Ayahs 7:121–122قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔۔ : ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ (رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ) (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ ؑ کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔
Ayahs 7:123–124قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی میری اجازت سے پہلے تمہیں کوئی حق نہ تھا کہ تم موسیٰ کی برتری اور کامرانی کا اعلان کرتے۔ ہر متکبر و سرکش یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور جو کچھ وہ کہے اسے مان کر اسی کی تشہیر و اشاعت کریں، اسی طرح دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل، پھانسی، سولی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے اور اس کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے سزا دی جاسکے۔ چناچہ یہی کام فرعون نے کیا، جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو الزام لگا دیے، پہلا کہ یہ جادوگروں اور موسیٰ کی باہمی سازش ہے اور دوسرا یہ کہ یہ لوگ اس سازش کے ذریعے سے مصریوں کو ملک بدر کرکے حکومت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ اس لیے پہلے ”فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ“ (سو تم جلد جان لو گے) کہہ کر دھمکی دی، پھر اس دھمکی کی وضاحت بھی سنا دی۔
ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ : یعنی ایک جانب سے ہاتھ اور دوسری جانب سے پاؤں کٹوا کر تمہیں سولی دے دوں گا۔ عام طور پر لوگ سولی اور پھانسی کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ پھانسی میں تو گلے میں رسا ڈال کر گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے، جبکہ سولی میں ایک اونچا کھمبا کھڑا کرکے اس کے اوپر ایک آڑی لکڑی باندھ دی جاتی ہے، پھر ملزم کو اوپر چڑھا کر اس کے بازو اس آڑی لکڑی کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں، جبکہ جسم اونچی لکڑی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے، وہ وہیں دھوپ، سردی، پرندوں کی نوچ کھسوٹ اور دشمنوں کے تیروں یا نیزوں کے زخم کھاتا ہوا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سورة طٰہٰ (7) میں ہے : ”میں تمہیں ہر صورت کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا۔“ یہ پھانسی سے کہیں زیادہ خوف ناک سزا ہے۔
Ayah 7:125قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ : یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور آنی ہے، اگر ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ہمارا خاتمہ سولی پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے سولی دو ، ہمیں کوئی پروا نہیں۔
Ayah 7:126وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا۔۔ : ”نَقَِمَ مِنْہُ (ض، ع)“ اور ”اِنْتَقَمَ“ عَاقَبَہُ یعنی ”نَقَمَ مِنْہُ“ اور ”اِنْتَقَمَ مِنْہُ“ کا معنی بدلہ لینا، سزا دینا ہے اور ”نَقَّمَ الْأَمْرَ“ کا معنی ”کَرِھَہُ“ یعنی کسی شے سے بہت زیادہ نفرت اور کراہت ہے۔ (قاموس) مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی گناہ ہے تو صرف یہ کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چناچہ ان جادوگروں نے جب موسیٰ ؑ کے معجزے کو دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے، اس لیے وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر پختگی تھی کہ انھوں نے جان تک کی پروا نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ سے صبر و استقامت اور ایمان و اسلام پر موت کی دعا کی۔
مشہور قول کے مطابق وہ قتل کردیے گئے، چناچہ طبری اور دوسرے مفسرین نے ابن عباس ؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ شروع دن میں وہ جادوگر تھے اور پھر دن کے آخری حصے میں شہداء میں داخل ہوگئے۔ دکتور حکمت بن بشیر نے تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں ابن عباس ؓ کے اس قول کے متعلق لکھا ہے کہ ابن عباس ؓ کا یہ قول ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ سدی عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے جب کہ سدی نے ابن عباس ؓ سے نہیں سنا (لہٰذا روایت منقطع ہے صحیح نہیں)۔ قرآن مجید نے اس مقام پر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا انجام کیا ہوا، نہ ہی سورة شعراء اور سورة طٰہٰ میں یا کسی اور جگہ یہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقصد عبرت کے لیے موسیٰ ؑ کے ساتھ اللہ کی مدد، فرعون کی شکست، جادوگروں کے ایمان لانے، فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اس پر قائم رہنے کے عزم اور صبر اور ایمان پر خاتمے کی دعا کا بیان ہے، محض قصہ بیان کرنا نہیں، جیسا کہ سورة نازعات میں فرمایا : (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى) [ النازعات : 26 ] ”بیشک اس میں اس شخص کے لیے یقیناً بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ فرعون اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا، جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا : ”مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ [ المؤمن : 26 ] اور آل فرعون میں سے وہ مومن جس نے بھرے دربار میں موسیٰ ؑ کے قتل کی مخالفت کی اس کے خلاف بھی فرعون نے بدترین سازش کی، مگر وہ موسیٰ ؑ کو قتل نہ کرسکا اور اس مومن کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی سازشوں سے بچا لیا۔ دیکھیے سورة مومن (45) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو یہ تسلی دے کر بھیجا تھا : (سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا ڔبِاٰيٰتِنَآ ڔ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ) [ القصص : 35 ]”ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمہاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔“ زیر تفسیر مقام پر بھی اگر وہ اپنی اس دھمکی پر عمل کرچکا ہوتا تو اس کی قوم کے سرداروں کو اسے نئے سرے سے بھڑکانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) چونکہ قرآن مجید میں ان کے انجام کے متعلق خاموشی اختیار کی گئی ہے اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے۔
