Ayah 4:1خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ : یعنی پوری نوع انسانی آدم ؑ کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے دن) لوگ آدم ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (لقد أرسلنا۔۔) : 3340، عن أبی ہریرہ ؓ ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔
2 وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہوتا ہے، سو اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس طرح فائدہ اٹھاؤ گے کہ اس میں برابر ٹیڑھا پن ہوگا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ : 3331، 5184، عن أبی ہریرہ ؓ ] بعض روایات میں ہے : (وَ کَسْرُہَا طَلاَقُہَا) ”اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء : 59؍715۔ بخاری : 5184 ]
قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ حواء[ آدم ؑ سے پیدا ہوئیں۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ پسلی سے پیدا ہوئیں، اس کی کیفیت رسول اللہ ﷺ نے بیان نہیں کی۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ عورت میں کچھ ٹیڑھا پن رہتا ہی ہے، اس لیے اسے پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر قرآن کے صریح الفاظ کہ آدم سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، ان کے ساتھ حدیث ملائیں تو اس کا پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہاں، اس کی کجی بھی اپنی جگہ درست ہے۔
تَسَاۗءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ : یعنی جس اللہ کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اس اللہ سے ڈرو۔ ”وَالْاَرْحَامَ“ اس کا عطف لفظ ”اللہ“ پر ہے، یعنی ”وَاتَّقُوا الْأَرْحَامَ“ کہ قطع رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے بچو۔ ”الْاَرْحَامَ ‘ کو میم کے کسرہ سے پڑھنا غلط ہے اور قواعد نحویہ کی رو سے بھی ٹھیک نہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی جس رشتہ داری کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ (قرطبی) شوکانی ؓ فرماتے ہیں کہ تمام علمائے شریعت و لغت کا اتفاق ہے کہ ”الارحام“ سے محرم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے۔ دیکھیے سورة محمد (22، 23) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”رشتے داری کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم القاطع : 5984، عن جبیر بن مطعم ؓ ] اور فرمایا : ”جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کے نشان (قدم) دیر تک رکھے جائیں وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ بخاری، الأدب، باب من بسط لہ فی الرزق۔۔ : 5983، عن أبی أیوب الأنصاری ؓ ]
رَقِيْبًا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی ﷺ : 50۔ مسلم : 8، عن أبی ہریرۃ و عمر ]
Ayah 4:2وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ : یعنی جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کر دو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز (طیب) لے کر اس کی جگہ ردی چیز (خبیث) رکھ دو۔ طیب اور خبیث حلال اور حرام کے معنی میں بھی آتے ہیں، اس لیے بعض نے یہ معنی کیا ہے کہ اپنا حلال مال چھوڑ کر دوسرے کا مال مت کھاؤ جو تمہارے لیے حرام ہے۔“ آیت میں ”الٰی“ بمعنی ”مَعَ“ ہے، یعنی ان کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملاؤ، ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہاں، اصلاح کی نیت سے ملانا جائز ہے۔ [ دیکھیے البقرۃ : (220) ]
Ayah 4:3وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا۔۔ : اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عروہ بن زبیر ؓ کے ایک سوال کے جواب میں ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ”بعض یتیم لڑکیاں کچھ لوگوں کی پرورش میں ہوتیں، وہ ان لڑکیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان سے نکاح کرلیتے، لیکن انھیں اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اور نہ ان کے دوسرے حقوق ویسے ادا کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ اگر تم یتیم لڑکیوں سے ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے، جو تمہیں پسند ہوں، نکاح کرلو۔ [ بخاری، التفسیر، باب :
(وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا) : 4574 ]
مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ: اس آیت سے ابن عباس ؓ اور جمہور علماء نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں، یہ صرف رسول اللہ ﷺ کا خاصہ ہے۔ امام شافعی ؓ فرماتے ہیں کہ سنت سے بصراحت یہ مسئلہ ثابت ہے۔ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں کہ شافعی ؓ نے جو فرمایا، اس پر علماء کا اجماع ہے۔ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔“ [ أحمد : 2؍14، ح : 4630۔ ابن ماجہ، النکاح، باب الرجل یسلم و عندہ۔۔ : 1953، عن ابن عمر ] مزید صحابہ کے واقعات ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
