Ayah 4:24وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ۔۔ : اوپر کی آیت میں حرام رشتوں کا ذکر تھا، وہ تو بہر صورت حرام ہیں، خواہ ان میں سے کوئی عورت کسی کی لونڈی بن کر آجائے۔ اس بنا پر علماء نے لکھا ہے کہ دو بہنوں کو جمع کرنا صرف نکاح ہی میں نہیں بلکہ ایک مالک کی لونڈیاں ہوں تب بھی اسے دونوں سے صحبت حرام ہے۔ (ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ جن عورتوں کے شوہر موجود ہوں ان سے نکاح بھی حرام ہے، ہاں جنگ کی صورت میں دارالحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے ”استبراء“ کے بعد ان سے صحبت جائز ہے، خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔ ”استبراء“ یہ ہے کہ وہ عورت ایک حیض سے پاک ہوجائے، یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہوجائے۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (8 ھ میں) حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، ان کا مقابلہ دشمن سے ہوا تو انھوں نے مقابلہ کیا اور فتح پائی، بہت سے قیدی ان کے ہاتھ آئے، (تقسیم کے بعد جو لونڈیاں حصے میں آئیں) صحابہ کرام ؓ نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کو گناہ سمجھا، اس لیے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ) یعنی عدت کے بعد وہ تمہارے لیے حلال کردی گئی ہیں۔ [ مسلم، الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ۔۔ : 1456 ]
2 احصان کا لفظی معنی محفوظ کرنا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ چند معانی میں آیا ہے :1 شادی شدہ عورتوں کے معنی میں، جیسے اس آیت کے شروع میں ”المحصنت (جہاد کے فتحہ کے ساتھ) اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ 2 آزاد عورتوں کے معنی میں، جیسے اگلی آیت میں ہے۔ 3 پاک دامن عورتوں کے معنی میں، جیسے اس سے اگلی آیت میں اور سورة مائدہ (5) میں ہے۔
كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ : یعنی جن حرام رشتوں کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان سے نکاح نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔ (ابن کثیر)
وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ : یعنی ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح تمہارے لیے حلال ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں، بشرطیکہ حدیث میں ان کی حرمت نہ آئی ہو، مثلاً رسول اللہ ﷺ نے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ یا پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا۔ ایسی ہی چند اور صورتیں بھی ہیں مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت نکاح میں رکھنا، یا وہ عورت جس سے لعان کیا جائے یا حلالہ کرنا یا بنت رسول ﷺ اور بنت عدو اللہ (ابوجہل) کو ایک نکال میں جمع کرنا یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا یا نکاح شغار یعنی وٹہ سٹہ کا نکاح جس میں یہ شرط ہو کر اگر تم رشتہ دو گے تو میں رشتہ دوں گا اس شرط کے بعد مہر مقرر ہو تم بھی نکاح حرام ہے۔ جیسا کہ سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی الشغار میں ہے کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے عبد الرحمان بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور عبد الرحمان نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردیا تو معاویہ ؓ نے مروان کی طرف خط لکھ اور اسے حکم دیا کہ ان دونوں سے درمیان علیحدگی کروا دیں اور دونوں نے مہر علی معجل مقرر کیا تھا۔ (وصححہ الالبانی)
اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ۔۔ : موضح میں ہے کہ ان مذکورہ محارم کے سوا سب حلال ہیں، مگر چار شرطوں کے ساتھ، اول یہ کہ طلب کرو، یعنی دونوں طرف سے زبانی ایجاب و قبول ہو، دوسرے یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو، تیسرے یہ کہ ان عورتوں کو قید (دائمی قبضہ) میں لانا غرض ہو، (صرف) مستی نکالنے کی غرض نہ ہو (جیسے زنا میں ہوتا ہے) یعنی وہ عورت اس مرد کی بندی ہوجائے، چھوڑے بغیر نہ چھوٹے، یعنی کسی مہینے یا برس (مدت) کا ذکر نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متعہ حرام ہے (اور حلالہ بھی، کیونکہ اس میں بھی جماع کے بعد طلاق کی نیت ہوتی ہے۔) چوتھی یہ کہ چھپی یاری نہ ہو، مراد لوگ نکاح کے شاہد ہوں، کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں، یہی چار شرطیں اس آیت سے سمجھ آرہی ہیں۔ اس چوتھی شرط میں یہ بھی شامل ہے کہ نکاح ولی کرکے دے کیونکہ ولی کے بغیر نکاح چھپی یاری میں داخل ہے۔ اسلام نے ولی کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا قرآن و حدیث کے دلائل کے لیے دیکھیے [ صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الا بولی ]
فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ : یعنی نکاح کے بعد جن عورتوں سے فائدہ اٹھاؤ، یعنی صحبت کرو ان کے پورے مہر ان کے حوالے کرو۔ اکثر پہلے اور پچھلے مفسرین نے یہی معنی کیے ہیں کہ استمتاع سے مراد نکاح شرعی (جس کی چار شرطوں کا اوپر ذکر آیا ہے) کے بعد صحبت ہے۔ رافضیوں نے اس سے متعہ کا جواز ثابت کیا ہے، مگر علمائے اہل سنت بالاجماع اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ ہجرت کے ابتدائی برسوں میں بیشک رسول اللہ ﷺ نے (اس آیت کی رو سے نہیں بلکہ) اس رواج کی بنیاد پر جو اسلام سے پہلے چلا آ رہا تھا (جسے واضح کریں حال کہتے ہیں) بعض مواقع پر حسب ضرورت متعہ کی اجازت دی، مگر بعد میں نبی ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں اسے قیامت تک کے لیے حرام کردیا۔ سبرہ بن معبد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا : ”لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، سو اب جن کے پاس متعہ والی عورتیں ہیں وہ انھیں چھوڑ دیں اور جو مال تم نے انھیں دیا ہے وہ ان سے واپس نہ لو۔“ [ مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ : 3422 ] نیز متعہ والی عورتیں نہ لونڈیاں ہیں نہ بیویاں تو ان سے متعہ کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ (دیکھیے المؤمنون : 5 تا 7)
