6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا، اس نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ یقینا اس نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں اس سے نہیں ڈرتا جسے تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ چاہے، میرے رب نے ہر چیز کا احاطہ علم سے کر رکھا ہے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

وَحَاۗجَّهٗ قَوْمُهٗ۔۔ : قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کے بہت سے دلائل پیش کیے، مثلاً انھوں نے ایک دلیل یہ پیش کی : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ) [ الزخرف : 22 ] ”بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے۔“ نیز ابراہیم ؑ کو دھمکی دی کہ یہ بت تمہیں آفات اور مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے۔ ابراہیم ؑ نے یہ فرما کر ”ّٰوَقَدْ هَدٰىنِ ۭ“ (اللہ نے مجھے سیدھا راستہ بتادیا ہے) ان کی پہلی دلیل کا جواب دیا کہ یقینی دلیل کے مقابلے میں تمہارے باپ دادا کا دین بےمعنی ہے اور ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچنی ہو تو پہنچ سکتی ہے مگر یہ تمہارے بت اور جھوٹے پروردگار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (رازی) وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ: ہر چیز کی حقیقت و اصلیت کا علم میرے رب کو ہے، اس لیے وہی بتاسکتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے، جب اس نے مجھے ہدایت کا علم عطا فرما دیا ہے تو پھر ہدایت کوئی اور چیز کیسے ہوسکتی ہے، تو کیا تم اتنا بھی نہیں سوچتے ؟
Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں اس سے کیسے ڈروں جسے تم نے شریک بنایا ہے، حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بیشک تم نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا ہے جس کی کوئی دلیل اس نے تم پر نہیں اتاری، تو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے، اگر تم جانتے ہو۔

وَكَيْفَ اَخَافُ۔۔ : یہ اوپر کی آیت میں دوسرے جواب کو مکمل کیا ہے، یعنی میں تمہارے ان معبودوں سے کیوں ڈروں، جب کہ مجھے یقین ہے کہ یہ مجھے نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ڈرنا تو تمہیں چاہیے جو بلا دلیل اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا کر ظلم عظیم کر رہے ہو۔ فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِ ۚ۔۔ : ہم دونوں میں سے کون امن (بےخوف ہونے) کا زیادہ حق دار ہے ؟ کیا تم مشرکین، جو ان بتوں کے متعلق محض وہم پرستی کی راہ سے یہ سمجھ رہے ہو کہ شاید یہ نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں، یا ہم خالص توحید پرست، جنھیں یہ یقین و اطمینان حاصل ہے کہ اللہ ہی ہر نفع و نقصان پر قادر ہے اور اس کے سوا دنیا کی کوئی مردہ یا زندہ ہستی ہمارا ذرہ بھر نقصان نہیں کرسکتی۔ اس امت کے کلمہ گو پیر پرست بھی اہل توحید سے کہتے ہیں کہ جو شخص بڑے پیر کی گیا رھویں چھوڑ دے اس کا بیٹا یا بھینس مرجاتی ہے، یا کوئی اور نقصان پہنچ سکتا ہے، تو ان کے لیے بھی یہی جواب ہے جو ابراہیم ؑ نے فرمایا ہے۔
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا۔۔ : یہ آیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہوسکتا ہے اور ابراہیم ؑ کی بات کو مکمل کرنے والا حصہ بھی۔ تنوین اکثر تنکیر کے لیے ہوتی ہے، اس سے لفظ عام ہوجاتا ہے اور اس کا ہر فرد اس میں شامل ہوجاتا ہے، جیسے اس آیت میں مذکور ”بِظُلْمٍ“ کی تنوین کو تنکیر کے لیے لیں تو معنی ہوگا : ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا“ اور بعض اوقات وہ دوسرے معانی کے لیے بھی ہوتی ہے، جن میں سے ایک معنی تعظیم بھی ہے، جس سے اس لفظ کا بڑا فرد مراد ہوتا ہے۔ جیسے اسی آیت میں ”بِظُلْمٍ“ کی تنوین کو تعظیم کے معنی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا : ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بہت بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) [ الأنعام : 82 ] تو صحابہ کرام ؓ پر اس آیت کا مضمون شاق گزرا۔ انھوں نے عرض کیا : ”ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر (کوئی) ظلم (یعنی گناہ) نہیں کیا ؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو تم سمجھ رہے ہو وہ بات نہیں، کیا تم نے لقمان کا قول نہیں سنا، جو وہ اپنے بیٹے سے کہہ رہے تھے : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”یقیناً شرک ظلم عظیم ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ) : 4629۔ مسلم : 124 ] آپ دیکھیں کہ صحابہ کرام ؓ اہل زبان ہونے کے باوجود ”بِظُلْم“ کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر پریشان ہوگئے کہ کون ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے لقمان کا قول ذکر کر کے انھیں بتایا کہ یہ تنوین تعظیم کے لیے ہے، نہ کہ تنکیر کے لیے اور معنی یہ نہیں کہ کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، بلکہ معنی یہ ہے کہ بہت بڑے ظلم، یعنی شرک کے ساتھ نہیں ملایا۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جاننا کافی نہیں، کئی مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی تفسیر بھی ضروری ہے، اس لیے قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے واضح گمراہ ہیں۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے۔
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی، ہم درجوں میں بلند کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ بیشک تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ۔۔ : اس حجت سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو قوم کے مقابلے میں ابراہیم ؑ نے پیش کیے، یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلے میں ابراہیم ؑ کو عطا فرمائے تھے۔ اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ باتیں ان کے بچپن کے زمانے کی نہیں کہ آپ شرک سے درجہ بہ درجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں، کیونکہ اللہ کا نبی اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی چونکہ ابراہیم ؑ نے اپنی جان کی پروا نہیں کی اور اپنے آپ کو توحید کی دعوت دینے کے لیے وقف کردیا، اس لیے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانات فرمائے۔ دنیا ہی میں انھیں یہ انعام دیا کہ بڑھاپے میں انھیں نیک اولاد سے نوازا، ان کے بعد ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کردیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔
Ayahs 6:84–85

