Ayah 7:81اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ : چھوٹے یا بےریش لڑکوں کے بجائے مردوں کا لفظ ان کے فعل کی قباحت کے مزید اظہار کے لیے استعمال کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ فعل بد تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں ہے : (مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) یعنی تم دوہرے مجرم ہو، ایک اس فعل بد کی وجہ سے، دوسرے اس فعل بد کا آغاز کرنے کی وجہ سے۔ اب قیامت تک اس جرم کے ہر مرتکب کا گناہ اس کے ساتھ ساتھ قوم لوط کی گردن پر بھی ہوتا ہے۔
شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ: یہ تیسرا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش نفس پوری کرنے کے لیے جو بیویاں بنائی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے ہو، یہ تمہاری فطرت مسخ ہونے کی دلیل ہے، پھر بیویوں سے حاجت پوری کرنے میں خواہش نفس پوری کرنے کے ساتھ بہت سی حکمتیں وابستہ ہیں، اولاد کی طلب، گھر کی رونق، دلی سکون، میاں بیوی کی باہمی دوستی کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت۔ دیکھیے سورة روم (21)۔ جبکہ تمہارا مردوں کے پاس جانا صرف خواہش نفس پوری کرنے کے لیے ہے جو نہایت کمینگی کی بات ہے۔
مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ : سورة شعراء میں فرمایا : (وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ) [ الشعراء : 166 ] ”اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔“ یعنی تم نے اس خبیث فعل کی وجہ سے بیویوں کو چھوڑ رکھا ہے، تم اپنے آپ پر بھی زیادتی کر رہے ہو اور ان مردوں پر بھی جن سے یہ فعل کرتے ہو اور ان عورتوں پر بھی جو تمہاری بیویاں ہیں۔ ذرا غور کرو کہ اس عمل کا نتیجہ تمہاری بیویوں پر کیا مرتب ہوگا ؟ ان کی کچھ اور زیادتیوں کا ذکر سورة عنکبوت (29) میں بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور یورپ کی اقوام نے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے کر مرد کی مرد اور عورت کی عورت کے ساتھ شادی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے، اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بھی اس فعل کو جرم نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے وہ اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے کی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی اللہ تعالیٰ سے علانیہ بغاوت کو کچلنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کا قانون آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینا ہے، فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ) [ التوبۃ : 14 ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“
Ayah 7:82اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ : یعنی ان پاک باز لوگوں کا ہم گناہ گار و ناپاک لوگوں میں کیا کام ؟ یہ بات انھوں نے طنز اور تمسخر سے کہی اور ان کا جرم کیا بتایا کہ وہ گندگی میں آلودہ ہونے کا جرم کیوں نہیں کرتے، انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔ ”يَّتَطَهَّرُوْنَ“ باب تفعل سے ہے جس کا ایک معنی تکلف بھی ہے، اس صورت میں ان کا کہنا طنز کے ساتھ بہتان بھی ہے کہ یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ پاک باز نہیں ہیں۔
Ayah 7:83فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ: یعنی ہم نے لوط ؑ اور اس کے گھر والوں کو عذاب سے بچا لیا، کیونکہ اس بستی میں یہی ایک گھر مسلم تھا۔ دیکھیے سورة ذاریات (36)۔
اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڮ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے لوط ؑ کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ ہم نے تمہاری بیوی کی خیانت و کفر کی وجہ سے اس کا پیچھے رہنا طے کردیا ہے۔ دیکھیے سورة نمل (57) اور سورة تحریم (10) چناچہ وہ ان لوگوں میں رہ گئی جو لوط ؑ کے ساتھ نہیں نکلے، بلکہ اپنے علاقے ہی میں رہے، ان پر عذاب نازل ہوا تو وہ بھی ان کے ساتھ تباہ ہوگئی۔
Ayah 7:84وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ۭ۔۔ : ”ْ مَّطَرًا“ یہ ”َاَمْطَرْنَا“ کی تاکید ہے اور تنوین اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی ایک زبردست بارش۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی الٹ دی، اس لیے قرآن میں اس بستی اور اس کے ارد گرد کی بستیوں کو ”َوَالْمُؤْتَفِكَةَ“ (نجم : 53) یعنی الٹنے والی اور ”الْمُؤْتَفِكٰتِ“ (توبہ : 70) کہا گیا ہے، پھر ان پر کھنگر والے تہ در تہ پتھروں کی بارش برسائی۔ (دیکھیے ہود : 82) اور وہ علاقہ ایسا تباہ ہوا کہ اب تک آباد نہیں ہوسکا۔ ان پر عذاب کا باعث ان کے فعل بد اور اس پر اصرار کے ساتھ ساتھ پیغمبر کے ساتھ کفر اور استہزا تھا۔
Ayah 7:85وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۭ : مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور آج بھی اس علاقے میں ایک جگہ اسی نام سے مشہور ہے۔ شعیب ؑ کا نسب نامہ امام نووی ؓ نے یوں بیان کیا ہے، شعیب بن میکائیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم۔ (المنار) مگر اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ شعیب ؑ کو اہل مدین کا بھائی قرار دیا، کیونکہ وہ اس قوم سے تھے اور ان کا قبیلہ بہت زبردست تھا جس کی وجہ سے ان کے کفار آپ کو نقصان پہنچانے سے ڈرتے تھے، اس لیے انھوں نے کہا تھا : (ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ) [ ہود : 91 ] ”اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیتے۔“ شعیب ؑ ہی کو اصحاب الایکہ کی طرف بھیجا گیا، مگر وہاں انھیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا، فرمایا : (كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ , اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ) [ الشعراء : 176، 177 ] ”ایکہ والوں نے رسولوں کو جھٹلایا، جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟“ اب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قوم کے نام ہیں اور ان پر دو قسم کے عذاب آئے، ایک ”عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۭ“ (شعراء : 189) اور ایک ”الرَّجْفَةُ“ (اعراف : 91) اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ دو الگ الگ قومیں تھیں، اصحاب مدین پر ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلے) کا عذاب آیا اور اصحاب ایکہ پر ”یوم الظلۃ“ کا عذاب آیا۔ (واللہ اعلم !)
ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : مدین والوں کا سب سے بڑا جرم اللہ کے ساتھ شرک تھا، شعیب ؑ نے سب سے پہلے انھیں اس سے باز رہنے کی تاکید فرمائی اور ہر پیغمبر کی پہلی دعوت یہی تھی : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“
قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ : یعنی میرے سچا ہونے کی واضح دلیل تم دیکھ چکے ہو، لہٰذا ضروری ہے کہ جو بات میں کہتا ہوں اسے صحیح سمجھو۔ رازی نے فرمایا کہ یہاں ”بَيِّنَةٌ“ (واضح دلیل) سے مراد معجزہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر نبی کو کوئی نہ کوئی ایسا معجزہ دے کر بھیجا گیا جسے دیکھ کر لوگ اس پر ایمان لائے اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا وہ وحی (قرآن و سنت) ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف فرمائی اور مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار سب سے زیادہ ہوں گے۔“ [ بخاری،
فضائل القرآن، باب کیف نزل الوحی و أول ما أنزل : 4981۔ مسلم : 152، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
مگر شعیب ؑ کے معجزے کا قرآن کریم میں ذکر نہیں۔ زمخشری لکھتے ہیں کہ موسیٰ ؑ کے پاس جو عصا یعنی لاٹھی تھی وہ شعیب ؑ ہی نے انھیں عطا فرمائی تھی اور وہ دراصل شعیب ؑ ہی کا معجزہ تھا۔ (کشاف) مگر موسیٰ ؑ مدین کے جس بزرگ کے پاس ٹھہرے اور ان کے داماد بنے تھے، ان کے شعیب ؑ ہونے کی کوئی دلیل نہیں، نہ ہی مدین کے کسی بزرگ کا ذکر کرنے پر بلا دلیل یہ سمجھ لینا درست ہے کہ وہ لازماً اللہ کے رسول شعیب ؑ ہی تھے۔ قرآن مجید میں نہ ہر پیغمبر کا نام مذکور ہے نہ ہر نبی کا معجزہ۔ اتنا ہی کافی ہے کہ یقیناً شعیب ؑ کوئی معجزہ لے کر آئے تھے، زیادہ کریدنے سے کچھ حاصل نہیں۔
فَاَوْفُوا الْكَيْلَ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ اس قوم میں شرک کے ساتھ دوسری خرابی ماپ تول میں لیتے وقت زیادتی اور دیتے وقت کمی تھی، اگر کوئی ان کی اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرتا تو مل کر اس کی بےعزتی کرتے اور اسے مارتے پیٹتے، جیسا کہ آج کل بھی عموماً ریڑھیوں والے ایسے موقع پر گاہک کے خلاف ایکا کرلیتے ہیں، اس لیے شعیب ؑ نے انھیں سمجھایا کہ ماپ تول ہر حال میں پورا کرو اور انبیاء اور صالحین کی محنت سے دنیا میں جو اصلاح ہوئی ہے اس کے بعد شرک اور بددیانتی اور ان کے ساتھ پیدا ہونے والی برائیوں کے ذریعے سے اس میں فساد مت پھیلاؤ، کیونکہ ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی تلف ہوتے ہیں اور لوگوں کے بھی۔
اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : یعنی اگر تم مجھ پر ایمان لا کر شرک اور بددیانتی ترک کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ کافر رہتے ہوئے یہ چیزیں چھوڑ بھی دو تو قیامت کے دن اس کا کچھ فائدہ نہیں۔
Ayah 7:86وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ۔۔ : یہ لوگ راستوں پر ناکے لگا کر لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے، کبھی ڈرا دھمکا کر ان کی بےعزتی کرتے اور ان کا سب کچھ ہی چھین لیتے۔ اگر کوئی شعیب ؑ پر ایمان لانے کی طرف مائل نظر آتا تو اسے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرتے اور اسلام کے احکام میں طرح طرح کی خرابیاں نکال کر اور شبہات پیدا کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ سیدھا نہیں بلکہ غلط راستہ ہے، جیسا کہ آج کل بھی نام کے وہ مسلمان دانش ور، صحافی، پروفیسر اور حکمران جو کفار سے مرعوب ہیں اسلام کے احکام کو وحشیانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شعیب ؑ نے انھیں ان برائیوں سے روکا اور اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا کہ اس نے تمہاری تھوڑی سی نسل کو کس قدر بڑھایا اور انھیں مفسدین کے انجام بد سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔
Ayah 7:87فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ : یہ انھیں کفر پر صبر کا حکم نہیں بلکہ انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) [ التوبۃ : 52 ] ”سو انتظار کرو، بیشک ہم (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔“
Ayah 7:88قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ“ اسْتَكْبَرُوْا باب استفعال سے ہے، جس کا معنی عموماً طلب ہوتا ہے، یعنی وہ سردار بڑا بننے کے بہت خواہش مند تھے، گویا ان کی طلب ہی یہ تھی۔
لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ : یعنی انھوں نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ نہایت بدتمیزی سے نام کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں ہر صورت دو باتوں میں سے ایک اختیار کرنا ہوگی، یا ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تمہیں پھر سے ہماری ملت، یعنی کفر و شرک میں پلٹنا ہوگا۔ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کون سی بات پسند کرتے ہو ؟
