Ayah 7:1الۗمّۗصۗ: یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (1)
Ayah 7:2كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ۔۔ : کتاب نازل کی گئی، کس نے نازل کی، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ کتاب کس نے نازل کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو ڈرائیں اور خبردار کریں، تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور ایمان والوں کو نصیحت کریں، تاکہ ان کے ایمان اور ہدایت میں اضافہ ہو، اس لیے آپ اسے پہنچانے میں دل میں کوئی تنگی یا خوف نہ آنے دیں کہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے، کیونکہ اگر کچھ جھٹلانے والے ہوں گے تو ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور آپ پر یہ کتاب اتارنے والا آپ کا حامی و ناصر ہوگا، اس لیے کسی تنگ دہی یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
Ayah 7:3اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ : رسالت (پیغام پہنچانے) کا معاملہ تین افراد کے درمیان ہوتا ہے : ”مُرْسِلٌ“ پیغام بھیجنے والا، یعنی اللہ تعالیٰ ، ”مُرْسَلْ“ جسے پیغام دے کر بھیجا جائے، یعنی رسول اور ”مُرْسَلٌ اِلَیْہِ“ ”جس کی طرف پیغام بھیجا جائے، یعنی امت۔ پچھلی آیت میں رسول کو انذار (ڈرانے) اور تذکیر (نصیحت کرنے) کا حکم ہے، اس آیت میں امت کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام کی پیروی کا اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی پیروی نہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ کے نازل کردہ کے سوا کسی بھی دوسرے کی پیروی کرنا اللہ کے مقابلے میں غیر اللہ (من دون اللہ) کو اولیاء بنانا ہے۔ حکم صرف اللہ کا حق ہے، جسے پہنچانا رسول کی ذمہ داری ہے اور رسول اللہ ﷺ کی طرف قرآن اور حدیث دونوں وحی کے ذریعے سے نازل ہوئے، اس لیے رسول کا ہر حکم اللہ کا حکم ہے، سو اسی کی پیروی کرو، قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی کی بات مت مانو، خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام، بزرگ، محقق یا دانش ور ہو، ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ) [ المائدۃ : 3 ] کے مطابق دین کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اگر کوئی بات قرآن و حدیث میں صریح الفاظ میں نہ ملے تو کسی آیت یا حدیث میں اس کی طرف اشارہ ضرور ہوگا، اس کے لیے کسی بھی بڑے عالم سے پوچھ سکتے ہیں۔ کسی ایک ہی کی ہر بات کی تقلید، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، تو یہ ”مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۭ“ کی طرف لے جائے گی، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
Ayah 7:4وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا۔۔ : پچھلی آیت میں فرمایا کہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو، یہاں فرمایا کہ دیکھ لو کہ نصیحت اور عبرت کے لیے تمہارے سامنے کتنی ہی بستیاں ہیں، جنھیں غیر اللہ کی عبادت اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہم نے ہلاک کردیا، جن میں سے کچھ تو وہ تھے جو رات امن و اطمینان سے سو رہے تھے کہ ان پر ہمارا عذاب آگیا، جیسا کہ قوم لوط اور کچھ وہ تھے جو دوپہر کو آرام کر رہے تھے، جیسے شعیب ؑ کی قوم۔ آرام اور بیخبر ی کی حالت میں آنے والا عذاب زیادہ خوف ناک ہوتا ہے، یعنی ان کفار کو اپنی خوش حالی پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ کر اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (97، 98) اور سورة نحل (45 تا 47)۔
Ayah 7:5فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ : ”دعویٰ“ کا معنی دعا بھی ہوتا ہے اور ادّعا بھی، یعنی اس وقت ان سے سوائے گناہ کے اعتراف کے کچھ بن نہ پڑا اور وہ اپنے بنائے ہوئے اولیاء، یعنی جھوٹے معبودوں کو بھول گئے اور اپنے تمام دعوے بھی، مثلاً یہ کہ آخرت کو بھی ہم ہی مقرب ہوں گے، مگر اس وقت کا اعتراف گناہ ان کے کس کام آسکتا تھا ؟ جب گناہ سے توبہ کا وقت تھا اس وقت تو غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ایسے وقت میں ان کے منہ سے بےساختہ یہ الفاظ نکلنے سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے بھی ان کے دماغ میں یہ بات ہر وقت رہتی تھی کہ تم شرک کر کے اور اللہ کے رسول کو جھٹلا کر ظلم کر رہے ہو، مگر ان کے تکبر اور عناد نے انھیں اقرار نہیں کرنے دیا۔ دیکھیے سورة انبیاء (11 تا 15) اور سورة مومن (85)۔
Ayah 7:6فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ : پچھلی آیت میں جس چیز سے ڈرایا گیا وہ دنیا کا عذاب تھا، اس آیت میں آخرت کے معاملات سے ڈرایا گیا ہے۔ (کبیر) یعنی ہم لوگوں سے تو یہ پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا جیسا کہ سورة قصص آیت نمبر (65) میں فرمایا (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ) اور جس دن وہ انھیں آواز دے۔ پس کہنے لگا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور پیغمبروں سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں ؟ اور پہنچایا تھا تو انھوں نے کیا جواب دیا تھا ؟ جیسا کہ سورة مائدہ آیت نمبر (109) میں فرمایا : (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ) جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا مقصود کفار کو ڈانٹنا اور ذلیل کرنا ہوگا۔
