Ayahs 6:40–41قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَاب اللّٰهِ۔۔ : اس مضمون کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان کیا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (67) ، سورة زمر (38) ، سورة مومنون (84 تا 89) ، سورة لقمان (32) اور سورة یونس (22) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے زمانے کے مشرکین کا طرز عمل بیان فرمایا، مطلب یہ ہے کہ توحید انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، وہ ماحول کے اثر سے یا آباء و اجداد کی تقلید سے شرک میں گرفتار ہوتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے، نذر و نیاز بھی ان کے نام کی نکالتا ہے، لیکن جب آزمائش سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب کو بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی ہے، پھر بےبس انسان سب کچھ بھول جاتا ہے اور صرف اسی ایک ذات کو پکارتا ہے جسے پکارنا چاہیے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی طرز عمل کو بطور ثبوت توحید کی دلیل کے طور پر بیان کیا، یعنی اگر اپنے اس دعویٰ میں کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ تم پر آئی ہوئی بلا ٹال سکتے ہیں تو یہ بتاؤ کہ اللہ کا عذاب آنے کی صورت میں، یا قیامت آنے پر بھی کیا تم غیر اللہ کو پکارو گے ؟ نہیں بلکہ تم صرف اسی کو پکارو گے، باقی مشکل کشا تمہیں بھول جائیں گے۔ یہ تو ان کفار و مشرکین کا حال تھا لیکن آج خود مسلمانوں کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کی فطرت اس قدر مسخ ہوچکی ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی فریاد کرتے ہیں تو اپنے کسی خود ساختہ داتا سے یا علی (t) سے، یا شیخ عبد القادر جیلانی سے، انھیں غوث اعظم، یعنی سب سے بڑا مدد گار کہہ کر، یا رسول اللہ ﷺ سے، یا فاطمہ، حسین اور حسن ؓ سے۔ نعرے بھی ان سے مدد مانگنے کے الفاظ کے ساتھ لگاتے ہیں، جیسا کہ یا رسول اللہ، یا علی، یا غوث اعظم وغیرہ، گویا ان کی حالت عملی طور پر ان پہلے کفار و مشرکین سے بھی بدتر ہے۔
Ayahs 6:42–43وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دل ایسے سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے بداعمال کو ان کے لیے ایسا خوبصورت بنادیا کہ وہ اللہ کا عذاب آنے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دنیاوی اسباب ہی کو اس عذاب کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔ حالانکہ مصائب و آفات بھیجنے کا مقصد لوگوں کو اپنی روش سے باز آنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ اس موقع کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ کیا آج کل ہم مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال نہیں ہوگیا کہ جب کوئی جنگ یا قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو ہم میں سے کئی افراد اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں، خصوصاً منکرین حدیث اور کفار سے مرعوب لوگوں کا یہی حال ہے۔
Ayah 6:44فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ۔۔ : جب انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرامین کو فراموش ہی کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کرنے کے لیے ان کی رسی دراز کردی اور ان پر ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیے، پھر جب وہ عیش و آرام میں پوری طرح مگن ہوگئے تو اللہ نے اچانک انھیں پکڑ لیا، یعنی اچانک ایسا عذاب آیا کہ وہ اپنا تمام عیش و آرام بھول گئے اور انھیں بچنے کی کوئی امید نہ رہی اور اسی یاس اور ناامیدی کی حالت میں تباہ و برباد کردیے گئے۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ جب سختی اور مصیبت آئے تو اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ سمجھ کر برے کاموں سے توبہ کرلے، ورنہ غفلت بڑھتی جائے گی اور اچانک ایسی سخت پکڑ ہوگی کہ توبہ کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ ”مُّبْلِسُوْنَ“ یہ ”مُبْلِسٌ“ کی جمع ہے، یعنی جس کی امید ختم ہوجائے۔
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی کے باوجود کوئی قوم دنیوی مال کے لحاظ سے نہایت ترقی یافتہ اور خوش حال ہے تو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے، نہیں، بلکہ یہ استدراج ہے اور ان کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (178)۔
