: پیچھے آپ پڑھ آئے کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے تھے ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے دوسرے اس جزا سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دو چار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا گیا اور اب دوسری چیز سے ان کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔ امتوں سے جو پرسش ہونا ہے اس کی تفصیل قرآن کریم میں آچکی ہے فرمایا :
” ہر بار جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے۔ کیا تمہارے پاس کوئی خبر دار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں ! خبر دار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو اور وہ کہیں گے کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر۔ “ ( سورة الملک 27 : 9 تا 11)
اور رسولوں سے جو سوال ہوگا اس کا ذکر اس طرح کیا گیا :
” وہ دن کہ اللہ رسولوں کو جمع کرے گا اور پھر پوچھے گا تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں یہ تو تیری ہی ہستی ہے جو غیب کی باتیں جاننے والی ہے۔ “ (المائدہ 5 : 109) اور زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ باز پرس سراسر رسالت ہی کی بنیاد پر ہوگی ایک طرف پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے نوع انسانی تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے کیا کچھ کیا دوسری طرف جن لوگوں تک رسولوں کا پیغام پہنچا ان سے سوال کیا جائے گا کہ اس پیغام کے ساتھ تم نے کیا برتائو کیا اور آنے والی آیت اس کی مزید تشریح کر رہی ہے۔
Ayah 7:7اللہ تعالیٰ ان کو اپنے علم سے سنا دے گا کہ رسولوں نے یہ کہا اور قوموں نے یہ جواب دیا :
7: اس آیت میں اس بات کی وضاحت کردی کہ کسی نالائق کے دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اللہ کو ان باتوں کا علم نہ تھا کہ ان سے پوچھنا شروع کردیا۔ فرمایا کہ ہمارے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور ہمارا علم ہر لمحہ پر محیط ہے۔ اس پرسش میں حکمت یہ ہے کہ خود ان کی زبان سے ان باتوں کو منوا لیا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ ایسے نازک وقت میں قوموں کے لوگ حقیقت بتاتے ہیں یا جھوٹ کے عادی۔ اس جگہ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور رسولوں سے سوال کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس مقدمہ کا ایک فریق وہ بھی ہیں اور برابری اور عدل کا تقاضا ہے کہ باتیں دونوں طرف سے پوچھی جائیں تاکہ ایک فریق کو یہ اعتراض پیدا ہی نہ ہو کہ ہم سے شہادت طلب کی گئی لیکن دوسرے فریق کو پوچھا تک نہیں گیا۔ فرمایا ہم دونوں فریقوں کی داستان کی کیسٹ ان کو سنوا دیں گے جس سے بات خود بخود صاف ہوجائے گی کہ رسولوں نے اس طرح وحدت پیش کی اور جھٹلانے والوں نے اس طرح ان کو جواب دیا بلکہ ان کے سامنے پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا جائے گا وہ اس طرح کہ یہ رسول اپنی امت کو اس طرح کہہ رہا ہے اور یہ اس کی امت اس کو اس طرح جواب دے رہی ہے تاکہ کسی کے انکار کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔
Ayah 7:8اعمال کی جانچ لازم ہے فلاح وہی پائیں گے جن کے اچھے اعمال بھاری ہوں گے :
8: فرمایا حق کا تقاضا ہے کہ اعمال تو لے جائیں اور وہ یقیناً تو لے جائیں گے۔ اعمال کے وزن سے کیا مراد ہے ؟ اس میزان کی شکل و صورت کیا ہوگی ؟ جو کچھ تو لا جائے گا وہ فی نفسہ وہ اعمال ہوں گے یا ان اعمال کے وہ صحائف جن میں وہ اعمال لکھے گئے ہیں ؟ یہ اور اس طرح کے کتنے ہی سوال ہیں جو لوگوں نے خود اٹھائے ہیں اور پھر خود ہی ان کا جواب بھی دیا ہے اور پھر ایک دوسرے سے اختلاف کر کے اس قدر دور نکل گئے ہیں کہ ان کو اپنے چلنے کی جگہ کا پتہ ہی نہیں رہا کہ ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں نکل گئے۔ بعد میں آنے والوں نے ان بحثوں کو پڑھا تو کسی کو معتزلہ کہہ کر اس کا رد کیا اور کسی کو اہل سنت کہہ کر اس کے بیان کی تصدیق کی لیکن ہمارے خیال میں یہ ساری بحثیں بیکار ہیں اور ذہنی عیاشی کے سوا ان میں کچھ بھی نہیں۔ حق کا تقاضا ہے کہ اعمال تو لے جائیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ حق کو دبایا گیا اور حق کو چھپایا گیا اور یہ بھی کہ حق کے ساتھ باطل کو ملایا گیا اور ملمع سازی کر کے حق پر باطل چڑھایا گیا تاکہ حق حق نہ رہے بلکہ باطل ہوجائے جب ان کا وقت آیا تو حق کو حق کر دکھایا اور باطل باطل ہو کر رہ گیا۔ اب حق کیوں تقاضا نہ کرے کہ اعمال تو لے جائیں۔ کیونکہ وہ خود ایک عمل ہے۔ رہی یہ بات کہ اعمال کے تولنے کا طریقہ کیا ہوگا تو اس وقت جب انسانی عقل نے حرارت اور روشنی کے درجات کو ناپنے کے اور ہوا اور پانی کے دبائو کا اندازہ کرنے کے مقیاس اور آلات ایجاد کر لئے ہیں تو اس عقل کل اور قادر مطلق کی قدرت کاملہ سے کیا بعید ہے کہ وہ ایسا پیمانہ یا ایسا مقیاس یا کوئی آلہ پیدا فرمادے جس کے قریب کرتے ہی حق اور باطل کا تول نکھر کر سامنے آجائے اور بات کو تول کر کرنے والوں سے تو یہ وزن آج بھی پوشیدہ نہیں جو خود یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو کیا وہ تولنا نہیں جانتے ؟ تو پھر یہ بحث کتنی لغو ہے جس کو خواہ مخواہ اٹھا کر وقت ضائع کیا گیا۔ فرمایا نیک اعمال والوں کا پلڑا یقیناً بھاری ہوگا اور کامیابی بھی ان ہی کے حصے میں آئے گی۔ برے اعمال کرنے والے روسیاہ ہو کر رہ جائیں گے جب ان کا اپنا پلڑا ہلکا نظر آئے گا یہ ایک طریقہ بیان ہے جس کو اور بھی کئی طریقوں سے قرآن کریم نے بیان کیا ہے جیسا کہ اعمال نامہ کو دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیتے ہی اعمال تل جائیں گے اور اس سے آگے بڑھ کر صرف دائیں اور بائیں میں لوگوں کو تقسیم کر کے اعمال کا وزن دکھا دیا جائے گا جبکہ دائیں والے کامیاب اور بائیں والے ناکام ہوں گے۔ اب بتائیے کہ اعمال تولنے میں کتنا وقت لگا۔
Ayah 7:9جن کا تول ہلکا ہوگا وہ وہی ہوں گے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے :
9: یہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑایا اور حق کے قریب بھی نہ گئے۔ رسول کی فرمانبرداری کا وقت آیا تو ان کو باپ دادا یاد آگیا اور رسول ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر انہوں نے باپ دادا کی رسومات کو اپنایا اور اختیار کیا۔ ان کو توجہ دلائی گئی تو انہوں نے مذاق اڑا دیا پھر جب اعمال کے خسارے میں رہے اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ ہر وہ شخص جو ” زیرو “ کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور آج کل لوگ اس کو ” گول انڈا “ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ وہی جو آیات الٰہی سے بےانصافی اور ظلم کرتے رہے۔ وہ کیسے ؟ اس طرح کہ انہوں نے آیات الٰہی میں غوروفکر نہ کی اور ہدایت کی جو روشنی ان میں موجود تھی اس سے بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث آیات الٰہی سے منہ موڑ دیا اور ہر سنی انہوں نے ان سنی کردی اور دیکھی کو ان دیکھی جانا نہ بصارت سے کام لیا اور نہ بصیرت کے قریب بھٹکے اپنی آخرت کو اپنے ہاتھوں برباد کرلیا اور مرتے دم تک سیدھی روش اختیار نہ کی۔
Ayah 7:10زمین میں ٹھکانا دینے والے اور معیشت کو بحال رکھنے والے کا شکریہ بھی ادا نہ کرسکے :
10: ” مَعَایِشَ ، معیشۃ “ کی جمع ہے یعنی عیش یا روزی کے سامان (راغب) لفظ عیش حیوان کی زندگی سے مخصوص ہے یعنی ایسی زندگی جس سے جسمانیت کا جزو غیر منفک ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں روحانی زندگی پر بھی لفظ عیش کا بولا گیا ہے جیسے عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ007 (القارعہ 101 : 7) زیر نظر آیت سے بعض آیات آفاقیہ وانفسیہ کا بیان شروع ہوتا ہے جس سے ایک طرف حق تعالیٰ کے وجود پر کارخانہ عالم کے حکیمانہ نظم ونسق سے استدلال کر کے اور احسانات و انعامات خداوندی کا تذکرہ کر کے اس کی شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف نبوت کی ضرورت ، نبیوں اور رسولوں کی آمد ، ان کی سیرت ، ان متبعین و مخالفین کا انجام جو اس سورت کا اصل موضوع ہے اس کے بیان کے لئے گویا یہ آیت تمہید ہے۔ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن خطاب اول چونکہ قریش سے ہے اس لئے اس سے مراد زمین حرم بھی لی گئی ہے جس میں قریش کو اختیار واقتدار حاصل تھا۔ اس طرح ” مَعَایِشَ “ سے اشارہ ان معاشی سہولتوں اور برکتوں کی طرف قرار دیا جاسکتا ہے جو ایک وادی غیر ذی زرع میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے اہل عرب کو عموماً اور قریش کو خصوصاً حاصل تھیں۔ لیکن آیت کا مفہوم عام انعامات جو تمام انسانوں پر کئے گئے مراد لینا اپنے اندر زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرما کر حق کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب اس طرح دی گئی کہ ہم نے تم کو زمین پر پوری قدرت اور تصرف مالکانہ عطا کیا اور پھر اس میں تمہارے لئے سامان عیش حاصل کرنے کے ہزاروں سے بھی متجاوز راستے کھول دئیے گئے گو رب کریم نے زمین کو انسانوں کی تمام ضروریات سے لے کر تفریحی سامان تک عظیم الشان گودام بنا دیا اور تمام انسانی ضروریات کو اس کے اندر پیدا فرما دیا اس طرح آسمان و زمین کے خلا میں اور آسمان و زمین کے اندر جو کچھ ہے وہ انسانوں ہی کے فائدہ کے لئے ہے۔ اب انسان کا کام کیا رہا ؟ صرف یہ کہ اس گودام سے اپنی ضروریات کو نکالنے اور ان کے استعمال کرنے کے طریقوں کو سیکھ لے۔