Ayah 7:7فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ : یعنی ہم سب کچھ سن رہے تھے اور دیکھ رہے تھے اور ان کے عمل کے وقت غائب نہیں تھے۔ دیکھیے سورة یونس (61) اور سورة مجادلہ (6، 7) اگر وہ خاموش رہیں گے یا غلط بات کریں گے تو ہم خود پورے علم کے ساتھ بتادیں گے، یعنی دلیل بھی ساتھ ہوگی کہ خود ان کے اعضاء گواہی دیں گے۔ [ یٰسٓ : 65۔ حٰمٓ السجدۃ : 19 تا 21 ] زمین گواہی دے گی۔ [ الزلزال : 4 ] امت محمد ﷺ گواہی دے گی۔ [ البقرۃ : 143 ] اور جہنم کے داروغے کے سامنے وہ خود اپنی زبان سے مان جائیں گے۔ [ الزمر : 71۔ الملک : 10 ] ”بِِعِلْمٍ“ تنوین کی وجہ سے ”پورے علم“ ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 7:8وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ: اوپر کی آیت میں سوال اور حساب کا ذکر ہے، اس آیت میں وزن اعمال کا، یعنی ہر ایک کے نیک و بد اعمال کا وزن ہوگا۔ یہاں اس اشکال کی بنا پر کہ ان اعمال کا تو اس وقت وجود ہی ختم ہوچکا ہوگا، بعض عقل پرستوں نے وزن اعمال ہی سے انکار کردیا، مگر اللہ تعالیٰ کی بات کیسے غلط ہوسکتی ہے۔ امام بخاری ؓ نے اپنی صحیح بخاری کو ختم ہی اس بات کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے سے کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء (47) یہ وزن کیسے ہوگا، کچھ اہل علم نے کہا کہ وہ کاغذ تولے جائیں گے جن میں عمل لکھے ہوں گے۔ بعض نے کہا کہ ان اعمال کو جسم دے کر وہ جسم تولے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ اس عمل والے کو تولا جائے گا۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”تینوں صورتیں ممکن ہیں اور آیات و احادیث میں ہر ایک کی تائید ملتی ہے۔“ چوتھی صورت یہ ہے کہ خود عمل تو لے جائیں گے، کیونکہ ان کا وجود ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ) [ الکہف : 49 ] ”اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیں گے۔“ اور فرمایا : (وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا) [ الأنبیاء : 47 ] ”اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے۔“ اور سورة لقمان (16) میں بھی یہی بات فرمائی سورة زلزال میں فرمایا : (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ , وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ) [ الزلزال : 7، 8 ] اور جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔“ سورة آل عمران (30) میں بھی یہ بات موجود ہے۔ اور یہی چوتھی صورت راجح ہے۔ اب تو جدید سائنس نے دنیا ہی میں یہ مسئلہ حل کردیا ہے، ہوا میں تحلیل ہوجانے والی آوازوں اور اعمال کا سارا نقشہ اور ختم ہونے والی چیزوں کا وزن سب کچھ انسان کے ہاتھوں ظاہر ہو رہا ہے۔ [ وللہ المثل الاعلی ] مگر ماننے کا لطف اس وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بات عقل میں آئے یا نہ آئے اسے من و عن تسلیم کیا جائے اور اسی کا نام اسلام ہے، سائنس سے ثابت ہونے کے بعد کسی نے مانا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کیا مانا ؟
Ayah 7:9وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ۔۔ : اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد کافر ہیں، کیونکہ قرآن نے انھیں ”خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ“ قرار دیا ہے، مومن گناہ گار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے۔ (کبیر) مزید دیکھیے سورة حاقہ (25 تا 29) کی تفسیر۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا، اس کے ننانویں اعمال نامے پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے، پھر پروردگار اس سے فرمائے گا : ”کیا تم ان میں سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو ؟“ وہ عرض کرے گا : ”نہیں۔“ پھر پروردگار فرمائے گا : ”تمہاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور آج تم سے کوئی بےانصافی نہیں کی جائے گی۔“ پھر ایک بطاقہ (کاغذ کا ٹکڑا) لایا جائے گا جس پر ”أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ“ درج ہوگا۔ وہ عرض کرے گا : ”بھلا یہ ایک پرزہ ان تمام دفتروں کے مقابلے میں کس کام آئے گا ؟“ حکم ہوگا کہ تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا (لہٰذا صبر کرو) پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور یہ کاغذ کا ایک پرزہ دوسرے پلڑے میں، تو وہ دفتر ہلکے ہوجائیں گے اور وہ پرزہ بھاری ہوگا اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوگی۔“ [ ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت۔۔ : 2639۔ ابن ماجہ : 4300۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 1؍261 ] اہل علم نے دوسری آیات و احادیث کو مد نظر رکھ کر اس شخص سے وہ آدمی مراد لیا ہے جسے کلمہ پڑھنے کے بعد عمل کا موقع ہی نہیں ملا، یعنی جسے آخری وقت پر کفر و شرک سے باز آنے اور اسلام لانے کی توفیق ملی اور اسلام لانے سے اس کے تمام گناہ معاف ہوگئے یا بدعمل، اور آخری وقت توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی۔
Ayah 7:10وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : اوپر کی آیات میں انذار وتبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔
Ayah 7:11وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ : ”خَلَقَ“ کا اصل معنی جس چیز کا وجود نہ ہو اس کا صحیح خاکہ بنانا اور وجود میں لانا ہے۔ اس معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہاں، کسی چیز سے کوئی خاکہ تیار کرنے کو بھی ”خَلَقَ“ کہہ لیتے ہیں، یہ مخلوق بھی کرسکتی ہے، سورة مائدہ (110) میں عیسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے : (ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ) (راغب) ”خلق، برأ“ اور تصویر، پیدائش کے تین مراحل ہیں، سورة حشر (24) میں فرمایا : (هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ) تینوں الفاظ میں سے اکیلا کوئی بھی لفظ آئے تو پیدا کرنے کے معنی میں ہوتا ہے، اکٹھے آئیں تو کچھ فرق ہے، یعنی ہم نے تمہارا خاکہ بنایا، پھر تمہیں صورت بخشی : ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ڰ اس سجدے سے مراد مطلق تعظیم ہے یا حقیقی سجدہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (34)