Ayah 6:45فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔۔ : یعنی وہ سب نیست و نابود کردیے گئے اور ان کی ہلاکت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی، جس پر ہر چیز نے سکھ کا سانس لیا اور ان کا نام و نشان مٹنے پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، جس نے رب العالمین ہونے کی وجہ سے اپنی مخلوق پر رحم فرما کر زمین کو ان کے وجود سے پاک کیا۔
Ayah 6:46قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ۔۔ : فرمایا، اب تو تمہارے کان، آنکھیں اور دل موجود ہیں، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور آیات سن کر، دیکھ کر اور ان سے متعلق سوچ کر کفر سے نجات حاصل کرسکتے ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو لے ہی جائے اور دلوں پر مہر لگا دے تو بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہے جو یہ نعمتیں واپس دے دے ؟ اس لیے ان کے جانے سے پہلے پہلے توبہ کرلو اور اس میں ہرگز دیر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے حقائق بیان کرتا ہے، تاکہ لوگ حقائق سے آگاہ ہوجائیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے اور اللہ کی آیات سے بےرخی پر قائم رہتے ہیں۔
Ayahs 6:47–49قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ۔۔ : ”بَغْتَةً“ اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، یعنی رات کو اور ”جَهْرَةً“ کھلم کھلا، سب کے دیکھتے ہوئے، یعنی دن کو، جیسا کہ سورة یونس کی آیت (50) میں ہے : (ٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا) ”رات کو یا دن کو۔“ پہلی آیت میں صرف ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو لے جانے یا مہر لگا کر بند کردینے کی بات کی تھی، اب اس آیت میں عام عذاب کے ساتھ ڈرایا جا رہا ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم کسی صورت بچ نہیں سکو گے۔ باقی رہے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور بچائے گا، کیونکہ پہلے جتنی بھی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مستقل طریقہ یہی رہا ہے کہ پہلے رسول اور اس کے پیروکاروں کو ظالم قوم کی بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا، جب وہ نکل گئے تو ظالم لوگوں کو تباہ کردیا گیا۔
Ayah 6:50قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ : وہ لوگ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا کا ساز و سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے، تو اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا، یا مال دار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کے ذیل میں آئے گا۔
وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ آئندہ کی جو بات مجھ سے پوچھتے جاؤ میں تمہیں بتلاتا جاؤں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی اسی نے اطلاع دی ہے، وہ چاہتا تو مجھے اتنا علم بھی نہ دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیاء ؑ کو علم غیب ہوتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ جب سید الرسل ﷺ کو علم غیب نہ ہوا تو دوسروں کا ذکر کیا ہے اور جب رسول غیب دان نہ ٹھہرے تو پھر کوئی پیر، شہید، ولی، مجذوب، سالک یا عالم و عابد کیسے غیب دان ہوسکتا ہے ؟ اور کاہن، نجومی اور رمل والے کس شمار و قطار میں ہیں ؟ دیکھیے سورة نمل (65) اور سورة لقمان (34)۔
وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ ۚ: اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، بلکہ تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں، تو پھر تم مجھ سے آسمان پر چڑھنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو۔ دیکھیے سورة اعراف (188) اور سورة ہود (31)۔
اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ۭ: یعنی میں تمھی جیسا انسان ہوں، فرشتہ نہیں، البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور تمہارے پاس نہیں آتی (دیکھیے کہف : 110) اور میں کسی معاملے میں اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق عمل کرتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے بندوں تک جتنے احکام پہنچائے، چاہے قرآن کی شکل میں یا احادیث کی صورت میں، وہ سب اللہ کی طرف سے تھے، لہٰذا قرآن کی طرح سنت کی پیروی بھی ضروری ہے، بلکہ سنت کے بغیر قرآن کی پیروی ممکن ہی نہیں ہے۔ جو لوگ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن کی پیروی پر زور دیتے ہیں وہ دراصل اپنی من مانی تاویلات کرنا چاہتے ہیں، جن کی راہ میں حدیث حائل ہے۔