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

كُلًّا هَدَيْنَا ۚ: یعنی ابراہیم ؑ کی راہ پر لگایا اور نبوت عطا کی۔ دیکھیے سورة مریم (49)۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ“ ْ ذُرِّيَّتِهٖ میں موجود ضمیر سے مراد نوح ؑ بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ مذکور نبیوں میں سب سے قریب نوح ؑ ہی ہیں، امام ابن جریر ؓ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ یہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور کلام کے سیاق کے پیش نظر اس کو ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر اس کے تحت مذکور انبیاء میں سے لوط ؑ کے ذکر سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے بھتیجے تھے، مگر ہوسکتا ہے کہ بھتیجے کو بھی اولاد میں شمار کرلیا ہو، جیسا کہ سورة بقرہ (133) میں اسماعیل ؑ کو یعقوب ؑ کی اولاد کے آباء میں ذکر کیا ہے۔ (ابن کثیر) عیسیٰ ؑ کو نوح ؑ اور دوسرے قول کے مطابق ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے شمار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بیٹیوں کی اولاد بھی آدمی کی اولاد میں سے شمار ہوتی ہے، کیونکہ عیسیٰ ؑ کی نسبت صرف ماں کی طرف سے ہے، ان کا باپ نہیں تھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 6:86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو، اور ان سب کو جہانوں پر فضیلت دی۔

وَكُلًّا فَضَّلْنَا : یعنی اپنے اپنے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت بخشی۔
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو بھی اور ہم نے انھیں چنا اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔

وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ۔۔ : یعنی ان کے باپ دادا اور پڑدادا اوپر تک اور ان کے بیٹوں، پوتوں، پر پوتوں نیچے تک اور ان کے بھائیوں میں سے جو بھی ایمان دار تھے انھیں بھی ہم نے ہدایت پر لگایا اور بزرگی دی۔ (ابن کثیر)
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقینا ان سے ضائع ہوجاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ۔۔ : اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر، ان کے ساتھ ان کے آباء، اولاد اور اخوان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر بفرض محال نبی یا اس کے قرابت دار بھی شرک کر بیٹھتے تو ان کا کیا کرایا سب ضائع ہوجاتا۔ کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی قبول نہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ) [ الزمر : 65 ] ”اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا بھی تمام عمل ضائع ہوجائے گا۔“ پیغمبر سے شرک ہونا تو ممکن نہیں، یہ سب کچھ امتیوں کو سنایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی، پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں۔

فَاِنْ يَّكْفُرْ بِهَا هٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : یعنی اگر یہ لوگ اس کتاب، حکم اور نبوت کو نہ مانیں (اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو نہ ماننے والے کفار اور مشرکین ہیں) تو ہم نے ان (کتاب اور نبوت) کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں (اس سے مراد مہاجرین انصار اور قیامت تک آنے والے ایمان دار ہیں) جو ان نعمتوں کا انکار نہیں کرتے۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر، کہہ میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، یہ تو تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔

فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِه : یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی ﷺ کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔ مجاہد ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا : ”کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟“ تو انھوں نے (وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ) سے لے کر (فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ) تک تلاوت کر کے فرمایا : ”ہاں، وہ (داؤد ؑ بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کی پیروی کا آپ کو اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں داؤد ؑ کے سجدے کا ذکر ہے اور آپ ﷺ کو ان انبیاء کی پیروی کا حکم ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (أولئک الذین ہدی اللہ۔۔ : 4632 ] ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ جن و انس دونوں کی طرف بھیجے گئے اور آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جو اس کی قدر کا حق تھا، جب انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا ؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، تم اسے چند ورق بناتے ہو، جنھیں ظاہر کرتے ہو اور بہت سے چھپاتے ہو اور تمہیں وہ علم دیا گیا جو نہ تم نے جانا اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔ کہہ اللہ نے، پھر انھیں چھوڑ دے، اپنی (فضول) بحث میں کھیلتے رہیں۔