Ayah 7:12قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ ۭ : یہاں ”الا“ زور اور تاکید کے لیے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ سورة صٓ (75) میں فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ) ”تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا۔“ اور یہاں ہے کہ تجھے کس نے روکا کہ اس کے روکنے کے باعث تو نے سجدہ نہ کیا۔
اس سے وہ مشکل حل ہوجاتی ہے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، ابلیس جنوں میں سے تھا، فرشتہ تھا ہی نہیں تو وہ نافرمان کیوں ٹھہرا ؟ اس کے عجیب و غریب جواب دیے گئے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بطور خاص مخاطب کر کے حکم دیا گیا تھا۔
خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ : آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو کیسے سجدہ کرسکتا ہے ؟ اس نے یہ نہ دیکھا کہ حکم کون دے رہا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کی موجودگی میں عقلی قیاس سے کام لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ دھتکارا گیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، اسی لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے واضح حکم کی موجودگی میں قیاس کیا ابلیس تھا۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ شرک کی بنیاد بھی قیاس ہی تھا۔ (طبری) اب بھی آیات و احادیث کے مقابلے میں جو شخص اسی طرح عقلی قیاس سے کام لے گا اس کا یہ کام شیطانی ہے، اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو ابلیس کا ہوا۔
وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ : یہاں شیطان نے متعدد غلطیاں کیں، ایک تو یہ بات ہی غلط ہے کہ افضل اپنے سے کم تر کو سجدہ نہیں کرسکتا۔ بات برتر یا کم تر کی نہیں، حکم کی ہے اور اللہ تعالیٰ جسے جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ دوسرا اس کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنانے کا اور عزت و تکریم بخشنے کا جو شرف عطا فرمایا وہ کسی بھی مخلوق کو نہیں بخشا اس لیے فرمایا : (ُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۭ) [ ص : 75 ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔“ اور تیسری یہ بات بھی غلط ہے کہ آگ مٹی سے بہتر ہے، کیونکہ آگ میں تیزی، چلانا اور بھڑکنا ہے جبکہ مٹی میں تواضع، ٹھکانابننے، اگانے اور بڑھانے کی خوبی موجود ہے۔ اب بھی جو لوگ قرآن و حدیث کے مقابلے میں قیاس کرتے ہیں اس پر تھوڑا سا غور کریں تو اس کا فاسد و باطل ہونا آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔
Ayahs 7:13–14فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کبریائی (بڑائی) میری رداء (اوپر کی چادر) اور عزت میری ازار (نیچے کی چادر) ہے جو ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الکبر : 2620، عن أبی ہریرہ ] یعنی تکبر کے بعد جنت میں رہنے کا شرف تیرے پاس رہنا ممکن ہی نہیں۔ یہی حال ہر تکبر اور غرور والے کا ہوگا۔
Ayah 7:15قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ : شیطان نے مہلت تو قیامت تک کی مانگی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے علم میں طے شدہ وقت تک مہلت دی۔ دیکھیے سورة حجر (38) اور سورة ص (81) قیامت تک مہلت کی کہیں تصریح نہیں ہے۔ شیطان کو مہلت دینے سے مقصود بندوں کا امتحان ہے کہ وہ رحمٰن کی راہ پر چلتے ہیں یا شیطان کی۔
Ayah 7:16قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ : ابلیس کی شیطنت دیکھیے کہ گمراہ ہونے میں سارا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے اور اپنے اختیار کی نفی کر رہا ہے، یہی جبریہ کا عقیدہ ہے اور مشرکین نے بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے یہی الزام لگایا کہ اگر وہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ [ دیکھیے الأنعام : 148 ]
لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ : یعنی میں تو گمراہ ہوں ہی ان کی بھی راہ ماروں گا۔ (موضح) یہاں شیطان جبری کے بجائے قدری بن گیا کہ میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا، پہلے کہتا تھا کہ سب تو نے ہی کیا۔ معلوم ہوا شیطان میں جبری اور قدری (تقدیر کا منکر) ہونے کی دونوں گمراہیاں موجود ہیں، جبکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔
Ayahs 7:17–18ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ۔۔ : اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے شیطان اور دوسری تمام آفات سے تمام اطراف سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرتے تھے اور کبھی ان میں ناغہ نہیں کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَاْلعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَ دُنْیَایَ وَأَھْلِیْ وَمَالِیْ ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَّوْعَاتِی، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ مِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُ بِعَظْمَتِکَ اَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ) [ أحمد : 2؍25، ح : 4884۔ أبو داوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا أصبح : 5074 ]”اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین میں اور اپنی دنیا میں اور اپنے اہل میں اور مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! تو میری پردے والی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن عطا فرما۔ اے اللہ ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اچانک پکڑ لیا جاؤں۔“
وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ : ابلیس کو غیب کی خبر تو نہ تھی محض گمان پر اس نے یہ دعویٰ کردیا مگر ظالم نے اپنا یہ گمان واقعی سچا کر دکھایا، جیسا کہ سورة سبا (20) میں ہے۔
Ayah 7:19وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔۔ : اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ (35)۔