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۭ: یہ بظاہر سوال ہے مگر حقیقت میں اس بات کا انکار ہے کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ اسے استفہام انکاری کہتے ہیں، اندھے اور دیکھنے والے سے مراد باطل پرست اور حق پرست، یا کافر اور مسلمان، یا جاہل اور عالم ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ پیغمبر آدمی کے سوا کچھ اور نہیں ہوجاتے کہ ان سے محال باتیں طلب کی جائیں۔ ایک اندھے اور ایک دیکھتے کا یہی فرق ہے۔ (موضح)
Ayah 6:51وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ۔۔ : اوپر کی آیت میں پیغمبروں کے متعلق فرمایا کہ وہ مبشر (خوشخبری دینے والے) اور منذر (ڈرانے والے) ہوتے ہیں، اب اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو انذار (ڈرانے) کا حکم دیا۔ (رازی) یعنی ڈرانے کا فائدہ انھی کو ہوسکتا ہے جنھیں دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کا خوف ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا نہ ان کی حمایت کرنے والا کوئی مدد گار ہوگا اور نہ سفارشی۔ جو لوگ حشر اور قیامت کو مانتے ہی نہیں اور انکار پر اڑے ہوئے ہیں، انھیں آپ کے ڈرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، فرمایا : (سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ) [ البقرۃ : 6 ] ”ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو، یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔“
لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ : یعنی ان لوگوں کو ڈرانے کا یہ فائدہ ہوگا کہ آپ کے ڈرانے سے ان میں اللہ کا خوف اور زیادہ ہوجائے گا اور وہ گناہوں سے باز آجائیں گے۔ اس آیت سے ان کافروں کا رد بھی مقصود ہے جو یہ گمان رکھتے تھے کہ ان کے معبود اور ٹھاکر وغیرہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے انھیں بچا لیں گے۔ اسی طرح ان لوگوں کے لیے بھی اس میں عبرت ہے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کر کے بےفکر ہو کر بےکھٹکے گناہ کرتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی سفارش نہیں چل سکے گی۔
Ayah 6:52وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ۔۔ : سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے کہا، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں، تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کرسکیں۔ ان لوگوں میں میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی اور دو اور جن کا میں نام نہیں لیتا، تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں اللہ نے جو چاہا خیال آیا، آپ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی : (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ) [ مسلم، الفضائل، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص : 46؍2413 ] یعنی اللہ کے طالب اگرچہ غریب ہیں انھی کی خاطر داری مقدم ہے۔ (موضح)
مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ۔۔ : یعنی نہ ان کا حساب آپ کے ذمے ہے، نہ آپ کا ان کے ذمے، تو ان کا کیا قصور ہے کہ آپ انھیں اپنے سے دور کریں، جس کے نتیجے میں آپ ظالم ٹھہریں۔
Ayah 6:53وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ۔۔ : جیسا کہ معلوم ہے ابتدا میں ایمان لانے والوں کی اکثریت کمزور مردوں، عورتوں، لونڈیوں اور غلاموں کی تھی، دولت مند بہت کم تھے اور یہی چیز کافر سرداروں کی آزمائش کا ذریعہ بن گئی۔ وہ ان غریبوں کا مذاق بھی اڑاتے اور جن پر ان کا بس چلتا انھیں زیادہ سے زیادہ اذیت بھی پہنچاتے اور کہتے کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا ہے ؟ ! مقصد ان کا یہ تھا کہ ایمان اور اسلام اگر واقعی اللہ کا احسان ہوتا تو سب سے پہلے ہم پر ہوتا (دیکھیے احقاف : 11) کیونکہ دنیوی زندگی میں اس نے ہم کو برتری دی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی دولت مندوں کو غریبوں سے آزمایا ہے کہ ان کو ذلیل دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ یہ لائق ہیں اللہ کے فضل کے اور اللہ دل دیکھتا ہے کہ اللہ کا حق مانتے ہیں۔“ (موضح) دراصل اللہ کے ہاں قدر و منزلت ہے تو انھی لوگوں کی جو اخلاص سے اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی غریب اور محتاج ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خالی دنیوی حسب نسب اور خوشحالی کی کوئی قدر نہیں، جیسے فرمایا : (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ) [ الحجرات : 13 ] ”تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ با عزت وہ آدمی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“