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ۔۔ : یہ خطاب یہود کو ہے، جنھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی اور بغض و عناد کی بنا پر ایسی حقیقت کا انکار کردیا جسے وہ خود بھی مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس آیت میں ان کے اعتراض کا دو طرح سے جواب دیا گیا، ایک یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر اور اسے پہچاننے کا جو حق تھا اس کے مطابق انھوں نے اسے پہچانا ہی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکن صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعے سے صرف نبی پر نازل فرمائے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تو تم بھی مانتے ہو کہ موسیٰ ؑ بشر تھے، آدم کی اولاد سے تھے، ان کے ماں باپ بھی تھے، تو ان پر جو کتاب اتاری گئی تھی وہ کس نے اتاری تھی ؟ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے نہیں اتاری تھی تو پھر تم اسے اتنا سنبھال سنبھال کر کیوں رکھتے ہو ؟ اور اس کتاب میں جو ہدایت کی باتیں اور علم کی روشنی ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ایسی باتیں بتاسکتا ہے ؟ جو ہدایت کی باتیں اس کتاب میں موجود ہیں، انھیں نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اجداد، پھر تمہارا اس کتاب کا کچھ حصہ لوگوں کو بتانا اور اپنی خواہشات کے مطابق کچھ حصہ چھپانا، یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور تمہارے لیے حجت ہے، ورنہ اگر یہ کسی انسان کی تصنیف ہوتی تو تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیجیے کہ موسیٰ ؑ پر تورات اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور محمد ﷺ کو وہ علوم اور معارف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ملے ہیں۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو پھر رسولوں پر بالعموم اور نبی کریم ﷺ پر بالخصوص وحی کے نازل ہونے کا انکار تم کیسے کرسکتے ہو ؟ یہ سارا خطاب کفار مکہ کو بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ موسیٰ ؑ کے نبی ہونے کو وہ بھی مانتے تھے۔ ”قَرَاطِيْسَ“ یہ ”قِرْطَاسٌ“ کی جمع ہے، یعنی ورق، کاغذ، یعنی یہودی تورات کو ایک کتاب کی طرح جمع کرنے کے بجائے الگ الگ ورقوں کی صورت میں رکھتے تھے اور اپنے مطلب کا ورق نکال کر دکھا دیتے تھے۔
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد لوگوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي : اس آیت میں مکہ کو ”ام القریٰ“ کہا گیا ہے، جس کا معنی ہے تمام بستیوں کی جڑ یا ان کا مرکز اور ”وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ‘ سے مراد قبائل عرب اور آدم ؑ کی اولاد ہیں، خواہ عرب ہوں یا عجم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً)”مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب قول النبی ﷺ : (جعلت لی الأرض۔۔) : 438 ] نیز دیکھیے سورة انعام (9) ، سورة اعراف (158) اور سورة سبا (28)۔ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ : کیونکہ قرآن مجید آخرت کی راہ بتلاتا ہے۔ وَهُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ : کیونکہ نماز تمام عبادتوں کی اصل اور آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اس شخص کا ایمان آخرت پر صحیح اور درست ہے جو قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے اور نماز کی نگہداشت اور نگرانی کرتا ہے، جو شخص قرآن پر ایمان نہیں رکھتا یا نماز کی حفاظت نہیں کرتا اس کا آخرت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ بلا دلیل ہے۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا کہے میری طرف وحی کی گئی ہے، حالانکہ اس کی طرف کوئی چیز وحی نہیں کی گئی اور جو کہے میں (بھی) ضرور اس جیسا نازل کروں گا جو اللہ نے نازل کیا۔ اور کاش ! تو دیکھے جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس کے بدلے جو تم اللہ پر ناحق (باتیں) کہتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : اس آیت کریمہ میں تین قسم کے لوگوں کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ ان سے زیادہ اپنے حق میں کون ظالم ہوسکتا ہے، ایک تو وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے غیروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں، یا جو اپنی طرف سے حلال و حرام کے احکام وضع کرتے ہیں، دوسرے وہ لوگ جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ کی جانب سے وحی کی جاتی ہے، جیسے اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور قادیانی دجال وغیرہ اور تیسرے وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرسکتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہے کچھ مشرکوں نے کہا تھا : (لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ) [ الأنفال : 31 ] اگر ہم چاہیں تو یقیناً اس جیسا ہم بھی کہہ دیں حالانکہ یہ ممکن نہیں۔ تین ہی وعیدیں ان کے حق میں بیان کی گئی ہیں، ایک سب سے بڑے ظالم ہونا، دوسری فرشتوں کا ان کی روح قبض کرتے وقت سختی کرنا اور تیسری ذلت کا عذاب۔ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ: نکالو اپنی جانیں اور انھیں ہمارے حوالے کرو کہ سزا دیں، یا انھیں موت کی سختیوں اور عذاب سے بچا کر تو دکھاؤ۔ (فتح القدیر) اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ۔۔ : آج سے مراد وہ دن ہے جس میں ان کی روح قبض کی جائے گی اور عذاب قبر کی ابتدا ہوگی۔ اس آیت میں واضح عذاب قبر کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ قیامت تو جب اللہ چاہے گا قائم ہوگی، درمیان کا وقفہ یعنی برزخ ہم سے پردے میں ہے۔ انسان کا کوئی جز کسی بھی جگہ میں ہو یا راکھ بن جائے، اسے وہیں عذاب قبر ہوگا۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اکیلے آئے ہو، جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ آئے ہو جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارش کرنے والے نہیں دیکھتے جنھیں تم نے گمان کیا تھا کہ بیشک وہ تم میں حصے دار ہیں۔ بلا شبہ یقینا تمہارا آپس کا رشتہ کٹ گیا اور تم سے گم ہوگیا، جو کچھ تم گمان کیا کرتے تھے۔

