Ayah 5:27وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بالْحَقِّ : آدم ؑ کے ان دو بیٹوں کا نام ہابیل اور قابیل مشہور ہے، اگرچہ قرآن یا حدیث میں یہ نام نہیں آئے۔
ۘاِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ۔۔ : یہ نذر یا قربانی کس لیے پیش کی گئی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں، البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتدا میں آدم اور حوا ؑ کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے، دوسرے حمل سے پھر لڑکا لڑکی ہوتے، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کردیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بد صورت تھی، جبکہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی، اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا، لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کے بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ، جو خوب صورت تھی، نکاح کرے۔ آدم ؑ نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔ بالآخر آدم ؑ نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہوجائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس سے کردیا جائے گا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی، لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے یہ بات ثابت نہیں ہے۔
اوپر کی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ مخالفین ہر طرح سے مسلمانوں پر مصائب و شدائد لانا چاہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ) [ المائدۃ : 11 ] ”جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمہاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں۔“ مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کی حفاظت فرما رہا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کچھ واقعات بیان فرمائے، جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہے، لوگ اس سے ہمیشہ حسد و بغض سے پیش آتے رہے ہیں، چناچہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت بھی ان کی سرکشی اور بغض و حسد پر مبنی ہے، لہٰذا ان پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ اب یہاں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا، جو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کیونکہ ایک بھائی کا دوسرے کو قتل کرنا حسد کی بنا پر تھا۔ الغرض ان تمام واقعات سے آپ ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے اور ہوسکتا ہے کہ بتانا مقصود ہو کہ یہود اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کہتے ہیں : (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭ) [ المائدۃ : 18 ] اور انبیاء کی اولاد ہونے پر ان کو فخر ہے، مگر کفر اور حسد و عناد کے ساتھ یہ نسبی شرف ان کے لیے مفید نہیں ہوسکتا، آدم کے دو بیٹوں کا قصہ اس پر شاہد ہے۔ (کبیر، قرطبی) اس سے مقصد حسد سے بچنے کی تاکید ہے۔ حسن بصری ؓ فرماتے ہیں کہ دونوں آدمی بنی اسرائیل سے تھے۔ یہود کا حسد بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بطور مثال یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اس کی دلیل اس قصے کے آخر میں آنے والی آیت ہے : (مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ المائدۃ : 32 ] یعنی اس قصے ہی کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا۔۔ (کبیر۔ قرطبی)
مگر صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کی وجہ سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص بھی ظلم سے قتل کیا جاتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم (ؑ) کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا کام شروع کیا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیا، باب خلق آدم صلوات اللہ علیہ و ذریتہ : 3335۔ مسلم : 1677 ]
اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ : یعنی تم بھی اگر اللہ کی نافرمانی سے بچتے اور اللہ سے ڈرتے تو تمہاری قربانی بھی قبول ہوجاتی۔
Ayah 5:28لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ۔۔ : یعنی میں تمہیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تمہاری طرف نہیں بڑھاؤں گا، اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ اٹھاؤں تو الگ بات ہے، کیونکہ اپنا دفاع تو ضروری ہے اور اس پر امت مسلمہ کا بھی اجماع ہے۔ (قرطبی) اگر مقتول بھی اپنے قاتل کو قتل کرنے کے پیچھے لگا ہوا ہو تو ایسی صورت میں دونوں جہنمی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔“ احنف بن قیس ؓ نے پوچھا : ”اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے، مقتول کا کیا قصور ہے ؟“ فرمایا : ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر حریص تھا۔“ [ بخاری، الایمان، باب : (و ان طائفتان من المؤمنین۔۔) : 31 ]
Ayah 5:29اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ۔۔ : میرا گناہ، یعنی جو مجھے اس صورت میں ہوتا جب میں بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے، یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے :”قیامت کے دن ظالم کو لایا جائے گا اور اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی، اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“ [ بخاری، المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل۔۔ : 2449 ]
Ayah 5:30فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھہرا، کیونکہ ہر بعد والے قتل کا گناہ اس کی گردن پر بھی ہوگا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے۔