Ayah 6:54وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ۔۔ : پہلی آیت میں کمزور اہل ایمان کو اپنے پاس سے دور ہٹانے سے منع فرمایا، اب اس آیت میں ان کے اکرام اور عزت افزائی کا حکم دیا۔ (رازی) یعنی جو لوگ کفر و شرک کے غلبے کے باوجود اس پر آشوب دور میں آپ کی دعوت قبول کر کے مسلمان ہو رہے ہیں انھیں امن اور سلامتی کی خوش خبری دے دیجیے، یعنی یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ اللہ کے عذاب سے امن والے ہوگئے، اب ان کی ان اعمال پر پکڑ نہیں ہوگی جو وہ کفر کی زندگی میں کرتے رہے ہیں۔ (المنار) اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کا احترام کرنا چاہیے اور انھیں ناراض نہیں کرنا چاہیے۔
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ: اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (12) کی تفسیر۔
مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢا بِجَهَالَةٍ۔۔ : جہالت کے ساتھ گناہ کا مطلب اس کے برے انجام کو نہ سمجھنا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (17) پہلے انذار (ڈرانا) تھا، اب تبشیر (خوش خبری) ہے، یعنی یہ اس کی رحمت کا اثر ہے کہ وہ اعمال سیۂ کو چھوڑ کر اعمال حسنہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ اصلاح کاروں سے مجرموں کا راستہ ممتاز اور خوب واضح ہوجائے۔
Ayah 6:55وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ۔۔ : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ باتیں اس لیے کھول کر بیان کی ہیں تاکہ حق ظاہر ہوجائے اور اس پر عمل کیا جاسکے اور مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے، تاکہ اس سے بچا جاسکے۔ (جلالین) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں انھیں مخالفین (مجرمین) کے ہتھکنڈوں سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیے، تاکہ ان کی تردید کرسکیں۔ صحابہ کرام ؓ میں یہی خوبی تھی کہ ایک طرف تو وہ اسلام کو خوب سمجھتے تھے اور دوسری طرف جاہلیت کے رسم و رواج اور قوانین سے پوری واقفیت رکھتے تھے، کیونکہ وہ جاہلیت سے گزر کر آئے تھے۔ یہ مضمون حافظ ابن قیم ؓ کی کتاب الفوائد میں خوب بیان ہوا ہے۔
وَلِتَسْتَبِيْنَ : ”بَانَ یَبِیْنُ“ کا معنی ہے الگ ہونا، واضح ہونا، تو باب استفعال میں حروف کی کثرت کی وجہ سے ”خوب واضح ہوجائے“ ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 6:56قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ۔۔ : اوپر کی آیت میں تو یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، تاکہ حق واضح ہو اور مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے، اب اس آیت میں مجرموں کے راستے پر چلنے سے منع فرمایا، جس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ مجرموں کا راستہ کیا ہے، جس پر چلنے سے تمہیں منع کیا گیا ہے ؟ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلوں گا، اگر میں ایسا کروں تو میں گمراہوں میں شامل ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں گا۔ اللہ کی ہدایت کے مخالف قول کو کتنا ہی حکیمانہ اور دانشمندانہ سمجھا جائے وہ محض خواہش پر مبنی ہے اور سراسر ضلالت و گمراہی ہے۔ کیونکہ کسی کے پاس حکم کا اختیار سمجھنا اس کی عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت شرک ہے، جو سب سے بڑا گناہ ہے۔
قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ مجھے اللہ کے سوا ان تمام چیزوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے جنھیں تم پکارتے ہو۔
Ayah 6:57قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَةٍ۔۔ : کہہ دیجیے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیل، یعنی وحی الٰہی موجود ہے، جس کا اصل الاصول توحید ہے، اسے تم نے جھٹلایا۔ اب جس عذاب کے جلدی لانے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں۔ عذاب لانے یا نہ لانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ : معلوم ہوا کہ انبیاء کو معجزات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، یہ اختیار صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے۔
Ayah 6:58لَقُضِيَ الْاَمْرُ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ : یعنی اگر عذاب کا لانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہارے جھٹلانے کی وجہ سے اب تک تمہیں ہلاک کرچکا ہوتا۔ (رازی)
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بالظّٰلِمِيْنَ : یعنی اللہ ہی جانتا ہے کہ کب عذاب لانا ہے اور کب تک انھیں مہلت دینی ہے۔