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي۔۔ : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ہو کر آئے ہو اور جو مال و اولاد تمہارے پاس تھا وہیں چھوڑ آئے ہو اور ہم تمہارے ساتھ وہ سفارشی بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں۔ لاؤ دکھاؤ۔ یہ ڈانٹنے کے لیے کہا جائے گا۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے، وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے، یہی اللہ ہے، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس سے تعلق رکھنے والی کچھ چیزیں بیان کرنے کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور کمال قدرت و علم کا بیان شروع کیا جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔ ”َالنَّوٰى ۭ“ یہ ”نَوَاۃٌ“ کی جمع ہے، اس لیے ترجمہ ”گٹھلیاں“ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین کے اندر دانے کو پھاڑ کر لہلہاتا ہوا پودا اور گٹھلی کو پھاڑ کر کھجور کا ہرا بھرا درخت نکالتا ہے۔ اس کی کاری گری دیکھیے کہ مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، نطفے اور انڈے سے جان دار، دانے اور گٹھلی سے زندہ درخت اور کافر سے مسلمان کو پیدا کرتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے، جیسے حیوان اور پرندے سے نطفہ اور انڈا، پودوں اور درختوں سے دانے اور گٹھلیاں اور مسلمان سے کافر پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے اللہ جو تمہاری عبادت کا حق دار ہے، پھر کیسی عجیب بات ہے کہ تم شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کے غیر کی عبادت کرنے لگتے ہو۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

