7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بیشک ہم اس سے غافل تھے۔

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ۔۔ : یہاں تک رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے بنی آدم کی ہدایت کا جو اہتمام فرمایا اس کا ذکر تھا، اب کائنات میں اور خود انسان کی ذات (اَنْفُسِهِمْ) میں ہدایت کی جو دلیلیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں ان کا ذکر ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ یہ جانے کہ میرا ایک رب ہے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے روزی دیتا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ آدم ؑ کی اولاد کو نسلاً بعد نسل پیدا کرتا ہے اور بنی آدم میں سے کسی کی پشت سے اس کا نطفہ جدا کرکے ماں کے رحم میں اس کی اولاد پیدا کرتا ہے، اسی وقت اس اولاد کی فطرت میں رکھ کر اس کے نفس اور اس کی ذات میں اپنے رب ہونے کے اتنے دلائل رکھ دیتا ہے گویا خود اسے اپنے آپ پر گواہ بنا دیتا ہے کہ اس کا رب اللہ ہے۔ گویا وہ پیدا ہی اسلام پر ہوتا ہے۔ ایک بوند جو جونک بنی، پھر مضغہ بنی، پھر ہڈیاں، پھر کامل اعضا والا جان دار انسان، یہ اور بیشمار نشانیاں خود اس کی ذات اور کائنات میں اس بات کی کافی شہادت ہیں کہ اس کا ایک رب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ) [ حٰم السجدۃ : 53 ] ”عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہوجائے کہ یقیناً یہی حق ہے۔“ اور فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ) [ الذاریات : 20، 21 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟“ اور شہادت ضروری نہیں زبان ہی سے ہو، قرآن مجید کے مطابق حالت کی بھی شہادت ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭ)[ التوبۃ : 17 ] ”مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔“ اور فرمایا : (اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْد، وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ) [ العادیات : 6، 7 ] ”بیشک انسان اپنے رب کا یقیناً بہت ناشکرا ہے اور بیشک وہ اس بات پر یقیناً خود گواہ ہے۔“ معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت ہی توحید ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین : 1385 ] اس لیے انسان کی ذات میں اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کے رب واحد ہونے کے دلائل ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اگر کوئی بھی رسول نہ آتا تو انسان پر عقل، فطرت سلیمہ اور اپنی ذات اور کائنات میں موجود توحید کے بیشمار دلائل کی وجہ سے شرک سے بچنا لازم تھا، اگر وہ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس سے مؤاخذہ فرمائے۔ مگر قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا یہ بیحد و حساب رحم و کرم ثابت ہے کہ انسان کے نفس پر اس کی اپنی شہادت کے باوجود وہ رسولوں کے ذریعے سے حق واضح کیے بغیر عذاب نہیں دیتا، فرمایا : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ دیکھنے کے لیے آنکھ میں نور ہونا بھی ضروری ہے اور سورج، چاند یا کسی اور چیز کے ذریعے سے روشنی ہونا بھی ضروری ہے، آنکھ میں روشنی نہ ہو یا باہر روشنی نہ ہو تو نظر نہیں آتا۔ فطرت میں رکھی ہوئی عقل اور کائنات کے دلائل رب کی پہچان کے لیے آنکھ کے نور کی طرح ہیں اور پیغمبر سورج اور چاند کی طرح اس کے لیے دلائل کو روشن کرکے سمجھانے والے ہیں۔ شیخ صالح آل الشیخ نے شرح عقیدہ طحاویہ میں فرمایا کہ اہل السنہ کے بہت سے ائمہ مثلاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، ابن ابی العز حنفی شارح طحاویہ، شیخ عبد الرحمان سعدی اور دوسرے کئی ائمہ ؓ نے ”واخذ ربک“ کی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھ اور سورج کی روشنی کی مثال ان ائمہ کی تفسیر کا حصہ نہیں۔ دوسری تفسیر وہ میثاق (عہد و پیمان) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی پشت سے تمام اولاد آدم کو نکال کر ان سے لیا اور جو عموماً عہد الست سے مشہور ہے، وہ عبداللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ ؓ سے منقول ہے۔ چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نعمان (نون کے فتحہ کے ساتھ) یعنی عرفہ میں آدم ؑ کی پشت سے میثاق (عہد و پیمان) لیا، چناچہ اس کی پشت سے تمام اولاد جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی تھی نکالی اور اس کے آگے بکھیر دی، پھر ان سے آمنے سامنے بات کی، فرمایا : (اَلست بربکم)”کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟“ انھوں نے کہا : (بلٰی) کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی ! (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔ آخر آیات تک۔ [ أحمد : 1؍272، ح : 2459۔ مستدرک حاکم : 2؍544، ح : 4000 ] حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے، شوکانی اور بہت سے علماء نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے، مگر قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ میں کئی لحاظ سے فرق ہے، ایک تو یہ کہ آیت میں (مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ) ہے ”مِنْ آدَمَ“ نہیں، دوسرا (مِنْ ظُهُوْرِهِمْ) ہے ”مِنْ ظَہْرِہِ“ نہیں۔ تیسرا (ذُرِّيَّتَهُمْ) ہے، ”ذُرِّیَّتَہُ“ نہیں، چوتھا یہ کہ فرمایا : (وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ) گواہ کو وہ بات یاد تو ہونی چاہیے جس کی گواہی اس نے دینی ہے جبکہ وہ عہد کسی کو یاد نہیں، البتہ انسان کے نفس اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور توحید کے دلائل کا وہ خود فطری شاہد ہے، یہ الگ بات ہے کہ گندے عقیدوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی فطرت پر پردہ پڑگیا ہو۔ اگر کوئی کہے کہ بیشک آدم ؑ کی پشت سے نکلتے وقت کیا ہوا عہد ہمیں یاد نہیں مگر پیغمبروں کا اس میثاق کو یاد کرا دینا ہی کافی ہے تو حافظ ابن کثیر ؓ نے اس کا جواب دیا ہے کہ مشرک تو پیغمبروں کی کوئی بات صحیح مانتے ہی نہیں تھے، ان کا یاد کرا دینا ان پر حجت کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ (جب کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اس گواہ بنانے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے، جس طرح رسولوں کے بھیجنے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے) غرض ابن ابی العز نے شرح عقیدہ طحاویہ میں آیت اور احادیث کے درمیان دس فرق بیان کیے ہیں۔ اس لیے دونوں الگ الگ ہیں، ہاں ! تطبیق کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالنا بھی آدم ؑ کی پشت سے اس کی اولاد کو نکالنے ہی کی تفصیل ہے۔ (واللہ اعلم) اَنْ تَقُوْلُوْا : یہ اصل میں ”لِءَلَّا تَقُوْلُوْا“ یا ”کَرَاھَۃَ اَنْ تَقُوْلُوْا“ ہے، یعنی یہ عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تو یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگو کہ ہم تو اس سے بیخبر تھے۔ (ابن کثیر)
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے، تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو باطل والوں نے کیا ؟

اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ۔۔ : یا یہ عذر پیش کرو کہ ہم تو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی شرک کی راہ پر چلتے رہے، ہمارا کیا قصور ہے، مطلب یہ ہے کہ شرک کے بارے میں مقلد کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ”الْمُبْطِلُوْنَ“ سے مراد آباء و اجداد ہیں، یعنی یہ کہنا ہے کہ اصل مجرم وہی ہیں ہم نہیں، اس قسم کے عذر کا وہاں کوئی موقع نہیں ہوگا، کیونکہ ابتداءً ہر شخص کی فطرت میں اپنے رب کی پہچان اور اس کی توحید رکھ دی گئی ہے، پھر اس کی یاد دہانی اور تفسیر و تشریح کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائی گئی ہیں اور کائنات میں اس کے دلائل رکھ دیے گئے ہیں اور ان کے فہم کے لیے عقل بھی عنایت کی گئی ہے۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ پلٹ آئیں۔

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ : ”اور تاکہ وہ پلٹ آئیں“ اور باطل کو چھوڑ دیں۔ یہ واقعہ یہود کو سنایا، کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگا لیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ۔۔ : ”سَلَخَ (ن، ف)“ ”کھال اتارنا۔“ ”مَسْلُوْخٌ“ وہ بکری جس کی کھال اتار لی گئی۔ ”اِنْسَلَخَ الْحَیَّۃُ“ ”سانپ اپنی کینچلی سے نکل گیا۔“ (قاموس) ان الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا قصہ یہاں عبرت کے لیے بیان کیا جا رہا ہے وہ ضرور کوئی خاص شخص ہے، لیکن قرآن اور صحیح حدیث میں نہ تو اس کے نام کی تصریح ہے اور نہ ہی زمانے کا ذکر ہے۔ صاحب المنار فرماتے ہیں کہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد ﷺ پر اتاری جانے والی آیات کو جھٹلانے والوں کی بیان فرمائی۔ یہ اس شخص کی مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا فرمایا، وہ ان کا عالم، ان کے قواعد کا حافظ اور اس کے احکام کو بیان کرنے اور بحث کرکے ثابت کرنے کے لائق ہوگیا مگر شیطان نے اسے اپنے پیچھے ایسا لگایا کہ وہ اس علم پر عامل نہ ہوا، بلکہ اس کا عمل اپنے علم کے سراسر مخالف رہا تو پھر اس سے ان آیات کا علم بھی چھن گیا، کیونکہ جس علم پر عمل نہ ہو وہ تھوڑی مدت ہی میں ختم ہوجاتا ہے۔ تو یہ شخص اس سانپ کی طرح ہوگیا جو اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، یا اپنے علم و عمل میں مخالفت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہوگیا جو اپنے علم سے نکل جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے، جیسے کوئی شخص اپنے پرانے کپڑے اتار دیتا ہے اور سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہتا۔ مثال کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول پر نازل کردہ آیات کو جھٹلانے والے لوگ اس عالم کی طرح ہیں جو اپنے علم کے پھل سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوگیا ہو، کیونکہ دونوں ہی نے دلائل و آیات میں اخلاص کے ساتھ عبرت حاصل کرنے کے لیے غور نہیں کیا۔
Ayahs 7:176–177

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان کے ذریعے بلند کردیتے، مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، تو اس کی مثال کتے کی مثال کی طرح ہے کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے ہانپتا ہے، یا اسے چھوڑ دے تو بھی زبان نکالے ہانپتا ہے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ سو تو یہ بیان سنا دے، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