Ayah 7:20لِيُبْدِيَ لَهُمَا : بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ”ُ لِيُبْدِيَ“ میں ”لام“ عاقبت کا ہے، یعنی شیطان کے دل میں نہیں تھا کہ وہ ننگے ہوجائیں مگر ایسا کرنے کا انجام یہی تھا، لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ”لام“ تعلیل کا ہے اور اس کی غرض یہی تھی اور اسے معلوم تھا کہ درخت کھانے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ شرم گاہ کو ”سوء ۃ“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعاً برا لگتا ہے اور ”سَاءَ یَسُوْءُ“ کا معنی برا لگنا ہے، گویا ان کو جنت کا جو لباس پہنایا گیا تھا، جس سے ان کی شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں، وہ ممنوعہ درخت کھانے سے اتر جانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو پہلے ہی جنت کی چار خصوصی سہولتیں بتائی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ تو جنت میں ننگا نہیں ہوگا اور ساتھ ہی بتادیا تھا کہ ممنوعہ درخت کھانے سے یہ سہولتیں چھن جائیں گی، اس لیے یہ بات آدم ؑ کو بھی معلوم تھی، مگر شیطان کے قسم کھانے سے بھول گئے۔ ان سہولتوں کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (118، 119)
وٗرِيَ ”وَریٰ“ یہ ”وَارٰی یُوَارِیْ مُوَارَاۃً“ (مفاعلہ) سے ماضی مجہول ہے۔
وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا۔۔ : شیطان نے ان دونوں کو یوں بہکایا کہ اللہ تعالیٰ کے تمہیں اس درخت سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے، یعنی ان کی خصوصیات اور فطری کمالات تم میں بھی پیدا ہوجائیں گی، یا ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔ جن دو چیزوں کے درمیان ”أَوْ“ کا لفظ آئے ان میں سے ایک چیز بھی ہوسکتی ہے اور دونوں بھی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک بھی نہ ہو۔ ایک بہرحال ضرور ہوگی، دوسری بھی ممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم ؑ فرشتوں کو اللہ کے قریب رہنے کی وجہ سے اپنے سے بہتر سمجھتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ) [ الأنبیاء : 19 ] ”اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔“ مگر یہ ایک جزوی فضیلت ہے، اس سے ہر لحاظ سے فرشتوں کا انسان سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
Ayah 7:21وَقَاسَمَهُمَآ : باب مفاعلہ (مقاسمہ) دو طرف سے مقابلہ کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں صرف شیطان نے قسم کھائی تھی، آدم ؑ نے مقابلے میں کوئی قسم نہیں کھائی، اس لیے یہاں مبالغہ کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ ”بار بار قسم کھائی“ کیا گیا ہے۔
Ayah 7:22فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ : ”دَلّٰی یُدَلِّیْ تَدْلِیَۃً“ (تفعیل) اور ”اَدْلٰی یُدْلِیْ اِدْلَاءً“ (افعال) یہ ”دَلْوٌ“ (ڈول) سے ہے، یعنی جیسے ڈول نیچے گرایا جاتا ہے اس طرح کسی چیز کو اوپر سے نیچے کی طرف چھوڑنا، یعنی شیطان نے دھوکے سے ان کو ان کے بلند مرتبے سے نیچے اتار دیا۔
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ : سورة طٰہٰ (121) میں ہے : (فَاَكَلَا مِنْهَا) کہ انھوں نے اس میں سے کھالیا۔ زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں سے صرف چکھنے کی دیر تھی کہ جنت کی کرامت چھن گئی اور وہ بےلباس ہوگئے۔
وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭ: معلوم ہوا انسان فطرتاً باحیا پیدا ہوا ہے اور ننگا ہونا انسانی فطرت کے خلاف ہے، اس لیے آدم اور حوا ؑ درختوں کے پتوں سے ستر چھپانے لگے۔ شیطان اسی لیے بےلباس ہونے کو پسند کرتا ہے۔ جبکہ ننگا ہونا جانوروں کی فطرت ہے اور کفار اور ان کے پیروکار ننگا ہونا پسند کرتے ہیں، اگر لباس پہنتے ہیں تو ایسا جو انھیں بےلباس ہونے سے بھی زیادہ ننگا کرے، ان کی انسانی فطرت مسخ ہوچکی ہے، انھی کے بارے میں آتا ہے : (ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ) [ الأعراف : 179 ] ”یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“
وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ : اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں صوت (آواز) ہے اور فرشتے اور آدمی اسے سن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آواز اور کلام سے انکار کر کے قرآن کو کلام اللہ کے بجائے مخلوق قرار دینا سراسر گمراہی ہے۔ امام احمد ابن حنبل ؒ نے اپنی عظیم استقامت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے دلائل سے تمام دنیا کے سامنے اس بات کا غلط ہونا ثابت فرما دیا۔
Ayah 7:23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫۔۔ : سورة بقرہ میں ہے کہ آدم ؑ نے یہ کلمات رب تعالیٰ سے سیکھے تھے اور انھی کلمات سے ان کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ آیت (37) کے فوائد۔ آدم ؑ کی اس دعا سے ان کا اور ابلیس کا فرق واضح ہوتا ہے، یہاں عجز ہے، اعتراف گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کا اظہار اور بخشش کی درخواست ہے، وہاں تکبر ہے، اپنے گناہ پر اصرار ہے، آئندہ مزید نافرمانی کے ارادے کا اظہار ہے اور مہلت کی درخواست ہے۔ اسی طرح یہاں پاک فطرت ہونے کی بنا پر قسم کی وجہ سے دشمن پر بھی اعتبار ہے، وہاں حسد کی وجہ سے بےگناہوں سے بھی دشمنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی دیکھیے کہ دوست کی دعا بھی قبول اور دشمن کی بھی۔ یقیناً اس میں اس پاک پروردگار کی بیشمار حکمتیں تھیں۔
Ayah 7:24قَالَ اهْبِطُوْا۔۔ : ”َمَتَاعٌ“ یعنی عارضی لذتیں اور فائدے، تنوین تنکیر سے معلوم ہوا کہ وہ بھی چند۔ مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ آیت (36) کے فوائد۔
Ayah 7:25قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے زندگی میں جائے سکونت قرار دیا ہے، پھر مرنے کے بعد بھی اسی میں دفن ہوں گے اور قیامت کے دن بھی اسی سے زندہ ہو کر نکلیں گے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (55)۔