Ayah 7:127وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ۔۔ : موسیٰ ؑ کے معجزات کے غلبے اور جادوگروں کے ایمان لانے پر اگرچہ چند ہی نوجوانوں نے ایمان لانے کی جرأت کی اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے۔ (دیکھیے یونس : 83) تاہم فرعون کی بنی اسرائیل کے خلاف کاروائیاں کچھ کم ہوگئیں تو اس کے سرداروں نے اسے یہ کہہ کر بھڑکایا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کریں، یعنی وہ تمہاری رعیت کو دعوت دیتے پھریں کہ وہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے بجائے اللہ واحد کی عبادت کریں اور ملک میں دعوت توحید سے فساد پھیلاتے پھریں۔ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”تعجب ہے کہ یہ لوگ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے فساد پھیلانے سے ڈر رہے ہیں، حالانکہ فساد پھیلانے والے تو وہ خود ہیں۔“ فرمایا : (اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ) [ البقرۃ : 12 ] ”سن لو ! یقیناً وہی تو فساد ڈالنے والے ہیں اور لیکن وہ نہیں سمجھتے۔“
وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭ: ”آلِہَۃٌ“ یہ ”اِلٰہٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی معبود ہے، یعنی وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے بھی کچھ معبود تھے جن کی وہ عبادت کرتا تھا۔ بعض صحابہ کی قراءت میں ”اِلَاھَتَکَ“ ہے، ”اِلَاھَۃٌ“ کا معنی عبادت ہے، یعنی وہ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رکھیں، یہ بھی اگرچہ درست ہے مگر مشہور قراءت پہلی ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی کئی توجیہات کی ہیں اور وہ سبھی ممکن ہیں۔ ایک توجیہ اس کی یہ ہے کہ وہ واقعی رب اعلیٰ ہونے کے اعلان کے باوجود خود کئی معبودوں کی پرستش کرتا تھا اور ان معبودوں کے تقدس کا عقیدہ اس کی قوم میں بھی موجود تھا، مثلاً گائے کی پرستش تو عام تھی، جس کے نتیجے میں ان سے میل جول اور ان کی محکومیت کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی یہ عقیدہ در آیا تھا۔ جس کی دلیل آزاد ہونے کے بعد بھی گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان کے بہانے اور موسیٰ ؑ کے کوہ طور پر جانے کے بعد سامری کا بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی عبادت پر لگانا ہے۔ مصری تہذیب ہندوؤں سے ملتی جلتی تھی۔ مشرکانہ مذاہب میں عجیب پیچیدگی پائی جاتی ہے، عموماً ان کے ہاں اصل خدا کسی انسان میں اتر آتا ہے جو مسلمان صوفیا کے ہاں حلول کے نام سے معروف ہے۔ فرعون اپنے آپ کو ان تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دے کر اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہلاتا تھا اور اپنے سرداروں سے کہتا تھا : (مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ۚ) [ القصص : 38 ] ”مجھے اپنے سوا تمہارا کوئی معبود معلوم نہیں۔“ یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمانی کا دعویٰ کرنے والوں نے کہی ہے
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر
مگر یہ لوگ مصطفیٰ ﷺ کو اصلی خدا مان کر بھی بہت سے زندہ خداؤں، مثلاً مرشدوں اور مردہ خداؤں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس قسم کے تمام گندے عقیدوں سے بری ہیں۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ درحقیقت فرعون دہری تھا۔ کائنات کا کوئی بنانے والا مانتا ہی نہ تھا، اس کے نزدیک بادشاہ ہی معبود کا مقام رکھتا تھا کہ جو اس کے منہ سے نکلے وہی دین اور قانون ہے۔ اپنے سرداروں کے لیے یہ مقام وہ خود رکھتا تھا اور اس کے سردار اپنے اپنے علاقے کی رعایا کے لیے یہ مقام رکھتے تھے، چناچہ اس نے اپنے بت بنوا کر لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل کے اکثر حکمران اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھاتے ہیں، کمیونسٹ حکمران سٹالن، لینن اور ماؤزے تنگ بھی خدا کے منکر ہونے کے باوجود لوگوں کے دماغوں میں اپنی خدائی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ جمہوری حکمران بھی اس کوشش میں حتی الوسع کمی نہیں کرتے، اگرچہ وہ نام عوام کا استعمال کرتے ہیں۔
تیسری توجیہ یہ ہے کہ حاکمیت میں وہ اپنے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا تھا، البتہ غیبی مدد کرنے والے کچھ معبود اس نے بھی رکھے ہوئے تھے، جس طرح آج کل بعض حکمران قانون اپنا چلاتے ہیں مگر غیبی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ہستیوں کی نیاز دیتے رہتے ہیں۔ چناچہ وہ کعبہ کی طرح پختہ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیتے اور بزرگوں کو کرنی والا سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ اللہ کو بھی مان لیتے ہیں، مگر کیا مجال کہ اس کا کوئی قانون عمل میں لائیں یا لانے دیں۔
قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ۔۔ : یعنی ہم جو ظلم و ستم موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے، اس طرح یہ تباہ ہوجائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مرد مارے جائیں گے اور صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کرسکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بنا کر اپنے گھروں میں رکھیں گے۔ ابھی تک اس کی جرأت نہ کرنے کے لیے اس نے یہ حیلہ تراشا کہ ایسی کیا جلدی ہے، ہم ان پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں، جب چاہیں گے ایسا کرلیں گے۔
Ayah 7:128قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ۔۔ : فرعون کی دھمکیوں پر موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو تسلی دینا ضروری سمجھا، چناچہ انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی، جس پر انھوں نے ظالموں سے پناہ کی وہ دعا لازم کرلی جو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں ذکر فرمائی ہے : (رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) [ یونس : 85، 86 ] موسیٰ ؑ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ آج اگر مصر پر فرعون حکمران ہے تو کل اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی سرزمین کا وارث، یعنی حکمران بنا سکتا ہے۔
وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ : ”عَاقِبَۃٌ“ کا لفظی معنی تو انجام ہے جو اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی، جیسا کہ فرمایا : (فَانْــظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ) [ القصص : 40 ] ”سو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا تھا۔“ مگر جب اس پر ”الف لام“ آجائے تو اس کا معنی اچھا انجام ہی ہوتا ہے۔
Ayah 7:129قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ۔۔ : پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے، ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور ہماری آزادی سلب رہی ہے، اب آپ کے آنے کے بعد بھی وہی غلامی اور مشقت ہے اور دوبارہ بچوں کے قتل کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ : موسیٰ ؑ نے بشارت دی کہ عن قریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کرکے تمہیں آزادی اور حکومت دینے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم اس کا شکر کرتے اور احکام بجا لاتے ہو یا تم بھی ناشکری اور نافرمانی کرنے لگتے ہو ؟ معلوم ہوا کہ آزادی اور حکومت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کفار کی غلامی پر راضی رہنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یہ کلام نقل فرمایا مسلمانوں کے سنانے کو، یہ سورت مکی ہے، اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے، پھر بشارت پہنچی پردے میں۔“ (موضح)
Ayah 7:130وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ۔ : اوپر کی آیت میں جب موسیٰ ؑ کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمہارا مالک تمہارے دشمن کو تباہ کر دے، تو اب یہاں سے ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا بیان شروع کیا جن میں وقتاً فوقتاً آل فرعون کو مبتلا کیا گیا، حتیٰ کہ آخر کار تباہ کردیے گئے، تاکہ ان مشرکین کو کفر پر کچھ تنبیہ ہو اور انھیں خبردار کیا جائے کہ پیغمبروں کے جھٹلانے کا انجام تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف اور مصیبتیں ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں، کیونکہ مصیبت کے وقت دل نرم اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
Ayah 7:131فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ۔۔ : جیسا کہ آیت (94، 95) میں ذکر فرمایا تھا کہ ہر قوم کی آزمائش تنگی اور تکلیف کے علاوہ خوش حالی اور آسودگی کے ساتھ بھی ہوئی، اس کے مطابق فرعون کی قوم پر سختی اور مصیبت کے بعد راحت اور خوش حالی آتی تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر گزاری کریں، وہ ”لَنَا هٰذِهٖ“ کہتے، یعنی یہ ہمارے حسن انتظام کا نتیجہ اور ہمارا حق ہے۔
وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي۔۔ : ”يَّطَّيَّرُوْا“ ”تَطَیَّرَ یَتَطَیَّرُ“ باب تفعل سے ہے جس کا مادہ ”طَیْرٌ“ (پرندہ) ہے۔ اصل میں ”یَتَطَیَّرُوْا“ تھا، تاء کا طاء میں ادغام کردیا ہے۔ مشرکین کا طریقہ تھا کہ فال لینے کے لیے کسی پرندے کو اڑاتے، اگر وہ اڑ کر دائیں طرف جاتا تو اسے نیک فال اور باعث برکت سمجھتے اور اگر بائیں طرف جاتا تو بدفال اور باعث نحوست سمجھتے، یہاں تمام مفسرین کے نزدیک ”تَطَیَّرَ“ کا معنی فالِ بد اور نحوست ہے، یعنی اپنی مصیبتوں کا باعث موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو قرار دیتے۔
اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اس نحوست کا اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور خیر و شر جو کچھ ان کو پہنچ رہا ہے تمام کا تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے جو ان کے اعمال کے سبب ان کے حق میں لکھا جا چکا ہے، یہ سراسر جہالت ہے کہ بھلائی کو اپنی خوبی اور برائی کو کسی دوسرے کی نحوست قرار دیاجائے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یعنی شومی قسمت بد ہے، سو اللہ کی تقدیر سے ہے، برائی اور بھلائی کا اثر آخرت میں ہوگا، اس کا جواب یہاں یہ نہیں فرمایا کہ شومی ان کے کفر سے تھی، کیونکہ کافر بھی دنیا میں عیش کرتے ہیں۔ اصل حقیقت (جو) تھی سو فرمائی کہ دنیا کے احوال موقوف بہ تقدیر ہیں۔“ (موضح)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے“ تین دفعہ فرمایا ”اور ہم میں سے ہر ایک کو (کوئی نہ کوئی وہم ہوجاتا ہے) مگر اللہ تعالیٰ اسے توکل کی برکت سے دور کردیتا ہے۔“ [ أبوداؤد، الطب، باب فی الطیرۃ : 3910 ترمذی : 1614 ]
Ayah 7:132وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ۔۔ : اوپر کی آیت میں ان کی یہ جہالت بیان فرمائی کہ وہ حوادث کی نسبت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کی طرف کرنے کے بجائے دوسرے اسباب کی طرف کرتے ہیں، اب اس آیت میں ان کی دوسری جہالت بیان فرمائی کہ اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کم بخت فرعونی موسیٰ ؑ کو جادوگر ہی کہتے رہے اور انھوں نے معجزات اور جادو کا فرق آخر تک تسلیم نہ کیا، بلکہ انھوں نے اپنی سرکشی اور تمرد سے بالآخر قطعی طور پر اعلان کردیا کہ تم (موسیٰ ؑ جو بھی معجزہ دکھاؤ ہم اسے تمہارا جادو ہی سمجھیں گے اور تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے، حالانکہ انھیں ان معجزوں کے حق ہونے کا یقین تھا۔ دیکھیے سورة نمل (13، 14)۔
