5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں۔

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو دوست بنائے جو ایمان لائے ہیں تو یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں۔

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ۔۔ : اوپر کی آیات میں کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اب اس آیت میں ”اِنَّمَا“ کلمۂ حصر کے ساتھ بتایا کہ تمہارے دوست صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں، اس لیے یہود کو مددگار اور دوست نہ بناؤ، بلکہ صرف مومنین کو اپنا مددگار سمجھو۔ (ابن کثیر، کبیر) یہاں ”وَهُمْ رٰكِعُوْنَ“ کے معنی ہیں ”جھکنے والے، عاجزی کرنے والے۔“ چناچہ قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے : (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) [ المؤمنون : 60 ] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں۔“ (کبیر، ثنائی) بعض لوگوں نے ”وَهُمْ رٰكِعُوْن“ کو ”َ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ“ کے فاعل سے حال قرار دے کر یہ ترجمہ کیا ہے ”وہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں“ اور بعض روایات سے ثابت کیا ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ نے رکوع کی حالت میں انگوٹھی صدقہ کی تھی، اس پر ان کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی، مگر یہ سب روایات بہت ضعیف اور کمزور ہیں۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے ان روایات پر سخت تنقید کی ہے اور ان کو بےاصل قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان روایات سے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرنا زکوٰۃ دینے کی افضل ترین صورت ہے، مگر آج تک کسی عالم نے یہ فتویٰ نہیں دیا۔ (ابن کثیر، المنار) پس صحیح یہ ہے کہ آیت عام مومنین کے حق میں نازل ہوئی ہے اور عبادہ بن صامت ؓ اور ان کے رفقاء اس آیت کے اولین مصداق ہیں۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین سے پوچھا گیا کہ ”وَلِيُّكُمُ“ سے مراد علی ؓ ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ علی ؓ بھی ان مومنوں میں سے ایک ہیں، یعنی یہ آیت سب مومنوں کے حق میں ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ یہاں جو صفات مذکور ہیں کہ ”وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں“ ان سے کیا مقصد ہے ؟ تو ہم کہتے ہیں کہ اس سے منافقین پر طنز مقصود ہے جو ان صفات سے خالی تھے۔ (رازی) شیعہ حضرات ان دو آیات سے علی ؓ کی امامت بلا فصل ثابت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسی وقت علی ؓ خلیفہ تھے۔ ان کے استدلال کا مدار تو اس بات پر ہے کہ یہ آیت خاص کر علی ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے، مگر ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ آیت سب مومنوں کے حق میں نازل ہوئی ہے اور علی ؓ بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں تو پھر صرف علی ؓ کیسے مراد ہوسکتے ہیں ؟ اور پھر جب آیت کے نزول کے ساتھ ہی علی ؓ کی ولایت ثابت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد تک اس کو ملتوی رکھنا بےمعنی ہے، نیز ولی کے معنی دوست اور مدد گار کے بھی آتے ہیں اور والی اور متصرف (حاکم) کے بھی۔ آیت کا سیاق وسباق (اس کے الفاظ اور اس سے پہلے والی آیات کے الفاظ) پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں تو سیاق کے قرینہ کے خلاف دوسرے معنی لینے کے لیے کون سی وجہ جواز ہوسکتی ہے ؟ امام رازی ؓ نے آٹھ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آیت میں ولی کے پہلے معنی مراد ہیں، دوسرے معنی دلائل کے خلاف ہیں۔ (کبیر)
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان لوگوں کو جنھوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ : اوپر کی آیات میں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا، اب یہاں تمام کفار کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اس آیت کی رو سے ان بےدین لوگوں اور اہل بدعت سے دلی دوستی رکھنا بھی جائز نہیں جنھوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے، کبھی داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، کبھی مسنون لباس کا اور کبھی اللہ تعالیٰ کی حدود کا۔ اسی طرح سنت کے مطابق نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو شخص پیدائش، نکاح اور موت کے وقت کفار خصوصاً ہندوؤں کی رسموں میں ان کا ساتھ نہ دے، اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہے جو اہل کتاب اور کفار میں پایا جاتا ہے تو ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہل کتاب اور کفار کا ہے۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کی طرف آواز دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔

وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ“ کا معنی ہے جب تم آواز دیتے ہو، تو اس سے مراد نماز کے لیے اذان ہے یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں، شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) شیطان کو بھی اذان کی آواز برداشت نہیں، حدیث میں ہے : ”شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے (کہ اذان اس کے کانوں میں نہ پڑے) ، پھر واپس آجاتا ہے، اقامت کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔“ [ بخاری، الأذان، باب فضل التأذین : 608 ] 3 نماز کے لیے آواز دینے کا ذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں دوسرا سورة جمعہ میں۔ اسی ندا کو اذان کہتے ہیں، مگر پورے قرآن میں نہ اذان کا طریقہ بیان ہوا، نہ اس کے کلمات اور نہ اس کے اوقات۔ یہ آواز کیسے دی جائے، اس کے لیے حدیث رسول سے رہنمائی لینا ہوگی۔ معلوم ہوا حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن ہی نہیں۔ (اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ) [ النساء : 59 ] اور (اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ) [ آل عمران : 31 ] کے تحت قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل بھی واجب ہے، اسی لیے اہل علم نے منکرین حدیث پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ : یعنی اگر ان میں کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواز سن کر ان کے دل نرم پڑجاتے، وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے، یا کم از کم مسلمانوں سے دینی اختلاف رکھنے کے باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکتیں نہ کرتے۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہہ دے اے اہل کتاب ! تم ہم سے اس کے سوا کس چیز کا انتقام لیتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے نازل کیا گیا اور یہ کہ بیشک تمہارے اکثر نافرمان ہیں۔

وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ: یعنی پہلی کتابوں پر، جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ ہمارا ایمان انھی چیزوں پر ہے جنھیں تم بھی صحیح مانتے ہو، پھر تم ہم سے کس بات کا انتقام لیتے ہو اور ہمارا کیا عیب ہے جس کی وجہ سے تم ہم سے دشمنی رکھتے ہو ؟ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ : اصل بات یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق (نا فرمان) اور بدکار ہیں اور تمہاری ساری مذہبی اجارہ داری گروہی تعصب اور غلط قسم کی روایات پر قائم ہے، اس لیے تم اپنے سوا کسی دوسرے میں کوئی اچھی بات دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ فاسق کی تو روایت ہی قابل قبول نہیں، کیونکہ اسے جھوٹ سے کوئی پرہیز نہیں ہوتا، اس لیے اسلام کے خلاف تمہاری تمام روایات و حرکات بےوقعت ہیں۔ قرآن مجید کا انصاف ملاحظہ فرمائیے کہ شدید غضب کے باوجود ان سب کو نہیں بلکہ اکثر کو فاسق کہا ہے۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہہ دے کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ : یعنی تمہارے گمان میں ہم برے ہیں، اس لیے تم ہم پر عیب لگاتے ہو اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان پہلوں کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرأت کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہوا اور ہونے والا ہے، جس کا تم ہمارے بارے میں دعویٰ کرتے ہو۔ یہ لوگ تمہارے ہی آباء و اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے، ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کر کے انھیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور جو شیطان کی اطاعت میں اس حد تک نکل گئے کہ انھوں نے طاغوت کی عبادت شروع کردی، جیسے سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، جو دراصل شیطان ہی کی پوجا تھی۔ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْل : یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو، لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمہارے باپ دادا یقیناً گمراہ تھے اور ان کا انجام اللہ کے ہاں بہت برا ہوگا۔
Ayahs 5:61–62

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ یقینا وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور یقینا اسی کے ساتھ وہ نکل گئے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ گناہ اور زیادتی اور اپنی حرام خوری میں دوڑ کر جاتے ہیں۔ یقینا برا ہے جو وہ عمل کرتے تھے۔

وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا۔۔ : اس سے یہود کے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے۔ (کبیر) وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ : یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق بہت زیادہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے۔ ورنہ اگر وہ تمہارے پاس دل میں کفر لے کر نہ آئے ہوتے تو ان پر نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مجلس کا کچھ اثر تو ضرور ہوتا اور کفر میں کچھ کمی ہوتی، مگر وہ نکلتے وقت بھی اتنا یا اس سے کچھ زیادہ ہی کفر لے کر واپس گئے، جتنا لے کر آئے تھے۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے ؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔

لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ : یعنی جس طرح گناہ کرنا جرم ہے اسی طرح گناہ سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جریر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : ”کوئی بھی شخص جو ایسی قوم میں ہو جن میں معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہو جو اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر اسے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے ان پر کوئی عذاب بھیجے گا۔۔“ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الامر والنہی : 4339 وحسنہ الألبانی ] ان کے علماء اور مشائخ انھیں جھوٹ کہنے اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے، یقیناً ان کے علماء و مشائخ بھی جو کرتے چلے آئے ہیں بہت برا ہے کہ انھیں منع کرنے کے بجائے وہ خود بھی جھوٹ کہہ کر اسلام سے روکتے اور سحت (رشوت اور حرام) کھاتے ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (34)۔
Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، ان کے ہاتھ باندھے گئے اور ان پر لعنت کی گئی، اس کی وجہ سے جو انھوں نے کہا، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے، اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی وہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر واقعی اہل کتاب ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ضرور ان سے ان کے گناہ دور کردیتے اور انھیں ضرور نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں دی کہ کون اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے، حالانکہ وہ مال اللہ تعالیٰ ہی کا تھا، اسی نے دیا تھا اور اسی کے دیے ہوئے میں سے انھوں نے دینا تھا، تو یہودی بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے انداز بیان اور اس کے فضل و کرم پر غور کرتے اور سمجھتے کہ اللہ ہمیں کئی گناہ بڑھا کردینے کے لیے صدقے کی ترغیب دے رہا ہے اور اسے قرض کہہ رہا ہے، کہنے لگے کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، تبھی وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ یہ یہودیوں کی انتہائی خست اور کمینگی تھی، وہی کمینگی اس آیت میں دوسرے الفاظ میں ذکر کی گئی ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، یعنی وہ بخیل ہے، کچھ دیتا نہیں، بلکہ مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاتھ تو انھی کے بندھے ہوئے ہیں اور بخیلی انھی کی صفت ہے اور انھی گستاخیوں اور کمینگیوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں، وہ بےانتہا فضل و کرم کا مالک اور بیحد و حساب عطا فرمانے والا ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے، تمام مخلوق کی ہر حاجت اور ضرورت جو پڑتی یا پڑ سکتی ہے، وہی پوری کرتا ہے، فرمایا : (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) [ إبراہیم : 34 ] ”اور اس نے تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، یقیناً انسان بڑا ظالم بہت نا شکرا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی طرح کا خرچ کرنا اسے کم نہیں کرتا۔ کیا تم نے دیکھا کہ اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے کس قدر خرچ کیا ہے ؟ تو اس سے اس میں کچھ کمی نہیں ہوئی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے۔“ [ بخاری، التوحید، باب : (وکان عرشہ علی الماء) : 7419 ] ایک حدیث میں فرمایا : ”اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔“ [ مسلم، الامارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل۔۔ : 1827 ] اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ موجود ہیں۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ قبضہ، قدرت وغیرہ کرتے ہیں اور ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم اس کے ہاتھ مانیں تو وہ ہمارے جیسا ہوجائے گا، حالانکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان لوگوں کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ تو اس وقت ہوگا جب ہم کہیں کہ اس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ ہیں مگر ہمارے جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، جبکہ اس کے ہاتھوں کے انکار سے کئی احادیث اور قرآن کی آیات کا انکار لازم آتا ہے۔ اب ہم سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا سنتا ہے تو کیا وہ ہمارے جیسا ہوگا ؟ نہیں، بلکہ اس کا سننا اور دیکھنا ہماری طرح نہیں، بلکہ ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح اللہ بھی موجود ہے ہم بھی موجود ہیں، تو کیا وہ بھی ہماری مثل ہوجائے گا ؟ نتیجہ تو یہی نکلا کہ مشابہت ثابت ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ [ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] نہیں، بلکہ وہ موجود ہے، سمیع وبصیر ہے، اس کا چہرہ، اس کی آنکھیں، اس کا سمع و بصر اور اس کا وجود سب کچھ قرآن سے ثابت ہے اور ماننا لازم ہے، مگر وہ وجود اور سمع و بصر اور ہاتھ ہمارے یا کسی مخلوق جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کے لائق ہیں۔ اللہ کی ذات بھی بےمثل ہے، اس کی صفات بھی بےمثل ہیں۔ کئی ایسے بھی بےنصیب ہیں جو اسی شبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے اور قیامت کے دن زمین پر آنے کا صاف انکار کر کے اپنے ڈھکوسلے سے بنایا ہوا کوئی معنی کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا۔۔ : یعنی یہ لوگ اگر ہدایت کے طلب گار ہوتے تو آپ پر نازل ہونے والی ہر آیت و حدیث سے صحابہ کے ایمان کی طرح ان کے ایمان میں اضافہ اور ترقی ہوتی، مگر چونکہ ان کے دل بغض و عناد، ضد اور حسد سے بھرے ہوئے ہیں، اس لیے تیرے رب کی طرف سے جو کچھ بھی تجھ پر نازل ہوگا وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر ہی میں اضافہ کرے گا، اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ان کی سرکشی اور کفر بڑھتا جاتا۔ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ۔۔ : یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور بغض اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ قیامت تک آپس میں ایک نہیں ہوسکتے، بلکہ وہ بہت سے فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اسی لعنت کا اثر ہے کہ دنیا میں امن و سلامتی کی کوششوں کے بجائے وہ دنیا میں کہیں نہ کہیں لڑائی کی آگ بھڑکائے رکھتے ہیں، مگر وہ جب بھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں فساد پھیلانے کی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے موجودہ حالات جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح ہر لڑائی کے پیچھے یہودیوں کا خفیہ ہاتھ ہوتا ہے، یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ وہ ان کے منصوبے پورے نہیں ہونے دیتا۔ افسوس ! اب مسلمانوں کے اکثر علماء و عوام کا بھی تقریباً یہی حال ہے کہ انھوں نے اللہ کے دین پر عمل چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے اسلام کے کسی نہ کسی حکم سے انکار یا اس کی گستاخی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ یہودیانہ خصلت ہے جس کی وجہ سے مسلمان ملکوں کے مالک ہو کر بھی کفار کے محکوم ہیں اور ان برکات سے محروم ہیں جو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور برائیوں کو روکنے کے لیے جہاد کرنے کی صورت میں انھیں حاصل ہوتیں۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ واقعی تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے تو یقینا وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔

وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ : تورات و انجیل کی پابندی کرنے کا مطلب دوسرے احکام و حدود کی پابندی کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی ہے، کیونکہ دونوں کتابوں میں اس کا حکم موجود ہے۔ ”وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِم“ سے مراد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن اور آپ کی سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اہل کتاب میں سے ہو، اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اور پھر محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے تو اس کے لیے دگنا ثواب ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ و أھلہ : 97 ] لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭ: یعنی آسمان بابرکت بارشیں برساتا، زمین سے کھیتی اور دوسرے خزانوں کی فراوانی ہوجاتی اور انھیں روزی کمانے کے سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا، جیسا کہ سورة اعراف میں صرف اہل کتاب ہی نہیں ہر قوم اور آبادی کے لیے ایمان اور تقویٰ کی صورت میں یہی بشارت دی گئی ہے، فرمایا : (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ) [ الأعراف : 96 ] ”اور اگر واقعی بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے۔“ اب مسلمان بھی اگر یہ نعمت حاصل کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ ایمان اور تقویٰ ہے، کفار سے بھیک مانگنا اور ان کے کفریہ طریقے اختیار کرنا نہیں۔ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ: یعنی افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر در میانے راستے پر چلنے والے ہیں۔ ان سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ : اس سے مراد بقیہ یہودی ہیں جو ایمان نہیں لائے۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ بیشک اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ بھی چھپالیا، یا پہنچانے میں سستی کی تو گویا سرے سے اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، خصوصاً یہود و نصاریٰ سے متعلق اعلانات۔ اس آیت میں ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن کی بعض آیات مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں، بلکہ صرف علی ؓ اور اہل بیت کو بتائیں۔ خود علی ؓ نے ان کے اس باطل عقیدے کی تردید فرمائی، چناچہ ابو جحیفہ ؓ نے علی ؓ سے پوچھا : ”کیا آپ (اہل بیت) کے پاس کوئی اور کتاب ہے ؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”نہیں، مگر اللہ کی کتاب یا کتاب اللہ کی وہ سمجھ ہے جو کسی مسلمان آدمی کو عطا کی جائے، یا جو اس صحیفے میں ہے۔“ میں نے پوچھا : ”اس صحیفے میں کیا ہے ؟“ فرمایا : ”دیت اور قیدیوں کو چھڑانے سے متعلق احادیث اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“ [ بخاری، العلم، باب کتابۃ العلم : 111 ] عائشہ ؓ فرماتی ہیں : جو شخص یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اس میں سے کوئی چیز چھپالی تھی جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تو یقیناً اس نے جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ)”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (یأیھا الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربک) : 4612 ] جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (حجۃ الوداع کے دن) اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا : ”تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے ؟“ صحابہ کرام ؓ نے کہا : ”ہم سب یہ گواہی دیں گے کہ بیشک آپ نے پیغام رسالت کو پہنچا دیا اور (پہنچانے کا) حق ادا کردیا اور یہ کہ آپ نے خیر خواہی فرمائی۔“ اس پر آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور صحابہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ”اے اللہ ! تو گواہ ہوجا، اے اللہ ! تو گواہ ہوجا۔“ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی : 1218۔ بخاری : 1741 ] وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭ: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاص حفاظت میں لے لیا اور فرمایا کہ تم میرا پیغام پہنچاؤ، میں خود تمہیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا پہرا دیا جاتا تھا، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ سو نہیں رہے تھے، میں بھی آپ کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی، میں نے عرض کی : ”اے اللہ کے رسول ! کیا بات ہے ؟“ آپ نے فرمایا : ”کاش ! کوئی نیک آدمی میرا پہرا دیتا۔“ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ”کون ہے ؟“ آنے والے نے کہا : ”سعد بن ابی وقاص ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کیسے آنا ہوا ؟“ انھوں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! میں آیا ہوں کہ (آج رات) آپ کا پہرا دوں۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”اس کے بعد رسول اللہ ﷺ آرام سے سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللہ : 2885۔ مسلم : 2410 ] عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے لیے پہرے کا انتظام کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب یہ آیت اتری : (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) تو آپ نے خیمے سے سر نکال کر فرمایا : ”لوگو ! تم چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ مجھے (دشمن سے) بچائے گا۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المائدۃ : 3046 ] اس کی ایک مثال وہ اعرابی بھی ہے جس نے نبی ﷺ کے سوتے ہوئے آپ کی تلوار پکڑ کر کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ”اللہ !“ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ (کبیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی اگرچہ وہ دشمن ہوں تم بےفکر یہ پیغام پہنچاؤ اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو فکر نہ کرو۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہہ دے اے اہل کتاب ! تم کسی چیز پر نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم کرو اور اس کو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کیا گیا اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، سو تو کافر لوگوں پر غم نہ کر۔