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ۔۔ : یعنی اگر خاوند اور بیوی باہمی رضا مندی سے طے شدہ مہر میں کمی بیشی کرلیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔
Ayah 4:25وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ۔۔ : یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لونڈی سے نکاح کرلے، بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو۔ یہاں کسی شخص کو اپنی لونڈی سے نکاح کرنے کی اجازت کا بیان نہیں، کیونکہ اس کا لونڈی ہونا ہی مالک کے لیے اس سے صحبت کے جواز کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اس سے صحبت نہیں کرسکتا اور اس کی اولاد جائز اولاد سمجھی جائے گی، ہاں اگر نکاح ہی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے آزاد کر دے اور آزاد کر کے نکاح کرلے۔ (فتح القدیر)
بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ: یعنی تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو اور تمہاری ملت بھی ایک ہے، پھر محض لونڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح میں تردد نہ کرو۔ (شوکانی)
فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ : یعنی جیسے آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجازت ضروری ہے، اسی طرح لونڈی سے نکاح کے لیے بھی اس کے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔
وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ : ان الفاظ سے بعض نے سمجھا ہے کہ مہر لونڈی کا حق ہے، لیکن اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ مہر لونڈی کے مالک کا ہوگا، لونڈی کی طرف مہر کی اضافت مجازی ہے۔ (فتح القدیر)
وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ : اخدان خدن کی جمع ہے ”خفیہ آشنا“ چھپی یاری سے منع فرمایا تو نکاح میں گواہ لازم ہوئے۔
نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ۭ : ”المحصنات“ میں الف لام عہدکا ہے اس سے مخصوص محصنات یعنی کنواری آزاد عورتیں مراد ہیں کیونکہ ان کی سزا سو کوڑے ہے جس کا نصف ہوسکتا ہے شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا رجم ہے اس کا نہ نصف ہوسکتا ہے نہ یہاں ”المحصنات“ سے وہ مراد ہیں یعنی لونڈی اگر شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کریں تو انھیں کنواری آزاد عورتوں کی سزا سے نصف سزا دی جائے گی جو پچاس کوڑے ہے۔ جن لوگوں نے اس آیت کو رجم کے انکار کی دلیل بنایا ہے کہ چونکہ رجم کا نصف ہو نہیں سکتا ہے اس لیے رجم شریعت میں ہے ہی نہیں انھوں نے اپنی کم علمی سے الف لام کا مفہوم سمجھا ہی نہیں نہ المحصنات کی صحیح مراد سمجھی ہے۔ عبداللہ بن عیاش مخزومی فرماتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے اور قریش کے چند نوجوانوں کو حکم دیا تو ہم نے حکومتی لونڈیوں میں سے کچھ لونڈیوں کو زنا کرنے کی وجہ سے پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ [ المؤطا، الحدود، باب ما جاء فی حد الزنا : 16 ]
ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ : یعنی مذکورہ شرطوں کے ساتھ لونڈی سے نکاح صرف اسی صورت میں جائز ہے جب بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ (قرطبی)
وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ : اس سے اکثر علمائے سلف نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ ایسی منکوحہ لونڈی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 4:26–27يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہوجائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
وَاللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۣ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کی اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز سمجھتے ہیں، بلکہ بعض تو نکاح کا طریقہ ہی ختم کر کے جانور بن چکے ہیں، حتیٰ کہ قوم لوط کے عمل کو قانوناً جائز کرچکے ہیں۔
Ayah 4:28يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا : (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۭ) [ الحج : 78 ] ”اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک دین آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : 39، عن أبی ہریرۃ ؓ ] اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں تمہارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح : 39، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کو دوڑے۔“ (موضح)
Ayah 4:29لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ : کمائی کے جتنے بھی ناجائز طریقے ہیں سب کے سب ”بالباطل“ میں آجاتے ہیں، حتیٰ کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقے سے اڑانا بھی اسی میں داخل ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر)
اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً۔۔ : یعنی وہ تجارت اور لین دین (صنعت و حرفت وغیرہ) جس میں حقیقی باہمی رضا مندی ہو، اس کے ذریعے سے کماؤ اور کھاؤ۔ آپس کی رضا مندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شرع کے خلاف نہ ہو، کیونکہ وہ حقیقی رضا مندی ہوتی ہی نہیں، مجبوری کی رضا مندی ہوتی ہے، مثلاً رشوت اور سود میں بظاہر رضا مندی ہے مگر حقیقی نہیں، کیونکہ ایک فریق دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جوئے اور لاٹری وغیرہ کا معاملہ ہے کہ یہ دونوں فریق نفع کی موہوم امید کے فریب میں آکر یہ کام کر رہے ہیں، اس فریب کو حقیقی رضا مندی نہیں کہا جاسکتا۔ پورے طور پر باہمی رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بیچنے والا اور خریدنے والا مجلس بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک دونوں کو ایک دوسرے کی بیع رد کرنے کا حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”خریدو فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو (بیع فسخ کرنے کا) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں، سوائے اس تجارت کے جس میں یہ اختیار باقی رکھا جائے۔“ [ بخاری، البیوع، باب البیعان بالخیار ما لم یتفرقا : 2111، عن ابن عمر ]