غور کرو کہ انسان کو ہر علم وفن اور سائنس کی نئی نئی ایجادات کا حاصل اس کے سوا کچھ ہے کہ خالق کائنات کی پیدا کی ہوئی چیزیں جو ہماری اس زمین کے گودام میں موجود ہیں اور بالکل محفوظ بھی ہیں ان کو سلیقہ کے ساتھ نکالے اور صحیح طریقہ سے استعمال کرے۔ ایک بیوقوف اور بد سلیقہ آدمی جو اس گودام سے نکالنے کا طریقہ نہیں جانتا یا پھر اس سے نکال کر اس کے استعمال کا طریقہ نہیں سمجھتا وہ ان کے منافع سے محروم رہتا ہے اور سمجھدار آدمی دونوں چیزوں کو سمجھ کر ان سے نفع اٹھاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ساری ضروریات انسانی اللہ تعالیٰ نے زمین میں رکھ دی ہیں یعنی ان کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا شکر گزار ہو مگر وہ غفلت میں پڑ کر اور دنیا کی اس شیرینی میں مصروف ہو کہ جس کو اللہ ہی نے پیدا کیا تھا اس نے اپنے حقیقی خالق ومالک کے احسانات کو بھول جاتا ہے اور انہی اشیاء میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں اکثر جگہ بطور شکایت یہ ارشاد فرمایا گیا کہ : قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (رح) 0010 یعنی تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو یا تم لوگوں میں بہت ہی کم ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں اور تمہاری اکثریت ناشکروں اور ناقدروں ہی کی ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ جس اللہ نے اس زمین میں تمہاری ضرورت کی ہرچیز رکھی تاکہ تمہارے اجسام کو ترقی ہو اس نے تمہاری روح کی غذا کا بھی مکمل طور پر بندوبست کیا اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری کر کے تمہاری روح کی غذا بھی بہم پہنچائی۔
Ayah 7:11آدم (علیہ السلام) کے خلیفہ بنائے جانے کی خوشی میں سجدہ شکر ادا کرنے کا حکم :
11: اس بات کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں کہ تخلیق اول میں بہت سے مرد اور عورتیں اللہ نے پیدا کئے جن میں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سونپی گئی اور اس تخلیق اول کے بعد انسانی پیدائش کا ایک ضابطہ مقرر کردیا گیا جو قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ زیر نظر آیت ہی سے ہم نے یہ سمجھا کہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ “ بلاشبہ ہم نے تم کو پیدا کیا یعنی پیدائش اول کے انسانوں کو خواہ ان کی تعداد کتنی تھی اور وہ کہاں کہاں پیدا ہوئے تھے۔ خواہ ان کے اجسام ایک بار بنائے گئے یا کئی منازل سے گزرتے ہوئے انسان بنے بہرحال انسان کا اطلاق ان پر اسی وقت ہی ہوا جب ان کو موجودہ انسانوں کی شکل میں لایا گیا پھر فرشتوں کا حکم دیا گیا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے مقابل کی مخلوق جنوں کو بھی کہ وہ سب مل کر آدم (علیہ السلام) کے خلیفہ بنائے جانے کی خوشی میں اللہ کے سامنے سجدہ شکر بجالائو۔ وہ فوراً سجدہ شکر بجا لائیں لیکن ابلیس سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا تب ہی وہ ابلیس ٹھہرا۔ اس بات کو ہم بڑی تفصیل سے عرض کرچکے ہیں ” فرشتے “ ان ملکوتی طاقتوں اور قوتوں کا نام ہے جو ہر حال میں فرمانبردار اور سرکش نہیں اور ان کے مقابلہ میں ” جن “ ان طاقتوں اور قوتوں کا نام رکھا گیا ہے سرکش اور نافرمان ہیں اور انہی کو قوائے بہمیہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انسان ان دونوں طاقتوں اور قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے جس میں فرمانبرداری کے عناصر بھی موجود ہیں اور نافرمانی کے عناصر بھی۔ اس قادر مطلق نے ان کا اس طرح بیان کیا کہ ہر ایک انسان سے وہ جاہل ہے یا عالم اس کی سمجھ میں یہ بات آسکے اور عام انسانوں کو سمجھانے کا یہی وہ ایک قاعدہ ہے جس سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو سکتی ہے۔ ہم نے اس کی پوری تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 38 کے تحت کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 7:12اللہ تعالیٰ کا استفسار کہ اے شیطان تجھ کو سجدہ شکر ادا کرنے سے کس چیز نے روکا ؟