Ayahs 7:133–136فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ۔۔ : جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد ”الطُّوْفَانَ“ یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہوگئی تو انھوں نے موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کی کہ تمہارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ (لام تاکید اور نون ثقیلہ عربی میں قسم کا مفہوم رکھتا ہے) ظالم اب بھی اپنے اور ساری کائنات کے رب کو موسیٰ ؑ کا رب ہی کہہ رہے ہیں۔ موسیٰ ؑ کی دعا سے یہ عذاب ٹلا تو مدت کی سوکھی زمین نے پانی کی فراوانی کی وجہ سے بےحساب چارا اور غلہ پیدا کیا، یہ ان کی خوش حالی کے ساتھ آزمائش تھی، جس سے وہ سب عہد و پیمان بھول کر کہنے لگے کہ یہ سیلاب تو ہمارے لیے نعمت تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان پر ”وَالْجَرَادَ“ (ٹڈیوں) کا عذاب بھیجا جو ان کے درخت، چارے اور لکڑیاں تک چٹ کر گئیں۔ انھوں نے پھر موسیٰ ؑ سے انھی الفاظ میں عذاب ٹالنے کی دعا کی درخواست کی جو اوپر ذکر ہوئے ہیں۔ یہ عذاب دور ہوا تو پھر خوش حالی کا ایک وقفہ آیا کہ بچی فصل سے بھی بیشمار غلہ پیدا ہوا، جسے کاٹ کر انھوں نے اپنے گھروں میں محفوظ کرلیا اور اپنے خیال میں کم از کم سال بھر کے لیے بےفکر ہوگئے اور موسیٰ ؑ سے کیا ہوا عہد و پیمان پھر بھول گئے۔ اب ان پر ”َالْقُمَّلَ“ کا عذاب نازل ہوا، یعنی جوئیں، چچڑیاں، چھوٹے چھوٹے کالے کیڑے، گھن کے کیڑے، پسو وغیرہ، ان سب پر ”َالْقُمَّلَ“ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں کے جسموں، کپڑوں اور بستروں پر جوؤں، پسوؤں اور کھٹملوں کی یلغار ہوگئی۔ غلے کو گھن لگ گیا، پسوانے کے لیے بوریاں لے جاتے تو آٹے کا فقط ایک تھیلا نکلتا، پھر مجبور ہو کر انھوں نے موسیٰ ؑ سے اسی طرح دعا کی درخواست کی۔ جب ان کی دعا سے وہ بلا ٹلی اور راحت و آرام کا وقفہ آیا تو اپنے عہد سے پہلے کی طرح پھرگئے، اب ان پر ”وَالضَّفَادِعَ“ یعنی ”مینڈکوں“ کا عذاب آیا اور وہ اس کثرت سے پھیل گئے کہ ہر چیز اور برتن میں مینڈک ہی مینڈک نظر آنے لگے، کھانا کھاتے ہوئے لقمے کی جگہ اچھل کر منہ میں مینڈک جا پڑتا، لیٹتے تو بستر اور جسم مینڈکوں سے بھر جاتا۔ مجبور ہو کر انھوں نے پھر موسیٰ ؑ سے یہ عذاب ٹالنے کے لیے دعا کی درخواست انھی وعدوں کے ساتھ کی، مگر جب عافیت ملی تو پھر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے سے انکار کردیا۔ اب ان پر خون کا عذاب آیا، کھانے یا پینے کی جو چیز رکھتے خون میں بدل جاتی، پانی کے برتنوں اور ذخیروں نے خون کی صورت اختیار کرلی۔ بعض مفسرین نے خون کے عذاب میں نکسیر کی وبا کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ان کے رجوع اور درخواست پر موسیٰ ؑ کی دعا سے یہ عذاب ٹلا تو پھر اپنے کیے ہوئے عہد سے پھرگئے۔ اب اللہ تعالیٰ کے انتقام کا وقت آگیا اور ان سب کو اللہ کی آیات و معجزات جھٹلانے اور ان سے جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی پاداش میں سمندر میں غرق کردیا گیا۔ یہاں اس غرق کی تفصیلات بیان نہیں ہوئیں، وہ سورة یونس، شعراء اور طہ وغیرہ میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ یہاں اصل مقصد کفار کو سختی اور خوش حالی کی آزمائش کی پروا نہ کرتے ہوئے کفر پر اصرار کے انجام سے ڈرانا ہے۔ ”اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب اور عافیت کے یہ وقفے یکے بعد دیگرے آئے۔ شاہ عبد القادر ؓ نے لکھا ہے کہ فرعون اور موسیٰ ؑ کا مقابلہ اس بات پر چالیس برس رہا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے دے اور آخر میں یہ عذاب ایک ایک ہفتے کے وقفے سے آئے۔ (موضح) تفسیر طبری میں تابعین کی بعض روایات میں عذاب کا عرصہ ایک ہفتہ اور درمیانی عافیت کا عرصہ ایک ماہ لکھا ہے، مگر ہمارے پاس ان میں سے کسی قول کی تصدیق یا تردید کا کوئی صحیح ذریعہ نہیں۔ نصیحت کے لیے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے وہی کافی ہے۔
Ayahs 7:137–138وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ : موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے دو وعدے کیے تھے، دشمن کی ہلاکت اور ملک کی وراثت و خلافت۔ چناچہ پہلا وعدہ پورا ہونے کے بعد اب یہاں دوسرے وعدے کی تکمیل کا بیان ہے۔ یہاں مبارک سرزمین سے شام کی سرزمین مراد ہے اور یہ وعدہ موسیٰ ؑ کی وفات کے بعد یوشع ؑ کے دور میں پورا ہونا شروع ہوا، جب انھوں نے عمالقہ سے جہاد کرکے بعض علاقے اپنے قبضے میں لے لیے مگر پورا ملک شام داؤد اور سلیمان ؑ کے زمانے میں قبضے میں آیا۔
مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ ”مَشَارِقَ الْاَرْضِ“ یہ ”يُسْتَضْعَفُوْنَ“ کا مفعول نہیں بلکہ ”َاَوْرَثْنَا“ کا مفعول ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ کمزور اور بےبس تو مصر میں بنایا گیا تھا، شام میں نہیں۔ ارض مبارک سے مراد قرآن مجید میں عام طور پر سرزمین شام لی گئی ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (ا) ، انبیاء (71، 81) اور سبا (18) مشارق و مغارب جمع لانے کا مقصد یہ ہے کہ سرزمین شام کے تمام مشرقی اور مغربی علاقوں پر ان کی حکومت ہوگئی۔ کیونکہ ہر روز زمین کے ہر حصے میں سورج کے طلوع و غروب کا وقت اور جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ بعض اہل علم نے مصر اور شام دونوں مراد لیے ہیں اور لکھا ہے کہ فرعون کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل مدتوں مصر پر حکمران رہے۔ قرآن کریم کی بعض آیات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة دخان (28) ، شعراء (59) اور قصص (5) اس صورت میں ”بٰرَكْنَا فِيْهَا“ سے مراد سرزمین مصر و شام کا نہایت زرخیز اور آباد ہونا ہوگا۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى۔۔ : ”الْحُسْنٰى“ یہ ”اَلْاَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے جو تفضیل کا صیغہ ہے۔ بہترین بات سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہم تمہارے دشمنوں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں اس سرزمین کی وراثت اور حکومت عطا فرمائیں گے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کا باعث اللہ تعالیٰ نے ان کا صبر بیان فرمایا کہ اتنی سختیوں کے باوجود انھوں نے فرعون کو رب نہیں مانا، اپنے مسلمان ہونے پر قائم رہے، اگرچہ غلامی اور محکومیت کی وجہ سے ان کے مزاج اور دینی حالت میں کئی خرابیاں آچکی تھیں، مگر انھوں نے اسلام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ : ”َ يَصْنَعُ“ سے مراد ان کی مصنوعات، کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں اور ”يَعْرِشُوْنَ“ کا معنی اگرچہ انگور وغیرہ کے لیے چھپر وغیرہ بنانا بھی ہوتا ہے، مگر مصر میں چونکہ چھپر والے انگوروں کا رواج نہیں تھا، اس لیے اس سے مراد وہ بلند عمارتیں ہیں جو وہ بناتے تھے۔
وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ : فرعون سے نجات پا کر سمندر پار کرنے کا یہ مبارک دن عاشوراء (دس محرم) تھا۔ موسیٰ ؑ نے شکر ادا کرنے کے لیے اس دن کا روزہ رکھا اور یہودی بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں سے روزے کی وجہ پوچھ کر فرمایا : ”ہم تم سے زیادہ موسیٰ ؑ پر حق رکھتے ہیں۔“ چناچہ خود بھی روزہ رکھا اور تمام مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ آئندہ سال رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ نفل ہوگیا، جو چاہے رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب (و لقد أوحینا إلی موسیٰ۔۔) : 4737، 1592، عن ابن عباس وعائشۃ ]
اہل مکہ بھی جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : (جعل اللہ الکعبۃ۔۔) [ 1592، عن عائشۃ ] آخر عمر میں آپ ﷺ نے اس روزے کی فضیلت کے حصول اور یہود کی مخالفت کی خاطر فرمایا : (لَءِنْ بَقِیْتُ اِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ) ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو 9 کا روزہ رکھوں گا۔“ مگر آئندہ سال آنے سے پہلے آپ فوت ہوگئے۔ [ مسلم، الصیام، باب أي یوم یصام فی عاشوراء : 134؍1134، عن ابن عباس ؓ ] حسین ؓ کی شہادت بھی اس دن ہوئی مگر دین اس سے پہلے مکمل ہوچکا تھا، ان کی شہادت کی وجہ سے دین میں کوئی بھی اضافہ، مثلاً ماتم یا جلوس یا سبیلیں وغیرہ لگانا بدعت ہوگا۔
فَاَتَوْا عَلٰي قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰٓي اَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مظالم پر بنی اسرائیل کے صبر کی تعریف اور اس کی وجہ سے ان پر اپنے مزید انعامات کا ذکر فرمایا تھا۔ اب یہاں سے ان کی خوش حالی کے دور کی آزمائش کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اسی سورت میں ہر قوم کی تنگی اور آسانی کے ساتھ آزمائش کا ذکر ہوا تھا۔ (دیکھیے اعراف : 94) اور اس بات کا بھی کہ ہم نے ان میں سے اکثر کے لیے کوئی عہد نہیں پایا اور ان کے اکثر کو ہم نے فاسق ہی پایا۔ دیکھیے سورة اعراف (102) آزادی ملنے کے بعد بنی اسرائیل کی بدعہدی اور فسق کا اور اس کے نتیجے میں انھیں ملنے والی سزا کا تذکرہ بنی اسرائیل کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان کی دعوت اور آپ کی مخالفت سے باز رہنے کی نصیحت کے لیے کیا گیا ہے۔ اس میں امت محمد ﷺ کے لیے بھی نصیحت ہے کہ تم لوگ بھی ان کے نقش قدم پر نہ چل نکلنا۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر سے پار کردیا تو انھوں نے مشرق کی طرف بیت المقدس ارض شام کا رخ کیا، ابھی چلے ہی تھے کہ ان کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے کچھ بتوں پر مجاور بنے بیٹھے تھے، یعنی ان کی پوجا کر رہے تھے۔ یہ بت بزرگوں کے تھے یا گائے وغیرہ کے، قرآن نے ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کا جہل اور کفر دیکھیے کہ موسیٰ ؑ کے اتنے واضح معجزات اور اللہ تعالیٰ کے انعامات دیکھنے کے بعد انھوں نے گستاخانہ لہجے میں نام لیتے ہوئے ”اے موسیٰ“ کہہ کر مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے بھی ان کے معبودوں جیسے معبود بنادو۔ اس کی وجہ لمبے عرصے تک غلامی کی وجہ سے اہل مصر کے مشرکانہ عقائد کا ذہنوں میں جاگزیں ہونا تھا۔
بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ موحد تھے، اس لیے ان کی بت بنانے کے اس مطالبے سے یہ غرض نہ تھی کہ وہ شرک کریں، بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس بت کی تعظیم سے اللہ کا تقرب چاہیں گے، وہ سمجھے کہ یہ شرک نہیں ہے، حالانکہ اس کا شرک ہونا انبیاء ؑ کا اجماعی مسئلہ ہے، کیونکہ اگر یہ شرک نہ ہو تو مکہ کے مشرک اور دوسرے بہت سے مشرک بھی موحد ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک جگہ ذکر فرمایا ہے : (وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) [ یونس : 18 ] ”اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ اور دوسری آیت میں ہے : (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) [ الزمر : 3 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“
اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ : یعنی افسوس کہ تم اللہ تعالیٰ کی شان نہیں پہچانتے، اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے کہ نہ اس کی کوئی مورت بن سکتی ہے اور نہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرایا جاسکتا ہے، سو یہ مطالبہ سراسر جاہلانہ اور مشرکانہ ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”جاہل آدمی نظر نہ آنے والے رب کی عبادت کر کے تسکین نہیں پاتا جب تک سامنے ایک صورت نہ ہو، بنی اسرائیل نے جب وہ قوم دیکھی کہ گائے کی صورت کی پوجا کرتے تھے تو انھیں بھی یہ ہوس آئی، آخر سونے کا بچھڑا بنایا اور پوجا۔“ (موضح) آیت میں گائے کی صورت کی صراحت نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی بنیاد بن دیکھے رب تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ سورة بقرہ (3) میں ہے : (يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْب) حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی لذت نے موسیٰ ؑ کے دل کو پروردگار کو دیکھنے کی درخواست پر مجبور کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مشاہدہ کروا کر واضح کردیا کہ دنیا میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اب پیغمبر کا بن دیکھے رب پر ایمان دیکھیے اور قوم کا نظر آنے والے خدا کا مطالبہ دیکھیے ! دراصل شرک کی بنیاد ہی یہ ہے کہ معبود آنکھوں کے سامنے نظر آنا ضروری ہے، اقبال نے کیا خوب کہا ہے
ذوق حضور در جہاں رسم صنم گری نہاد
عشق فریب می دہد جان امیدوار را