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ : اس کے تین معانی ہوسکتے ہیں اور تینوں مراد ہیں، پہلا یہ کہ شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے حقیقی باہمی رضا مندی کے بغیر اگر لین دین کرو گے تو اس کا نتیجہ آپس میں قتل و غارت ہوگا، جیسا کہ جوئے کے نتیجے میں ہارنے والے کے ہاتھوں کئی جیتنے والے قتل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کام مت کرو۔ دوسرا یہ کہ ایک دوسرے کو قتل مت کرو، کیونکہ یہ اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے اور تیسرا یہ کہ خود کشی مت کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص نے چھری کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم میں چھری اس کے ہاتھ میں ہوگی اور وہ اس کے ساتھ اپنے پیٹ کو پھاڑے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو جہنم میں اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گرا کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہے گا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم۔۔ : 109، بخاری : 5778، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 4:30وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ۔۔ : ”ذلک“ کا اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہوسکتا ہے، دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانے کی طرف بھی اور سورت کی ابتدا سے یہاں تک جتنی چیزیں منع کی گئی ہیں ان سب کی طرف بھی۔
وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا : یہ انداز بیان ڈانٹنے میں مبالغے پر دلالت کر رہا ہے۔ (رازی) موضح میں ہے : ”یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیوں کر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے۔“
Ayah 4:31اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ۔۔ : کبیرہ گناہ وہ ہیں جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو، یا اللہ کے غصے کا اظہار ہوتا ہو، یا شریعت میں ان پر حد مقرر کی گئی ہو اور ”سَیِّءَاتُّ“ وہ گناہ ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (رازی۔ ابن کثیر)
نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ : یعنی اگر تم کبائر سے اجتناب کرتے رہو گے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے معاف فرما دیں گے۔ بعض روایات میں کبائر کا شمار بھی آیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، جوا، شراب نوشی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ، مگر ان کی کوئی تحدید نہیں ہے، یہ سات سے ستر بلکہ سات سو تک بھی ہوسکتے ہیں اور بعض علماء نے اپنی کتابوں میں کبیرہ گناہوں کو جمع بھی کیا ہے، جن کا ذکر قرآن یا حدیث میں آیا ہے، جیسے امام ذہبی ؓ کی ”اَلْکَبَاءِرُ“ اور امام ہیثمی ؓ کی ”اَلزَّوَاجِرْ عَنِ اقْتَرِافِ الْکَبَاءِرِ“ مزید دیکھیے سورة نجم (32)
Ayah 4:32وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی یہ نہ کہو کہ کاش ! یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے، یہ تقدیر پر راضی نہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ بھی ہو کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے تو حسد ہے، جس کی بہت مذمت آئی ہے، ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں، ہم اس سے محروم ہیں، میراث میں بھی ہمارا نصف حصہ ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ) (أحمد : 6؍322) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے، مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے عورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب سے محروم نہیں ہے، لہٰذا تم بجائے حسد کے اللہ تعالیٰ کا فضل چاہا کرو۔ (ابن کثیر۔ بغوی)
Ayah 4:33وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ۔۔ : اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ورثا اور رشتے دار ہوتے ہیں، جو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث بنتے ہیں۔ آیت کے دوسرے حصے (ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ) کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے جو حلف یا معاہدہ کسی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس کا حصہ اسے دو۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب مہاجرین مدینہ آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ قائم کردیا تھا، انصاری کا وارث اس کے رشتے داروں کی بجائے مہاجر ہوتا تھا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی : (وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ) تو وہ (وراثت جو مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کی گئی تھی) منسوخ ہوگئی، پھر فرمایا : (ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ) سے مراد یہ ہے کہ نصرت، اعانت اور نصیحت کی صورت میں انھیں ان کا حصہ دو ، کیونکہ میراث سے ان کا تعلق ختم ہوگیا ہے، ہاں ! البتہ ان کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ۔۔) : 4580 ] نیز دیکھیے سورة انفال کی آخری آیت۔
مولانا محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ آیت میں ”موالی“ سے مراد عصبہ ہیں اور عصبہ کی وراثت میں ”اَلْاَقْرَبُ فَالْاَقْرَبُ“ کا اصول مقرر ہے، یعنی اول سب سے قریبی، پھر دوسرا اور ایک حدیث میں بھی (فَلِاَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ) کے الفاظ ہیں، یعنی اصحاب فروض سے جو کچھ بچ جائے گا وہ عصبہ میں سے اس شخص کو ملے گا جو میت کے مردوں میں سب سے زیادہ قریب ہوگا اور اس پر علماء کا اجماع بھی ہوچکا ہے۔ (دیکھیے فتح الباری : 6؍294۔ المحلٰی : 9؍271۔ احکام القرآن للجصاص : 2؍224)