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ : ”معک“ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اس کا تعلق ”آمنوا“ سے ہو، یعنی جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں، دوسرا یہ کہ اس کا تعلق ”لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ“ کے ساتھ ہو، یعنی تجھے اور تیرے ساتھ ان لوگوں کو بھی نکال دیں گے جو ایمان لائے ہیں۔ ہمارے استاذ محمد عبدہ ؓ نے اس کا تعلق ”لَنُخْرِجَنَّكَ ‘ کے ساتھ قرار دیا ہے۔
اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ: ”عَادَ یَعُوْدُ عَوْدًا“ کے معنی کسی چیز کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ شعیب ؑ خود تو کبھی کفر و شرک میں مبتلا نہیں رہے، پھر ان کے دین میں لوٹ آنے کے کیا معنی ہوں گے ؟ اگلی آیت میں شعیب ؑ کے قول ”ا اِنْ عُدْنَا“ (اگر ہم تمہاری ملت میں پھر آجائیں) اور ”اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَآ“ سے یہ اشکال اور قوی ہوجاتا ہے۔ علماء نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، ایک یہ کہ نبوت سے پہلے شعیب ؑ اگرچہ کفر و شرک سے اور نبوت کے منصب کے منافی ناپسندیدہ کاموں سے محفوظ تھے، مگر نبوت عطا ہونے سے پہلے عام طور طریقے میں اپنی قوم ہی کے ساتھ تھے۔ البتہ کفر، شرک اور گندے کاموں سے اجتناب کے باوجود مبعوث نہ ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔ جس سے ان کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے ہی دین پر ہیں۔ اس لیے انھوں نے ”اَوْ لَتَعُوْدُنَّ“ کہہ دیا، ورنہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ پہلے کی طرح اب بھی خاموش ہوجاؤ، تو ہم تمہیں اپنا ہی سمجھ لیں گے۔ فرمایا، اب ہم پہلے کی طرح نہیں ہوسکتے۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر ساتھی چونکہ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے ان سب کے ساتھ شعیب ؑ کو بھی شامل کردیا۔ اسے تغلیب کہتے ہیں، یعنی سب پر وہی الفاظ بول دیے جو اکثر پر صادق آتے تھے۔ شعیب ؑ نے بھی انھی کے لہجہ میں ”اِنْ عُدْنَا“ اور ”اَنْ نَّعُوْدَ“ فرما دیا۔ تیسرا یہ کہ ”عَادَ یَعُوْدُ“ بعض اوقات ”صَارَ یَصِیْرُ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، اسے ”صَیْرُوْرَۃٌ“ کہتے ہیں، یعنی ابتداءً (پہلی بار) کسی چیز کو اختیار کرنا، معنی یہ کہ تم ہمارا دین اختیار کرلو گے۔
اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ : یعنی اگر ہمیں دونوں باتیں ہی گوارا نہ ہوں تو کیا پھر بھی ہم ایک ضرور اختیار کریں گے، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ سوال درحقیقت انکار کے لیے ہے۔
Ayah 7:89قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یہ ایک دوسرے طریقے سے جواب ہے، شعیب ؑ عرب تھے اور عربوں میں شروع ہی سے جھوٹ سے شدید نفرت رہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ نبی جو تمام دنیا کی طرف اور قیامت تک کے لیے تھا عربوں میں مبعوث کرنا اس لیے طے فرمایا کہ عرب اپنی تمام برائیوں کے باوجود کچھ اوصاف حمیدہ رکھتے تھے، دوسری قومیں ان کی طرح نہیں تھیں، ان میں سے ایک وصف سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت تھی۔ اسی لیے ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں جھوٹ نہیں بولا کہ مکہ میں جا کر کوئی یہ نہ کہے کہ سردار نے جھوٹ بولا۔ اس لیے شعیب ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں تمہارے دین سے بچا کر توحید کا اعلان کرنے کی توفیق بخشی تو اب ہم پھر تمہارا دین اختیار کریں تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے جھوٹ باندھا تھا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ پر ! یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
وَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَآ۔۔ : یعنی ہمارے لیے تمہارے دین کو اختیار کرنا ممکن ہی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے، اس لیے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے، چناچہ اب ہم جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوبارہ تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے، وہ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کی بنا پر کر رہے ہیں، کیونکہ ارادہ خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس استثنا سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ شعیب ؑ کو اپنے خاتمہ بالخیر میں شک تھا، بلکہ انھوں نے یہ بات صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے کے لیے کہی ہے اور اس میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھا ہے۔ واحدی ؓ لکھتے ہیں کہ انبیاء ؑ اور امت کے اکابر ہمیشہ ہی برے انجام سے پناہ مانگتے رہے۔ خلیل اللہ ؑ کی دعا ہے : (وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ) [ إبراہیم : 35 ]”اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ اور رسول اللہ ﷺ کی اکثر دعا یہ تھی : (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ) ”اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب یا مقلب القلوب۔۔ : 3522، عن أم سلمۃ و صححہ الألبانی ] اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ بطور فرض ہو، یعنی تمہارے جبر واکراہ سے تو ہم کفر اختیار نہیں کرسکتے، ہاں ! (بالفرض) اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی یہ ہو تو دوسری بات ہے۔
عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا : یعنی ہم ایمان پر استقامت کے لیے اپنی قوت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر بھروسا کرتے ہیں۔ عَلَي اللّٰهِ“ کو پہلے لانے سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا۔
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا۔۔ : ”فَتَحَ“ کا معنی واضح فیصلہ ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو اپنے ماننے والوں ہی کے حق میں ہوگا، یعنی انکار اور ضد پر اڑے ہوئے ان مشرکین کے مقابلے میں ہماری مدد فرما کر ہمارے حق پر ہونے اور ان کے باطل پر ہونے کو خوب واضح کر دے۔
Ayah 7:90اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْن یعنی شعیب ؑ کی پیروی کی صورت میں تم یقیناً خسارہ اٹھاؤ گے کہ اپنے آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہو ان کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ یہ بات شعیب ؑ کی قوم کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں دنیا پرستوں نے اخلاق و دیانت کے اصولوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر بنیادی معاملات بددیانتی، دغا بازی اور سود خوری کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ سچی اور صاف بات کہنے سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 7:91فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔۔ : ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا، یعنی ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلہ) بھی، جیسے یہاں مذکور ہے اور ”الصیحۃ“ (چیخ) بھی، جیسا کہ سورة ہود (94) میں ہے۔ ”جٰثِمِيْنَ“ کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (78) کے حواشی۔
Ayah 7:92كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا : ”غَنِیَ یَغْنَی (س)“ کا معنی ہے کسی جگہ رہنا، یعنی وہ جو شعیب ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بستی سے نکالنے کے درپے تھے وہ خود اس طرح ہوگئے جیسے وہ کبھی اس میں رہے ہی نہیں تھے اور انھیں خسارے سے ڈرانے والے خود ہی خسارا اٹھانے والے ہوگئے۔
Ayah 7:93فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْن : یعنی بیشک تم میرے عزیز تھے، مگر جب تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا تو کافروں کی ہلاکت پر میں کیسے غم کروں۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (79) کے حواشی۔
Ayah 7:94وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ۔۔ : اس سے پہلے بعض انبیاء، نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب ؑ کے اپنی اقوام کے ساتھ گزرے ہوئے چند واقعات کے ذکر کے بعد اور آگے موسیٰ ؑ کے فرعون اور بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آنے والے مفصل واقعات سے پہلے درمیان میں مختصر طور پر تمام انبیاء اور ان کی اقوام کا ذکر فرمایا۔ مقصود رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا اور کفار کو خبردار کرنا ہے۔
بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ ”بِالْبَاْسَاۗءِ“ سے مراد اموال میں پہنچنے والی مصیبت، مثلاً فقر و فاقہ اور قحط وغیرہ اور ”‘ وَالضَّرَّاۗءِ سے مراد انسانی بدن کو نقصان پہنچانے والی اشیاء، مثلاً بیماری، مصائب اور جنگ وغیرہ۔
لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ‘: یعنی جب بھی ہم نے کسی بستی کی طرف کوئی نبی بھیجا اور وہ اس پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کی نصیحت کے لیے بڑے عذاب سے پہلے کم تر عذاب بھیجے جو جنگ، تنگ دستی، قحط یا بیماری اور دوسرے مصائب کی صورت میں تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی شامت اعمال سے آگاہ ہو کر ہمارے سامنے عجز کا اظہار کریں اور سیدھی راہ پر آجائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) [ السجدۃ : 21] ”اور یقیناً ہم انھیں قریب عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“
Ayah 7:95ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَان السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ۔۔ : ”عَفَوْا“ یہ ”عَفَا یَعْفُوْ“ سے ماضی معلوم جمع مذکر غائب ہے، معنی ہے ”بڑھ گئے۔“ باب افعال کا معنی ”بڑھانا“ ہے، جیسا کہ فرمایا : (أَعْفُوا اللِّحَی) [ بخاری، اللباس، باب إعفاء اللحی : 5893]”ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ۔“ مگر جب انھوں نے ایسا نہ کیا تو ہم نے بدحالی کی جگہ انھیں خوش حالی دے کر واپس پلٹنے کا موقع دیا، انھیں قحط کے بجائے ارزانی اور بیماری کے بجائے تندرستی عطا فرمائی، آبادی ان کی خوب بڑھ گئی اور مال و دولت کی ریل پیل ہوگئی، تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے رب کے رسول پر ایمان لے آنے کے بجائے پہلی سختی کو بھول گئے اور ان نعمتوں کی بھی قدر نہ کی اور کہنے لگے، اگر ہم قحط اور دوسری مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو محض زمانے کی گردش کی وجہ سے ہوئے ہیں نہ کہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے۔ دنیا میں ایسے ہوتا ہی رہتا ہے، موسم کے تغیر سے حالات بدلتے رہتے ہیں، کبھی بیماری اور کبھی تندرستی، کبھی خوش حالی اور کبھی بدحالی وغیرہ۔ یہ حالات ہمیں کو نہیں بلکہ ہمارے باپ دادا کو بھی پیش آتے رہے ہیں، مگر جلد ہی ٹلتے بھی رہے ہیں، اس قسم کے حالات پیش آنے میں انسانوں کے اعمال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایسی توجیہات اب بعض مسلمان بھی کرنے لگے ہیں۔
فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : یعنی جب اللہ تعالیٰ کو اس طرح فراموش کر بیٹھے تو یکایک اللہ کا غضب نازل ہوا اور ایسا عذاب آیا کہ آن کی آن میں سب نیست و نابود ہوگئے۔ ان قوموں کے بعد فرعون اور موسیٰ ؑ کا ذکر آ رہا ہے، فرعون کی قوم پر تنگی اور تکلیف کی گرفت متعدد بار آئی، مثلاً طوفان، جراد اور قمل وغیرہ، مگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پہلی قوموں کی طرح اچانک عذاب آیا اور سمندر میں غرق کردیے گئے۔ اس کے برعکس مومنین خوش حالی میں شکر اور تنگ دستی میں صبر کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومن کا معاملہ بھی خوب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ بہترین ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔“ [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ] اس آیت کی تشریح میں شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”بندے کو دنیا میں گناہ کی سزا پہنچتی ہے تو امید ہے توبہ کرے اور جب گناہ راست (موافق) آگیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا بھلاوا ہے، پھر ڈر ہے ہلاک (ہونے) کا، جیسے زہر کھایا، اگل دے تو امید ہے اور اگر پچ گیا (ہضم ہوگیا) تو کام آخر ہوا۔“ (موضح)
Ayah 7:96وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا۔۔ : اگر واقعی بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی حدود کی پابندی کرتے تو اس ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ ان انعامات کی شکل میں پاتے کہ۔۔ ! اور ایمان اور تقویٰ اختیار نہ کرنے کا نتیجہ عذاب الٰہی کی صورت میں نکلتا ہے کہ وہ برکات سے محروم ہو کر عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ : ”ْ بَرَكٰتٍ“ ”بَرَکَۃٌ“ کی جمع ہے، کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہونا۔ اصل میں ”بَرَکَۃٌ“ حوض کو کہتے ہیں، جس طرح حوض میں پانی جمع ہوتا ہے، اسی طرح کسی چیز میں بہت سی خیر موجود ہونا ”بَرَکَۃٌ“ کہلاتا ہے۔ راغب نے فرمایا : ”چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اس طرح آتی ہے کہ آتے ہوئے نہ اس کا احساس ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شمار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص یا چیز میں محسوس نہ ہونے والی بہتری کا مشاہدہ ہو رہا ہو تو کہتے ہیں کہ وہ مبارک ہے اور اس میں برکت ہے۔“ (طنطاوی)
”برکتیں کھول دیتے“ یہ استعارہ ہے کہ جس طرح دروازہ کھل جاتا ہے اس طرح ان پر برکات کا نزول ہوتا، یعنی آسمان سے بارش اور رحمتوں کی صورت میں اور زمین سے پانی زرعی اجناس (غلے اور پھل) اور زمین سے نکلنے والی بیشمار نعمتوں، مثلاً پٹرول، گیس، سونا، چاندی اور جواہرات وغیرہ کی صورت میں۔
Ayahs 7:97–98اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي۔۔ : یعنی اللہ کا عذاب ان کے بیخبر سونے کی حالت میں بھی آسکتا ہے اور عین دوپہر جاگتے ہوئے مصروفیت کی صورت میں بھی آسکتا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ دن ہو تو اس کا مقابلہ کرلیں گے۔ (بقاعی)
Ayah 7:99فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ کے مکر (خفیہ تدبیر) سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر نہ پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ کچھ پتا ہی چلے کہ اس کی شامت آنے والی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکر و فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے، اس لیے اسے بھی بطور مجانست ”مکر“ کہہ دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (15)۔
Ayah 7:100اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ۔۔ : یعنی کیا بعد میں آنے والوں کو پہلوں کے حالات سن اور دیکھ کر یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوئی اور انھیں اس سے رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کہ ہم چاہیں تو ان کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں میں پکڑ لیں۔
وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ : یعنی ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں تو وہ نصیحت کی کوئی بات نہیں سنتے، آخر کار اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیے جاتے ہیں۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ اس فقرے کا یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب اسے ”ُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ“ پر معطوف نہ مانا جائے (بلکہ نیا کلام مانا جائے) اور اگر اسے ”ُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ“ پر معطوف مانا جائے (اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے) تو ترجمہ یوں ہوگا :”اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں۔“ مگر ابن عاشور صاحب ”التحریر والتنویر“ اور محیی الدین الدرویش صاحب ”اعراب القرآن“ نے اس معنی کی تردید کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا عطف ”بذنوبھم“ پر مانا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے دل پر مہر کردیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک مہر نہیں لگائی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، اس لیے ”وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ“ نیا کلام ہے، اس کا عطف ”بذنوبھم“ پر درست نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتا ہے انھیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور یہ جانتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہیے کہ اگر ظلم و فساد کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کردیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی۔
Ayah 7:101تِلْكَ الْقُرٰي۔۔ : یہاں ”القرٰی“ سے مراد گزشتہ پانچ اقوام (قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب) کی بستیاں ہیں۔ آپ کو ان کے کچھ حالات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار مکہ جو ان بستیوں میں رہنے والوں کی طرح آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، عبرت حاصل کریں۔
فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے رسولوں کے پاس اپنے سچا ہونے کے دلائل نہیں تھے، یا وہ دلائل اتنے واضح اور روشن نہیں تھے کہ قائل کرسکیں، بلکہ اس کا سبب ان کی قوم کا پہلے سے طے کرلینا تھا کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ اب پہلے جھٹلا دینے کے بعد وہ ایمان لے آتے تو ان کی جھوٹی عزت نفس پر حرف آتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ ۭ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ) [ البقرۃ : 206 ] ”اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے۔“ یہی گناہ (یعنی دلائل دیکھنے کے باوجود پہلے ہی جھٹلا دینا اور اس پر اصرار کرنا) ان کے دلوں پر مہر کا باعث بن گیا، دیکھیے سورة انعام (109، 110)۔
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ : یعنی جس طرح پہلی امتوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دلوں کی صلاحیتیں سلب کرلی گئی تھیں اور انھیں ایمان نصیب نہیں ہوا تھا اسی طرح ان کے دل بھی مسخ ہوچکے ہیں اور ان میں ایمان کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔
Ayah 7:102وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ: ”مِّنْ عَهْدٍ ۚ“ (کوئی بھی عہد) کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے، جس کا عموم ”مِن“ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد کسی بھی قسم کا عہد ہے، نہ فطری جو ”اَلست بربکم“ کے وقت کیا تھا، نہ شرعی جو پیغمبروں سے عذاب ٹالنے کی درخواست کے وقت کرتے تھے اور نہ عرفی جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔
لَفٰسِقِيْنَ : ”نافرمان“ یعنی کسی عہد کا پاس نہ کرنے والے پکے بےایمان۔
Ayah 7:103فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ : وہ سب کے سب غرق کردیے گئے اور ان کی ساری شان و شوکت خاک میں ملا دی گئی۔ یہ چھٹا قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بیان فرمایا ہے اور اسے جس تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے دوسرے کسی قصے کو اس طرح بیان نہیں فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جس طرح موسیٰ ؑ کے معجزات ان تمام انبیاء سے بڑھ کر تھے اسی طرح ان کی امت بھی جہالت اور سرکشی میں سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ البتہ یہاں ان کی زندگی کے ابتدائی حالات کے بجائے دوسرے انبیاء کی طرح دعوت کے آغاز سے بات شروع فرمائی۔ بعض علماء نے فرمایا، اس آیت میں موسیٰ ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے، فرعون اور اس کی قوم کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ سارا اختیار فرعون کے ہاتھ میں تھا، اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کی قوم بھی ایمان لے آتی اور اس جبر و قہر میں اس کے سردار اس کے معاون تھے۔ اس ظالم نے بنی اسرائیل کے علاوہ اپنی قوم کو بھی اتنا بےوقعت بنادیا تھا کہ ان کے پاس فرعون کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہا تھا۔ دیکھیے سورة زخرف (58) گویا اس کی اپنی قوم بھی اس کے ہاتھوں مظلوم تھی مگر بنی اسرائیل پر ظلم تو انھیں غلام بنا کر رکھنے، ملک سے نکلنے کی ممانعت اور ان کی اولاد کے قتل کی حد تک پہنچ چکا تھا۔
