Ayah 5:87لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ۔ : عہد توڑنے کے سلسلہ میں یہود و نصاریٰ سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر توجہ کی ہے، یعنی ”اَوفُو بالعقُودِ“ کی تشریح جو اس سورت کا بنیادی موضوع ہے۔ (قرطبی، رازی) نصاریٰ کے راہبوں کی تعریف کے بعد پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کرنا اس لیے بھی زیادہ مناسب تھا کہ انھوں نے ان باتوں کو نیکی میں داخل کر رکھا تھا، لہٰذا مومنین کو اس سے منع فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت سے متعلق فرمایا : (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ) [ الحدید : 27 ] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“
شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ جو چیز شرع میں صاف حلال ہو اس سے پرہیز کرنا برا ہے، یہ دو طرح سے ہوتا ہے، ایک زہد سے، یہ رہبانیت ہے جو ہمارے دین میں پسندیدہ نہیں ہے، اس کے بجائے تقویٰ اختیار کیا جائے، یعنی ممنوع چیز کے قریب نہ جائے۔ دوم یہ کہ کسی مباح (جائز) کام کے نہ کرنے کی قسم کھالے، یہ بھی بہتر نہیں، اسے چاہیے کہ قسم توڑے اور کفارہ ادا کرے۔“ (موضح) انس ؓ سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے گھروں میں آئے، وہ رسول اللہ ﷺ کی عبادت کے متعلق دریافت کر رہے تھے، جب انھیں اس کے متعلق بتایا گیا تو جیسے انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے، ہماری رسول اللہ ﷺ سے کیا نسبت ؟ آپ کے تو پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا، میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا، میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ آئے تو فرمایا : ”تمھی لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس سے بچنے والا ہوں، لیکن روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، تو جو میری سنت سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ [ مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ۔۔ : 1401۔ بخاری : 5063 ] اس سلسلے میں اور بھی کئی روایات ہیں جن میں سے بعض میں یہ تصریح ہے کہ یہ آیت ایسے ہی کسی موقع پر نازل ہوئی۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ کرتے تھے، ہمارے ساتھ بیویاں نہیں تھیں تو ہم نے عرض کیا، ہم خصی نہ ہوجائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر ہمیں رخصت دے دی کہ ہم کپڑے کے ساتھ عورت سے نکاح کرلیں، پھر یہ آیت پڑھی : (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (یأیہا الذین آمنوا۔۔) : 4615 ] واضح رہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے متعہ ہمیشہ کے لیے حرام فرما دیا، چناچہ سبرہ (بن معبد) ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام فرما دیا ہے تو جس شخص کے پاس ایسی عورتوں میں سے کوئی موجود ہو وہ اسے چھوڑ دے اور تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کوئی چیز واپس نہ لو۔“ [ مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ و بیان أنہ۔۔ : 21؍1406 ]
Ayah 5:88یعنی حلال کو حرام تو نہ ٹھہراؤ، ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
Ayah 5:89الْاَيْمَانَ ۚ ”یہ ”یَمِیْنٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قسم۔ اس مقام پر یہ دوسرا حکم ہے کہ اگر کوئی طیبات (پاکیزہ چیزیں) چھوڑنے کی قسم کھالے تو اس کا کیا حکم ہے۔ قسم کی تین قسمیں ہیں : 1 یمین لغو، جو بےساختہ عادت کے طور پر زبان سے یوں ہی نکل جاتی ہے، جیسے ”لَاوَاللّٰہِ وَبَلٰی وَاللّٰہِ“ (نہیں ! اللہ کی قسم، یا کیوں نہیں ! اللہ کی قسم) ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے نہ سزا۔ 2 یمین غموص، یعنی جھوٹی قسم، جو انسان نیت اور ارادہ کے ساتھ دھوکا و فریب دینے کے لیے جھوٹ بول کر قسم اٹھائے کہ ایسا ہوا ہے یا نہیں ہوا، حالانکہ اس کی قسم واقعہ کے خلاف ہو۔ یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، اس کا علاج یہی ہے کہ سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے، کیونکہ اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ 3 منعقد ہونے والی قسم، یعنی ارادے اور نیت کے ساتھ قسم کھائے کہ میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا، پھر اگر وہ قسم پوری نہ کرسکے تو اس آیت میں اس کا کفارہ بیان ہوا ہے۔ جو یہ ہے کہ تین کاموں میں سے جو چاہے اختیار کرلے، یعنی دس مسکینوں کو اوسط (درمیانے) درجے کا کھانا کھلانا، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، اگر ان تینوں ہی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔ بعض اہل علم نے اوسط کا معنی افضل لکھا ہے، لغت میں یہ معنی بھی موجود ہے، فرمایا : (جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) [ البقرۃ : 143] اور آیت : (جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) [ البقرۃ : 238] یہ تین روزے خواہ پے درپے رکھے یا الگ الگ، دونوں طرح درست ہے۔
حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ: یعنی قسم توڑنے سے پرہیز کرو، لیکن اگر اسے توڑ دو تو اس کا کفارہ ادا کرو۔ ہاں، اگر وہ قسم کوئی ناجائز کام کرنے کی ہے تو وہ ہرگز پوری نہ کرو بلکہ توڑ دو ، اس کا کفارہ ہے یا نہیں، اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، بہتر ہے کہ ادا کر دو اور اگر یہ قسم کسی جائز کام کے چھوڑنے کی ہے تو اسے توڑ کر کفارہ ادا کر دو۔ عبدالرحمان بن سمرہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ اور اس کے علاوہ دوسرے کام کو بہتر سمجھو تو بہتر کام کرلو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“
[ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالیٰ : (لا یؤاخذکم اللہ۔۔) : 6622 ]
