Ayah 7:41لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ۔۔ : ”غواش“ یہ ”غَاشِیَۃٌ“ کی جمع ہے، ڈھانپنے والے، یعنی نیچے اور اوپر آگ ہوگی۔ دیکھیے سورة عنکبوت (54، 55) ”الظّٰلِمِيْنَ“ سے مراد یہاں مشرک ہیں، کیونکہ آیات کو جھٹلانا اور ان سے تکبر کرنا مسلمان کا کام نہیں۔
Ayah 7:42لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ: یہ جملہ کہ ”ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے“ جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔“ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ : 7288، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Ayah 7:43وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ : ابوہریرہ ؓ سے مروی اہل جنت کے اوصاف میں ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہوگا نہ باہمی بغض۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ : 3246 ]
دنیا میں اگر ان کے درمیان کوئی بغض تھا تو وہ صاف ہونے کے بعد جنت میں داخلہ ہوں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر وہ ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص لیں گے جو دنیا میں ان سے ہوئیں یہاں تک کہ جب وہ تراش خراش کروا کر بالکل صاف ستھرے ہوجائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ [ بخاری، المظالم، باب قصاص المظالم : 6535، عن أبی سعید
الخدری ؓ ] سینوں میں موجود کینے میں صحابہ کرام اور تابعین عظام کی باہمی رنجشیں بھی شامل ہیں، جو دنیا میں سیاسی یا دوسری وجوہات کی بنا پر پیدا ہوئیں۔
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا۔۔ : یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا ہوئی، پھر انھیں قبولیت کا شرف حاصل ہوا، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور اس کا فضل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔
اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : یہ باء سببیہ ہے، باء عوض نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ یہ جنت میرے فضل سے تمہارے کسی عوض یا قیمت اداکیے بغیر تمہیں بطور ہبہ دی جا رہی ہے، جیسا کہ میراث بغیر کسی عوض کے دی جاتی ہے اور تمہاری اس عزت افزائی کا سبب دنیا میں تمہارے اعمال صالحہ ہیں۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : ”تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟“ فرمایا : ”نہیں، مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ [ بخاری، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل : 6463، 6464 ] آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت انسانی اعمال کی بنیاد پر ہوگی، یعنی اس کے اعمال صالحہ ہی رحمت کا سبب بنیں گے۔ دیکھیے سورة بقرہ (218)
Ayah 7:44وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ۔۔ : جنتی جہنمیوں کی حسرت و ندامت بڑھانے کے لیے اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے اور انتقام لینے کے لیے ان سے یہ باتیں کہیں گے : (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ , عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ) [ المطففین : 34 تا 36 ] ”سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں، تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں، کیا کافروں کو اس کا بدلہ دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے ؟“ بالکل یہی الفاظ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مشرک مقتولین سے کہے تھے، چناچہ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم دیا، تو انھیں بدر کے ایک نہایت گندے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ تیسرے دن آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہو کر اس کی طرف چلے، کنویں کے کنارے پر جا کھڑے ہوئے، آپ کے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے انھیں ایک ایک کا نام لے کر پکارنا شروع کیا : ”اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی ؟ کیونکہ ہم نے تو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا سچا پا لیا، تو کیا تم نے بھی جو وعدہ تمہارے رب نے کیا تھا سچا پا لیا ؟“ تو عمر ؓ نے کہا : ”آپ ایسے لاشوں سے بات کر رہے ہیں جن میں جان ہی نہیں۔“ فرمایا : ”تم ان سے زیادہ وہ بات نہیں سن رہے جو میں انھیں کہہ رہا ہوں۔“ قتادہ نے کہا کہ اللہ نے انھیں زندگی دی، یہاں تک کہ انھیں آپ کی بات ڈانٹنے، ذلیل کرنے، انتقام اور حسرت و ندامت کے لیے سنوا دی۔ [ بخاری، المغازی، باب قتل أبی جہل : 3976 ]
Ayah 7:45الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کے راستے (اسلام) میں کجی تلاش کرتے ہیں اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں، یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی راہ نہیں، صحیح راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔
وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ : یعنی وہ ظالم جن میں یہ تین صفات ہوں گی کہ وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اللہ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت کی ہے، ورنہ ہر فاسق پر لعنت نہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بےانصاف (ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ وہ بےدریغ ہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا ارتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔
Ayah 7:46وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ: جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ) [ الحدید : 13 ] یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی، جس کے اندر کی طرف اللہ کی رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب۔ شاہ ولی اللہ ؓ فرماتے ہیں : ”وآں مسمی ب اعراف است۔“ یعنی اس دیوار کو ”اعراف“ کہا جاتا ہے۔ (فتح الرحمن)
وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ: ”الْاَعْرَافِ“ یہ ”عُرْفٌ“ کی جمع ہے اور لغت میں ”عَرَفَ یَعْرِفُ مَعْرِفَۃً“ پہچاننے کو اللہ ”عُرْفٌ“ بلند جگہ کو کہتے ہیں، کیونکہ بلند چیز ممتاز ہونے کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاتی ہے اسی سے مرغ کی کلغی اور گھوڑے کی گردن کے بلند حصے کے بالوں کو ”عُرْفٌ“ کہتے ہیں، کیونکہ بلندی کی وجہ سے وہ پہچان میں ممتاز ہوتے ہیں، لہٰذا ”الاعراف“ سے مراد جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان دیوار کی بلندیاں ہیں، جہاں ٹھہرنے والوں کو ایک طرف جنتی اور دوسری طرف جہنمی لوگ نظر آئیں گے، اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں۔
يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ: ”سِیْمَا“ کا معنی نشانی ہے، مثلاً جنتیوں کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے اور جہنمیوں کے کالے سیاہ، یا امت محمد ﷺ کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے۔ ”الاعراف“ میں کون لوگ ہوں گے، اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ قرطبی نے دس قول ذکر کیے ہیں، ان میں سب سے مشہور قول جسے جمہور مفسرین نے کثرت روایات کی بنا پر ترجیح دی ہے، یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس لیے وہ بیچ میں دیوار پر ہوں گے۔ اس کا ایک قرینہ یہ جملہ بھی ہے : (ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ) ”وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کی طمع رکھتے ہوں گے۔“
وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ : یعنی جنت میں جانے کی امید رکھتے ہوں گے، اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اعراف والے ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر امید رکھتے ہوں گے کہ انھیں آئندہ جنت نصیب ہوگی۔ دوسرے یہ کہ اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جن کا جنتی ہونا ان کی علامات دیکھ کر معلوم ہوجائے گا، حالانکہ وہ ابھی حساب کتاب میں مشغول ہونے کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
ابن کثیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب الاعراف کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ وہ لوگ ہیں جو نافرمانی کرتے ہوئے ماں باپ کی اجازت کے بغیر چلے گئے اور اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے، اب انھیں جنت میں داخلے سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور آگ میں داخل ہونے سے انھیں اللہ کی راہ میں قتل ہونے نے روک دیا۔“ حافظ ابن کثیر ؓ نے ان روایات کے غیر معتبر ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ فرمایا کہ مرفوع روایات کی صحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور ابن کثیر کی تخریج ”ہدایۃ المستنیر“ میں ان تمام روایات کا غیر معتبر ہونا تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
Ayah 7:47وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ : ”صُرِفَت“ مجہول کا صیغہ ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اعراف والے جنتیوں کی طرف تو شوق اور رغبت سے دیکھیں گے اور انھیں سلام کریں گے، مگر جہنمیوں کی طرف خود نگاہ اٹھانا بھی پسند نہیں کریں گے، بلکہ ان کی نگاہیں ان کی طرف پھیری جائیں گی تاکہ انھیں عافیت کی قدر معلوم ہو۔ (المنار)
مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : یعنی جہاں وہ اب ہیں یا آئندہ ہوں گے۔
Ayah 7:48يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ : کہ یہ جہنمی ہیں، یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔
مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن اہل نار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : ”اے ابن آدم ! تو نے کبھی کوئی آرام دیکھا تھا ؟“ وہ کہے گا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اے میرے رب !“ [ مسلم، صفات المنافقین واحکامہم، باب صبغ أنعم أہل الدنیا
فی النار۔۔ : 2807 ]
Ayah 7:49اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ : قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی ﷺ کے پاس غریب و نادار مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ان لوگوں کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ اب اعراف والے جہنم میں ان لوگوں کو پہچان کر جو نادار مسلمانوں سے اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے، کہیں گے کہ دیکھو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا، دیکھ لو ! اب یہ وہی ہیں جنھیں کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔
Ayah 7:50اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : جیسا کہ پہلے گزرا کہ جنت کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے خالص ہوں گی، جنتی انھیں جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور رزق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردیا ہے، لہٰذا ہم تم سے کوئی ہمدردی کا سلوک کر کے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اصحاب اعراف کے جنت میں داخل ہونے کے بعد کفار، یعنی جہنمی لوگ یہ فریاد کریں گے۔ (شوکانی)