Ayah 7:104وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ۔۔ : فرعون مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا، جیسا کہ روم کے بادشاہ کا قیصر اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا۔ موسیٰ ؑ نے اسے اس کے عزت والے نام کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ مخاطب فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھیجتے وقت تلقین فرمائی تھی۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (44) اس فرعون کا نام منفتاح بن رمسیس ثانی یا ولید بن ریان بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں۔
Ayah 7:105حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ : کیونکہ میں اللہ کا رسول (پیغام پہنچانے والا) ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچا دے، اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے، لہٰذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہوگی۔ نافع کی قراءت میں ہے : ”حَقِیْقٌ عَلَیَّ أَلَّا أَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ إِلَّا الْحَقَّ“ اس صورت میں ”حَقیقُ“ کا معنی ہے واجب، یعنی مجھ پر واجب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ عاصم کی قراءت میں وہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں : (ۙحَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ) اس صورت میں ”حَقیق“ کا معنی ہے قائم، ثابت۔ ”حَقِیقُ“ مبتدا محذوف ”أَنَا“ کی خبر ہے، یعنی میں اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔
فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ : یعنی انھیں غلامی سے آزاد کر، تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آزادی کے ساتھ عبادت کرسکیں۔ موسیٰ ؑ کے اس مطالبے کا پس منظر یہ تھا کہ یوسف ؑ کے زمانے میں ان کے بھائی مصر میں آکر آباد ہوگئے اور وہیں ان کی نسل پھیلی جو بنی اسرائیل کہلائی۔ یوسف ؑ کی زندگی تک تو انھیں پوری طرح اقتدار حاصل رہا لیکن اس کے بعد فرعونوں نے انھیں غلام بنا لیا اور مصر میں ان کی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہوگئی، وہ چونکہ مسلمان تھے اس لیے موسیٰ ؑ کے مشن میں جہاں یہ چیز شامل تھی کہ فرعون کو توحید کی دعوت دی جائے وہاں یہ بھی ضروری تھا کہ اگر فرعون دعوت حق کو قبول نہ کرے اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز نہ آئے تو بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلا کر کسی دوسری جگہ لے جایا جائے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکیں۔ یہاں ”فَاَرسِل“ میں حرف فاء تفریع کے لیے ہے، یعنی جب تو کھلے دلائل جاننے کے باوجود انکار پر قائم ہے تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ موسیٰ ؑ نے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب فرعون نے ہر طرح رب العالمین کا اقرار کرنے سے انکار کردیا، جیسا کہ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔
Ayah 7:106قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ۔ : فرعون موسیٰ ؑ کی شرافت و نجابت اور ان کے صدق و امانت سے پوری طرح واقف تھا، کیونکہ ان کی پرورش اسی کے گھر میں ہوئی تھی، مگر اس نے ان کی رسالت اور صدق کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کردیا، تاکہ انکار کا کوئی بہانہ مل سکے۔
Ayah 7:107فَاَلْقٰى عَصَاهُ۔۔ : موسیٰ ؑ نے فوراً ہی اپنا عصا پھینکا تو وہ خوف ناک اژدہا بن گیا۔ بعض مفسرین نے اس کی عجیب و غریب صفات لکھی ہیں، مثلاً اس نے منہ کھولا تو اس کا نچلا جبڑا زمین پر اور اوپر کا جبڑا اسی (80) ہاتھ اوپر کی طرف اٹھ کر محل کی دیوار کی بلندی تک پہنچ گیا اور وہ فرعون کی طرف بڑھا تو وہ بھاگ اٹھا اور اس کا پاخانہ خطا ہوگیا، لوگ بھی بھاگ گئے، فرعون چیخا کہ موسیٰ ! اسے پکڑو، میں ایمان لے آؤں گا۔ موسیٰ ؑ نے پکڑا تو وہ پھر لاٹھی بن گیا۔ (ابن کثیر، بقاعی) اگرچہ اس کی کوئی صحیح سند نہیں اور نہ اس کی تصدیق یا تردید کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے، تاہم ”ثعبان“ کی صفت ”مبین“ سے اور اتنی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جانے سے جن سے میدان بھرا ہوا تھا، اس کا غیر معمولی ہونا ضرور معلوم ہوتا ہے اور اس سے فرعون اور اس کے سرداروں کا خوف زدہ ہونا تو صاف ظاہر ہے، کیونکہ وہ قتل کی دھمکیوں کے باوجود موسیٰ ؑ کے ساتھ اللہ کی نصرت اور ان معجزوں کی دہشت کی وجہ سے انھیں کوئی نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کرسکے۔ دیکھیے سورة مومن (26)۔
اس معجزے سے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت کا بھی اظہار ہوگیا کہ وہ چاہے تو ایک بےجان اور بےضرر سی لاٹھی کو زندگی عطا فرما کر اتنا بڑا خوف ناک اژدہا بنا دے اور چاہے تو ایک مہیب اژدہا کو بےجان لاٹھی بنا دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرعون کے لیے یہ معجزہ ہی کافی تھا، مگر وہ دل سے مان جانے کے باوجود (دیکھیے بنی اسرائیل : 102) بار بار معجزے دیکھ کر ایمان لانے کا وعدہ کرنے کے بعد مکرتا رہا، حتیٰ کہ سمندر میں غرق کردیا گیا۔
Ayah 7:108بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے ؟