صبح کو پھاڑ نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا۔ یہ اس زبردست غالب، سب کچھ جاننے والے کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ۔۔ : وہی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح روشن نکالنے والا ہے، پھر اس نے رات کا اندھیرا طاری کر کے سب کو سکون اور آرام کا موقع فراہم کیا اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا، جس سے وقت، دن، رات، مہینوں اور سالوں کا حساب وجود میں آتا ہے۔ ”الْعَزِيْزِ“ سے مراد کمال قدرت والا اور ”الْعَلِيْمِ“ سے مراد کمال علم والا ہے۔ جس کا علم اور قدرت آسمان و زمین کے ذرّے ذرّے کو محیط ہے۔ عموماً قرآن میں رات دن اور سورج چاند کے پیدا کرنے اور مسخر کرنے کو اسمائے حسنیٰ میں سے ان دو صفاتی ناموں کے ساتھ ختم کیا ہے۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے، تاکہ تم ان کے ساتھ خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راستہ معلوم کرو۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں جو جانتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ۔ : یہ ستاروں کا ایک فائدہ ہے، دوسری آیات میں تاروں کو آسمان کی زینت اور شیطانوں کے لیے سنگ باری (رجوم) کا سامان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة صافات (6، 7) اور سورة ملک (5) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں اور کتنے فوائد ہیں، مگر ان کے ذریعے سے غیب معلوم ہونے یا ان کا قدرت کے کارخانے میں کوئی اختیار ہونے کا عقیدہ صاف گمراہی اور شرک ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بار بار علم اور قدرت کا مالک صرف ایک اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر ایک ٹھہرنے کی جگہ اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں جو سمجھتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : یعنی اسی نے تمہیں ایک جان آدم ؑ سے پیدا کیا، پھر اس کے لیے ٹھہرنے کی جگہ بنائی اور سونپے جانے کی جگہ بنائی۔ ٹھہرنے کی جگہ ماں کا رحم اور سونپے جانے کی جگہ باپ کی پشت۔ مفسرین کی ایک جماعت سے اس کے برعکس بھی منقول ہے، یعنی ”فَمُسْتَقَرٌّ“ باپ کی پشت اور ”َّمُسْـتَوْدَعٌ ۭ“ ماں کا رحم۔ بعض نے ان سے دنیا اور آخرت یا قبر مراد لی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اول ماں کے پیٹ میں سپرد ہوتا ہے، تاکہ آہستہ آہستہ دنیا میں رہنے کی صلاحیت حاصل کرلے، پھر دنیا میں آکر ٹھہرتا ہے، پھر سپرد ہوگا، قبر میں تاکہ آہستہ آہستہ آخرت کا اثر قبول کرسکے، پھر جا ٹھہرے گا جنت یا دوزخ میں۔ (موضح) لِقَوْمٍ يَّفْقَهُوْنَ : پہلے آفاقی دلائل بیان فرمائے، جو انسان کی ذات سے باہر کی دنیا ہے، دوسری آیت میں انفسی دلائل کی طرف اشارہ ہے، جو انسان کی ذات میں موجود ہیں۔ دلائل آفاقی سے دلائل انفسی کا سمجھنا ذرا زیادہ غور کا محتاج ہے، اس لیے یہاں سمجھ کا لفظ فرمایا اور پہلے کے متعلق علم کا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں سے پانی اتارا تو ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی، پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی، جس میں سے ہم تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے ان کے گابھے میں سے جھکے ہوئے خوشے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغات ملتے جلتے اور نہ ملنے جلنے والے۔ اس کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کی طرف۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ۔۔ : ”قِنْوَان“ یہ ”قِنْوٌ“ کی جمع ہے بمعنی خوشے۔ ”ٌ دَانِيَةٌ ۙ“ یہ ”دَنَا یَدْنُوْ“ سے اسم فاعل ہے، یعنی قریب، مراد نیچے جھکے ہوئے۔ ”مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ“ یعنی پتے ملتے ہیں، مگر پھل مختلف ہیں، یا ایک ہی درخت، مثلاً آم کو لے لیں کہ ان کے پودے ملتے جلتے ہیں، مگر ہر پودے کے پھل کی لذت الگ ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں میں سے ایک عظیم قدرت اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے نرم و نازک انگوری نکالی، جس سے تہ بہ تہ دانوں سے بھرے ہوئے خوشے نکالے اور کھجور کو دیکھو کہ پہلے ایک سوا سا نکلا، پھر وہ درخت بن گیا، پھر اس سے کچا پھل بنایا، پھر اس کا رنگ بدلتا جاتا ہے اور وہ بڑا بھی ہوجاتا ہے۔ ان کے پھل دینے کو اور ان کے پکنے کو دیکھو، جب کچا ہوتا ہے تو اس کی کچھ حیثیت نہیں اور پک کر کس قدر لذیذ ہوجاتا ہے۔ یہی حال انگور، زیتون اور انار کا ہے۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور انھوں نے جنوں کو اللہ کے شریک بنادیا، حالانکہ اس نے انھیں پیدا کیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں کچھ جانے بغیر تراش لیں، وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کے لیے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں میں سے پانچ دلائل بیان فرمائے، اب بتایا کہ بعض لوگ پھر بھی اللہ کے لیے جنوں کو شریک بناتے ہیں، حالانکہ انھیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سرا سر جہالت نہیں تو کیا ہے ؟ (رازی) عرب میں بعض فرقے ایسے بھی تھے جو جنات اور خبیث شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی دہائی دیتے اور کائنات میں ان کا تصرف مانتے تھے۔ ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھے انھوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں۔ چناچہ عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے۔ بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان زندیقوں اور مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں اور ہر اچھی چیز کا خالق سمجھتے اور اسے ”یزداں“ کہتے تھے اور شیطان (ابلیس) کو درندوں، سانپوں اور ہر قسم کے شر کا خالق سمجھتے تھے اور اسے ”اہرمن“ کہتے تھے اور ان دونوں کو کائنات کے پیدا کرنے میں اللہ کا شریک بناتے تھے، حالانکہ ان کا اور ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے مجوس کو زنادقہ (بالکل بےدین) قرار دیا ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ زیر تفسیر آیت کی مذکورہ توجیہات میں سے یہ بہترین توجیہ ہے۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اس کی اولاد کیسے ہوگی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: بدیع کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا، یعنی ان کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا، اس نے ان کو ایجاد فرمایا۔ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ۔۔ : مشرکین کی تردید کے بعد اب ان کی تردید کی ہے جو اللہ کی اولاد مانتے تھے۔ فرمایا، اللہ کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ اولاد تو وہ ہوتی ہے جو بیوی کے ذریعے سے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتی ہے نہ کہ اولاد، جیسا کہ آسمان و زمین کی پیدائش یا آدم ؑ کی پیدائش۔ (رازی)
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ۔۔ : یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے یقین رکھو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہر چیز کا خالق، حفیظ اور رقیب ہے۔ (ترجمان)
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ۔۔ : ”اَدْرَکَ یُدْرِکُ“ کا معنی کسی چیز کو پالینا ہے، اس لیے اس کا معنی دیکھنا بھی ہوسکتا ہے اور کسی چیز کی حقیقت کو پالینا بھی۔ ادراک کا معنی اگر آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اس کے متعلق ام المومنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”جو تمہیں بیان کرے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے یقیناً جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی : (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ)۔۔ پھر فرمایا : ”لیکن آپ نے جبریل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دو دفعہ دیکھا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، سورة والنجم : 4855 ] عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی فرمایا (سورة نجم میں مذکور آیات) (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنی، فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحی) سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (فکان قاب قوسین أو أدنی) : 4856 ] صحابہ کرام ؓ میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہی صحیح معلوم ہوتا ہے، صرف ابن عباس ؓ دیکھنے کے قائل ہیں، مگر وہ کبھی ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ مزید تفصیل سورة نجم میں آئے گی۔ یہ تمام بحث دنیا میں نہ دیکھ سکنے کی ہے، مگر قرآن مجید کی متعدد آیات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کے علاوہ مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جیسے چاند کے دیکھنے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جنت کی سب سے بڑی نعمت یہی ہوگی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَة، اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ) [ القیامۃ : 21، 22 ] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ لیکن ادراک کا معنی اگر حقیقت کو پالینا ہو تو یہ تو قیامت کے دن بھی نہ کسی فرشتے کے لیے ممکن ہے نہ رسول کے لیے، کیونکہ محدود مخلوق لا محدود کی حقیقت کو کیسے پاسکتی ہے۔ پھر زیر تفسیر آیت کے مطابق دنیا اور آخرت کسی جگہ بھی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتیں۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