Ayah 7:51فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ۔۔ : آیت کے شروع میں کافروں کی علامات بیان کی گئی ہیں جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیوی زندگی کی فراوانی اور خوشحالی نے آخرت کے بارے میں دھوکے میں رکھا اور انھوں نے آخرت کو بھلا دیا اور اسی نسیان کے نتیجے میں انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے ملے گا اور فرمائے گا : ”اے فلاں ! کیا میں نے یہ نہیں کیا کہ تجھے عزت بخشی ؟ تجھے سردار بنایا ؟ تیری شادی کی ؟ تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ تابع کردیے اور تجھے کھلا چھوڑ دیا کہ لوگوں کا سردار بنے اور ان کی آمدنی کا چوتھا حصہ ٹیکس لے ؟“ وہ کہے گا : ”کیوں نہیں، اے میرے رب !“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”تو تو نے یقین کیا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے ؟“ وہ کہے گا : ”نہیں !“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”پھر میں بھی تجھے بھلا رہا ہوں جیسے تو نے مجھے بھلا دیا۔“ [ مسلم، الزہد والرقائق، باب الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر : 2928، عن أبی ہریرہ ؓ ] یہاں نسیان کا معنی چھوڑ دینا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بھولتا ہی نہیں، فرمایا : (لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى) [ طٰہٰ : 52 ] ”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں ڈال کر ان کی کوئی خبر نہیں لیں گے۔ یہاں بھلانے کے بدلے کو بھلانا فرمایا ہے، یعنی خواہ کتنا ہی پکاریں ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ: معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے اور آیات الٰہی کا انکار کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو آخرت اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
Ayah 7:52وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ۔۔ : یعنی یہ کفار یہ عذر نہیں کرسکتے کہ ہمیں معلوم نہ تھا، کیونکہ ہم نے ان کی طرف یہ کتاب بھیج کر ہر بات کھول کر بیان کردی تھی اور ہمارا طریقہ ہی نہیں کہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب دیں، فرمایا : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“
Ayah 7:53هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ: تاویل کا معنی کسی چیز کی اصل حقیقت یا اس کا انجام ہے۔ اس میں جھٹلانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ قرآن میں جس عذاب (دنیوی یا اخروی) کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، کیا وہ اس کے پیش آنے کا انتظار کر رہے ہیں ؟
يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ۔۔ : شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی۔ ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے (درست نکلے) تب قبول کرلیں۔ سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاصی کہاں ملے گی۔ خبر اس لیے ہے کہ آگے (پہلے) سے بچاؤ پکڑیں۔“ (موضح) یعنی جس انجام کے یہ منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد حق کا اعتراف یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب چیزیں بےفائدہ ہوں گی، وہ معبود بھی ان سے گم ہوجائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کرسکیں گے نہ سفارش اور نہ جہنم کے عذاب سے چھڑا سکیں گے۔
Ayah 7:54اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ان چھ دنوں سے مراد دنیا کے چھ دن تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ ان کا وجود سورج اور زمین سے ہے اور اس وقت سورج تھا نہ زمین۔ اب یا تو مراد ہزار سال کا وہ دن ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہا : (وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) [ الحج : 47 ] ”اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو“ یا چھ ادوار مراد ہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (10) صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الاحد (اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوئی اور جمعہ کے دن پوری ہوگئی۔ (ابن کثیر۔ المنار) اللہ تعالیٰ چاہتا تو لفظ ”کُنْ“ سے ایک لمحے میں سب کچھ پیدا فرما دیتا، مگر اس کی حکمت کا تقاضا اسی طرح کرنے کا تھا جو اس نے کیا۔ بعض اہل علم نے اس سے اپنے کام بالتدریج کرنے کا استنباط فرمایا ہے۔
ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ : آیت کا یہ جملہ قرآن میں سات مقامات پر آیا ہے۔ آٹھویں جگہ سورة طہ (5) میں (اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى) ہے۔ اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں۔ سلف صالحین نے بلا تاویل اللہ تعالیٰ کو عرش پر تسلیم کیا ہے، چناچہ منقول ہے کہ ”استواء“ کے معنی تو معلوم ہیں، مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے بالا ہے، اس کا اقرار عین ایمان ہے اور انکار کفر ہے۔ یہی مذہب چاروں اماموں کا ہے۔ پس صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے، تاہم اس کا علم و قدرت سب پر حاوی ہے۔ اہل السنہ کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا : یعنی رات کے بعد دن تیزی سے پہنچ جاتا ہے، کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔
مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور بال برابر اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتے۔
