7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsسراج البیان

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

المص ۔

Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب ہے جو تیری طرف نازل کی گئی ہے سو اس سے تیرا دل تنگ نہ ہو ، تاکہ اس کتاب سے لوگوں کو ڈرائے ، اور مومنین کے لئے نصیحت ہو (ف 1) ۔

(ف 1) یہ سورة اعراف کی پہلی آیت ہے ، اعراف ایک مقام ہے جنت اور دوزخ کے بین بین ، اس سورت میں چونکہ اس مقام کا ذکر ہے اس لئے اس کا نام اعراف ہے ، آیت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ مومنوں کے لئے اس میں ذکر ونصیحت کا ذخیرہ وافر ہے اور حضور ﷺ کی پیغمبرانہ شفقت کا اظہار کہ آپ کو بیحد روحانی تکلیف ہوتی ہے جبکہ لوگ اس نسخہ کیمیا کو ٹھکرا دیتے ہیں اور نہیں مانتے ۔
Ayahs 7:3–4

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

تو تمہارے رب سے تم پر اترا ، اسی پر چلو اور اس کے سوا دوستوں کی پیروی نہ کرو ، تم بہت تھوڑا دھیان کرتے ہو (ف 2) ۔

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیاں ہلاک کیں سو راتوں رات یا دوپہر کو جب وہ سو رہے تھے ان پر ہمارا عذاب آگیا ۔

دعوت حق : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ سب لوگ صرف کلام الہی کے ماننے کے مکلف ہیں ، اس کو ترک کرکے دیگر ارباب کی پیروی گمراہی ہے ، اسلام انسان کو حریت وآزادی کی تلقین کرتا ہے ، وہ دنیا میں صرف اللہ کا محکوم ہے اور اس کی گردن میں بجز اس کے اور کسی کا راقبہ عقیدت نہیں ۔
Ayahs 7:5–8

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

سو جب ہمارا عذاب ان پر آیا ، وہ کچھ اور نہ پکار سکے ، صرف یہی کہا کہ ہم ظالم تھے (ف 3) ۔

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

سو جن کی طرف رسول بھیجے گئے ہم ان سے پوچھیں گے اور رسولوں سے بھی کہ پوچھیں گے ۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم انکو اپنے علم سے سب احوال سنائیں گے کہیں غائب نہ تھے ۔

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور ان دن تول حق ہے سو جن کی تول بھاری ہوگی ، وہی نجات پائیں گے ۔

(ف 3) یعنی جب لوگوں نے احکام الہی کو تمردو سرکشی کی وجہ سے ٹھکرا دیا ہے تو عذاب نے آگھیرا ہے ، رات کو سوئے ہیں ، اور پھر نہیں اٹھے ، یا دن کو دوپہر کے وقت لیٹے ہیں ، اور خدا کی غیر جوش میں آگئی ، بستیاں الٹ گئیں ، اور یہ مٹ گئے ، (آیت) ” فلنسئلن “ سے مراد یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتمام حجت کے بعد ہوگا ، مجرم پکار اٹھیں گئے کہ واقعی ہم سزاوار تعزیر تھے اور انبیاء (علیہم السلام) برملا کہہ دیں گے کہ ہم نے تمام احکام بلاکم وکاست ان لوگوں تک پہنچا دیئے ، حل لغات : بیاتا : سوتے وقت بیات کے معنی رات گزارنے ، کے ہیں ، بیت : اس گھر کو کہتے ہیں جن میں رات گزاری جائیے ، قائلون : ، قیلولۃ یعنی دوپہر کو آرام کرنا ۔
Ayahs 7:9–10

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کی تول ہلکی ہوگی ، سو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں خسارہ میں ڈالیں ‘ کہ وہ ہماری آیات پر ظلم کرتے تھے (ف 1) ۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور اس میں تمہارے لئے روزیاں پیدا کیں ، تم تھوڑا شکر کرتے ہو ۔

وزن اعمال : (ف 1) اعمال کا وزن ضرور ہوگا وہ لوگ جن کے نیک اعمال زیادہ ہوں گے بخشش ورحمت کے سزاوار ہوں گے ، اور جن کے اعمال میزان پر پورے نہ اتریں گے ، گھاٹے اور ٹوٹے میں رہیں گے مگر اعمال کے وزن کی صورت کیا ہوگی ہمیں یہ نہیں بتلایا گیا ، کیونکہ اس کا تعلق عالم غیب سے ہے ، البتہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ محاسبہ قطعی ہوگا ، اور پورے پورے انداز سے ہوگا ۔ حل لغات : مکنکم : مصدر تمکن ثبات ، قرار ۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تمہیں صورت دی پھر ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، سو ان سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس سجدہ کرنے والوں میں نہ تھا (ف 1) ۔