بلا شبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کئی نشانیاں آچکیں، پھر جس نے دیکھ لیا تو اس کی جان کے لیے ہے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے اور میں تم پر کوئی محافظ نہیں۔

قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ۔۔ : ”بَصَاۗىِٕرُ“ یہ ”بَصِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے، جو دل کی روشنی کا نام ہے، جیسا کہ بصارت آنکھوں سے دیکھنے کو کہتے ہیں، یعنی مالک کی طرف سے تمہارے پاس دل اور آنکھوں کو روشن کرنے والے دلائل تو پہنچ چکے، جو اوپر کی آیات میں مذکور ہیں، اب ان پر غور و فکر کر کے جو ایمان لے آئے تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو ان پر غور نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو اپنا ہی برا کرے گا۔ میں تم پر کوئی محافظ نہیں کہ تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود تمہیں سیدھی راہ پر ڈال سکوں، ہدایت دینا یا نہ دینا تو اللہ ہی کا کام ہے۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے ان لوگوں کے لیے واضح کردیں جو جانتے ہیں۔

وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ : یہاں تک اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا اثبات تھا، اب نبوت کو ثابت کرنے کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم ایسے ہی مختلف طریقوں کے ساتھ بار بار دھراتے ہیں، کبھی مومنوں کو خوش خبری، کبھی کافروں کو تنبیہ، کبھی گزشتہ قوموں کے واقعات کے ذریعے سے نصیحت اور کبھی کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کے احکام، تاکہ جو لوگ عقل و فہم رکھتے ہیں، وہ ان کے ذریعے سے راہ ہدایت پائیں اور مخالفین پر حجت ہو۔ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ : یعنی ہم آیات کو پھیر پھیر کر اس لیے بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک طرف ان آیات کے ذریعے سے عقل و فہم والے راہ ہدایت پائیں گے تو دوسری طرف ضدی اور آباء و اجداد کے رسم و رواج سے چمٹے رہنے والے کافر و مشرک آپ سے یہ کہہ کر گمراہ ہوں گے کہ یہ قرآن جسے تم ہمارے سامنے پڑھ رہے ہو، تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا، بلکہ تم نے کسی سے پڑھا اور سیکھا ہے۔ مشرکین کے اسی قسم کے اقوال کئی دوسری آیات میں مذکور ہیں، مثلاً سورة فرقان (4، 5) اور سورة مدثر (18 تا 25) (رازی، قرطبی) ”وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ“ کی واؤ سے دیگر حکمتوں کی طرف اشارہ ہے جنھیں قصداً حذف کردیا گیا ہے، کیونکہ ان سب کا بیان بہت طویل تھا۔ واؤ کے بعد ایک حکمت بیان فرما دی گئی۔ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرنے کی پہلی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کفار اور عناد رکھنے والے یہ کہیں کہ تم نے یہ قرآن کسی سے پڑھ لکھ کر سیکھ لیا ہے، تاکہ اس طرح زیادہ گمراہ ہوں، یہاں دوسری حکمت بیان کی ہے ”تاکہ اہل علم کے لیے بیان اور فہم حاصل ہو۔“ (رازی)
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اس کی پیروی کر جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ۔۔ : یعنی ان کے اس قسم کے بےبنیاد شبہات سے متاثر ہو کر دعوت و تبلیغ ترک نہ کرو۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شریک نہ بناتے، اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں بنایا اور نہ تو ان پر کوئی نگہبان ہے۔

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكُوْا ۭ۔۔ : یعنی آپ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان و کفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ وہ فطری طور پر مومن ہونے کے ساتھ کفر یا نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، بلکہ ہر طرح فرماں بردار ہیں، لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل مزین کردیا ہے، پھر ان کے رب ہی کی طرف ان کا لوٹنا ہے تو وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ : یہ آیت سد ذرائع کی دلیل ہے، یعنی اگر ایک جائز کام کسی بڑی خرابی کا ذریعہ بنتا ہو تو اس جائز کام کو بھی چھوڑنا ضروری ہے۔ یعنی اگر تم مشرکین کے معبودوں کو گالی دو گے تو وہ جہالت سے اللہ تعالیٰ کو گالی دیں گے اور تم اس کا سبب بنو گے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کے ماں باپ کو گالی دینے سے منع فرمایا کہ اس طرح تم خود اپنے والدین کو گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے۔ [ بخاری، الأدب، باب لا یسب الرجل والدیہ : 5973 ] كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ۔۔ : یعنی انسان کی عادت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر کام کو، چاہے وہ در حقیقت اچھا ہو یا برا، اچھا ہی سمجھتا ہے، یعنی : (ۭ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ) [ المؤمنون : 53 ] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ لیکن انسان میں غور و فکر کی صلاحیت بھی رکھی ہے کہ وہ برے کام کو پوری آزادی سے چھوڑ کر نیک راستہ اختیار کرسکتا ہے، دنیا کا ہر کام اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے، وہ نہ چاہے تو نہیں ہوتا۔ انسانوں کو امتحان کے لیے اچھے برے دونوں کاموں کا اختیار دینا بھی اس کی مرضی اور حکمت سے ہے، مگر وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور برے کاموں کو پسند نہیں کرتا۔ دیکھیے سورة زمر (7)۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو اس پر ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ تو کہہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا چیز معلوم کرواتی ہے کہ بیشک وہ جب آئیں گی تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ۔۔ : مثلاً صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے، یا ان مطالبوں کو پورا کیا جائے جو ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں ذکر فرمائے ہیں۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، میرے اختیار میں نہیں اور تمہیں کیا خبر کہ نیا معجزہ یا نشانی آ بھی جائے تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سر کشی میں بھٹکتے پھریں گے۔

وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ۔۔ : یعنی اس سے پہلے معجزے دیکھ کر جب یہ ایمان نہیں لائے تو اب کیسے لائیں گے ؟ جو شخص حق واضح ہونے کے بعد ہٹ دھرمی سے ایک دفعہ انکار کردیتا ہے، پھر وہ مسلسل انکار ہی کرتا رہتا ہے۔ اس کے اس بد عمل کی وجہ سے آئندہ ایمان لانے کی توفیق اس سے چھین لی جاتی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (74) اور سورة انفال (24) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہ پہلی دفعہ ہی حق کی بات سن کر انصاف سے قبول کرلیتے ہیں اور جس شخص نے پہلے ہی ضد سے ٹھان رکھی ہے کہ مانے گا ہی نہیں، وہ معجزہ دیکھ کر بھی کوئی حیلہ بنا لیتا ہے، مثلاً فرعون نے کتنے ہی معجزے دیکھے پر وہ ایمان نہ لایا۔ (موضح)
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر واقعی ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے تو بھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔

وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ۔۔ : پچھلی آیت : (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) میں جو بات مختصر بیان کی گئی تھی یہاں اسی کی تفصیل ہے، یعنی اگر ہم ان کے تمام مطالبات پورے کردیں، جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مردوں کا کلام کرنا وغیرہ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لا کھڑی کردیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہر چیز سے مراد ان کے مطالبات میں سے ہر چیز ہے، کیونکہ ”کل“ کے لفظ سے موقع کے مناسب ہر چیز ہوتا ہے، جیسا کہ ہدہد نے ملکۂ سبا سے متعلق کہا : (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ) [ النمل : 23 ] ”اور اسے ہر چیز دی گئی ہے۔“ ظاہر ہے کہ ہر چیز تو اسے نہیں دی گئی تھی، حکومت و سلطنت سے متعلقہ اشیاء ہی عنایت کی گئی تھیں۔ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : مگر اللہ چاہے تو ضدی سے ضدی منکر کو بھی ایمان سے نواز سکتا ہے، جیسا کہ بعد میں عرب کے بیشمار عناد رکھنے والے کافر بھی مکہ فتح ہونے پر مسلمان ہوگئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے بشارت کے الفاظ ہیں۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ : یہاں وہ جہل مراد نہیں جو علم کے مقابلے میں ہوتا ہے، بلکہ وہ جہل ہے جو حلم کے مقابلے میں ہوتا ہے، یعنی اکھڑ پن یعنی بعض حلم والے بھی ان میں موجود ہیں۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا۔۔ : یعنی جس طرح جن و انس کے شیطان آپ سے دشمنی کر رہے ہیں، یہ صرف آپ کا حال نہیں، بلکہ اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے تمام انبیاء کے لیے بھی جن و انس شیطان دشمن بنائے تھے، لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جس طرح پہلے انبیاء نے اپنے شریر دشمنوں کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیا، آپ بھی ان کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے، مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ دیجیے۔ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ۔۔ : وحی کا معنی خفیہ طریقے سے اطلاع دینا ہے، یعنی وہ انسان اور جن جو شیطان ہیں، وہ اپنوں میں سے سیدھے سادے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے چوری چھپے طرح طرح کے مزین اور ملمع کیے ہوئے حیلے اور مکر سکھاتے ہیں۔ ”ِ غُرُوْرًا ۭ“ مفعول لہ ہے، یعنی دھوکا دینے کے لیے۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ : مگر وہ چونکہ حجت پوری کرنے کے لیے انھیں امتحان کا پورا پورا موقع دینا چاہتا ہے اور کسی کو زبردستی اپنی نافرمانی سے باز رکھنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے، اس لیے وہ انھیں ڈھیل دے رہا ہے۔ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ : یعنی ان کی کوئی پروا نہ کریں، انھیں اور ان کے جھوٹ گھڑنے کو اللہ پر چھوڑ دیں، وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور تاکہ ان لوگوں کے دل اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ بھی وہی برائیاں کریں جو یہ کرنے والے ہیں۔

