Ayah 6:1اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : اس آیت میں اکیلے اللہ تعالیٰ کے تمام خوبیوں کا مالک اور معبود ہونے کی دلیل بیان کی گئی ہے اور کفار کے شرک پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، ایک زمین و آسمان کا جو جوہر ہیں، یعنی اپنا الگ وجود رکھتے ہیں اور دوسرے اندھیروں اور اجالے کا جو عرض ہیں، یعنی دوسری چیزوں کے ذریعے سے قائم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی جوہر یا عرض ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہو۔ اندھیروں اور اجالے سے یہی رات اور دن مراد ہیں، یا پھر ایمان کا نور اور کفر کے اندھیرے۔ (قرطبی) ”النُّوْرَ“ کو واحد اور ”الظُّلُمٰتِ“ کو جمع بیان کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایمان کا نور ایک ہی ہے، جبکہ کفر کی گمراہیاں بیشمار ہیں۔ سیدھا راستہ ایک ہے اور غلط راستوں کا شمار ہی نہیں۔
ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ : یعنی جب ہر چیز کا خالق ومالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور یہ مشرکین اسے اپنا رب (پالنے والا) بھی تسلیم کرتے ہیں تو ان پر لازم تھا کہ عبادت بھی اسی کی کرتے، مگر یہ پھر بھی دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں، ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں، ان کے نام کی نذریں چڑھاتے اور منتیں مانتے ہیں اور مشکلات میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ کس قدر بےعقلی ہے کہ پیدا اللہ تعالیٰ کرے، روزی بھی وہی دے، پھر مانگا غیر سے جائے اور اسے اپنے رب کے برابر ٹھہرایا جائے۔ دیکھیے سورة لقمان (10، 11) اور سورة عنکبوت (61 تا 63)۔
Ayah 6:2هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ : تمہیں مٹی سے پیدا کیا، یعنی آدم ؑ کو، باقی سب لوگ چونکہ آدم ہی کی اولاد ہیں، اس لیے گویا سبھی مٹی سے پیدا ہوئے۔ ”طِيْنٍ“ میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”حقیر مٹی“ کہا گیا ہے۔
ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ۭ: پھر ایک مدت مقرر کی، یعنی موت کا وقت اور ایک اور مدت اس کے ہاں مقرر ہے، یعنی قیامت کا وقت، جسے صرف وہ جانتا ہے، اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں۔ پھر بھی تم شک کرتے ہو، یعنی اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس نے مٹی کی ایک مٹھی سے تمہیں پیدا کیا، وہ دوبارہ بھی تمہیں زندہ کرسکتا ہے۔
Ayah 6:3وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں اس کے علم کا کامل ہونا ثابت فرمایا ہے، یعنی وہی ہستی ہے جسے آسمانوں اور زمین میں اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ آیت تقریباً اس آیت کی ہم معنی ہے : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْم) [ الزخرف : 84 ]”اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ یعنی آسمانوں اور زمین میں ایک ہی ذات ہے جسے ”اللہ“ کہہ کر پکارا جاتا ہے، جس کی آسمانوں اور زمین دونوں میں حکومت ہے اور دونوں میں اس اکیلے ہی کی عبادت کی جاتی ہے، کیونکہ وہ تمہاری ہر چھپی یا کھلی بات کو اور تمہارے ہر عمل کو جانتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے علم کا کمال ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اس کے معبود برحق ہونے کی ایک دلیل ہے۔
بعض لوگ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ ہے اور کوئی عرش وغیرہ نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ بلند ہو، حالانکہ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں، کیونکہ آیت میں اس کی ذات یا شخصیت کے آسمان و زمین میں ہونے کا بیان نہیں بلکہ زمین و آسمان میں اس کے ”اللہ“ یعنی معبود برحق ہونے کا بیان ہے، رہی اس کی ذات تو قرآن مجید میں اس کے عرش کا اور اللہ تعالیٰ کے اس کے اوپر ہونے کا واضح بیان ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً اٹھارہ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش کا ذکر ہے، اور آٹھ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے، اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، البتہ اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے وہ ہر جگہ ہے۔ اس لیے یہاں اس کے زمین و آسمان میں اللہ اور الٰہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ دونوں جگہ عبادت اسی کی کرنا لازم ہے اور دونوں جگہ وہی ہے جو کمال علم کی وجہ سے معبود برحق ہونے کا حق دار ہے۔
Ayah 6:4وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ۔۔ : ان آیات سے مراد وہ احکام بھی ہیں جو آیات کی صورت میں انبیاء پر اترتے رہے اور وہ معجزات بھی جو نبوت کی دلیل کے طور پر اترتے رہے۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں موجود وہ بیشمار نشانیاں بھی جو اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں، مثلاً دیکھیے سورة بقرہ (164) ، یوسف (105) اور ذاریات (20 تا 23)۔