نوع انسانی کی عزت و حرمت : (ف 1) ” خلقنکم “۔ اور ” ثم صورنکم “ میں تمام انسانوں کو مخاطب فرمایا ہے اور اس کے بعد صرف آدم (علیہ السلام) کا ذکر ، اس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ گو فرشتے آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکے ، مگر مقصود نوع انسانی کا اعزاز تھا ، اور یہ بتانا تھا کہ آدم (علیہ السلام) کی اس عزت افزائی میں تمام بنی آدم (علیہ السلام) شریک وسہیم ہیں یعنی انسان اس درجہ معزز ومفتحز ہے ، کہ کائنات کا حصہ اعلی کھلے بندوں اس کی فضیلت وتمجید کا اعتراف کرتا ہے ۔ شیطان کی نافرمانی کے معنی یہ ہیں کہ جو قومیں تمہارے سامنے نہ جھکیں انہیں مسخر کرنے کی خود کوشش کرو ، آدم (علیہ السلام) اور شیطان کے قصہ کو بار بار مختلف اسالیب میں بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک طرف تو انسان اپنے مرتبہ ومقام کو سمجھے دوسری جانب اسے یہ معلوم ہو ، کہ حق و باطل میں ہمیشہ سے آویزش چلی آتی ہے اور مومن وہ ہے جو بالکل شیطان کی پیروی نہ کرے ۔
Ayahs 7:12–16

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے کس چیز نے روکا کہ تونے سجدہ نہ کیا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا ، بولا میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے بنایا ہے (ف 2) ۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے نیچے اتر ، تجھے لائق نہیں ، کہ تو یہاں تکبر کرے ، نکل تو ذلیلوں میں ہے ۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

بولا جس اٹھنے کے دن تک مجھے مہلت دے ۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا تجھے مہلت ملی ،

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

تب بولا ، اس سبب سے کہ تونے مجھے گمراہ کیا میں تیری سیدھی راہ کے اوپر آدمیوں کی ناک میں جا بیٹھوں گا ۔

(ف 2) شیطان کا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ عزت وشرف خدا کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے اصل ومبنی کے لحاظ سے نہیں ، آدم (علیہ السلام) کہ اس نے عہد الست کا جواب لبیک و بلےٰ سے دیا ، اور شیطان اس لئے راندہ درگاہ رب جلیل ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑا ۔
Ayahs 7:17–19

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

اور ان پر آگے اور پیچھے ، اور داہنے اور بائیں سے آؤں گا ، اور تو ان میں بہتوں کو شکر گزار نہ پائے گا (ف 1) ۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے نکل ، برے حال سے راندہ ہو گر ان میں سے جو تیرے تابع ہوگا ، میں تم سب سے دوزخ بھر دوں گا ،

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم (علیہ السلام) تو اور تیری بیوی جنت میں رہو ، اور تم دونوں جہاں سے چاہو ، کھاؤ مگر اس درخت کے پاس نہ جائیوں ، ورنہ تم ظالموں میں ہوجاؤ گے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ شیطان ہر طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے نیک اور شاکر وہ ہے جو اس کے دام تزدیر میں نہیں پھنستا ۔ حل لغات : ایمان : جمع یمین دائیں جانب ، شمآئلھم : جمع شمال ، بائیں طرف ، مذء وما مدحورا : ذام : انتہائی عیب ، دحر : بمعنی ذلیل کرکے نکال دینا ۔
Ayahs 7:20–21

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے انہیں بہکایا ، تاکہ انکی شرمگاہیں جو ان سے چھپی ہوئی تھیں ، ان پر ظاہر کرے اور کہا تمہارے رب نے جو تمہیں اس درخت سے منع کیا ہے تو صرف اس لئے کہ تم دونوں کبھی فرشتے ہوجاؤ یا تم دونوں ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ(ف 1) ۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے ان سے قسم کھائی کہ البتہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔

(ف 1) آدم اور اس کی بیوی کو اولا جنت میں جگہ دی گئی ، تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا اصلی مقام جنت ہے ، شرط یہ قرار دی کہ مشار الیہ درخت کا استعمال نہ کری ، یہ درخت کون تھا ؟ صحیح طور پر معلوم نہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ جب تک اطاعت شعار رہیں گے خدا کے حضور میں رہیں گے اور جب نافرمانی کریں گے اس کی رحمتوں سے دور ہوجائیں گے ۔ شجرۃ کے معنی بعض لوگوں نے جھگڑے اور اختلاف کے کیے ہیں مگر یہ صحیح نہیں اور پھر اس کے بعد جو ذوق شجرۃ کی تاثیر بتاتی ہے اسے تنازع اور جنگ سے کوئی تعلق نہیں ، لغۃ شجرۃ بالتاء کا اطلاق منازعت و مخالفت پر نہیں ہوتا ۔
Ayahs 7:22–24

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

سو فریب سے انہیں کھینچ لیا ، پھر جب دونوں نے درخت چکھا ، تو ان کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں ، اور وہ دونوں باغ کے پتے اپنے اوپر جوڑنے لگے ، اور ان کے رب نے انکو پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور نہ کہا تھا ، کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے ؟ (ف 2) ۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں بولے اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے ، تو ہم بیشک زیاں کاروں میں ہوں گے ۔

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا نیچے اترو تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ، اور تم کو زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہوگا ۔

احساس عریانی : (ف 2) معلوم ہوتا ہے جنت میں آدم اور حوا کی زندگی نہایت پاکیزہ اور معصومانہ تھی ، وہ جنسی جذبات سے ناآشنا تھے ، حجاب و ستر کے مفہوم سے بالا تھے ، جب شیطان نے دھوکہ دیا ، اور انہوں نے خلود و ملکیت کے فریب میں آکر شجرہ ممنوعہ کو استعمال کرلیا ، تو ننگے ہوگئے ، عریانی کا احساس ہونے لگا اور جنت کے پتوں سے ستر ڈھانکنے لگے ۔ بات یہ ہے کہ انسانی نفسیات میں یہ ہمہ گیر کمزوری ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کے متعلق خواہ مخواہ دل میں تحریص پیدا ہوتی ہے اور دل میں یہ سوال چٹکیاں لیتا ہے کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے ، شیطان نے انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور یہ کہہ کر بہکایا کہ ہو نہ ہو اس میں راز یہ ہے کہ کہیں تم بھی موت و فنا کے قاعدوں سے مستثنی نہ ہوجاؤ۔
Ayahs 7:25–27

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا تم اسی میں جیوگے ، اور اسے میں مرو گے اور اسی میں سے نکلو گے (ف 1) ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم (علیہ السلام) ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرمگاہیں چھپاتا ہے ‘ اور زینت اور پرہیزگاری کا لباس ، بہتر ہے ‘ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، شاید وہ لوگ دھیان کریں ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم (علیہ السلام) تمہیں شیطان نہ بہکاوے ، جیسے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا ان کے کپڑے ان پر سے کھینچتا تھا ، کہ ان کو ان کی شرمگاہیں دکھلائے ، شیطان اور اس کی قوم تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں کہ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو بےایمانوں کا دوست بنا دیا ہے ۔