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ۔۔ : تورات و انجیل قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے لیے گئے ان کو پورا کریں اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر ایمان لانے کے جو دلائل ان کتابوں میں موجود ہیں ان کے مطابق آپ کی نبوت کا اقرار کریں اور تورات و انجیل کے احکام و حدود پر عمل پیرا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہیں کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دین داری۔ (ابن کثیر) یہی بات مسلمانوں پر صادق آتی ہے کہ اگر وہ قرآن پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو نہ ان کی کچھ حیثیت ہوگی نہ کوئی دین داری۔ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (64، کا حاشیہ (3)۔ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ : اس لیے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کا وبال خود بھگت کر رہیں گے۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ ، جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیات میں بتایا کہ اہل کتاب جب تک ایمان لا کر عمل صالح نہ کریں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں فرمایا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں سب مسلم و غیر مسلم لوگوں کا یہی حکم ہے۔ اس آیت میں لفظ ”اَلصَّابِءُوْنَ“ بظاہر تو منصوب ہونا چاہیے تھا مگر سیبویہ اور خلیل نے لکھا ہے کہ یہ ”مَرْفُوْعٌ بالْاِبْتِدَاءِ عَلٰٰی نِیَّۃِ التَّأْخِیْرِ“ ہے، یعنی یہ لفظ ”الصّٰبِـُٔــوْنَ“ اصل میں ”وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“ کے بعد ہونے کی نیت سے مبتدا ہے اور اس کی خبر ”کَذٰلِکَ“ ہے، یعنی ”الصّٰبِـُٔــوْنَ“ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس کے مؤخر لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ دراصل یہ سب فرقوں سے زیادہ گمراہ فرقہ ہے۔ اس لیے ان کا علیحدہ بیان ہوا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان فرقوں میں سے جو بھی ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، حتیٰ کہ اگر صابی بھی ایمان لے آئیں تو ان کو بھی یہ رعایت مل سکتی ہے۔ (کبیر) ”اَلصَّابِءِیْنَ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (62) کے حواشی۔ آپ ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد آپ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے، گویا اس آیت میں ”آمن باللہ“ سے مراد مسلمان ہونا ہے، یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں ان میں جو بھی آسمانی دین تھا اس پر ایمان لا کر عمل کرنے والے مراد ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد کوئی شخص کتنا بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر آپ ﷺ کی آمد سے مطلع ہونے کے باوجود کلمہ نہیں پڑھتا تو وہ جہنمی ہے۔ ”اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو صرف زبان سے ایمان لائے دل سے نہیں، یعنی منافق، ان میں سے جو دل سے ایمان لا کر عمل صالح کرے گا، یا سب مسلمان مراد ہیں کہ اگر وہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کریں گے تو خوف اور حزن سے بچیں گے۔ صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، عمل صالح بھی ضروری ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (62)۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ چیز لے کر آیا جسے ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو انھوں نے ایک گروہ کو جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔۔ : اس سے مقصود بنی اسرائیل کی سرکشی اور وعدہ پورا نہ کرنے کا بیان ہے، گویا اس کا تعلق ابتدائے سورت ”اَوفُو بالعُقُودِ“ سے ہے، یعنی ہم نے ان سے عہد لیا کہ توحید و شریعت پر قائم رہیں گے اور جو رسول ان کی طرف بھیجے جائیں گے ان کی بات سنیں گے اور مانیں گے۔ اس میثاق کا ذکر اس سورت کی آیت (12) اور سورة بقرہ کی آیت (83 تا 85) میں ہے۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انھوں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ واقع نہ ہوگا تو وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر اللہ ان پر مہربان ہوگیا، پھر ان میں بہت سے اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ“ فِتْنَةٌ کے اصل معنی آزمائش کے ہیں، مطلب یہ کہ انھوں نے سمجھا کہ ہم کیسے ہی گناہ کرلیں، خواہ انبیاء تک کو قتل کریں، چونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں، اس لیے دنیا میں کسی قسم کی بدبختی و نحوست یا غلبۂ دشمن قسم کی کوئی بلا ہم پر نازل نہیں ہوگی۔ (کبیر) فَعَمُوْا وَصَمُّوْا : مگر حق سے اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے ان پر بلا نازل ہوئی۔ پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا جس نے ان کی مسجد اقصیٰ کو جلا ڈالا، ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی و غلام بنا کر بابل لے گیا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (4 تا 8)۔ ثُمَّ تَاب اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں بخت نصر کی غلامی سے نجات دی اور انھوں نے اپنی حالت سدھاری اور کچھ عرصہ کے لیے ٹھیک رہے۔ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ۔۔ : یعنی پھر دوبارہ پہلے جیسی سرکشی پر اتر آئے، یہاں تک کہ انھوں نے زکریا اور یحییٰ ؑ جیسے جلیل القدر انبیاء کو قتل کر ڈالا اور عیسیٰ ؑ سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، بلکہ انھیں بھی قتل کرنے کے درپے ہوئے۔ بعض نے گمراہی کے پہلے دور کو زکریا اور یحییٰ ؑ کے زمانے کے ساتھ خاص کیا ہے اور دوسرے دور کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے ساتھ اور یہاں ”كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ“ میں اشارہ ہے کہ ان میں سے بعض حق پرست مسلمان ہوگئے تھے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے رفقاء۔ اور ہوسکتا ہے کہ : (لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ) [ بنی إسرائیل : 4 ] (بےشک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے) سے ان دونوں ادوار کی طرف اشارہ ہو۔ (کبیر) (وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ) اس سے مقصود انھیں اللہ اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بلا شبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بیشک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے، اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمہارا رب ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ : اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (17)۔ یہود کے بعد اب نصاریٰ کی گمراہیوں کا بیان اور انھیں سزا سے ڈرانے کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (کبیر) ان لوگوں سے نصرانیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔ اللہ اور مسیح ؑ کو ایک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکیدی الفاظ ”لقد“ (بلاشبہ، یقینا) کے ساتھ کافر قرار دیا۔ مسلمان کہلانے والوں میں بھی کئی لوگ یہ کہنے والے ہیں کہ ”احد“ اور ”احمد“ میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہیں، اللہ تعالیٰ بشری جامہ پہن کر آگیا، پھر کئی اپنے بزرگوں کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ عبادت کرتے کرتے اللہ میں فنا ہو کر ایک ہوگئے اور بعض ان کے متعلق کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں اتر آیا۔ پہلا عقیدہ اتحاد اور دوسرا حلول کہلاتا ہے۔ اگر مسیح کو عین اللہ تعالیٰ ، یعنی مسیح ؑ اور اللہ تعالیٰ کو ایک کہنے والے کافر ہیں تو یہ نام نہاد مسلمان کیوں کافر نہیں ؟ معلوم ہوا حلول اور اتحاد کا عقیدہ واضح کفر ہے، جسے بعض ملحد لوگوں نے تصوف کے پردے میں معرفت قرار دے رکھا ہے۔ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ حالانکہ مسیح ؑ نے اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کا بندہ کہا، جب پیدا ہوئے تو دنیا میں آنے کے بعد بچپن ہی میں ان کی زبان سے یہی نکلا : (اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ) [ مریم : 30 ] ”یقیناً میں اللہ کا بندہ ہوں۔“ اور لوگوں کو بھی اسی وقت فرمایا : (وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ) [ مریم : 36 ] ”یقیناً اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔“ جوانی میں بھی یہی فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ) [ الزخرف : 64 ] ”بیشک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو۔“ نیز مسیح ؑ کا یہ قول آج بھی انجیل یوحنا، باب (7) میں موجود ہے : ”یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الٰہ کو اور اس یسوع مسیح کو پہچانیں جسے تونے رسول بنا کر بھیجا۔“ (المنار) اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ۔۔ : یعنی اتحاد، حلول یا شرک کی کسی قسم کا عقیدہ و عمل رکھنے والوں پر جنت حرام اور جہنم واجب ہے۔ ”مِنْ اَنْصَارٍ“ میں ”انصار“ جمع اس لیے لائے ہیں کہ مشرک لوگوں نے کئی ہستیوں کے متعلق گمان کر رکھا ہے کہ وہ ہمیں جہنم سے بچا لیں گی۔
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بیشک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے والے بھی کافر ہوگئے، جبکہ معبود تو ایک ہی ہے، اب خواہ وہ تین اقانیم، باپ، بیٹا اور روح القدس کو الگ الگ خدا قرار دیں یا کہیں کہ یہ تین الگ الگ نہیں بلکہ مل کر ایک ہی خدا ہیں، بہر حال یہ عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کافر قرار دیا۔ پھر نیکی کا لبادہ اوڑھ کر شرک پھیلانے والے وہ ظالم جو یہ کہیں کہ ہر چیز ہی خدا ہے اور اسے وحدت الوجود کا نام یا کوئی اور نام دیں، ان کے کافر ہونے میں بھی کیا شک ہے، بلکہ اس عقیدے سے تو قرآن و سنت اور اسلام کی ہر بات اور ہر حکم ہی باطل ٹھہرتا ہے کہ حکم دینے والا بھی وہی ہے اور جسے حکم دیا گیا وہ بھی وہی ہے، جنت و دوزخ بھی اور ان میں جانے والے بھی سب ایک ہی ہیں۔ غرض یہ عقیدہ اسلام کی جڑ اکھاڑ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، پھر کیسی توحید اور کہاں کی نماز، غرض سب کچھ ایک ہے تو دین کی کون سی چیز باقی رہے گی۔ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا۔۔ : یعنی اگر وہ اللہ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے سے باز نہ آئیں اور خالص توحید اختیار نہ کریں، جس کی طرف انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے۔
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو کیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ۔۔ : یہ بظاہر سوال ہے مگر اصل میں امر (حکم دینے) کی ایک صورت ہے۔ (کبیر) یعنی ان کا یہ جرم انتہائی سنگین اور صریحاً شرک کی حد تک پہنچا ہوا ہے، تاہم اگر توبہ کرلیں تو ان کا یہ قصور معاف ہوسکتا ہے۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، یقینا اس سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے اور اس کی ماں صدیقہ ہے، دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ ان کے لیے ہم کس طرح کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، پھر دیکھ کس طرح پھیرے جاتے ہیں۔

مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ۔۔ : مسیح ؑ ایک رسول کے سوا کچھ نہیں، یعنی تم جو کچھ کہتے ہو خدا یا خدا کا بیٹا، وہ ہرگز نہیں، وہ تو صرف اللہ کا رسول ہے۔ اسے قصرا ضافی کہتے ہیں۔ اس میں یہود کی تردید بھی ہوگئی جو معاذ اللہ مریم اور مسیح ؑ کے متعلق گستاخی کا ارتکاب کرتے رہتے تھے۔ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ : یعنی بندگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں، جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے، یعنی نہایت سچی اور اللہ اور اس کے رسولوں کی بہت تصدیق کرنے والی تھیں۔ دیکھیے سورة تحریم (12) اور سورة نساء (69) وہ نبی نہیں تھیں، جیسا کہ ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے، کیونکہ انبیاء رجال (مردوں) ہی سے ہوئے ہیں۔ دیکھیے یوسف (109) ، نحل (43) اور انبیاء (7) ابو الحسن اشعری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر) بھلا ایک عورت، خواہ کتنی شان والی ہو، تین خداؤں میں سے ایک بن گئی ؟ كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ : یعنی وہ دونوں عام انسانوں جیسے انسان تھے، ان میں وہ تمام بشری خصوصیتیں اور ضروریات پائی جاتی تھیں جو دوسرے انسانوں میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کلام نہایت ہی نفیس اور بلیغ ہے۔ کھانا کھانے کا لازمی نتیجہ قضائے حاجت ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا، صرف یہ کہہ دیا کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ اب کھانا کھانے سے جتنی چیزوں کا انسان محتاج ہوتا ہے ان کے ہوتے ہوئے اسے خدا یا اس کی بیوی یا اس کا بیٹا قرار دینا کتنی بڑی جہالت اور ظلم ہے۔ جو خود محتاج ہو وہ دوسروں کی حاجت کیا پوری کرے گا ! ؟ اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ۔۔ : یعنی توحید کے اتنے صاف بیان اور تثلیث کی اتنی واضح تردید کے باوجود وہ اپنے گروہی تعصب کی بنا پر اپنے غلط عقیدے سے چمٹے رہیں تو چمٹے رہیں، ورنہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے پاس نہیں ہے جس کے بودے پن کو ”دو اور دو چار“ کی طرح واضح نہ کردیا گیا ہو۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ۔۔ : یہ نصاریٰ کے عقیدے کی تردید پر دوسری دلیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت (معبود ہونے) کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع پہنچانا یا نقصان سے بچانا تو کجا وہ تو خود اپنے سے دشمنوں کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ! مجھ سے مصیبت کا یہ وقت ٹال دے۔ پھر اس کے بعد اگر اس سمیع وعلیم کو چھوڑ کر عیسیٰ ؑ کو اپنا معبود بناؤ تو اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہوگی۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہہ دے اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہوچکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ (کبیر) نصاریٰ نے مسیح ؑ کے معاملہ میں غلو کیا اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا تھا (دیکھیے زخرف : 59۔ مومنون : (50) اسے معبود کے مقام پر کھڑا کردیا۔ دوسری طرف یہودیوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا، ان سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، ان پر اور ان کی والدہ پر تہمت طرازی کی اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، بلکہ بقول یہود و نصاریٰ یہود نے مسیح ؑ کو سولی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ (کبیر، ابن کثیر) حقیقت یہ ہے کہ دین میں جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آئی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بار بار نصیحت فرمائی : ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم ؑ کو حد سے بڑھا دیا تھا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لیے تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب : (واذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3445 ] مگر مسلمانوں نے بھی اس قدر غلو کیا کہ اپنے ائمہ کو نبی کا درجہ دے کر ان کی بےدلیل بات پر عمل کو بھی واجب قرار دیا اور جو ایسا نہ کرے اسے لامذہب قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ میں اللہ تعالیٰ والی صفات ہونے کا عقیدہ اپنا لیا کہ وہ بھی ہر بات سنتے اور جانتے ہیں اور کائنات میں ان کا حکم بھی چلتا ہے۔ بعض نے اللہ اور رسول کو ایک ہی ذات قرار دیا، اگر کوئی ان کی تردید کرے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء کو، نبی کو اور اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے، حالانکہ ہم اللہ کو اپنا معبود اور نبی ﷺ کو اپنا رسول اور اولیاء کو اللہ کے مقرب بندے مانتے ہیں، مگر اولیاء کو نبی نہیں مانتے اور رسول کو اللہ تعالیٰ نہیں مانتے۔ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ۔۔ : پہلے فرمایا : (قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ) (اس سے پہلے گمراہ ہوچکے) آخر میں پھر فرمایا : (وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ) (اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے) گو یہ دونوں جملے بظاہر ایک ہی ہیں، مگر علماء نے لکھا ہے کہ اول سے مراد یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے ”ضلوا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی اور دوسری سے مراد عمل کی گمراہی ہو۔ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت چلو جنھوں نے کسی نبی (مثلاً عزیر یا عیسیٰ ؑ کو الٰہ بنایا، کسی نبی (مثلاً داؤد، مسیح، ان کی والدہ اور لوط) پر زنا وغیرہ کی تہمتیں لگائیں اور کسی کو قتل کردیا، ان کاموں کے ساتھ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور آخر وقت تک سیدھے راستے پر نہیں آئے۔ ”ان کے پیچھے مت چلو“ سے معلوم ہوا کہ یہ گمراہیاں ان میں پہلے لوگوں کی تقلید کی وجہ سے آئی تھیں، تم یہ کام مت کرنا۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