12: اس آیت نے کچھ لوگوں کے اس کھپت کا علاج کردیا جن کو یہ وہم ہوا کہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو ہوا تھا یہ ابلیس کہاں سے آگیا ؟ پھر انہوں نے ابلیس کا رشتہ فرشتوں سے جوڑنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے اور انجام کار اس کو فرشتوں میں شامل کردیا۔ اس آیت نے یہ کہہ کر : مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 1ؕ، یعنی تجھے کس بات نے سجدہ شکر بجا لانے سے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ بات صاف کردی کہ حکم دئیے جانے والوں میں وہ بھی موجود تھا۔ بلکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سرکش طاقتوں کو فرمانبردار طاقتوں سے بالکل الگ کردیا گیا اور چونکہ ان دونوں مخالفت طاقتوں کے مجموعہ کا نام انسان رکھا گیا اس لئے وہ مکلف ٹھہرا کہ ان دونوں طاقتوں کو حد اعتدال پر رکھنے کا اس کو حکم دیا گیا یہی وجہ ہے کہ انسان فی الواقع وہی انسان ہے جس نے ان دونوں طاقتوں کو اعتدال پر رکھا اور یہ بھی کہ فرمانبردار طاقت تو کبھی اعتدال سے تجاوز کر ہی نہیں سکتی لہٰذا اس میں اعتدال تو پہلے ہی موجود ہے اعتدال سے کمی بیشی صرف اور صرف سرکش طاقت ہی کرسکتی ہے جس کا دوسرا نام ابلیس ہے۔ یہ اعتدال سے بڑھے گی تو شیطان کہلائے گی اور کم ہوگی تو ضرور وہ کسی موقع کی تلاش میں ہوگی۔ اس طرح اس کا گھات لگانا بھی کبھی خطرہ سے خالی نہیں ہوگا۔ اس لئے اس کا اعتدال پر قائم رکھنا ہی انسانیت ہے اور یہی چیز انسان کو انسان بناتی ہے۔ یہی تصور اس آیت نے دیا کہ جب اس طاقت سے سوال ہوا کہ تو نے حکم عدولی کیوں کی جب کہ میں نے تجھے حکم دیا ہے تو وہ اس طرح گویا ہوئی کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے اور آگ کو مٹی پر فضیلت ہے۔ یہی اس کی حقیقت میں سرکشی تھی کہ اس نے اپنے وہم سے مٹی سے آگ کو افضل سمجھا جب کہ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ مٹی تو آگ کو بجھانے کا کام دیتی ہے پھر آگ مٹی سے افضل کیسے ہوگئی ؟ اگر اللہ نے یہ کہا ہوتا کہ آگ مٹی سے افضل ہے تو بلاشبہ اس کو یہ کہنے کا حق تھا لیکن اللہ نے تو کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ آگ مٹی سے افضل ہے لہٰذا اس کا یہ کہنا ہی اس کی لعنت کا باعث ہوگیا کہ اس نے وہ بات کہی جو اللہ نے نہیں کہی تھی۔ اس بحث کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ اس جگہ بند کردیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس نافرمان قوت کو صرف نافرمان دکھانا مقصود تھا اس کو فرمانبردار بنانا مقصود ہی نہ تھا۔ اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ زہر کا زہر ہونا ظاہر کرنا تھا زہر کو تریاق بنانا مقصود نہیں تھا۔ اس لئے کہ زہر کا تریاق پہلے موجود ہے۔
Ayah 7:13یہاں سے نکل جا کہ تو یہاں رہنے کے قابل نہیں تیرا شمار ذلیلوں میں ہے :
13: ” یہاں سے نکل جا “ فَاہْبِطْ مِنْهَا ، کہاں سے نکل جا ؟ کسی نے کہا آسمان سے دور ہو ، کسی نے کہا ملائکہ سے نکل جا۔ آسمان کا تو اوپر کہیں دور دور تک ذکر موجود نہیں ہاں ! فرشتوں کا ذکر ضرور ہے لیکن شیطان یعنی ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ ” كَانَ مِنَ الْجِنِّ “ (الکہف 18 : 50) وہ تو تھا ہی جنوں سے۔ زیر نظر آیت میں قریب تو ذکر اس کا اپنی فضیلت کو پیش کرنا یا اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے اس لئے اس مبوط کا حکم بھی اس کو اس حالت ہی سے نکلنے سے ہے کہ تو نے اپنے آپ کو ” اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ 1ۚ “ کہا ہے تو اس حالت سے نکل جا اس لئے کہ تو اس سے بہتر نہیں بلکہ اس سے بہت کمتر ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تو خیر ہو بلکہ تو ذلیل ہے کہ غیر اللہ کے لئے تکبر ذلالت ہے اور یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی ارشاد فرمائی ہے۔ فرمایا : مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ دَرَجَةً رَفَعَهُ اللّٰهُ دَرَجَةً حَتَّى یَجْعَلَهُ فِی عِلِّیِّینَ وَمَنْ تَكَبَّرَ عَلَى اللّٰهِ دَرَجَةً وَضَعَهُ اللّٰهُ دَرَجَةً حَتَّى یَجْعَلَهُ فِی أَسْفَلِ السَّافِلِینَ (مسند احمد : جلد پنجم : حدیث نمبر 739 ) یعنی جو شخص اللہ کے لئے جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کرتا ہے ، حتیٰ کہ اسے اسفل السافلین میں پہنچا دیتا ہے۔ اس میں انسان کے لئے بہت بڑا سبق تھا کہ تکبر کا نتیجہ ہمیشہ ذلت ورسوائی ہے آج بھی اور کل بھی یعنی اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لہٰذا ہر وہ شخص خواہ کون ہے اچھی طرح یہ بات سمجھ لے کہ جو انسان دوسروں سے جتنا اپنی بڑائی جتاتا ہے وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔
Ayah 7:14ابلیس نے لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت طلب کرلی :
