5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! عہد پورے کرو۔ تمہارے لیے چرنے والے چوپائے حلال کیے گئے ہیں، سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے، اس حال میں کہ شکار کو حلال جاننے والے نہ ہو، جب کہ تم احرام والے ہو، بیشک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا۔۔ : اس آیت میں پانچ احکام بیان ہوئے ہیں : 1 عقود اور عہود کا پورا کرنا۔ 2 چوپاؤں کا حلال ہونا۔ 3 کچھ چوپاؤں کا حرام ہونا، جن کا ذکر اس سورت کی دوسری اور تیسری آیت میں ہے۔ 4 محرم کے لیے اور حرم میں شکار کا حرام ہونا۔ 5 غیر محرم کے لیے غیر حرم میں شکار کا حلال ہونا۔ بِالْعُقُوْدِ ڛ : یہ ”عَقْدٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی گرہ لگانا ہے، عہد و پیمان کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ وہ بھی گرہ کی طرح پختہ کیا جاتا ہے، مراد شریعت کے احکام ہیں۔ دوسری جگہ عقد کو عہد سے بھی تعبیر کیا ہے، فرمایا : (وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ) [ البقرۃ : 40 ] ”اور تم میرا عہد پورا کرو۔“ اس میں آپس کے عہد و پیمان بھی شامل ہیں۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے، اس کے بعد نیچے اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ (کبیر، ابن کثیر) اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ : ”بَهِيْمَةُ“ سے مراد درندوں کو چھوڑ کر باقی چوپائے ہیں، وہ سب حلال ہیں، خواہ پالتو ہوں یا وحشی، مثلاً ہرن، نیل گائے وغیرہ، سوائے ان کے جن کا نام لے کر قرآن یا حدیث میں حرام کہا گیا ہے، مثلاً گدھا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (173) ”الانعام“ سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (142 تا 144)۔ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : اس کی تفسیر اسی سورت کی آیت (2، 3) میں آرہی ہے۔ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ: ”حرم“ یہ ”حَرَامٌ“ کی جمع ہے، جس نے عمرہ یا حج کا احرام باندھا ہو، اسی طرح جو شخص مکہ کی حدود حرم میں ہو، خواہ احرام نہ باندھا ہو، اس حالت میں شکار بھی ممنوع ہے اور شکار کرنے والے کی کسی طریقے سے مدد کی بھی ممانعت آئی ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (95، 96) رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کو بھی حرم قرار دیا، اس کی حدود میں بھی شکار منع ہے۔ [ بخاری، فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ : 1868 ]
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نہ اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی اور نہ حرمت والے گھر کا قصد کرنے والوں کی، جو اپنے رب کا فضل اور خوشنودی تلاش کرتے ہیں، اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو، اور کسی قوم کی دشمنی اس لیے کہ انھوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا، تمہیں اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ حد سے بڑھ جاؤ، اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : ”شَعَائرِ“ یہ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے جو ”فَعِیْلَۃٌ“ بمعنی ”مُفْعَلَۃٌ“ ہے، یعنی ہر وہ چیز جس پر نشان لگایا گیا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو، مراد وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق ہو اور اس خاص تعلق کی بنا پر ان کی تعظیم کی جاتی ہو۔ بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ اس سے مراد اللہ کے تمام اوامرو نواہی ہیں اور بعض نے حج و عمرہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں مراد لی ہیں۔ ”لَا تُحِلُّوْا“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو اور ان کی بےحرمتی نہ کرو۔ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ : ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ”سال کے بارہ مہینے ہیں، جن میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل ہیں، ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور ایک رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (إن عدۃ الشہور۔۔) : 4662 ] مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کر کے ان کی بےحرمتی نہ کرو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (36)۔ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ ”الھدیَ“ ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔ ”القلائد“ یہ ”قِلاَدَۃٌ“ کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی (قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔ ”اَلْقَلاَئدَ“ کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ ”شعائر اللہ“ کے ضمن میں آچکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَام۔ : یعنی وہ لوگ جو مسجد حرام کا قصد کر کے جا رہے ہیں۔ رب کے فضل سے مراد رزق ہے جو تجارت وغیرہ سے کمایا جاتا ہے اور اللہ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلب ثواب کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ثواب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کو تکلیف مت دو۔ مگر یہ حکم سورة توبہ کی آیت (28) سے منسوخ ہوگا۔ اب مشرکین کو حدود حرم میں داخلے کی اجازت نہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی) وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ۭ: یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار کرو۔ یہ حکم بیان جواز کے لیے ہے، یعنی اب شکار جائز ہے، یہ معنی نہیں کہ اب ضرور ہی شکار کرو، کیونکہ وہ احرام سے پہلے بھی ضروری نہ تھا۔ (ابن کثیر) وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ۔ : یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمہیں 6 ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠۔۔ : ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام ”اَلْبِرّ“ اور برائی کو ترک کرنے کا نام ”التَقْویٰ“ ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور نہ کرنے کے لیے ایک اصول مقرر فرما دیا ہے جس سے اسلامی معاشرے میں برائی کا سدباب ہوسکتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک آدمی نے عرض کی : ”اے اللہ کے رسول ! جب وہ مظلوم ہو، میں اس کی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کس طرح کروں ؟“ فرمایا : ”اس وقت اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکو۔“ [ بخاری، الإکراہ، باب یمین الرجل۔۔ : 6952۔ مسلم : 2584 ]