Ayah 6:5فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید اور آخرت کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں تقلید کا باطل ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ (رازی) حق سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ پر اترنے والی کتاب ہیں۔ کفار جس چیز پر ہنستے تھے وہ آخرت اور اس میں پیش آنے والے معاملات تھے اور اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے بھی جو اس نے قرآن میں دین اسلام کے غالب اور دشمنوں کے مغلوب ہونے سے متعلق کیے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ کفار اس وعدے کو محض مذاق سمجھتے ہوئے اس پر ہنستے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا جائے گا اور پھر ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ جن سے یہ وعدہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گا اور آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے کہ آخرت بھی، جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ان کے سامنے آجائے گی۔
Ayah 6:6اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا۔۔ : کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں کہ ان سے پہلے کئی اقوام، مثلاً قوم نوح، عاد وثمود اور آل فرعون جو قوت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت سرسبز و شاداب تھے اور عیش و خوشحالی کا دور دورہ تھا، جب انھوں نے بغاوت اور سرکشی پر کمر باندھی تو ہم نے ان کا نام و نشان مٹا دیا، پھر ان کے بعد اور قومیں پیدا کردیں۔ جب تم سے زیادہ طاقت ور قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (26، 27) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیوی ترقی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ ان پر حجت قائم کرنے کے لیے استدراج (رسی ڈھیلی کرنا) بھی ہوسکتا ہے۔ اس امتحان کا نتیجہ آخرت کو سامنے آئے گا۔
Ayah 6:7وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا۔۔ : اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو انبیاء کے معجزات کی کوئی الٹی سیدھی تاویل کر کے انھیں جھٹلا دیتے تھے۔ (رازی) اس آیت میں کفار مکہ کی نبی کریم ﷺ کو جھٹلانے کے لیے پیش کردہ فرمائشوں میں سے ایک فرمائش (بنی اسرائیل : 93) کا جواب ہے کہ ہم اس وقت تک تمہارے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک تم ہم پر ایسی کتاب نازل نہیں کرتے جسے ہم خود پڑھیں۔ یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے، جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کرلیتے کہ یہ کوئی خیالی اور نظر بندی جیسی چیز نہیں، بلکہ حقیقت ہے، تب بھی یہ لوگ اسے کھلا جادو قرار دیتے، پھر اگر یہ بدبخت قرآن کو جادو قرار دیتے ہیں تو کیا تعجب ہے ؟ (قرطبی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جس کی قسمت میں ہدایت نہیں اس کا شبہ نہیں مٹتا۔“ (موضح) مزید دیکھیے سورة حجر (14، 15) اور طور (44)۔
Ayah 6:8وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ : یہ نبوت کے منکرین کا ایک اور اعتراض ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا، یا فرشتہ اس کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، اس پر ایمان لے آؤ، ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔
وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ۔۔ : یہ پہلا جواب ہے۔ (رازی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے، لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے، اس لیے اگر فرشتے اصل صورت میں نازل ہوتے تو ان کے پاس عذاب لے کر آتے اور ان کا قصہ ہی تمام ہوجاتا۔ دیکھیے سورة حجر (6 تا 8) اور سورة فرقان (21، 22)۔
Ayah 6:9وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا۔۔ : یہ کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے، یعنی ان کے مطالبے کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظور کر بھی لیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں آتا، کیونکہ یہ اسے اس کی اصل شکل میں تو دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں ہوتا تو پھر یہی اعتراض کرتے جو اب کر رہے ہیں۔ اس وقت کے کافر کسی انسان کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، کیونکہ آپ ﷺ ان کی قوم سے تھے، ان کے سامنے جوان ہوئے اور انھی میں زندگی گزاری۔ اب کچھ لوگ آپ ﷺ کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آپ ﷺ کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ گویا ایک ہی عقیدے کی دو شکلیں ہیں اور دونوں باطل ہیں، حالانکہ اللہ نے اپنا احسان جتلایا ہے کہ میں نے انسانوں میں انھی کے اندر سے رسول بھیجا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (164)۔
Ayah 6:10وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ کو جھٹلانے اور اللہ کے عذاب کا مذاق اڑانے کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہوا، آخر کار اسی عذاب نے کفار کو آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آئے گا، یہ محض دھمکی ہے۔
Ayah 6:11قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : اس سے کفار کو ڈرانا مقصود ہے، یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں، ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور کرو، تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انھیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چار ہونا پڑا، پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔
Ayah 6:12قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : وعظ و نصیحت اور ڈرانے کے بعد انھی تینوں اصولوں (کائنات کی ابتدا، اسے دوبارہ زندہ کرنے اور انبیاء کی نبوت) کو ثابت کرنے پر دلیل قائم کی ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان کافروں سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے ؟ اس سوال کا مقصد ڈانٹ اور پھٹکار ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ خود ہی جواب دے دیجیے کہ اللہ کے سوا کون ہوسکتا ہے اور یہ جملہ بھی رسول اللہ ﷺ ہی کی زبانی ادا کیا گیا ہے کہ آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرنا لازم کرلیا ہے، وہ توبہ و استغفار قبول کرتا ہے اور اسی صفت رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمہیں دنیا میں مہلت دی ہے، فوراً نہیں پکڑتا، لیکن قیامت کے دن تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے اپنے پاس کتاب میں، جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے، اپنے متعلق لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
[ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (ویحذرکم اللہ نفسہ۔۔) : 7404 ]
لیکن یہ رحمت قیامت کے دن صرف اہل ایمان کے لیے ہوگی، کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ سخت غضب ناک ہوگا۔ دنیا میں اس رحمت سے مسلم اور کافر، نیک اور بد سب فائدہ اٹھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ) [ الأعراف : 156] ”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورة بقرہ (218) رہا دنیا میں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا) [ بنی إسرائیل : 20 ] ”ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے اور تیرے رب کی بخشش کبھی بند کی ہوئی نہیں۔“
ۭلَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ۭ۔۔ : یعنی قیامت کا آنا ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سمجھ دار آدمی انکار نہیں کرسکتا، اس سے انکار اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہی جو اپنی عقل و فطرت سے کام نہیں لیتا اور خسارے کے سودے پر اڑا ہوا ہے، نفع کے سودے کی خواہش ہی نہیں رکھتا، حالانکہ اللہ نے فرمایا : (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۭ) [ آل عمران : 185 ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا۔“
Ayah 6:13وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ۔۔ : گزشتہ آیت : (قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ) میں مکان (جگہ) کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ بادشاہ ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں زمان اور وقت کے اعتبار سے اس کی بادشاہی عام ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے سوا کوئی مکان (جگہ) نہیں اور رات اور دن کے سوا کوئی زمانہ (وقت) نہیں، گویا ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور اسی کا قبضہ و اقتدار ہے۔ پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام جگہوں اور تمام اوقات اور زمانوں کا مالک ہے، فرمایا : (وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) یعنی وہ ہر چیز کی دعا اور پکار سنتا ہے۔ ”الْعَلِيْمُ“ ہر چیز کے عمل اور اس کی ضرورت سے آگاہ ہے تو پھر کسی اور کو پکارنے کی ضرورت کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں ”مَا سَكَنَ“ میں سکون سے مراد حلول، یعنی رہنا ہے اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراد نہیں۔ اس لیے ٹھہرا ہوا ہے کا معنی بھی یہی ہے کہ جو بھی رات اور دن میں بس رہا ہے۔
Ayah 6:14قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا : ”ولی“ کا معنی دوست بھی آتا ہے، مالک و مدد گار اور معبود و کارساز بھی، یہاں اس کا معنی مالک و مدد گار اور معبود و کارساز ہے، یعنی وہ زمان و مکاں کا خالق ہی نہیں بلکہ اسے باقی رکھنے والا اور چلانے والا بھی وہی ہے، اسے کسی سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں، باقی سب اسی کا دیا ہوا کھانے والے اور ہر لحاظ سے اس کے محتاج ہیں۔ اس ایک جملے سے مشرکین نے اللہ کے سوا جتنے معبود بنا رکھے تھے، ان سب کی نفی ہوجاتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة ذاریات (56 تا 58)۔
قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ۔۔ : کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ تمام بندوں سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک کے احکام کو مانے۔ اور (وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْن) کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شرک میں مبتلا ہوتا ہے تو ہوتا پھرے، آپ کا یہ کام نہیں کہ اس لعنت میں پڑنے کا خیال بھی اپنے ذہن میں لائیں۔
Ayah 6:15قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ۔۔ : رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروا کر دوسرے سب لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر بفرض محال ہمارے معصوم اور سب سے زیادہ نیک بندے سے بھی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا، پھر دوسروں کے لیے کیسے ممکن ہے کہ انبیاء کو جھٹلانے جیسے جرائم کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔ مزید دیکھیے سورة انعام (81 تا 88 اور سورة زمر (64، 65)۔