برے ہیں وہ لوگ مثال کی رو سے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا۔۔ : اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دے کر صالحین و ابرار کے آسمان پر بلند کردیتے، مگر وہ زمین اور پستی (دنیا کے حقیر سازوسامان) کی طرف چمٹ ہی گیا اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر ہر وقت دنیا کی طلب میں لگ گیا، تو اس کی مثال ہر وقت زبان نکال کر ہانپتے ہوئے کتے کے ساتھ دی گئی۔ مفسرین میں سے بعض نے گزشتہ امتوں میں سے اس کا نام بلعم بن باعورا بتایا ہے اور بعض نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے بعض اشخاص، مثلاً امیہ بن صلت وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا اور ان میں یہ اشخاص بھی شامل ہیں۔ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ۔۔ : ”لَھَثٌ“ تھکاوٹ یا پیاس اور گرمی کی وجہ سے زبان باہر نکال کر ہانپنے کو کہتے ہیں۔ دوسرے جانوروں پر اگر حملہ کیا جائے تو دوڑنے اور پیاس اور گرمی کی وجہ سے وہ ہانپنے لگتے ہیں، لیکن اگر انھیں کچھ نہ کہا جائے تو آرام سے بیٹھے رہتے ہیں، زبان باہر نکالے ہوئے ہانپتے نہیں، مگر کتا ایسا جانور ہے کہ تازہ ہوا سہولت کے ساتھ نہ اندر کھینچ سکتا ہے نہ گرم ہوا باہر نکال سکتا ہے، اس لیے کوئی اس پر حملہ کرے اور دوڑنے کی وجہ سے اسے سانس چڑھا ہو یا وہ آرام سے بیٹھا ہو، ہر حال میں اس کی زبان لٹکی ہوئی ہوگی اور وہ ہانپ رہا ہوگا۔ دنیا کی حرص کی وجہ سے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے علم کے مطابق اللہ کی آیات پر ایمان لاتا اور عمل کرتا تو اپنی ضروریات اور خواہشات کو اللہ اور اس کے رسول کے مطابق حلال تک محدود کرکے باقی وقت ہر قسم کی حرص اور فکر سے آزاد ہو کر اللہ کی بندگی اور دین کی تعلیم و تعلم اور اس پر عمل میں صرف کرتا تو نہایت چین اور اطمینان کے ساتھ حیات طیبہ بسر کرتا۔ مگر اسے دنیا کی ضرورت تھی یا نہ تھی، حلال و حرام ہر طریقے سے ہر وقت دنیا کے حصول کی جدوجہد میں لگا رہا، اس کتے کی طرح جس پر حملہ ہو یا نہ ہو، زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے لائق بری مثال نہیں ہے، وہ شخص جو اپنا دیا ہوا ہبہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو دوبارہ اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“ [ بخاری، الہبۃ و فضلھا، باب لا یحل لأحد أن یرجع فی ہبتہ : 2622، عن ابن عباس ؓ ]
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ۔۔ : ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا، فرمایا : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْن) [ الأنبیاء : 23 ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ عین عدل ہے، کیونکہ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، فرمایا : (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) [ حٰم آ السجدۃ : 46 ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ رسول اللہ ﷺ اپنے ہر خطبہ میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا کرتے تھے : (مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ) [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ : 868، عن ابن عباس ؓ ] ”جسے اللہ سیدھی راہ پر لگائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔“
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بیخبر ہیں۔