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ: یعنی جس طرح خلق (پیدا کرنے) میں اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح حکم بھی اسی کا ہے، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، خواہ تکوینی حکم ہو جو ساری کائنات میں چلتا ہے، یا تشریعی، یعنی شریعت کا قانون جو اس نے اپنے بندوں کو ایک حد تک اختیار دے کردیا ہے اور جس پر عمل کے مطابق جنت یا جہنم کی جزا یا سزا ملے گی۔
Ayahs 7:55–56اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً : ان دو آیات میں چار حکم ہیں، پہلا یہ کہ دعا عاجزی سے گڑ گڑا کر اور خشوع سے ہونی چاہیے اور دعا تنہائی میں کرنا مستحب اور بہتر ہے، کیونکہ اس سے ریا کو راستہ نہیں ملتا اور اخلاص میں خلل نہیں آتا۔
اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ : دوسرا یہ کہ حد سے بڑھنا اللہ تعالیٰ کو کسی صورت پسند نہیں۔ اس میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی پر ظلم کرنا بھی شامل ہے اور ایسی چیز کی دعا کرنا جو ناممکن ہو، مثلاً میں ہمیشہ زندہ رہوں، یا مجھے آخرت میں انبیاء کا مرتبہ حاصل ہوجائے، یا ایسی چیز کی دعا کرنا جس کے متعلق علم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا مانگنا پسند ہے، جیسے نوح ؑ کی اپنے بیٹے کے لیے دعا بھی حد سے تجاوز تھا۔ اسی طرح چیخنا چلاتا اور مسنون دعائیں چھوڑ کر مقفی و مسجع کلام اور اشعار وغیرہ بھی حد سے تجاوز میں شامل ہیں۔ (شوکانی) ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ سفر کے دوران میں ہماری آوازیں تکبیر اور لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ بلند ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”لوگو ! اپنے آپ پر نرمی کرو (یعنی ذرا آہستہ پکارو) ، کیونکہ تم کسی گونگے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ جسے پکار رہے ہو وہ سننے والا ہے اور قریب بھی۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ
من رفع الصوت فی التکبیر : 2992، 6389 ]
وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا : تیسرا یہ کہ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کے کام مت کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور گناہوں کا ارتکاب ہی ”فساد فی الارض“ ہے، فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ) [ الروم : 41 ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“
وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا : چوتھا یہ کہ دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو اور دل میں دعا کی قبولیت کی طمع بھی، اسی طرح جہنم سے خوف بھی ہو اور جنت کی طمع بھی۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی اللہ پر دلیر مت ہو اور ناامید بھی مت ہو۔“ طمع میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ انسان دعا کے بعد مایوس نہ ہو، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے اور جلدی یہ ہے کہ کہے میں نے اپنے رب سے دعا کی، مگر اس نے قبول نہ کی۔“ [ بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل : 6340 ]
کئی صوفیا کہتے ہیں کہ دعا کسی طمع اور خوف کے بغیر محض رب کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، حتیٰ کہ ان میں سے بعض نے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ جنت کو جلا دوں اور جہنم کو بجھا دوں، تاکہ لوگ کسی خوف اور طمع کے بغیر اللہ کو یاد کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ بس اللہ تعالیٰ مجھ پر راضی ہوجائے، پھر خواہ مجھے جنت میں بھیج دے یا جہنم میں پھینک دے۔ یہ بات کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگتے اور جہنم سے پناہ مانگتے تھے۔ زیر تفسیر آیت بھی اس نظریے کے خلاف ہے اور دیگر بہت سی آیات بھی، مثلاً : (يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا) [ السجدۃ : 16 ] ”وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔“ درحقیقت یہ بات اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے بعض لوگوں نے جنت اور جہنم کو بےوقعت ٹھہرانے کے لیے بنائی ہے۔ جنت کی طمع اور جہنم سے خوف کوئی الگ چیز نہیں ہے، بلکہ جنت اللہ کی رضا ہی سے حاصل ہوگی اور جہنم بھی اسی کے غضب کا نتیجہ ہے جس سے بچنا بھی اس کی رضا ہی سے ممکن ہوگا۔
اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ : اس میں ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اصل حق دار وہی ہیں جو احسان کرنے والے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری بہتر سے بہتر انداز میں بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اعمال صالحہ پر دوام کرتے ہیں اور ”قریب“ یہ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے، جب یہ مسافت کے لیے آئے تو اس میں تذکیر و تانیث برابر ہوتی ہے اور اگر نسب کے لیے ہو تو بلا اختلاف ”قَرِیْبَۃٌ“ بولا جاتا ہے۔ یعنی مذکر اور مؤنث میں تاء کے ساتھ فرق کیا جاتا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 7:57وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا : ”بُشْرًۢا“ یہ ”بَشِیْرٌ“ کی جمع ہے، یہ وزن مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے، یعنی ”مُبَشِّرَاتٌ“ خوش خبری دینے والیاں۔ ”رَحْمَتِہٖ“ سے مراد یہاں بارش ہے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (28) اور سورة روم (46) ”ثِقَالًا“ یہ ”ثَقِیْلٌ“ کی جمع ہے، یعنی پانی کی کثرت سے بھاری۔ ”لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ“ مردہ شہر، یعنی جس زمین میں کوئی پودا نہیں اور نہ چرنے ہی کی کوئی چیز ہے۔
كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى۔۔ : بارش کے ساتھ مردہ زمین کی زندگی کو آخرت میں مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کردیا وہ انسانوں کو بھی ان کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکتی ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جس سے لوگوں کے جسم اس طرح (زمین سے) اگ پڑیں گے جس طرح سبزی اگتی ہے۔“
[ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب ما بین النفختین : 2955، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Ayah 7:58وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ۔۔ : یہی مثال مومن اور کافر و منافق کے دل کی ہے، جیسا کہ تابعین سے مروی ہے۔ (شوکانی) ابو موسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال رحمت کی اس بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی، اس کے جو حصے زرخیز تھے انھوں نے پانی کو جذب کرلیا اور خوب گھاس اور چارا اگایا، بعض حصے سخت تھے، انھوں نے پانی کو روک لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع دیا، چناچہ انھوں نے خود پیا اور پلایا اور کھیتوں کو سیراب کیا اور اس کا ایک حصہ ایک اور ٹکڑے پر برسا جو محض چٹیل میدان تھے، انھوں نے نہ پانی روکا اور نہ کوئی سبزہ اگایا، یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھ کر اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچایا اور اس شخص کی جس نے نہ اس کے ساتھ سر ہی اٹھایا (نہ خود سمجھا) اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔“
[ بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم : 79 ]
لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ : اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں بارش کے ساتھ زمین کو زندہ کرنے کی مثال مردوں کو زندہ کرنے کے لیے بیان فرمائی، اس سے مقصود نصیحت حاصل کرنا ہے، اس لیے وہاں ”لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ“ فرمایا۔ اس آیت کا موضوع وحی الٰہی کا علم، اس پر عمل اور دعوت کا فائدہ اٹھانا ہے جس پر شکر لازم ٹھہرتا ہے، اس لیے یہاں ”لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ“ فرمایا۔
Ayah 7:59لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ : اوپر بیان فرمایا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھانے یا نہ اٹھانے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک پاکیزہ فطرت (طیب) جو ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے علم و عمل سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، دوسرے وہ جو شرارت پسند اور بد فطرت ہوتے ہیں، یہ لوگ ہدایت کی بارش سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹے جھاڑیاں اور کانٹے بن کر نکل آتے ہیں اور ان کے دلوں کی زمین چونکہ شور ہوتی ہے، اس لیے ان پر رحمت کی بارش اتنی فائدہ بخش نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اب یہاں سے تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے واقعات بیان کر کے گویا تاریخی ثبوت پیش کیا ہے کہ ہمیشہ سے لوگ دو قسم کے چلے آئے ہیں۔ (کبیر) نوح ؑ چونکہ سب سے پہلے نبی مرسل تھے جو مشرک قوم کی طرف بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت کبریٰ (بخاری : 4712) اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انھی کا قصہ بیان فرمایا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (سورۂ نوح میں مذکور بت) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نیک لوگوں کے نام تھے، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ ان کی مجالس میں، جن میں وہ بیٹھا کرتے تھے، ان کے مجسمے نصب کر دو اور ان کے نام پر ان کے نام رکھ دو ، یہاں تک کہ جب وہ نسل فوت ہوگئی اور علم مٹ گیا تو ان کی عبادت شروع ہوگئی۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق) : 4920 ] تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح عراق میں آباد تھی، ان کا زمانہ 3800 تا 2800 قبل مسیح ہے، مگر اس زمانے کی صحت کی کوئی دلیل نہیں۔
Ayahs 7:60–61قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖٓ۔۔ : کھلی گمراہی میں اس لیے کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں ایک نئے دین (توحید) کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ انبیاء ؑ کے واقعات میں یہ بات قرآن نے نمایاں طور پر بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوت توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امراء کا طبقہ ہر زمانے میں پیش پیش رہا ہے، کیونکہ انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔
Ayah 7:62وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : کیونکہ میری طرف وحی آتی ہے اور تمہاری طرف وحی نہیں آتی۔ (شوکانی)
Ayah 7:63اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ۔۔ : تمام کافر اقوام کا اعتراض یہی تھا کہ ہمیں میں سے ایک شخص یعنی کوئی انسان رسول کیسے ہوسکتا ہے ؟ جیسا کہ آج کل کے کئی کلمہ گو کہتے ہیں کہ جو نبی ہو وہ انسان کیسے ہوسکتا ہے ؟ دونوں کی اصل مشکل ایک ہی ہے۔ نوح ؑ کا جواب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہاری طرف نصیحت بھیجی، تاکہ وہ نمونہ بنے، تمہیں خبردار کرے اور تم اللہ سے ڈرو اور تم پر رحم ہوجائے۔ فرشتے یا کسی اور مخلوق کو بھیجنے سے یہ مقصد کبھی حاصل نہ ہوتا۔
وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ : اشارہ فرمایا کہ انبیاء کی دعوت قبول کرلینے سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور یہی تقویٰ آخرت میں رحمت کا سبب بنے گا۔ (رازی)
