Ayahs 7:146–147سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ۔۔ : نبی ﷺ نے فرمایا : ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی کبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو بڑا بنتے ہوئے حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر اور بےوقعت جاننے کا نام ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91، عن ابن مسعود ؓ ] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر جو لوگ اپنی بڑائی اور برتری کے زعم میں حق قبول نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ بھی انھیں اپنی آیات قبول کرنے سے دفع دور کردیتا ہے۔ یہاں فرمایا : ”میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا۔۔“ یعنی انھیں یہ سزا دوں گا کہ وہ میری عظمت، شریعت اور احکام کو سمجھ نہ سکیں گے اور پھر جاہل رہنے کی وجہ سے دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔ (نیز دیکھیے انعام : 110) اس لیے بعض سلف کا قول ہے : ”متکبر شخص علم حاصل نہیں کرسکتا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے ایک ساعت کی ذلت گوارا نہیں کرسکتا وہ جاہل رہ کر ہمیشہ کی ذلت مول لیتا ہے۔“ (ابن کثیر) ”ِ بِغَيْرِ الْحَقِّ“ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں حق بنتا ہو وہاں بڑا بن کے دکھانا درست ہے، مثلاً کفار کے مقابلے میں میدان جنگ کے اندر اللہ تعالیٰ کو متکبرانہ انداز کی چال بھی محبوب ہے جو عام حالات میں اسے سخت ناپسند ہے۔
وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ : یعنی یہ سب ان کے اپنے کیے کی سزا ہوگی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : (اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ) [ الصف : 5 ] ”جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کرو۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”الواح (تختیاں) دے کر یہ بھی فرمایا کہ قوم کو تقید (پابند) کرو کہ عمل کریں اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بےانصاف ہیں اور حق پرست نہیں ان کے دل میں پھیر دوں گا، اس پر عمل نہیں کریں گے، یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہوگی اور جو اپنی عقل سے کریں گے وہ قبول نہ ہوگا۔“ (موضح)
Ayah 7:148وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي۔۔ : یہی قصہ سورة طٰہٰ میں بھی بیان ہوا ہے۔ ”مِنْ حُلِيِّهِمْ“ (اپنے زیوروں سے) یہ الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ وہ زیورات بنی اسرائیل کے اپنے تھے، اس لیے بائبل اور ہماری تفسیروں کی اسرائیلی روایات میں جو کہا گیا ہے کہ وہ زیور قبطیوں کے تھے اور بنی اسرائیل نے ان سے ادھار لیے تھے وہ درست نہیں، مزید تفصیل سورة طٰہٰ (87) میں دیکھیں۔ جب موسیٰ ؑ طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامری نے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انھیں آگ میں پگھلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا، جس سے گائے کی آواز نکلتی تھی، اس آیت میں اس مجسمے کے بنانے کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کیونکہ سامری نے اسے ان کی اجازت اور رضا مندی سے بنایا تھا اور وہ اپنے لیے اس قسم کے ایک معبود کی خواہش رکھتے تھے۔ (ابن کثیر) تفسیر ثنائی میں ہے کہ موجودہ تورات کی دوسری کتاب کے بتیسویں باب میں جو لکھا ہے کہ ہارون ؑ نے خود ہی ان کو بچھڑا بنادیا تھا، یہ صریح غلط ہے، شان نبوت اور شرک اجتماع ضدین ہے۔ عیسائیو ! قرآن کے ”مُھَیْمِنٌ عَلَی التَّوْرَاۃِ“ ہونے میں اب بھی شک کرو گے ؟ (مُھَیْمِنٌ کا معنی سمجھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے سورة مائدہ : 48 کے حواشی) مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ بچھڑا واقعی گوشت پوست اور خون کا بن گیا تھا اور اس میں جان پڑگئی تھی، یا وہ محض ایک مجسمہ رہا، جس میں ہوا داخل ہوتی یا داخل کی جاتی تو اس سے بچھڑے کی سی آواز نکلتی تھی ؟ جو مفسرین اس کے واقعی جاندار بچھڑا ہونے کے قائل ہیں وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل ؑ موسیٰ ؑ کے پاس گھوڑی پر سوار آئے، سامری نے انھیں دیکھ لیا اور ان کی گھوڑی کے پاؤں تلے کی کچھ مٹی لے لی اور انھوں نے سورة طٰہٰ کی آیت (96) (ٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ) کے یہی معنی کیے ہیں، چناچہ اس مٹی کو جب انھوں نے بچھڑے کے اس مجسمے پر ڈالا تو وہ سچ مچ کا بچھڑا بن گیا، لیکن یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے۔ نیز دیکھیے سورة طٰہٰ (88 تا 96)۔
اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ: اللہ تعالیٰ نے تو نظر نہ آنے کے باوجود موسیٰ ؑ سے کلام کیا اور ہدایت کا راستہ بھی بتایا، یہ عجیب معبود ہے کہ سامنے ہونے کے باوجود نہ بات کرسکتا ہے نہ ہدایت دے سکتا ہے، پھر وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے ؟ اگر بالفرض اس میں جان بھی پڑگئی ہے تو وہ ایک عاجز حیوان ہے، اس جیسی بلکہ اس سے بہتر بیشمار گائیں ڈنڈے کھاتی پھرتی ہیں اور زنجیروں میں بندھی ہوئی بےبس ہو کر دودھ دے رہی ہیں۔ معلوم ہوا معبود کے لیے کلام کرنے والا اور ہدایت دینے والا ہونا ضروری ہے۔ ”کلام کرنے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم دے سکے، منع کرسکے اور ”ہدایت دینے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہدایت دینے پر قدرت ہو۔
