Ayah 4:157وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود خود مسیح ؑ کی رسالت کا اقرار کر کے اپنے گمان میں انھیں قتل کرنے کا دعویٰ اور اس پر فخر کر رہے ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ مفسرین نے اس کے چند جواب دیے ہیں، پہلا یہ کہ وہ جو اپنے آپ کو ”رسول اللہ“ سمجھتا تھا، ہم نے اسے قتل کردیا۔ دوسرا یہ کہ وہ بطور طنز انھیں ”رسول اللہ“ کہہ رہے تھے۔ تیسرا یہ کہ یہودیوں کا عیسیٰ ؑ کے قتل کو بطور فخر ذکر کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کے اکرام اور شرف کے اظہار کے لیے اپنے پاس سے لفظ ”رسول اللہ“ کا اضافہ کردیا کہ ان ظالموں نے کتنی بڑی ہستی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ چوتھا یہ کہ یہودیوں کو نہ مریم [ کے پاکباز ہونے میں کوئی شک تھا، نہ عیسیٰ ؑ کے رسول ہونے میں، کیونکہ پیدائش کے دن ہی بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ کی زبانی تمام یہودیوں کے سامنے مریم [ کی پاکبازی اور مسیح ؑ کی رسالت ثابت فرما دی تھی، مگر قوم یہود کو جب مسیح ؑ نے ان کے کفر و شرک، ریا کاری اور سود خوری پر ٹوکا تو وہ ان کی جان کے درپے ہوگئے اور گناہوں نے ان کے دل اس طرح مسخ کردیے تھے کہ جس عظیم خاتون کو وہ تیس سال تک پاکباز سمجھتے رہے اس پر زنا کی تہمت لگا دی اور جسے دل سے رسول مانتے رہے گناہوں سے ٹوکنے پر اسے قتل کرنے کے درپے ہوگئے، حتیٰ کہ اپنے خیال میں قتل میں کامیاب ہوگئے اور اس پر فخر بھی کرنے لگے۔ انسانی طبائع جب مسخ ہوتی ہیں تو ان کی شقاوت کہاں تک پہنچ جاتی ہے، یہ اس کی مثال ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی رسولوں کو قتل کرچکے تھے۔
وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ: قرآن پاک نے یہودیوں کے دعویٰ کی صاف نفی کی اور فرمایا کہ نہ انھوں نے مسیح ؑ کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے کسی اور آدمی کو مسیح ؑ کی شبیہ (ان جیسا) بنادیا گیا۔ وہ اسے سولی دے کر سمجھتے رہے کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے شبیہ بنایا گیا، قرآن مجید یا حدیث رسول میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، ہاں اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ (عیسیٰ ؑ کو نہ انھوں نے قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ) اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ عیسیٰ ؑ کی شبیہ بنائے جانے کی کیفیت کی ایک روایت ابن عباس ؓ سے صحیح سند کے ساتھ امام ابن کثیر اور ابن جریر نے بیان فرمائی ہے کہ جب یہودی مسیح ؑ کو پکڑنے کے لیے گئے تو آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنادیا جائے ؟ ایک حواری اس پر راضی ہوگیا، چناچہ مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور اس نوجوان کو مسیح ؑ کی شکل و صورت میں تبدیل کردیا گیا، یہودی آئے اور اس نوجوان کو سولی دے دی۔
وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ: عیسیٰ ؑ کے ہم شکل کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ خود تردد میں پڑگئے کہ جسے ہم نے سولی دی ہے، کون ہے ! بعض نے کہا، مسیح ہی قتل ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ مسیح تو نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ خود انھیں بھی یقین نہ ہوسکا کہ واقعی ہم نے انھی کو صلیب پر چڑھایا ہے، بس ایک گمان کی پیروی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ یقینی علم تو بہت دور ہے، خود وہ بھی اختلاف کا شکار ہیں اور شک میں مبتلا ہیں کہ کون قتل ہوا۔ یہ اختلاف یہود میں بھی تھا اور نصاریٰ کے فرقوں میں بھی ہے، جن میں سے بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ کے ناسوت (انسانی جسم) کو سولی دی گئی اور لاہوت (ان کا وہ حصہ جو خدا تھا) اوپر اٹھا لیا گیا۔ بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں وغیرہ، قرآن مجید نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا۔