اگر کسی نے کوئی نذر مانی ہو اور اسے پورا نہ کرسکے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے۔ [ مسلم، النذر، باب فی کفارۃ النذر : 1645، عن کعب بن عجرۃ ]
Ayah 5:90اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ۔ : یہ شراب کے سلسلے میں تیسرا اور آخری حکم ہے، جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے دی گئی، اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے، پہلا حکم سورة بقرہ (219) میں اور دوسرا سورة نساء (43) میں، مگر ان دونوں آیتوں میں قطعی حرمت کا ذکر نہیں تھا، اس لیے عمر بن خطاب ؓ نے سورة بقرہ اور سورة نساء کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا : ”یا اللہ ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں واضح حکم فرما۔“ آخر صریح حرمت کی یہ آیت تین مزید چیزوں کی حرمت کے ساتھ اتری۔
[ نسائی، الأشربۃ، باب تحریم الخمر : 5542 ]
’ الْخَمْر“ کی تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، چناچہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ) ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے (خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو)۔“ [ مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر خمر۔۔ : 2003 ] خلافت اسلامیہ کو برباد کرنے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک بڑا سبب ہے کہ بعض علماء نے صرف انگور اور کھجور کی شراب پینے پر حد لازم قرار دی، باقی ہر نشہ آور چیز پینے پر حد ختم کردی، خواہ وہ کسی چیز سے بنی ہو اور خواہ اس سے نشہ کیوں نہ آجائے۔ اب جن اسلامی خلافتوں میں ام الخبائث کی کئی قسمیں پینے پر حد معاف ہو وہاں رعایا، لشکر اور خلفاء کا کیا حال ہوگا ؟
اس آیت اور اس سے اگلی آیت سے شراب اور جوئے کی حرمت سات وجہوں سے ثابت ہوتی ہے، اسی لیے اسے ”ام الخبائث“ قرار دیا گیا ہے : 1 ”رِجْسٌ“ گندی چیز ہے۔ 2 عمل شیطان ہے۔ ”فَاجْتَنِبُوْهُ“ امر کا صیغہ فرض کے لیے ہوتا ہے، چناچہ اس سے اجتناب فرض ہے، لہٰذا پینا حرام ہے۔ 4 ”لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ“ اس کے ترک سے فلاح کی امید ہے، ورنہ نہیں۔ 5 شیطان اس کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا چاہتا ہے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے والا ہر کام حرام ہے۔ 6 اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ بھی اس کی حرمت کی ایک وجہ ہے۔ 7 ”تو کیا تم باز آنے والے ہو ؟“ یہ سوال کی صورت میں امر ہے اور امر فرض کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا صحابہ ؓ نے سن کر کہا ”اِنْتَھَیْنَا اِنْتَھَیْنَا“ یعنی ہم باز آگئے، ہم باز آگئے۔ چناچہ صحابہ نے شراب کے مٹکے توڑ دیے اور شراب گلیوں میں بہنے لگ گئی۔ اتنی صراحتوں کے باوجود کفار کے نمائندے کئی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں شراب کہاں حرام ہے ؟
”الْمَيْسِر“ علماء نے لکھا ہے کہ جس چیز میں بھی ہار جیت پر شرط لگائی جائے وہ جوا ہے، لاٹری، قسمت کی پڑی، انعامی بانڈ، انعامی معمے، انعامی سکیمیں سب جوئے کی قسمیں ہیں۔ کئی ظالم جوئے والی سکیموں پر عمرے یا حج کا انعام رکھ کر لوگوں کو پھنساتے ہیں، یاد رکھیں حرام مال اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا نہ حرام کے ساتھ کی ہوئی عبادت قبول ہے۔ انشورنش (بیمہ) سود اور جوئے کا بدترین مرکب ہے، بولی والی کمیٹی سراسر سود ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہ بھی لگائی جائے، پھر بھی یہ حرام ہے، کیونکہ یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔
Ayah 5:91اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ۔۔ : جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چناچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ تھا۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا، ان کے پاس مہاجرین و انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا پکڑا اور مجھے دے مارا، جس سے میری ناک زخمی ہوگئی، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : (اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص، قبل ح : 1748 ]
Ayah 5:92وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی جوئے اور شراب سے باز رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچ جاؤ۔ (رازی، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن و سنت کی پیروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ اِنِِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ) ”مجھے کتاب یعنی قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی۔“ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : 4604 وصححہ الألبانی ]
فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ۔۔ : اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور جوئے سے باز نہیں آتے۔ (کبیر)
Ayah 5:93لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ۔۔ : یعنی اس کی حرمت سے پہلے ایمان اور عمل صالح والے جو لوگ شراب پیتے رہے اور جوا کھیلتے رہے، ان پر اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے، حالانکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی۔ (کبیر، ابن کثیر)
اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا۔۔ : یہاں تقویٰ کا حکم تین دفعہ دینے سے مراد یا تو تاکید ہے یا پہلے ”اتقوا“ سے مراد شرک سے بچے، دوسرے تقویٰ سے مراد شراب سے بچے اور تیسرے تقویٰ سے مراد سب بری باتوں سے بچے یا تقویٰ پر قائم رہے۔
بعض نے لکھا ہے کہ پہلے ”آمنوا“ سے مراد شرک سے بچے، دوسرے سے مراد گناہوں سے بچے اور تیسرے سے مراد صغیرہ گناہوں سے بچے۔ اسی طرح ”اٰمَنُوْا“ میں پہلے ایمان سے مراد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے اور دوسرے سے مراد ایمان پر ثابت رہنا ہے۔ تیسری مرتبہ ’ آمنوا“ کے بجائے ”احسنوا“ فرمایا یعنی لوگوں کے ساتھ احسان کریں اور عبادت میں احسان حاصل کریں جو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