فروگذاشت : (ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے فورا غلطی کا احساس کرلیا ، اور اللہ سے معافی مانگی ، یہی امتیاز ہے انبیاء (علیہم السلام) میں اور عام انسانوں میں کہ انبیاء (علیہم السلام) فورا اپنی فروگذاشتوں کو محسوس کرلیتے ہیں اور پیشگاہ جلالت میں عفو خواہ ہوتے ہیں ، اور عام انسان یا تو گناہوں پر متنبہ نہیں ہوتے اور یا تنبیہ کے بعد خدا کے آگے جھکتے نہیں ۔ یہ فروگذاشت محض اجتہادی ہے ، اور نیک نیتی سے ہے آدم (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ ممانعت شاید تحریص کے لئے ہے یعنی اس لئے کہ میرے دل میں اس کے استعمال کی شدید خواہش پیدا ہو ، ملکیت یا خلود کی خواہش دراصل اللہ کے تقرب کی خواہش ہے ، شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو یہ سمجھایا تھا کہ اس طریق سے تو اللہ کے اور قریب ہوجائے گا ، ظاہر ہے یہ مقصد بجائے خود نہایت نیک اور بلند ہے ، مگر اللہ کا منشاء چونکہ یہ نہیں تھا اس لئے اسے لغزش قرار دیا ۔ یہ یاد رہے ، کہ انبیاء (علیہم السلام) جب کبھی تسامح فرماتے ہیں ، تو ان کے سامنے ایک عام اور بلند چیز ہوتی ہے ، مگر خدا کا مقصد چونکہ وہ نہین ہوتا ، اس لئے اسے غلطی کہا جاتا ہے ، یعنی نفس واقعہ کے لحاظ سے نیت کے لحاظ سے نہیں کیونکہ خدا کے پیغمبر ہوائے نفس کے تابع نہیں ہوتے ، ان سے اس نوع کا گناہ کبھی سرزد نہیں ہوتا ، کہ جذبات کی پیروی ہو ، یعنی نیت درست اور بلند نہ ہو ، کیونکہ انہیں دنیا کے لئے آسودہ اور نمونہ بنا کر بھیجا جاتا ہے ، وہ عام انسانوں سے بہت اونچے ہوتے ہیں ، وہ عفت وعصمت کا پیکر تنزیہی ہیں وہ اگر خدا کے حکموں کو نہ مانیں ، تو پھر اور کون مانے گا ، بات یہ ہے کہ بعض اوقات ان کے لئے اولے وانسب میں امیتاز مشکل ہوجاتا ہے وہ ایک بات کو بتقاضائے نفس بشری اولے قرار دے لیتے ہیں مگر نفس نبوی فورا انہیں متنبہ کردیتا ہے کہ یہ صحیح نہیں بس یہی لغزش ہے تسامح ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ، واللہ اعلم ۔ حل لغات : مستقر : جائے قرار ہے ۔ قبیلہ : ایسا گروہ یا جماعت جو ایک باپ کی اولاد سے ہو ۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کوئی عیب کا کام کرتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایسے ہی کام کرتے پایا ہے ، اور خدا نے ہمیں ایسا حکم دیا ہے ، تو کہہ خدا بدی کا حکم نہیں دیا کرتا ، کیا تم خدا کی نسبت وہ باتیں بولتے ہو ، جن کا علم نہیں رکھتے (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں منکرین کا ذکر ہے کہ وہ گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور جب برائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو شرماتے نہیں بلکہ وہ دلائل ڈھونڈتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے علماء اور راہنماؤں نے ہمیں ایسا ہی بتایا ہے اور یہ کہ خدا نے بھی یہی تلقین کی ہے یعنی بدعات و رسوم کی پیروی میں اللہ کو بطور سند و حجت کے پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ کہیں اللہ بھی فواحش کی تعلیم دے سکتا ہے ۔
Ayahs 7:29–30

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

تو کہہ میرے رب نے انصاف کے ساتھ حکم دیا ہے اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے رکھو ، اور اسے خالص اس کے حکم بردار ہوکر پکارو ، جیسے اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ویسے تم دوسری بار (ف 1) پیدا ہوگے

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

اس نے ایک گروہ کو ہدایت کی ، اور ایک گروہ پر گمراہی ثابت کردی ، انہوں نے اللہ کے سوا شیطانوں کو دوست بنایا ، اور سمجھتے ہیں ، کہ وہ راہ پر ہیں ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ اللہ انصاف وعدل کے سوا اور کسی بات کا حکم نہیں دیتا ، وہ کہتا ہے تزکیہ باطل کے لئے کوشش کرو ، اور اخلاص کے ساتھ کیونکہ تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے اور جواب دینا ہے اپنے اعمال کا ۔
Ayahs 7:31–32

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) کی ہر نماز کے وقت اپنی زینت (لباس) لے لیا کرو ، اور کھاؤ پیو ، اور فضول خرچ نہ کرو ، کہ وہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (ف 2) ۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

تو کہہ اللہ کی زینت جو اس نے بندوں کے لئے نکالی ، اور کھانے کی پاک چیزیں کس لئے حرام کی ہیں ، تو کہہ یہ چیزیں حیات دنیا میں مسلمانوں کے لئے ہیں اور قیامت کو خالص انہیں کیلئے ہوجائیں گی ، یوں ہم سمجھ داروں کو مفصل آیات سناتے ہیں ،