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے اور گلا گھٹنے والا جانور اور جسے چوٹ لگی ہو اور گرنے والا اور جسے سینگ لگا ہو اور جسے درندے نے کھایا ہو، مگر جو تم ذبح کرلو، اور جو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ساتھ قسمت معلوم کرو۔ یہ سراسر نافرمانی ہے۔ آج وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے دین سے مایوس ہوگئے، تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا، پھر جو شخص بھوک کی کسی صورت میں مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ کسی گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

(حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ) شروع کی آیت میں جن جانوروں کے حرام ہونے کے بیان کا وعدہ ”سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے“ کے ساتھ کیا گیا تھا اس آیت میں ان کا ذکر ہے۔ الْمَيْتَةُ : مردار میں سے مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کردیے گئے ہیں، مردار تو مچھلی اور ٹڈی ہیں (کیونکہ ان میں دم مسفوح نہیں ہوتا) اور خون جگر اور تلی ہیں۔“ [ أحمد : 2؍97 ح : 5725۔ ابن ماجہ : 3314، و صححہ الألبانی فی الصحیحۃ : 1118 ] حرام خون اور لحم خنزیر کی تفصیل سورة انعام (145) میں ہے۔ وَالْمُنْخَنِقَةُ : گلا گھٹنے والا جانور، خواہ خود بخود رسی وغیرہ سے گھٹ کر مرجائے یا کوئی گلا گھونٹ کر مار دے۔ وَالْمَوْقُوْذَةُ : جسے کسی لاٹھی یا پتھر وغیرہ کی چوٹ سے مارا جائے۔ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ: اس کا تعلق اس سے پہلے مذکور پانچ چیزوں کے ساتھ ہے کہ ان پانچوں چیزوں میں سے کسی کے اندر اگر جان باقی ہو اور مرنے سے پہلے اسے ذبح کرلو تو وہ حلال ہے۔ شرعی ذبح یہ ہے کہ حلال جانور کو ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَر“ کہہ کر کسی تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی شرعی طریقہ ہے کہ کھڑے اونٹ کے حلق کے گڑھے میں چھری وغیرہ ماری جائے۔ ذبح اور نحر حلق یا لبہ (حلق کے گڑھے) ہی میں ہوتا ہے، البتہ اگر مجبوری ہو، مثلاً جانور قابو نہیں آ رہا، یا ایسی جگہ ہے جہاں پکڑ کر ذبح کرنا مشکل ہے تو ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“ پڑھ کر جہاں سے بھی ہو سکے چھری یا نیزے سے خون بہا کر ذبح کیا جاسکتا ہے۔ اگر ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر نہیں بلکہ اتفاقاً گردن الگ ہوجائے تو وہ بھی حلال ہے۔ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ: مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے لیے جو جگہیں مقرر کرتے انھیں نصب کہا جاتا تھا، کیونکہ عموماً وہاں کوئی نشان نصب ہوتا، مثلاً بت، درخت، قبر یا دریا وغیرہ۔ پھر اس کے پاس ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔ ایسی جگہوں کو استھان، تھان اور آستانہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ایسے جانور بھی حرام ہیں خواہ ان پر ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَر“ بھی پڑھا جائے، اگرچہ ان کا ذکر (وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ) کے ضمن میں آچکا تھا مگر مزید تاکید کے لیے ان کو الگ بھی ذکر فرمایا۔ ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ”بوانہ“ مقام پر اونٹ نحر کرے گا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ”بوانہ“ مقام پر ایک اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی تھی۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”کیا وہاں ایام جاہلیت کے (انصاب) استھانوں میں سے کوئی استھان تھا ؟“ لوگوں نے کہا : ”نہیں !“ آپ نے مزید پوچھا : ”کیا وہاں مشرکین کی عیدوں (میلوں) میں سے کوئی عید تھی ؟“ لوگوں نے کہا :”نہیں !“ آپ نے فرمایا : ”اپنی نذر پوری کرو۔“ [ أبو داوٗد، الأیمان والنذور، باب ما یؤمر بہ من وفاء النذر : 3313 ] وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭ: ”اَزْلاَمٌ“ یہ ”زَلَمٌ“ کی جمع ہے، یہ وہ تیر تھے جو قسمت معلوم کرنے کے لیے ہبل بت کے پاس رکھے ہوئے تھے۔ خانہ کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی تصویروں کے ہاتھوں میں بھی تھمائے ہوئے تھے، بلکہ لوگ اپنے ساتھ بھی قسمت آزمائی کے یہ تھیلے رکھ لیتے تھے، جیسا کہ سراقہ نے نبی ﷺ کا تعاقب کرتے ہوئے ان تیروں سے فال نکالی تھی۔ ان میں سے کسی پر ”اِفْعَلْ“ (کرلو) لکھا ہوتا، کسی پر ”لَا تَفْعَلْ“ (مت کرو) لکھا ہوتا اور کوئی خالی ہوتا۔ قسمت معلوم کرنے والا تیر نکالتا، جو حکم نکلتا اس پر عمل کرتا، اگر خالی تیر نکلتا تو دوبارہ تیر نکالتا۔ اس قسم کے تمام کام، خواہ انھیں فال نامہ کہا جائے یا استخارہ یا کسی نجومی سے پوچھا جائے حرام ہیں، شرک ہیں کیونکہ غیب تو اللہ کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں، مسنون استخارے میں اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ (َاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭ) کا ایک اور مطلب بھی ہے، یعنی جوئے کے تیروں کے ذریعے سے ذبح شدہ گوشت کے حصے تقسیم کرنا، اس میں کسی کا حصہ نکل آتا، کوئی محروم رہ جاتا، یہ وہی چیز ہے جسے آج کل لاٹری کہا جاتا ہے، یہ بھی حرام ہے۔ (قرطبی) اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یعنی اب تمہاری طاقت اس قدر مستحکم ہوگئی ہے کہ تمہارے دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس چیز سے قطعی مایوس ہوگئے ہیں کہ تمہارے دین کو نیچا دکھا سکیں۔ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ۔۔ : طارق بن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب ؓ سے کہا : ”آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر ہم یہودیوں کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنا لیتے۔“ آپ نے فرمایا : ”کون سی آیت ؟“ اس نے یہ آیت پڑھی : (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) [ المائدۃ : 3 ] یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا : ”ہم اس دن اور جگہ کو جانتے ہیں جب یہ (آیت) رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی، آپ (9 ذوالحجہ کو) عرفہ میں تھے (پچھلے پہر کا وقت تھا) اور جمعۃ المبارک کا دن۔