Ayah 4:34اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ۔۔ : شریعت نے گھر کے بندوبست اور انتظام کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران، ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دوسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمے ہیں۔ اس بنا پر گھر کا نگران بننے کا حق مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ یہی حال حکومتی امور کا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر عورت نہیں ہوسکتی، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْ اَمْرَہُمُ امْرَأَۃً) ”وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حاکم عورت کو بنا لیا۔“ [ بخاری، المغازی، باب کتاب النبی ﷺ إلی کسریٰ و قیصر : 4425 ]
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ۔۔ : اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے : ”بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمہیں خوش کرے، اگر تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو تمہارے پیچھے وہ تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔“ پھر رسول للہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ) [ مسند أبی داوٗد الطیالسی : ابن جریر، 4؍62، و صححہ صاحب ہدایۃ المستنیر ]
حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ۭ : یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر ان کے حقوق محفوظ کردیے ہیں، اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ [ دیکھیے نسائی، النکاح، باب أی النساء خیر : 3233 ] یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور خیانت سے کام نہیں لیتیں۔ (شوکانی)
وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ۔۔ : نشوز کا لفظی معنی ”اونچا ہونا، چڑھائی کرنا ہے“ اور عورت کے نشوز کا معنی ”خاوند سے بغض رکھنا اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو اونچا سمجھنا ہے۔“ (مفردات) عورت پر مرد کا بہت بڑا حق ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ [ ترمذی، الرضاع، باب ما جاء فی حق۔۔ : 1159۔ أبو داوٗد : 2140، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
عورت نافرمانی کا رویہ اختیار کرے تو خاوند کو حالات کے مطابق تین چیزوں کا اختیار دیا گیا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے اور اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں، نصیحت کرنا، ایک ہی بستر میں رہ کر انھیں چھوڑنا اور انھیں مارنا۔ رسول اللہ ﷺ نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی، مگر فرمایا : ”چہرے پر مت مارو، اسے بد صورت نہ کہو اور اسے مت چھوڑو مگر گھر میں۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا : 2142، عن حکیم بن معاویۃ ؓ ] اسی طرح ایسی مار سے بھی منع کیا جس سے سخت چوٹ آئے۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی ﷺ : 1218، عن جابر ؓ ] اور فرمایا : ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتے ہیں، پھر دن کے آخر حصے میں اس سے جماع کرے گا۔“ [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء : 5204 ]
فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا : یعنی اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو، مثلاً طلاق دینا، تنگ کر کے خلع پر مجبور کرنا وغیرہ۔
Ayah 4:35وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا : پہلے صرف عورت کی طرف سے نشوز کا ذکر تھا اب اگر دونوں کی طرف سے نفرت اور مخالفت کا سلسلہ چل نکلے اور جدائی کا اندیشہ ہو تو حاکم کو چاہیے کہ میاں بیوی دونوں کی طرف ان کے خاندان کا ایک ایک سمجھدار آدمی بطور حکم (پنچ یا منصف) مقرر کردیں، اگر وہ دونوں اصلاح کرانے میں مخلص ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ بنے تو کیا انھیں علیحدگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی دونوں اسے صلح یا جدائی کا اختیار دیں کہ تم جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہوگا تو اسے علیحدگی کے فیصلہ کا بھی اختیار ہے۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ حاکم جس نے اسے حکم مقرر کیا ہے اسے صلح یا جدائی دونوں کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے تو اسے علیحدگی کے فیصلے کا اختیار رہے ورنہ نہیں مگر جمہور علماء کا کہنا ہے کہ حکم مقرر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ حکم دونوں فریقوں کے معاملات کا جائزہ لے کر صلح یا تفریق کا جو فیصلہ کردیں نافذ ہوگا۔ اس کے لیے میاں بیوی یا حاکم کے اسے الگ اختیار دینے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں زیادہ زور موافقت کرانے کی کوشش پر دیا گیا ہے۔
Ayah 4:36وَاعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : میاں بیوی کے معاملات کے بعد دوسرے حقوق والوں کے ساتھ احسان کا ذکر ہے، مگر ابتداء اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور شرک سے منع کرنے سے کی ہے، کیونکہ ہر کام کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس سورت کا موضوع عموماً عورتوں کے مسائل ہیں، مگر سورت کی ابتدا (اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ) سے کی ہے۔ (ابن عاشور)
وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا : یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے، کوئی اور نہیں۔
وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اول حق اللہ تعالیٰ کا، پھر ماں باپ کا اور پھر ان سب کا درجہ بدرجہ۔“ (موضح) انسان کے عدم سے وجود میں آنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ بنتے ہیں، اس لیے ان کا حق پہلے رکھا۔