Ayah 5:31فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ : اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا، اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشیمان ہوا۔ (موضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، قرآن کے ظاہر الفاظ سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے زمین کریدتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے۔ (قرطبی)
فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ : یعنی بھائی کے مرنے پر، پھر اسے ٹھکانے لگانے کی بات جلد سمجھ میں نہ آنے پر پشیمان ہوا، کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا اور توبہ کرتا تو گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوتے ہیں ان کا گناہ اس پر نہ ہوتا۔ (قرطبی)
Ayah 5:32مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : دیکھیے اس سے پہلے آیت (27) کا حاشیہ (3) حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کے خون دوسرے مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہ تھے۔ (ابن کثیر)
وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ : یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔
Ayah 5:33اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ۔۔ : یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے، مراد وہ لوگ ہیں جو اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام نافذ کرنے والی ہے اور اسلام کی سرزمین میں ڈاکا ڈالتے، لوٹ مار کرتے، فساد پھیلانے کی کوشش کرتے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ حاکم وقت ان چار سزاؤں میں سے کوئی بھی سزا انھیں دے سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی کو قتل کیا جائے گا جس نے قتل کیا ہو اور اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنا اس کا جرم ہوگا، مگر آیت کے صریح الفاظ اس کی موافقت نہیں کرتے، بلکہ ان لوگوں کا حکم حربیوں (جنگ کرنے والوں) کا ہے، حاکم وقت ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے سکتا ہے، عام اس سے کہ مشرک ہوں یا یہودی یا باغی مسلمان ہوں۔
اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا : باب تفعیل کی وجہ سے معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ترجمہ میں ”بری طرح“ کا اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح ”اَوْ يُصَلَّبُوْٓا ‘ اور ”اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ“ میں بھی باب کا خیال رکھا گیا ہے۔
اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت عکل اور عرینہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا قصہ انس ؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے، لیکن وہاں کی آب و ہوا انھیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے انھیں مدینہ سے باہر صدقہ کے اونٹوں میں رہنے کا حکم دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب (ملا کر) پییں۔ یہ لوگ وہاں چلے گئے، تندرست ہونے کے بعد وہ اسلام سے پھرگئے اور چرواہے (یسارنوبی) کو قتل کر کے اونٹ ہانک کرلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے جو انھیں پکڑ کر مدینہ منورہ لے آئے، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائیاں پھیری جائیں، پھر انھیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ سب مرگئے۔ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب اذا حرق المشرک المسلم ھل یحرق : 3018۔ مسلم : 1671 ] مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ انھوں نے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا۔ [ مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب حکم المحاربین و المرتدین : 14؍1671 ]
Ayah 5:34اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کا قصور معاف کردیا جائے گا اور انھیں مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ ان کا گرفتار ہونے سے پہلے از خود اپنے آپ کو حوالے کردینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے جرائم سے توبہ کرلی ہے، لیکن پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انھوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا آبروریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی ہے یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا ؟ بعض علماء کے نزدیک یہ معاف نہیں ہوں گے، ان کا قصاص لیا جائے گا۔ ابن کثیر اور شوکانی کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انھیں معاف کردیا جائے گا، انھوں نے آیت کے ظاہر الفاظ کا تقاضا یہی بتایا ہے، البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے، وہ مستحق سزا ہوں گے۔ (فتح القدیر، ابن کثیر)