وَلِتَصْغٰٓى اِلَيْهِ۔۔ : اس کا عطف ”غُرُوْرًا“ پر ہے، یعنی ”لِیَغُرُّوْا بِذٰلِکَ وَ لِتَصْغٰی“ ”تاکہ وہ اس کے ساتھ دھوکا دیں اور تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں۔“ یہ توجیہ ان تمام توجیہوں سے بہتر ہے جو یہاں کی گئی ہیں۔ (رازی) وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوْا۔۔ : ”اِکْتَسَبَ یَکْتَسِبُ“ اچھی یا بری دونوں کمائیوں کو کہتے ہیں، جبکہ ”اِقْتَرَفَ یَقْتَرِفُ“ برے اعمال کمانے کو کہتے ہیں، یعنی ان شیاطین کے پیش نظر اس وحی سے یہ سب مقاصد ہیں۔ (رازی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگے کہ مسلمان اپنا مارا ہوا جانور کھاتے ہیں اور اللہ کے مارے ہوئے کو حرام سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسی فریب کی باتیں شیطان کرتے ہیں، تاکہ انسانوں کو شبہات میں ڈالا جائے۔ عقل کا حکم نہیں، حکم اللہ کا ہے۔ آگے پھر واضح طور پر سمجھایا گیا کہ ہر جانور کو مارنے والا اللہ ہی ہے اور اس کے نام میں برکت ہے، سو جو اس کے نام پر ذبح ہوا وہ حلال ہے اور جو اس کے نام کے بغیر مرگیا وہ مردار ہے۔ (موضح)
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف تلاش کروں، حالانکہ اسی نے تمہاری طرف یہ کتاب مفصل نازل کی ہے اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ جانتے ہیں کہ یقینا یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کی ہوئی ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔

اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا۔۔ : اوپر کی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، لہٰذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بےفائدہ ہے۔ اب یہاں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے وہ آپ کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل کے لیے کافی ہے۔ کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان جو مخالفت ہے اس کے بارے میں اہل کتاب یا کسی اور کو حکم بنا لیا جائے، پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کرلیا جائے، اس آیت میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور منصف تلاش کروں۔ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ : کیونکہ ان کے انبیاء بھی انھیں نبی ﷺ کی بشارت دیتے رہے ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی آپ کی علامات موجود ہیں۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ : یعنی اس بارے میں کہ اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کے سچا ہونے کا یقین ہے۔ خطاب تو آپ ﷺ سے ہے، مگر اس سے مراد سارے مسلمان ہیں۔ (رازی)
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہوگئی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ۔۔ : یہاں کلمہ اور کلمات سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن معجزہ ہونے اور آپ ﷺ کی نبوت کے سچا ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ قرآن کے تمام مضامین دو ہی قسم کے ہیں، خبریں یا احکام۔ یہاں ”صِدْقًا“ کا تعلق خبروں سے ہے اور ”َعَدْلًا ۭ“ کا تعلق احکام سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام خبریں، خواہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے ہو یا گزشتہ واقعات یا مستقبل کے وعدے اور حوادث سے، وہ سب پورے طور پر سچے ہیں اور اس میں جتنے احکام ہیں وہ سب عدل و انصاف پر مشتمل ہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی کامل کتاب کی موجودگی میں ان شیطانی وساوس یا عقلی شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ (رازی) پھر ذبیحہ جیسے اہم مسئلے میں یہ اپنی کج فہمی سے کیوں دخل دے رہے ہیں۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ: یعنی نہ تو اس قسم کے شبہات قرآن کے معجزہ ہونے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اور نہ اس کے اوامرو نواہی میں کوئی ترمیم جائز ہے اور نہ جیسے تورات و انجیل میں تحریف ہوئی، قرآن میں ہو سکے گی۔ (رازی)
Ayahs 6:116–117

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک تیرا رب ہی خوب جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔

وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ۔ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اللہ کے پاس اپنا سفارشی بناتے ہیں اور کبھی مردوں اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے موجودہ جمہوریت کی حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے، جس میں اکثریت ہی کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی حق پر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے : (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِين) [ یوسف : 103 ] ”اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔“ اور فرمایا : (وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ یونس : 55 ] ”اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔“ اور فرمایا : (وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ) [ سبا : 13 ] ”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ اور فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ ۭ) [ ص : 24 ] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔“ اب ایک طرف اللہ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بیشمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کرلیا اور بیشمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہوگا ؟ اس لیے اس آیت میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ۔۔ : یعنی وہ حلال جانور جسے ذبح یا شکار کرتے وقت اللہ کا نام یعنی ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“ لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ بلاشبہ اس نے تمہارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کردی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کردیے جاؤ اور بیشک بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے ساتھ کچھ جانے بغیر یقینا گمراہ کرتے ہیں، بیشک تیرا رب ہی حد سے بڑھنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔

وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ : یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے، جن کی تفصیل آگے اسی سورت میں آرہی ہے اور سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں بھی ہے اور بعض کا ذکر احادیث میں ہے، تو ان کے علاوہ سب جانور حلال ہیں اور اللہ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور ان حرام چیزوں میں شامل نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہ کھاؤ اور اللہ کے نام کے بغیر یا غیر اللہ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور کھاؤ۔ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ : یعنی اضطرار اور مجبوری میں حرام کھانا جائز ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (173) ، سورة مائدہ (3) اور اسی سورت کی آیت (145)۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بالْمُعْتَدِيْنَ : مراد وہ لوگ ہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مقصود اس سے ڈرانا ہے۔ (رازی)