اسراف ممنوع ہے ! (ف 2) یعنی زینت و آرائش ممنوع نہیں ، اسراف ممنوع ہے ، اسلام کھانے پینے اور لباس میں کوئی قید عائد نہیں کرتا ، بہتر سے بہتر کھاؤ اور اچھے سے اچھا پہنو ، خدا ناراض نہیں ہوتا ، میں تمہاری طاقت ووسعت کے مطابق ہونا چاہئے یہ خوب سوچ لو کہ کہیں فیشن کا شوق تمہیں تباہ تو نہیں کر دے گا ، (آیت) ” خذوا زینتکم سے مراد یہ ہے کہ نماز کے وقت ماتیسر لباس ضرور پہنو ۔ لباس کو زینت سے اس لئے تعبیر کیا ہے کہ زینت بھی لباس کا ایک مقصد ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدزیبی تقشف ہو تو ہو ، اسلام پسند نہیں کرتا ، اسلام خوش وضعی کو طبعا پسند کرتا ہے ۔ حل لغات : المسرفین : اسراف کے معنی حاجت سے زیادہ اور بےاندازہ خرچ کرنے کے ہیں ، اور کسی کام کے بےاندازہ اور ب یہود طور سے کرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ الطیبات : جمع طیب بمعنی پاک و حلال ولذیذ خلاف خبیث ۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

تو کہہ میرے رب نے سب بےحیائی کے کام ظاہر وپوشیدہ اور گناہ اور ناحق کی زیادتی حرام کی ہے ، اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ تم اس شئے کو جس کے بارہ میں خدا نے دلیل نازل نہیں کی ، خدا کا شریک ٹھہراؤ اور یہ کہ تم خدا پر وہ باتیں بولو ، جو تم نہیں جانتے (ف 1) ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ فواحش ہر نوع کی حرام ہیں ، چاہے وہ ہوں ، جن کا تعلق ظاہر سے ہے ، اور چاہے وہ ہوں جو بظاہر برائیاں نہیں ہیں ، مگر بباطن برائیاں ہیں ، شرک کے متعلق ارشاد ہے ، کہ یہ بےدلیل وبے برہان ہے یعنی بت پرستی کے لئے عقلی وسمعی کوئی دلیل موجود نہیں محض تقلید وجڑ کا اثر ہے عقل مند اور دانا لوگ توحید کے سوا اور کسی بات پر مطمئن نہیں ہوتے ۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر فرقہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے سو جب ان کا وقت آئے گا ، ایک ساعت کی بھی دیر یا جلدی نہ کرسکیں گے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی ہر گروہ کے لئے اللہ نے مہلت کے کچھ دن مقرر کر رکھے ہیں جب لوگ اس ڈھیل سے فائدہ نہ اٹھائیں ، اور برابر گمراہی میں بڑھتے جائیں ، تو پھر اللہ کا عذاب آجاتا ہے ، جس میں ایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہوتا ۔ حل لغات : الفواحش : جمع فاحشۃ بمعنی ہر بدی جو حد سے گذر جائے فحش کہتے ہیں ، بدی کے حد سے گزر جانے کو ۔ سلطنا : دلیل غالب ۔
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی اگر تمہارے درمیان سے تم پاس رسول آئیں ، اور میری آیات تمہیں سنائیں ‘ تو جو کوئی ڈرا ، اور درست ہوا ، انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ، وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

رسولوں کی آمد : (ف 1) بنی آدم سے مراد آدم (علیہ السلام) کی اولین اولاد ہے ، انہیں ابتدائی تعلیمات کے بعد کہا گیا ہے ، کہ تمہارے پاس اگر رسول اور پیغمبر آئیں تو ماننے میں تامل نہ کرنا اس لئے کہ اللہ کے نزدیک تقوی واصلاح کا معیار یہی ہے کہ ہر صداقت کو قبول کیا جائے ۔ حضور ﷺ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہے ، آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور ﷺ تک نبوت جاری رہی ، اب بسوائے خاتم النبین ، نبوت کے تمام دروازے مسدود ہیں ، کیونکہ دین کامل ہوگیا ، اللہ کی نعمتیں پوری ہو چکیں ، اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی ۔ اس آیت سے بقائے نبوت کا ثبوت بوجوہ غلط ہے ۔ 1۔ بنی آدم سے تعبیر آدم (علیہ السلام) کی اولین اولاد ہے ۔ 2۔ ما حرف شرط ہے جس سے وقوع و دوام مقصود نہیں ہو سکتا ۔ 3۔ رسل کا لفظ عام ہے غیر انبیاء بھی اس میں داخل ہیں ۔ 4۔ ختم نبوت کی تصریحات موجود ہیں ۔ 5۔ اجماع امت جزئیات نبوت کا مخالف ہے ۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