Ayah 5:35يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ۔۔ : یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے (کیونکہ اللہ کے قرب کے حصول کے لیے اب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا کوئی وسیلہ نہیں) اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو (وہ) قبول نہیں۔ (موضح) لفظ ”الوَسِیْلَۃٌ“ یہ ”تَوَسَّلْتُ إِلَیْہِ“ سے ”فَعِیْلَۃٌ“ کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع ”وَسَاءِلُ“ آتی ہے، اس کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اللہ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ اللہ کا تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد (سرتوڑ کوشش خصوصاً قتال) ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی زندہ شخص سے دعا کروانا بھی جائز ہے، مگر کسی زندہ یا مردہ کا نام لے کر کہنا کہ یا اللہ ! فلاں کے وسیلے یا طفیل ہماری دعا قبول فرما، نہ قرآن سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے، ہاں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا واسطہ دے کر یا اپنا کوئی خالص عمل پیش کر کے دعا کرسکتا ہے، یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ وسیلہ ایک مقام کا نام بھی ہے، اس میں بھی قرب کا معنی ہی ملحوظ ہے۔ عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : ”جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو، جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلے کی دعا کرو، وسیلہ جنت کا وہ مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک ہی کو نصیب ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا، لہٰذا جس نے میرے لیے وسیلے کی دعا کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔“ [ مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن۔۔ : 384 ] اللہ کا قرب (وسیلہ) اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے جتنا قریب ہے اس سے مزید قرب کی دعا اور کوشش کرتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (57)۔
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اللہ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمہارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمہیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کرسکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ (کبیر)
Ayah 5:36اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ۔۔ : سورة آل عمران کی آیت (91) اس کی ہم معنی ہے، انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص سے کہے گا جسے آگ والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ہوگا : ”اگر زمین میں جو بھی چیز ہے تمہاری ہو تو کیا تم اپنی جان چھڑانے کے لیے وہ دے دو گے ؟“ وہ کہے گا : ”ہاں !“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”میں نے تم سے اس سے کہیں زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا، مگر تو میرے ساتھ شریک بنائے بغیر مانا ہی نہیں۔“ [ بخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار : 6557 ]
Ayah 5:37يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ: یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورة حج کی آیت (22) اس کی ہم معنی ہے۔
Ayah 5:38وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا۔۔ : اوپر کی آیت میں محاربین (جو لوٹ مار کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں) کی سزا بیان ہوئی تھی، اب اس آیت میں چوری کی حد (قانونی سزا) بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ حدیث میں اس کی تفصیل ہے، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر دینار کے ایک چوتھائی یا زیادہ میں۔“ [ مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ و نصابھا : 2؍1684 ]
چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جاسکتا ہے، بعد میں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ چادر کے مالک صفوان ؓ نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا ؟“ [ ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز : 2595 قال الالبانی صحیح ] بعض لوگوں نے چوری کی حد باطل کرنے کے لیے بہت سے حیلے ایجاد کیے ہیں، ان میں سے دو حیلے ایسے ہیں جن کی موجودگی میں کسی چور کا ہاتھ کاٹا ہی نہیں جاسکتا۔ ایک یہ کہ عدالت میں جانے کے بعد مال مسروقہ کا مالک چور کو چرائی ہوئی چیز ہبہ کردے، یا اس کے ہاتھ بیچ دے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا حالانکہ یہ صحیح حدیث کے صریح خلاف ہے۔ دوسرا یہ کہ چور پر شہادتوں کے ساتھ چوری کا جرم ثابت ہوجائے تو چور دعویٰ کر دے کہ مال مسروقہ میرا مال ہے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، خواہ وہ اپنی ملکیت کی کوئی دلیل پیش نہ کرے۔ یہ حیلہ لکھنے والے نے اس پر لکھا ہے کہ مخالف کی طرف سے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس طرح تو کوئی چور بھی جھوٹا دعویٰ کرنے سے عاجز نہیں، ہر چور ہی مالک ہونے کا دعویٰ کر دے گا اور چوری کی حد سرے سے ختم ہوجائے گی۔ اس کا جواب اس نے یہ دیا ہے کہ یہ بات صرف علماء کو معلوم ہے، چوروں کو معلوم نہیں، اس لیے حد ختم ہونے کی کوئی فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حیلوں کی وجہ سے بھی مسلم حکومتوں میں حدود اللہ ختم ہوئیں جس کے نتیجے میں ظلم و ستم حد سے بڑھے، پھر اغیار مسلمانوں پر مسلط ہوگئے، اس کا علاج دوبارہ حدود اللہ کا صحیح نفاذ ہے۔
جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ : یہ اس کے گناہ کی سزا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت بھی کہ وہ تمام عمر لوگوں کے لیے چوری سے رکنے کا باعث اور یاددہانی بنا رہے گا کہ چور کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے۔ اگر اسے قتل بھی کردیا جاتا تو یہ عبرت حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔
Ayah 5:39فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ۔۔ : یہاں ظلم سے مراد چوری ہے، یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلی اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توبہ کرلینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہوجائے گی۔ نبی ﷺ نے ایک چور کے متعلق فرمایا : ”اسے لے جاؤ، اس کا ہاتھ کاٹ دو ، پھر اسے داغ دو ، پھر میرے پاس لاؤ۔“ الغرض ! اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے فرمایا : ”اللہ سے توبہ کرو۔“ اس نے کہا : ”میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تیری توبہ قبول کرے۔“ [ مستدرک حاکم : 4؍381، ح : 8150 و صححہ و قال صاحب نیل الأوطار سندہ صحیح ] یہ تو بالکل صحیح ہے کہ حدود صرف گناہ سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ اس گناہ کا کفارہ بھی ہیں، ان سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے مگر ساتھ توبہ بھی ضروری ہے، تاکہ آئندہ وہ یہ حرکت نہ کرے۔ ہاں کوئی شخص چوری کرے اور اس کا کسی کو پتا نہ چلے، یا چوری کے مال کا مالک اسے عدالت میں نہ لے جائے تو اس کے لیے توبہ و استغفار ہی کافی ہے۔
Ayah 5:40اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چور کو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی۔ (موضح) اس آیت کا خطاب تو رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں، یا ہر شخص سے خطاب ہے۔ (فتح البیان) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی، جو بھی جرم کرے گا اسے سزا ملے گی، اس معاملے میں کسی بڑے مرتبے والے کو چھوٹے پر فوقیت نہیں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ جس جرم پر جو سزا چاہے مقرر فرما دے، اسے مخلوق پر کل اختیار ہے۔ (قرطبی) ایک ملحد شاعر ابو العلاء معری نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر اعتراض کیا کہ دیکھیے ایک ہاتھ جس کی دیت پچاس اونٹ تھی، وہ چوتھائی دینار کی حقیر مالیت پر کاٹ دیا گیا، یہ عجیب تناقض ہے، پھر قرآن پر اعتراض کی وجہ سے گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگ گیا۔ چناچہ بہت سے علماء نے اس کا جواب لکھا، قاضی عبد الوہاب نے کہا : ”لَمَّا کَانَتْ اَمِیْنَۃً کَانَتْ ثَمِیْنَۃً فَلَمَّا خَانَتْ ھَانَتْ“ ”جب تک ہاتھ امین تھا قیمتی تھا جب خیانت کی تو بےقدر ہوگیا۔“ (ابن کثیر) سزاؤں کا ایک مقصد گناہوں سے روکنا بھی ہے، ہاتھ کاٹنے سے روکنے کے لیے ہاتھ کی دیت زیادہ رکھنا ضروری تھا، تاکہ لوگ کسی کا ہاتھ کاٹنے سے بچیں اور چوری سے روکنے کے لیے ہاتھ کاٹنے کا نصاب کم مقرر کرنا ضروری تھا، تاکہ لوگ چوری سے بچیں۔
Ayah 5:41يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ۔۔ : رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو صرف مشرکین سے واسطہ تھا، مدینہ میں آئے تو منافقین اور یہود کی سازشیں بھی ساتھ مل گئیں، اس پر تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کی وجہ سے غمگین نہ ہوں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، یعنی جب بھی انھیں کوئی موقع ہاتھ آتا ہے فوراً کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں، کافروں سے مل جاتے ہیں۔ اس کا تعلق منافقین سے ہے۔ (رازی)
وَمِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا۔۔ : یعنی کفر میں دوڑ کر جانے والے یہودی بھی آپ کو غمگین نہ کریں۔ ”سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ“ جو جھوٹی باتیں بہت سنتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ان کو ان کے مذہبی پیشوا تورات میں تحریف کر کے اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر طعن کے طور پر کہتے ہیں اسے خوب سنتے اور قبول کرتے ہیں، ”سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ“ یعنی پھر یہ ان لوگوں کے جاسوس بن کر مسلمانوں اور نبی کریم ﷺ کی مجالس میں جا کر خوب سنتے ہیں، جو تکبر کی وجہ سے ان مجلسوں میں شریک ہونا پسند نہیں کرتے۔ (کبیر)
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ : کتب تفاسیر و احادیث میں لکھا ہے کہ یہود میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، ان کے علماء نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اس مقدمے کا فیصلہ محمد ﷺ سے کروا لیتے ہیں، کیونکہ وہ نرم شریعت لے کر آئے ہیں، اگر انھوں نے کوڑے مارنے کا حکم دیا تو ہماری مراد بر آئے گی اور اگر انھوں نے سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو ہم ان کا فیصلہ ٹھکرا دیں گے۔ چناچہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [ مسلم، الحدود، باب رجم الیہود أہل الذمۃ فی الزنٰی : 1699 ] مفصل واقعہ کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (15) کا حاشیہ (1)۔
Ayah 5:42سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لیے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لیے سننا۔ یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں، جیسا کہ آیت (41) کے حاشیہ (2) میں دونوں قسم کے گروہوں کا بیان ہوا ہے۔
لِلسُّحْتِ ۭ: اس کے لفظی معنی مٹانے اور ہلاک کرنے کے ہیں، گویا حرام مال وہ چیز ہے جو انسان کی نیکیوں کو اکارت کردیتا ہے اور ہر اس خسیس مال پر ”سُحْتٌ“ کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے لینے میں عار ہو اور خفیہ طور پر لیا جائے، اس میں رشوت بھی شامل ہے اور احادیث میں زانیہ کی اجرت، کتے، شراب اور مردار کی قیمت کو ”سُحْتٌ“ کہا گیا ہے۔ سود، چوری کا مال اور جوئے سے کمایا ہوا مال بھی ”سُحْتٌ“ میں داخل ہے۔ (کبیر، قرطبی)