Ayah 5:94يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ۔۔ : اس سے پہلے آیت : (لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ) [ المائدۃ : 87 ] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکر کی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہوجائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔
تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ : یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کرسکتے ہو۔
فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ۔۔ : یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی)
یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:95يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ : محرم نہ شکار کرے نہ شکار میں کسی طرح مدد کرے، فرمایا : (وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) [ المائدۃ : 2 ] ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پانچ جانور فاسق ہیں، انھیں حرم میں بھی قتل کیا جاتا ہے، یعنی چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب أحدکم۔۔ : 3314 ]
اہل علم نے فواسق، یعنی خواہ مخواہ ایذا دینے والے جانوروں میں ”اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ“ شامل ہونے کی بنا پر سانپ، بھیڑیے، چیتے اور شیر وغیرہ کو مارنے کی اجازت اخذ کی ہے۔
وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا۔۔ : یعنی احرام کی حالت میں جیسا شکار مارے اسی کی ”مثل“ کا فدیہ دے۔ مثل سے مراد یہ ہے کہ تن و توش، قد و قامت اور شکل و صورت میں اس سے ملتا جلتا ہو، جیسے ہرن کی جگہ بکرا۔
يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ۔۔ : یعنی دو عادل مسلمان مل کر فیصلہ کریں کہ اس شکار کی مثل کون سا جانور ہوسکتا ہے۔
هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ : یعنی اس جانور کو مکہ معظمہ میں لے جا کر ذبح کیا جائے اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔
اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ۔۔ : اس آیت میں ”اَوْ“ اختیار کے لیے ہے، یعنی شکار کرنے والے کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو کفارہ چاہے ادا کر دے، شکار کردہ جانور کی مثل جانور کعبہ، یعنی حرم میں لے جا کر قربان کیا جائے، یا اس کی مثل کے مساوی قیمت کا غلہ بطور کفارہ مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں۔ قاموس اور دوسری کتب لغت میں ”مُد“ کی تعریف یہ لکھی ہے کہ ایک معتدل قد والا آدمی دونوں ہاتھ پھیلا کر کوئی چیز اٹھائے تو وہ ایک مد ہے۔ صاحب قاموس کہتے ہیں میں نے تجربہ کرکے دیکھا تو اسے درست پایا۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے، آپ خود تجربہ کرکے دیکھ لیں، ایک مد میں گندم آدھ کلو سے زیادہ نہیں آتی، ظاہر ہے دوسری اجناس کا وزن مختلف ہوگا۔ یعنی ہر دو مد غلے (یعنی ایک کلو) کے بدلے میں ایک روزہ رکھے۔ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت (196) میں مذکور کعب بن عجرہ ؓ کی روایت ہے، جو صحیح بخاری (4517، 4191، 5916) میں آئی ہے۔
عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ: یعنی زمانۂ جاہلیت میں یا اس حکم کے آنے سے پہلے احرام کی حالت میں جو شکار تم کرچکے ہو اسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا، اب اس کا بدلہ دینا ضروری نہیں۔
Ayah 5:96اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ۔۔ :”الْبَحْرِ“ سے مراد پانی ہے، اس میں سمندر اور غیر سمندر سب پانی برابر ہیں اور اس میں وہ تمام جانور شامل ہیں جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتے، وہ مچھلی ہو یا کوئی اور جانور۔ زندہ بھی پکڑے جائیں تو ذبح کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن و حدیث میں پانی کے شکار کو حلال کہا گیا ہے اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں کہ مچھلی کے سوا سب حرام ہیں۔ ”صَيْدُ الْبَحْرِ“ سے مراد پانی کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور ”طَعَام“ سے مراد پانی کا وہ جانور ہے جو وہیں مرجائے اور سمندر یا دریا اسے باہر پھینک دے، یا مر کر پانی کے اوپر آجائے۔ نبی ﷺ سے بھی یہ تفسیر آئی ہے۔ ابن جریر ؓ نے آپ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : (طَعَامُہُ مَا لَفِظَہُ الْبَحْرُ مَیْتًا) یعنی اس آیت میں ”طَعَام“ سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت میں کنارے پر پھینک دے۔ ”ہدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابن جریر نے بہت سے صحابہ سے یہی معنی نقل فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے صرف مچھلی کو حلال اور پانی کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام کہہ دیا ہے اور وہ بھی صرف وہ جو زندہ پکڑی جائے، اگر مر کر پانی کے اوپر آجائے تو اسے حرام کہتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں، کیونکہ وہ اس آیت کے خلاف ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ سے سمندر کے پانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : (ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ) ”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔“ [ الموطأ، الطہارۃ، باب الطھور للوضوء : 12۔ أبوداوٗد : 83۔ ترمذی : 69، صححہ الألبانی ] اسی طرح کچھ صحابہ کرام ؓ کو نبی کریم ﷺ نے ایک جنگی مہم پر بھیجا، ان کے پاس کھانے کی چیزیں ختم ہوگئیں تو انھوں نے ٹیلے جیسی ایک بہت بڑی مچھلی دیکھی، جسے سمندر کا پانی کنارے پر چھوڑ کر ہٹ چکا تھا۔ ابو عبیدہ ؓ امیر تھے، انھوں نے اسے کھانے کی اجازت دے دی، ایک ماہ تک تین سو آدمی اسے کھاتے رہے اور خشک کر کے ساتھ بھی لے آئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہمیں بھی دو۔“ چناچہ صحابہ نے کچھ گوشت آپ ﷺ کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔ [ مسلم، الصید والذبائح،