قرطبی ؓ لکھتے ہیں : ”رافضی (شیعہ) اور بعض دوسرے لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ شادیاں چار سے زائد بھی جائز ہیں، مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا۔۔ : اس سے بعض لوگوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر۔ اس کے ساتھ وہ دوسری آیت بھی ملاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُم) [ النساء : 129 ] ”اور تم ہرگز نہ کرسکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری (عدل) کرو، خواہ تم حرص بھی کرو۔“ خلاصہ دونوں کا یہ نکالا کہ جب عدل ہو ہی نہیں سکتا تو مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ ان حضرات نے وہی کام کیا ہے جو (لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ) والے حضرات کرتے ہیں کہ آگے (وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى) [ النساء : 43 ] پڑھتے ہی نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پورا فرمان یوں ہے : ”اور تم ہرگز نہ کرسکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جاؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو ، اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بیشک اللہ ہمیشہ سے بیحد بخشنے والا، بیحد مہربان ہے۔“ معلوم ہوا وہ عدل جو انسان کر ہی نہیں سکتا، یعنی دلی میلان، وہ واجب ہی نہیں۔ زیادہ بیویاں ہمارے نبی اور اصحاب کی سنت ہے۔
ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا : یعنی اگر کسی کو خوف ہے کہ وہ اتنا عدل بھی نہیں کرسکتا جتنا واجب ہے کہ رات رہنے اور نان و نفقہ میں بھی برابری نہیں کرسکتا، کیونکہ دلی محبت اور میلان و صحبت میں تو برابری ممکن ہی نہیں، تو ایک بیوی رکھے یا لونڈیاں، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے : ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تمہارے عیال زیادہ نہ ہوجائیں اور تم فقیر نہ ہوجاؤ“ اور پھر اس پر برتھ کنٹرول کی بنیاد رکھ دی ہے کہ بچے کم پیدا کرو۔ حالانکہ بچے تو لونڈیوں سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور لونڈیوں کی تعداد بھی مقرر نہیں اور رسول اللہ ﷺ نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا، چناچہ فرمایا : ”ان عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے جننے والی اور بہت محبت کرنے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء : 2050، عن معقل بن یسار ؓ ]
پھر ”اَلَّا تَعُوْلُوْا“ کا معنی خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو، انصاف سے نہ ہٹو۔“ [ ابن حبان : 4029، عن ابن عباس ؓ ]
Ayah 4:4جاہلیت میں عورتوں کا مہر لوگ خود لے لیتے اور انھیں کچھ بھی نہیں دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو ، پھر اگر کوئی عورت خوش دلی سے مہر کا کچھ حصہ یا سارا شوہر کو دے دے تو وہ خاوند کے لیے جائز ہے اور خوش دلی سے کھا سکتا ہے، لیکن اگر عورت شوہر کی بد اخلاقی یا برے برتاؤ کی وجہ سے معاف کرے اور شوہر قبول کرے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ اسی طرح اگر دھوکا دے کر مہر معاف کروالے، پھر طلاق دے دے تو وہ بھی جائز نہیں ہوگا، بلکہ مہر دینا پڑے گا، کیونکہ وہ خوش دلی کے خلاف ہے۔
Ayah 4:5یہاں بےسمجھوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کے انتظام کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھوٹے بچے اور ناتجربہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی، یعنی اگر یتیم ناتجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھانے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے، مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ ابوموسیٰ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ آدمی جس کی بیوی بدخلق تھی پھر اس نے اسے طلاق نہیں دی اور ایک آدمی جس کا کسی شخص کے ذمے مال تھا مگر اس نے اس پر کوئی گواہ نہیں بنایا اور ایک وہ آدمی جس نے کسی سفینہ (بےوقوف) کو اپنا مال دے دیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم بیوقوفوں کو اپنے مال مت دو۔ (صحیح الجامع : 3075) اس آیت سے علماء نے سفیہ (کم عقل) پر ”حجر“ (پابندی) کا حکم اخذ کیا ہے کہ حاکم وقت اس کے لین دین پر پابندی لگا سکتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 4:6وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰى۔۔ : بلوغت کے لیے مرد کی علامت احتلام اور عورت کی حیض ہے، علی ؓ نے فرمایا : ”میں نے (بلوغت کے سلسلے میں) رسول اللہ ﷺ سے سن کر یہ یاد رکھا ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور دن سے لے کر رات تک خاموشی نہیں۔“ [ أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم : 2873 ] عطیہ قرظی ؓ بیان کرتے ہیں : ”قریظہ کے دن ہمیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جس کے (زیر ناف) بال اگے تھے اسے قتل کردیا گیا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا گیا، میں ان میں سے تھا جن کے بال ابھی نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔“ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد : 4404 ]
جنگ میں شرکت کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ابن عمر ؓ کو چودہ سال کی عمر میں احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ خندق میں جائزہ لیا گیا تو پندرہ سال کے تھے، آپ نے اجازت دے دی۔ نافع نے عمر بن عبد العزیز ؒ کو یہ حدیث پہنچائی تو انھوں نے کہا : ”بچے اور بڑے کا یہی فرق ہے۔“ [ بخاری، الشہادات، باب بلوغ الصبیان۔۔ : 2664 ] مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق بچے اور اس بڑے کا ہے جسے جنگ میں شرکت کی اجازت ہے۔ محج بلوغت کی علامت احتلام ہے اگر اس کا علم نہ ہو سکے تو زیر ناف بال اگنا ہے۔
فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا : یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سا مال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کر دیکھو کہ آیا وہ مال کو بڑھاتے ہیں یا نہیں، پھر جب وہ بالغ ہوجائیں اور ان میں رشد ہو تو بلا توقف مال ان کے حوالے کر دو۔ ”رشدا“ سے مراد عقلی اور دینی صلاحیت ہے، پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے، اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہوجائے متولی یا وصی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
3 ”فَلْيَسْتَعْفِفْ“ عَفَّ یَعِفُّ (ض) کا معنی بچنا ہے۔ فلیستعفف باب استفعال میں حروف کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ”بہت بچے“ کیا گیا ہے۔
4 ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا۔۔ : جانا پہچانا طریقہ یہی ہے کہ اس کے اموال کی نگرانی کی اجرت، جو معروف ہے، لے لے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ اتنا لے لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔
5 فَاَشْهِدُوْا عَلَيْھِمْ ۭ : یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے رو برو مال واپس کرے، تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔ (وَكَفٰى باللّٰهِ حَسِـيْبًا) کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو تو مطمئن کرلو گے، مگر اصل حساب تو اللہ تعالیٰ نے لینا ہے، اس کا خاص خیال رکھو۔
Ayah 4:7لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ۔ : اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتے داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں، چاہے وہ کسی نوعیت کی ہو، جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھوٹے بچوں، حتیٰ کہ جنین کا بھی حق ہے۔ اس سے عرب کے جاہلی دستور کی تردید مقصود ہے۔ جس کے مطابق عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کردیا جاتا اور صرف بالغ لڑکے ہی جائداد پر قبضہ کرلیتے تھے۔ اس آیت کی شان نزول اور مردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعیین بعد کی آیات میں آرہی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 4:8یعنی وارثوں کو چاہیے کہ متروکہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدقہ و خیرات ان رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں اور تقسیم کے وقت موقع پر پہنچ جائیں اور اگر وہ لوگ زیادہ حرص کریں تو ”ان سے اچھی بات کہو۔“ یعنی معذرت کرو کہ یہ وارثوں کا مال ہے، تمہارا حق نہیں ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ حکم ”فرائض“ یعنی وارثوں کے حصے مقرر ہونے سے پہلے تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لیے اب یہ بخشش نہیں ہے، اب صدقہ و خیرات میت کی وصیت ہی سے ہوسکتا ہے، لیکن بخاری میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں اور وارثوں کو حکم ہے کہ تقسیم ترکہ کے وقت رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں۔ [ بخاری، التفسیر، باب و إذا حضر القسمۃ۔۔ : 2759 ]
Ayah 4:9وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ۔۔ : یہ حکم میت کی وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کے مفاد کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھوٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے، لہٰذا انھیں یتیموں سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ یتیموں کے اولیاء سے اس آیت کا تعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بعد میں یتامیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کے متعلق جو وعید آرہی ہے اولیاء کی اس کے ساتھ زیادہ مناسبت پائی جاتی ہے۔ ویسے عام مسلمانوں کو بھی یتیموں کے ساتھ خاص احسان اور سلوک کرنے کا حکم ہے۔
Ayah 4:10اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس سے اجتناب کی مزید تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سات تباہ کن چیزوں سے اجتناب کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟“ فرمایا : ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اس جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن، بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [ بخاری، الحدود، باب رمی المحصنات : 6857، عن أبی ہریرہ ]
Ayah 4:11يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ۔ : اب یہاں سے وارثوں کے تفصیلی حصوں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ”یہ دونوں آیات اور اس سورت کی آخری آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تفصیلی حصے ان تین آیات سے مستنبط ہیں اور وراثت کے حصوں سے متعلقہ احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ (ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ جب جابر بن عبداللہ ؓ بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جابر ؓ نے آپ ﷺ سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (یوصیکم اللہ فی اولادکم) [ بخاری، التفسیر، باب : (یوصیکم اللہ فی أولادکم) : 4577 ] ایک حدیث میں ہے کہ سعد بن ربیع ؓ وفات پا گئے اور ان کی بیٹیوں کے چچا نے سارا ورثہ سنبھال لیا۔ سعد ؓ کی دو لڑکیاں تھیں۔ ان کی بیوی نے آپ ﷺ سے ورثے کا سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے لڑکیوں کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو بچ جائے وہ تمہارے لیے ہے۔ [ أبو داوٗد، عن جابر بن عبد اللہ الفرائض،