Ayah 4:158بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا : یہ صاف و صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ احادیث بخاری و مسلم سمیت حدیث کی اکثر کتابوں میں موجود ہیں۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام : 3448۔ مسلم : 155 ] ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول اور دوسری بہت سی باتوں کا ذکر ہے۔ ابن کثیر ؓ یہ تمام روایات ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ احادیث رسول اللہ ﷺ سے متواتر ہیں، ان کے راویوں میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، مجمع بن جاریہ، ابو سریحہ اور حذیفہ بن اسید ؓ شامل ہیں۔ ان احادیث میں آپ کے نزول کی کیفیت اور جگہ کا بیان ہے۔ آپ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اس وقت اتریں گے جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔ آپ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کردیں گے، ان کے دور میں سب مسلمان ہوجائیں گے، دجال کا قتل بھی آپ کے ہاتھوں سے ہوگا اور یا جوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپ کی موجودگی میں ہوگا، بالآخر آپ ہی کی بد دعا سے ان کی ہلاکت واقع ہوگی۔ مسیح ؑ کا اپنے جسم کے ساتھ اٹھایا جانا، وہاں ان کا زندہ موجود ہونا، دوبارہ دنیا میں آ کر کئی سال رہنا اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مرنا امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کی بنیاد قرآنی تصریحات اور ان تفصیلات پر ہے جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ حافظ ابن حجر ؓ فرماتے ہیں : ”اِتَّفَقَ أَصْحَابُ الْأَخْبَارِ وَالتَّفْسِیْرِ عَلٰی أَنَّ عِیْسٰی رُفِعَ بِبَدَنِہٖ“ [ التلخیص الحبیر ] ”تمام اصحاب تفسیر اور ائمۂ حدیث اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ ؑ اپنے بدن سمیت آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔“ لہٰذا حیات مسیح کے انکار سے قرآن و حدیث کا انکار لازم آتا ہے جو سراسر گمراہی ہے۔ ”عزیزاً حکیماً“ کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسیح ؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا عام فوت ہونے والوں کی طرح نہیں تھا۔
Ayah 4:159وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ: اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں درست ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا ہر شخص اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ ؑ کی نبوت اور ان کے زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لے آئے گا، مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب موت سامنے آجاتی ہے، جیسا کہ فرعون مرتے وقت ایمان لے آیا تھا، مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ ؑ قیامت کے قریب عادل حاکم کی صورت میں اتریں گے اور دجال اور دوسرے تمام کفار سے جہاد کریں گے، تو ان کی موت سے پہلے پہلے تمام دنیا میں اسلام غالب ہوجائے گا۔ یہود و نصاریٰ یا تو مقابلے میں قتل ہوجائیں گے، یا اسلام لے آئیں گے۔ عیسیٰ ؑ صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کردیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، چناچہ جب عیسیٰ ؑ فوت ہوں گے تو ان کی وفات سے پہلے ہر موجود یہودی اور نصرانی ان کی نبوت اور ان کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ اترنے پر ایمان لا چکا ہوگا۔ چناچہ بخاری اور مسلم میں مذکور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرماتے : ”اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو : (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ)”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا۔“
وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا : اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (117)۔
Ayah 4:160فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ”فَبِظُلْمٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور جار مجرور پہلے آنے کی وجہ سے تخصیص پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ ”ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے“ کیا گیا ہے۔
یہود کی سرکشی اور شرارتیں ذکر کرنے کے بعد اب ان پر سختی کا ذکر ہے۔ (کبیر)
حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ۔۔ : پاکیزہ چیزوں کی یہ حرمت کچھ تو ان کی سرکشی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی، کیونکہ وہ گناہ پر بہت دلیر تھے، تاکہ ان کی سرکشی کچھ ٹوٹے، یہ شرعی حرمت تھی، جیسا کہ سورة انعام (146) میں ہے اور کچھ چیزیں انھوں نے اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کا اختیار دے کر ان کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام کرلیں، گویا یہ اللہ کی تقدیر میں ان کے بڑے ظلم شرک (احبارو رہبان کو رب بنانے) کی سزا کے طور پر حرام ہوئیں، جیسا کہ اب مسلمانوں میں سے بھی بعض نے اپنے اماموں کے کہنے پر کئی حلال چیزیں حرام اور کئی حرام چیزیں حلال قرار دے رکھی ہیں۔
شاہ ولی اللہ ؓ نے ایک اور نفیس مطلب بیان کیا ہے کہ یہاں ”طیبت“ سے مراد ان انعامات کا موقوف کردینا ہے جو بادشاہی اور نبوت و نصرت کی شکل میں حاصل تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ) [ البقرۃ : 61 ] ”اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی۔“ (فتح الرحمان) حقیقت میں تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 4:161وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ۔۔۔۔۔ اس وقت جو تورات موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے کتاب خروج، باب 22، فقرہ 25 تا 27)۔
وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ : یعنی رشوت، جوئے، دھوکے اور دوسرے ناجائز ذرائع سے لوگوں کے اموال کھانا۔ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، مخلوق پر ظلم اور حق سے اعراض۔ اوپر کی آیت : (وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) (ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے) سے مخلوق پر ظلم کی طرف اشارہ ہے، باقی کا تعلق ”اعراض عن الحق“ سے ہے۔ (کبیر)
Ayah 4:162لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ : علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے آنے والی وحی کے متلاشی ہوں اور اسی سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں، نہ لکیر کے فقیر ہوں نہ تقلید آباء کے اور ”المومنون“ سے مراد تورات پر صحیح ایمان رکھنے والے ہیں، یعنی یہ مومن اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔“ یہ اہل کتاب کے مومنوں کو بشارت ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان لے آئے، مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔
وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ : اس سے پہلے اور بعد والی تمام صفات مرفوع ہیں اور یہ منصوب ہے، اسے ”منصوب علی المدح“ یا ”علی الاختصاص“ کہا جاتا ہے۔ گویا یہ ”اَخُصُّ“ کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں۔“
Ayah 4:163اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ۔۔ : یہ ان کے اس اعتراض اور مطالبے کا اصل جواب ہے کہ آپ تورات کی طرح آسمان سے اکٹھی کتاب نازل کروائیں، یعنی وحی اور دعوت الی الحق میں رسول اللہ ﷺ کا معاملہ دوسرے انبیاء سے مختلف نہیں ہے، نوح ؑ سے لے کر جتنے انبیاء و رسل ہوئے ہیں سب کو الگ الگ معجزات ملے اور تورات کے علاوہ کسی کو بھی یک بارگی کتاب نہیں دی گئی، پھر جب یک بارگی کتاب ان پر نازل نہ کرنے سے ان کی نبوت پر حرف نہیں آتا تو آپ ﷺ کی نبوت کے لیے باعث اعتراض کیوں ہے ؟ نوح ؑ سے پہلے بھی بہت سے انبیاء ہوئے ہیں مگر اولو العزم اور صاحب شریعت نبی سب سے پہلے نوح ؑ تھے اور نوح ؑ ہی وہ نبی ہیں جن کی قوم پر عذاب نازل ہوا اور رد شرک کا وعظ بھی نوح ؑ سے شروع ہوا، اس لیے سب سے پہلے ان کا نام ذکر کیا ہے۔ (قرطبی، کبیر) وحی کے اصل معنی تو ”کسی مخفی ذریعے سے کوئی بات سمجھا دینا“ کے ہیں اور ”اِیْحَاءٌ“ (افعال) بمعنی الہام بھی آجاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ (51)۔
وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا : یعنی تم زبور کو تو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہو، حالانکہ وہ بھی داؤد ؑ پر تورات کی طرح تختیوں کی شکل میں نازل نہیں ہوئی تھی، پھر قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ (کبیر) موجودہ زبور میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں، جن میں دعائیں نصیحتیں اور تمثیلیں مذکور ہیں، حلت و حرمت کے احکام مذکور نہیں ہیں۔
Ayah 4:164وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ : جن رسولوں کے اسمائے گرامی اور واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد چوبیس (24) یا پچیس (25) ہے۔ آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، موسیٰ ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، الیاس، یسع، زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ ، ذوالکفل (اکثر مفسرین کے نزدیک) اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ : جن انبیاء و رسل کے نام قرآن میں ذکر نہیں ہوئے ان کی تعداد کتنی ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جو بہت مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک حدیث میں آٹھ ہزار بتائی گئی ہے، مگر ان احادیث میں کلام ہے۔
وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا : یعنی موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا، جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (253) پھر اگر موسیٰ ؑ کے اس شرف سے دوسرے انبیاء پر طعن نہیں آسکتا تو تورات کا یک بارگی نزول دوسرے انبیاء کے لیے موجب طعن کیسے ہوسکتا ہے۔ (رازی)
اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا، جو لوگ یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان آیات و احادیث کا کیا جواب دیں گے جن میں صاف لفظوں میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا ذکر ہے۔ اللہ کے ان بندوں نے اللہ تعالیٰ کو انسان سے بھی عاجز یعنی گونگا بنادیا اور اپنے خیال میں اسے اللہ تعالیٰ کی خوبی سمجھ رہے ہیں۔ امام احمد ابن حنبل ؒ ایسے ہی لوگوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ قرآن یا حدیث میں کہیں دکھاؤ کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ مخلوق ہے مگر نہ اس وقت ان کے مخالف یہ دکھا سکے نہ اب کوئی دکھا سکتا ہے۔
Ayah 4:165رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۔۔ : یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کرلیں انھیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر اور نادانی پر جمے رہیں انھیں ان کے غلط رویے کے انجام بد سے ڈرائیں، تاکہ اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طرف سے کوئی خوش خبری دینے والا یا ڈرانے والا آیا ہی نہیں اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت بس یہ دونوں چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی امام یا مجتہد کو دین میں حجت نہیں بنایا) عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دے دی جائے یا تدریجاً نازل ہو۔ بعثت کے اس اصلی مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجاً نازل کرنے سے تو یہ مقصد زیادہ کامل طریقے سے پورا ہوتا ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ موسیٰ ؑ کی طرح یک بارگی کتاب لائیں گے تو مانیں گے ورنہ نہیں، یہ محض ضد اور عناد ہے۔ (کبیر)
Ayah 4:166لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ۔۔ : یعنی وحی ہر پیغمبر پر آتی رہی ہے، کچھ نیا کام نہیں، پر اس کلام (قرآن مجید) میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کر دے گا، چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کا سچا ہونا مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے قرآن اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے، جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو محیط ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ قرآن اپنے علم سے، یعنی خوب جانتے ہوئے اتارا ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں سے بڑھ کر آپ ہی اس چیز کے اہل تھے کہ آپ پر یہ قرآن نازل کیا جاتا۔