Ayah 7:149وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ : یہ عربی زبان کا محاورہ ہے، جس کا معنی ہے کہ جب وہ نادم اور پشیمان ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ محاورہ کیسے بنا تو ظاہر ہے کہ یہاں ان کے ہاتھوں میں گر پڑنے والی چیز مجہول رکھی گئی ہے، گویا ندامت کی وجہ سے ان کے منہ ہاتھوں میں آ گرے اور اس پشیمانی میں انھوں نے اپنے چہرے ہاتھوں میں چھپا لیے۔ یا انسان جب پشیمان اور نادم ہوتا ہے تو وہ دانتوں سے ہاتھ کاٹتا ہے، گویا اس کا منہ اور دانت ہاتھوں میں آ گرتے ہیں، یعنی بےاختیار پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی جب انھیں کچھ ہارون ؑ کے سمجھانے سے اور کچھ موسیٰ ؑ کی تشریف آوری پر ان کے غیظ و غضب سے احساس ہوا کہ ہم کتنا بڑا غلط کام کر بیٹھے ہیں تو انھوں نے یہ دعا کی۔ سورة بقرہ (54) کی تفسیر میں ان کی توبہ، ایک دوسرے کو قتل کرنے اور توبہ کی قبولیت کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayah 7:150وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓي اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا : ”غَضْبَانَ“ ”فَعْلَانَ“ کے وزن پر کسی چیز سے بھرے ہوئے ہونے پر دلالت کرتا ہے، یعنی غصے سے بھرے ہوئے۔ ”اسفا ‘ صفت کا صیغہ ہے، لغت میں اس کا معنی غصے والا بھی ہے جو غضب سے بھی بڑھ کر ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ) [ الزخرف : 55 ] ”پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔“ اور اس کا معنی افسوس اور غم بھی ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ شدید غصہ اور افسوس ایک ہی چیز کی دو حالتیں ہیں، کوئی کمزور ہو تو اس پر غصہ آتا ہے اور طاقت ور ہو تو افسوس ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں رہ کر موسیٰ ؑ کو ان پر غلبہ بھی حاصل تھا اور ان کی جہالتوں پر بےبس بھی تھے۔ یعنی موسیٰ ؑ غصے اور افسوس سے بھرے ہوئے واپس لوٹے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں طور پر ہی خبر دے دی تھی کہ سامری نے آپ کے بعد آپ کی قوم کو گمراہ کردیا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (85)۔
بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ ۚ: یعنی میں جاتے وقت تمہیں کہہ گیا تھا کہ جب تک میں نہ آؤں ہارون میرے خلیفہ ہوں گے، ان کا حکم ماننا اور مفسدوں کے پیچھے نہ لگنا، مگر میں جب مقرر میعاد (30) دن تک واپس نہ آیا تو تم نے سمجھ لیا کہ میں مرگیا ہوں، اس پر تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کردیا، اس طرح تم میرے بعد بہت برے جانشین ثابت ہوئے، یا تم نے بہت برا کام کیا ہے۔ (المنار)
وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ۔۔ : موسیٰ ؑ کا شدید غصہ دو کاموں کی صورت میں ظاہر ہوا، ایک الواح کو پھینکنا اور دوسرا ہارون ؑ کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیکھنے اور سننے میں بہت فرق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سنی ہوئی بات آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ عزوجل نے موسیٰ ؑ کو اس کی خبر دی جو ان کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں کیا تھا، مگر انھوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، جب آنکھوں سے دیکھا جو کچھ انھوں نے کیا تھا تو تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔“ [ أحمد : 1؍271، ح : 2451۔ مستدرک حاکم : 2؍321، ح : 3250، عن ابن عباس وصححہ الألبانی ] rnۭ قَالَ ابْنَ اُمَّ : موسیٰ ؑ ہارون ؑ کے سگے بھائی ہی تھے، مگر انھوں نے ان کی شفقت حاصل کرنے کے لیے ”اے میری ماں کے بیٹے“ کہا۔ ”ابْنَ اُمَّ“ اصل میں ”یَا ابْنَ أُمِّیْ“ تھا، حرف ندا یاء حذف کردیا اور ”أُمِّیْ“ کی یاء کو الف سے بدل دیا تو ”ابْنَ اُمَّا“ بن گیا، پھر مزید تخفیف کے لیے الف بھی حذف کردیا تو ”ابْنَ اُمَّ ‘ بن گیا۔
اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِي۔۔ : یعنی میں نے انھیں بچھڑے کی پوجا سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ : 90) مگر یہ لوگ مجھ پر پل پڑے اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کردیتے۔
فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَاۗءَ۔۔ : ”شَمَاتَۃٌ“ کا معنی کسی نقصان پر دشمن کا خوش ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ کے اس انداز غضب پر دشمن تو ضرور خوش ہوئے ہوں گے، دشمنوں سے مراد بچھڑا بنانے والے اور اس کی عبادت کی حمایت کرنے والے ہیں۔ اس لیے ہارون ؑ نے کہا کہ اس طرح میری گرفت کرکے دشمنوں کو خوش نہ کرو۔ (وَلَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ) اور یہ طے نہ کرلو کہ میں بھی ان کے بچھڑا بنانے یا پوجنے کے عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ اس سے ہارون ؑ پر تورات کی اس تہمت کا واضح رد ہوگیا جس کا ذکر پیچھے (آیت 148) میں ہوا ہے کہ یہ بچھڑا ہارون ؑ نے بنایا تھا۔ ہارون ؑ کو اس بات سے بھی بہت تکلیف ہوئی کہ بھائیوں کے اختلاف سے دشمن خوش ہوں گے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ ہمیشہ ”شَمَاتَۃُ الْاَعْدَاءِ“ سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، یعنی اس بات سے ہمیشہ پناہ مانگتے کہ کسی مصیبت پر دشمنوں کو خوشی حاصل ہو۔ پوری دعا اس طرح ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَکِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَۃِ الْأَعْدَاءِ) [ بخاری، الدعوات، باب التعوذ من جہد البلاء : 6347 ]
Ayah 7:151قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ : ہارون ؑ کے حلیمانہ وعاجزانہ لہجے اور عذر سے موسیٰ ؑ نرم ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہارون ؑ کو ڈانٹنے میں ہوئی اور ہارون ؑ کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے لوگوں کو باز رکھنے میں ان سے ہوئی ہو۔
Ayah 7:152سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب یہ ہوا کہ جب تک ان میں سے بعض نے بعض کو قتل نہیں کیا ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ (دیکھیے بقرہ : 54) بنی اسرائیل میں جس طرح قتل عمد کی حد قتل تھی اسی طرح شرک کی حد بھی قتل ہی تھی اور یہ اس ”اِصْرٌ“ یعنی بوجھ میں شامل تھی جو پہلی امتوں پر ڈالے گئے۔ ہماری امت میں یہ تخفیف ہوئی کہ شرک کی حد اب قتل نہیں بلکہ صدق دل سے توبہ ہی سے معافی ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر شرک پر اصرار کرے تو وہ مرتد ہے اور اسے قتل کیا جائے گا۔
وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْن : ابو قلابہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا : ”قیامت تک ہر مفتری کی یہی سزا ہے (خواہ دین میں شرکیہ کام ایجاد کرے یا کوئی اور)۔“ کیونکہ کوئی بھی نئی چیز دین میں داخل کرنے والا مفتری ہے اور بدعت بدترین جھوٹ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمے لگایا جاتا ہے۔ امام مالک اور سفیان بن عیینہ ; نے کہا ہے کہ ”مفترین“ کے معنی ”مبتدعین“ یعنی اہل بدعت کے ہیں اور ہر بدعتی قیامت تک ذلیل و خوار ہوتا رہے گا۔ (قرطبی، بغوی)
Ayah 7:153وَالَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ۔۔ : معلوم ہوا خالص توبہ کے بعد ایمان و اصلاح کے ساتھ زندگی گزارنے سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے، وہ چھوٹا ہو یا بڑا، جس توبہ کے بعد عمل کی اصلاح نہ ہو اس کا اعتبار نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (160) ، آل عمران (89) اور سورة نحل (119)۔
Ayah 7:154وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ : ”سَكَتَ“ کا لفظی معنی ”خاموش ہونا“ ہے۔ یہ ایک پر لطف استعارہ ہے، گویا یہاں غصے کو ایسے آدمی سے تشبیہ دی ہے جو مسلسل موسیٰ ؑ کو بھڑکا رہا تھا، جب وہ انھیں بھڑکانے سے خاموش ہوگیا تو موسیٰ ؑ بھی ٹھنڈے پڑگئے۔ قرآن مجید میں جو لطف یہاں ”سَكَتَ“ کا لفظ دے رہا ہے کوئی دوسرا لفظ، مثلاً ”سَکَنَ“ (ساکن ہوگیا) وغیرہ کبھی یہ لطف نہ دیتا۔
اَخَذَ الْاَلْوَاحَ : غصہ ٹھنڈا ہونے پر موسیٰ ؑ نے وہ تختیاں اٹھائیں جو اگرچہ گرنے کی وجہ سے کچھ ٹوٹ گئی تھیں، جیسا کہ اس سے پہلے آیت (150) کے حاشیہ (3) میں صحیح حدیث سے نقل ہوا، مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ ٹوٹنا معمولی تھا، ایسا نہ تھا کہ تختیاں اٹھائی نہ جا سکتیں، یا انھیں پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ ہوتا۔
وَفِيْ نُسْخَتِهَا : ”نُسْخَۃٌ“ ”فُعْلَۃٌ“ کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہے۔ ”نَسَخَ یَنْسَخُ (ف)“ کے معنی اگرچہ پہلے حکم کو دوسرے حکم کے ساتھ ختم کرنے کے بھی آتے ہیں، مگر اس کا معنی ”لکھنا“ بھی آتا ہے۔ ”اِسْتَنْسَخَ“ بھی اسی معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الجاثیۃ : 29 ] ”بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم عمل کرتے تھے۔“ ”نُسْخَۃٌ“ اس اصل کو بھی کہتے ہیں جس سے نقل کیا جائے اور نقل شدہ کو بھی ”نُسْخَۃٌ“ کہا جاتا ہے۔
لِّلَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ : آسمانی کتابوں سے فائدہ اور ہدایت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو صرف اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (3)۔
Ayah 7:155وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ۔۔ : موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ وقت پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب فرمایا، ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ نے ان میں سے بہترین آدمیوں ہی کا انتخاب کیا ہوگا، مگر وہاں جا کر ان پر اللہ کا ایسا غضب ہوا کہ وہ سب زلزلے سے مرگئے۔ اس عذاب کا باعث کیا تھا ؟ مفسرین نے مختلف وجوہ بیان کی ہیں، جن میں سے سب سے راجح وہی بات ہے جو سورة بقرہ (55) میں ذکر ہوئی ہے کہ انھوں نے کہا تھا : ”اے موسیٰ ! جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں تیرا یقین ہرگز نہیں کریں گے۔“ اس گستاخی پر ان پر بجلی گری جس سے وہ سب مرگئے۔ یہاں ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلے) کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ بجلی کی کڑک سے، خصوصاً جب وہ بصورت عذاب ہو، زلزلہ آنا معمول کی بات ہے۔
قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ : یعنی اگر تو چاہتا تو ان ستر آدمیوں کو بنی اسرائیل سے نکلنے سے پہلے وہیں ہلاک کردیتا، تاکہ بنی اسرائیل ان کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور مجھ پر الزام نہ رکھ سکتے کہ میں نے انھیں ہلاک کردیا ہے اور تو چاہتا تو میری قوم کی گستاخی کی پاداش میں مجھے بھی ہلاک کردیتا، تو نے جب اس وقت ہم پر رحم کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا تو اب بھی ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور انھیں ہلاک نہ کر۔
ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا ۚ: بیوقوفوں کے فعل سے مراد بچھڑے کی عبادت بھی ہوسکتی ہے، مگر زیادہ واضح بےوقوفی موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ کو صاف دکھانے کا مطالبہ اور شرط ہے کہ ہم اس کے بغیر تیری بات کا یقین ہی نہیں کریں گے۔
بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا ۚ: معلوم ہوا کہ نہ بچھڑے کی عبادت تمام بنی اسرائیل نے کی تھی اور نہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ ستر کے ستر نے کیا تھا۔ یہ ان کے جاہل اور بیوقوف لوگوں کا فعل تھا۔ موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ پروردگار ! کیا تو ہم میں سے بیوقوف لوگوں کے فعل کی وجہ سے سب کو ہلاک کر دے گا۔
اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ: یعنی جنھوں نے بچھڑے کی پوجا کی یا تجھے آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا، حقیقت میں یہ سب کام تیری طرف سے ایک آزمائش تھے، تو جس طرح چاہتا ہے امتحان لیتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ (ابن کثیر) اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ زندہ کردیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (56)۔