14: ابلیس نے یعنی اس وقت جیسا کہ اس پر عتاب ہورہا تھا اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کرلی اور کہا کہ ” مجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ “ گویا اس کو لوگوں کا دوبارہ اٹھایا جانا معلوم تھا اور وہ اس بات پر یقین بھی رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود ابلیس تھا ؟ بالکل ، یہی وجہ ہے کہ کسی چیز کا علم ہونا نافع نہیں ہوتا جب تک کہ اس علم کے مطابق عمل بھی نہ ہو۔ ایک آدمی کو علم ہے کہ قتل کی سزا دفعہ 302 ہے لیکن اس علم کے باوجود وہ کسی کو قتل کردیتا ہے تو کیا یہ قتل کی سزا سے بچ جائے گا ؟ اچھا اگر وہ شور کرے اور چیخ چیخ کر یہ بات کہے کہ لوگو ! مجھے تو اس بات کا علم تھا کہ قتل کی سزا پر دفعہ 302 لگتی ہے تو پھر اس سے یہ سزا اٹھا لی جائے گی ؟ اس لئے ہم نے اوپر یہ کہا کہ اس زہر کا زہر ہونا ظاہر کرنا مقصود ہے اس کو تریاق بنانا مقصود نہیں۔ اس کو تو ایک نافرمان طاقت کے طور پر پیدا کیا گیا ہے اس لئے وہ ابلیس ہے اگر یہ فرمانبردار ہوجائے تو پھر ابلیس کیوں ہو ؟ آگ کا کام جلانا ہے یہ صفت اس سے سلب کرلی جائے تو آگ کا ہے کو رہی۔ ہاں ! یہ آگ بھی رہے اور انسانوں کے لئے سود مند بھی ثابت ہو یہ اس کے استعمال کرنے والے پر انحصار ہے کہ وہ اس سے اپنا کھانا تیار کرے یا اپنا سب کچھ جلا کر راکھ بنا دے۔ آگ بہر حال آگ رہے گی۔ یہی بات نبی اعظم وآخر ﷺ نے اس حدیث میں سمجھائی۔ فرمایا : ” اتقوا الغضب فانہ جمرۃ توقد فی قلب ابن آدم “ کہ غضب سے بچو کہ وہ ایک انگارا ہے جو ابن آدم کے قلب میں جلایا جاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ شیطان ایک نافرمان طاقت کا نام ہے اور جو کبھی فرمانبردار نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود اس سے فرمانبرداری کرائی جاتی ہے جس نے اس سے فرمانبرداری کرا لی وہ یقیناً کامیاب ہوگیا اور اس نے انسانیت کا سبق سیکھ لیا۔ بلاشبہ یہ حق ہے کہ اس کو انسان کہا جائے۔ یاد رہے کہ فرمانبردار ہونا اور فرمانبردار کرنا اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آگ کا کام جلانا ہے اس سے جلانے کی صفت الگ نہیں کی جاسکتی لیکن اس صفت کے رکھتے ہوئے اس سے کام لینا اور اس کا کام دیتے رہنا یہ گویا آگ سے فرمانبرداری کرانا ہے اور جب تک اس سے فرمانبرداری کراتے رہو گے بالکل فرمانبرداری کرتی رہے گی لیکن تم نے ذرا بےاحتیاطی کی تو تمہارا سب کچھ اور بعض اوقات تم کو بھی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔ خدا نہ کرے اگر ایسا ہوجائے تو آگ کا کوئی قصور ؟ بس اسی سے ابلیس کی حقیقت سمجھ جائو کہ یہ یہی بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے سمجھائی ہے۔
Ayah 7:15ابلیس نے جتنی مہلت طلب کی تھی اتنی نہ سہی تاہم ایک لمبی مہلت اس کو مل گئی :
15: زیر نظر آیت میں جو الفاظ ہیں کہ ” بیشک تجھ کو مہلت دی گئی ہے۔ “ یہ الفاظ خود اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ گویا پہلے ہی فیصلہ شدہ بات ہے کہ جتنی مہلت علم الٰہی میں طے ہے وہ پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ ہاں ! اس نے جو مہلت طلب کی تھی وہ لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک تھی اور اس کو یہ نہیں فرمایا گیا کہ تجھ کو دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت ہے بلکہ یہ فرمایا کہ ” تجھ کو مہلت دی گئی ہے “ چونکہ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے ” کل من علیھا فان “ کا اعلان الٰہی لازم ہے اس لئے یقیناً اس کو مہلت اس وقت تک نہیں دی جاسکتی تھی کہ ہرچیز کے فنا ہونے میں اس کی فنا بھی ضروری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ 0038 کے الفاظ ارشاد فرمائے کہ یہ مہلت اس کو کسی خاص مدت تک دی گئی ہے جو علم الٰہی میں محفوظ ہے : وھو یوم ینفخ فی الصور النفخۃ الاولیٰ فصعق من فی السموات ومن فی الارض فمات (ابن جریر ) ” اور وہ دن وہ ہے جس میں پہلا صور پھونکا جائے گا جس سے آسمان و زمین والے بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔ “ پھر جیسا کہ اس سے قبل اس کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ سارا بیان فطرت انسانی کا ہے جو متضاد قوتوں کا مجموعہ ہے اور اس کو اس مکالمہ کے رنگ میں سمجھایا گیا ہے تاکہ ایک بات یاد رہے انسانوں کے ذہن نشین ہوجائے اور اس کے لئے پیرایہ بیان وہ اختیار کیا گیا جو انسانی عقل کی ابتدائی منزل ہے تاکہ ہر کہ ومہ اس بات کو اچھی طرح یاد رکھ سکے اور ویسے بھی اللہ کی ذات قادر ومختار ہے وہ چاہے انسان کو مخاطب کرے اور چاہے انسان کے جسم کے کسی ایک حصہ کو جیسے ہاتھ ، پائوں اور جلد ہر ایک کو وہ مستقل طور پر مخاطب کرسکتا ہے اور اسی طرح بعض اوقات انسان خود اپنے آپ کو اور اپنے کسی حصہ کو مخاطب کرتا ہے کیونکہ یہ فطرت ہے اور فطرت کبھی بدلا نہیں کرتی اور یہ بھی کہ یہ ذریت آدم (علیہ السلام) کے پہلو میں ذریت ابلیس کی مہلت ہو جیسا کہ خود نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ اس کا فرشتہ اور شیطان پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے ساتھ بھی میرا شیطان پیدا