Ayah 6:59وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ۔۔ : یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی غیبی امور کا علم نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجومی یا پنڈت یا رمال اور جفار جو اپنی غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں، وہ سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (65)۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ) [ لقمان : 34 ] ”بیشک اللہ اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (وعندہ مفاتح الغیب۔۔) : 4627 ]
اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ : یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔
Ayah 6:60يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ یہاں قبض کرنے سے مراد نیند ہے۔ ”تَوَفِّیْ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة زمر (12)۔
ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ : یعنی دن کے وقت تمہاری روح لوٹا دیتا ہے، معلوم ہوا کہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہے۔
لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ : یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے جو رزق اور عمر متعین ہے وہ پوری کی جاتی ہے۔
ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ۔۔ : یعنی دن میں تمہاری روح لوٹا کر زندہ کردیتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم نے اچھے عمل کیے یا برے، پھر اچھا کام کیا ہوگا تو اچھا بدلہ دے گا اور برا کیا ہوگا تو برا بدلہ دے گا۔ اوپر کی آیت میں کمال علم کا بیان تھا اور اس سے کمال قدرت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی)
Ayah 6:61وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ : ”َهُوَ“ اس جملے میں مبتدا ہے، ”الْقَاهِرُ“ خبر پر الف لام آنے کی وجہ سے ترجمہ ”وہی“ کیا ہے۔ ”الْقَاهِرُ“ کے معنی غالب ہیں اور یہ ”اَلْقَادِرُ“ سے زائد صفت ہے، یعنی خود قادر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا بھی ہے۔ (بغوی) اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت یہ ہے کہ وہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، پھر وجود پر فنا اور خرابی طاری کرتا رہتا ہے، تو کائنات میں جس قدر بھی پیدا کرنے اور فنا کرنے کا کام ہو رہا ہے سب اللہ تعالیٰ کی قہاریت کا مظہر ہے۔ سورة آل عمران کی آیات (26، 27) اس صفت کی پوری تشریح کر رہی ہیں۔
وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ۭ: حفاظت کرنے والے کچھ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی آفات سے حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ) [ الرعد : 11 ] ”اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ اور کچھ وہ ہیں جو انسان کا عمل لکھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِين، كِرَامًا كَاتِبِيْنَ ، يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ) [ الانفطار : 10 تا 12 ] ”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقیناً نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔“
حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ۔۔ : فوت کرنے والے فرشتے کا نام عزرائیل مشہور ہے، لیکن شیخ البانی ؓ نے ایسی تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [ أحکام الجنائز، باب بدع الجنائز، حاشیہ بدعۃ، رقم : 92 ] قرآن مجید میں اسے ملک الموت کہا گیا ہے، فرمایا : (قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ) [ السجدۃ : 11 ] ”کہہ دے تمہیں موت کا فرشتہ قبض کرلے گا۔“
”تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ موت والے کئی فرشتے ہیں اور کئی آیات میں اللہ تعالیٰ کے روح قبض کرنے کا ذکر ہے، جیسے فرمایا : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) [ الزمر : 42 ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ ان تمام آیات کو مد نظر رکھیں تو صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے، پھر ملک الموت ہے، جو اکثر علماء کے نزدیک ایک ہی ہے، البتہ اس کے معاون رحمت اور عذاب کے فرشتے کئی ہیں، جیسا کہ زیر تفسیر آیت اور براء بن عازب ؓ کی حدیث میں آیا ہے کہ ملک الموت کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ : یعنی جس کی جان قبض کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر کرتے ہیں، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
Ayah 6:62ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ پھر اللہ تعالیٰ جو ان کا سچا مالک ہے، جس نے اپنے حکم سے انھیں دنیا میں بھیجا تھا، اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