Ayah 7:156قَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ۔۔ : یعنی میرا عذاب تو صرف ان کافروں اور نافرمانوں کے لیے مخصوص ہے جنھیں میں ان کی نافرمانی پر سزا دینا چاہتا ہوں، کیونکہ عذاب دینا میری غالب صفت نہیں بلکہ وہ میرا ایک فعل ہے جو عدل کے تقاضے کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ میری اصل اور غالب صفت جس کے ساتھ کائنات کا نظام چل رہا ہے، وہ میری رحمت ہے، جس سے کائنات کی ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، اسی اثنا میں ایک اعرابی نے نماز کی حالت میں کہہ دیا : ”اے اللہ ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس اعرابی سے فرمایا : (لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا) ”تو نے اللہ تعالیٰ کی رحمت واسع کو محدود کردیا۔“ [ بخاری، الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم : 6010 ] اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں بھی خاص نیکو کاروں کے لیے ہوتی اور کفر و نافرمانی پر فوراً مؤاخذہ ہوتا تو وہ روئے زمین پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا۔ دیکھیے سورة نحل (61) اور فاطر (45) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمت پیدا فرمائی، اس میں سے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور زہریلے سانپوں اور کیڑوں میں اتاری، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اللہ تعالیٰ نے مؤخر کر رکھی ہیں جن کے ساتھ وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : 2752، 2753، عن أبی ہریرہ ؓ ]rnۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ : ”وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ“ کے الفاظ میں ابلیس اور تمام کفار بھی شامل تھے، کیونکہ ”ْ كُلَّ شَيْء“ میں یہ سب داخل ہیں، اس لیے یہ بتانے کے لیے کہ یہ سب میری رحمت سے محروم ہیں، فرمایا کہ میں اپنی رحمت صرف ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو ڈرتے ہیں اور ان تمام صفات کے حامل ہیں جو اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مذکور ہیں۔ یہ بھی وضاحت فرما دی کہ نبی امی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اس رحمت کے مستحق صرف وہ ہیں جو آپ ﷺ کے متبع ہوں گے۔
وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ : دوسرے ارکان و فرائض کو چھوڑ کر خاص طور پر زکوٰۃ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہودیوں میں مال کی محبت بہت پائی جاتی تھی جس کی بنا پر وہ جتنی کوتاہی ادائے زکوٰۃ میں کرتے تھے کوئی اور فریضہ ادا کرنے میں نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ اس محبت نے زکوٰۃ دینے میں کوتاہی سے آگے بڑھ کر انھیں سود خوری پر لگا دیا۔ وہی حال اب امت محمد ﷺ کا ہے، مگر جس پر میرے رب کا خاص کرم ہو۔
وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ : یہ آیت تمام احکام شریعت پر حاوی ہے۔ تقویٰ (نافرمانی سے پرہیز) ، زکوٰۃ (حقوق مالی) اور اللہ کی آیات پر ایمان میں ہر قسم کی معرفت آجاتی ہے، یہاں موسیٰ ؑ کی دعا کا جواب ختم ہوگیا، اب اگلی آیت سے موقع کی مناسبت سے یہود و نصاریٰ کو نبی ﷺ کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دنیا و آخرت میں رحمت الٰہی کے حصول کے لیے مندرجہ بالا صفات کے علاوہ ”نبی امی“ کی پیروی بھی ضروری ہے۔
Ayah 7:157اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ۔۔ : یعنی اس زمانے میں میری رحمت کے خاص طور پر مستحق وہ لوگ ہیں۔۔ (قرطبی)
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی نو صفات مذکور ہیں اور الْاُمِّيَّ (جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو) کے لفظ سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے، جو ”علوم نبوت“ قرآن مجید اور احادیث کی شکل میں موجود ہیں انھیں پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب ترین قوموں کی راہنما بن گئی۔
الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا۔۔ : اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل میں لفظی اور معنوی تحریف میں کم ہی کسر چھوڑی ہے، خصوصاً مختلف زبانوں کے تراجم میں آپ ﷺ کے نام کے بجائے اس کا ترجمہ کردیا ہے، حالانکہ نام کا ترجمہ نہیں کہا جاتا، پھر ترجمہ بھی اپنی مرضی کے مطابق کیا ہے اور اصل زبان میں جو کتابیں تھیں وہ ملتی ہی نہیں، تاہم آج بھی تورات و انجیل میں وہ مقامات موجود ہیں جن میں بنی اسرائیل کو نبی ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے استثناء، باب 18، فقرہ 15 تا 19۔ باب 33، فقرہ 2۔ متی، باب 3، فقرہ 1 تا 12۔ یوحنا، باب 1، فقرہ 19 تا 22۔ باب 14، فقرہ 15 تا 17 اور 25 تا 27۔ باب 16، فقرہ 12 تا 15۔ علاوہ ازیں دیکھیے تورات کی پانچویں کتاب استثناء، باب 17، فقرہ 14۔ یوحنا، باب 16، فقرہ 12 تا 14۔
وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ۔۔ : یعنی جو طیب چیزیں ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کردی گئی تھیں، یا انھوں نے خود انھیں اپنے اوپر حرام کرلیا تھا (جیسے اونٹ کا گوشت اور چربی وغیرہ) وہ انھیں حلال قرار دیتا ہے اور جن ناپاک چیزوں کو انھوں نے حلال قرار دے رکھا تھا (جیسے سور کا گوشت اور شراب وغیرہ) وہ انھیں حرام قرار دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو چیز شریعت نے حلال قرار دی ہے وہ طیب ہے اور جو حرام قرار دی ہے وہ خبیث ہے۔
وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ۔۔ : ”اِصْرٌ“ (بوجھ) سے مراد وہ سخت احکام ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نماز صرف عبادت خانوں ہی میں ادا کرنا، شرک کی حد قتل ہی ہونا وغیرہ اور ”وَالْاَغْلٰلَ“ (طوقوں) سے مراد وہ خود ساختہ پابندیاں ہیں جو ان کے علماء نے ان پر لگا رکھی تھیں، یا ان کے عوام نے جو رسوم خود اپنے آپ پر لازم قرار دے رکھی تھیں، مثلاً حائضہ کو کھانے پینے میں الگ کردینا، اس کی رہائش بھی الگ کردینا، جیسا کہ مسلمانوں میں نصرانیوں اور ہندوؤں کی دیکھا دیکھی موت کی رسوم تیجا، ساتواں، چالیسواں، پیدائش اور نکاح کی رسوم، مثلاً بچے کی پیدائش پر دروازے پر سِرَس یعنی شَرِینہ کے پتے لٹکانا، زچہ کی چارپائی پر لوہا رکھنا، کھسرے نچانا، ان پر خرچ کرنا، بےاولاد خاتون کو منحوس سمجھ کر گھر میں نہ آنے دینا، نکاح میں سہرا، گانا، مہندی، منگنی کی خود ساختہ رسمیں، اسی طرح نیوندرہ، سلامی اور جہیز وغیرہ جن سے لوگوں کی زندگی دشوار ہوچکی ہے اور جو نہ اللہ کی کتاب میں ہیں نہ سنت رسول ﷺ میں۔ اسی طرح اللہ بہتر جانتا ہے کہ پیغمبروں کی گستاخی کرنے والی حتیٰ کہ انھیں قتل تک کردینے والی اس امت کے احبارو رہبان نے کتنی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا ہوگا اور ختم اور میت بخشوانے وغیرہ کے نام پر لوگوں کا مال کس کس طرح کھایا ہوگا۔ محمد ﷺ نے وہ تمام بوجھ اور طوق اتار کر اور وہ تمام پابندیاں توڑ کر اصل اسلام پیش فرمایا جو نہایت سادہ اور آسان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَحَبُّ الدِّیْنِ إِلَی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ) ”اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب آسان حنیفی دین ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح : 39، تعلیقًا ] اور فرمایا : (اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ) ”دین آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : 39 ] ایک دوسری حدیث ہے : (لاَ ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 250 ] یعنی نہ ابتداءً نقصان پہنچانا جائز ہے نہ بدلے میں نقصان پہنچانا۔ نیز آپ صحابہ کرام ؓ کو ہمیشہ تلقین فرماتے : (یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا)”آسانی کرو، تنگی مت کرو۔“ [ بخاری، الأدب، باب قول
النبی ﷺ : یسروا ولا تعسروا : 6125 ]
افسوس مسلمانوں نے بھی اہل کتاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت کے فرائض کی پابندی کرنا اور منع کردہ چیزوں سے اجتناب چھوڑ دیا اور اپنی اور اپنے مولویوں اور جاہل عوام کی خود ساختہ رسوم و رواج کے بوجھ اور طوق اپنے اوپر ڈال کر اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال دیا۔ وہ حج پر نہیں جاتے مگر قبروں پر عرسوں میں ہزاروں لٹا دیتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے مگر مرشدوں کے وظائف پر گھنٹے لگا دیتے ہیں۔ زکوٰۃ و عشر نہیں دیتے مگر میت کے موقع پر دیگوں، ختموں اور مولوی صاحبان پر لاکھوں اڑا دیتے ہیں، نکاح کی رسوم پوری کرنے، جہیز بنانے کے لیے ساری عمر کے لیے مقروض ہوجاتے ہیں مگر لڑکیوں کو ورثہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب اس کی شکایت اللہ کے سوا کس کے سامنے کی جائے۔ rnۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ۔۔ : وہ نور جو آپ کے ساتھ اتارا گیا وحی الٰہی ہے جو قرآن و سنت کی صورت میں قیامت تک محفوظ ہے۔ ”ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ“ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ کی آمد کا علم ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا، خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا کوئی اور، وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتا۔ دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (62) کا حاشیہ (2)۔
Ayah 7:158قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا۔۔ : یعنی میری رسالت تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ”جَمِيْعَۨا“ کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں صاف ظاہر ہیں اور مجھے ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنے والا وہ ہے جو آسمان و زمین کا بادشاہ، اکیلا عبادت کا حق دار اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اب مجھ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنا انجام سوچ لو۔ رسول اللہ ﷺ کے تاقیامت تمام قوموں کے لیے رسول ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے۔ دیکھیے سورة سبا (28) ، فرقان (1) اور احزاب (40)۔ ”جہاں تک پہنچے“ کے الفاظ کے ساتھ رسالت عام ہونے کی تصریح کے لیے دیکھیے سورة انعام (19) عرب اور اہل کتاب کی صراحت کے ساتھ دیکھیے سورة آل عمران (20) اور دوسری آیات۔
فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ۔۔ : پچھلی آیت میں اور اس میں نبی ﷺ کے وصف نبی امی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بیخبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : ”آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔“ [ العنکبوت : 48 ] اور فرمایا : ”یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔“ [ ھود : 49 ] اور فرمایا : ”آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔“ [ الشوریٰ : 52 ] بلکہ فرمایا : ”آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔“ [ القصص : 86 ] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔
يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ : اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورة کہف (109) اور لقمان (27) میں۔
لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ : معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورة نجم (3، 4)۔
Ayah 7:159وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ۔۔ : اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو تورات پر قائم رہے اور وہ جو نبی ﷺ کی آمد پر آپ پر ایمان لے آئے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔
Ayahs 7:160–162وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا : ”اَسْبَاطًا“ یہ ”سَبْطٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی اولاد کی اولاد ہے۔ یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ اپنے الگ الگ اوصاف کی وجہ سے ہر قبیلے نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے پر ایک نقیب مقرر فرمایا : (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ) [ المائدۃ : 12 ] ”اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے۔“ ”اُمَمًا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعداد میں بہت بڑھ گئے۔
اس آیت میں ”فَانْۢبَجَسَتْ“ اور سورة بقرہ میں ”فَانْفَجَرَت“ ہے۔ راغب اصفہانی ؓ فرماتے ہیں کہ ”اِنْبَجَسَ“ اکثر اس کے متعلق کہا جاتا ہے جو تنگ چیز سے نکلے اور ”اِنْفَجَرَ“ اس معنی میں بھی آتا ہے اور اس کے متعلق بھی جو کھلی چیز سے نکلے۔ (مفردات) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (58 تا 60)۔