باب إباحۃ میتات البحر : 1935 ]
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ : اس سے یہ اشارہ فرمایا کہ یہ رخصت تمہارے فائدے کے لیے ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج کے طفیل حلال ہوئی ہے، یعنی سمندر کا جانور محرم و غیر محرم سب کے لیے حلال ہے۔
Ayah 5:97جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ۔۔ : اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا، اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے بھی جائے امن بنادیا ہے اور دنیوی اور اخروی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ (کبیر) دیکھیے سورة آل عمران (97) ، سورة قصص (57) اور سورة بقرہ (125) یعنی اہل مکہ کی معاش (روزی) کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچتے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں، جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں اور لوگ یہاں پہنچ کر امن و امان پاتے ہیں، حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہیں کہتا تھا اور عبادت و ثواب کے اعتبار سے یہ بہترین جگہ ہے۔ الغرض ! یہ تمام چیزیں لوگوں کے قیام کا باعث ہیں۔ (کبیر، فتح القدیر) کعبۃ اللہ لوگوں کے قائم رہنے کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ قیامت کے قریب جب ایک حبشی کعبۃ اللہ کو گرا دے گا تو اس کے بعد بہت جلد قیامت آجائے گی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی گرائے گا۔“ [ بخاری، الحج، باب ہدم الکعبۃ : 1596۔ مسلم : 2909 ]
وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ : حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور سال بھر کی ضروریات جمع کرلیتے تھے، اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔
وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ : ان کا لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ہدی (قربانی) کا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم ہوتا اور ہدی اور قلادہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظمت کو بیان کرنا تھا، اس کے ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر کردیا، کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ سے ہے۔ (کبیر)
ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ۔۔ : ”ۭذٰلِكَ“ (یہ) یعنی اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو لوگوں کے قیام کا باعث بنانا اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق لوگوں کے قیام اور فائدے کے لیے یہ احکام جاری فرمائے ہیں۔ (وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جانتا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمہاری دینی اور معاشی بہتری کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں۔
Ayah 5:98اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔۔ : لہٰذا تم ایک طرف اس کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے رہو اور دوسری طرف اس کی رحمت کے بھی امید وار رہو۔ اصل ایمان یہ ہے کہ بندے پر خوف و رجا (ڈر اور امید) کی حالت طاری رہے، فرمایا : (وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا) [ الأعراف : 56 ]”اور اسے خوف اور طمع سے پکارو۔“ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ سزا (عذاب کا علم ہوجائے تو کوئی جنت کی طمع نہ کرے اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا علم ہوجائے تو کوئی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔“ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ۔۔ : 2755 ]
Ayah 5:99مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭ: یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کردیا اور تم پر حجت قائم ہوگئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)
Ayah 5:100قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ۔۔ : یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ حرام رزق کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی ہی خوش کن کیوں نہ ہو، انسان پر لازم ہے کہ وہ رزق حلال پر قناعت کرے، خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر ہو۔ اسی طرح کافر کتنا بھی اچھا نظر آئے مومن کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ رزق حلال اور مومن طیب ہیں اور رزق حرام اور کافر خبیث ہیں، خبث نے ان کی اچھائی کو ختم کردیا ہے۔
Ayah 5:101لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ۔۔ : یعنی اگر بلا ضرورت سوال کرو گے اور اس کا جواب تمہاری آسانی کے خلاف اتر آیا تو خواہ مخواہ مشکل میں پڑجاؤ گے اور پھر بجا نہ لانے کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمان قرار پاؤ گے۔ اب جب کہ قرآن اتر رہا ہے، تمہارے سوالوں کا جواب بھی اتر سکتا ہے، تو تم بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر فرض یا حرام قرار دلوا لو گے۔ اس بنا پر متعدد روایات میں رسول اللہ ﷺ نے زیادہ سوال کرنے سے منع فرمایا۔ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام قرار نہیں دی گئی تھی، پھر اس کے سوال کی وجہ سے حرام قرار دے دی گئی۔“ [ بخاری، الاعتصام، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال۔۔ : 7289۔ مسلم : 2358 ] مزید دیکھیے سورة بقرہ (108)۔
عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ: ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس سے پہلے جو سوال تم کرچکے اللہ تعالیٰ نے وہ معاف فرما دیے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی ہے کہ اس نے ان چیزوں سے در گزر کیا ہے، بیان نہیں فرمایا اور تمہارے لیے ان کے کرنے اور نہ کرنے کی گنجائش باقی چھوڑ دی۔ (رازی، ابن کثیر)