“ [ بخاری، الإیمان، باب زیادۃ الإیمان و نقصانہ : 45 ] دین کو مکمل کردینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے تمام ارکان، فرائض، سنن، حدود اور احکام بیان کردیے گئے ہیں اور کفر و شرک کا خاتمہ کر کے اس نعمت کو مکمل کردیا گیا ہے۔ اب دین میں جو حرام ہونا تھا یا حلال ہونا تھا وہ ہوچکا، اب اگر کوئی اس میں تبدیلی یا اضافہ کرے گا، یا نئی چیز نکالے گا وہ دین نہیں ہوسکتی بلکہ دین میں بدعت ہے، جو سراسر گمراہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَحْدَثَ فِیْ أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ)”جو ہمارے اس امر (دین) میں کوئی نئی چیز شروع کرے گا جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [ بخاری، الصلح، باب إذا اصطلحوا۔۔ : 2697 ] فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ۔۔ : یعنی بھوک کی وجہ سے مجبور اور لاچار آدمی اگر حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ حرام کھانے کا شوق نہ ہو اور اسے جائز نہ سمجھنے لگے اور دوسرا بقدر ضرورت کھائے، حد سے نہ گزرے۔ معلوم ہوا حرام کھانے کا تعلق بھوک اور حقیقی مجبوری سے ہے۔ زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے اضطرار کا بہانہ بنا کر سود کھانا شروع کر دے، یہ مراد نہیں۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ؟ کہہ دے تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جو تم نے سدھائے ہیں، (جنھیں تم) شکاری بنانے والے ہو، انھیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھاؤ جو وہ تمہاری خاطر روک رکھیں اور اس پر اللہ کا نام ذکر کرو اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭ۔۔۔۔ چوپاؤں کا حکم تو فرما دیا، پھر لوگوں نے اور چیزوں کے متعلق پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک عظیم الشان اصول بیان فرما دیا، جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے : ”ہر چیز کی اصل اباحت ہے۔“ یعنی کھانے پینے کی تمام طیبات یعنی ستھری چیزیں حلال ہیں، سو رسول اللہ ﷺ نے جو چیزیں حرام فرمائیں معلوم ہوا وہ ستھری نہیں، جیسے کچلی والے درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے، یا جن کا نام لے کر حرام قرار دے دیا، باقی سب حلال ہیں۔ اس قاعدے سے حرام اشیاء کا دائرہ تنگ ہوگیا اور حلال اشیاء کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ۔۔ : شکاری جانور سے ہر وہ درندہ اور پرندہ مراد ہے جسے شکار کے لیے رکھا اور سدھایا جاتا ہے، مثلاً کتا، چیتا، باز اور شکرا وغیرہ اور اس کے ”سدھائے ہوئے“ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ شکار پر چھوڑا جائے تو اسے اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھے، اگر وہ خود شکار پکڑ کر کھانے لگے تو وہ شکار کھانا درست نہیں اور یہی معنی (مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ) کے ہیں۔ عدی بن حاتم ؓ نے آپ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑے اسے کھالو۔“ میں نے کہا : ”خواہ وہ اسے قتل کر دے ؟“ فرمایا : ”خواہ وہ اسے قتل کر دے، بشرطیکہ قتل میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں سے نہ ہو، کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا ہے، کسی دوسرے پر نہیں لیا۔“ [ بخاری، الذبائح والصید، باب صید المعراض : 5476 ] عدی بن حاتم ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور وہ تمہارے لیے پکڑ کر رکھے اور اسے زندہ پالو تو اسے ذبح کرلو اور اگر تم اسے پاؤ کہ اس نے قتل کردیا ہے لیکن اسے خود نہیں کھایا تو پھر تم اسے کھالو، کیونکہ کتے کا اسے پکڑنا ہی ذبح کرنا ہے۔“ [ بخاری، الذبائح والصید، باب التسمیۃ علی الصید : 5475 ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ یعنی اگر حلال ہونے کی کوئی شرط کم ہے تو شکار کھانے کے شوق میں اللہ سے بےخوف ہو کر اسے مت کھاؤ۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو ، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقینا اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہے۔

وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ ۠۔۔ : اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا طعام، جس میں ذبیحہ بھی شامل ہے، مسلمانوں کے لیے حلال ہے، بشرطیکہ انھوں نے غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کیا ہو اور واقعی ذبح کیا ہو۔ کسی چھری یا مشین سے سر کاٹ کر الگ کردینا یا سخت گرم پانی میں جانور کو ڈال کر یا بجلی کے کرنٹ سے مار دینا ذبح نہیں، کیونکہ ان طریقوں سے جسم سے بہتا ہوا خون (دم مسفوح) پوری طرح باہر نہیں نکلتا جو حرام ہے، اس لیے ایسے جانور کا گوشت کھانا درست نہیں۔ اگر صحیح ذبح کیا ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ کھانے سے متعلق حدیث ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم ﷺ کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا اور آپ نے اس میں سے کچھ کھایا۔ [ بخاری، المغازی، باب الشاۃ التی سمت للنبی ﷺ بخیبر : 4249 ] اسی طرح بعض صحابہ نے بھی وہ چربی کھائی جو خیبر میں یہودیوں سے حاصل ہوئی تھی۔ [ مسلم، الجہاد، باب جواز الأکل من طعام الغنیمۃ۔۔ : 1772 ] مگر جو چیزیں ہماری شریعت میں حرام ہیں، جیسے مردار، خون، خنزیر کا گوشت وغیرہ، یہ چیزیں ان کے دسترخوان پر کھانا بھی حرام ہے، بلکہ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا بھی جائز نہیں، نہ ان کے ایسے برتن استعمال کرنا جائز ہے، ہاں اگر اور برتن نہ ملیں اور مجبوری ہو تو انھیں خوب دھو کر اور صاف کر کے استعمال کرسکتے ہیں۔ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یعنی ان سے نکاح کرنا درست ہے، چاہے وہ اپنے دین پر قائم رہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن ہوں نہ کہ آزاد منش اور آوارہ قسم کی، جو انسان کے ایمان کو بھی تباہ کر ڈالیں۔ جمہور کے نزدیک یہاں ”َالْمُحْصَنٰتُ“ کے یہی معنی مراد ہیں، تاکہ کفر اور زنا کی دو آفات ان میں جمع نہ ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (221)۔ وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ۔۔ : اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح صرف جائز ہے، مستحسن اور مستحب نہیں، یعنی کوئی باعث ثواب اور اچھی چیز نہیں اور جو شخص اس اجازت سے فائدہ اٹھائے اسے اپنے ایمان کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی سے متاثر ہو کر اپنے ایمان و اخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں ”اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ“ کے تحت حلال و حرام چیزیں بتائی گئی تھیں، اب اس آیت میں اسی کے تحت وضو اور تیمم کے احکام بیان فرمائے ہیں جو عقود میں شامل ہیں اور سہولت پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اتمام نعمت (نعمت پوری کرنا) بھی ہیں۔ (کبیر، قرطبی) غزوۂ مریسیع (5 یا 6 ہجری) میں عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا تھا، ہار کی تلاش میں صبح ہوگئی اور پانی موجود نہ تھا، لوگ فکر مند ہوئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، التیمم، باب : 334 ] اس آیت سے چونکہ صحابہ ؓ کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رخصت ملی، اس لیے علماء نے اس آیت کو آیت وضو کے بجائے آیت تیمم بھی کہا ہے۔ (قرطبی) نماز سے پہلے وضو نہ ہو تو وضو فرض ہے ورنہ مستحب، رسول اللہ ﷺ نے ایک وضو کے ساتھ کئی نمازیں پڑھی ہیں۔ [ مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد : 277 ] اس آیت میں وضو کا بیان ہے، وضو میں سب سے پہلے نیت ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں ہے : (إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّاتِ) ”تمام اعمال (عبادات) کے لیے نیت ضروری ہے۔“ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللہ ﷺ : 1 ] اس لیے امام بخاری ؓ فرماتے ہیں : ”اس میں ایمان، وضو، نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ الغرض تمام اعمال داخل ہیں۔“ قرآن نے چار اعضا کا ذکر کیا ہے، مگر اس کا عملی طریقہ رسول اللہ ﷺ کے عمل کے مطابق ہونا چاہیے۔ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ : منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک میں پانی داخل کرکے جھاڑنا اور داڑھی کا خلال بھی شامل ہے۔ [ ابن ماجہ، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ : 431 ] ”کہنیوں تک“ میں کہنیاں بھی شامل ہیں، انھیں بھی دھونا لازم ہے۔ نعیم مجمر فرماتے ہیں میں نے ابوہریرہ ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے چہرہ دھویا اور مکمل وضو کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہاں تک کہ کہنی سے اوپر والے حصے تک لے گئے، پھر بایاں ہاتھ یہاں تک کہ کہینیوں سے اوپر تک لے گئے پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک پہنچا دیا، پھر بایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک لے گئے، پھر فرمایا : ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔“ [ مسلم، الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ۔۔ : 246 ] وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ : گو بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ سارے سر کا مسح فرض نہیں بلکہ سر کے کچھ حصے کا مسح کرلیا جائے تو بھی کافی ہے، مگر قرآن کے ظاہر اور احادیث کی رو سے سارے سر کا مسح کرنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ سے ایک دفعہ بھی پگڑی کے بغیر سر کے کچھ حصے کا مسح ثابت نہیں، آپ دونوں ہاتھ آگے سے گدی تک لے جاتے، پھر واپس لے آتے، ہاں پگڑی ہونے کی صورت میں سر کے سامنے والے حصے کے بعد پگڑی پر مسح کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم (81؍274) میں ہے، پوری پگڑی پر بھی مسح کرسکتا ہے۔ [ أبو داوٗد : 146 ] سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح حدیث سے ثابت ہے۔ [ نسائی : 103۔ ابن ماجہ : 439 ] سر کے مسح کے بعد گردن کا الگ مسح یا الٹے ہاتھوں مسح کرنے کا ثبوت نبی ﷺ یا صحابہ کرام ؓ سے نہیں ملتا، لہٰذا یہ بدعت ہے۔ وَاَرْجُلَكُمْ : اس میں ”لام“ کے زبر اور زیر کے ساتھ دو قراءتیں مروی ہیں۔ فتح والی قراءت کی رو سے تو ظاہر ہے کہ ”ِ فَاغْسِلُوْا“ کا مفعول ہونے کی بنا پر پاؤں دھونا ثابت ہے۔ زیر والی قراءت میں قریب ہونے کی وجہ سے جر ہے، یعنی پہلا لفظ ”بروسکم“ مجرور ہونے کی موافقت کے لیے ”وَاَرْجُلَكُمْ“ کو کسرہ دے دیا ورنہ ”فاغسلوا“ کا مفعول ہونے کی وجہ سے دراصل منصوب ہے۔ تمام علمائے اہل سنت کا یہی مذہب ہے اور رسول اللہ ﷺ سے بہت سی احادیث میں ثابت ہے کہ آپ پاؤں دھویا کرتے تھے، ان پر مسح نہیں فرماتے تھے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں پا لیا، نماز کا وقت ہوگیا تھا، ہم وضو کر رہے تھے اور (جلدی میں) اپنے پاؤں پر گیلا ہاتھ پھیر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز میں تین مرتبہ فرمایا : ”ان ایڑیوں کے لیے آگ میں بڑی ہلاکت ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب من رفع صوتہ بالعلم : 60 ] اگر موزے یا جرابیں باوضو ہونے کی حالت میں پہنی ہوں تو ان پر صحیح احادیث کے مطابق مسح کیا جاسکتا ہے۔ وضو میں ترتیب بھی ضروری ہے، جیسا کہ ”فَاغْسِلُوْا“ کی ”فاء“ سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ پہلے دھویا جائے گا، باقی اعضاء میں بھی ترتیب ہوگی، مسح راس کے بعد غسل رجلین کے ذکر میں بھی ترتیب کی طرف اشارہ ہے، یعنی ”فَاغْسِلُوْا“ کا مفعول بعد میں ذکر ہوا ہے اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ نے اسی ترتیب سے وضو کیا ہے، کبھی اس کے خلاف نہیں کیا۔ اعضاء کو کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ تین دفعہ دھونا ثابت ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔ فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۭ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (43)۔ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ۔۔ : تنگی میں نہ ڈالنے کی وجہ سے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی کے ساتھ مکمل طہارت ہی کے لیے اس نے تیمم کا حکم نازل فرمایا ہے، تاکہ تم پر نعمت تمام ہو اور تم شکر ادا کرو۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔ : اس آیت میں نعمت سے مراد اسلام ہے، میثاق اور اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو رسول اللہ ﷺ ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے، چونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا (منکرین حدیث کو غور کرنا چاہیے)۔ اس سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی اولاد سے لیا تھا، جو ان کی فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی کہ یہود کو متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی کی پیروی کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اسے پورا کرو، مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Ayahs 5:8–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے کہ بیشک ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی بھڑکتی آگ والے ہیں۔

كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بالْقِسْطِ ۡ کی تشریح سورة نساء (135) میں گزر چکی ہے، اسی طرح (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ۔۔) کی تشریح سورة مائدہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی، جب وہ مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو اور ہر جگہ یہی حکم ہے، حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔“ (موضح)
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمہاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں تو اس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔۔۔ عمومی انعامات کے بعد اب خصوصی انعام کا ذکر ہے۔ (رازی) اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ۔۔ : جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اللہ ﷺ ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلایا، ہم آپ کے پاس آئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس نے میری تلوار سونت لی، جب کہ میں سویا ہوا تھا، میں جاگ پڑا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، مجھ سے کہنے لگا، تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا، اللہ ! تو دیکھو یہ بیٹھا ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے کچھ نہیں کہا۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ ذات الرقاع : 4135 ] ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلے میں نبی ﷺ مدینہ کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں پروگرام بنایا کہ ان کے اوپر چکی کا پاٹ گرا دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کردیا اور آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے، پھر یاددہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے۔ (المنار، قرطبی)
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور انھیں قوت دی اور اللہ کو قرض دیا، اچھا قرض تو یقینا میں تم سے تمہارے گناہ ضرور دور کروں گا اور یقینا تمہیں ایسے باغوں میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ۔۔ : پیچھے آیت (7) میں گزرا ہے کہ مسلمانو ! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت اور اپنے اس عہد کو یاد کرو جب تم نے سمع و طاعت کا پختہ عہد کیا تھا، اب فرمایا کہ یہ عہد صرف تم ہی سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی اسی قسم کا عہد لیا گیا تھا، مگر انھوں نے عہد توڑ دیا اور ذلت و مسکنت کا شکار ہوئے، لہٰذا تم ان جیسے مت بنو۔ (کبیر) بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان پر بارہ سردار مقرر کردیے، تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھیں اور انھیں اپنے عہد پر قائم رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ نقیب (سردار) ان جبارین (زبردست لوگوں کی قوم) کی خبر لانے کے لیے مقرر کیے تھے جن کا ذکر آیت (21 تا 26) میں آ رہا ہے۔ (ابن کثیر) مگر ظاہر الفاظ سے پہلی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی لیلۃ العقبہ میں جب سمع و طاعت پر بیعت لی تھی تو ان پر بارہ نقیب ہی مقرر فرمائے تھے۔ (قرطبی)
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بیشک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ۔۔ : یعنی انھوں نے اپنے عہد و میثاق کی پاس داری کے بجائے سمع و طاعت کا وہ عہد توڑ دیا، نماز کو ضائع کرنا شروع کردیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ (دیکھیے مریم : 59) زکوٰۃ اور قرض حسنہ (صدقہ وغیرہ) کے بجائے بخل اور کمینگی کی انتہا کو پہنچ گئے اور سود لینا شروع کردیا، رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے۔ بنی إسرائیل : 107 اور جہاد کے ساتھ انھیں قوت دینے کے بجائے کتابوں میں تحریف کی اور جہاد میں جانے ہی سے صاف انکار کردیا، تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کردیا، جس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا۔ ”قَسِیَّۃٌ“ یا ”قَاسِیَۃ“ اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ ”قَسْوَۃٌ“ سے ہے جس کا معنی شدت اور سختی ہے۔ خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور ان میں جتنی ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہوجاتے ہیں، اس تشبیہ کی رعایت سے انھیں ”قَاسِیَۃٌ“ فرمایا۔ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ : یعنی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ رکھ دیتے، یا اس کے اصل مفہوم کے بجائے کوئی غلط مفہوم نکال لیتے جسے تاویل باطل کہتے ہیں، اپنی اسی خست کی وجہ سے ہیرا پھیری کر کے انھوں نے نبی ﷺ کی ان صفات کو بدل ڈالا جو تورات میں مذکور تھیں۔ (قرطبی) وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ : یعنی انھوں نے تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کردیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا، زانی کو سنگسار کرنا، سود کو حرام سمجھنا وغیرہ۔ افسوس اہل کتاب کی طرح مسلمانوں کی اکثریت نے بھی سمع و طاعت کو چھوڑا، نمازیں ضائع کیں، سود کھانے لگے، جہاد چھوڑ بیٹھے، باہمی فرقوں میں بٹ کر اللہ کی کتاب میں تحریف کی حد تک تاویلیں کرنے لگے، تو نتیجہ بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا، مگر امید افزا بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ میں ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور حق کی خاطر لڑتے رہیں گے، انھی کو ”عَلَی الْحَقِّ مَنْصُوْرِیْنَ“ کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ لا تزال طائفۃ۔۔ : 1037، بعد ح : 1923۔ ابن ماجہ : 10 ] خَاۗىِٕنَةٍ ’ مصدر ہے بر وزن ”عَافِیَۃٌ“ بمعنی خیانت یعنی ان سے آئے دن کسی نہ کسی خیانت اور بد عہدی کا ظہور ہوتا رہے گا، یا اسم فاعل ہے کہ خیانت کرنے والی جماعت یا شخصیت یعنی ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیانت اور بدعہدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور آپ کو ہرگز ان کی طرف سے امن نصیب نہیں ہوگا۔ ”اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ“ یعنی ان میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو کسی خیانت و بد عہدی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ان سے خاص کر عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی مراد ہیں، یا وہ لوگ جنھوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت اور بد عہدی نہیں کی۔ (کبیر) فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ: یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اور بد عہدیوں سے درگزر کیجیے نہ کہ ان بد عہدیوں سے جو اجتماعی (یا اجتماعی کے حکم میں) ہوں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضح حربی (جو حالت جنگ میں ہوں) قرار پائیں گے، جن کی سرکوبی بہرحال کی جائے گی۔ (المنار) یا یہ کہ جو ان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں، ان کی دوسری لغزشوں سے در گزر فرمائیں۔ (رازی) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی، ورنہ اسے قتال (لڑائی) کے حکم والی آیت سے منسوخ سمجھا جائے گا۔ دیکھیے سورة توبہ (29)۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان کا پختہ عہد لیا، پھر وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی اور عنقریب اللہ انھیں اس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى۔۔ : یعنی ”اللہ کے مدد گار“ چونکہ یہ لوگ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے نصاریٰ سے اقرار لیا، بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں سے اقرار لیا جو اپنے آپ کو ”نصاریٰ“ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح نصاریٰ سے بھی ہم نے توحید اور نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کا عہد لیا مگر انھوں نے بھی اس عہد کو توڑ ڈالا۔ (کبیر، قرطبی) فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ : یعنی ہم نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ان کے درمیان دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی، چناچہ اس وقت بھی ان میں آپس میں مذہبی عداوت پائی جاتی ہے اور پھر خود نصرانیوں کے بھی بہت سے فرقے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ رہا مسلمانوں کے مقابلے میں ان کا ایک ہونا تو وہ مسلمانوں کے ترک جہاد اور کفار کا مسلمانوں کے ممالک سے اپنا اپنا حصہ لینے کے لیے ہے، ورنہ ظاہر میں ایک نظر آنے کے باوجود ان کی باہمی لڑائی ایک یقینی حقیقت ہے، جس کا مطالعہ کر کے مسلمان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى) [ الحشر : 14 ]”تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔“ مگر افسوس اب مسلمانوں میں ایسا اختلاف اور دشمنی پیدا ہوگئی کہ صرف مسلمان نام نے انھیں جمع کر رکھا ہے، باقی کفار ان کے افتراق سے فائدہ اٹھا کر ان پر حکومت کر رہے ہیں۔
Ayahs 5:15–16

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور انھیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا۔۔ : یہود و نصاریٰ کے عہد توڑنے اور حق سے منہ موڑنے کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (کبیر) اس آیت میں آپ ﷺ کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپایا کرتے تھے آپ ﷺ ان کو بیان کرتے ہیں، جیسے رجم کی آیت، سبت والوں کا قصہ جن کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا گیا تھا، اسی طرح رسول کریم ﷺ کی صفات سے متعلق آیات، الغرض ! یہود ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا، جنھوں نے زنا کیا تھا، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : ”تم اپنی کتاب میں اس کے بارے میں کیا حکم پاتے ہو ؟“ انھوں نے کہا : ”ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرے کو سیاہ کرنا اور گدھے پر گشت کروانا تجویز کی ہوئی ہے۔“ عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! ان (کے علماء) کو تورات سمیت بلائیے۔“ چناچہ تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا، عبداللہ بن سلام ؓ نے اس سے کہا : ”اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔“ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے سے رجم کی آیت نکلی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور وہ دونوں سنگسار کردیے گئے۔ [ بخاری، الحدود، باب الرجم فی البلاط : 6819 ] قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْن : نور سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب ہی ہے۔ واؤ عاطفہ دونوں کو الگ الگ بتانے کے لیے نہیں بلکہ تفسیر کے لیے ہے، یعنی کتاب مبین اس نور کی تفسیر ہے، جس کی واضح دلیل ایک تو اس سے بعد والی یہ آیت ہے : (يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ) یعنی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔ اب اس آیت میں اگر نور اور کتاب مبین الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ ”یَہْدِیْ بِہِمَا اللّٰہُ“ (اللہ ان دونوں کے ساتھ ہدایت دیتا ہے) ہوتے۔ دوسری جگہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا : (فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) [ الأعراف : 157 ] ”سو وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ معلوم ہوا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اترنے والی کتاب ہی نور ہے۔ اسی طرح فرمایا : (فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالنُّوْرِ الَّذِيْٓ اَنْزَلْنَا ۭ) [ التغابن : 8 ] ”سو تم اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا۔“ قرآن مجید کے لیے نور کا لفظ سورة نساء اور دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے، فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا) [ النساء : 174 ] ”اے لوگو ! بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ بعض مفسرین نے نور سے مراد رسول اللہ ﷺ اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید لیا ہے۔ اس صورت میں بھی معنی یہ ہوگا کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ ایک روشنی بن کر اور قرآن ایک کتاب مبین بن کر آئے ہیں، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، یعنی آپ ایک تو ہدایت کا نور ہیں، دوسرا ”نُوْرٌ مِنَ اللّٰہِ“ یعنی اللہ کی طرف سے آنے والے نور ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں نہ کہ ”نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ“ یعنی اللہ کے نور میں سے نور کا ایک ٹکڑا ہیں کہ اللہ کا حصہ ہوں یا خود ہی اللہ ہوں۔ یہ تو وہی نصرانیوں والا عقیدہ ہے کہ انھوں نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا بنایا اور ان حضرات نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا ٹکڑا بنادیا۔ سورة اخلاص اس گندے اور شرکیہ عقیدے کی خوب تردید کرتی ہے۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا وہ لوگ کافر ہوگئے جنھوں نے کہا کہ بیشک اللہ مسیح ہی تو ہے، جو مریم کا بیٹا ہے، کہہ دے پھر کون اللہ سے کسی چیز کا مالک ہے، اگر وہ ارادہ کرے کہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور زمین میں جو لوگ ہیں سب کو ہلاک کر دے، اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا۔۔ : یعنی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور مسیح ایک ہی چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پرانے زمانے میں یہ صرف نصرانیوں کے ایک فرقے یعقوبیہ کا عقیدہ تھا، مگر اس زمانے میں نصرانیوں کے جو تین فرقے پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اگرچہ تثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح ؑ کو الٰہ (خدا) ماننا ہے، گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح کے ایک چیز ہونے کے قائل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ (المنار) مسلمانوں میں الحمد للہ توحید الٰہی پر قائم لوگ کثرت سے موجود ہیں، مگر کئی ایسے گمراہ بھی ہیں جنھوں نے صاف کہہ دیا : وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر یہ بعینہ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین ! قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا۔۔ : یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، اگر مسیح ؑ خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کرلیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر، قرطبی) يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ: یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم ؑ کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ۔۔ : اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب لوگ ہیں، چناچہ بائبل میں آج تک اس قسم کے حوالے موجود ہیں : ”خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔“ (خروج : 4: 22) ”تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔“ (استثناء : 14 : 22) اور انجیل میں ہے کہ مسیح ؑ نے نصاریٰ سے کہا : ”میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں۔“ اگرچہ بعض یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ بیٹے سے مراد پیارا اور محبوب ہے، مگر پھر بھی ان کا یہ فخر اور دوسروں پر برتری کا اظہار کہ ہم خاص حق کے مقرب اور اونچے طبقے کے لوگ ہیں، جیسے برہمن وغیرہ کہتے ہیں، بالکل غلط ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں عذاب کیوں دے گا ! کہیں کوئی محب اپنے حبیب کو عذاب دیتا ہے ؟ حالانکہ تم خود اپنی زبان سے اعتراف کرتے ہو کہ ہمیں صرف گنتی کے دن آگ میں ڈالا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان، جس کے سہارے تم جی رہے ہو، سراسر باطل ہے۔ تم تو انسان ہو، اللہ کا تم سے تعلق بس وہی ہے جو خالق کا مخلوق سے اور مالک کا غلام سے ہوتا ہے، وہ جسے چاہے بخش دے، جسے چاہے عذاب دے۔ کوئی کتنا بھی مقرب ہو یا سید یا برہمن یا پیر و مرشد ہو، اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو نہ خود عذاب سے بچ سکتا ہے نہ کسی کو بچا سکتا ہے۔ یہ سب تو خود اس کے حضور پیش ہوں گے اور لرز رہے ہوں گے کہ ہمارا کیا فیصلہ ہوتا ہے، تم اپنی جھوٹی امیدوں سے کیوں اپنی بربادی کر رہے ہو۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوشخبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمہارے پاس ایک خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا۔۔ : یعنی ایک مدت سے رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ منقطع ہوچکا تھا، عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں ابن مریم ؑ کا تمام لوگوں سے زیادہ حق دار یا تمام لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واذکر فی الکتاب مریم) : 3442 ] بقول سلمان فارسی ؓ ان کی بعثت پر بھی 600 سال گزر چکے تھے۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب اسلام سلمان الانصاری : 3948 ] اور کوئی نبی نہیں آیا تھا، پھر آخری نبی رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ کے بعد کوئی رسول نہیں آیا تھا، سو فرمایا کہ تم افسوس کرتے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ تربیت ان کی پاتے، اب بعد مدت تم کو رسول کی صحبت میسر ہوئی، غنیمت جانو اور اللہ قادر ہے، اگر تم قبول نہ کرو گے تو اور خلق کھڑی کر دے گا تم سے بہتر، جیسے موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی قوم نے جہاد کرنا پسند نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو محروم کردیا، اوروں کے ہاتھ سے ملک شام فتح کروا دیا۔ (موضح) فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ: اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد بیان فرمایا ہے، یعنی عرصۂ دراز سے کسی اولو العزم پیغمبر کے نہ آنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام میں تغیر و تبدل اور تحریف ہوچکی تھی اور حق و باطل میں امتیاز نہ تھا تو آپ ﷺ نے ملت ابراہیم کو تغیر و تبدل اور تحریف سے پاک کر کے لوگوں کو حق سے روشناس کرایا تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے اور عذر کی گنجائش نہ رہے۔ (قرطبی)