Ayah 6:16مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ۔۔ : یعنی بلند مقام حاصل کرنا تو بہت بڑی بات ہے، اگر کسی سے آخرت کا عذاب ہی ٹل جائے تو اپنی جگہ یہی بہت واضح کامیابی ہے۔
Ayah 6:17وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ۔۔ : اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی۔ کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ اور تکلیف کو دور کرنے والا اور ہر قسم کی خیر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر وہ دوسروں کے آگے سجدے کرنا اور ان کی قبروں پر نذرانے چڑھانا اور سمجھنا کہ وہ حاجتیں پوری کرسکتے ہیں، بہت بڑی حماقت سمجھے گا۔ قرآن نے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ ہر قسم کا نفع و ضرر اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس پر عقیدہ پختہ ہوجائے تو انسان شرک میں مبتلا نہیں ہوتا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (188) ، یونس (104 تا 107) ، فاطر (2) ، سورة زمر (38) اور سورة جن (21)۔
Ayah 6:18وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ۔۔ : یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے۔ (رازی) مطلب یہ ہے کہ سب لوگ، خواہ بڑے سے بڑے جابر ہوں، اس کے سامنے بےبس ہیں، تمام گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی ہیں، وہ ہر ایک پر غالب ہے اور ساری کائنات اس کی مطیع ہے۔ صفات کمال دو ہیں، قدرت اور علم، پہلے جملے (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے جملے (وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ) سے کمال علم ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے احکام میں کمال حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (رازی) اس لیے غلبہ و تسلط کے باوجود اپنی مخلوق کے معاملے میں حکمت اور آگاہی کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتا ہے۔
Ayah 6:19قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ۭ۔۔ : کفار مکہ کے بعد جب یہود و نصاریٰ کی اکثریت نے بھی آپ کو جھٹلا دیا تو کفار کہنے لگے، بتاؤ اب تمہاری رسالت کی گواہی کون دیتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کافروں سے کہیے کہ اللہ کی ہستی سے بڑی ہستی کون سی ہے ؟ جب کوئی نہیں تو بتاؤ سب سے بڑا شہادت دینے والا کون ہوگا ؟ آپ خود ہی ان کے سامنے واضح فرما دیجیے کہ وہ تو اللہ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر قرآن اتارا، جو قیامت تک کے لیے زندہ معجزہ ہے کہ کوئی بھی اس کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت نہیں لاسکا اور نہ لاسکے گا۔ یہ قرآن معجزہ ہونے کے اعتبار سے میرے سچے نبی ہونے کی صریح دلیل ہے، اسی کے پیش نظر فرمایا : (ۣوَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ)”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے۔“ (رازی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ یہاں گواہی فرمایا قسم کو، یعنی میں قسم کھاتا ہوں اللہ کی، اس سے زیادہ کیا قسم ہوگی۔ (موضح) اس آیت میں اللہ کے لیے ”شَيْءٍ“ ہونے کو ثابت کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک موجود، زندۂ جاوید ہستی ہے، محض ایک خیال و تصوراتی ہستی نہیں ہے۔
لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ: یعنی میری طرف یہ قرآن اس لیے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس سے ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے۔ اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام عرب و عجم اور جن و انس ہیں اور مقصد یہ ہے کہ میری رسالت عالم گیر اور قیامت تک کے لیے ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مطابق روم، ایران، حبشہ اور کئی ممالک کو دین اسلام کی دعوت دی اور اپنی امت کے ہر فرد کو حکم دیا : (بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً)”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت (مسئلہ) ہو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل : 3461، عن عبداللہ بن عمرو ؓ ] اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”میری بات سننے والوں میں سے ہر شخص اسے پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں۔“ [ بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام
منًی : 1741 ]
اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ہر اس بندے (کے چہرے) کو تروتازہ رکھے جو میری بات یاد رکھے اور آگے پہنچا دے۔“ [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع : 2656 تا 2658 ] ان احادیث اور آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے احکام تمام لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہیں، ان میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ہر زمانے کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اسے اگلے زمانے کے لوگوں تک پہنچائیں۔ قرآن کے احکام کو صرف نبی ﷺ کے زمانے تک محدود رکھنا اور حالات کی تبدیلی کے بہانے قرآن و حدیث کے احکام میں تبدیلی کرنا قرآن کے احکام سے جان چھڑانے کی کوشش ہے اور صریح تحریف ہے، جس کی وجہ سے یہودی ملعون ٹھہرے۔
اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ۔۔ : یعنی قرآن میں مذکور توحید کے واضح اور قطعی دلائل کے باوجود کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہیں۔ آپ کہہ دیجیے تم جو چاہو کہو، میں یہ شہادت کبھی نہیں دے سکتا۔ کہہ دیجیے کہ معبود تو صرف ایک اللہ ہے، میں کسی اور کو معبود نہیں مانتا اور صاف کہتا ہوں کہ میں ان تمام ہستیوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو، بری ہوں ”مَا“ مصدریہ ہو تو معنی ہوگا، میں تمہارے شرک سے جو تم کرتے ہو، بری ہوں۔
Ayah 6:20اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ۔۔ : یعنی یہود و نصاریٰ کو رسول اللہ ﷺ کے سچے رسول ہونے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ان کی اپنی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر خیر موجود ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (146) ، سورة اعراف (157) اور سورة صف (6)۔
کفار مکہ نے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے آپ کی نبوت سے انکار کیا اور کہا کہ تورات و انجیل میں آپ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس پر کفار نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اہل کتاب تو آپ کی نبوت کا انکار کر رہے ہیں، پھر آپ کی نبوت کی شہادت کون دیتا ہے ؟ اس کا جواب اس سے پہلی آیت میں دیا گیا ہے، اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب جھوٹ بولتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ذکر تورات و انجیل میں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی نبوت کے سچا ہونے کو پورے یقین سے جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار کر کے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رہے ہیں، ایسے لوگوں سے ایمان کی امید نہیں، ہاں جن لوگوں کے دلوں میں اخلاص ہے وہ ضرور ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 6:21وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچایا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گناہ گار کوئی نہیں، پس اپنی فکر کرو۔ (موضح) اب اس آیت میں ان کے خسارے کا سبب بیان فرمایا۔ (رازی) خسارے کا پہلا سبب افتراء علی اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا قرار دیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی جھوٹ گھڑنے پر تھی۔ بتوں کو اللہ کا شریک قرار دینا، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا اور بحیرہ و سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دینا، یہ سب چیزیں جھوٹ گھڑنے پر مبنی تھیں۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افترا شامل ہوگئے تھے، مثلاً وہ تورات و انجیل کو ناقابل نسخ قرار دیتے، اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے حبیب کہتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بہت سی جہالت کی باتیں کرتے تھے۔ خسارے کا دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا ہے، جس میں معجزات و احکام کو جھٹلانا بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار وہ تیس کذاب بھی شامل ہیں جن کی نبی ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ [ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ۔۔ : 84؍2923 ] جن میں مرزا قادیانی اور اسے نبی کہنے والے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کے ذمے کوئی جھوٹی حدیث لگانے والے بھی، کیونکہ آپ کے ذمے کوئی بات لگانے والا درحقیقت وہ بات اللہ کے ذمے لگا رہا ہوتا ہے۔
Ayahs 6:22–23وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا۔۔ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جب ان سے ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے متعلق باز پرس ہوگی تو ان کے پاس کوئی بہانہ یا فریب اس کے سوا نہ ہوگا کہ وہ قسم کھا کر اپنے شرک کرنے ہی سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة مجادلہ (18)۔
دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ دیکھیے سورة نساء (42) دونوں باتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ اہل توحید کو جنت میں داخل ہوتا دیکھیں گے تو اپنے شرک کا انکار کریں گے، پھر جب ان کے مونہوں پر مہر لگے گی اور ان کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کا ہر حصہ بول کر گواہی دے گا تو پھر ان کی کوئی بات چھپ نہیں سکے گی۔
Ayah 6:24اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا۔۔ : یعنی وہاں ان کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کے بنائے ہوئے حاجت روا اور مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے۔
Ayah 6:25وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ ۚ۔۔ : یعنی کان لگا لگا کر سنتے ہیں، جب قیامت کے دن گزشتہ کافروں پر گزرنے والے کچھ احوال بیان فرمائے تو موجودہ کافروں کا بھی کچھ حال بیان فرمایا۔ (رازی) فرمایا کہ مشرکین آپ کے پاس آکر بڑے غور سے قرآن سنتے ہیں، لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ہدایت حاصل کرنا ان کا مقصد ہی نہیں ہوتا، اس لیے انھیں سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے حق کو پہچان کر نہ ماننے اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے ہم نے انھیں یہ سزا دی ہے کہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیے ہیں، جن کی وجہ سے وہ کان لگا کر سننے کے باوجود نہ سمجھتے ہیں، نہ سنتے ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (179) اب قرآن جیسا عظیم معجزہ دیکھ کر وہ ایمان نہیں لائے تو یہ امید مت رکھیں کہ وہ کوئی بھی معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کو برحق جاننے کے باوجود ان کی ضد اور عناد یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ آپ کے پاس آکر جب وہ آپ سے جھگڑتے ہیں اور ان انکار کرنے والوں کو آپ ﷺ کے واضح دلائل کا کوئی جواب نہیں سوجھتا تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اخلاق، حکمت اور شریعت کی باتیں ہیں اور اس میں جو قصے بیان کیے گئے ہیں، وہ سب سچے واقعات ہیں اور صرف عبرت و نصیحت کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔
Ayah 6:26وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ ۚ: یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے سے اور لوگوں کو آپ ﷺ کے پاس جانے سے بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میں سے بہت سے شرک و بدعت میں مبتلا مولوی بھی اہل توحید کی تقریریں سننے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی نہیں سنتے، بلکہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں حق واضح ہوجانے کے بعد اسے قبول کر کے ہمارے چنگل سے نہ نکل جائیں۔
وَاِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ : یعنی ایسا کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، بلکہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
Ayah 6:27وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ۔۔ : جب قیامت کا عذاب دیکھ لیں گے تو اس کی ہلاکت اور تباہی سے بچنے کے لیے اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ اے کاش ! ہمیں دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع ملے تو ہم اس تکذیب سے جس کی بنا پر ہم عذاب سے دو چار ہو رہے ہیں، باز آجائیں اور توحید و نبوت پر یقین کرلیں، لیکن یہ ان کی محض ایک خواہش ہوگی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس لیے اگلی آیت میں بتادیا کہ وہ اس خواہش میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
Ayah 6:28بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا۔۔ : اس سے پہلے (اللہ تعالیٰ کے سامنے) جس کفر و شرک اور نفاق کو وہ جھوٹی قسمیں کھا کر چھپانے کی کوشش کر رہے تھے، اس کی حقیقت کھل جائے گی۔ بعض نے ”مِنْ قَبْلُ“ سے دنیا میں چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، یا پھر اس سے کفار کے سردار مراد ہیں، یعنی وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کا سچا ہونا جانتے تھے، مگر اپنے پیروکاروں سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے پیروکاروں پر کھل جائے گی اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکا دیتے رہے ہیں۔
وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ : یعنی پھر کفر و شرک اور نفاق کی راہ اختیار کریں گے، کیونکہ ان کی یہ آرزو ایمان لے آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی طرح جہنم سے بچنے کے لیے ہے۔
وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ : اس لیے آخرت میں اس آرزو کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے۔
Ayah 6:29وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا۔۔ : یعنی زندگی بس وہی ہے جو دنیا میں ہم گزار رہے ہیں، کوئی آخرت نہیں، نہ کچھ ثواب و عذاب ہے، یہ محض لوگوں کو الّو بنانے کے لیے ڈھکوسلا ہے۔
Ayah 6:30وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا۔۔ : پچھلی آیت میں کفار کا وہ قول بیان کیا ہے جو وہ دنیا میں کہا کرتے تھے اور اب آخرت میں ان کی حالت کا ذکر ہے۔
ۭقَالَ اَلَيْسَ هٰذَا بالْحَقِّ ۭ۔۔ : کاش ! آپ وہ منظر دیکھیں جب انھیں آگ کے سامنے کھڑا کر کے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ (آخرت اور جزا و سزا) حق نہیں ہے۔ اب وہ اپنا قول بالکل ہی بدل لیں گے اور قسم کھا کر قیامت کے دن کے حق ہونے کا اقرار کریں گے، مگر اس وقت کا اقرار انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن ان کی اس خواہش کا اور اسے ٹھکرا دیے جانے کا کئی جگہ ذکر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (107، 108) اور سورة سجدہ (12)۔
Ayah 6:31عَلٰي مَا فَرَّطْنَا فِيْهَا ۙ: یہاں ”فِيْهَا ۙ“ کی ضمیر یا تو ”الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ“ کی طرف جا رہی ہے، یا ”السَّاعَةُ“ کی طرف، یعنی ہائے ہمارا افسوس ! اس کوتاہی پر جو ہم نے دنیا میں کی، یا اس کوتاہی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔
Ayah 6:32وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ۔ : دنیوی زندگی کے بہت جلد ختم ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو و لعب فرمایا ہے۔ (رازی) یعنی آخرت کی حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور اس کی لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة حدید (20) انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی شخص کی ایک کمان کی مقدار کے برابر یا اس کے کوڑے کے برابر جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دے اور اسے خوشبو سے بھر دے اور اس کے سر کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب الحورالعین و صفتھن : 2796 ]
وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ۔۔ : یعنی آخرت کا گھر دنیا سے کہیں بہتر ہے، مگر ان کے لیے جو کفر و شرک، نفاق اور کبائر سے بچتے ہیں، ورنہ کافر کے لیے تو دنیا کی زندگی ہی بہتر ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ) [ مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن۔۔ : 2956 ]”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔“
Ayah 6:33قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ۔۔ : نبی کریم ﷺ نے جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا آپ کی قوم کے تمام لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے، لیکن جونہی آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور انھیں اللہ کی آیات سنانا شروع کیں تو ان میں سے اکثر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا قرار دینے لگے۔ ابو سفیان جو بدر، احد اور خندق کی جنگ کا باعث تھا، اس سے رومی بادشاہ ہرقل نے پوچھا کہ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ بولا ہے، تو اس نے کافر ہونے کے باوجود جواب دیا کہ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں، وہ حقیقت میں آپ کو نہیں بلکہ ہماری آیات کو جھٹلا رہے ہیں، کیونکہ شخصی لحاظ سے تو آپ کو جھٹلا ہی نہیں سکتے، آپ کے نبوت سے پہلے کے چالیس سال اس کا ثبوت ہیں۔ ان سے مراد دراصل وہ کفار ہیں جو بشر کے نبی اور رسول ہونے کو محال سمجھتے تھے۔ (ابن کثیر، رازی)
Ayah 6:34وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ۔۔ : اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ صرف آپ ہی کو نہیں، بلکہ آپ سے پہلے کئی انبیاء و رسل کو بھی جھٹلایا گیا، اس لیے آپ بھی اسی طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح انھوں نے لیا۔
وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ : ”لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی نصرت اور آپ کو غالب اور کفار کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے، جیسے : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) [ المؤمن : 51 ] ”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ اور فرمایا : (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) [ المجادلۃ : 21 ] ”اللہ نے لکھ دیا کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔“ اور فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ) [ الفتح : 28 ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔“ تو یہ وعدہ ہر حال میں پورا ہوگا، لہٰذا آپ اطمینان رکھیں کہ اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، جس طرح انھوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ نہ پانے دیں۔ یقیناً آپ کی بھی اسی طرح نصرت و تائید کی جائے گی۔
Ayah 6:35وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ۔۔ : نبی کریم ﷺ کو کفار کے جھٹلانے سے جو تکلیف اور دل شکنی ہوتی تھی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی بےرخی اگر بہت زیادہ ہی آپ پر شاق گزر رہی ہے تو زمین میں سرنگ نکال کر یا آسمان پر سیڑھی کے ذریعے سے چڑھ کر آپ کوئی معجزہ لا کر ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں، تو آپ ایسا بھی کر کے دیکھ لیجیے، لیکن یہ چونکہ آپ سے ہو نہیں سکتا تو رنجیدہ ہونے سے کیا فائدہ، بہتر ہے کہ انجام کار ہم پر چھوڑتے ہوئے پورے اطمینان اور پورے سکون کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں لگے رہیں۔ کفار کس طرح کے معجزات کا تقاضا کرتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 97)۔
وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ۔۔ : یعنی ایسا خیال مت کیجیے کہ کوئی نشانی (معجزہ) لانے سے یہ راہ ہدایت پر ضرور ہی آجائیں گے، کیونکہ ہدایت سراسر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، آپ کے ذمے صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں اور ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر ہرگز کوئی غم یا افسوس نہ کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی کہ سب لوگ ایمان لے آئیں تو اسے یہ کام کچھ مشکل نہ تھا، اس نے صرف ”کُنْ“ کہنا تھا کہ سب لوگ ایمان لے آتے اور ہدایت پر جمع ہوجاتے۔ دیکھیے یونس (99) مگر ایسا کرنا اس کی مشیت اور حکمت کے خلاف ہے، جو بظاہر یہ ہے کہ اس سے اختیار دے کر آزمانے کا سلسلہ ختم ہوجاتا۔ بہر حال اپنے کاموں کی حقیقی حکمت و مصلحت وہی جانتا ہے، لہٰذا اس قسم کے نظریے کو اپنے دل میں جگہ نہ دیجیے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و تقدیر اور اس کی مصلحتوں پر ایمان رکھ کر تسلی حاصل کریں۔
Ayah 6:36اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا بھی پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے، یعنی ان کفار کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور ان مردوں کو اگر عقل آئے گی تو اسی وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان کا محاسبہ کرے گا۔ سورة نمل کی آیات (80، 81) اس کی ہم معنی ہیں۔