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ ”لِجَهَنَّمَ“ میں لام عاقبت (برائے انجام) بھی ہوسکتا ہے، یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ انجام کار جہنم میں جائیں گے، گویا انھیں جہنم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور لام غایت کا بھی ہوسکتا ہے، یعنی کائنات کو بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو آئندہ کی ہر بات کا علم تھا کہ فلاں جن یا انسان نے دنیا میں جا کر دوزخیوں والے کام کرنے تھے، اسی علم کے مطابق اس نے سب کچھ لکھ دیا تھا، اس کا نام قضا و قدر ہے، آگے اہل جہنم کی صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ ہدایت قبول نہیں کیا کرتے، گو اللہ کا شریعت اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کرے، مگر اسے پہلے ہی یہ بھی علم ہے کہ کون شریعت پر چلے گا اور کون نہیں چلے گا۔ علماء نے تقدیر میں اور انسان کے مجبور ہونے میں فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں دل، آنکھیں اور کان تو اس لیے دیے ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مالک کو پہچانیں، کائنات اور اپنی ذات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں، حق کی بات غور سے سنیں اور اسے قبول کریں، مگر جب انھوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ انعام (چوپاؤں) کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ثابت ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طبیعت میں جو تقاضے رکھے ہیں اور جس مقصد کے لیے وہ پیدا ہوئے ہیں وہ بخوبی پورا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کفار اپنے مقصد حیات، یعنی عبادت کے بجائے اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ : یعنی اپنے مقصد حیات سے غافل ہیں اور مرنے کے بعد زندگی اور جواب دہی سے بےفکر ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ اور رسول ﷺ کو پہچاننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔“ (موضح)
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں، انھیں جلد ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: ”الْحُسْنٰى“ یہ ”اَلْأَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، سب سے اچھے نام۔ ”لِلّٰهِ“ خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا کہ سب سے اچھے نام اور صفات صرف اور صرف اللہ کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ پچھلی آیت میں مذکور ضلالت اور جہنم سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انھی ناموں کے ساتھ اسے پکارو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اسْمًا، مِاءَۃً إِلَّا وَاحِدَۃً ، مَنْ أَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)”بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو ان کا احصاء کرلے جنت میں داخل ہوگا۔“ [ بخاری، الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط۔۔ : 2736، عن أبی ہریرہ ؓ ] احصاء کا معنی یاد کرنا، شمار کرنا اور حفاظت کرنا سبھی آتے ہیں، یعنی ان کے معانی پر ایمان لائے، برکت اور ثواب کے لیے اخلاص کے ساتھ انھیں گن گن کر پڑھے، انھیں حفظ کرے اور ان کے تقاضوں کے مطابق اپنے عمل کو ڈھالے۔ حدیث کے جو الفاظ اوپر ذکر ہوئے ہیں وہ تو بہت سی روایات میں صحیح سندوں کے ساتھ آئے ہیں، البتہ ترمذی کی ایک روایت میں ان ننانوے ناموں کی تصریح بھی کردی گئی ہے، مگر اہل علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ یہ نام بعض راویوں نے قرآن مجید سے ترتیب دے کر روایت میں شامل کردیے ہیں، ورنہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت روایت میں یہ نام نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان ناموں کے سوا اللہ تعالیٰ کے اور نام نہیں بلکہ قرآن و حدیث میں کئی اور نام بھی آئے ہیں۔ علماء نے اسمائے حسنیٰ پر کتابیں لکھی ہیں، بعض علماء نے قرآن و حدیث سے ہزار سے زیادہ اسمائے حسنیٰ نکالے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا شمار نہیں تو اس کے اسماء کا شمار بھی نہیں ہوسکتا۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کئی نام ایسے ہیں جو اس نے کسی کو بھی نہیں بتائے، عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کو جب بھی کوئی فکر یا غم لاحق ہو وہ یہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم و فکر دور کردیتا ہے۔“ آپ سے عرض کیا گیا : ”یا رسول اللہ ! ہم اسے سیکھ نہ لیں ؟“ فرمایا : ”جو بھی اسے سنے اسے اس کو سیکھ لینا چاہیے۔“ دعا یہ ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاءُ کَ اَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَجَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ)”اے اللہ ! بیشک میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا فیصلہ مجھ پر نافذ ہے، تیرا فیصلہ میرے بارے میں عین انصاف ہے، میں تیرے ہر نام کے وسیلے سے جسے تو نے خود اپنا نام رکھا ہے، یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا تو نے اسے علم غیب میں اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میرے فکر کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔“ [ أحمد : 1؍391، ح : 3711 ] ابن حبان : (972) اور ابو یعلٰی (9؍198، 199، ح : 5297) میں الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ اس مبارک دعا میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء کے واسطے سے دعا کی گئی ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام صرف ننانوے تک محدود نہیں ہیں۔ حدیث شفاعت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری کی اجازت ہوگی اور آپ سجدے میں گرجائیں گے تو اس وقت آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا کریں گے جو صرف اسی وقت اللہ تعالیٰ آپ کو سکھائے گا۔ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔) : 7440۔ مسلم : 194 ] فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ : اللہ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے، باقی صفاتی نام ہیں۔ فرمایا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرتے، یعنی سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے اس کا کوئی نام رکھ لے، یا ایسے لفظ سے پکارے جس سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ بعض قوموں میں اللہ تعالیٰ کے ایسے نام رائج ہیں جو ایک سے زائد معبودوں میں سے کسی ایک پر بولے جاتے ہیں، مثلاً یزدان، بھگوان اور رام وغیرہ، ایسے نام اللہ تعالیٰ پر بولنے سے بچنا فرض ہے۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں، جسے اللات، العزیٰ اور منات کہ یہ لفظ اللہ، عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر ؓ نے کج روی کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے : ”اللہ تعالیٰ کے اسماء کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے، ایسے لوگوں کو دنیوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجائے مگر سزا ان کو ضرور ملے گی۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ان کے واضح معنی سے انکار کردیا جائے (یہ تعطیل ہے) ، یا تحریف کردی جائے اور اسے تاویل کا نام دیا جائے، یا ان کو مخلوق کے مشابہ سمجھا جائے (یہ تشبیہ ہے) ، یا کہا جائے کہ معلوم ہی نہیں ان کا معنی کیا ہے (یہ تفویض ہے) بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان صفات پر مشتمل الفاظ کا جو معنی ہے وہ سب کو معلوم ہے، مثلاً ”سَمِیْعٌ“ کا معنی سننے والا ہے، مگر وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے۔ رہا یہ کہ وہ کیسے ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردی جائے۔ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کے کسی صفاتی نام کا اگر ترجمہ اپنی زبان میں کردیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً رب کو پروردگار، یا پالنے والا، رزاق کو روزی دینے والا کہہ دیا جائے تو یہ جائز ہے۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے پیدا کیا کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ : یہی وصف اس سے پہلے آیت (159) میں موسیٰ ؑ کی امت کے بعض اشخاص کا بیان ہوا ہے۔ یہاں مراد امت محمد ﷺ ہے، کیونکہ اب حق صرف اس امت کے پاس ہے۔ اس میں صحابہ کرام ؓ ، تابعین، سلف صالحین اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر نئے راستے اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف کتاب و سنت پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، کیونکہ حق یہی ہے اور اسی کے مطابق تمام معاملات میں لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی آخری کوشش تک لگا دیتے ہیں، یعنی جہاد کرتے ہیں۔ معاویہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا : ”میری امت میں سے ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گا، نہ انھیں وہ شخص نقصان پہنچا سکے گا جو انھیں چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا اور وہ اسی پر قائم ہوں گے۔“ [ بخاری، المناقب، باب : 3641 ] اس جماعت کی خاص صفت کتاب و سنت پر عمل کے ساتھ کفار سے لڑنا بھی ہے۔ جابر بن سمرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ ﷺ : لاتزال طائفۃ من أمتی۔۔ : 1920 ]
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ کھینچ کرلے جائیں گے، جہاں سے وہ نہیں جانتے۔

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ۔۔ : یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کرلے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (44، 45)۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انھیں مہلت دوں گا، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔

ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ : ”اَمْلَی یُمْلِیْ اِمْلَاءً“ لمبی مہلت دینے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ: جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے بھاگ کر جانے نہیں دیتا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي) [ ھود : 102 ] [ بخاری، التفسیر، باب : (وکذٰلک أخذ ربک۔۔) : 4686، عن أبی موسٰی۔ ]
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے ؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ : اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور بےرخی پر تنبیہ تھی، اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے۔ کفار قریش آپ کو مجنون (پاگل) قرار دیتے تھے، دیکھیے سورة حجر (6) اور دخان (13، 14) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کے دو جواب دیے، ایک یہ کہ کبھی تم نے سوچا ہے کہ نبی ﷺ کسی اور جگہ سے نہیں آئے، تمہارے ساتھی ہیں، تمھی میں رہتے ہیں، تم ان سے خوب واقف ہو، انھوں نے چالیس برس تم میں گزارے ہیں، کچھ غور تو کرو، کیا پاگل ایسے ہوتے ہیں ؟ ”صاحبکم“ (تمھارے ساتھی) کے لفظ میں یہی جواب دیا گیا ہے۔ دیکھیے سورة یونس (16) دوسرا یہ کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں کا آپ ﷺ حکم دیتے ہیں، مثلاً توحید، نماز، صدقہ، صلہ رحمی، پاک دامنی اور صدق وغیرہ ان میں سے کون سی چیز جنون ہے، یا آپ کے عادات و خصائل میں کون سی چیز ہے جسے جنون کہا جاسکے، آپ تو محض اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔ دیکھیے سورة سبا (46)۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