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنادیا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ : اس آیت کا تعلق (وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ) [ المائدۃ : 12 ] کے ساتھ ہے، یعنی ان سے عہد لیا اور موسیٰ ؑ نے ان انعامات الٰہی کو یاد دلا کر ارض مقدس واپس لینے کے لیے جہاد کا حکم دیا۔ اس وقت وہاں عمالقہ (جبارین) کی حکومت تھی، لیکن بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور عمالقہ کے ساتھ جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ (کبیر) يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے، ایک یہ کہ ان میں جلیل القدر انبیاء مبعوث فرمائے، جیسے اسحاق، یعقوب، یوسف اور موسیٰ ؑ۔ دوسری یہ کہ ان سب (بنی اسرائیل) کو بادشاہ بنادیا، یعنی ان کو فرعون سے آزادی دی اور اپنی حکومت عطا فرمائی۔ معلوم ہوا کہ آزاد اور حاکم قوم کا ہر فرد ہی بادشاہ اور محکوم قوم کا ہر فرد غلام ہوتا ہے۔ تیسری یہ کہ انھیں توحید کا علم بردار بنایا، جبکہ دوسری تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں۔ اس تیسری نعمت میں وہ معجزات بھی شامل ہیں جو بنی اسرائیل کی مدد کے لیے وجود میں آئے، مثلاً سمندر کا پھٹنا، بادل کا سایہ، پتھر سے چشمے کا پھوٹنا، من وسلویٰ وغیرہ۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اس نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔

يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ۔۔ : مراد شام ہے، فلسطین (کنعان) اسی کے ایک علاقے کا نام ہے، کیونکہ یہیں سے بنی اسرائیل مصر گئے تھے اور یہی ان کی آبائی میراث تھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی تھی۔ تورات میں اس وعدے کی صراحتیں موجود ہیں : ”دیکھو میں نے اس ملک کو تمہارے سامنے کردیا ہے، پس جاؤ اور اس ملک کو اپنے قبضہ میں کرلو جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادا ابرہام، اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ اسے ان کو اور ان کے بعد ان کی نسل کو دے گا۔“ (استثناء، باب : 8) موسیٰ ؑ کا بنی اسرائیل سے یہ خطاب اس موقع پر ہے جب وہ مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں خیمہ زن تھے اور ان پر من وسلویٰ اتر رہا تھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بیشک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بیشک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ۔۔ : ایمان کمزور ہونے کی وجہ سے انھوں نے کہا کہ وہاں بڑے زبردست جنگ جو (جبارین) لوگ رہتے ہیں، جن کے مقابلے کی ہم میں طاقت نہیں۔ جب تک وہ لوگ آپ کے معجزے کی بدولت وہاں سے نہ نکل جائیں، ہم ہرگز وہاں داخل نہیں ہوں گے، اگر وہ خود بخود نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہوجائیں گے۔ ”جَبَّارِيْنَ“ سے بڑے ڈیل ڈول والے، بہت اسلحے والے جنگ جو مراد ہیں، مگر جس انداز سے بعض تفسیروں میں ان لوگوں کا نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ سب ایسی اسرائیلی روایات ہیں جنھیں ایک معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا، خصوصاً عوج بن عنق کا افسانہ جس کے متعلق حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ یہ سب من گھڑت افسانے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آدم ؑ کا قد ساٹھ ہاتھ تھا، اس کے بعد سے برابر لوگ گھٹ رہے ہیں۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ : 3326۔ مسلم : 2841 ] پھر عوج بن عنق کا قد تین ہزار تین سو تینتیس (3333) ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے ! ؟ (ابن کثیر)
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہوجاؤ، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔

قَالَ رَجُلٰنِ : اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کا ذکر بطور نکرہ فرمایا ہے اور کسی حدیث میں بھی ان کے ناموں کی صراحت نہیں آئی۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بیشک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جاؤ، پس دونوں لڑو، بیشک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا۔۔ : ان دو آدمیوں نے کہا تھا کہ تم لوگ ان پر حملے کے لیے بس دروازے میں داخل ہوجاؤ، یعنی اللہ کے وعدے اور بشارت کے مطابق تمہارے داخلے کی دیر ہے، دشمن بھاگ جائے گا لیکن انھوں نے حد سے بڑھا ہوا گستاخانہ جملہ کہا : ”جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔“ اس کے برعکس بدر کے موقع پر جنگ کے اچانک سامنے آنے کے باوجود اصحاب رسول ﷺ نے کمال عزم و ہمت اور شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود ؓ نے بدر کے دن عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا : (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ) ہم تو عرض کرتے ہیں کہ آپ چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔“ یہ سن کر ایسے محسوس ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی سب پریشانی دور ہوگئی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (فاذھب أنت وربک فقاتلا) : 4609 ]
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ۔۔ : اس پر موسیٰ ؑ ایسے بددل ہوئے کہ انھوں نے دعا کی کہ پروردگار ! میرے اختیار میں میری جان اور اپنے بھائی کے سوا کچھ نہیں، تو ہمیں ان لوگوں سے علیحدہ کر دے، ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب آئے اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں۔ (کبیر، ابن کثیر) معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم سرکشی اور نافرمانی پر تل جائے تو بڑے بڑے جلیل القدر انبیاء اور مصلحین کی بھی وہاں کچھ پیش نہیں جاتی۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

فرمایا پھر بیشک وہ ان پر چالیس سال حرام کی ہوئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ۔۔ : ”ۚ يَتِيْھُوْنَ“ ”تَاہَ یَتِیْہُ تَیْھًا“ بھٹکتے پھرنا۔ ”اَرْضٌ تِیْہٌ“ وہ زمین جس میں کوئی راستہ نہ ملے۔ (قاموس) اس کے بعد یہ لوگ چالیس سال تک بیابان میں بھٹکتے رہے اور اس کا نام ”صحرائے تیہ“ پڑگیا۔ یہیں پہلے ہارون ؑ کا انتقال ہوا، پھر موسیٰ ؑ بھی وفات پا گئے۔ بعد میں کسی وقت بنی اسرائیل ارض مقدس میں داخل ہوئے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کو قصہ سنایا، اس پر اگر تم پیغمبر ﷺ کی رفاقت نہ کرو گے تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہوگی۔ آگے اس پر قصہ سنایا ہابیل قابیل کا کہ حسد مت کرو، حسد والا مردود ہے۔ (موضح)