Ayah 7:26يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا : یعنی آسمان سے پانی اتارا، جس سے روئی اگتی ہے، ریشم اور پشم کا سامان مہیا ہوتا ہے، پھر تمہیں زراعت، شجرکاری، حیوان پروری، کپڑا بننے اور دوسری چیزیں بنانے کا طریقہ سکھا دیا۔ راغب نے فرمایا کہ یہاں ”اَنْزَلَ“ بمعنی ”خَلَقَ“ ہے، جیسے : (وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ) [ الحدید : 25 ] ”اور ہم نے لوہا اتارا۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے، پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔“ (موضح)
يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۭ: یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ سے بھی بچانے کے باعث بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ) [ النحل : 81 ] ”اور اس نے تمہارے لیے کچھ قمیص بنائیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمہیں تمہاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔“
وَلِبَاس التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ ۭ: یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بدن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنوی لباس بھی ہے جو ہر لباس سے بہتر ہے، لہٰذا تمہیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیزگاری، یعنی اللہ کا خوف، ایمان اور عمل صالح کا لباس۔ بعض نے کہا ہے کہ ”ۭوَلِبَاس التَّقْوٰى ۙ“ سے مراد اون کھدر وغیرہ کی قسم کا کھردرا اور موٹا لباس ہے، جسے صوفی لوگ پہنتے ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، خود رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین، جن کی پرہیزگاری بےمثال تھی، عمدہ لباس بھی پہنا کرتے تھے اور وسعت کے باوجود سادہ لباس بھی پہنتے تھے۔ بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (قرطبی۔ روح المعانی) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پہنا جائے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیزگاری ہو، یعنی مرد ریشمی (اور زعفرانی رنگ کا) لباس نہ پہنے، دامن لمبا نہ رکھے جو ٹخنوں کو ڈھانک لے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک (یا تنگ) لباس نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھائے۔
لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ : تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی اس بڑی نعمت کی قدر کریں، یا نصیحت حاصل کریں اور برے کاموں سے بچیں۔
Ayah 7:27يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ۔۔ : شیطان کی کوشش یہ ہے کہ تم جنت میں نہ جانے پاؤ، جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، اس کے لیے وہ بےپردگی کو اور بےلباس ہونے کو عام کرتا ہے، تاکہ بےحیائی اور بدکاری پھیل جائے۔ دیکھنا کہیں اس فتنے میں مبتلا ہو کر جنت سے محروم نہ ہوجانا۔
ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ۔۔ : یعنی ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے جو ہمیں دیکھے مگر ہم اسے دیکھ نہ پائیں۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگرچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا قبیلہ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم انھیں نہیں دیکھتے ہوتے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں۔ یہ ”قَضْیَۃٌ مُطْلَقَۃٌ لاَ دَاءِمَۃٌ“ ہے، لہٰذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن ہے۔ احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو دیکھا ہے۔ (فتح القدیر) اور زکوٰۃِ رمضان کی نگرانی کے قصے میں مذکور ہے کہ ابوہریرہ ؓ مسلسل تین راتیں ایک جن کو پکڑتے رہے۔ [ بخاری : 23111 ] اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس ایک سرکش جن آگیا، اگر میرے بھائی سلیمان (ؑ) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر ستون سے باندھ دیتا اور صبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“ [ مسلم : 541۔ بخاری : 461 ] سلیمان ؑ کے پاس تو باقاعدہ جنوں کی قوم تھی۔ [ النمل : 17 ] اب رہا امام شافعی ؓ کا یہ فرمانا کہ جو شخص جنات کو دیکھنے کا دعویٰ کرے، اس کی شہادت مردود ہے، تو شاید ان کا مطلب یہ ہو کہ انھیں ان کی اصل شکل پر دیکھنے کا دعویٰ کرے، ورنہ احادیث سے ثابت شدہ بات مقدم ہے۔
Ayah 7:28وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً۔۔ : یہاں ”فَاحِشَۃٌ“ اور ”فَحْشَاءُ“ سے مراد وہ عبادات ہیں جو انھوں نے از خود ایجاد کرلی تھیں، مثلاً ان کے مرد اور عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتے کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان میں طواف کیسے کریں ؟ اس کے علاوہ اس آیت میں مشرکین کے اپنی بےحیائی اور بدکاری پر قائم رہنے کے دو عذر بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یعنی اپنے بڑوں کو ایسا کرتے ہوئے پانے کی چونکہ درست تھی اس لیے یہاں اس کی نفی نہیں کی گئی۔ ہاں دوسری کئی آیات میں بتایا گیا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل نہیں ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (170) اور سورة مائدہ (104)۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی سن چکے کہ باپ نے شیطان کا فریب کھایا، پھر باپ کی سند کیوں لاتے ہو ؟“ (موضح) رہا دوسرا عذر تو چونکہ بطور واقعہ بھی غلط تھا اور بطور دلیل بھی، اس لیے یہاں اس کی تردید فرمائی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ جب انبیاء کی زبان سے ان کاموں کا برا اور قبیح ہونا ثابت ہوچکا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی بےحیائی کا حکم دے۔ (رازی)
اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کو بھی سخت تنبیہ ہے جو محض باپ دادا کی رسموں کو دین سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کو ثواب سمجھتے ہیں اور ان مقلدین کے لیے بھی جو امام پرستی، شیخ پرستی یا کسی بھی شخصیت پرستی میں گرفتار ہیں، جب بھی انھیں حق کی بات دلیل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اور وہ لاجواب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو کیا اس کا علم نہ تھا ؟ کیا وہ جاہل تھے ؟ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں، ہم بھی اسی پر قائم رہیں گے۔ یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعت پر قائم رہے۔
Ayah 7:29قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بالْقِسْطِ ۣ: لہٰذا تم اس کی پیروی کرو۔ یہاں ”اَلْقِسْطُ“ (انصاف) سے مراد توحید ہے، پھر بےحیائی اور بدکاری سے بچنا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک ہے، فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ پھر کسی انسان کی جان، مال یا آبرو برباد کرنا بڑا ظلم ہے اور سب سے بڑا انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید کی شہادت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ ۭ) [ آل عمران : 18 ] ”اللہ نے گواہی دی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“
ۣوَاَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ : ”ِ مَسْجِدٍ“ سے مصدر میمی، ظرف زمان اور ظرف مکان تینوں مراد ہوسکتے ہیں۔ مصدر میمی ہو تو اس کا معنی سجدہ بھی ہے اور نماز بھی، جیسے ”رَکْعَۃٌ“ کا معنی رکوع بھی ہے اور نماز میں قیام، رکوع، قومہ، سجدہ اور قراءت وغیرہ کے مجموعہ کو بھی ”رَکْعَۃٌ“ کہا جاتا ہے اور سجدہ بھی اور قیام بھی۔ یعنی جز بول کر کل مراد لیا جاتا ہے، تو معنی ہوگا ہر نماز میں۔ اگر مراد زمان ہو تو ہر سجدے یا نماز کے وقت اور مکان ہو تو ہر سجدے یا نماز کی جگہ اپنے رخ سیدھے کرلو، یعنی قبلہ کی طرف، یا جیسے اللہ کے رسول نے حکم دیا ہے اس طرح اپنے چہروں، یعنی اپنے آپ کو سیدھا کرلو اور ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نماز پڑھو۔
وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڛ : ”الدِّيْن“ کا معنی یہاں عبادت ہے، یعنی خالصتاً اس کی عبادت کرو اور اس کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو، مراد ریا سے بچنا ہے۔ الغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ جو عبادت شرک یا ممنوع چیزوں، مثلاً ننگے ہونے یا ریا وغیرہ پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ (رازی) خلاصہ یہ کہ ہر عبادت کے لیے توحید، اتباع رسول اور اخلاص (ریا سے پاک ہونا) تینوں چیزیں ضروری ہیں، ورنہ وہ مردود ہوگی۔
كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ : یعنی جس طرح تم پہلے کچھ نہ تھے، اللہ نے کسی مشکل کے بغیر تمہیں پیدا فرمایا، اسی طرح تمہارے مرجانے کے بعد وہ تمہیں دوبارہ نہایت آسانی سے زندہ کر دے گا اور جس طرح تم پیدا ہوئے تو تمہارے پاس کچھ نہ تھا اور بغیر ختنے اور لباس کے تھے، ایسے ہی دوبارہ زندہ ہوتے وقت ہو گے۔
Ayah 7:30فَرِيْقًا هَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ : ایک گروہ، یعنی مومنوں کو اس نے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق بخشی اور ایک گروہ، یعنی کافروں پر گمراہی ثابت ہوچکی۔
اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ۔۔ : یعنی ان پر ضلالت اس لیے ثابت ہوئی کہ وہ شیاطین کے کہنے پر چلتے رہے اور سمجھتے یہ رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔
Ayah 7:31خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ۔۔ : زینت سے مراد لباس ہے، یعنی طواف اور نماز میں پردے کی چیزوں کو چھپانا فرض ہے، مرد کے لیے کمر سے گھٹنوں تک (اور نماز میں اس کے ساتھ کندھے پر کچھ لباس کا ہونا) اور عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن۔ باریک کپڑا جس سے بدن اور بال نظر آئیں معتبر نہیں، یعنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ (موضح) البتہ جمعہ کے دن خاص طور پر غسل، خوش بو اور اپنے بہترین لباس پہننے کا حکم دیا۔ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے۔ عید الفطر اور عید الاضحی سالانہ عیدیں ہیں، ان میں تو بدرجہ اولیٰ اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عورت بیت اللہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی اور کہتی کہ کون مجھے طواف کے لیے کپڑا دے گا، اس کو وہ شرم گاہ پر ڈال لیتی اور کہتی :
اَلْیَوْمَ یَبْدُوْ بَعْضُہٗ أَوْ کُلُّہٗ
وَمَا بَدَا مِنْہُ فَلَا اُحِلُّہٗ
”آج اس کا کچھ حصہ یا سارے کا سارا ظاہر ہوجائے گا اور اس میں سے جو ظاہر ہوگا میں اسے حلال نہیں کروں گی۔“ [ مسلم، التفسیر، باب فی قولہ تعالیٰ : (خذوا زینتکم عند کل مسجد) : 3028 ] کئی مرد بھی ننگے طواف کرتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے اس حج (یعنی 9 ہجری) میں، جس میں رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع سے پہلے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا، مجھے قربانی کے دن چند آدمیوں کے ہمراہ بھیجا کہ میں لوگوں میں اعلان کر دوں کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کرے گا۔ [ بخاری، الحج، باب لا یطوف بالبیت عریان۔۔ : 1622 ]
وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ: جب اوپر کی آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا، تو دوسری چیزوں کے ساتھ لباس اور کھانے پینے میں بھی ”قسط“ کا حکم ہوگیا، اس لیے ان میں بھی اسراف سے منع فرما دیا۔ (کبیر) اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرا لے، جیسا کہ مشرکین کرتے تھے، یا اہل تصوف کرتے ہیں، یا حلال سے تجاوز کر کے حرام کھائے یا حرام کام میں خرچ کرے کہ یہ تھوڑا بھی اسراف ہے۔ اسراف، یعنی حد سے نکلنا کسی بھی چیز میں ناپسندیدہ ہے، خصوصاً کھانے پینے میں بےاحتیاطی تو اکثر بیماریوں کی جڑ اور دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا : ”کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔“ [ بخاری، اللباس، باب قول اللہ تعالیٰ : (قل من حرم زینۃ اللہ التی۔۔) قبل ح : 5783، تعلیقًا ] جابر بن سلیم ؓ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اور اپنی تہ بند پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور تہ بند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [ أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء فی إسبال الأزار : 4084۔ ترمذی : 1783 و صححہ الألبانی ] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا کھینچے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ [ بخاری، اللباس، باب قول اللہ تعالیٰ : (قل من حرم زینۃ اللہ التی۔۔) : 5783، عن ابن عمر ] معلوم ہوا صرف تہ بند ہی نہیں کوئی بھی کپڑا جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر اور حرام ہے، بےاختیار یا بےدھیانی میں لٹک جائے تو الگ بات ہے۔
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ”ابن آدم نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، اگر ضرور ہی کھانا ہے تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔“ [ أحمد : 4؍132، ح : 17191۔ ترمذی : 2380، صحیح ] ہاں زیادہ دیر کا بھوکا ہو تو زیادہ کھا سکتا ہے، جیسا کہ احادیث سے بعض مواقع پر ثابت ہے۔
Ayah 7:32قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں ”َ زِيْنَةَ اللّٰهِ“ سے عمدہ لباس اور وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن سے انسان کو حسن و جمال حاصل ہوتا ہے اور ”َالطَّيِّبٰتِ“ سے عمدہ قسم کے لذیذ کھانے مراد ہیں۔ اس آیت میں ان لوگوں کی سخت تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے ترک استعمال کو درویشی سمجھتے ہیں اور گھٹیا قسم کا کھانا کھانے اور لباس پہننے ہی کو بڑی نیکی سمجھتے ہیں اور ان صوفیوں کی بھی تردید ہے جو خود ساختہ وظیفے بتانے کے ساتھ ہی ہر جان دار کا اور جان دار سے حاصل ہونے والی چیز، مثلاً دودھ، گھی اور شہد کا کھانا منع کردیتے ہیں اور اسے ترک حیوانات جلالی و جمالی کا نام دے رکھا ہے جو دراصل ہندو سادھوؤں اور جوگیوں کا مذہب ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔“ [ ترمذی، الأدب، باب ما جاء أن اللہ یحب۔۔ : 2819، و صححہ الألبانی ] شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی منع کام میں خرچ نہ کرے، باقی کھانا پینا سب روا ہے، جو نعمت ہے مسلمان کے واسطے پیدا ہوئی ہے، دنیا میں کافر بھی شریک ہوگئے، آخرت میں صرف انھی کے لیے ہے۔“ مزید دیکھیے سورة احقاف (20)۔
Ayah 7:33قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ۔۔ : اوپر کی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں حرام کر رکھی تھیں، اب اس آیت میں اصل حرام چیزوں کو بیان فرما دیا۔ (رازی) ”الْفَوَاحِشَ“ یہ ”فَاحِشَۃٌ“ کی جمع ہے اور انتہائی قبیح فعل کو کہتے ہیں۔ ”َالْاِثْمَ“ سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی ”اِثْمٌ“ کہہ لیتے ہیں اور ”وَالْبَغْيَ“ کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں۔ الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں اور وہ بھی ”انما“ کلمۂ حصر کے ساتھ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں ہے، حالانکہ بہت سی دوسری اشیاء کی حرمت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے۔ رازی ؓ فرماتے ہیں کہ دراصل جنایات (جرائم، قصور، زیادتیاں) پانچ ہی قسم کی ہیں، پہلی نسب پر جنایت ہے، اس کا سبب زنا (اور اس سے ملتی جلتی چیزیں) ہے۔ ”الْفَوَاحِشَ“ سے یہی مراد ہے۔ دوسری عقل پر جنایت جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے ہیں اور ”َالْاِثْمَ“ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ تیسری عزت پر جنایت، چوتھی جان و مال پر جنایت اور ”َالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ“ میں ان دونوں کی حرمت کی طرف اشارہ ہے۔ پانچویں دین پر جنایت اور یہ دو قسم کی ہے : 1 توحید میں طعن کرنا جس کی طرف (وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ) سے اشارہ فرمایا ہے۔ 2. اور بغیر علم کے اللہ کے ذمے بات لگانا اور فتویٰ دینا جس کی طرف (َّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) سے اشارہ فرمایا ہے۔ غرض کہ تمام جرائم اور جنایات میں یہ پانچ اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کی شاخیں اور ان کے تحت آنے والی چیزیں ہیں، اس بنا پر ”اِنَّمَا“ کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔ (کبیر) یاد رہے کہ اللہ کے ذمے بات لگانے میں رسول اللہ ﷺ کے ذمے بات لگانا بھی شامل ہے کیونکہ وہ اللہ ہی کی بات ہے، اسی لیے جو جان بوجھ کر ان پر جھوٹ لگائے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ رازی ؓ کے جواب کے لاجواب ہونے میں شک نہیں، مگر ایک سادہ جواب یہ ہے کہ ”الاثم“ میں ہر گناہ آجاتا ہے، اس لیے ”اِنَّمَا“ کے ساتھ حصر پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔
Ayahs 7:34–36وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ۔۔ : پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، دوسری آیت میں بتایا کہ جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہوگا، مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں آدم ؑ کے قصے کے آخر میں بھی مذکور ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (36)۔