Ayahs 6:63–64قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ۔۔ : یہ حالت ان مشرکوں کی تھی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے، ہمارے زمانے میں مسلمان کہلانے والے کئی ایسے لوگ ہیں جو مشکل میں پھنسے ہوئے بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
Ayah 6:65قُلْ هُوَ الْقَادِرُ۔۔ : اوپر سے عذاب جیسے بارش کی کثرت، طوفان، بجلی، اولے اور آندھی وغیرہ، یا ظالم حکمران، یا عورت کے لیے اس پر ظلم کرنے والا خاوند اور نیچے سے عذاب، جیسے زلزلہ، قحط، زمین میں دھنس جانا، یا ایسے ماتحت جو خائن اور بددیانت ہوں، مرد کے لیے ناموافق بیوی۔ ”اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا“ یعنی مختلف گروہ بنا کر انھیں آپس میں گتھم گتھا کر دے، یہ لڑائی بھی خوفناک عذاب ہے۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ”کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے“ تو آپ نے دعا کی : ”میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر یہ نازل ہوا : ”یا تمہارے نیچے سے“ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : ”میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر یہ نازل ہوا :”یا تمہیں گروہ بنا کر آپس میں گتھم گتھا کر دے“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ ان دونوں سے ہلکا عذاب ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (قل ھو القادر علٰی۔۔) : 4628 ]
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں :1 میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری ساری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ 2 میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری ساری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو بھی قبول فرما لیا۔ 3 میں نے دعا کی کہ میری امت کو آپس میں اختلاف اور انتشار سے بچائے تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول نہیں فرمایا۔“ [ مسلم، الفتن، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضھم ببعض : 2890 ]
Ayah 6:66وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ : تیری قوم نے اسے جھٹلا دیا۔ اس ”بہ“ کی ضمیر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور اوپر کی آیات میں مذکور عذاب بھی۔ (قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ) یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمہارے جھٹلا دینے اور بد تمیزی کرنے پر خود عذاب نازل کر دوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور نہ ماننے والوں کو اس کی سزا بتادوں، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس سے بچنے کی فکر کرنا تمہارا کام ہے۔
Ayah 6:67لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ ۡ۔۔ : اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چناچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمہیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔
Ayah 6:68وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ۔۔ : یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملاً ان کی بےقدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بےجا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔ سورة نساء (140) میں یہ حکم پہلے بھی گزر چکا ہے، اس میں یہ بھی ہے : (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) ”بیشک اس وقت تم بھی ان جیسے ہو گے۔“ اہل بدعت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصاً اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور بدعتیوں کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔ ہاں، اہل علم ان کی غلط باتوں پر تنقید کے لیے اور کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے ایسی مجلسوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔
Ayah 6:69وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ۔۔ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔ (موضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیزگار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بےہودگی سے باز آجائیں۔ واللہ اعلم ! (ابن کثیر)
Ayah 6:70وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ جو لوگ دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور اس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے برے اعمال کی وجہ سے جو اس نے کمائے، ہلاک کردیا جائے، پھر آخرت میں اس کے چھوٹنے کی کوئی صورت ہی نہ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا اور وہ کوئی بھی فدیہ دیں ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی کمائی اور بد اعمال کی وجہ سے ہلاک کردیے گئے۔ ان کے پینے کے لیے سخت گرم پانی ہوگا اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ دیکھیے سورة بقرہ (48)۔