Ayah 7:64فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ۔۔ : آخر مومنوں کو سفینے (بحری جہاز) میں اللہ تعالیٰ نے نجات دی اور مخالفین طوفان سے ہلاک ہوگئے۔ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ طوفان نوح کا تخمینی سال 3200 قبل مسیح ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ نوح ؑ کا یہ سفینہ تین منزلہ تھا، طول 300 ہاتھ، عرض 50 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ، لیکن ان باتوں کی کوئی دلیل نہیں۔ تورات کے بیان کے مطابق یہ جہاز تقریباً پانچ ماہ چلتا رہا، مگر ہمارے پاس اس کی تصدیق یا تکذیب کا کوئی ذریعہ نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اور مختلف پہاڑوں پر ایک قدیم اور زبردست طوفان کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔ قصۂ نوح کی تفصیل سورة نوح اور سورة ہود وغیرہ میں ہے۔ ان کا اندھا پن یہ تھا کہ حق نہ دیکھتے تھے نہ قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔
Ayah 7:65وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ: عاد عرب کی ایک قدیم ترین قوم تھی جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق ان کا مسکن ”احقاف“ کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اب ”ربع خالی“ کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضر موت ان کا پایۂ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ (ابن کثیر) مگر اس کی صحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہود ؑ کی قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا عاد اولیٰ کے نام سے مذکور ہے۔ حضر موت کے نزدیک ایک مقام پر ہود ؑ کی قبر بتائی جاتی ہے۔ (المنار) مگر ملا علی قاری نے الموضوعات میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ میں سے ابوبکر اور عمر ؓ کی قبروں کے سوا کسی نبی یا صحابی کی قبر کا کوئی صحیح علم نہیں ہے۔
Ayahs 7:66–68اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ : ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بےوقوفی تھی۔
Ayahs 7:69–70وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ۔۔ : یعنی تمہیں قوی اور زبردست بنایا اور قوم نوح کے بعد ایک زبردست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین میں آباد کیا۔ یہاں ”خُلَفَاۗءَ“ سے یہی معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ قوم نوح کے وطن عراق میں ان کا جانشین بنایا۔ (قرطبی) قوم عاد کے قد و قامت میں پھیلاؤ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود شہادت دی ہے، فرمایا : (الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَاد) [ الفجر : 8 ] یعنی ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عذاب کے بعد وہ یوں گرے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے گرے ہوئے تنے۔ دیکھیے سورة الحاقہ (7)۔
بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور ان کے قدو قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلاً یہ کہ قوم عاد کا لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے بڑے پتھر کو اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانے کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ۔ مگر ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو اس کی صورت پر پیدا فرمایا کہ اس کا طول ساٹھ ہاتھ تھا۔۔ پھر اس کے بعد سے اب تک یہ مخلوق گھٹتی رہی ہے۔“ [ بخاری، الاستئذان، باب بدء السلام : 6227 ] اس لیے قوم عاد سے متعلق اس قسم کی کہانیوں پر اعتماد جائز نہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ عاد کے لوگ غیر معمولی جسمانی قوت اور قد و قامت رکھتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں بنانے والے اور نہایت سخت گیر تھے، جیسا کہ سورة شعراء (123 تا 134) اور حم السجدہ (15) میں مذکور ہے۔
Ayah 7:71اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ : کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے، یہ صرف نام ہی نام ہیں، ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں۔
مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ: یعنی اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کے اس قسم کے اختیارات فلاں کی طرف منتقل کردیے ہیں اور فلاں کو مشکل کشا، فلاں کو گنج بخش، فلاں کو غوث، فلاں کو دستگیر اور فلاں کو داتا بنایا ہے، یہ اور اس قسم کے القاب لوگوں نے گھڑ کر ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیے ہیں جو شرک کا موجب بنے ہیں۔
Ayah 7:72وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے تباہ کیے جانے کی کیفیت تفصیل سے بیان فرمائی ہے، مثلاً سورة قمر (18 تا 20) ، سورة ذاریات (41، 42) اور سورة حاقہ (6 تا 8) میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان خیز آندھی چلائی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی، وہ آندھی اس قدر تند و تیز تھی کہ جس چیز پر سے گزرتی اسے چورا کر ڈالتی، حتیٰ کہ اس نے انھیں پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا، ان کی لاشیں اس طرح دکھائی دیتیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ قرآن نے یہاں اور دوسرے مقامات پر بھی تصریح فرمائی ہے کہ عاد اولیٰ کا نام و نشان تک باقی نہ چھوڑا، فرمایا : (فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ) [ الحاقۃ : 8 ] ”تو کیا تو ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے۔“ عرب مؤرخین نے بھی بالاتفاق ان کو عرب بائدہ (ہلاک ہوجانے والوں) میں شمار کیا ہے۔ صرف ہود ؑ اور ان کے متبعین اس عذاب سے محفوظ رہے اور بقول بعض ان کی نسل ”عاد ثانیہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ بعض آثار قدیمہ سے ان کے متعلق معلومات بھی ملتی ہیں۔