باب ما جاء فی میراث الصلب : 2891، الترمذی : 2092۔ و أحمد : 3؍352، ح : 14810 ]
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ : مطلب یہ ہے کہ جب اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے گا، اسے دو حصے دینے کی وجہ یہ ہے کہ مرد پر عورت کی نسبت معاشی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ (مہر ہی کو لے لیجیے کہ مرد دیتا ہے، عورت لیتی ہے، اسی طرح عورت کا نان و نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے) اس بنا پر مرد کے لیے عورت سے دگنا حصہ دینا عین قرین انصاف ہے۔ (قرطبی و ابن کثیر)
فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ۔۔ : دو سے زیادہ ہی کا نہیں دو عورتوں کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ اس آیت کے پہلے فائدے میں سعد بن ربیع ؓ کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دینے کا ذکر ہوا ہے، پھر اس سورت کی آخری آیت میں جب دو بہنوں کو دو تہائی حصہ دیا گیا ہے تو دو بیٹیوں کو بدرجہ اولیٰ دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ بیٹی، بہن کے مقابلہ میں آدمی کے زیادہ قریب ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو لڑکیوں کا دو تہائی حصہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر)
4 اس حکم سے چند صورتیں مستثنیٰ ہیں : 1 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا نُوْرَثَ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ) [ بخاری، فرض الخمس، باب لا ہجرۃ بعد الفتح : 3093 ] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ لہٰذا آپ ﷺ کی میراث تقسیم نہیں ہوئی۔ (دیکھیے مریم : 6) 2 جان بوجھ کر قتل کرنے والا اپنے مقتول کا وارث نہیں ہوگا۔ یہ حکم سنت سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [ ابن ماجہ، الفرائض، باب میراث القاتل : 2735 ] 3 اسامہ بن زید ؓ راوی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے۔“ [ بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم۔۔ : 6764] صرف باپ یا اولاد نہیں، کوئی بھی کافر اور مسلمان کسی بھی مسلمان اور کافر کا وارث نہیں ہوگا وراثت کے ضمن میں بات عام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَھَا النِّصْفُ ۭ : اس سے بھی معلوم ہوا کہ جب ایک بیٹی کا نصف ہے تو دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کا دو تہائی ہونا چاہیے۔
وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ۔۔ : یعنی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کو کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، مثلا میت کی ایک بیٹی اور ماں باپ ہیں تو ترکہ کے چھ مساوی حصے کرلیے جائیں۔ بیٹی کو تین حصے (نصف) ماں کو ایک حصہ (سدس) باپ کو ایک حصہ (سدس) مقررشدہ اور ایک حصہ (سدس) عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے گا۔ اور اگر میت کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں تو ترکہ کے چھ حصوں میں چار حصے (دو ثلث) بیٹیوں کے اور ایک ایک حصہ (سدس) ماں باپ کا ہوگا اور اگر ماں باپ کے ساتھ لڑکے لڑکیاں دونوں ہیں تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ دینے کے بعد جو باقی بچے اس میں سے لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ہوگا۔
فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ۔۔ : یہ ماں باپ کی دوسری حالت ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ زندہ ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا اور بقیہ دو تہائی حصہ باپ کو مل جائے گا اور اگر ماں باپ کے ساتھ میت کے مرد ہونے کی صورت میں بیوی اور عورت ہونے کی صورت میں اس کا شوہر بھی زندہ ہو تو شوہر یا بیوی کا حصہ، جس کا ذکر آگے آ رہا ہے، پہلے نکالنے کے بعد باقی ماندہ سے ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ والدین کی مذکورہ دونوں صورتیں قرآن مجید سے ہی واضح ہو رہی ہیں کیونکہ پہلی صورت میں ساتھ یہ ہے ”وَّوَرِثَهٗٓ اَبَوٰهُ“ یعنی اس کے وارث صرف ماں باپ ہوں۔ بیوی یا خاوند موجود ہونے کی صورت دوسری ہے۔ اس میں والدہ کو باقی کا ثلث اس لیے دیا جائے گا کہ عورت (ماں) کا حصہ، مرد (باپ) کے نصف سے زیادہ نہ ہوجائے۔ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ”یہی قول فقہائے سبعہ، ائمہ اربعہ اور جمہور اہل علم کا ہے۔
فَاِنْ كَانَ لَهٗٓ اِخْوَةٌ۔۔ : یہ ماں باپ کی تیسری حالت کا بیان ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو، ماں باپ کے علاوہ بھائی بھی ہوں (خواہ ماں باپ دونوں سے یا صرف ماں سے یا صرف باپ سے) تو باپ کی موجودگی میں انھیں حصہ تو نہیں ملے گا، البتہ وہ ماں کا حصہ تہائی سے چھٹا کردیں گے اور اگر ماں کے ساتھ سوائے باپ کے کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو بقیہ سارا 6؍5 حصہ باپ کو مل جائے گا یاد رہے کہ ”اخوۃ“ کا لفظ جمع ہے اور یہ جمہور علماء کے نزدیک دو کو بھی شامل ہے، لہٰذا اگر صرف ایک بھائی ہو تو وہ ماں کا تہائی سے چھٹا حصہ نہیں کرسکتا۔ (ابن کثیر)
مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ۔۔ : میت کے مال میں سے اول کفن دفن پر صرف کیا جائے، پھر باقی ماندہ سے حسب مراتب قرض ادا کیا جائے، سب سے زیادہ ادا کرنے کا حق دار اللہ تعالیٰ کا قرض ہے مثلا اگر زکاۃ یا حج اس کے ذمے ہے تو وہ ادا کیا جائے پھر دوسرے قرض اد اکیے جائیں۔ پھر مال کے تہائی حصے سے وصیت پوری کی جائے، اس کے بعد وارثوں کے درمیان باقی ترکے کے حصے کیے جائیں۔ (قرطبی) قرآن میں گو قرض کا ذکر وصیت کے بعد ہے، مگر سلف و خلف کا اس پر اجماع ہے کہ ادائے قرض وصیت پر مقدم ہے، لہٰذا پہلے قرض ادا کیا جائے، پھر وصیت کا نفاذ ہونا چاہیے، غور سے دیکھیں تو آیت کے معنی و مفہوم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں وصیت کو قرض سے پہلے ذکر کرنے کی اہل علم نے کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ عام طور پر وصیت پر عمل میں کوتاہی کی جاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکید کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا : یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم و حکیم ہے، اس نے خود میراث کا یہ قانون اس لیے مقرر فرمایا کہ تم اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھتے، اگر تم اپنے اجتہاد سے ورثہ تقسیم کرتے تو حصوں کا ضبط میں لانا مشکل تھا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی ان حصوں میں عقل کا دخل نہیں، اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں، وہ سب سے دانا ہے۔“ (موضح)
Ayah 4:12وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمہیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمہیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمہارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمہاری اولاد یا اولاد کی اولاد ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی، اس پر اجماع ہے۔
يُّوْرَثُ كَلٰلَةً : اگر کوئی مرد یا عورت مرجائے، اس کا نہ والد ہو نہ اولاد تو اسے ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
وَّلَهٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ: بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں : 1 عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ 2 علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ 3 اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراءت میں بھی ہے۔
4 اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں : 1 یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ 2 ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ 3 ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ 4 خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (2؍1) ملے گا، ماں کو سدس (6؍1) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر ؓ نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت ؓ اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی ; کا یہی مسلک ہے، البتہ علی ؓ اخیافی بھائیوں کو دیگر سگے بھائیوں کے عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی ؓ نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر۔ فتح القدیر)
فَھُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ : ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کردیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہوگی، جیسا کہ آیت میں : ”شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ“ سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر ؓ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جاسکتا۔ (ابن کثیر)
ۙغَيْرَ مُضَاۗرٍّ ۚ : یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہوگا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کرلیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔“ [ السنن الکبریٰ للنسائی 10؍60، ح : 11026 و سندہ صحیح ]
Ayahs 4:13–14تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کردیں اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔
Ayahs 4:15–16وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ۔۔ : اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کو وراثت میں شریک قرار دے کر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا، اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے، تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے۔ (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزا بیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انھیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے، یہاں تک کہ وہ مرجائیں، یا اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی دوسری سزا نازل فرما دے۔ اسلام میں زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورة نور میں جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی ہے، یہاں ”سبیلا“ سے اسی طرف اشارہ ہے۔ دوسری آیت میں زانی مرد اور زنا کار عورت کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ ان کو اذیت دی جائے اور ذلیل کیا جائے، حتیٰ کہ تائب ہوجائیں، یہ سزا پہلی سزا کے ساتھ ہی ہے، بعد میں یہ دونوں سزائیں منسوخ ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھ سے (احکام دین) لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل پیدا فرما دی ہے کہ کنوارا کنواری کے ساتھ (زنا کرے) تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔“ [ مسلم، الحدود،
باب حد الزنی : 1692، عن عبادۃ بن الصامت ؓ ] مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور (2)۔
اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ : چونکہ زنا کی سزا نہایت سخت ہے، اس لیے اس پر گواہی بھی زیادہ مضبوط رکھی۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز شمار کی جا رہی ہے، وہ مذکر ہو تو عدد مؤنث ہوتا ہے، اس لیے ”اربعہ“ کی وجہ سے ترجمہ ”چار مرد“ کیا ہے۔
وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا : بعض علماء نے اس سے مراد قوم لوط کا عمل کرنے والے دو مرد لیے ہیں اگرچہ ”الذان“ کے لفظ میں، جو تثنیہ مذکر کے لیے آتا ہے اس کی گنجائش ہے، مگر یہ مطلب نہ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، نہ کسی صحابی سے، بلکہ طبری اور ابن ابی حاتم نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے، انھوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عورت جب زنا کرتی تو گھر میں بیٹھی رہتی یہاں تک کہ فوت ہوجاتی اور ابن عباس نے (وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْھُمَا ۚ) کے متعلق فرمایا کہ مرد جب زنا کرتا تو اسے تعزیہ اور جوتے مارنے کے ساتھ ایذاء دی جاتی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیات نازل فرمائیں : (اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۠) [ النور : 2 ] یعنی زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد کو سو کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ شادی شدہ ہوں تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق انھیں رجم کردیا جائے گا یہ ہے وہ ”سبیل“ جو اللہ نے فرمایا ”اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا ‘ (یہاں تک کہ انھیں موت اٹھائے جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے) اسی طرح طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ”وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ“ سے مراد زنا کرنے والے مرد عورت ہیں۔ علاوہ ازیں ”يَاْتِيٰنِھَا“ میں ”ہا“ کی ضمیر پچھلی آیت میں مذکور الفاحشہ کی طرف جا رہی ہے جس سے اس مقام پر مراد زنا ہے۔ اس فاحشہ سے مراد قوم لوط کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ رہا ”اللذان“ تثنیہ مذکر کا لفظ تو دو افراد اگر مذکر و مؤنث ہوں تو ان کے لیے تثنیہ مذکر کی ضمیر عام استعمال ہوتی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
Ayah 4:17اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ : یہاں ”علی اللہ“ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالۃ سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالۃ سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے ”بجھالۃ“ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے ہیں تو ”من قریب“ یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، کہ یہاں ”بجہالۃ“ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بیخبر ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے اگر اس کا انجام پوری طرح اس کی آنکھوں کے سامنے ہو تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کرسکتے، ”من قریب“ کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayah 4:18وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ موت کے وقت اس کی روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل۔۔ : 3537، عن ابن عمر ؓ ] آخری وقت میں تو فرعون نے بھی توبہ کرلی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ) [ یونس : 91 ] ”کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔“
وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ : یعنی جو لوگ مرتے دم تک شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے آثار دیکھ کر توبہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا باللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ (84) فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ) [ المؤمن : 84، 85 ] ”پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔ پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔“ [ نیز دیکھیے الأنعام : 158 ] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں، جب تک حجاب نہ گرے۔“ صحابہ نے دریافت کیا : ”حجاب گرنے سے کیا مراد ہے ؟“ فرمایا : ”یہ کہ جان نکلے اور وہ مشرک ہو۔“ [ أحمد : 5؍174، ح : 21578 عن أبی ذر ]
Ayah 4:19اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭ : زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمناً توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اس سے مقصد عورتوں کو اس ظلم و زیادتی سے نجات دلانا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے مخاطب یا تو شوہر کے اولیاء ہیں، جیسا کہ امام بخاری ؓ اور دوسرے محدثین نے اس آیت کی شان نزول میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں میت کے اولیاء دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے تھے، ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو خود اس سے شادی کرلیتا، یا کسی دوسرے سے شادی کردیتے (اور مہر خود لے لیتے) اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتاً شادی سے ہی روک دیتے (حتیٰ کہ وہ مرجاتی اور اس کے مال کے وارث خود بن جاتے) عورت کے اولیاء کو اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہ ہوتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عورت پر ان کے تسلط کو ختم کردیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب لا یحل لکم۔۔ : 4579 ] اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے مخاطب شوہر ہوں، چناچہ بعض علماء نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ وہ عورتوں کو طلاق نہ دیتے بلکہ تنگ کرتے رہتے، تاکہ اگر مرجائیں تو ان کے وارث بن جائیں اور اگر طلاق لینا چاہیں تو جو کچھ انھیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلی صورت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اسے نکاح سے روکنا جائز نہیں، بلکہ وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے اور خاوند کے اولیاء اس طرح زبردستی اس کے وارث نہیں بن سکتے۔ دوسری صورت میں، یعنی جب شوہر مخاطب ہوں، تو خلاصہ یہ ہوگا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ عورت سے مہر واپس لینے کی غرض سے اسے تنگ کرتا رہے اور طلاق نہ دے، حتی کہ وہ خلع پر مجبور ہوجائے۔ یہ دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور ابن عطیہ وغیرہ نے اسی کو پسند کیا ہے، اس لیے کہ آیت کے بقیہ حصے کا تعلق بلا شک و شبہ شوہروں ہی کے ساتھ ہے، کیونکہ واضح بےحیائی کے ارتکاب کی صورت میں خاوند ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے روک رکھے، تاکہ اسے مہر وغیرہ، جو کچھ دیا ہے، واپس لے کر طلاق دے، شوہر کے اولیاء کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (فتح القدیر۔ قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہو، جس میں شوہر، میت کے اولیاء اور دوسرے مسلمان سبھی آجاتے ہوں۔ (فتح القدیر)
اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ : ابن کثیر ؓ کا قول ہے کہ ابن عباس ؓ ، عکرمہ اور ضحاک ; نے ”نَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“ سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر ؓ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہوگا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کرسکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔
3 وعاشروہن بالمعروف : یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خَیْرُُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہِ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ) [ ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ : 1977، عن ابن عباس ؓ۔ ترمذی : 3895 ] ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہت رہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“
فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى۔۔ : یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمہیں ان سے نفرت ہوجائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو ، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہوسکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہوجائے یا مال میں برکت ہوجائے اور تمہاری نفرت محبت میں تبدیل ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہوگی تو دوسری پسند بھی ہوگی۔“ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء : 1467، عن أبی ہریرہ ؓ ] اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو ہوسکتا ہے کہ اس علیحدگی میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو، مثلاً ان کو بہتر خاوند مل جائے۔ دیکھیے سورة نساء (130)
Ayahs 4:20–21وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ۔۔ : یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے ”اثما مبینا“ فرمایا۔
وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر کی کوئی حد معین نہیں ہے خاوند اپنی حیثیت کے مطابق جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے اس مقام پر امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ کے مہر زیادہ رکھنے سے منع کرنے پر ایک عورت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس نے زیادہ مہر کے جواز کے لیے یہ آیت پڑھی تو عمر ؓ نے فرمایا کہ عمر سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے۔ اور اس سے کئی دشمنان صحابہ عمر ؓ پر طعن کرتے ہیں۔ عورت کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں تفصیل کے لیے دیکھیں ارواء الغلیل (1927)
وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰى۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہوسکتا۔ چناچہ آپ نے لعان کرنے والے مرد کے مہر واپس لینے کے مطالبے پر فرمایا تھا : ”اگر تم نے اپنی بیوی پر زنا کی بات سچ کہی ہے تو مہر اس کے عوض ہے جو تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی اور اگر اس پر جھوٹ کہا ہے تو پھر تو (مہر کی واپسی) زیادہ ہی بعید ہے۔“ [ بخاری، الطلاق، باب قول الإمام للمتلاعنین۔۔ 5312۔ مسلم : 5؍1493، عن ابن عمر ]
وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا : ”پختہ عہد“ سے مراد عقد نکاح ہے، یعنی تمہارا یہ کہنا کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح قبول کیا۔ اب طلاق کی صورت میں دو ہی راستے میں (فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ) [ البقرہ : 229 ] ”اور ظاہر ہے کہ طلاق دے کر مہر نہ دینا ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں۔“