اور کیا انھوں نے نگاہ نہیں کی آسمانوں اور زمین کی عظیم الشان سلطنت میں اور کسی بھی ایسی چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور اس بات میں کہ شاید ان کا مقررہ وقت واقعی قریب آ چکا ہو، پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ : ”مَلَكُوْتِ“ یہ ”مُلْکٌ“ کے لفظ میں واؤ اور تاء کا اضافہ معنی میں وسعت کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”عظیم الشان سلطنت“ کیا گیا ہے۔ دلائل کونیہ یعنی اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان سلطنت سے بھی رسول اللہ ﷺ کے سچے نبی ہونے کا ثبوت مل رہا ہے، کیونکہ آپ ﷺ جس توحید کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آسمان و زمین کی عظیم الشان سلطنت اور پوری کائنات کی ایک ایک چیز بلکہ ایک ایک ذرے سے ثابت ہو رہی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ) کے الفاظ کے ساتھ اس سلطنت میں جو بھی بڑی سے بڑی یا چھوٹی سے چھوٹی چیز پیدا فرمائی ہے اس کی طرف نگاہ کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔ اتنی بڑی سلطنت کا ہر ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ مجھے کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ ایک ہے کہ اس عظیم الشان سلطنت کے کسی حصے میں کوئی خرابی، کوئی ٹکراؤ یا حادثہ نہیں۔ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ : اور کیا انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کا مقرر وقت بالکل قریب آپہنچا ہو، یعنی موت کا مقرر وقت تو کسی کو معلوم نہیں، انسان کو کم از کم یہی سمجھ کر اپنے عقائد و اعمال کی پڑتال کرتے رہنا چاہیے کہ شاید اس کی موت کی گھڑی قریب آگئی ہو، مگر یہ بدبخت اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ تفکر اور غور وفکر کی دعوت اس بات کی دلیل ہے کہ تقلید کا عذر قیامت کے دن کسی کام نہیں آئے گا۔ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ : یعنی قرآن سے بڑا معجزہ کیا ہوگا اور اس سے بہتر نصیحت کس کتاب میں ہوگی اور محمد ﷺ سے بہتر سمجھانے والا اور کون ہوگا، جس کی باتوں پر یہ ایمان لائیں گے ؟ آئندہ آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل باعث ان کا تکبر اور سرکشی ہیں جو انھیں غور و فکر کرنے ہی نہیں دیتے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انھیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے، بھٹکتے پھرتے ہیں۔

مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ۔۔ : ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا قانون ہے کہ وہ گمراہ اس کو کرتا ہے جو نیکی کا واضح راستہ چھوڑ کر بدی کا راستہ اختیار کرلیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (25، 26) اور سورة اعراف (178، 179)۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

وہ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں اس کا قیام کب ہوگا ؟ کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا، وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے، تم پر اچانک ہی آئے گی۔ تجھ سے پوچھتے ہیں جیسے تو اس کے بارے میں خوب تحقیق کرنے والا ہے۔ کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا : ”السَّاعَةِ“ ایک گھڑی، لمحہ، پل یا سیکنڈ، کیونکہ قیامت اچانک ایک ہی لمحے میں برپا ہوجائے گی۔ ”اَيَّانَ“ زیادہ صحیح یہی ہے کہ ”اَیٌّ“ سے ”فَعْلَانَ“ کا وزن ہے، ظرف زمان بمعنی ”مَتٰی“ یعنی کب۔ ”مُرْسٰىهَا“ یہ ”اَرْسٰی یُرْسِیْ“ باب افعال سے مصدر میمی ہے، لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، زیادہ تر بہت بھاری چیز کے ٹھہرنے، گڑ جانے، گاڑ دینے اور ٹھہرا دینے کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) [ النازعات : 32 ] ”اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔“ ”اَرْسَتِ السَّفِیْنَۃُ“ ”بحری جہاز لنگر انداز ہوا۔“ ”اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭ“ کا معنی ہے ”اَیَّانَ وُقُوْعُھَا“ کہ اس کا واقعہ ہونا کب ہے ؟ (قاموس) توحید، نبوت اور قضا و قدر کے بعد اب چوتھی چیز قیامت کے بارے میں بات ہو رہی ہے، کیونکہ قرآن میں یہ چاروں چیزیں اصل بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ۔۔ : ”اِنَّمَا“ کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس نے یہ بات نہ کسی مقرب فرشتے کو بتائی ہے نہ کسی نبی مرسل کو۔ دیکھیے سورة نازعات (44) اور نمل (66)۔ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے ہیں، کیونکہ وہ سب اس وقت زیر و زبر ہوجائیں گے۔ دیکھیے سورة تکویر، انفطار، انشقاق، قمر (46) اور حج (1، 2) دوسرا یہ کہ اس کا علم زمین و آسمان سے بھی برداشت نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ ؓ نے ”الفوز الکبیر“ میں اس کا معنی ”خَفِیَتْ“ کیا ہے، یعنی وہ آسمانوں اور زمین میں کسی کو معلوم نہیں۔ ابن جزی نے فرمایا : ”ثَقُلَتْ ثَقُلَ عِلْمُنَا اَیْ خَفِیَ“ یعنی اس کا علم مخفی ہے۔ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ: بیشک اس کی علامات عامہ اور علامات خاصہ، مثلاً دجال، دابہ، یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ ؑ کا نزول وغیرہ بتائی گئی ہیں، مگر ان واقعات میں سے بھی کوئی اس کا عین مقرر وقت نہیں کہ اس کے ساتھ ہی قیامت آجائے، اصل وقت صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک یک لخت آئے گا۔ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا : ”حَفِيّ“ اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی چیز کے متعلق بار بار پوچھ کر اچھی طرح اس کا علم حاصل کر رکھا ہو، یعنی یہ لوگ آپ سے بار بار اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ نے بڑی کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا پورا علم حاصل کرلیا ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔

قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے، مجھ میں ذاتی طور پر یہ بھی قدرت و اختیار نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی نقصان یا تکلیف کو روک سکوں، یا کچھ نفع حاصل کرسکوں۔ تو جب رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ اختیار نہیں تو پھر وہ کون ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (3) اور یونس (106، 107) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے لیے واقعی اختیار نہیں رکھتے، مگر دوسرے سب لوگوں کے لیے نفع و ضرر کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیے سورة جن (20 تا 22)۔ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جنھیں میں پیشگی سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ ”لو“ (اگر) سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے تھے، کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ دیکھیے سورة نمل (65) اس کے باوجود بعض نادان آپ ﷺ کو عالم الغیب باور کرواتے ہیں، حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کا چہرہ زخمی ہوا، دانت مبارک بھی شہید ہوا، چہرے میں خود کی کڑیاں چبھ گئیں، ہونٹ پھٹ گیا، گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے تو کتنے دن صاحب فراش رہے۔ عائشہ ؓ پر بہتان لگا تو پورا ایک مہینا آپ پریشان رہے، ایک یہودی عورت نے کھانے میں زہر ملا دیا، جسے کھانے سے آپ کے بعض صحابہ شہید بھی ہوگئے، خود رسول اللہ ﷺ اس زہر کا اثر آخر تک محسوس کرتے رہے۔ یہ سب واقعات شاہد ہیں کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔“ اس مضمون کو تفصیل سے پڑھنے کے لیے تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل ؒ اور تلاش حق از ارشاد اللہ مان صاحب کا مطالعہ فرمائیں۔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے، سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت و حیات یا نفع و نقصان ان کے اختیار میں ہو، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں۔ اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی، جب رسول اللہ ﷺ کو جو تمام عالم کے سردار ہیں، اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو، نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے، یا غیب کی کوئی بات بتائے، البتہ وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو جو بات بتادیتا وہ آپ کو معلوم ہوجاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ (وحیدی)
Ayahs 7:189–190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھا لیا، پس اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ بیشک اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : ایک جان، یعنی آدم ؑ سے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔ لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا۔۔ : معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورة روم (21) ”فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا“ جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ ”صَالِحًا“ یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔ اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری ؓ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ بیشک شروع میں بطور تمہید آدم و حوا ؑ کا ذکر ہے، مگر اس کے بعد ”فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا“ سے سلسلۂ کلام ان کی اولاد میں سے مشرکین کی طرف منتقل ہوگیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں فرد کے ذکر سے سلسلۂ کلام جنس کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعد میں (فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) وغیرہ یعنی تمام آیات میں آخر تک جمع کے الفاظ استعمال ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے جنس آدم مراد ہے۔ آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو کر شرک کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں ؟ بہت سے مفسرین نے ان سے مراد آدم اور حوا ؑ لیے ہیں، ان کی بنیاد اس روایت پر ہے جو سمرہ ؓ سے ترمذی اور حاکم وغیرہ میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب حوا نے بچہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا : ”اس کا نام عبد الحارث رکھو تو یہ زندہ رہے گا۔“ چناچہ انھوں نے بچے کا نام عبد الحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا۔“ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ماخوذ قرار دیا ہے اور اس کے ضعف کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، خصوصاً اس لیے بھی کہ اس میں شرک کی نسبت اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی آدم ؑ کی طرف کی گئی ہے۔ شیخ ناصر الدین البانی ؓ نے بھی سلسلہ ضعیفہ (342) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ اس روایت کی سند میں موجود ایک راوی حسن بصری ؓ نے وہ تفسیر فرمائی جو اوپر گزری اور صحیح سند کے ساتھ ان سے تفسیر طبری وغیرہ میں مروی ہے، اگر وہ رسول اللہ ﷺ سے اس روایت کو صحیح سمجھتے تو خود اس کے خلاف ہرگز تفسیر نہ فرماتے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ ابن کثیر ؓ وغیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اگر یہ سارا قصہ آدم و حوا ؑ کے متعلق ہی تسلیم کرلیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ“ میں استفہام انکاری ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو کیا آدم وحوا نے شرک کیا تھا ؟ جیسا کہ مشرکین عرب ان کی طرف شرک کی نسبت کرتے ہیں، یعنی نہیں۔ یہ تاویل بھی درست ہے، کیونکہ یہاں تک تثنیہ کی ضمیریں ہیں، آگے جمع کے صیغے کے ساتھ مشرکین پر رد ہے۔ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : اس سے مراد بالاتفاق کفار عرب ہیں، جیسا کہ بعد والی آیات سے ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب اولاد کی امید ہوتی ہے تو مشرکین اللہ سے تندرست اولاد عطا کرنے کی دعا کرتے اور شکر گزار ہونے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب ٹھیک ٹھاک تندرست اولاد عطا ہوجاتی ہے تو اسے غیر اللہ کی دین قرار دے دیتے ہیں، کوئی اسے عبد العزیٰ کہتا ہے، کوئی عبد المطلب، کوئی عبد ود اور کوئی عبد یغوث، یا کسی مردے کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں، یا شکریہ ادا کرنے کے لیے بچے کو کسی قبر پر لے جا کر اس کا ماتھا وہاں ٹکاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کے طفیل یہ بچہ ملا ہے۔ یہ سب صورتیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کی ہیں جو صرف مشرکین عرب ہی میں نہیں تھیں بلکہ مسلمان کہلانے والے بہت سے لوگوں میں اب بھی عام ہیں، چناچہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ کو سب سے پیارے دو نام عبداللہ یا عبد الرحمن یا اس سے ملتے جلتے نام یا شرک سے پاک نام رکھنے کے بجائے نبی بخش، حسین بخش، پیراں دتہ، عبد النبی، عبد الرسول اور بندۂ علی وغیرہ نام رکھتے ہیں۔ پھر وہ کسی کو کسی آستانے کا فقیر بنا دیتے ہیں، کسی کو کسی قبر کا مجاور بنا دیتے ہیں۔ کوئی اپنا نام سگ دربار غوثیہ رکھ لیتا ہے، کوئی سگ رسول یا سگ مدینہ۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
Ayahs 7:191–192