Ayahs 6:71–72قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : آپ ان سے کہہ دیں کہ کیا ہم توحید کی سیدھی سڑک چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں، اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی صحرا سے گزر رہا ہو اور شیطانوں کے نرغے میں آجائے، جو اسے سیدھے راستے سے بھٹکا کر کسی اور طرف لے جائیں اور وہ حیران و پریشان نہ سمجھ سکے کہ کیا کرے اور اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجاؤ، سیدھی راہ ادھر ہے، لیکن وہ شیطانوں کے چکر میں ایسا پھنس گیا ہے کہ نہ وہ ساتھیوں کی پکار کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کی طرف جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک اختیار کر کے جو گمراہ ہوگیا ہے، وہ بھٹکے ہوئے راہی کی طرح ہدایت کی طرف نہیں آسکتا۔ ہاں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہدایت مقدر کردی ہے تو یقیناً اللہ کی توفیق سے وہ راہ یاب ہوجائے گا، کیونکہ سیدھے راستے پر چلانا اسی کا کام ہے، ہمارے لیے یہ حکم ہے کہ ہم اللہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور نماز قائم کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں، اس یقین کے ساتھ کہ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔
Ayah 6:73وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بےمقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَل) [ الملک : 1 ] ”تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْن) [ الذاریات : 56 ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ دوسری آیت میں فرمایا : (وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ) [ الجاثیۃ : 13 ] ”اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا۔“ اور فرمایا : (ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۤ) [ البقرۃ : 29 ] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے سب تمہارے لیے پیدا فرمایا۔“ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ انسان کے فائدے اور اس کی آزمائش کے لیے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ : یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ ”کن“ کہنے سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ: یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہوجائے گی، اللہ فرمائے گا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ) [ المؤمن : 16 ] ”آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ نیز دیکھیے سورة فاتحہ میں ”مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ“ کی تفسیر۔ ”الصُّوْرِ“ کیا چیز ہے ؟ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! صور کیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ [ أحمد : 2؍162، ح : 6514۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ۔۔ : 2430 ] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے : ”صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔“ [ مستدرک حاکم : 4؍558، ح : 8676۔ الصحیحۃ : 2؍65، ح : 1078 ] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ”الصُّوْرِ“ ”صُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (87) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہوجائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہوگا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بےہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم ! (ابن کثیر، قرطبی)
عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭ“ سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور ”َالشَّهَادَةِ ۭ“ کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔
وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ : یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمہیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اچھے یا برے ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔
Ayah 6:74وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بیان کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقائد پر تنقید کی گئی اور اب شرک کی تردید کے لیے ابراہیم ؑ کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بےزار تھے اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ دیکھو انھوں نے کس طرح قوم سے علیحدگی اختیار کی۔ مشرکین مکہ ابراہیم ؑ کے دین پر ہونے کے دعوے دار تھے، جب ابراہیم ؑ موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ کے والد کا نام آزر تھا۔ اب پہلی کتابوں میں اگر ان کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہو تو قرآن کی بات ہی حق ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آرخ یا تارخ اس کا لقب ہوگا، مگر یہ کہنا کہ ان کے باپ کا نام آزر نہیں تھا بلکہ یہ نام چچا کا تھا، بالکل ہی بےدلیل ہے۔
Ayah 6:75مَلَكُوْتَ : ”مُلْکٌ“ کے آخر میں واؤ اور تاء کا اضافہ کر کے ”مَلَكُوْتَ“ فرمایا، مقصد حروف بڑھانے کا معنی میں زیادتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”عظیم سلطنت“ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم نے پچھلی آیات میں شرک کی تردید کی ہے اسی طرح ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کی عظیم سلطنت کا مشاہدہ کروایا، جس کے کئی مقاصد کے ساتھ ایک یہ بھی تھا کہ انھیں توحید کا آنکھوں دیکھا یقین حاصل ہوجائے۔ ایسے ہی انھیں یہ مشاہدہ بھی کروایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔
Ayahs 6:76–79فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ۔۔ : ابراہیم ؑ کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی، جن میں بت، سورج، چاند اور ستارے بھی تھے بلکہ بادشاہ بھی ان کا رب تھا۔ ابراہیم ؑ نے ان سب چیزوں کے معبود نہ ہونے کے ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بتوں کے معبود نہ ہونے کو انھوں نے بت توڑ کر ثابت کیا۔ بادشاہ سے ایسی مدلل بات کی کہ آخر وہ ”فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ“ بالکل لاجواب ہوگیا۔ یہاں زیر تفسیر آیات میں ان کا اپنی قوم کے ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کے معبود نہ ہونے پر مناظرے کا ذکر ہے۔ چناچہ ایک رات ابراہیم ؑ نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا : ”یہ میرا رب ہے۔“ یقیناً وہ لوگ ابراہیم ؑ کی زبان سے یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے ہوں گے، مگر یہ تو توحید کے منکروں کو گھیر کر مارنے کی عظیم تدبیر تھی۔ یعنی ابراہیم ؑ نے ایک محال چیز کو مفروضہ کے طور پر تسلیم کیا، تاکہ دل نشین طریقے سے انھیں قائل کیا جائے۔ چناچہ جب وہ غروب ہوا تو ابراہیم ؑ نے فرمایا : ”میں غروب ہونے والوں سے محبت نہیں کرتا۔“ پھر چاند کو اپنا رب کہا، جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا : ”میرے رب نے اگر مجھے ہدایت نہ دی تو یقیناً میں بھی گمراہوں سے ہوجاؤں گا۔“ اس میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ میں جس ہدایت پر ہوں وہ میری ذاتی سوچ اور فکر نہیں ہے اور نہ یہ میری ذاتی اور شخصی دعوت ہے، یہ میرے رب کی عنایت اور اسی کا احسان ہے، اس لیے میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا اور کہا : ”یہ سب سے بڑا ہے، اس لیے یہی میرا رب ہے۔“ قوم کو امید پیدا ہوئی ہوگی کہ چلو ہمارے کسی معبود کو ماننے پر تو تیار ہوگیا ہے، مگر سورج کے غروب ہونے پر ان کے تمام معبودوں سے بےزاری کا اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ایک ہی معبود برحق کا اعلان کیا تو قوم جھگڑے پر اتر آئی، جھگڑے کے ساتھ اپنے خداؤں کے غضب سے ڈرانے لگی۔ ابراہیم ؑ نے فرمایا : ”میں تمہارے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں، اللہ تعالیٰ کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ پہنچا سکتا ہے۔“
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم ؑ کی ولادت اور پرورش ایک غار کے اندر ہوئی تھی، تاکہ بادشاہ اپنے ایک خواب کی وجہ سے انھیں قتل نہ کر دے۔ جب باہر آئے تو اپنا رب ڈھونڈنے کے لیے غور و فکر کے یہ مراحل طے کیے اور آخر کار اللہ تعالیٰ تک پہنچ گئے، حالانکہ ان آیات میں صاف ذکر ہے کہ قوم کی مجلس میں یہ سب باتیں ہوئی ہیں جن کے ساتھ ابراہیم ؑ نے قوم کو لاجواب کیا ہے۔ پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود یہاں فرمایا : (وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ ۭ) [ الأنعام : 83 ] ”یہ تمام باتیں ہم نے دلیل کے طور پر ابراہیم کو قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی تھیں۔“ اور جب انھوں نے اللہ کے حکم کے مطابق قوم کو اس دلیل کے ذریعے سے سورج، چاند اور ستارے کے رب نہ ہوسکنے کی بات سمجھائی تو وہ جھگڑے پر اتر آئے، جو ان کے لاجواب ہونے کی دلیل تھی۔