Ayah 7:37فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : اس کا تعلق اوپر کی آیت : (وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) سے ہے، یعنی یہ دو قسم کے لوگ تو بہت ہی بڑے ظالم ہیں، پہلی قسم میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے یا اللہ کا شریک بنانے والے، یا اللہ تعالیٰ کی طرف کسی حکم کی جھوٹی نسبت کرنے والے، (اس میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرنے والے بھی شامل ہیں) اور دوسری قسم میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو قرآن کے کتاب الٰہی ہونے سے انکار کرتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب ”لوح محفوظ“ میں ان کا جو حصہ عمر، رزق، راحت یا رنج وغیرہ کا لکھا ہے وہ انھیں ملے گا اور ان کے ظلم اور بدکاری کے باوجود اس میں کمی نہیں کی جائے گی کہ شاید توبہ کرلیں، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو انھیں ڈانٹتے ہوئے کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ وہ تو ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ واقعی وہ کافر تھے۔ یہ آیت صریح نص ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارنا، اس سے مدد مانگنا، فریاد کرنا، استغاثہ کرنا، اسے غوث یا مشکل کشا کہنا یا سمجھنا کفر ہے، خواہ وہ اللہ کے سوا کتنی بڑی ہستی کوئی فرشتہ یا رسول یا ولی ہو۔ قیامت کے دن وہ حضرات ان کو منہ بھی نہیں دکھائیں گے اور اللہ کے سوا کسی کو پکارنے والے خود اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ واقعی ہم کافر تھے اور ایمان سے محروم تھے۔ ایک دفعہ غیر اللہ کو پکارنے والوں سے گفتگو کے موقع پر مولانا احمد دین گکھڑوی ؓ نے ندائے غیر اللہ کے کفر ہونے کی دلیل کے لیے یہ آیت پڑھی اور آخر گفتگو تک اسی پر قائم رہے۔ غیر اللہ کو پکارنے والوں میں سے کوئی بھی اس آیت کا جواب نہیں دے سکا تھا۔ افسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسی واضح آیات کے ہوتے ہوئے مسلمان کہلانے والے بعض علماء اور ان کے پیروکار غیر اللہ کو پکارتے ہیں، ان سے مدد طلب کرتے ہیں، کوئی ”یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ! اَغِثْنِیْ“ کہتا ہے، کوئی یا علی مدد کہتا ہے، کوئی شیخ عبد القادر کو مدد کے لیے پکارتا ہے، پھر بھی ایسے لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور موحدین کو کافر قرار دیتے ہیں۔ بہرحال قیامت کچھ دور نہیں ہے۔
Ayah 7:38قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ۔۔ : اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ پہلے ہوں گے، کچھ بعد میں جائیں گے۔ (رازی)
كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ: ”اُخْتٌ“ کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہوگی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اللہ والے دوسرے مشرکین اور غیر اللہ کو پکارنے والوں پر۔
حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ ”ادَّارَكُوْا“ اصل میں ”تَدَارَکُوْا“ ہے، یعنی ایک دوسرے کو آ ملیں گے۔
قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ : یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں، یا پیروی کرنے والے عوام اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے بارے میں کہیں گے۔
رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا۔۔ : یعنی ہم تو اپنے ان پہلوں کی تقلید میں یا انھی کی باتوں میں آ کر ایمان کے بجائے شرک و بدعت اور منکرات کی راہ پر چلتے رہے، ہمیں گمراہ کرنے والے یہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة احزاب (67، 68)۔
لِكُلٍّ ضِعْفٌ : ہر ایک کے لیے ایک عذاب کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اگر خود گمراہ ہوئے تو پچھلوں نے ان کا کہا مانا اور خود غور و فکر نہ کیا، لہٰذا دونوں مجرم ہوئے۔ اور دگنا عذاب ہونے کی وجہ یہ کہ پہلوں نے انھیں گمراہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کیا، لہٰذا دونوں دگنے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔ رازی نے لکھا ہے کہ جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا اور ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہوجائے گا، اس اعتبار سے ہر ایک کے لیے ”ضعف“ ”دو گنا“ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (88)۔ دونوں گروہوں کا ایسا ہی مکالمہ سورة سبا (31، 32) میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 7:39فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ : یعنی اگر ہم مجرم و بدکار تھے تو تمہارا حال ہم سے کون سا بہتر تھا، تم نے بھی اپنی مرضی سے کفر کی روش اختیار کی اور اگر ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا تو تم نے بھی کتنے لوگوں کا بیڑا غرق کیا، اب تمہیں ہم پر کون سی برتری حاصل رہی ؟
Ayah 7:40اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : یہ پچھلی آیت میں مذکور وعید ”پس چکھو عذاب۔۔“ کی کچھ تفصیل ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں ان دروازوں کا ذکر موجود ہے۔ دروازے نہ کھولے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال اور دعا کے اوپر جانے کے لیے دروازے نہیں کھلتے اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، جیسا کہ مومن کی روح کے اوپر چڑھنے کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ براء بن عازب ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث کے ضمن میں ہے کہ مومن کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اس کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور فرشتے مرحبا کہہ کر اس کا استقبال کرتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ساتویں آسمان پر چلی جاتی ہے، مگر جب کافر کی روح آسمان تک پہنچتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔) [ مسند أحمد : 4؍288، ح : 18561 ]
حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭ: یہ ایک محاورہ ہے جو ایسے کام کے لیے بولا جاتا ہے جس کا ہونا ممکن ہی نہ ہو۔ نہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں۔