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ انھیں شریک بناتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا۔۔ : اس سلسلۂ کلام سے مقصود بتوں کی پرستش کی تردید ہے کہ ان میں معبود ہونے کی کوئی صفت نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی، حتیٰ کہ وہ سب جمع بھی ہوجائیں تو مکھی تک بنانا بلکہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لینا بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ دیکھیے سورة حج (73) وہ خود مخلوق ہیں، اپنے پوجنے والوں کی مدد تو درکنار اگر خود انھیں کوئی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے، تو پھر خالق کو چھوڑ کر اس بےبس مخلوق کی پوجا کیوں ؟
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی، اب ان سے ہر طرح کے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت، جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت ہے، نہ سننے یا دیکھنے یا کسی اور طرح سے تمہاری حالت سے باخبر ہونے کی۔ (دیکھیے مریم : 42) پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے امید رکھتے ہو کہ تمہیں سیدھے راستے پر لگائیں گے، یا تم انھیں سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دو گے تو تمہارے پیچھے چلے آئیں گے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تم ان کے لیے کسی کام کے ہو نہ وہ تمہارے لیے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ۔۔ : بت پرستوں نے اللہ کے نبیوں اور نیک لوگوں کے مجسمے ہی بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نوح (23) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بتوں کی صورت میں تمہارے یہ معبود جنھیں تم پکارتے ہو، تمہارے جیسے بندے ہی ہیں۔ یہ الفاظ بھی دلیل ہیں کہ وہ لوگ صرف پتھروں کو نہیں بلکہ بتوں کی صورت میں بزرگوں کو پوجتے اور پکارتے تھے، کیونکہ پتھروں کو تمہارے جیسے بندے نہیں کہا جاسکتا۔ بزرگ خواہ بت کی صورت میں ہوں، خواہ پختہ قبر میں مدفون ہوں، بات ایک ہی ہے کہ تمہاری طرح عبد ہیں، معبود نہیں، یعنی تمہارے عقیدے کے مطابق اگر ان میں عقل و فہم مان بھی لیں، یا ان کے زندہ ہونے کے وقت کو سامنے رکھ لیں تو زیادہ سے زیادہ ان کا تمہارے جیسا بندہ ہونا ثابت ہوسکتا ہے، عبادت کے لائق ہونا نہیں، مگر یہ تو تمہاری طرح کے جاندار بھی نہیں، جیسا کہ بعد کی آیت میں ”اَمْثَالُكُمْ“ (تمھارے جیسے) ہونے کی بھی نفی کردی ہے۔ فرمایا انھیں پکارو کہ تمہاری دعاؤں کو قبول اور تمہاری مرادوں کو پورا کریں۔ یہ بات مشرکوں کو لاجواب کرنے کے لیے فرمائی۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ کہہ دے تم اپنے شریکوں کو بلا لو، پھر میرے خلاف تدبیر کرو، پس مجھے مہلت نہ دو۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ۔۔ : تو پھر تمہاری عقل کہاں چلی گئی کہ انھیں مدد کے لیے پکارتے ہو اور ان کے سامنے ماتھے رگڑتے ہو۔ اس آیت سے مقصد یہ ہے کہ بیشک تم نے ان بتوں کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور کان بنا رکھے ہیں، مگر زندہ انسان بہرحال ان بتوں سے بہتر ہے، کیونکہ ان چاروں اعضا کی وجہ سے وہ احساس بھی رکھتا ہے اور حرکت بھی کرسکتا ہے۔ رہے یہ بت، تو ان میں نہ شعور و احساس ہے نہ حس و حرکت۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ۔۔ : یعنی اپنا جو زور میرے خلاف لگا سکتے ہو لگا لو، جو خفیہ سے خفیہ تدبیر میرے خلاف کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

بیشک میرا یارو مددگار اللہ ہے، جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہی نیکوں کا یارو مددگار بنتا ہے۔

اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ۔۔ : یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے ان معبودوں کو برا کہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تم ان کے غضب میں گرفتار ہو کر تباہ ہوجاؤ گے۔ فرمایا میرا یارومددگار اللہ ہے، مجھے تمہاری دھمکیوں کی کوئی پروا نہیں۔ نیز اس میں توحید کی دعوت بھی ہے کہ جب یہ اصنام قدرت و علم سے محروم ہیں تو جو لوگ عقل و فکر رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں، جس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کامل کتاب نازل فرمائی اور وہ ہر طرح سے نیک لوگوں کا یارومددگار بھی ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جنھیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : یہ بات پہلے بھی بیان فرمائی تھی، اس کا دوبارہ تذکرہ اس لیے کیا گیا کہ ان مشرکین کی بےوقوفی خوب واضح ہوجائے۔ (شوکانی)
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو نہیں سنیں گے اور تو انھیں دیکھتا ہے کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ نہیں دیکھتے۔

وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ۔۔ : یعنی مشرکین اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کی آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ رہے ہیں، مگر جب وہ بےجان بت ہیں تو دیکھیں گے کیسے ؟ (ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (ابن کثیر)
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