Ayah 7:73وَاِلٰي ثَمُوْدَ : ثمود کا شمار بھی عرب کی قدیم ترین قوموں میں ہوتا ہے، عاد کے بعد سب سے مشہور قوم یہی ہے، اسی بنا پر بعض نے اسے ”عاد ثانیہ“ بھی لکھ دیا ہے۔ ان کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی ”الحجر“ کے نام سے معروف ہے۔ دیکھیے سورة حجر (80) (ابن کثیر) بعض علماء کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں پانی کی کمی کی وجہ سے ان کا نام ثمود پڑا، کیونکہ ”ثمد“ قلیل پانی کو کہتے ہیں۔ مدینہ اور تبوک کے درمیان شام کو جانے والی شاہراہ پر ایک شہر مدائن صالح کے نام سے مشہور ہے، یہی قوم ثمود کا صدر مقام تھا۔ سورة شعراء (146 تا 149) میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تعمیری اور زرعی مہارت کا ذکر فرمایا ہے۔ وہاں اب بھی اچھی خاصی تعداد میں وہ عمارتیں پائی جاتی ہیں جو ثمود نے پہاڑوں کو تراش کر بنائی تھیں اور ان کے ارد گرد بڑا وسیع میدان ہے جہاں وہ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب تبوک کے پاس رکے تو آپ صحابہ کے ساتھ حجر میں ثمود کے گھروں کے پاس ٹھہرے، لوگوں نے ان کنوؤں سے پانی پیا جہاں سے ثمود پیتے تھے، اسی پانی کے ساتھ آٹا بھی گوندھا اور ہانڈیاں بھی پکا لیں، نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو انھوں نے ہانڈیاں گرا دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا جس سے (صالح ؑ کی) اونٹنی پانی پیتی تھی۔ آپ نے ان لوگوں کے گھروں میں جانے سے منع فرما دیا جن پر عذاب نازل ہوا تھا اور فرمایا : ”میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر نازل ہوا تھا، اس لیے ان کے گھروں میں نہ جاؤ۔“ [ أحمد : 2؍117، ح :
5989۔ مسلم : 2980 ]
وہ کنواں اب بھی موجود ہے، مگر خشک ہوچکا ہے۔ (ابن کثیر) جابر ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حجر میں اترے تو خطبہ دیا، فرمایا : ”لوگو ! اپنے نبی سے آیات (معجزات) طلب مت کیا کرو، دیکھو صالح ؑ کی قوم نے اپنے نبی سے سوال کیا کہ ان کے لیے اونٹنی بھیجے تو وہ اس پہاڑی درے سے آتی اور ان کا پانی پیتی جس دن اس کے پینے کی باری ہوتی اور وہ اس کا دودھ اتنا حاصل کرتے جتنا پانی سے سیراب ہوتے تھے۔“ [ مستدرک حاکم : 2؍340، ح 3304۔ صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی ] بعض سیاحت ناموں میں مذکور ہے کہ جس پہاڑی سے وہ اونٹنی بطور معجزہ بر آمد ہوئی تھی اس میں اب تک شگاف موجود ہے۔ ابن کثیر نے اس چٹان کا نام ”الکاتبہ“ لکھا ہے۔ (البدایہ) مگر ہزاروں برس گزرنے کے بعد کسی پختہ دلیل کے بغیر کسی شگاف کو اونٹنی بر آمد ہونے کی جگہ قرار دینا اندھیرے میں تیر چلانے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ: حافظ بغوی ؓ نے ان کا نسب نامہ یوں بیان کیا ہے، صالح بن عبید بن آسف بن ماشح بن عبید بن حاذر بن ثمود۔ (بغوی) اس سے آگے مزید بیان کیا جاتا ہے، عاثر بن ارم بن سام بن نوح۔ ثمود کے دو بھائی اور تھے جن کے نام پر طسم اور جدیس دو قبیلے مشہور ہیں۔ (ابن کثیر) مگر اس زمانے کے انساب کا درست ہونا یقینی نہیں، کیونکہ اس کا کوئی معتبر ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی کنارے پر صالح ؑ کی قبر موجود ہے جو آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے اور اسی جزیرے میں جبل موسیٰ کے قریب صالح ؑ کی اونٹنی کا نقش قدم معروف ہے، مگر جیسا کہ میں نے آیت (65) میں ملا علی قاری سے نقل کیا ہے کہ ہمارے رسول ﷺ کے سوا کسی نبی کی قبر معلوم نہیں اور نقش قدم بنانے میں تو دیر ہی نہیں لگتی، ہاں کوئی پختہ ذریعۂ علم ہو تو الگ بات ہے اور وہ یہاں موجود نہیں۔
ۭهٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ : سورة شعراء (148 تا 159) میں مذکور ہے کہ صالح ؑ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت و اطاعت کی اور فساد فی الارض سے بچنے کی دعوت دی تو انھوں نے آپ کو جادو زدہ اور اپنے جیسا انسان کہہ کر جھٹلا دیا، انھیں نبی تسلیم کرنے کے لیے کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ صالح ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی بھیج دی جو عجیب معجزہ تھی کہ ایک دن وہ ان کا سارا پانی پیتی اور دوسرے دن ان کی اور ان کے جانوروں کی باری ہوتی۔ قرآن و حدیث میں یہ تفصیل نہیں کہ وہ اونٹنی کیسے نمودار ہوئی، مگر تواریخ و تفاسیر میں ہے کہ پہاڑی چٹان پھٹی اور اس میں سے وہ اونٹنی برآمد ہوئی۔ صالح ؑ نے انھیں آگاہ کیا کہ اگر تم نے اس اونٹنی کو کوئی نقصان پہنچایا تو تمہیں بہت بڑا اور دردناک عذاب پکڑ لے گا، پھر ان کے 9 بدمعاشوں نے صالح ؑ اور ان کے اہل خانہ کو شب خون مار کر شہید کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کی تفصیل سورة نمل (48 تا 53) میں ہے۔ آخر کار انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ہی ڈالا، پھر ان پر عذاب آگیا جس کی تفصیل اس مقام پر اور سورة ہود، شعراء، نمل اور شمس وغیرہ میں مذکور ہے اور اپنے اپنے مقام پر آرہی ہے۔ ”نَاقَةُ اللّٰهِ“ اگرچہ تمام اونٹنیاں بلکہ ساری کائنات ہی اللہ مالک الملک کی ہے، مگر اس اونٹنی کو خاص طور پر ”اللہ کی اونٹنی“ قرار دے کر اس کی عظمت اور معجزانہ شان کی طرف اشارہ فرمایا ہے، جیسے تمام گھر اللہ کی ملکیت ہونے کے باوجود ”بیت اللہ“ اسی کو کہا ہے جو مکہ میں ہے۔
وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : یعنی اگر اسے ستاؤ گے یا زخمی کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔
Ayah 7:74تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا۔۔ : یعنی ہموار علاقہ ہو تو اینٹوں سے عالی شان محل بنا لیتے ہو اور پہاڑ ہوں تو انھیں کھود اور تراش کر سردی، گرمی اور طوفان سے محفوظ مکان بنا لیتے ہو۔
اٰلَاۗءَ ‘ یہ ”اِلًی“ کی جمع ہے جو اصل میں ”اِلَیٌ“ تھا، جیسے اَمْعَاءٌ (انتڑیاں) ”مِعًی“ کی جمع ہے۔ ”ِ وَلَا تَعْثَوْا“ یہ ”عَثِیَ یَعْثَی“ (س) سے نہی کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت فساد کرنا ہوتا ہے، ”مُفْسِدِيْنَ“ تاکید کے لیے حال ہے، اس لیے ترجمہ میں ”وَلَا تَعْثَوْا“ کا معنی ”دنگا نہ مچاؤ“ اور ”مُفْسِدِيْنَ“ کا معنی ”فساد کرتے ہوئے“ کیا ہے۔
Ayahs 7:75–76اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ: ان کا یہ پوچھنا اپنے تکبر کے اظہار اور طنز کے لیے تھا۔
اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ : یعنی ہمیں نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے، بلکہ ان کے دیے ہوئے ایک ایک حکم کے صحیح ہونے پر بھی یقین ہے۔
Ayah 7:77فَعَقَرُوا النَّاقَةَ۔۔ : اگرچہ اونٹنی کو ایک ہی شخص نے کاٹا تھا مگر چونکہ ان سب نے اسے مقرر کیا تھا اور وہ سب اس کی پشت پناہی کر رہے تھے، اس لیے سب ہی مجرم ٹھہرے اور سبھی پر عذاب آیا۔ سورة قمر میں ہے : (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَر) [ القمر : 29 ] ”تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس (اس کی) کونچیں کاٹ دیں۔“ علمائے تفسیر نے اس اشقیٰ ”سب سے بڑے بدبخت“ (شمس : 12) کا نام قدار بن سالف لکھا ہے۔ (واللہ اعلم)
وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ۔۔ : یعنی تو کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو کسی برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگا بیٹھنا، ورنہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اب اگر واقعی رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ۔
Ayah 7:78فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔۔ : سورة ہود (65، 66) میں ہے کہ صالح ؑ نے جب دیکھا کہ انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا ہے تو انھیں تین دن کی مہلت دی، جب یہ مہلت پوری ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے صالح ؑ اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو بچا لیا، ان کے سوا ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ تفاسیر و احادیث میں ہے کہ ان میں سے صرف ایک شخص ابو رغال ان دنوں حرم میں مقیم تھا، وہ عذاب سے محفوظ رہا، لیکن جب وہ حرم چھوڑ کر طائف کی طرف روانہ ہوا تو وہ بھی ہلاک ہوگیا اور راستے میں دفن کردیا گیا۔ امیر المومنین عمر ؓ نے ذکر فرمایا کہ راستے سے گزرنے والے اس کی قبر پر سنگ باری کرتے تھے۔ [ ابن حبان : 463 ] جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے آسمان کے نیچے ان سب کو ہلاک کردیا، صرف ایک شخص بچا جو حرم میں تھا۔“ پوچھا گیا : ”وہ کون تھا ؟“ تو آپ نے فرمایا : ”وہ ابو رغال تھا، لیکن جیسے ہی وہ حرم سے نکلا عذاب نے اسے بھی پکڑ لیا۔“ [ مستدرک حاکم : 2؍320، ح : 3248۔ أحمد : 3؍296، ح : 14160 ] شعیب ارنؤوط اور اس کے ساتھیوں نے اس حدیث کو قوی کہا ہے۔
یہاں ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلے) کا ذکر ہے، سورة ہود (67) میں ”الصَّيْحَةُ“ (چیخ) کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم پر دو طرح کا عذاب آیا، اوپر سے صیحہ (چیخ) اور نیچے سے زلزلہ، یا وہ خوف ناک آواز یعنی چیخ زلزلے ہی کی تھی، جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ زلزلے کے ساتھ خوف ناک آواز بھی ہوتی ہے۔
”جٰثِمِيْنَ“ یہ ”جُثُوْمٌ“ سے اسم فاعل ہے، یہ انسان اور پرندوں کے لیے انھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں اونٹوں کے لیے ”بُرُوْکٌ“ ہوتا ہے، یعنی سینے کے بل گرنے والے یا اپنی جگہ سے نہ ہل سکنے والے۔ یعنی وہ اپنے گھٹنوں پر منہ کے بل گرے ہوئے تھے، ان میں کوئی حرکت باقی نہ رہی۔ (طنطاوی)
Ayah 7:79فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : یہ اسی قسم کا خطاب تھا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مشرک مقتولین سے کیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (43) کی تفسیر۔ دوسرے تمام انبیاء کے ذکر میں ”ُرِسٰلٰتِ رَبِّيْ“ جمع کا لفظ ہے اور یہاں ”رِسَالَةَ رَبِّيْ“ واحد ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک ہی معجزہ تھا، یعنی اونٹنی۔ (نظم الدرر) (واللہ اعلم)
Ayah 7:80وَلُوْطًا : ابراہیم ؑ جب آگ سے بحفاظت نکل آئے تو لوط ؑ ان پر ایمان لے آئے۔ ابراہیم ؑ نے اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود قوم کے ایمان نہ لانے پر عراق سے ہجرت اختیار فرمائی۔ دیکھیے سورة عنکبوت (26) ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط ؑ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوط ؑ کو سدوم والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا اور نہایت آباد اور زرخیز تھا۔
اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ: اہل سدوم کو لوط ؑ کی قوم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے، ورنہ وہ تو عراق سے آئے تھے، یا شاید ان کا ان سے سسرالی رشتہ ہوگا، کیونکہ اگر وہاں ان کا کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو وہ اس بےچارگی کا اظہار نہ فرماتے جس کا ذکر سورة ہود (80) میں ہے۔