Ayah 5:116وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔۔ : اس کا تعلق اوپر کی آیت : (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ) کے ساتھ ہے، گویا پہلے بطور تمہید عیسیٰ ؑ پر اپنے انعامات شمار کیے اور اب اصل مقصد شروع ہو رہا ہے۔ یہ سوال قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ آگے چل کر آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ) اس خطاب سے مقصود عیسیٰ ؑ کو ڈانٹنا نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ڈانٹنا مقصود ہوگا جنھوں نے مسیح ؑ اور ان کی والدہ کو معبود بنا لیا۔ تاکہ وہ جان لیں کہ انھوں نے جس مسیح اور اس کی ماں کو معبود اور حاجت روا بنایا وہ تو خود اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے اور امت کے شرک کی وجہ سے ان سے باز پرس ہوگی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نصرانیوں نے مسیح ؑ کے ساتھ ان کی والدہ کو بھی معبود بنا لیا، تیسری یہ کہ عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ بھی ”ِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ (اللہ کے سوا) ہیں، صرف پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنے ہوئے بت ہی ”ِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ نہیں، جنھیں پکارنے سے آدمی مشرک ہوجاتا ہے، جیسا کہ آج کل کے قبر پرست لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ نہیں، ان سے مرادیں مانگنا اور فریاد کرنا جائز ہے، یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ ”ِمِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ میں مسیح ؑ ، ان کی والدہ ماجدہ اور تمام انبیاء و صلحاء شامل ہیں، ان میں سے کسی کو حاجت روا، مشکل کشا اور خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا صاف شرک اکبر ہے، جس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی ہے ہی نہیں۔
سُبْحٰنَكَ : تو ہر شریک سے پاک ہے، پھر میں اور میری والدہ تیرے شریک کیسے ہوسکتے ہیں۔
مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ۔۔ : یعنی میں تو تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، پھر بندے کی کیا مجال کہ اپنے آقا کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ کرے۔
اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ: یعنی بالفرض میں نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہو تو تجھے ضرور اس کا علم ہوگا، کیونکہ تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ۔۔ : جب تو میرے دل کی بات جانتا ہے تو زبان سے نکالی ہوئی کیوں نہ جانے گا ؟ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے نفس ثابت ہوتا ہے۔
اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ : تیرے سوا کسی کو علم غیب نہیں، جس بندے کے پاس جو بھی علم ہے وہ سب تیرا ہی عطا کردہ ہے، کسی اور کا علم تیرے علم کے مقابلے میں اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی سمندر کے مقابلے میں پانی کا ایک قطرہ اور جسے اتنا ہی علم ہو جو اسے بتایا گیا ہے وہ عالم الغیب نہیں، عالم الغیب تو وہ ہے جو کسی کے بتائے بغیر سب کچھ جانتا ہے اور وہ فقط تیری ذات پاک ہی ہے۔
Ayah 5:117اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي : اس آیت سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ فوت ہوچکے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عیسیٰ ؑ یہ بیان قیامت کے دن دیں گے جب وہ زمین پر آنے کے بعد اپنی عمر پوری کر کے فوت ہوچکے ہوں گے۔ اگر اصرار کیا جائے کہ ”تَوَفَّيْتَنِي“ سے مراد پہلا وقت ہے، جب انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے، ایک موت، جیسے : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) [ الزمر : 42 ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ دوسرے نیند، جیسے : (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) [ الأنعام : 60 ] ”اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا ہے۔“ تیسرے جسم سمیت اٹھا کرلے جانا، جیسے یہاں ہے اور سورة آل عمران (55) اور سورة نساء (158) میں ہے۔
كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭ۔۔ : یعنی میں تو اس وقت تک کے ان کے ظاہری اعمال کی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان کے اندر موجود تھا، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر شہید ہے، یعنی ان میں میری موجودگی کے وقت بھی تو ہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھی تو ہی شہید ہے۔ شہید اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ شہادت دیکھنے، سننے اور جاننے کے معنی میں بھی ہوسکتی ہے اور کلام کے ساتھ شہادت دینے کے معنی میں بھی۔ (کبیر) مگر دوسروں کے حق میں مطلق شہید یا شاہد کا لفظ (جب کہ کوئی خاص قرینہ نہ ہو) تو کلام کے ساتھ شہادت کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز اور ہر شخص کی ہر وقت خبر رکھنے والا ایک اللہ ہی ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن میری امت کے کچھ آدمیوں کو لایا جائے گا تو انھیں بائیں طرف کردیا جائے گا، میں کہوں گا : ”یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ تو کہا جائے گا : ”تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کیا نیا کام شروع کردیا تھا۔“ تب میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ ؑ کہیں گے : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) پھر کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ اپنی ایڑیوں پر پھرنے والے (مرتد) ہی رہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (وکنت
علیہم۔۔) : 4625 ]
Ayah 5:118اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ۔۔ : اس آیت کے مطابق عیسیٰ ؑ نہایت حکیمانہ طریقے سے ان کی سفارش کریں گے۔ پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انھیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں، نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں اور اگر تو انھیں معاف ہی فرما دے تو تو ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ ابوذر ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ ساری رات صبح تک (نماز میں) اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے۔“ [ نسائی، الافتتاح، باب تردید الآیۃ : 1011 ]
Ayah 5:119قَال اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ: سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور کفر کرنا ہے اور سب سے بڑا سچ اور انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ یعنی مشرکین کی معافی اور بخشش کی کوئی صورت نہ ہوگی، البتہ توحید والوں کو ان کی توحید ضرور نفع پہنچائے گی، خواہ کتنے گناہ گار ہوں۔ چناچہ ابوذر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ صبح تک اس آیت کو نماز میں پڑھتے رہے : (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ المائدۃ : 118 ] ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے صبح کو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو ساری رات پڑھتے رہے، یہاں تک کہ اپنے رکوع اور سجدے میں بھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس آیت کو بار بار پڑھ کر میں نے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی التجا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے میری التجا قبول کرلی ہے، میری امت میں سے جو شخص بغیر شرک کی حالت میں مرے گا اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“ [ أحمد : 5؍149، ح : 21386 ] ”الصّٰدِقِيْن“ کے لیے مزید دیکھیے سورة بقرہ (177) ، سورة زمر (33) اور سورة حجرات (15)۔
ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْم : اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
Ayah 5:120سورت کے آخر میں نصاریٰ کی تردید کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت مناسب ہے، یعنی اکیلا وہی زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا (جن میں انسان بھی ہیں) بادشاہ ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے، عیسیٰ ؑ ہوں یا ان کی والدہ یا روح القدس، سب اس کے بندے ہیں، جو کسی طرح معبود ہونے میں اس کے شریک قرار نہیں دیے جاسکتے۔