سو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ، یا اس کی آیات کو جھٹلایا وہ ہی لوگ ہیں کہ جن کو ان کا حصہ جو کتاب میں لکھا ہوا ہے مل کر رہیگا ، یہاں تک کہ جب ہمارے فرستادے (فرشتے) ان کے پاس ان کی جانیں نکالنے آئیں گے پوچھیں گے ، وہ کہاں ہیں جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے تھے ، یہ کہیں گے وہ ہم سے گم ہر گئے ، اور انہوں نے اپنی جانوں پر گواہی دی کہ وہ کافر تھے (ف 1) ۔

اعتراف ندامت : (ف 1) وہ لوگ جو دنیا میں ظالم رہے جنہوں نے اللہ کے رسول کو نہ مانا ، اور ضدا اختیار کی ، وہ جو ہر آن تکذیب پر آمادہ رہے ، وہ جنہوں نے سرکشی اور غرور سے منہ نہ موڑا ، دنیا میں بھی ذلیل رہیں گے اور موت کے وقت بھی فرشتے آئیں گے اور روح قبض کریں گے ، اس وقت وہ پوچھیں گے وہ بت کہاں ہیں اور وہ خدا کہاں ہیں ، جن کی تم پوجا کرتے تھے ، اس وقت انہیں ندامت گھیرے گی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور کہیں گے کہ بیشک ہم کافر رہے ۔
Ayahs 7:38–40

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ کہے گا جنوں اور آدمیوں کی امتوں کو سمیت جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں ، تم بھی آگ میں داخل ہو جب ایک امت داخل ہوگی تو دوسری کو لعنت کریگی ، یہاں تک کہ جب سب دوزخ میں رل مل چکیں گے ، تو پچھلے پہلوں کے حق میں کہیں گے ، اے ہمارے رب ہمیں انہوں نے گمراہ کیا تھا سو انہیں آگ کا دونا عذاب دے ، وہ کہے گا سب کے لئے دونا ہے مگر تم نہیں جانتے ۔ (ف 2) ۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر کچھ فضیلت نہیں ہے ، سو تم بھی اپنے اعمال کے سبب عذاب چکھو ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ، اور ان سے تکبر کیا ، ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو ، اور مجرموں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں ۔

(ف 2) یہ عجیب بات ہے جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو یہ چاہیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کی گمراہی میں بہت بڑا حصہ ہے لیا ہے ، اس بری طرح پھنسیں ، اور ان کو یہ عذاب میں دکھ اٹھاتے ہوئے دیکھیں ، اس لئے کہیں گے ، یا اللہ ، ان لوگوں نے ہمیں دینا میں گمراہ کیا تھا ان کو دگنا عذاب دے ، اللہ فرمائے گا سب عذاب بھگت رہے ہیں مگر تمہیں علم نہیں کمبختو ! اگر دنیا میں تمہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوتا ، تو ایک بات بھی تھی اس عذاب الیم سے بچ جاتے ، اب کیا فائدہ جو پڑے جھلس رہے ہو ، یہ نہایت خوفناک منظر ہوگا ، وہ لوگ جن سے دنیا میں عقیدت تھی ، جنہیں یہ لوگ خدا اور دیوتا سمجھتے تھے ، جن کی پرستش کرتے تھے ، جو ان کے معبود تھے ، آج ان سے کلی انقطاع کا اعلان ہو رہا ہے ، بلکہ ان کے عذاب کی سفارش کی جا رہی ہے ۔ اور کہا جا رہا ہے ، یہ ملعون ہیں ، یہ لوگ دنیا میں ہماری گمراہی کا باعث تھے ۔ حل لغات : ادارکوا : اصل میں تدارکوا تھا ، درک کے معنی ہیں نیچے آ یہ درج صعود کے لئے ہے اور درک ہبوط کے لئے چناچہ جنت کے لئے درجات استعمال ہوتا ہے ، اور جہنم کے لئے درکات : ان اللمنافقین فی الدرک الاسفل من النار ۔