Ayah 4:167اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی ﷺ پر خود بھی ایمان نہ لاتے اور لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں، یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو ہارون اور داؤد ؑ کی اولاد تک محدود ہے، یا یہ کہ موسیٰ ؑ کی لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی، ان کی اسی قسم کی کوششوں کو قرآن نے دور کی گمراہی قرار دیا ہے۔
Ayah 4:168اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا۔۔ : ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جا رہی ہے۔ (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یا آخری نبی ﷺ کی صفات کو چھپا کر ان پر ظلم کیا، یا دوسرے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)
Ayah 4:169اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ۔۔ : یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مرجائیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ نہیں کریں گے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جہنم میں لے جانا اور پھر ہمیشہ وہاں رکھنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے، لہٰذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر و عناد سے باز آجائیں اور آپ ﷺ کی اتباع اختیار کرلیں۔
Ayah 4:170يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ۔۔ : متعدد طریقوں سے یہود کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آپ ﷺ کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے، جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق ہے اور قرآن بھی اللہ کی سچی کتاب ہے تو تمہیں لازم ہے کہ اس دعوت کو قبول کرلو، اس میں تمہارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، ورنہ یاد رکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کا تمہارے ایمان نہ لانے سے کچھ نہیں بگڑتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (8)۔
Ayah 4:171يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔۔ : رازی لکھتے ہیں، یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاریٰ کے شبہ کی تردید کی جا رہی ہے۔ (کذا فی فتح الرحمن) مگر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے، اس لیے کہ ”غلو“ راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) دونوں صورتوں میں ہے۔ ایک طرف نصاریٰ نے مسیح ؑ کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا، تو دوسری طرف یہود نے مسیح ؑ سے متعلق یہاں تک تفریط برتی کہ ان کی رسالت کا بھی انکار کردیا، قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں۔ اعتدال کی راہ یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ نہ تو اللہ کے بیٹے ہیں کہ ان کو معبود بنا لیا جائے اور نہ جھوٹے نبی ہیں، بلکہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (قرطبی) آج کل اسی قسم کا غلو مسلمانوں میں بھی آگیا ہے اور ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی ﷺ اور اولیائے امت کا درجہ اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ انھیں خدا کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہیں اور پھر رسول اللہ ﷺ کو بشر سمجھنا انتہائی درجے کی گستاخی شمار کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ نے اس غلو سے سختی سے منع فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰی ابْنَ مَرْیَمَ ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3445 ] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا۔ میں تو اس کا بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہا کرو۔“
وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ : یعنی انھیں کلمۂ ”کُنْ“ سے بنایا اور اس طرح ان کی پیدائش بن باپ کے ہوئی، یہ معنی نہیں کہ وہ کلمہ ہی عیسیٰ ؑ بن گیا، ورنہ آدم ؑ تو ماں باپ دونوں کے بغیر کلمۂ ”کُنْ“ سے پیدا ہوئے تھے۔ پھر انھیں بھی رب ماننا پڑے گا، دیکھیے سورة آل عمران (59)۔