در گزر اختیار کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کر۔

خُذِ الْعَفْوَ : یعنی توحید کی دعوت کے جواب میں آپ کو مشرکوں اور جاہلوں کی طرف سے بہت تکلیف اٹھانا پڑے گی۔ دیکھیے آل عمران (186) اور بقرہ (109) آپ اس کے مقابلے میں درگزر سے کام لیں۔ یہاں آپ ﷺ کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آپ کے واسطے سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اسلام کی دعوت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے، جیسے فرمایا : (وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ) [ النحل : 125 ] ”اور ان سے اس طریقے سے بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“ اور فرمایا : (وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۠) [ آل عمران : 159 ] ”اور اگر تو بدخلق سخت دل ہوتا تو یقیناً وہ تیرے گرد سے منتشر ہوجاتے۔“ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ : ”عَرَفَ یَعْرِفُ“ سے مصدر بمعنی معروف ہے، وہ بات جس کا اچھا ہونا فطرت انسانی پہچانتی ہے اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ یعنی درگزر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انھیں نیکی کا حکم دینا چھوڑ دیں، بلکہ عفو و درگزر کا تعلق حسن اخلاق سے ہے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ : اگر وہ ضد پر اڑ کر مخالفانہ رویہ اختیار کریں اور بےفائدہ تکرار کریں تو بجائے الجھنے کے آپ خاموشی اختیار کریں، خواہ وہ اس خاموشی کو کوئی معنی پہنا دیں۔ امید ہے کہ اس سے ان کے رویے میں تبدیلی پیدا ہوگی اور ان کی جارحیت کا وار خالی جائے گا۔ دیکھیے سورة قصص (55) اور فرقان (63) بعض علماء نے فرمایا کہ عفو و درگزر کا یہ حکم مکہ میں تھا، مدینہ میں جا کر قتال اور اقامت حدود کا حکم نازل ہوا تو یہ منسوخ ہوگیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (109) مگر اس کے بعد بھی جو لوگ مسلمانوں میں سے جہالت اختیار کریں، جیسے منافق یا وہ کفار جن سے جنگ نہیں ہو رہی، ان سے درگزر کرنے، نیکی کا حکم دینے اور ان کی جہالت سے اعراض کا حکم اب بھی ہے، بلکہ دعوت کے وقت ان چیزوں کا خیال ہمیشہ رکھنا پڑے گا۔ ہاں حدود کے مجرموں یا جنگ پر آمادہ لوگوں سے ان کے لائق معاملہ کیا جائے گا اور اس کے واضح احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بیشک وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ۔۔ : قرآن میں تین مقامات پر معروف کا حکم دینے، درگزر کرنے، بہترین طریقے سے جواب دینے اور جاہلوں سے اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک پچھلی آیت میں، دوسرا سورة مومنون (96 تا 98) میں اور تیسرا حم السجدہ (34 تا 36) میں اور حم السجدہ میں اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن بھی متاثر ہو کر دلی دوست کی طرح ہوجائے گا، مگر شیطان پر احسان کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ وہ کھلا دشمن ہے اور ہر موقع پر انسان کو اکساتا اور غصہ دلاتا ہے۔ اس شیطانی حملے کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں، اس لیے تینوں آیات میں حکم دیا کہ اگر معلوم ہو کہ شیطان مجھے بھڑکا رہا ہے، غصے پر اکسا رہا ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو۔ اس پناہ کے سامنے شیطان بےبس ہے۔ قاموس میں ”نَزْغٌ‘ کا معنی ”چوکا مارنا، بھڑکانا اور وسوسہ ڈالنا“ لکھا ہے۔ سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے، ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، ان میں سے ایک سخت غصے میں اپنے ساتھی کو گالیاں دے رہا تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو جو حالت اس کی ہے ختم ہوجائے، وہ ہے ”اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ“ لوگوں نے اس آدمی سے کہا : ”تم سنتے نہیں، نبی ﷺ کیا فرما رہے ہیں ؟“ اس نے کہا : ”میں کوئی پاگل نہیں ہوں۔“ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب۔۔ : 6115۔ مسلم : 2610 ] اوپر جن تین آیات کے حوالے دئیے گئے ہیں ان کے حواشی بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہوجاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ۔۔ : ”طٰۗىِٕفٌ“ ”طَافَ یَطُوْفُ“ کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو ”طٰۗىِٕفٌ“ وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی ”طَیْفٌ“ یا ”طٰۗىِٕفٌ“ کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ ”مَسَّ یَمَسُّ (ع)“ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آجاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہوجاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں وہ انھیں گمراہی میں بڑھاتے رہتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔

وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے مقابلے میں ان کفار و منافقین کا جو اپنی شرارت اور خباثت نفس میں شیاطین کے بھائی ہیں، یہ حال ہے کہ ان کے بھائی شیاطین انھیں گمراہی میں بڑھاتے اور گھسیٹتے ہی لیے جاتے ہیں اور انھیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ (ابن کثیر)
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تو ان کے پاس کوئی نشانی نہ لائے تو کہتے ہیں تو نے خود اس کا انتخاب کیوں نہیں کرلیا ؟ کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔

وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ۔۔ : اس آیت میں شیاطین کے بھائیوں کی گمراہی اور بےجا ضد کی ایک مثال بیان فرمائی ہے، یعنی وہ پیغمبر سے ازراہ عناد کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس ہی سے کوئی آیت (معجزہ) کیوں نہیں لے آتے۔ فرمایا میں تو صرف وحی الٰہی کا تابع ہوں اور اپنی طرف سے کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا۔ دیکھیے سورة یونس (15 تا 17)۔ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ۔۔ : اس میں اشارہ ہے کہ قرآن کریم ہی بڑا کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید معجزوں کی طلب محض نہ ماننے کا بہانہ ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (50، 51) پھر یہاں قرآن کے تین بڑے اوصاف بیان فرمائے ہیں، جو صرف اس معجزے کی خصوصیت ہیں۔