ہوا ” فقد اسلم “ بس میں نے اس کو فرمانبردار کرلیا اس طرح جب تک ذریت آدم پیدا ہوتی رہے گی اس کا شیطان بھی ساتھ پیدا ہوتا رہے گا اور اس کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ جب دونوں طرح کی قوتوں کے مجموعہ کا نام انسان ہے تو وہ طاقت وقوت تو ہر انسان کے اندر بھی موجود ہے جو اس کو برائی کی طرف آمادہ کرتی رہتی ہے اور انسان کے اندر طرح طرح کے وساوس پیدا ہوتے رہتے ہیں اور پھر کتنا احسان ہے اس رب کریم کا کہ وہ انسانیت کے احترام میں اس کی ان قوتوں تک مخاطب کرتا ہے جو اس کو برائی کا الہام کرتی ہیں اور اس کی مخالف قوتوں کو مخاطب کر کے ان پر قابو پانے کا حکم دیتا ہے تاکہ انسانیت کا احترام باقی رہے اور وہ حتی الامکان مجروح نہ ہو اور یہ ایک بہت ہی بڑا اعزاز ہے جو ؟ ؟ ؟ احسن التقویم کو عطا کیا گیا ہے۔
Ayah 7:16ابلیس کا کہنا کہ تو نے مجھ پر راہ بند کردی ہے تو میں بھی تیری راہ سے بھٹکاتا رہوں گا :
16: خیر و شر کا خالق ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور ایسا ہونا لازم تھا کیونکہ ہرچیز اضداد سے پہچانی جاتی ہے بغیر ضد کے کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ ” لا ضدلہ وندلہ “ نہ اس کی ضد ہے اور نہ کوئی شریک ہے۔ ذات الٰہ کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں جس کی ضد موجود نہ ہو۔ خیر جب ہی خیر ہے کہ اس کے ساتھ شر بھی موجود ہو اگر شر موجود نہ ہوتا تو خیر نام کی شے دنیا میں موجود ہی نہ ہوتی کیونکہ دنیا کا نظام اضداد پر قائم ہے۔ نافرمان قوت ضد ہے فرمانبردار قوت کی پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی فرمانبردار قوت موجود ہو اور نافرمان قوت موجود نہ ہو نام اس کا چاہے جو رکھیں قرآن کریم کی زبان میں جس کو ملائکہ کہا گیا وہ وہی فرمانبردار قوتیں ہیں جن میں نافرمانی کا عنصر موجود ہی نہیں اور اس کے مقابلہ میں کوئی قوت ایسی ہونی چاہئے جو نافرمان ہو اور فرمانبرداری کا عنصر اس میں موجود ہی نہ ہو وہ ابلیس ہے۔ لہٰذا ابلیس کا یہ کہنا کہ تو نے مجھے سیدھی راہ سے روک دیا ہے یا یہ کہ تو نے مجھ پر سیدھی راہ بند کردی ہے اس کی نافرمانی کی بالکل صحیح عکاسی کرتا ہے ورنہ اللہ نے اس پر صحیح راہ بند نہ کی تھی بلکہ اس کو صحیح راہ چلنے کا حکم دیا تھا پھر اگر وہ سیدھی راہ چل پڑتا تو اس کا نام تو فرمانبرداری تھا پھر وہ فرمانبرداری کر کے نافرمان کیسے ہوتا اس کو اس حکم نے ہی مجبور کیا کہ وہ الٹی راہ چلے اور اپنی فطری حالت کے مطابق نافرمان ہوتا کہ فرمانبرداروں کی پہچان ہو سکے اور انسان چونکہ دونوں طاقتوں کے مجموعہ کا نام ہے اس لئے جب وہ نافرمانی کی طاقت و قوت رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرے گا تو یہی اس کا کمال ہوگا اس لئے نافرمانی کی طاقت اور قوت کا یہ اعلان کہ ” تیری سیدھی راہ میں بیٹھ کر تیری راہ کو روکنے کی پوری کوشش کروں گا “ اپنی فطری حالت کا بالکل صحیح بیان ہے۔ جن لوگوں نے ابلیس کے اس بیان کو ” ابلیس کا حواس باختہ ہو کر رب العزت کو چیلنج دے دیا “ کے الفاظ تحریر کئے ہیں انہوں نے یا تو حقیقت کو نہیں سمجھایا پھر اس کو کسی خاص مصلحت کے تحت چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ابلیس نے ابلیس ہونے کے باوجود یہ بات بالکل سچ کہہ دی کہ آدم (علیہ السلام) اور ابن آدم (علیہ السلام) کے اندر جب تو نے مجھ کو یعنی نافرمانی کی طاقت وقوت کو رکھا تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنا کام نہ کروں ؟ ہاں ! میرے ساتھ تو نے اس میں یعنی آدم (علیہ السلام) اور بنی آدم (علیہ السلام) میں فرمانبرداری کی طاقت وقوت کو بھی رکھ دیا ہے یعنی ابلیس کی ضد کو اب وہ بھی اپنا کام کرے گی پھر دیکھتے ہیں کہ ووٹ اس کے زیادہ ہوتے ہیں یا میرے۔
Ayah 7:17ابلیس کا اپنے مقابل کی طاقت پر ” شش پا “ کی طرح قبضہ کرلینے کا اعلان :
17: اپنے مد مقابل قوتوں پر چاروں طرف سے حملہ آور ہونے کا اعلان کیوں اور کیسے ؟ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ابلیس ایک بزدل دشمن نہیں بلکہ ایک نہایت ہی طاقتور دشمن ہے جو اپنے مقابل کی قوتوں کو پوری طرح للکار رہا ہے کہ میں آگے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں سے حملہ کروں گا اور اس کا یہ اعلان اور پھر فی الواقعہ ” شش پا “ کی طرح پوری طاقت سے حملہ کرنا کیا ہے ؟ یہ وہی وسوسہ اندازی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اور خصوصاً سورة ” الناس “ میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ” وسوس “ کے معنی بار بار وسوسہ ڈالنے والے کے ہیں اور وسوسے کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقے یا طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی جا رہی ہے اسے یہ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ انداز اس کے دل میں ایک بری بات ڈال رہا ہے۔ پھر یہ خیال اسے کیونکر آئے گا جب کہ اس کو باہر سے کوئی طاقت ایسا کرتے نظر نہیں آئے گی اور اس کی اپنے اندر ہی وہ طاقت بار بار اکسا رہی ہوگی جس کو قرآن کریم نے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا سے تعبیر کیا ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ نے ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان پیدا ہونے سے بیان فرمایا ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ وسوسہ عمل شر کا نقطہ آغاز ہے وہ جب ایک غافل یا خالی الذہن آدمی کے اندر اثر انداز ہوجاتا ہے تو پہلے اس میں برائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے پھر مزید وسوسہ اندازی اس بری خواہش کو بری نیت اور برے ارادے میں تبدیل کردیتی ہے پھر اس سے آگے جب وسوسے کی تاثیر بڑھتی ہے تو ارادہ وعزم بن جاتا ہے اور اس کا آخری قدم عمل شر ہوتا ہے۔ اس کو راستے میں اگر فرمانبرداری کی قوت کسی مقام پر دبالے اور اس کو بےقابو نہ ہونے دے تو یہ انسان کے لئے فائدہ مند ہے اور اگر اس کے معرض وجود میں آنے تک اس کو دبا نہ سکے تو یہ انسان کے لئے خسر الدنیا والاخرۃ کا سبب بن جاتی ہے اور یہی بات وہ نافرمانی کی طاقت و قوت یعنی ابلیس بول بول کر کہہ رہا ہے کہ تو اے خدا ! ان کے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا یعنی اتنی وضاحت سے سمجھانے کے باوجود وہ وہی کریں گے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوگا اور اس کے قریب بہت کم جائیں گے جو ان کے لئے دین و دنیا میں نفع کا باعث ہو۔ یعنی اس قادر مطلق نے ابلیس جو انسان کے قوائے ملکوتی کا ابدی دشمن ہے سے صاف صاف لفظوں میں اعلان کروا دیا تاکہ کوئی بات مبہم نہ رہے اور کل کوئی شخص یہ عذر نہ پیش کرسکے کہ اس ابدی دشمن کو ہم پہچان نہ سکے اور اس کے متعلق ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے وہ اپنا دائو لگا گیا اگر ہم کو معلوم ہوجاتا تو کبھی ایسا نہ ہوتا۔ اس مخالف کی زبان سے وہ سب کچھ کہلوا دیا جو کچھ کرنا اس کی فطرت میں داخل تھا۔ لیکن علماء اسلام نے اس سارے قصہ کو بڑے عجیب رنگ میں پیش کیا اور جب ان پر کسی طرف سے کوئی سوال کیا گیا تو وہ بوکھلا کر وہی کچھ کرنے لگے جس کے کرنے کا وہ اعلان کرچکا تھا اور ان کو یہ یاد نہ رہا کہ وہ کم بخت ہمارے ساتھ بھی ہے بلکہ ہمارے جسموں کے اندر ہے اور وہی ہم سے ایسے ایسے بیان دلوا رہا ہے اور ہم اسی کی ترجمانی کر رہے ہیں۔
Ayah 7:18فرمایا اس حالت میں نکل جا اور ہمارا اعلان بھی سن لے کہ جو تیرا ہوگا اس کے لئے جہنم ہے :
18: انسانوں کو اور ان کے قوائے ملکوتی کو مزید انتباہ کردیا کہ تمہارے اندر ہی کی نافرمانی کی قوتیں تمہیں کچلنے کے لئے ہر وقت چوکنا اور چوکس ہیں وہ کہیں باہر سے نہیں آئیں گی تم خبردار ہوجائو تم جس حال میں بھی ہو اور جہاں بھی ہو وہ طاقتیں بھی تمہارے ساتھ ہیں جن کو تم سے الگ نہیں کیا جاسکتا اگر ان کو الگ کردیا جائے تو انسان انسان نہیں رہتا اگر کوئی اللہ کا رسول ہے تو وہ بھی بہرحال انسان ہے اگر نیک اور صالح ہے تو وہ بھی انسان ہے۔ اگر کوئی حکمران ہے تو وہ بھی انسان ہے کوئی عالم ہے تو وہ بھی انسان ہے اور پھر جو بھی انسان ہے وہ طاقتیں اور قوتیں اس کے اندر ودیعت ہیں۔ وہ اس کو برائی پر آمادہ کریں گی۔ پھر انبیاء ورسل (علیہ السلام) کی حفاظت تو ایک مخصوص طریقہ رسالت ونبوت سے کردی گئی ہے یہی وجہ ان کی وہ طاقتیں اور قوتیں ان کی فرمانبردار ہوگئیں یعنی فرمانبرداری پر مجبور ہوگئیں اس لئے کہ ان کی جسمانی ساخت ہی میں وہ اس طرح ودیعت کی گئی تھیں کہ وہ اپنی بھر پور طاقت کے ابھر ہی نہ سکتی تھیں کہ وہ معصوم عن الخطا پیدا کئے گئے تھے لیکن ان کی صحبت اور ان کی تعلیم کے اثر سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے جن پر تیرا یہ جادو نہیں چل سکے گا جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا کہ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ (الحجر 15 : 42) ” بلاشبہ جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا۔ “ اور اس بات کا اعتراف گمراہ کرنے والی قوتوں یعنی خود ابلیس کو بھی ہے۔ چناچہ اس نے اس طرح اعتراف کیا کہ : وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ0039 اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ 0040 ” اور میں ان سب کو بہکادوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تو نے خالص کرلیا ہے۔ “