وَرُوْحٌ مِّنْهُ ۡ : یعنی اس کی پیدا کردہ روح، اس اضافت سے عیسیٰ ؑ کی عظمت کا اظہار مقصود ہے، ورنہ تمام روحیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہیں، فرمایا : (هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ) [ فاطر : 3 ] ”کیا اللہ کے سوا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے ؟“ جیسے فرمایا : ”ناقۃ اللہ“ ”اللہ کی اونٹنی“ اور ”بَیْتِیَ“ ”میرے گھر کو“ حالانکہ تمام اونٹنیوں اور تمام گھروں کا مالک اللہ ہے۔ یہ ”مِنْ“ تبعیضیہ نہیں ہے بلکہ ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ (ابن کثیر)
فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ : یعنی عیسیٰ ؑ بھی اللہ کے رسول ہیں، پس تم دوسرے پیغمبروں کی طرح ان کو اللہ کا رسول ہی مانو اور انھیں الوہیت (خدائی) کا مقام مت دو۔ (کبیر)
وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ ”ثَلٰثَةٌ“ مبتدا محذوف کی خبر ہے، یعنی ”اٰلِہَتُنَا ثَلاَثَۃٌ“ یا ”اَلْاَقَانِیْمُ ثَلاَثَۃٌ“ کہ ہمارے معبود تین ہیں، یا اقانیم تین ہیں۔ مبتدا اس لیے حذف کیا ہے کہ نصرانیوں کے اقوال بہت ہی مختلف ہیں، اگرچہ خلاصہ ان کا ایک ہے کہ خدا تین ہیں مگر وہ تین نہیں ایک ہیں۔ اب ایک ذات اور اس کی بیشمار صفات تو ہوسکتی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ، مریم اور عیسیٰ ؑ یہ تو تین مستقل شخصیتیں اور ذاتیں ہیں، یہ ایک ذات کیسے ہوگئے ! نصرانی بیک وقت خدا کو ایک بھی تسلیم کرتے ہیں اور پھر اقانیم ثلاثہ کے بھی قائل ہیں۔ یہ اقانیم ثلاثہ کا چکر بھی نہایت پر پیچ اور ناقابل فہم ہے۔ (کبیر) جس طرح بعض مسلمانوں میں ”نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللّٰہِ“ کا عقیدہ نہایت گمراہ کن ہے، جو واضح طور پر سورة اخلاص اور پورے قرآن کے خلاف ہے۔ نصرانی کبھی تو ان تین سے مراد وجود، علم اور حیات بتاتے ہیں اور کبھی انھیں باپ، بیٹا اور روح القدس سے تعبیر کرلیتے ہیں، حالانکہ وجود، علم اور حیات تو ایک ذات کی صفات ہوتی ہیں مگر باپ، بیٹا اور روح القدس تو تین شخصیتیں ہیں، یہ ایک کیسے بن گئے ؟ پھر ان کی کور فہمی دیکھو کہ کبھی کہتے ہیں کہ باپ سے وجود، روح سے حیات اور بیٹے سے مراد مسیح ؑ ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اقانیم ثلاثہ سے مراد اللہ تعالیٰ ، مریم اور عیسیٰ ؑ ہیں۔ قرآن نے بھی اس آخری قول کا ذکر کیا ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (73، 75، 76، 116) الغرض نصرانیوں کے عقیدۂ تثلیث سے زیادہ بعید از عقل کوئی عقیدہ نہیں اور اس بارے میں ان میں اس قدر انتشار و افتراق ہے کہ دنیا کے کسی عقیدہ میں نہیں، اس لیے قرآن نے انھیں دعوت دی کہ تم تین خداؤں کے گورکھ دھندے کو چھوڑ کر خالص توحید کا عقیدہ اختیار کرلو۔
اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭ: یعنی نہ کوئی اس کا شریک ہے، نہ بیوی اور نہ کوئی رشتے دار، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا۔
لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جسے تم نے اس کا شریک ٹھہرایا ہے وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اس کا مملوک اور مخلوق ہے اور جو شخص مملوک یا مخلوق ہو وہ خالق یا مالک کا بیٹا یا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟
وَكَفٰي باللّٰهِ وَكِيْلًا : یعنی اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے، وکیل یعنی سارے کام بنانے والا تو وہ خود ہی ہے۔ (موضح)
Ayahs 4:172–173لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ۔۔ : اس آیت میں نصاریٰ اور مشرکین دونوں کے غلط عقیدے کی تردید ہے، کیونکہ نصرانی مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دونوں اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی عار اور شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہی حال ہمارے نبی ﷺ کا تھا کہ جب کوئی شخص آپ کو اللہ کا بندہ کہتا تو آپ کو بےانتہا خوشی ہوتی۔ کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت و شرف کا مقام ہے، نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا۔ ابن قیم ؓ نے اپنی کتاب ”انوار القلوب“ میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں، اکرم الخلق محمد ﷺ کو تین مقامات پر، جو نہایت عزت کے مقامات ہیں، لفظ ”عبد“ یعنی بندہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے، وہ تین مقام یہ ہیں : 1 نزول وحی۔ دیکھیے کہف : 1۔ فرقان : 1۔ نجم : 10۔ حدید : 9۔ 2 اسراء و معراج۔ دیکھیے بنی اسرائیل : 1) 3 دعا۔ (دیکھیے جن : 19)۔