Ayah 6:37وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ۔۔ : منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو اپنے ساتھ نظر آنے والا ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے، مگر اس کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی آجائے، جیسے اونٹنی جو صالح ؑ کے عہد میں بھیجی گئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہوجائے گی اور فوراً عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے، مگر ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتے۔ (رازی) دیکھیے سورة بنی اسرائیل (59)۔
Ayah 6:38وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی زمین پر چلنے والا کوئی جانور (دیکھیے سورة نور : 45) اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں، مگر سب تمہاری طرح امتیں ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ طائر کا معنی ہی پرندہ (اڑنے والا) ہے، پھر ان الفاظ کی کیا ضرورت تھی کہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات تیز دوڑنے والے کو بھی پرندہ کہہ دیا جاتا ہے، جیسے کہہ دیا جائے کہ گھوڑا اڑتا جا رہا تھا۔ ”دو پروں“ کے لفظ نے یہ احتمال ختم کردیا اور بتادیا کہ یہاں مراد حقیقی پرندہ ہے، جو پروں سے اڑتا ہے، صرف تیز رفتار مراد نہیں۔
اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ : یعنی زمین پر چلنے والے اور اڑنے والے تمام جانور تمہاری طرح کی امتیں ہیں، تمہاری طرح پیدا ہوتی ہیں، جوانی کو پہنچتی ہیں، پھر مرجاتی ہیں، تمہاری طرح ان کا پیدا کرنا، ان کی روزی کا سامان اور ہر ضرورت پوری کرنا اور ان کی مصلحتوں کا اہتمام کرنا سب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (دیکھیے سورة ہود : 6) جس طرح اللہ تعالیٰ ان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ہے اسی طرح تمہاری تمام مصلحتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان لوگوں کے مطالبے کے مطابق نشانیاں اور معجزے نازل کرنا خود ان کی مصلحت کے خلاف ہے۔
مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ : ”الْكِتٰبِ“ سے مراد لوح محفوظ ہے، جو مخلوقات کے تمام احوال پر حاوی ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کے بیان کی اس میں کمی رہ گئی ہو۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قلم خشک ہوچکا ہے اس پر جو تم کرنے والے ہو۔“ [ بخاری، القدر، باب جف القلم علی علم اللہ۔۔ قبل ح : 6596 ] ”الْكِتٰبِ“ سے مراد یہاں قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے۔ رازی نے فرمایا (یہی معنی زیادہ ظاہر ہے) اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دین کے متعلق تمام اصول (بنیادی امور) بیان کردیے اور جن جزئیات کا ذکر نہیں وہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے بیان فرما دی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ) [ النحل : 89 ] ”ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ وہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔“ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ پیغمبر جس چیز کا حکم دیں اسے بجا لاؤ اور جس چیز سے منع کردیں اس سے رک جاؤ، فرمایا : (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ) [ الحشر : 7 ] خلاصہ یہ کہ حدیث نبوی بھی کتاب الٰہی ہے اور دین کی کوئی ایسی بات نہیں جو ”الکتاب ‘ (قرآن و حدیث) میں بیان نہ کردی گئی ہو۔
ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ : کفار کو متنبہ کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کے کسی جانور یا پرندے کے حالات سے ناواقف نہیں ہے اور اس کا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور اس کا بدلہ بھی اسے ملے گا تو تم اپنے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (رازی)
اس آیت : (ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ) اور ایک دوسری آیت : (وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَت) [ التکویر : 5 ] (اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہوگا۔ ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہوگا، مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر کیا ہوگا اس کا بدلہ ضرور دلوایا جائے گا، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ضرور بالضرور حق داروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے، حتیٰ کہ بےسینگ بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2582 ] بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ بات بطور تمثیل بیان کی گئی ہے، کیونکہ جانور تو مکلف ہی نہیں ہیں، مگر حدیث میں ”بدلے“ کے صریح الفاظ اس خیال کی نفی کرتے ہیں۔
Ayah 6:39وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : یعنی ہماری آیات کو جھٹلانے والے چونکہ حق بات نہ سنتے ہیں، نہ ان کی زبانوں سے حق بات نکلتی ہے، اس لیے وہ بہرے اور گونگے ہیں اور کفر و شرک اور نفس کی بےجا خواہشوں کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی بات سورة بقرہ (17، 18) اور سورة نور (46) میں بیان ہوئی ہے۔
ۭمَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ ۭ۔۔ : مگر وہ گمراہ انھی کو کرتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة بقرہ (26، 27) اور سورة اعراف (176) اور ہدایت انھی کو دیتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (11)۔