یعنی معبود کو اپنے سامنے حاضر دیکھنے کے ذوق ہی نے دنیا میں بت بنانے کی رسم کی بنیاد رکھی، کیونکہ عشق امید رکھنے والی جان کو فریب میں مبتلا کردیتا ہے۔ افسوس کہ بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کچھ مسلمانوں نے تو پختہ قبریں بنا کر ان پر مجاورت کے ذریعے سے اپنا یہ ذوق پورا کیا اور اکثر لوگوں نے معرفت کے نام پر اپنے شیخ کا تصور ہر لمحے آنکھوں کے سامنے اس طرح رکھا کہ وہ عدم موجودگی میں بھی انھیں آنکھوں سے نظر آنے لگا اور وہ اپنے خیال میں اس سے پوچھ کر ہر کام کرنے لگے۔ اس کا نام انھوں نے فنا فی الشیخ ہونا رکھا، پھر کچھ آگے بڑھے اور اسی صورت کو رسول قرار دے کر انھیں آنکھوں سے دیکھنا، ان سے باتیں کرنا اور ہدایات لینا شروع کردیا اور اسے فنا فی الرسول قرار دیا، پھر کچھ اور آگے بڑھے تو اسی صورت کو رب قرار دے کر ہر لمحے آنکھوں کے سامنے رکھ لیا اور اسے فنا فی اللہ کہہ کر شیخ کی صورت کے خدا ہونے اور ہر وقت اس کے دیدار اور اس سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کردیا۔ انتہا یہاں جا کر ہوئی کہ اپنے آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہوجانے کا دعویٰ کردیا۔ کسی نے کہا ”أَنَا الْحَقُّ“ میں خدا ہوں۔ کسی نے کہا ”سُبْحَانِیْ مَا أَعْظَمُ شَأْنِیْ“ میں سبحان ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے اور کسی نے کہا
من تو شدم تو من شدی
من جاں شدم تو تن شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں
من دیگرم تو دیگری
یعنی ”میں تو ہوگیا، تو میں ہوگیا، میں جان بن گیا تو جسم بن گیا، تاکہ اس کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں اور تو کوئی دوسرا ہے۔“ شرک اور مشرکین کا یہ سارا گورکھ دھندا دماغ کی خرابی اور وہم و خیال پر مبنی ہے اور ان کی تمام ریاضتیں دماغ کو خراب کرنے کے لیے ہیں، جو ہندو جوگیوں اور نصرانی راہبوں سے لی گئی ہیں۔ جن کے نتیجے میں وہ کچھ آنکھوں کو دکھائی دینے لگتا ہے جو محض گمان اور خیال کی پیداوار ہوتا ہے اور جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ترک حیوانات جلالی و جمالی کی اصطلاح بنا کر اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں، مثلاً گوشت، دودھ، دہی، گھی اور شہد چھوڑنے سے دماغ میں مزید خشکی اور خرابی پیدا ہو کر انھیں نظر نہ آنے والی چیزیں بھی نظر آنے لگیں۔ تمام بت پرست اسی خیال اور خواہش نفس کے پیچھے لگ کر خیالی خداؤں کی پرستش کر رہے ہیں، کوئی پتھر کی بنی ہوئی صورت سامنے رکھ کر اور کوئی اس کا تصور سامنے رکھ کر، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت قرآن و حدیث میں قرب الٰہی کے لیے ان ریاضتوں، سلسلوں اور ذریعوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وہم و گمان اور خواہش نفس کا اتباع کہہ کر بت پرستی قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة نجم (19 تا 25) اگر اللہ تعالیٰ کے قرب اور دیدار کا طریقہ یہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ہمیں ضرور بتا دیتے۔ جب موسیٰ ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر دنیا میں رب تعالیٰ کا دیدار برداشت نہیں کرسکے تو کسی اور بےچارے کی کیا مجال ہے۔
Ayah 7:139اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ۔۔ : موسیٰ ؑ نے ان کے مطالبے کے جواب میں چار باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ تم لوگ جہالت، یعنی نادانی اور اکھڑ پن اختیار کر رہے ہو، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ لوگ اس وقت جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ و برباد کردیا جانے والا ہے اور اس سے پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے آئے ہیں، باطل ہے۔ ایسے کام کا مطالبہ دنیا میں گمراہی و تباہی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔
Ayah 7:140قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا۔۔ : تیسری ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے بطور سوال ڈانٹ ہے کہ کیا الٰہ (معبود) بھی کوئی ایسی ہستی ہے کہ انسان جسے جی چاہے بنا لے، بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کو ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے اور پھر جس ذات نے تم پر بےبہا انعامات کیے ہیں اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے، کیا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شکر گزاری نہیں بلکہ عین ناشکری اور نمک حرامی ہے۔
Ayah 7:141وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ۔۔ : چوتھی یہ کہ آل فرعون سے نجات کو یاد کرو کہ اکیلے فرعون ہی نے نہیں بلکہ پوری قوم نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا۔ ”بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ“ آزمائش انعام اور مصیبت دونوں طرح ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں تم پر مصیبت کا ابتلا بھی آیا اور انعام کا بھی۔ تمہارے لڑکوں کا ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر لونڈیاں بنا کر ان سے کام لینا اور اپنی خواہش نفس پوری کرنا اور مردوں کو ختم کرنے کے ذریعے سے بنی اسرائیل کی نسل ختم کرنے کا منصوبہ بنانا مصیبت تھا اور اس سے نجات انعام۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (49)۔
ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین کی طرف نکلے تو مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے گزرے، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، وہ لوگ اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ تو (نو مسلم) لوگ کہنے لگے : ”یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیں، جیسا کہ ان کے لیے ذات انواط ہے۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! یہ تو اسی طرح کی بات ہے جو موسیٰ ؑ کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے جس طرح ان (مشرکین) کے معبود ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر سوار ہوجاؤ گے۔“ [ ترمذی، الفتن، باب ما جاء لترکبن سنن۔۔ : 2180 ] ترمذی اور البانی ; دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔
Ayah 7:142وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً۔۔ : فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ انھیں کتاب دی جائے۔ پہلے تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کردیا گیا، تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ ؑ روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تیس راتوں کی خلوت سے عبادت اور مناجات کی عادت پڑجائے گی اور مناجات کی لذت سے آشنائی کے بعد دس راتیں بڑھانے سے بھی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی چالیس راتیں تھیں جو دس بڑھانے سے مکمل ہوگئیں۔ (واللہ اعلم) بعض روایات میں ہے کہ ان دس دنوں کا اضافہ اس لیے کیا گیا تھا کہ موسیٰ ؑ نے تیس دن کے روزوں کے بعد مسواک کرلی، جس سے وہ بو جاتی رہی جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب تھی، مگر اس روایت کا کوئی سراغ قرآن و حدیث سے نہیں ملا، نہ کسی صحیح سند سے اس کی تائید ہوتی ہے اور مسواک سے وہ بو جاتی بھی نہیں، کیونکہ وہ درحقیقت معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے امام بخاری ؓ نے روزے دار کے لیے مسواک کے مستحب ہونے کا ایک باب مقرر فرمایا ہے : (بَاب السِّوَاک الرَّطْبِ وَالْیَابِسِ للصَّاءِمِ) یعنی روزے دار تازہ اور خشک مسواک کرسکتا ہے۔ [ بخاری، الصوم، قبل ح : 1934 ]
جب موسیٰ ؑ چالیس دن کی یہ میعاد پوری کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا اور انھیں تورات کی الواح (تختیاں) عطا فرمائیں۔ موسیٰ ؑ اپنی قوم کا مزاج سمجھتے تھے، ہارون ؑ اگرچہ اس سے پہلے بھی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے تھے مگر ان کی حیثیت ایک مددگار اور وزیر کی تھی، اصل قائد موسیٰ ؑ ہی تھے، اب ان دنوں کے لیے موسیٰ ؑ نے انھیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ وہ ان کی اصلاح کرتے رہیں اور فسادیوں کے پیچھے مت لگیں۔
Ayah 7:143وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا : میقات سے مراد مقرر کردہ وقت ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا اور موسیٰ ؑ کی طرف سے حاضری کا وعدہ تھا، اس لیے ”وٰعَدْنَا“ (باب مفاعلہ) استعمال فرمایا جو دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے۔
وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ : یعنی کسی واسطے کے بغیر کلام فرمایا۔ دیکھیے سورة بقرہ (253) اور نساء (164) یہ ان کا اللہ سے ہم کلام ہونے کا دوسرا موقع تھا۔ پہلے موقعے کا ذکر سورة طٰہ (12) میں ہے، جب آگ لینے گئے تھے اور رسالت سے سرفراز ہوئے تھے۔ واسطے کے بغیر اس لیے کہ فرشتے کے ذریعے سے یا دل میں ڈال کر تو ہر نبی سے کلام ہوتا تھا، جسے ”وحی“ کہتے ہیں، پھر موسیٰ ؑ کی خصوصیت کیا ہوئی ؟ جس کا ذکر تمام لوگ قیامت کے دن موسیٰ ؑ سے کرکے سفارش کی درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا۔ مشرک یونانیوں کے فلسفی عقائد سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام کر ہی نہیں سکتا، اس لیے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس میں نہ لفظ تھے نہ آواز۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یہ بات تمہیں قرآن مجید کی کس آیت یا حدیث سے معلوم ہوئی ؟ قرآن مجید نے تو موسیٰ ؑ کے لیے ”کلام“ کا لفظ استعمال فرمایا اور ”ندا“ کا بھی۔ دیکھیے سورة شعراء (10) اللہ کے کلام کرنے کے منکروں نے کہا، کلام سے مراد کلام نفسی ہے جو دل میں ہوتا ہے۔ مگر وہ تو سنائی نہیں دیتا اور وہ تو گونگوں کے دل میں بھی ہوتا ہے، اسے آپ سوچ، فکر اور ارادہ وغیرہ کہہ سکتے ہیں، مگر الفاظ کے نکلے بغیر کلام کیسے بن گیا ؟ تم نے اللہ تعالیٰ کی کیا قدر کی کہ اسے بولنے سے معذور قرار دے کر گونگوں کے برابر کردیا ! ! یہ لوگ قرآن کو بھی اللہ کا کلام نہیں مانتے، بلکہ اسے مخلوق کہتے ہیں کہ جو مفہوم اور معانی اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر موجود تھے اللہ تعالیٰ نے وہ معانی موسیٰ ؑ کو پہچانے کے لیے ہوا میں ایسے لفظ پیدا کردیے جو وہ مفہوم ادا کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن اللہ کا کلام نہیں، اس کی مخلوق ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مخلوق تو فنا بھی ہوسکتی ہے، اس لیے قرآن سے جان چھڑانے کا ایک حیلہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ قرآن اللہ کی مخلوق تھا، فنا ہوگیا، لہٰذا اب عمل کی ضرورت نہیں۔ ان لوگوں سے بس ایک ہی سوال ہے جو امام اہل السنہ احمد ابن حنبل ؒ نے ان سے بار بار اور مسلسل کیا کہ بتاؤ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہاں فرمائی ہے ؟ ! یا رسول اللہ ﷺ کا کوئی فرمان اس کے ثبوت کے لیے پیش کرو ؟ محض فلسفیوں کے دماغ کی خرابی سے دین کبھی ثابت نہیں ہوسکتا۔ تو کلام اللہ کو مخلوق کہنے والے اور اسے اللہ کی صفت ماننے کے منکر آخر وقت تک یہ مطالبہ پورا نہ کرسکے اور نہ کرسکتے ہیں۔
قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ۔۔ : فرشتے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلام کی لذت سے موسیٰ ؑ کے دل میں ایسا شوق پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کردی کہ پروردگار ! اپنا آپ مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا : (لَنْ تَرٰىنِيْ) ”تو مجھے ہرگز نہ دیکھے گا۔“ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کسی آنکھ میں یہ طاقت نہیں رکھی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کو برداشت کرسکے۔ رہا آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار تو وہ مومنوں کے حق میں قرآن مجید کی آیات اور متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قیامہ (22، 23) شاہ عبد القادر ؓ نے اس مقام پر لکھا ہے : ”یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے، گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں۔“ (موضح)
وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ : یعنی جب میں پہاڑ پر تجلی فرماؤں تو دیکھ اگر۔۔ یہ مشاہدہ کروا کر موسیٰ ؑ کی دل جوئی فرمائی کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا کوئی برداشت ہی نہیں کرسکتا، تاکہ وہ درخواست قبول نہ ہونے پر دل گیر نہ ہوں۔
فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ۔۔ : ”تَجَلّٰى“ یہ ”جَلَا یَجْلُوْ جَلْوَۃً“ سے باب تفعل ہے۔ ”جَلَا“ کا معنی ظاہر کرنا، پردہ ہٹانا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے
وَجَلَا السُّیُوْلُ عَنِ الطُّلُوْلِ کَأَنَّھَا
زُبُرٌ تُجِدُّ مُتُوْنَھَا اَقْلَامُھَا
”سیلابوں نے پرانے کھنڈر اس طرح ظاہر کردیے جیسے وہ ایسی کتابیں ہیں جن کے قلم ان کے متون کو نیا کردیتے ہیں۔“