وَّبِذِي الْقُرْبٰى : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“ [ ترمذی، الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ۔۔ : 658 ] اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص پسند کرے کہ اس کے لیے اس کا رزق فراخ کیا جائے اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے تو چاہیے کہ وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم۔۔ : 21؍2557 ]
وَالْيَتٰمٰي : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ آپ نے اپنی دو انگلیوں شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر بتایا۔ [ بخاری، الأدب، باب فضل من یقول یتیمًا : 6005، عن أبی ہریرۃ ؓ ] 6 مسکین کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة توبہ کی آیت (6)۔
وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ : قرابت والے ہمسائے سے مراد رشتے دار ہمسایہ ہے اور اجنبی ہمسائے سے مراد غیر رشتے دار ہمسایہ ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق کی نگہداشت میں متعدد احادیث وارد ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”جبریل ؑ مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔“ [ بخاری، الأدب، باب الوصاۃ بالجار : 6015، عن ابن عمر ] اور رسول اللہ ﷺ نے تین دفعہ فرمایا : ”اللہ کی قسم ! وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا۔“ صحابہ نے پوچھا : ”کون شخص ؟“ فرمایا : ”وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ بےخوف نہ ہو۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم من لا یؤمن : 6016، عن أبی شریح ؓ ]
وَالصَّاحِبِ بالْجَـنْۢبِ : پہلو کے ساتھی سے ہم نشین دوست، سفر کا ساتھی، بیوی، علم سیکھنے کے لیے آنے والے یا کاروباری سلسلے میں پاس آ بیٹھنے والے سب مراد ہیں۔
وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ : مسافر سے مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام (عزت افزائی) کرے۔“ [ بخاری، الأدب، باب من کان یؤمن۔۔ : 6018، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ : اس سے مراد غلام اور لونڈیاں ہیں، کیونکہ وہ ملکیت میں ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بےبس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے آخری وصیت کرتے ہوئے فرمایا : ”نماز اور تمہارے غلام (ان دونوں کا خاص خیال رکھنا)۔“ [ أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق المملوک : 5156، عن علی ؓ ] آج کل اگرچہ کفار نے زنا پھیلانے اور دوسرے مذموم مقاصد کے لیے غلامی کو ختم کردیا ہے مگر اس آیت پر عمل کرنے کے لیے آدمی کے ماتحت افراد، جو اگرچہ غلام نہیں، حسن سلوک کے حق دار ہیں، مثلاً گھر، دکان اور کارخانوں کے ملازم اور نوکر چاکر وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کرے جن کی خوراک کا وہ ذمے دار ہے۔“ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب فضل النفقۃ۔۔ : 996، عن ابن عمرو ؓ ]
مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا : ”مختالا“ جو خرچ کرنے سے پہلے متکبر ہو اور ”فخورا“ جو خرچ کرنے کے بعد فخر کرے۔ معلوم ہوا متکبر اور فخر کرنے والا نام و نمود کے لیے خرچ کرے گا، مگر اللہ کی خاطر خرچ نہیں کرسکتا اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں رکھتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اکڑنے والے، شیخی باز بخیل ہوتے ہیں، کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے کہ اس پر خرچ کریں۔ حقیقی سخی متواضع ہوتے ہیں۔ جابر بن سلیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے، تو آپ نے (چند اہم امور کا تذکرہ کرنے کے بعد) فرمایا : ”تہ بند کو نیچے نہ لٹکاؤ، کیونکہ تہ بند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [ أحمد : 5؍64، ح : 20663 ]
Ayah 4:37اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ کافر کا معنی چھپانے والا ہے اور بخیل بھی اللہ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 4:38بخیلوں کی مذمت کے بعد اب ریا کاری سے خرچ کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے اور انھیں شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ تین آدمیوں کو سب سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ ہیں : 1 ریا کار عالم 2 ریا کار مجاہد 3 اور ریا کار سخی۔“ [ مسلم، الأمارۃ، باب من قاتل للریاء۔۔ : 1905 ]
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”مال دینے میں بخل کرنا جیسا اللہ کے نزدیک برا ہے ویسا ہی خلق کے دکھانے کو دینا۔ قبول وہ ہے جو ان حق داروں کو دے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اور پھر اللہ کے یقین اور آخرت کی توقع سے دے۔“ (موضح)
Ayahs 4:39–40بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہوگی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک طویل حدیث) میں فرمایا : ”اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر (یعنی ایمان) کو پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ، چناچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکال لائیں گے۔“ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو سعید ؓ فرمایا کرتے تھے : ”اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ جانو تو یہ آیت پڑھو : (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا) [ مسلم، الإیمان، باب معرفۃ الطریق الرؤیۃ : 183 ] بیشک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی ہے۔
Ayah 4:41اوپر کی آیتوں میں قیامت کے ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔
Ayah 4:42يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : اس سے مقصود کفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقع پر آرزو کریں گے کہ کاش ! ہم انسان نہ ہوتے بلکہ زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھیے سورة نبا کی آخری آیت۔ (ابن کثیر)
وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا : کفار کے متعلق قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کردیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ (انعام : 23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے واقعی شرک کرنے سے انکار کریں گے مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حم السجدۃ : 21 تا 23) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپا نہ سکیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”قیامت کا دن بہت لمبا دن ہے، کسی موقع پر وہ انکار کریں گے اور دوسرے موقع پر اپنے شرک اور بد اعمالی پر افسوس کریں گے۔“ (رازی۔ ابن کثیر)
Ayah 4:43لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى : شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورة بقرہ کی آیت (219) نازل ہوئی، جس میں شراب اور جوئے کے گناہ کو ان کے نفع سے بڑا قرار دیا، اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی، تاہم بعض بدستور پیتے رہے کہ ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ہمارے لیے کھانا پکایا، پھر ہمیں بلایا اور ہمیں شراب پلائی، شراب نے ہمیں مدہوش کردیا، اتنے میں نماز کا وقت آگیا اور انھوں نے مجھے امام بنادیا، میں نے پڑھا : ”قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ“ ”کہہ دے اے کافرو ! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو۔“ (ظاہر ہے اس سے آیت کے معنی کچھ سے کچھ ہوگئے) تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة النساء : 3026 ] اس پر لوگوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی، یہاں تک کہ سورة مائدہ کی آیات (90، 91) نازل ہوئیں، جس سے شراب قطعی طور پر حرام کردی گئی۔ (ابن کثیر) بعض علماء نے یہاں ”وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى“ (جمع سکران) سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نیند کی حالت میں نماز سے منع فرمایا کہ معلوم نہیں کیا پڑھے اور کیا نہ پڑھے، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے شراب کا نشہ مراد ہے اور یہی قول جمہور صحابہ و تابعین کا ہے، نیز تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت شراب نوشی سے متعلق نازل ہوئی۔
اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ : بعض مفسرین نے اس سے مراد سفر لیا ہے مگر سفر کا ذکر آگے آ رہا ہے (اَوْ عَلٰي سَفَرٍ) اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتا ہے، اس لیے پر اکثر سلف نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ”الصلاۃ“ سے مراد نماز کی جگہ یعنی مسجد ہے مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں ”اَلصَّلاَۃُ“ یعنی نماز کی جگہوں (مسجدوں) میں نہ جاؤ۔ ہاں، اگر مسجد سے گزرنا پڑے تو مجبوری کی صورت میں گزر سکتے ہو (ٹھہر نہیں سکتے)۔ ابن جریر ؓ نے اسے راجح قرار دیا ہے، پس یہاں مضاف محذوف ہے، یعنی ”لَا تَقْرَبُوْا مَوَاضِعَ الصَّلاَۃِ“ (طبری) اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے کہ جنبی یا حائضہ کے لیے مسجد سے گزرنا جائز ہے، ٹھہرنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ان کے لیے غسل کر کے گزرنا مشکل تھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق ؓ کے دریچے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دریچے بند کروا دیے۔ [ بخاری، الصلاۃ، باب الخوخۃ۔۔ : 467، عن ابن عباس ؓ ] بعض لوگوں نے علی ؓ کا دروازہ کھلا رکھنے کی روایت بھی بیان کی ہے، مگر اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا۔ گویا آیت کے دو حصے ہیں، پہلے حصے : (لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى) اس میں ”الصلاۃ“ سے مراد نماز ہی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ اور دوسرے حصے : (وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ۭ) میں ”لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ“ سے مراد نماز کی جگہ ہے، یعنی اس جنبی ہونے کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ، الا یہ کہ راستہ عبور کر کے گزر جانے والے ہو۔ (طنطاوی)
وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ۔۔ : سفر سے مراد مطلق سفر ہے، اکثر علماء کے نزدیک تیمم کے جواز کے لیے اتنے سفر کی کوئی شرط نہیں جس میں نماز قصر پڑھی جاسکتی ہے۔ ”یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو“ کے تحت ہر وہ چیز آجاتی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ عورتوں کو چھونے یا مباشرت سے مراد (راجح مسلک کی بنا پر) جماع ہے، ورنہ صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چناچہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں گھر میں لیٹی ہوتی، آپ ﷺ نفل نماز پڑھتے تو سجدہ کے وقت آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے میرے پاؤں سامنے سے ہٹا دیتے۔ [ بخاری، الصلوۃ، باب التطوع خلف المرأۃ : 513، 514۔ مسلم : 486 ] ”اَوْ عَلٰي سَفَرٍ“ کا مقصد ہے کہ سفر میں پینے کے لیے تو پانی ہے مگر وضو یا غسل کے لیے نہیں۔ بیماری کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے استعمال سے بیمار ہونے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہے۔ عمرو بن عاص ؓ کو ایک سرد رات میں احتلام ہوگیا انھوں نے تیمم کرلیا اور یہ آیت پڑھی (ۣوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْما) (اپنے آپ کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر ہمیشہ سے بیحد مہربان ہے) نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ [ صحیح بخاری، باب اذا خاف الجنب علی نفسہ المرض او خاف العطس تیمم ]
فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً : پانی نہ پانے میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ پانی میسر ہی نہ ہو اور یہ بھی کہ بیماری یا عذر کی بنا پر پانی استعمال نہ کیا جاسکے۔
فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا۔۔ : تیمم کا معنی ہیقصد کرنا۔ ”صعیدًا طیبا“ سے مراد پاک مٹی ہے، خواہ کپڑے، کاغذ یا کسی جگہ کی گرد سے حاصل ہوجائے۔ اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”ہمیں تین باتوں میں لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، جن میں سے ایک یہ ہے : (وَ جُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُوْرًا اِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ) ”جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنادی گئی ہے۔“ [ مسلم، المساجد، باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ : 522 ] تیمم خواہ وضو کے لیے ہو یا غسل کے لیے، دونوں کا ایک ہی طریقہ ہے، صرف نیت مختلف ہوگی۔ عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک جہادی سفر میں انھیں احتلام ہوگیا تو انھوں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی، جب رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہیں اتنا ہی کافی تھا۔“ چناچہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک مار کر انھیں اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مل لیا۔ [ بخاری، التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما ؟ : 338 ]
اس سے معلوم ہوا کہ خود رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا تیمم کا طریقہ یہی ہے کہ صرف ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر اس میں پھونک مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا جائے۔ بعض احادیث میں دو دفعہ زمین پر ہاتھ مارنے کا اور کہنیوں تک ملنے کا ذکر ہے، مگر وہ احادیث یا تو صحابہ کا اجتہاد ہیں یا کمزور ہیں، رسول اللہ ﷺ سے صحیح ترین حدیث وہی ہے جو عمار بن یاسر ؓ سے آئی ہے۔
Ayahs 4:44–45اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا : اس سے پہلے (وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا) میں مشرکین کے طرز عمل سے متنبہ کرنے کے بعد درمیان میں ضرورت کے کچھ مسائل، مثلاً شراب، نماز اور تیمم وغیرہ ذکر کرنے کے بعد یہود کے فریب اور ان کی دشمنی کا ذکر تفصیل سے شروع ہوگیا ہے۔ یہود کو تیمم میں بھی مسلمانوں سے حسد تھا۔ اسی حسد کی بنا پر وہ خود مسلمان ہونے کے بجائے چاہتے تھے کہ مسلمان بھی کافر ہوجائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ) [ البقرۃ : 109 ] ”بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کہ کاش ! وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنادیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے۔“
نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ : یعنی انھیں کتاب کا کچھ حصہ ہی ملا ہے، باقی ضایع کر بیٹھے ہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ جو حصہ ملا ہے اس کے الفاظ ملے ہیں، عمل کا حصہ عطا نہیں ہوا اور یہ بھی کہ تورات میں انھوں نے موسیٰ ؑ کی نبوت تو معلوم کرلی مگر رسول اللہ ﷺ کی نبوت معلوم نہ کرسکے۔
Ayah 4:46مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ۔۔ : اوپر کی آیت میں فرمایا کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں، اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی۔ یعنی وہ تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں۔ [ دیکھیے المائدۃ : 13، 41 ]
سورۂ مائدہ میں ”عن مواضعہ“ کے علاوہ ”من بعد مواضعہ“ بھی ہے، جس کا معنی تحریف لفظی ہے، یہاں ”عن مواضعہ“ ہے، اس سے مراد تحریف معنوی ہے، یعنی تاویلات فاسدہ سے کام لیتے ہیں، مثلاً قصۂ ذبیح کا تعلق اسماعیل ؑ کی بجائے اسحاق ؑ کے ساتھ جوڑنا۔ (رازی۔ شوکانی) ہمارے زمانے میں بھی تمام بدعتیوں کا شیوہ ہوگیا ہے کہ جو آیت یا حدیث امام، مجتہد یا پیرو مرشد کے قول کے خلاف نظر آتی ہے، اس کی تاویل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حیا نہیں کرتے کہ پیرو مرشد اور امام و مجتہد تو معصوم نہ تھے، بخلاف پیغمبر کہ کہ خطا سے ان کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرماتا تھا۔ (وحیدی)
لَيًّــۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ : ”لیّا“ یہ ”لوی یَلْوِی لَیًّا“ سے ہے، بمعنی توڑنا مروڑنا، یعنی زبان کو توڑ مروڑ کر ”راعینا“ کہتے، جو توہین کا کلمہ ہے۔ [ دیکھیے البقرۃ : 104 ] ان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حکم سنتے ہیں تو ظاہر میں ”سمعنا“ کہتے ہیں (یعنی ہم نے سنا) مگر ساتھ ہی بیحد عداوت کی وجہ سے ”عصینا“ (نہیں مانا) بھی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ سے کوئی بات کرتے تو کہتے : (وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ) ”سنو، تمہیں کوئی نہ سنائے۔“ ظاہر میں یہ نیک دعا ہے کہ تم ہمیشہ غالب رہو، کوئی تمہیں بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ تو بہرا ہوجائے، سن نہ سکے، ایسی شرارت کرتے۔ (رازی ابن کثیر)
وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ : یعنی یہ سب حرکتیں کر رہے ہیں اور پھر دین میں طعن کی غرض سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کرلیتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث باطن کو ظاہر فرما دیا اور وہی طعن الٹا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے سچا ہونے کی پختہ دلیل بن گیا۔ (رازی)
وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔۔ : یعنی یہ اگر اس قسم کی حرکات اور طعن کے بجائے ایسے کلمات استعمال کرتے جن میں شرارت کی آمیزش نہیں ہوسکتی اور اخلاص سے پیش آتے، مثلاً : ”عصینا“ کے بجائے ”اطعنا“ اور ”غیر مسمع“ کی بجائے ”انظرنا“ تو ان کے حق میں بہتر ہوتا، مگر افسوس کہ یہ بہت ہی تھوڑے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس ”قلیلاً“ یہاں مصدر محذوف ”إِیْمَانًا“ کی صفت ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایمان لاتے ہیں، حتیٰ کہ یہودیوں میں سے دس بھی بمشکل ایمان لائے ہوں گے۔