Ayah 5:102قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ۔۔ : یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیاء سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو بجا نہ لاتے، اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہرتے۔ یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرت سوال سے پیش آتی۔ ان کی اس روش کی متعدد مثالیں سورة بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ”لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ تو ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا ہر سال ؟“ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے تین بار یہی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔“ پھر فرمایا : ”مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے سوالوں کی کثرت اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ ہی سے ہلاک ہوئے، تو جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کرسکو کرو اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اسے چھوڑ دو۔“ [ مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر : 1337 ]
Ayah 5:103مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ۔۔ : اوپر کی آیات میں ایسی باتوں کو کرید کرنے اور ایسے سوال کرنے سے منع فرمایا جو لوگوں پر لازم نہیں کی گئیں، اب اس آیت میں ایسے کام اپنے اوپر لازم کرلینے سے منع فرمایا جو اللہ کی طرف سے لازم نہ ہوں۔ (کبیر)
اہل عرب زمانۂ جاہلیت میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے، پھر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھتے۔ یہاں چار قسم کے جانور بیان کیے ہیں، سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں : 1 ”بحیرہ“ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا، پھر لوگوں میں سے کوئی اسے نہیں دوھتا تھا۔ 2 ”سائبہ“ وہ جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے کھلا چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ 3 ”وصیلہ“ وہ اونٹنی جو پہلی دفعہ مادہ بچہ دیتی، پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دیتی، وہ اسے اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے (کیونکہ وصیلہ وصل سے نکلا ہے) یہ نام اس لیے رکھتے کہ اس نے دو مادہ بچے یکے بعد دیگرے جنے ہیں، بیچ میں نر نہیں ہے۔ 4 ”حام“ وہ سانڈ اونٹ جس کے جفتی کرنے سے اونٹنیوں کی ایک مخصوص تعداد حاملہ ہوتی، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی چیز نہ لادتے اور اس کا نام ”حامی“ رکھتے۔ سعید بن مسیب ؓ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں آگ میں کھینچ رہا تھا، یہ پہلا شخص تھا جس نے سائبہ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (ما جعل اللہ من بحیرۃ۔۔) : 4623 ] بحیرہ، سائبہ وغیرہ کی یہ تفسیر سعید بن مسیب ؓ نے کی ہے، مشرکین عرب کسی ایک دین پر تو متفق تھے نہیں، خصوصاً بدعات ہر قبیلے کی الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے تابعین سے ان چاروں کی تفسیر اور بھی آئی ہے، چناچہ بعض نے فرمایا کہ بحیرہ وہ ہے جس کا کان بتوں کے نام پر پھاڑا ہوا ہو۔ یہ ”بحر“ سے ”فَعِیْلَۃٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلَۃٌ“ ہے، جس کا معنی شق یعنی پھاڑنا ہے۔ سائبہ آزاد چھوڑی ہوئی، جس اونٹنی کے پیٹ سے دس بچے سب کے سب مؤنث پیدا ہوتے تو اسے چھوڑ دیتے، نہ اس پر سواری کی جاتی نہ اس کے بچے اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ پیتا۔ وصیلہ دو مادہ بچے سات مرتبہ یکے بعد دیگرے لانے والی۔ حامی یعنی اپنی حفاظت کرنے والا، جس اونٹ کی پشت سے دس بچے پیدا ہوجاتے اسے سانڈ بنا کر چھوڑ دیتے کہ اس نے اپنی پشت محفوظ کرلی ہے، پھر اس پر نہ سواری کی جاتی نہ بوجھ لادا جاتا نہ اسے پانی یا چارے سے روکا جاتا۔ مزید ظلم یہ کرتے کہ ایسا کرنے کو اللہ کا حکم قرار دیتے۔ اللہ نے اس کی تردید ”مَا جَعَلَ اللّٰه“ کہہ کر فرمائی۔ ان کی دوسری تشریحات بھی تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں اور اس کی وجہ اوپر گزر چکی کہ عرب کے جاہلوں میں سے ہر ایک کا الگ ہی طریقہ تھا۔ غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑنے کا یہ سلسلہ اب بھی کفار کے علاوہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے، مثلاً پیروں کی گائیں، یا مختلف درباروں کے نام کے جانور جہاں چاہیں پھریں، انھیں کچھ نہیں کہا جاتا۔
Ayah 5:104وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۔۔ : اس آیت میں اگرچہ عرب کے مشرکین کی بات ہو رہی ہے مگر لفظ عام ہیں جن میں ان تمام لوگوں کی مذمت کی جا رہی ہے جو حق بات پر غور و فکر کرنے اور اسے مان لینے کے بجائے اپنے باپ دادا کے رسم و رواج یا مذہبی پیشواؤں کی تقلید کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (170)۔