Ayah 4:174يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ۔۔ : جب اللہ تعالیٰ نے تمام گمراہ فرقوں کفار، منافقین، یہود و نصاریٰ پر دلائل قائم کردیے اور ان کے شکوک و شبہات کی بھی مکمل تردید فرما دی تو اب اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی کہ تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کے نبی برحق ہونے کی واضح دلیل آچکی اور ہم نے حق کو واضح کرنے والا نور، یعنی قرآن مجید نازل فرما دیا جو انسان کو ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نور ایمان پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
Ayahs 4:175–176يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ: سورت کی ابتدا تقویٰ کے حکم کے بعد اموال کے احکام سے ہوئی تھی، اب آخر میں انھی احکام کے ساتھ سورت کا اختتام ہے۔ درمیان سورت میں مخالفین سے مجادلہ اور ان کی تردید ہے۔ (رازی) کلالہ پر بحث اس سورت کی آیت (11) میں گزر چکی ہے۔ جابربن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں اس وقت بیمار اور بےہوش تھا، آپ نے وضو کیا، پھر وضو کے بچے ہوئے پانی سے مجھ پر چھینٹے مارے، یا فرمایا : ”اس پر چھینٹے مارو۔“ جس سے مجھے ہوش آگیا، میں نے عرض کی کہ میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے تقسیم ہوگی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، المرض، باب وضوء العائد للمریض : 5676۔ مسلم : 1616 ]
لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَهٗٓ اُخْتٌ۔۔ : بعض نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جس کی اولاد نہ ہو، خواہ اس کا باپ زندہ ہی ہو، اسے کلالہ کہا جائے گا، مگر یہ صحیح نہیں، صحیح معنی وہی ہے جو پہلے گزرا، یعنی کلالہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ یا دادا نہ ہو اور اولاد بھی نہ ہو، کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث نہیں ہوتی، باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ اولاد نہ ہونے کے ساتھ ساتھ باپ دادا بھی نہ ہوں۔ یوں اولاد کی نفی تو الفاظ سے واضح ثابت ہوگئی اور باپ کی نفی اشارے سے۔
اولاد سے مراد بیٹا، بیٹی اور بیٹے کی اولاد ہے، اسی طرح بہن سے مراد یہاں سگی بہن یا علاتی (باپ شریک) بہن ہے، کیونکہ اخیافی بہن، جو صرف ماں کی طرف سے ہو، اس کا حکم پہلے سورة نساء (12) میں گزر چکا ہے۔ (ابن کثیر)
”ولد“ کا لفظ بیٹا بیٹی دونوں پر بولا جاتا ہے، اس بنا پر بعض نے کہا کہ بیٹی ہونے کی صورت میں بہن محروم رہے گی، مگر صحیح بخاری (6741) میں معاذ ؓ کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجائے اور اس کے ورثاء میں صرف بیٹی اور بہن ہے تو بیٹی کو نصف اور باقی بہن کو (بوجہ عصبہ ہونے کے) دیا جائے گا۔ اور بخاری ہی میں ابن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے مرنے والے کی ایک بہن، ایک بیٹی اور ایک پوتی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کے لیے نصف ہے، پوتی کے لیے چھٹا حصہ، تاکہ دو ثلث پورے ہوجائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کے لیے ہے۔ [ بخاری، الفرائض، باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ : 6736 ]
ۭفَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَهُمَا۔ : اور یہی حکم دو سے زیادہ بہنوں کا ہے، انھیں بھی دو ثلث ہی ملے گا اور اگر کلالہ کے وارث بھائی اور بہن دونوں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔
يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ۭ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے میراث کے یہ حصے خود اس لیے واضح فرمائے ہیں کہ اگر یہ تم پر چھوڑ دیے جائیں تو تم کبھی صحیح فیصلہ نہ کرسکو، کیونکہ تمہیں ہر بات کا علم نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا خوب علم ہے، اس لیے اس کے فیصلے میں کبھی غلطی نہیں ہوسکتی۔