3 جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی یہودیوں کی حیثیت محض ایک معاہد قوم کی تھی جس کے ساتھ صلح سے رہنے کا معاہدہ تھا اور وہ ذمی، یعنی اسلامی حکومت کی رعایا نہ تھے، اس لیے نبی ﷺ کی عدالت کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اور یہی اختیار اسلامی حکومت کو کسی غیر مسلم معاہد قوم کے افراد کے درمیان فیصلہ کرنے کا ہے۔ رہے ذمی لوگ سو اگر وہ اپنے مقدمات اسلامی عدالت میں لائیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ضروری ہوگا۔ (المنار) یہی تفصیل امام شافعی ؓ سے منقول ہے، پس اس اختیار کا تعلق معاہد قوم سے ہے۔ (کبیر) مگر دوسرے علماء کا خیال ہے کہ یہ اختیار منسوخ ہے، اب اگر وہ فیصلہ لائیں تو فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان علماء میں عمر بن عبد العزیز اور امام نخعی ; شامل ہیں۔ نحاس نے بھی ناسخ و منسوخ میں یہی لکھا ہے کہ آیت : (فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ) [ المائدۃ : 48 ] سے یہ آیت منسوخ ہے، جس کے معنی ہیں کہ آپ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ امام شافعی ؓ کا زیادہ صحیح قول بھی یہی ہے۔ امام زہری ؓ فرماتے ہیں : ”شروع سے یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ باہمی حقوق اور وراثت میں اہل کتاب کا فیصلہ ان کے دین کے مطابق کیا جائے، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کے خواہش مند ہوں تو پھر اسی کے مطابق کردیا جائے۔“ اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ گو بعض جزئیات میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ان کی اکثریت نسخ ہی کی قائل ہے۔ (قرطبی)
Ayah 5:43وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ : یہاں ان کی جہالت و عناد کا بیان ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ وہ آپ کے پاس لا رہے ہیں، اس کا فیصلہ تورات میں موجود ہے، تاہم آپ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو، لیکن جب آپ کا فیصلہ بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ پر۔ اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصد حیات ہی دنیوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر)
وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات میں موجود رجم کے فیصلے کو اللہ کا فیصلہ قرار دیا ہے، جو لوگ رجم کے منکر ہیں اگرچہ بہت سی صحیح احادیث بھی ان کا رد کرتی ہیں، مگر یہ آیت پختہ ترین مضبوط دلیل ہے کہ قرآن نے تورات میں موجود رجم کے حکم کو اللہ کا حکم قرار دیا ہے، پھر نہ اس کی تردید کی ہے نہ منسوخ کہا ہے، بلکہ اللہ کے اس حکم کو یہود اور مسلمان دونوں پر نافذ فرمایا۔ معلوم ہوا قرآن میں بھی رجم کا ذکر موجود ہے۔
Ayah 5:44اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ۔۔ : اس میں یہود کو تنبیہ ہے جو حد رجم (سنگ ساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے اسلاف، انبیاء، احبار اور علمائے ربانیین کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں بھی موسیٰ ؑ کے بعد عیسیٰ ؑ تک بہت سے پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے اور ان کے درمیان اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ خود عیسیٰ ؑ کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی، بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ ”الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا“ یہ صفت مدح ہے اور ان انبیاء کے فرماں بردار ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ دین ابراہیم کے تابع تھے، یا اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے۔ (قرطبی، کبیر)
بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ : ”بِمَا“ کی باء کا تعلق ”وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ“ سے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوتا تھا تو یہ درویش اور تعلیم یافتہ لوگ یہودیوں کے مابین تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، کیونکہ انبیاء نے انھی کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کا محافظ مقرر کیا تھا اور ”شھداء“ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات کے اللہ کی طرف سے ہونے پر گواہ تھے۔ بعض علماء نے ”بِمَا اسْتُحْفِظُوْا“ کی ”باء“ کا تعلق ”یحکم“ سے بیان کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی جو امانت ان کے سپرد کی گئی تھی وہ اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ (قرطبی، کبیر)
3۔ تورات کی حفاظت کے ذمے دار اور اس کے محافظ تو علماء اور رب والے لوگ بنائے گئے تھے مگر قرآن مجید اور شریعت محمدی ﷺ کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ اگرچہ قرآن کی حفاظت کا کام بھی اللہ تعالیٰ نے علماء اور ربانیین ہی سے لیا مگر اس کا ذمہ خود اٹھانے کی وجہ سے تورات اور قرآن کے محفوظ رہنے میں جو فرق ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ : یعنی تم بھی اپنے انبیاء اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلو اور تورات میں کوئی تحریف نہ کرو، نہ اسے چھپا کر نہ غلط مسئلہ بتا کر دنیا کا فائدہ اٹھاؤ، کیونکہ دنیا جتنی بھی ہو قلیل ہے اور حق بات کہنے میں اور محمد ﷺ کے جو حالات اس میں مذکور ہیں ان کے بیان کرنے میں لوگوں کی پروا مت کرو، نہ ان سے ڈرو، بلکہ صرف میرے انتقام اور عذاب کا ڈر اپنے دلوں میں رکھو۔ حسن بصری ؓ فرماتے ہیں : ”حکام پر اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں لازم کی ہیں : 1 خواہش کی پیروی نہ کریں : (وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) [ صٓ : 26 ] اور فرمایا : (يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا) [ المائدۃ : 44 ] 2 صحیح فیصلہ کرنے میں لوگوں سے نہ ڈریں : (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ) [ المائدۃ : 44 ] اور رشوت لے کر غلط فیصلہ نہ کریں : (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا) [ المائدۃ : 44 ] (بخاری، الأحکام، باب متی یستوجب الرجل القضاء، قبل ح : 7163 ] یہ تینوں باتیں اس آیت میں مذکور ہیں۔