Ayah 5:105يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ۔۔ : یعنی توحید اور شریعت کے احکام کی اس قدر وضاحت اور بار بار ترغیب دلانے اور اللہ کے احکام کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو، خود سیدھے راستے پر رہو گے تو ان لوگوں کی جہالت کا تم پر کوئی وبال نہیں ہوگا۔ یعنی اپنی اصلاح کی سب سے پہلے فکر کرو، ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی غلطیوں اور عیوب کی فکر میں لگ کر اپنی اصلاح کو بھول ہی جاؤ۔ اگر تم سیدھے راستے پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہارا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے۔ خود سیدھے راستے اور ہدایت پر رہنے میں یہ بھی شامل ہے کہ نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے منع کرتے رہو گے تو ان کی گمراہی قطعاً تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کرے، دوسروں کی اصلاح ضروری نہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : ”لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لیتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے : ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں، پھر اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب لے آئے۔“ اسی حدیث میں ہے : ”کوئی قوم ایسی نہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر عمل کیا جاتا ہو، پھر وہ طاقت رکھتے ہوں کہ اسے بدل دیں، مگر وہ نہ بدلیں مگر قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنہی : 4338 ] ”َ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ“ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود تمہارے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے لوگ باز نہ آئیں تو امر بالمعروف کرنے والوں پر کچھ بوجھ نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 5:106–108يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے، چاہے جسے فائدہ پہنچانے کے لیے ہم قسم کھا رہے ہیں وہ ہمارا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو اور جس گواہی کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے نہیں چھپائیں گے، اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً گناہ گاروں میں سے ہوں گے۔ اگر ان دونوں کے قسم کھا لینے کے بعد پتا چل جائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو میت کے رشتے داروں میں سے دو قریبی رشتے دار آگے بڑھیں گے اور حلف اٹھائیں گے کہ ہم دونوں کی گواہی کہ ان دونوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹی قسم کھائی ہے، ان دونوں کی گواہی سے زیادہ قابل قبول ہے اور یہ کہ ہم نے ان پر خیانت کی جو شہادت دی ہے تو اس میں ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی، اگر ہم نے زیادتی کی ہے تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرح حلف لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ گواہ آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوئے امر واقع میں کوئی تبدیلی لائے بغیر گواہی دیں گے اور خیانت کی شکل میں دو قریبی رشتہ داروں سے حلف لینے کی حکمت یہ ہے کہ حالت سفر کے گواہ ڈریں گے کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ رد کردی جائے گی، کیونکہ قریبی رشتہ دار قسم کھائیں گے اور ہمارا جھوٹ لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔
ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک (مسلم) شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کے لیے نکلا۔ (یہ دونوں اس وقت نصرانی تھے) سہمی کو اس سر زمین پر موت آئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا جسے وہ وصیت کرتا، لہٰذا اس نے اپنا سامان تمیم داری اور عدی کے حوالے کردیا، پھر جب وہ دونوں اس کے ترکے کے ساتھ واپس آئے تو ورثا نے دیکھا کہ چاندی کا ایک جام، جس پر سونے کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے، غائب ہے۔ (مقدمہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا) آپ ﷺ نے تمیم داری اور عدی سے قسم لی (اور انھیں چھوڑ دیا) بعد میں وہ جام مکہ میں ملا، ان لوگوں نے (جن کے پاس سے وہ جام ملا تھا) کہا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی بن بداء سے خریدا ہے، پھر اس سہمی کے ورثا میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے گواہی دی کہ یقیناً یہ جام ہمارے قریبی رشتے دار، یعنی سہمی کا جام ہے، چناچہ یہ آیت انھی کے بارے میں نازل ہوئی : (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ) [ المائدۃ : 106 ] [ بخاری، الوصایا، باب قول اللہ عزوجل : (یایھا الذین اٰمنوا شھادۃ بینکم۔۔) : 278 ]
Ayah 5:109يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ۔۔ : دین کے کچھ مسائل اور احکام بیان کرنے کے بعد اب قیامت کے بعض احوال ذکر فرما دیے، تاکہ نافرمانی کرنے والوں کو تنبیہ ہو۔ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن پیغمبروں کو جمع کرکے ان سے سوال ہوگا کہ جو دعوت تم نے دی تھی تمہاری امتوں نے اسے کس حد تک قبول کیا۔ پیغمبروں سے یہ سوال درحقیقت امتوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت کے لیے ہوگا۔ (ابن کثیر) جیسا کہ آیت : (وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ)”جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا“ یہ سوال درحقیقت زندہ درگور کرنے والوں کو ذلیل کرنے کے لیے ہوگا۔
قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭ۔۔ : وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امتوں کے اپنے اپنے رسولوں کو جواب کا کچھ علم تو پیغمبروں کو تھا، کیونکہ ان کی عمر انھی میں گزری تھی، تو وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ علم نہیں۔ اس سوال کا جواب (اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) میں موجود ہے، یعنی ہم تو صرف ان کے ظاہری جواب کی حد تک واقف ہیں، جو ہماری زندگی میں انھوں نے دیا اور پیغمبر شہادت بھی اسی کے متعلق دیں گے۔ (دیکھیے نساء : 41۔ بقرہ : 143) باقی رہا کہ انھوں نے فی الحقیقت ہماری دعوت کو دل سے قبول کیا یا نہیں اور ہمارے بعد ہماری امتیں اس دعوت پر کہاں تک ثابت قدم رہیں تو اس کا علم تیرے سوا کسی کو نہیں، کیونکہ چھپی ہوئی باتوں کو تو ہی خوب جاننے والا ہے، سو آیات میں بحمد اللہ کوئی تعارض نہیں۔ (کبیر) شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ ان کو سنایا جو پیغمبروں کی شفاعت پر مغرور ہیں، تاکہ معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی کسی کے دل پر گواہی نہیں دیتا اور کوئی کسی کی سفارش نہیں کرتا۔ (موضح)