Ayah 4:22وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ۔۔ : جاہلیت کے دستور میں بیٹے کے لیے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے شادی کرلینا جائز تھا، ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اہل جاہلیت ان رشتوں کو حرام سمجھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا، سوائے باپ کی بیوی اور دو بہنوں کو جمع کرنے کے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں : (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ) [ النساء : 33 ] اور (وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ) [ النساء : 23 ] [ ابن جریر : 4؍369، صحیح ] اللہ تعالیٰ نے اسے سخت حرام قرار دیا، حتیٰ کہ اگر باپ نے صرف عقد ہی کیا ہو تو بھی بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔ یہ سخت بےحیائی اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث اور برا راستہ ہے کہ آج تم نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کیا ہے، کل تمہاری منکوحہ سے تمہارا بیٹا نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ ہی بند کردیا۔ براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، وہ اپنے ماموں ابو بردہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا کہ اسے قتل کردیں اور اس کا مال لے لیں۔ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الرجل یزنی بحریمہ : 4457۔ ترمذی : 1362۔ نسائی : 3334۔ ابن ماجہ : 2607 ] معلوم ہوا ایسا شخص واجب القتل ہے۔
Ayah 4:23حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ : جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، ایک تو پچھلی آیت میں بیان ہوا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے، اب یہاں نسب کے سات حرام رشتوں کا ذکر ہے : 1 ماں : اس کے حکم میں نانی اور دادی اوپر تک، مثلاً ، پڑدادی، پڑنانی شامل ہیں۔ 2 بیٹی : اس کے حکم میں پوتی اور نواسی نیچے تک آجاتی ہیں۔ 3 بہن : سگی ہو یا علاتی یا اخیافی، بہرحال حرام ہے۔ 4 پھوپھی میں دادا کی بہن اور نانا کی بہن بھی داخل ہے۔ 5 خالہ کا لفظ ماں، نانی اور دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے۔ (6، 7) بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں ان کی بیٹیاں نیچے تک آجاتی ہیں۔ (قرطبی)
وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ۔۔ : یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح دودھ کی ماں اور بہن بھی حرام ہیں۔ یہاں دو رشتوں کا ذکر ہے، مگر حدیث کی رو سے وہ ساتوں رشتے جو نسب سے حرام ہیں، دودھ سے بھی حرام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔“ [ بخاری، النکاح، باب : (وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ) : 5099، عن عائشۃ ] قرآن مجید نے دودھ پینے کو حرمت کا سبب قرار دیا ہے، یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ کم از کم کتنی دفعہ دودھ پیا ہو، مگر مسلم میں ام الفضل اور عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک یا دو دفعہ دودھ پینا حرمت کا باعث نہیں ہوتا۔“ [ صحیح مسلم، الرضاع، باب المصۃ والمصتان : 1450، 1451 ] عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ قرآن میں اترنے والے حکم میں تھا کہ دس دفعہ دودھ پینا، جو معلوم ہو، حرام کرتا ہے، پھر وہ پانچ کے ساتھ منسوخ ہوگیا، تو نبی ﷺ فوت ہوئے اور وہ قرآن میں پڑھے جاتے تھے۔ [ مسلم، الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات : 1452 ] یاد رہے کہ یہ دودھ پلانا اسی وقت معتبر ہوگا، جب دودھ پلانے کی مدت، یعنی دو سال کے اندر ہو۔
وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ : اس میں بیویوں کی نانیاں اور دادیاں بھی اوپر تک شامل ہیں۔ بیوی کی ماں (ساس) حرام ہے، خواہ بیوی کو جماع سے پہلے طلاق دے دی ہو، یا اس کا انتقال ہوگیا ہو۔
وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ : ”رَبَاءِبُ“ یہ ”رَبِیْبَۃٌ“ کی جمع ہے، یعنی بیوی کی دوسرے خاوند سے جو لڑکی ہو وہ بھی حرام ہے، بشرطیکہ اپنی بیوی (اس لڑکی کی ماں) سے جماع کرلیا ہو، اگر قبل از جماع طلاق دے دی تو عورت کی لڑکی سے نکاح جائز ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
”فِيْ حُجُوْرِكُمْ“ (تمھاری گود میں) کی قید شرط کے طور پر نہیں، بلکہ اتفاقی ہے یعنی عام حالات میں ایسا ہوتا ہے، ورنہ اگر اس کی پرورش کسی اور جگہ ہوئی ہو تو بھی وہ حرام ہے۔
وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ : حلائل، حلیلۃ کی جمع ہے۔ یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں نہ کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں۔ (دیکھیے سورة احزاب (27)
وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ۔۔ : یہ محل رفع میں ہے، یعنی ”حُرِّمَ عَلَیْکُمُ الْجَمْعُ بَیْنَ الْاَخْتَیْنِ“ کہ دو بہنوں کو، صلبی ہوں یا رضاعی، ایک وقت میں نکاح میں جمع رکھنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع ہے، مگر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“ [ بخاری، النکاح، باب لا تنکح المرأۃ علی عمتھا : 5109، عن أبی ہریرہ ] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ سنت بھی شریعت کا مستقل ماخذ ہے، قرآن میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع آیا ہے اور حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی منع آیا ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا۔
اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭ: یعنی پہلے جو رشتے ایسے ہوچکے ان کا کچھ گناہ نہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کو برقرار رکھا جائے گا۔