فرمایا اس حالت پر تو نکل جا کیونکہ مشیت ایزدی نے اس کو اسی حالت کے لئے پیدا کیا تھا ” مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا 1ؕ“ مذموم یعنی مذمت کیا گیا ، راندا ہوا یا دور کردیا گیا۔ ان لفظوں نے اس کی فطرت کو مزید اجاگر کردیا اور اتنا صاف اور واضح بیان دیا کہ جس سے صاف اور واضح بیان ممکن نہیں تھا۔ غور کرو کہ برائی اور اس کا مظہر شیطان کس طرح مذمت کئے گئے اور راندے ہوئے ہیں کہ آج تک دنیا میں جتنے برے آئے ان میں سے کسی ایک برے نے بھی برائی کو اچھا نہیں کہا۔ کوئی جھوٹ بولنے والا جھوٹ کو اچھا کہتا ہے ؟ کوئی زانی زنا کو اچھا کہتا ہے ، کوئی بےحیاء بےحیائی کو اچھا کہتا ہے ؟ کوئی ڈاکہ زنی کو اچھا کہتا ہوا آپ نے نہیں سنا ہوگا اور یقیناً نہیں سنیں گے۔ معلوم ہوا کہ آج بھی شیطان جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے فطرت انسانی ان دونوں کو یعنی اس برائی کو اور برائی پر آمادہ کرنے والے کو دھکے دیتی ہے لیکن اس کے باوجود انسان اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چیز خود بخود اس کی وضاحت کر رہی ہے کہ انسان سے اس برائی کا ارتکاب کرانے والا کوئی خارج از وجود نہیں بلکہ اس کے اندر ہی اس کا یہ دشمن موجود ہے اور اس سے اس برائی کا ارتکاب کرانے والا کوئی خارج از وجود نہیں بلکہ اس کے اندر ہی اس کا یہ دشمن موجود ہے اور اس کی تفہیم کرانے کے لئے نیز اس کی انسانیت کے احترام میں اس کو اس پیرایہ میں بیان کیا گیا تاکہ وہ اپنے اس اندر کے دشمن کو پہچانے اور اس کو کہا ماننے کی بجائے اس کو اپنا مطیع بنائے اور کم از کم اس کی کوشش ضرور کرتا رہے اور جب وہ دائو لگا جائے تو اس کی مذمت کرے اور اس کے پیدا کرنے والے یعنی اللہ سے اس کے شر سے بچتے رہنے کی درخواست کرے اور یہی بات اس کے لئے انشاء اللہ نافع ثابت ہوگی۔ اس کے بعد اب اس مذموم طاقت یعنی ابلیس کا آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ کے ورغلانہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:19آدم (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو جنت ارضی کے کسی خاص مقام میں رہنے کا ذکر :
19: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ معلوم کتنے انسان تخلیق اول میں پیدا کئے۔ اس جگہ جمع کا صیغہ بیان کر کے اسے زیادہ کی طرف اشارہ کردیا جو اس بیان کے لئے کافی تھا اس میں آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی کے لئے چن لیا گیا اور اس طرح اب اس وقت کی پوری انسانیت کا بیان آدم (علیہ السلام) ہی کے نام سے کیا گیا اور یہ بیان بھی فطرت انسانی کے مطابق ہے کہ سربراہ قوم کے تخاطب سے جو کچھ ہوتا ہے وہ پوری قوم کے نام ہوتا ہے اور اس طرح آدم وحوا (علیہما السلام) جو ایک ہی جنس کی دو اصناف ہیں ان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ ” اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو سہو اور جگہ سے جو چیز پسند آئے شوق سے کھائو مگر دیکھو اس درخت کے قریب بھی نہ جائو اگر گئے تو یاد رکھو کہ تم زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائو گے۔ “ چونکہ ہر نقصان کرنے والا اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے اس لئے اس کو زیادتی کہا گیا۔ اس طرح ان فرمانبردار قوتوں اور نافرمان قوتوں کے ذکر کے بعد جن کے نام ملائکہ اور ابلیس یا شیطان تجویز کئے گئے تھے ایک تیسری چیز یعنی انسان جو مجموعہ خیر وشر ہے کی فطرت کا ذکر شروع کیا گیا اور اس کی ابتدائی منزل ہی میں یہ بات تفہیم کرادی کہ انسانیت نام ہے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کا اور یہیں سے اس کی ابتدا ہوگی کہ جس کو کرنے کا حکم ہے وہ کیوں اور جس کو نہ کرنے کا حکم ہے وہ کیوں ؟ بس اس چیز کا نام وسوسہ ہے۔ فطرت انسانی کے اندر نافرمانی کی طاقت ودیعت کی گئی ہے وہ اپنا کام شروع کردیتی ہے اور جس کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے اس کے نہ کرنے پر وہ بضد ہوتی ہے اور جس سے منع کیا گیا ہے اس کے کرنے پر وہ ایگخت کرتی ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ اس کی فطرت میں داخل ہے اور نافرمانی کہتے ہی اس کو ہیں کہ جو فرمان ملے اس کے برعکس کیا جائے اور اس کے مطابق نہ کیا جائے اور دوسری طرف فرمانبردار قوت کا فطری تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جس کے کرنے کا حکم ہے اس کو کیا جائے اور جس سے منع کیا گیا ہے اس کے قریب نہ جایا جائے۔ اس طرح انسان کے اندر ہی اندر یہ جنگ جاری ہوجاتی ہے اور پھر جو قوت طاقتور ہوتی ہے وہ کامیاب اور جو کمزور ہوتی ہے وہ ناکام رہتی ہے تاہم کبھی کمزور قوت زور آور قوت پر بھی غلبہ پا جاتی ہے۔ اگرچہ وہ غلبہ وقتی ہوتا ہے اور اس کی مخصوص وجہ بھی ہوتی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