Ayah 5:110چونکہ پیغمبروں سے سوال امتوں کے سرکش لوگوں کو ڈانٹنے اور ملامت کرنے کے لیے ہوگا اور سب سے زیادہ ملامت کے لائق نصاریٰ ہوں گے جنھوں نے عیسیٰ ؑ کو معبود بنا لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد ثابت کی تھی (جس سے اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے) اس بنا پر تمام پیغمبروں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ پر اپنے انعامات ذکر فرمائیں گے اور پھر ان سے سوال ہوگا، اس سے مقصد نصرانیوں کی تردید ہے۔ (کبیر)
اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ : یعنی جبریل ؑ کو تمہاری مدد کے لیے مقرر کردیا تھا۔ پہلا احسان یہ ذکر فرمایا۔
وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ : یہاں ”تَخْلُقُ“ کا لفظ صرف ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا : (أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ) ”جو تم نے خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ [ بخاری، اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ : 5951 ] پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (49)۔
كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ : اس آیت میں ”بِاِذْنِيْ“ (میرے حکم سے) کا لفظ چار مرتبہ آیا ہے، جس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ (ؑ) یہ معجزات نہیں دکھا سکتے تھے اور یہی حال ہر نبی کے معجزات کا ہے، وہ نہ عالم الغیب ہوتے ہیں، نہ انھیں ہر کام کا اختیار ہوتا ہے، جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا جائے یا جس کام کا اختیار دیا جائے صرف وہی ان کے علم اور اختیار میں ہوتا ہے۔
وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔ : یہودیوں نے جس طرح عیسیٰ ؑ کو قتل کرنے کی سازش کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے شر سے محفوظ رکھا اور اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (55) اور سورة نساء (158) یہ بھی احسان فرمایا۔
اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ: عیسیٰ ؑ کی نبوت کے منکروں نے ان کے معجزات کو کھلا جادو قرار دیا۔ بدبخت اتنا نہ سمجھ سکے کہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفایاب اور مردے کو زندہ کرنا کسی جادوگر کے لیے ممکن نہیں، چاہے وہ جادو میں کتنا ہی کمال کیوں نہ رکھتا ہو اور یوں بھی جادو کرنا اور کرانا فاسق و بدکار قسم کے لوگوں کا کام ہے، حالانکہ وہ خود دیکھ رہے تھے کہ عیسیٰ ؑ انھیں ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کا حکم دیتے تھے۔ یہود کی اس حرکت کی بنیاد حسد تھی اور سچ ہے کہ ”کُلُّ ذِیْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْدٌ“ ہر صاحب نعمت پر لوگ حسد کرتے ہیں۔
Ayah 5:111وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ۔۔ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ ؑ پر احسان تھا کہ حواریوں کو ان کا مخلص ساتھی اور مددگار بنادیا۔ حواری کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں۔ یہاں ”اوحینا“ کا معنی انبیاء والی وحی نہیں بلکہ الہام ہے، جو غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس پر بھی وحی کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے فرمایا : (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى) [ القصص : 7 ] ”اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔“ حالانکہ قرآن مجید میں صاف آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا (کوئی عورت نبی نہیں ہوئی)۔ دیکھیے سورة انبیاء (7) اسی طرح فرمایا : (وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ) [ النحل : 68 ] ”اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔“
Ayah 5:112اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ۔۔ : حواری اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے، اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک و شبہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا۔ (ابن کثیر) اور یہ الفاظ کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے، ان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے، بلکہ مطلب یہ پوچھنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تو نہیں، یا اس میں کوئی مانع تو نہیں ؟ ”مائدہ“ وہ بڑا تھال جس پر کھانا رکھا ہو۔ اب اس تھال اور کھانے دونوں پر مائدہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ (راغب)
قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ۔۔ : کیونکہ ایسے معجزات معین کر کے طلب کرنا حکم چلانے اور سرکشی کرنے کا معنی رکھتا ہے، اس لیے اللہ سے ڈرو اور ایسا سوال نہ کرو۔ (کبیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ڈرو اللہ سے“ یعنی بندے کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزمائے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں، اگرچہ مالک بہت زیادہ مہربانی کرے۔“ (موضح) ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو اور اسے مائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ بناؤ، جیسے فرمایا : (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ) [ الطلاق : 2، 3 ] ”اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔“ (ابن کثیر)
Ayah 5:113قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا : یعنی ہم یہ معجزہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر نہیں مانگ رہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے کہا تھا : (لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ) [ البقرۃ : 55 ] ”ہم ہرگز تیرا یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔“ بلکہ چند امور کے پیش نظر طلب کر رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بھوکے ہیں یا برکت کے لیے کچھ کھانا چاہتے ہیں۔
وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا : یعنی ہمیں اس بات کا اطمینان ہوجائے (جو ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے) اور ہم عین الیقین کے درجے کا علم حاصل کرلیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور بنی اسرائیل کے سامنے آپ کے سچا رسول ہونے کی گواہی دے سکیں۔
Ayah 5:114قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ۔۔ : یہ انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ دعا ہے کہ ”اللھم“ (اے اللہ !) کے ساتھ ”ربنا“ (اے ہمارے پالنے والے !) بھی ملایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ ؑ نہ اللہ تھے، نہ اللہ کے بیٹے، نہ اللہ کے اختیار رکھنے والے، ان کے حواری بھی ان میں سے کسی چیز کے قائل نہ تھے، ورنہ وہ عیسیٰ ؑ سے دعا کیوں کرواتے اور عیسیٰ ؑ بھی اتنی عاجزی کے ساتھ دعا کیوں کرتے، بلکہ ان کے حواری خود ان سے مائدہ کا مطالبہ کرتے اور وہ خود ہی پورا کردیتے۔
تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا : علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ وہ دسترخوان اتوار کے دن اترا، کیونکہ وہ نصرانیوں کی عید ہے، سبت یہودیوں کی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عید کا دن جمعہ تھا مگر یہودیوں اور نصرانیوں نے اصل دن میں اختلاف کیا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر کسی چون و چرا کے بغیر جمعہ کو تسلیم کرلیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الأمۃ۔۔ : 856 ] لفظ عید ”عَادَ یَعُوْدُ“ سے ہے، یعنی ایسی خوشی جو بار بار لوٹ کر آئے، یہ سالانہ بھی ہوسکتی ہے اور ہفتہ وار بھی۔ مسلمانوں کی دو عیدیں سالانہ ہیں اور ایک ہر ساتویں دن عید جمعہ ہے۔ ان کے علاوہ کوئی عید قرآن و سنت سے ثابت نہیں، مثلاً عید میلاد یا عید غدیر وغیرہ، یہ سب خود ساختہ اور بدعت ہیں۔
وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ: یعنی تیری توحید اور تیرے نبی کی رسالت کے حق ہونے پر دلیل قائم ہو۔ (کبیر)
وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : کیونکہ حقیقت میں تو ہی روزی دینے والا ہے، تیرے سوا ایک بھی روزی پیدا کرنے والا نہیں، سب تیرا دیا ہوا ہی کھاتے، یا کسی دوسرے کو دیتے ہیں۔
Ayah 5:115قَال اللّٰهُ اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ۔۔ : علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ دسترخوان اترا یا نہیں، اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ اترا، شوکانی، ابن جریر اور بہت سے علماء نے اسی کو صحیح کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا تاکید کے ساتھ فرمانا : (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ)”یقیناً میں اسے تم پر اتارنے والا ہوں۔“ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا۔ جامع ترمذی میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مائدہ آسمان سے گوشت روٹی کی صورت میں اترا اور انھیں حکم دیا گیا کہ وہ نہ خیانت کریں اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انھوں نے خیانت کی اور ذخیرہ کیا اور کل کے لیے اٹھا رکھا تو انھیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دیا گیا۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة المائدۃ : 3061 ] اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو کسی کو اختلاف کی مجال ہی نہ تھی، مگر شیخ ناصر الدین البانی ؓ نے اس کے حدیث رسول ہونے یا عمار بن یاسر ؓ کا قول ہونے، دونوں باتوں کو ضعیف کہا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ بعد کے الفاظ : (فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) یہ الفاظ سن کر وہ ڈر گئے اور انھوں نے دعا کا مطالبہ واپس لے لیا۔ یہ قول مجاہد اور حسن بصری کا ہے، ان کی سندوں کو ابن کثیر نے صحیح کہا ہے، مگر یہ بھی تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کا قول ہے، رسول اللہ ﷺ سے یہ بات بھی ثابت نہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مائدہ اترا تھا، وہ اس کا ایک قرینہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ نے مسیح ؑ پر اپنے احسان شمار کیے ہیں، ان کے ساتھ اس واقعہ کو بھی بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور آخر میں ان سے سوال کیا ہے کہ کیا تم نے میرے اتنے احسانات کے باوجود لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا، اس لیے مائدہ کا اترنا بھی ایک احسان تھا۔ دوسرے حضرات کہہ سکتے ہیں کہ مائدہ نہ اتار کر انھیں امتحان سے بچا لینا بھی ایک احسان ہی تھا۔ بہرحال قرآن مجید کے الفاظ دونوں صورتوں کا احتمال رکھتے ہیں اور اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”شاید عیسیٰ ؑ کی اس دعا کا اثر ہے کہ اس کی امت میں مال کی آسودگی ہمیشہ رہی اور جو کوئی ان میں نا شکری کرے تو شاید آخرت میں سب سے زیادہ عذاب پائے۔“ مگر رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد عیسیٰ ؑ کا امتی وہی ہے جو اسلام قبول کرلے، دوسرے لوگوں کا اپنے آپ کو مسیح ؑ کا امتی کہلانا سینہ زوری ہے، کیونکہ عیسیٰ ؑ نے واضح طور پر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ اب تمام دنیا رسول اللہ ﷺ ہی کی امت ہے، خواہ وہ امت اجابت ہو یا امت دعوت۔ رہا دنیا کا مال تو وہ کبھی کسی کے پاس زیادہ ہوتا ہے، کبھی کسی کے پاس، اس کا ایمان و کفر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ) [ بنی إسرائیل : 20 ] ”ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے۔“ اور فرمایا : (ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ) [ آل عمران : 140 ] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“