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : یہ خطاب یہود سے ہے، یعنی جب وہ جان بوجھ کر تورات کے فیصلے کو چھپاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باوجود زبانی دعویٰ کرنے کے یہ کافر ہیں۔ مسلم حاکم پر کفر کا فتویٰ اسی وقت لگا سکتے ہیں جب وہ قرآن و حدیث کا انکار کر کے ان کے خلاف فیصلہ صادر کرے، ایسے شخص کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayah 5:45وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : اس آیت میں بھی یہود کو ڈانٹ ہے، یعنی انھوں نے جس طرح رجم (سنگ ساری) کے حکم کو تبدیل کردیا تھا اسی طرح ان پر نفوس (جانوں) اور جروح (زخموں) میں برابری رکھی گئی تھی، جو اب بھی تورات کی کتاب خروج، باب (21) فقرہ (23۔ 25) میں موجود ہے، مگر انھوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہودی قبائل میں سے بنو نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے، اس لیے یہودی بنو نضیر کا قصاص تو بنو قریظہ سے لے لیتے لیکن بنو قریظہ کا قصاص بنو نضیر سے نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کے مقتول کی دیت ادا کردیتے۔ (ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اس آیت میں مذکور مسائل کے حجت ہونے پر اجماع ہے، پس عورت کے بدلے قاتل مرد ہی قتل کیا جائے گا، خواہ چھوٹے قبیلے کا ہو یا بڑے کا، قصاص میں سب برابر ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ)”مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔“ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب فی السریۃ ترد علی أھل العسکر : 2751۔ أحمد : 1؍123۔ نسائی : 2750۔ ح : 995 ابن ماجہ : 2683، وقال الألبانی حسن صحیح ] بعض لوگوں نے اس آیت (جان کے بدلے جان) سے نکالا ہے کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کیا جائے گا، مگر صحیح بخاری (6915) میں رسول اللہ ﷺ کا یہ صریح فرمان موجود ہے : (وَاَنْ یُقْتَلَ مُسْلِمٌ) ”کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر مومن کا کفو (برابر) نہیں ہوسکتا۔ امام شافعی ؓ نے ان بعض لوگوں کے خلاف امت کا اجماع نقل فرمایا ہے جو کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے کے قائل ہیں۔ (ابن کثیر)
اس وقت مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن و سنت کے صریح خلاف ایسے احکام ایجاد کرلیے جن کی موجودگی میں قصاص تقریباً ناممکن ہے۔ انھوں نے یہ قاعدہ بنادیا کہ تیز دھار آلے کے ساتھ قتل کرے یا آگ سے جلائے تو قصاص ہے ورنہ نہیں۔ چناچہ خواہ جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے بھاری سے بھاری پتھر مار مار کر قتل کر دے تو قصاص نہیں ہوگا بلکہ دیت ہوگی، حالانکہ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی کا سر پتھروں سے اسی طرح کچلا تھا جس طرح اس نے ایک بچی کا سر کچلا تھا۔ [ بخاری، الدیات، باب سؤال القاتل حتی یقرّ۔۔ : 6876 ] لہٰذا قرآن و حدیث کے مطابق قتل کے ارادے سے اگر جان بوجھ کر قتل کرنا ثابت ہوجائے تو پھر قصاص ہے، خواہ کسی طرح بھی قتل کرے۔ مگر ان بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو ڈبو کر مار دے، یا بھوکا رکھ کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر مار دے، غرض بہت سی صورتیں بیان کر کے کہتے ہیں کہ ان میں قصاص نہیں، کیونکہ آلہ تیز دھار نہیں۔ ظاہر ہے جن عدالتوں میں ان لوگوں کا حکم چلتا ہو، وہاں قصا ص کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہوں گے جو ان حیلوں کو نہیں جانتے ہوں گے، پھر جب قانون ہی میں انصاف نہ رہے تو کوئی قوم اللہ کی نصرت کے وعدے کی حق دار کیسے رہ سکتی ہے ؟
فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ: عبادتہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگایا جائے، پھر وہ اسے معاف کر دے تو جتنا اس نے معاف کیا اللہ تعالیٰ اتنا ہی اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ [ أحمد : 5؍316، ح : 22767۔ السنن الکبریٰ للنسائی، التفسیر : 11146 ]
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی اگر قرآن و حدیث کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو یہ ظالم ہے۔
Ayah 5:46وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔۔ : عیسیٰ ؑ کوئی نئی شریعت یا نیا دین لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ خود بھی اسی شریعت پر چلتے تھے اور انجیل بھی اسی شریعت پر چلنے کا حکم دیتی تھی۔ انجیل میں ہے : ”یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ تورات سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔“ (انجیل متی : 5: 17، 81) تورات، انجیل اور پھر قرآن کریم کے متعلق ”هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ“ کے اوصاف بیان ہوئے ہیں، ان نازل شدہ کتابوں کا ہدایت ہونا تو اس اعتبار سے ہے کہ یہ دنیا اور آخرت کے حقائق کے بیان پر مشتمل ہیں اور نور (روشنی) اس لحاظ سے کہ انسان کے لیے عملی زندگی میں رہنمائی کا کام دیتی ہیں۔ (کبیر)
Ayah 5:47وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ۭ۔۔ : اہل انجیل کا اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے، فیصلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر لازم ہے کہ انجیل میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو پیش گوئیاں اور دلائل اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ ان کو چھپانے یا ان کی غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ انجیل کے حکم کے مطابق مسلمان ہوجائیں اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کریں اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ نافرمان ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اترا ہوا اللہ کا حکم نہیں مانا۔