Ayah 4:47يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یہود کی شرارتوں کو بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں انھیں ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی سے احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی، کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معرفت کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے۔ (رازی) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے دن سے ہے، یا دنیا میں چہروں کو مسخ کردینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر اور خنزیر بنادیا تھا، تمہیں بھی ویسا ہی بنادیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھیے سورة اعراف (163) اس وقت یہودی ہوں یا نصرانی یا مسلمان سب رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں، کلمہ پڑھنے والے امت اجابت، یعنی قبول کرلینے والے ہیں اور دوسرے امت دعوت، یعنی جو آپ کی دعوت کے مخاطب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : (بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَسْخٌ وَ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ) [ ابن ماجہ، الفتن، باب الخسوف : 4059، عن ابن مسعود ؓ۔ صحیح الجامع للألبانی : 2856 ] ”قیامت سے پہلے شکلوں کا بدل جانا، زمین میں دھنس جانا اور پتھروں کی بارش کے واقعات رونما ہوں گے۔“ اور سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ وَ مَسْخٌ، قِیْلَ وَ مَتٰی ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ اِذَا ظَھَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَیْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ) [ طبرانی، صحیح الجامع للألبانی : 3665 ] ”آخر زمانے میں زمین میں دھنسنا، پتھروں کی بارش اور شکلوں کا بدل جانا واقع ہوگا۔“ پوچھا گیا : ”اے اللہ کے رسول ! یہ کب ہوگا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب باجے گاجے اور گانے والیاں عام ہوجائیں گی اور شراب حلال کرلی جائے گی۔“ اب بھی اہل کتاب اور ان کی روش پر چلنے والے مسلمانوں کو ان عذابوں سے ڈر کر توبہ کرنی چاہیے۔
Ayah 4:48اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ۔۔ : یہود کو وعید اور ڈانٹ سنانے کے بعد اب اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ وعید ایمان نہ لانے اور کفر و شرک کی وجہ سے ہے، ورنہ دوسرے گناہ تو قابل معافی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تحت ہیں، جسے اللہ چاہے گا معاف فرما دے گا، جسے چاہے گا سزا دے کر چھوڑ دے گا، مگر شرک کی معافی نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 72) یہود و نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان، جو ایسے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، جو مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتے، اٹھتے بیٹھتے ان کے نام کا وظیفہ کرتے ہیں، ان کے نام کا روزہ رکھتے، ان کی قبروں کو پوجتے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے اور ان کی منتیں مانتے ہیں، وہ بھی اس وعید کے مصداق ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حج (31) ، سورة لقمان (13) سورة انعام (88) سورة زمر (65) اور سورة نساء (116)۔
فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا : اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہے، فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“
Ayah 4:49”فَتِيْلًا“ اس پتلے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ میں نظر آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ (طبری) یہود اپنے آپ کو پاک باز اور مقدس کہتے، کبھی کہتے جنت میں ہم ہی جائیں گے : (لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ) [ البقرۃ : 111 ] ”جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔“ کبھی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب بتاتے۔ (دیکھیے المائدۃ : 18) اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاک باز قرار دینا تو اللہ کا کام ہے، اپنی تعریف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى) [ النجم : 32 ] ”اپنے آپ کو پاک مت قرار دو ، وہ زیادہ جانتا ہے کون متقی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسرے کی تعریف سے بھی، خصوصاً جب کوئی سامنے ہو یا مبالغہ کے ساتھ ہو منع فرمایا۔ مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا : (اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ) [ مسلم، الزھد، باب النھی عن المدح۔۔ : 3002 ] ”ہم زیادہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔“ اور فرمایا : (اِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ ذَبْحٌ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب المدح : 3743 ] ”باہمی مدح گوئی سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنا ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (وَیْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ) ”تجھ پر افسوس ! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ پھر فرمایا : ”اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے کہ میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں، اللہ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے (پاک قرار نہ دے۔“ [ بخاری، الشہادات والأدب، باب ما یکرہ من التمادح : 6061]
Ayah 4:50وَكَفٰى بِهٖٓ اِثْمًا مُّبِيْنًا : یعنی ان کے یہ جھوٹے دعوے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہی ان کے سخت گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے۔