Ayah 7:163وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ۔۔ : اس واقعہ کا انداز بیان پچھلی آیات سے ذرا مختلف ہے، فرمایا، ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھیے، کیونکہ تورات یا کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں تھا مگر یہودیوں کو یہ واقعہ خوب معلوم تھا اور وہ اپنے دوسرے عیوب کی طرح اسے بھی چھپاتے تھے۔ جب آپ پوچھیں گے تو انھیں ضرور سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ اس واقعہ کی خبر آپ تک کیسے پہنچی، وحی کے سوا کوئی اور ذریعہ اس کے لیے ممکن نہیں، اس لیے لامحالہ انھیں آپ کے نبی الٰہی ہونے کی ایک اور شہادت مل جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے صرف یہ بتایا ہے کہ وہ بستی سمندر کے کنارے آباد تھی اور نصیحت کے لیے اتنا بتانا ہی کافی تھا۔ البتہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس قریہ (شہر) سے مراد ”ایلات“ ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔ یہ شہر بحر قلزم کے اندر خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں اب اردن کی بندرگاہ عقبہ پائی جاتی ہے، اس کے قریب خلیج عقبہ ہی میں یہودیوں نے جو نئی بندرگاہ بنائی ہے اس کا نام انھوں نے ”ایلات“ ہی رکھا ہے۔ مگر کسی یقینی دلیل کے بغیر اس شہر کی تعیین ممکن نہیں۔
اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتے کے دن ان کے لیے شکار جائز نہیں تھا۔
اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ۔۔ : ”حِیْتَانٌ“ یہ ”حُوْتٌ“ کی جمع ہے، یعنی بڑی مچھلی۔ دوسری جگہ یونس ؑ کے متعلق فرمایا : (فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ) [ الصافات : 142 ] ”پس مچھلی نے اسے نگل لیا۔“ (راغب) ”شُرَّعًا“ ”شَارِعٌ“ کی جمع ہے، یعنی پانی سے سر نکالے ہوئے آ جاتیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انھیں حکم تو یہ تھا کہ اس دن کی تعظیم کریں اور اس میں شکار وغیرہ سے باز رہیں مگر انھوں نے فریب اور حیلہ سازی سے مچھلیاں پکڑنا شروع کردیا، چناچہ انھوں نے سمندر کے کنارے بڑے بڑے حوض کھود لیے، ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں تو ان حوضوں میں داخل ہوجاتیں، وہ سمندر کی طرف سے ان کا راستہ بند کردیتے اور اتوار کے دن ان کو پکڑ لیتے، یا جمعہ کے دن سمندر میں جال نصب کردیتے اور ہفتہ کے دن ان میں پھنسی ہوئی مچھلیوں کو اتوار کے دن پکڑ لیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حرام کام کا ارتکاب کرنے کے لیے حیلہ کرنا حرام ہے۔ ہاں جائز کام کے لیے حیلہ بھی جائز ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے امام ابوعبد اللہ بن بطہ ؓ کی سند سے ابوہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل فرمایا ہے : (لَا تَرْتَکِبُوْا مَا ارْتَکَبَتِ الْیَھُوْدُ فَتَسْتَحِلُّوْا مَحَارِمَ اللّٰہِ بِأَدْنَی الْحِیَلِ)”وہ کام مت کرو جو یہود نے کیا، ورنہ تم اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو معمولی حیلوں سے حلال کرلو گے۔“ اور فرمایا کہ یہ سند جید ہے۔ مگر افسوس کہ بعض مسلمان فقہاء نے اسلام کے فرائض سے جان چھڑانے کے لیے کئی حیلے ایجاد کیے، مثلاً رمضان کے آخر میں دو رکعتوں کا نام قضائے عمری رکھ کر پچھلی نمازیں معاف ہونے کا فتویٰ دے دیا اور صاف لکھ دیا کہ زکوٰۃ اور شفعہ سے جان چھڑانے کے لیے حیلہ حرام تو کجا مکروہ بھی نہیں۔ قتل کے قصاص کو ختم کرنے کے لیے تیز دھار آلے سے قتل کی شرط لگا دی اور کہا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر بھاری سے بھاری پتھر یا ہتھوڑے کے ساتھ قتل کر دے، یا ڈبو کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر، یا کسی چار دیواری میں بھوکا پیاسا رکھ کر مار دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، زیادہ سے زیادہ دیت لے سکتے ہیں۔ زنا کو حلال کرنے کے لیے اجرت پر عورت لا کر زنا کرنے سے حد ختم کردی۔ شراب حلال کرنے کے لیے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام اور باقی سب کو حلال کہہ دیا۔ چور کی حد چوری کا جرم شہادتوں سے ثابت ہونے کے بعد صرف اتنی بات سے ختم کردی کہ چور مسروقہ مال کا مالک ہونے کا دعویٰ کر دے، خواہ اس کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کرے۔ بتائیے بلا دلیل دعویٰ کرنے سے ہاتھ کٹنے سے بچ جائے تو کون سا چور یہ دعویٰ نہیں کرے گا۔ سود کو دار الحرب میں اور بہت سی خود ساختہ صورتوں میں حلال کردیا۔ بعض نے جو شخص نماز پڑھے اور جو نہ پڑھے دونوں کا ایمان برابر قرار دے دیا۔ جب اتنے بڑے گناہ حیلے سے جائز ہوگئے تو ان کے مرتکب بھی صالح اور عادل ٹھہرے اور حکومت اور قضاء کے اہل قرار دیے گئے۔ ایسے حکام، ایسی عدالتوں اور ایسے شاہدوں اور قاضیوں کے فیصلوں کا نتیجہ اہل کتاب ہی کی طرح پہلے شدید بدعملی، پھر انتہائی ذلت کی صورت میں سب کے سامنے ہے، اس کا علاج یہی ہے کہ مسلمان ان ”الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ“ کا طریقہ چھوڑ کر کتاب و سنت کو بلاحیل و حجت مضبوطی سے تھام لیں تو اللہ تعالیٰ انھیں پھر وہی عزت و کرامت عطا فرمائے گا جو اس نے پہلے عطا فرمائی تھی۔
كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو حلال روزی نہ ملے اور حرام آسانی سے ملے تو لازم ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھے، اگر حرام کا مرتکب ہوجائے گا تو وہ روزی وبال ہوگی اور اگر صبر کرے گا اور حرام سے بچ کر امتحان میں کامیاب ہوجائے گا تو انعام ملے گا۔