Ayah 5:48وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ۔۔ : اوپر کی آیات میں تورات اور انجیل کے اوصاف بیان کیے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نہ ہونے کی وجہ سے کافر، ظالم اور فاسق قرار دیا۔ اب اس آیت میں قرآن کی توصیف بیان کی ہے اور آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔”مُهَيْمِنًا“ کے معنی محافظ، نگہبان اور شاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک سابقہ کتابوں کا محافظ ہے، یعنی ہدایت کے جو علوم، معانی اور مضامین پہلی کتابوں میں تھے وہ سب کمال امانت کے ساتھ بیان کرتا ہے اور یہود کی تحریفات اور غلط تاویلات کو بیان کرتا ہے۔ یہ معنی بھی ہیں کہ تورات اور انجیل کے ہر حکم کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے گا، صحیح اترنے کی صورت میں قبول کرلیا جائے گا ورنہ رد کردیا جائے گا۔
وَمُهَيْمِنًا۔۔ : اس سے پہلے آیت (42) میں نبی کریم ﷺ کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی ہے، لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں۔
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭ: اس کے مخاطب یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہیں، یعنی گو تمام انبیاء کا دین ایک ہے مگر اپنے اپنے وقت میں ہر امت کی شریعت (احکام فرعیہ) اور طریقے مختلف رہے ہیں، ہر بعد میں آنے والے نبی کی شریعت میں پہلی شریعت سے مختلف احکام پائے جاتے ہیں، اب نبی آخر الزماں کی شریعت ہر لحاظ سے مکمل اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ایک حدیث میں ہے : ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ : (واذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3443 ] یعنی سب کا دین اور اصول تو ایک ہیں، اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ صرف فروعی احکام کی حد تک ہے۔ اب آخری نبی کے بعد نہ کسی پہلے نبی کے احکام و مسائل پر عمل ہوگا اور نہ اس امت کے کسی امام و مجتہد کے قول، رائے اور فتویٰ پر۔
وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ : یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو جبراً ایک ہی امت بنا دیتا مگر یہ اختلاف اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اس عقل اور ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے ہو جو اس نے تمہیں دیے ہیں، تاکہ اس پر جزا و سزا ہو سکے۔
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ: یعنی خواہ مخواہ کی کج بحثیوں کو چھوڑ کر ان نیکیوں کو اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھو جن کا اب تمہیں آخری شریعت میں حکم دیا جا رہا ہے۔
Ayah 5:49وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی یہ اہل کتاب اگرچہ آپس میں دست و گریباں رہیں، مگر آپ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں، آپ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں، ایسا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹا دے۔ مزید دیکھیے سورة نساء (113) ، سورة بنی اسرائیل (73 تا 75) اور سورة قلم (8، 9)۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق سے محروم رکھ کر اس دنیا میں ان کو جلاوطنی، جزیہ یا قتل کی سزا دے، کیونکہ ان میں انصاف پسند اور حق پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں کی شامت کیا کیا نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ خطبہ میں کہا کرتے تھے : (وَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا) [ ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح : 1892 ] ”ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔“
Ayah 5:50اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭ۔۔ : کیا یہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کیے ہوئے فیصلے کو چھوڑ کر کفر و جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کی بنیاد ذاتی خواہشات پر ہوتی تھی اور جن میں کمزور کے مقابلے میں طاقت ور کی طرف داری کی جاتی تھی، اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ چھوٹے درجے کے آدمی کے مقابلے میں بڑے کی رعایت کرتے، کمزوروں پر حدود قائم کرتے اور مال دار طبقہ کی رعایت کرتے۔ (کبیر، قرطبی)
افسوس بعض مسلم حکام کے زمانے کے علماء نے ایسے احکام اور حیلے ایجاد کیے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کا نفاذ تقریباً ناممکن ہوگیا، مثلاً انھوں نے شراب کی ایک دو قسمیں چھوڑ کر باقی نشہ آور چیزیں حلال کردیں۔ اجرت پر لائی ہوئی عورت کے ساتھ زنا پر حد ختم کردی۔ قصاص کو جیسا کہ اوپر گزرا تقریباً باطل کردیا۔ سود کی کئی صورتوں کو حلال کردیا۔ چور کو عدالت میں پیش ہونے کے بعد بھی صاحب مال کو معاف کرنے کا اختیار دے دیا۔ شواہد کے ساتھ چور کا جرم ثابت ہونے کے بعد چور کے صرف اس دعوے سے کہ یہ میرا مال تھا، اس کی حد معاف کردی، خواہ وہ اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ اس امام (حاکم) کو جس سے اوپر کوئی امام نہ ہو ایک دو چیزوں کے سوا تمام حدود معاف کردیں اور جاہلیت کے ان احکام کو شرع اسلام قرار دے کر مسلمان ملکوں میں نافذ کردیا، تو کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ”پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں“ جس طرح یہود و نصاریٰ میں شریعت بدلنے والوں کے لیے تھا، اسی طرح ایسے مسلمانوں کے لیے نہیں ہوگا جو قرآن و حدیث کے صریح احکام کے مقابلے میں اپنے من گھڑت احکام نافذ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی دنیا پر غلبے سے محرومی اور کفار کی بدترین غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اب بھی مسلمانوں کے اکثر حکام نے طرز حکومت اور ملکی قانون کفار کے طریقے کے مطابق بنایا ہوا ہے اور وہ ایسی علماء کونسلیں بناتے رہتے ہیں جو قدیم جاہلیت کے ساتھ ساتھ نئی سے نئی جاہلیت کے نفاذ کے لیے قانون بنائیں اور اس کا نام اسلامی کونسل رکھتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