”تَجَلّٰى“ کا معنی ظاہر ہوا۔ ”دَكًّا“ مصدر ہے۔ ”دَکَّ یَدُکُّ“ (ن) اور ”دَقَّ یَدُقُّ“ قریب قریب معنی رکھتے ہیں، یعنی کسی چیز کو کوٹ کر ریزہ ریزہ کردینا۔ یہاں ”دَكًّا“ مفعول مطلق ہے، یعنی ”دَکَّہُ دَکًّا“ کہ اسے ریزہ ریزہ کردیا۔ قرآن مجید میں ہے : (اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا) [ الفجر : 21 ] اور (وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً) [ الحآقۃ : 14 ] ”اَرْضٌ دَکَّاءٌ“ اس زمین کو بھی کہتے ہیں جو برابر اور ہموار ہو، یعنی جب رب تعالیٰ پہاڑ کے لیے ظاہر ہوا تو اس جلوے نے پہاڑ کو زمین کے برابر کردیا اور موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کا جلوہ تو کجا پہاڑ کی حالت دیکھنے کی تاب بھی نہ لاسکے، بلکہ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ بعض لوگوں نے ”صَعِقًا“ کا معنی کیا ہے کہ فوت ہو کر گرپڑے، اگرچہ ”صَعِقًا“ اس معنی میں بھی آتا ہے، مگر ”ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ“ (جب اسے ہوش آیا) کے الفاظ بتاتے ہیں کہ موسیٰ ؑ فوت نہیں بلکہ بےہوش ہوئے تھے۔ انس ؓ نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متعلق بیان کرتے ہیں : (فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا) [ الأعراف : 143] فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (سمجھانے کے لیے) اپنا انگوٹھا انگلی کے پورے کے قریب رکھا (اور فرمایا) ”تو پہاڑ دھنس گیا۔“ [ ابن أبی عاصم فی السنۃ : 480، و صححہ الألبانی ]
قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ : تو پاک ہے (کہ تجھے دنیا میں کوئی دیکھ سکے) میں توبہ کرتا ہوں (اس بات سے کہ تیری اجازت کے بغیر تجھے دیکھنے کی درخواست کر بیٹھا)
وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں، یعنی تجھ پر اور تیری عظمت و جلال پر، یا اس پر کہ کوئی تجھے قیامت سے پہلے نہیں دیکھ سکتا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”موسیٰ ؑ کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتے کے بغیر خود کلام فرمایا، ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی کروں، اس کی برداشت نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو دیکھنا ممکن ہے، کیونکہ نمود (ظہور) ہوا تھا پہاڑ کی طرف، لیکن دنیا کے وجود کو برداشت نہ ہوئی مگر آخرت کے وجود کو برداشت ہوگی، وہاں دیکھنا یقینی ہے۔“ (موضح)
Ayah 7:144وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : یعنی میں نے جو اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے لیے تمہیں چنا ہے یہی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا جو چیز مل گئی اس پر قناعت کر اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر جو تیری طاقت سے باہر ہے۔ اس سے مقصود موسیٰ ؑ کو تسلی دینا ہے کہ دیکھنے سے روک دینے پر دل گرفتہ نہ ہوں۔
Ayah 7:145وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ۔۔ : یعنی تمام عقائد و احکام اور نصائح جن کی حلال و حرام اور دین کے دوسرے معاملات معلوم کرنے کے سلسلہ میں بنی اسرائیل کو ضرورت پیش آسکتی تھی۔ ”كُلِّ“ کا لفظ موقع کی مناسبت ہی سے متعین ہوتا ہے، مثلاً ملکۂ سبا کے متعلق آتا ہے : (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ) [ النمل : 23 ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا : (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۢ بِاَمْرِ رَبِّهَا) [ الأحقاف : 25 ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ حالانکہ ظاہر ہے کہ نہ ملکۂ سبا کو کائنات کی ہر چیز عطا ہوئی تھی اور نہ اس آندھی نے کائنات کی ہر چیز کو برباد کیا تھا۔
فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ : اسے قوت کے ساتھ پکڑ۔ مجاہد نے فرمایا، جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کر۔ [ بخاری، التفسیر، قبل ح : 4477 ]
موسیٰ ؑ کو چالیس دن کے اعتکاف کے بعد کتاب ملی، جب کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم موسیٰ ؑ کی رسالت اور ان کے احکام سے انکار کی وجہ سے ہلاک کی جا چکی تھی اور اس وقت تک موسیٰ ؑ کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی، تقریباً چالیس سال تک اترنے والی وحی موسیٰ ؑ کی حدیث ہی تھی، جس کے انکار کی وجہ سے فرعون غرق ہوا۔ ہمارے نبی ﷺ پر بھی اسی طرح دونوں قسم کی وحی اتری، ایک کتاب اللہ اور دوسری حدیث۔ جس طرح کتاب اللہ کا منکر مسلمان نہیں، اسی طرح حدیث رسول ﷺ کو نہ ماننے والا بھی کافر ہے، کیونکہ آپ ﷺ پر بھی پہلے نبیوں کی طرح دونوں قسم کی وحی اتری۔ دیکھیے سورة نساء (163 تا 165) از فوائد مولانا محمد اسماعیل سلفی ؓ۔
وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ: ”اس کی بہتر باتیں“ یعنی جو کرنے کے حکم ہیں اور بری باتیں (وہ ہیں) جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ (موضح) یا رخصت کے بجائے عزیمت اختیار کریں جو بہترین ہے اور جس کا اجر زیادہ ہے۔ یا دو کاموں میں سے ایک اچھا ہے اور ایک اس سے بھی اچھا ہے تو بہترین پر عمل کی کوشش کریں، مثلاً قصاص لینا، یا معاف کردینا، انتقام لینا یا صبر کرنا اور درگزر سے کام لینا۔ قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا وغیرہ، اگرچہ دونوں اچھے ہیں مگر احسن پر عمل کی کوشش کریں۔
سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ : یعنی میں تمہیں فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا، یعنی دوبارہ فرعون اور اس کی آل کے گھر مصر لے جاؤں گا، اگرچہ کچھ دیر کے بعد، جیسا کہ بعد میں بنی اسرائیل کو فرعون کے باغات اور خزانوں کا مالک بنادیا۔ دیکھیے سورة اعراف (137) کے حواشی۔ استاد محمد عبدہ ؓ نے لکھا ہے، یعنی اگر تم نے ان باتوں پر عمل نہ کیا تو تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ میری نافرمانی کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور انھیں کس قسم کی تباہی و بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے (گویا ”دَارَ الْفٰسِقِيْنَ“ سے مراد جہنم ہے)۔ (ابن جریر) بعض نے لکھا ہے کہ ”دَارَ الْفٰسِقِيْنَ“ سے مراد اہل شام ہیں، گویا اس میں وعدہ ہے کہ ملک شام تمہارے قبضے میں آئے گا۔ (کبیر) یا یہ کہ اگر تم نے نافرمانی کی تو تم کو اسی طرح ذلیل کریں گے جس طرح شام کا ملک ان سے چھین کر تم کو دیا۔ (موضح)