Ayah 7:164وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ۔۔ : یعنی اس بستی کے نیک لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان لوگوں سے کہا جو اس حیلہ سازی سے شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔ جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک وہ ظالم جو اس حیلہ سازی سے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔ دوسرا گروہ وہ جو ان کو ایسا کرنے سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو خود اگرچہ نیک تھا لیکن دوسروں کو برائی سے منع نہیں کرتا تھا، پس یہاں ”اُمَّةٌ“ سے مراد یہی تیسرا گروہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ گروہ جو برائی سے منع کرنے والوں سے کہتا تھا کہ تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، یہ بھی نیک لوگ تھے اور اپنی طرف سے پورا زور لگا چکے تھے کہ انھیں اس گناہ سے منع کریں مگر ان کی ہٹ دھرمی کے بعد ان سے مایوس ہو کر خاموش ہوگئے تھے اور اب ان پر عذاب آنے کے منتظر تھے۔
لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨا اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ۔۔ : یعنی کیوں ان کے سمجھانے میں وقت ضائع کرتے ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں عذاب لکھ دیا ہے تو تم انھیں کیسے بچا لو گے ؟ ! مطلب یہ کہ خود نیکی پر قائم رہو اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔
قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ۔۔ : برائی سے منع کرنے والوں نے اپنے عمل کی دو وجہیں بیان کیں، ایک تو یہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس جرم میں نہ پکڑ لے کہ تم نے انھیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑ دیا تھا، تاکہ ہمارا عذر بن جائے کہ ہم تو منع کرتے رہے تھے اور دوسری یہ کہ ہم کسی صورت ناامید ہونے والے نہیں، شاید یہ سب یا ان میں سے کچھ لوگ اس عمل بد سے بچ جائیں، کیونکہ داعی کو ہمیشہ پر امید رہنا چاہیے۔
Ayahs 7:165–166فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ۔۔ : یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔ (دیکھیے سورة سجدہ : 21) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن (وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا) کے بعد دوبارہ (فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا عذاب تنبیہ کے لیے تھا، پھر بھی جب وہ متنبہ نہ ہوئے، بلکہ سرکشی اختیار کی تو ان سرکشوں کو بندر بنادیا گیا۔ واللہ اعلم !
وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ ”بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ“ کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہرگز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ (1) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : ”کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔“
[ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی : 4338۔ ترمذی : 3057، و قال الألبانی صحیح ]
راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ ]
قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنادی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کردی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنادی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔“ [ المعجم الکبیر : 746، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع : 5673، عن أم سلمۃ۔۔ مسلم : 2663 ]
Ayah 7:167وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ۔۔ : گزشتہ آیات میں یہود کی آسانی اور سختی کے ساتھ آزمائشوں اور ان کے بعض نیک و بد اعمال کا ذکر فرمایا، اب اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جاتے رہیں گے جو انھیں بدترین عذاب چکھاتے رہیں گے۔ سورة آل عمران (112) میں فرمایا کہ ان پر ذلت مسلط کردی گئی مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ۔ دیکھیے آیت مذکورہ کی تفسیر۔ یہودیوں کی پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے، وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنھوں نے انھیں ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنایا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (4 تا 8) قریب زمانے میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کسی جگہ عارضی طور پر انھیں امن و امان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہارے پر۔
Ayah 7:168وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚ: تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آسکے۔ اس لیے یہودی تمام دنیا میں ٹکڑوں کی شکل میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں رہتے ہیں اپنی سود خوری اور اس ملک کے خلاف سرگرمیوں اور جاسوسی کی وجہ سے نفرت کی نگاہوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں، پھر ان کی برتری کی خواہش اور دنیا کی دولت اور حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش کے لیے ان کی سازشیں یہودی پروٹوکول کی صورت میں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور کتنے ہی ملکوں سے انھیں نکالا گیا اور تہ تیغ کیا گیا، اب اگرچہ جرمنی سے غداری کے انعام میں برطانیہ اور امریکہ کے بل بوتے پر وہ عربوں کے قلب میں اسرائیل کے خنجر کی صورت میں پیوست ہوچکے ہیں، مگر ان کی اصل قوت امریکہ اور برطانیہ وغیرہ ہی ہیں۔ یہاں جمع ہو کر بھی وہ ظلم و ستم سے باز آنے کے بجائے فلسطینی عربوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مؤاخذے میں اس دیر کا انجام کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ: ان میں سے کچھ نیک ہیں، یعنی وہ جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے، یا جیسے وہ لوگ جنھوں نے ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے منع کیا تھا۔ دیکھیے آل عمران (113 تا 115) اور کچھ ان کے علاوہ، یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار، جیسے سود، رشوت اور دوسرے طریقوں سے حرام کھانے والے اور انبیاء تک کو قتل کر ڈالنے والے اور نبی کریم ﷺ کو پہچاننے کے باوجود آپ کی مخالفت کرنے والے۔
وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ۔۔ : کبھی راحت اور آرام دیا اور کبھی تکلیف میں مبتلا کردیا، اسی طرح کبھی خوش حالی عطا فرمائی، کبھی فقر و فاقہ سے دو چار کردیا، تاکہ وہ باز آجائیں، یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور تورات کے احکام پر عمل کریں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے، یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اور سور ہوجائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے۔“ (موضح) یہ حدیث بخاری میں ہے، فرمایا : (وَ یَمْسَخُ آخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَ خَنَازِیْرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ) [ بخاری، الأشربہ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : 5590 ] ”اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ کر دے گا۔“
Ayah 7:169فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ۔۔ : قرطبی ؓ نے فرمایا ”اَلْخَلْفُ“ لام کے سکون کے ساتھ، بمعنی اولاد، واحد جمع یکساں ہیں اور ”اَلْخَلَفُ“ لام کے فتح کے ساتھ پہلوں کی جگہ آنے والا، اولاد ہو یا اجنبی۔ ابن الاعرابی نے فرمایا، لام کے فتح کے ساتھ نیک جانشین اور لام کے سکون کے ساتھ نالائق جانشین اور دونوں الفاظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال کرلیے جاتے ہیں۔ (طنطاوی) ”عَرَضٌ“ دنیا کا سامان، کیونکہ وہ عارضی ہے۔ ”هٰذَا الْاَدْنٰى“ میں ”هٰذَا“ (اس) کے لفظ سے حقارت مراد ہے اور ”الْاَدْنٰى‘ کے لفظ سے بھی دنیا کی دنایت اور حقارت مراد ہے۔ (کشاف) پھر ان کے جانشین ایسے نالائق ہوئے جو کتاب اللہ کے وارث بنے، یعنی انھوں نے اسے پڑھا، اس کا علم حاصل کیا اور اس میں مذکور حلال و حرام اور امر و نہی سے پوری طرح آگاہ ہوئے، مگر انھوں نے اس کا اثر قبول کرنے کے بجائے اس کے احکام کی مخالفت کی اور اس کے حرام کو حلال کرلیا اور شدید حرص کی وجہ سے اس حقیر دنیا کے مال کے حصول کی کوشش میں لگ گئے، حلال طریقے سے ملے یا حرام سے، سود ہو یا رشوت یا غیر کا حق۔ اس کے باوجود یہ کہتے رہے کہ ہمیں ضرور بخش دیا جائے گا۔ ”سَيُغْفَرُ لَنَا“ میں سین تاکید کے لیے ہے۔ (آلوسی) کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے، اس کے محبوب اور اس کے انبیاء کی نسل سے ہیں، فرمایا : (وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ) [ المائدۃ : 18] ”اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔“
وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ ۭ: یعنی گناہ کرنے اور حرام کھانے کے بعد نہ وہ شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ان میں توبہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ گناہوں پر اور حرام خوری پر ان کی جرأت بڑھتی جاتی ہے، حالانکہ بخشش کے لیے تو توبہ کی ضرورت ہے، جس کا لازمی جزو گزشتہ پر ندامت اور آئندہ کے لیے وہ کام نہ کرنے کا خالص اور پختہ عزم ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ پہلی دفعہ حرام کھانے کے بعد اسی طرح کا حرام دوبارہ مل جائے تو اسے بھی نہیں چھوڑتے۔ چناچہ ایک مرتبہ رشوت لینے کے بعد جونہی انھیں دوبارہ رشوت کا موقع ملتا ہے بلا جھجک اسے قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ان کے علماء کا حال ہے کہ لوگوں کو غلط مسئلے بتا کر حرام کھانے کے باوجود دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری بخشش ہوجائے گی، حالانکہ وہ غلط کام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، جو بخشش کی شرط اول ہے۔
اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ۔۔ : یہ عہد تفصیل کے ساتھ تورات کے علاوہ آل عمران کی آیت (187) میں مذکور ہے۔
وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ : اور انھوں نے جو کچھ اس میں ہے پڑھ لیا ہے، یعنی خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں کہیں نہیں لکھا کہ تم جو گناہ چاہو کرتے جاؤ، میں تمہیں بخش دوں گا، مگر ان کی جرأت اور بےخوفی کا یہ عالم ہے کہ گناہ بھی کیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی آیات کو بیچ کر دنیا بھی کمائے جاتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف وہ باتیں بھی منسوب کیے جاتے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہیں۔
وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حرام کھانے سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں جو نعمتیں تیار ہیں وہ اس حقیر دنیا کے عارضی سازوسامان سے کہیں بہتر ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے حرام کھانے والو ! کیا تم یہ نہیں سمجھتے ؟
Ayah 7:170وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بالْكِتٰبِ۔۔ : کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے سے مراد اس پر عمل کرنا ہے اور نماز بھی اگرچہ اس میں شامل تھی مگر اس کو خصوصاً اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دین کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاۃِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر۔۔ : 82، عن جابر ؓ ] ”یقیناً آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے۔“ گویا نماز نہیں تو کتاب سے تمسک بھی نہیں۔
Ayah 7:171وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ۔۔ : ”نَتَقَ یَنْتِقُ“ کا معنی ”کسی چیز کو زور سے کھینچ کر ہلانا“ ہے۔ (راغب) یہاں پہاڑ کا ذکر ہے اور سورة بقرہ میں طور کا ذکر ہے، یا تو وہ طور نامی پہاڑ تھا اور یا لفظ ”طور“ عام پہاڑ کے معنی میں بھی آتا ہے، دونوں جگہ دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی سابقہ سرکشیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے تورات کے احکام پر عمل کا پختہ عہد لینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زلزلے کے ساتھ پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر سایہ فگن کردیا اور انھیں یقین ہوگیا کہ یہ ہم پر گرنے ہی والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس ہیبت ناک ماحول میں وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے عمل کا سچا عہد کریں۔ قوت کے ساتھ پکڑنے کا مطلب اس پر عمل کرنا ہے۔