Ayah 5:51يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘ۔۔ : ”اَوْلِيَاۗءَ ۘ“ یہ ”وَلِیٌّ“ کی جمع ہے، مراد دلی دوست ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور یہ طے شدہ بات ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، تو جسے تم اپنا خیر خواہ سمجھ کر دوست بنا رہے ہو اس کی اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ بھی دوستی ہے جو تمہارے شدید دشمن ہیں، وہ آپس میں کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں تمہاری عداوت میں وہ ایک ہیں اور ایک دوسرے کے مدد گار ہیں، تو تمہاری یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس پر اتنی سختی فرمائی کہ فرمایا تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھی میں سے ہے۔ رہا ان سے اچھا تعلق رکھنا، خوش اخلاقی، حسن سلوک اور احسان تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کرسکتے ہو جنھوں نے دین کی وجہ سے تم سے جنگ نہیں کی، جن کا ذکر سورة ممتحنہ (8) میں ہے۔ صرف یہود و نصاریٰ ہی سے نہیں تمام کفار کی دلی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (23) ، سورة مجادلہ (22) اور آل عمران (28، 118)۔
Ayah 5:52فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ۔۔ : یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے اور ان کے ساتھ دوستی کیے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں مسلمان زمانے کے کسی چکر میں آ کر مغلوب نہ ہوجائیں، پھر ہمارا کیا بنے گا، اس وقت ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی، سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے، بلکہ یقیناً ہوگا لفظ ”عَسٰی“ اللہ اور رسول کے فرمان میں یقین کے معنی میں آتا ہے) کہ مسلمانوں کو فتح ہوگی، کافر مغلوب ہوں گے، پھر وہ قتل ہوں گے، یا جلاوطن ہوں گے، یا انھیں جزیہ دینا پڑے گا، پھر ان منافقین کو ندامت ہوگی کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، بنو قریظہ کے یہودی قتل ہوئے، بنو نضیر کو سر زمین مدینہ سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ اپنے نفاق پر کف افسوس ملتے رہ گئے۔
Ayah 5:53وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا۔۔ : یعنی مسلمان جب جنگ کے وقت منافقین کو یہود و کفار کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہم سے پکی قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کفار کے دشمن ہیں ! ! اب ان کی حقیقت کھل گئی۔
Ayah 5:54يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ : اللہ تعالیٰ جو ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے، اسے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد ہوجائیں گے، اس لیے اس نے آئندہ سے متعلق یہ آیت پہلے ہی نازل فرما دی۔ چناچہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو تین مقامات مکہ، مدینہ اور بحرین کے علاوہ تمام علاقوں سے عرب قبائل کے مرتد ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت ابوبکر صدیق ؓ نے ان مرتدین سے جہاد کیا۔ اس فتنۂ ارتداد کا خاتمہ جن لوگوں کے ہاتھوں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفات بیان کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ابوبکر ؓ اور ان کے ساتھی انصار و مہاجرین اور یمن سے آنے والے مجاہدین میں یہ پانچوں خوبیاں موجود تھیں۔ کتنے بےنصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے لوگوں سے بغض رکھتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے : 1 اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ 2 مومنوں پر بہت نرم ہیں۔ 3 کافروں پر بہت سخت ہیں۔ 4 اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں 5 اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ان خوش نصیب لوگوں کے سردار اور خلیفہ ابوبکر ؓ تھے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات پر عرب دین سے پھرے تو ابوبکر ؓ نے یمن سے مسلمان بلائے، ان سے جہاد کروایا کہ تمام عرب مسلمان ہوئے، یہ ان کے حق میں بشارت ہے۔ (موضح)
ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ اس (ابو موسیٰ) کی قوم ہے۔“ (ابن ابی حاتم، ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ الغرض ابوبکر ؓ ، ان کے ساتھی مہاجرین و انصار اور اہل یمن میں یہ خوبیاں موجود تھیں۔
صاحب الکشاف نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے والوں کے بارہ (12) فرقے تھے، ان میں سے تین فرقے تو آپ ﷺ کی زندگی ہی میں مرتد ہوگئے تھے : 1 بنو مدلج جن کا رئیس اسود عنسی تھا، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسے فیروز دیلمی نے قتل کیا۔ (کشاف کے محشی نے لکھا ہے کہ اسود عنسی بنو مدلج سے نہیں بلکہ بنو عنس سے تھا) 2 مسیلمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ، جس سے ابوبکر صدیق ؓ نے جنگ کی اور وہ حمزہ ؓ کے قاتل وحشی ؓ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ 3 بنو اسد جن کا رئیس طلیحہ بن خویلد تھا، ان کی سرکوبی کے لیے خالد بن ولید ؓ کو بھیجا گیا۔ یہ شخص آخر میں مسلمان ہوگیا تھا۔