وہ لوگ جنھوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا، ان پر داؤد اور مسیح ابن مریم کی زبان پر لعنت کی گئی۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔

لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔۔ : اسرائیلیوں کا یہ کفر اپنے اپنے پیغمبروں کے مقابلے میں تھا، چناچہ داؤد ؑ کے زمانے میں انھوں نے قانون ”سبت“ کو توڑا اور عیسیٰ ؑ کے زمانے میں معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی نبوت سے انکار کردیا۔ داؤد ؑ کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے زبور (78 : 21، 22، 23) اور مسیح ؑ کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے انجیل متی (23 : 31، 32) لعنت کا معنی اللہ کی رحمت اور بھلائی سے دوری ہے۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

وہ ایک دوسرے کو کسی برائی سے، جو انھوں نے کی ہوتی، روکتے نہ تھے، بیشک برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔

كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَر ”لَا يَتَنَاهَوْنَ“ باب تفاعل سے ہے، اس کا معنی باز آنا بھی ہے اور ایک دوسرے کو منع کرنا بھی۔ یہاں پچھلی آیت میں مذکور ان کی نافرمانی اور حد سے گزرنے کی تفسیر ہے کہ ایک تو وہ جب کوئی برا کام کرتے اس پر ڈٹ جاتے، باز ہی نہیں آتے تھے، یعنی گناہ پر ندامت کے بجائے اس پر اصرار کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہیں کرتے تھے، ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کام کر رہے ہیں تو کرتے رہیں، ان کا وبال خود ان پر ہوگا، ہم تو اپنی جگہ نیک ہیں، حالانکہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو اور دل سے نفرت بھی نہ ہو تو ایمان کا آخری درجہ، یعنی کمزور ترین ایمان بھی نہیں رہتا۔ ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر یہ طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کے ساتھ، اگر یہ بھی نہ ہو تو دل کے ساتھ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون النہی عن المنکر عن الایمان۔۔ : 49 ] حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے ہاں سے عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“ [ أحمد : 5؍388، ح : 23363۔ ترمذی، : 2169، وحسنہ الترمذی والألبانی ]
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ یقینا برا ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان پر غصے ہوگیا اور عذاب ہی میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ۔۔ : یعنی ان کے پہلے لوگوں کی وہ حالت تھی اور اب جو موجود ہیں ان کی یہ حالت ہے۔ (کبیر) جیسے کعب بن اشرف اور مدینہ کے یہودی قبائل کے دوسرے افراد، جو مسلمانوں کی دشمنی میں مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے منافقین سے دوستی رکھتے تھے۔ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ۔۔ : یعنی کفار (مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ) سے دوستی قائم کر کے اہل کتاب نے مسلمانوں کے خلاف جو تیاری کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر اللہ کا غضب ہوا اور آخرت میں بھی وہ دائمی عذاب کے مستحق قرار پائے۔
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ اور نبی پر اور اس پر ایمان رکھتے ہوتے جو اس کی طرف نازل کیا گیا ہے تو انھیں دوست نہ بناتے اور لیکن ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ۔ : یعنی اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ ؑ پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً۔۔ : اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کردینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں پر یہودیت غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ ؑ کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بےرغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے (لاَ رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ) فرما کر اسے ممنوع قرار دے دیا۔ رہبانیت بیشک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہوگئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب وہ سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے تو تو دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ رہی ہوتی ہیں، اس وجہ سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔

وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ۔۔ : مفسرین کے بیان کے مطابق ان سے مراد نصاریٰ کے وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، سلمان ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ”سلمان ! یہ کیا ہے ؟“ میں نے کہا : ”صدقہ ہے۔“ تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کھاؤ اور خود نہیں کھایا۔ چناچہ میں واپس آگیا، پھر کچھ کھانا اکٹھا کیا اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : ”سلمان ! یہ کیا ہے ؟“ میں نے کہا : ”ہدیہ ہے۔“ تو آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا اور کھایا اور (ساتھ ہی) اپنے ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ کھاؤ۔ میں نے کہا : ”آپ مجھے نصاریٰ کے متعلق بتائیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔“ میں بوجھل دل کے ساتھ اٹھ آیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں : (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ۔۔ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ) تو رسول اللہ ﷺ نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھے فرمایا : ”سلمان ! یہ (آنسوؤں والے) تیرے وہ ساتھی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔“ [ المعجم الکبیر : 6؍49، ح : 6121 ] سلیم الہلالی اور ان کے ساتھی نے اس حدیث کو ”کتاب الاستیعاب فی بیان الاسباب“ میں صحیح کہا ہے۔ ان لوگوں میں نجاشی ؓ اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں کہ جب مکہ میں مسلمان ہونے والے صحابہ ہجرت کر کے نجاشی کے ملک حبشہ میں گئے اور انھیں کفار مکہ کے سفیروں کی شکایت پر بادشاہ کے دربار میں بلایا گیا تو جعفر ؓ نے اس کے سامنے تقریر کی اور اس میں سورة مریم کی تلاوت کی، جس میں مسیح ؑ اور ان کی والدہ کا ذکر ہے، تو نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور نجاشی ؓ مسلمان ہوگئے، اگرچہ وہ مدینہ نہیں جاسکے مگر ان کی وفات پر رسول اللہ ﷺ نے ان کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اس کے علاوہ ایسے مسلمان ہونے والے نصاریٰ کا ذکر دوسرے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (199) اور سورة قصص (52 تا 55) اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے دوہرے اجر کی بشارت دی۔ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ : 97 ] فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ : یعنی ہمیں آپ ﷺ کی امت میں داخل فرما کر ان کی طرح شہادت دینے والوں میں شامل فرما۔ امت محمد ﷺ کی شہادت سے متعلق دیکھیں سورة بقرہ (143) یا یہ کہ انبیاء اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں، ان کی جماعت میں شامل فرما۔
Ayahs 5:84–86

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرلے گا۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو اللہ نے اس کے بدلے میں جو انھوں نے کہا، انھیں ایسے باغات دیے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی لوگ بھڑکتی آگ والے ہیں۔

مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں ”وَنَطْمَعُ“ کا عطف ”لَا نُؤْمِنُ“ پر ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”نَطْمَعُ“ کا جملہ ”لَا نُؤْمِنُ ‘ کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