Ayahs 7:109–110قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ۔۔ : یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ ؑ کو جادوگر قرار دیا۔ سورة شعراء (34) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ ؑ کے معجزے کو بےاثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمہیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (34، 35) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بیوقوف اور بےوقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف : 54) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔
Ayahs 7:111–112قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔۔ : ”اَرْجِهْ“ یہ ”أَرْجَأَ یُرْجِئُ إِرْجَاءً“ سے امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں ”اَرْجِءْہُ“ تھا، جس کا معنی ”اَخِّرْہُ“ ہے، یعنی ان کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور ان کا معاملہ چند روز تک ملتوی رکھا جائے، اس اثنا میں ملک بھر کے شہروں سے تمام ماہر فن جادوگر جمع کیے جائیں۔ چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا (دیکھیے شعراء : 38) اور موسیٰ ؑ سے تقاضا کرکے مقابلے کا دن یوم الزینہ اور دن چڑھے کا وقت طے کرلیا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (59) یہاں یہ سب محذوف ہے۔
Ayah 7:113قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا۔۔ : جادوگروں کے سامنے کوئی بلند مقصد نہ تھا، بلکہ محض پیشہ ورانہ کمائی تھی، اس لیے انھوں نے پہلے فرعون سے بطور سوال اس کا تقاضا کیا۔
Ayah 7:114قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ : فرعون نے اجرت کا بلکہ مقربین میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ فرعون کی بات پوری ہوئی مگر ان کے لیے وہ اجرت اور مقرب ہونا فرعون کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مقدر تھا، اللہ کی شان دیکھیے کہ خدائی کے دعویدار کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ انھیں اجرت اور قرب کس کی طرف سے ملنا ہے۔
Ayahs 7:115–116وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ : ”اَرْھَبَ یُرْھِبُ“ کا معنی ہے ڈرانا، خوف زدہ کرنا، ”وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”سخت خوف زدہ“ کیا ہے۔ جادوگروں نے اپنے غلبے کے یقینی اور موسیٰ ؑ کے معجزے کو لوگوں کے سامنے بےوقعت ظاہر کرنے کے لیے پوچھا کہ تم پہلے اپنا معجزہ پیش کرو گے یا ہم اپنے جادو کے ہتھیار پیش کریں ؟ موسیٰ ؑ نے ان سے بڑھ کر شان بےنیازی سے فرمایا کہ تمہیں جو کچھ پیش کرنا ہے سب پیش کرلو۔ چونکہ مقابلے میں جس کی پہل ہو اسے ایک قسم کی برتری پہلے ہی حاصل ہوتی ہے، تم اس برتری سے فائدہ اٹھا لو، چناچہ انھوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں تو ہر طرف زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے ہوئے معلوم ہونے لگے، فرمایا : (فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰي) [ طٰہٰ : 66 ] ”تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا ان کے جادو کی وجہ سے کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔“ یہاں بھی فرمایا کہ ”انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انھیں سخت خوف زدہ کردیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔“ درحقیقت وہ زمانہ ہی جادو کے کمال کا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو ایسا معجزہ دیا جس کے سامنے جادو بےبس ہو۔
سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ : اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی، صرف دیکھنے میں وہ چیز دوسری نظر آتی ہے اور اس کا اثر محض خیال پر ہوتا ہے، چونکہ انسان کا جسم دماغ کے تابع ہے، اس لیے خیال کا نقصان یا فائدہ بعض اوقات جسم کو بھی ہوتا ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے بھی ان کا جادو دیکھ کر خوف محسوس کیا، فرمایا : (فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْس)[ طٰہٰ : 67 ] ”تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔“ اور رسول اللہ ﷺ بھی لبید بن اعصم کے جادو کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار رہے۔ اس لیے جادو کی تاثیر سے انکار درست نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے جادو کو بہت بڑا قرار دیا ہے۔
Ayahs 7:117–119وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي۔۔ : موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے اپنی لاٹھی پھینکی تو اس نے ان کے جھوٹ موٹ بنائے ہوئے سانپوں کو نگلنا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جو حق تھا، ثابت ہوگیا اور جادو جو جھوٹ شعبدے اور مکاری پر مبنی تھا، بےکار اور باطل ہوگیا۔
Ayah 7:120وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ : یعنی چونکہ جادوگر جادو کی حقیقت کو سمجھتے تھے، اس لیے معجزہ دیکھ کر وہ بےاختیار سجدے میں گرپڑے، جیسے وہ خود نہ گرے ہوں بلکہ اندر سے کسی چیز نے انھیں گرا دیا ہو۔