7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsانوار البیان

Ayah 7:1
(7:1) المص۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کا علم خدا تعالیٰ کی ذات کو ہے۔
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محمد یہ) کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے اس سے تم کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے (یہ نازل) اس لئے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

کتب۔ خبر ہے۔ جس کا مبتدا محذوف ہے یعنی ھو کتاب۔ کتب سے مراد یہاں القران ہے۔ صدرک۔ تیرا سینہ۔ صدر سے۔ مضاف۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ واحد صدور۔ جمع۔ بعض حکماء کے نزدیک قرآن میں جہاں کہیں قلب کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں صرف علم و عقل کی طرف اشارہ ہے۔ جیسے فرمایا ہے ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (50:37) جو شخص دل آگاہ رکھتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ اور جہاں صدر۔ استعمال ہوا وہاں علم و عقل کے علاوہ شہوت۔ ہوائے نفس اور غضب وغیرہ قوی نفسانیہ کی طرف بھی اشارہ ہے۔ چناچہ رب اشرح لی صدری (20:25) میں نفسانی قوی کی اصلاح کا سوال ہے۔ حرج۔ تنگی۔ مضائقہ ۔ شک۔ گناہ۔ تنگ۔ اصل میں حرج کے معنی اشیاء کے مجتمع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہا جاتا ہے۔ چناچہ اور جگہ آیا ہے ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا (4:25) اور ۔۔ پھر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں (نہ محسوس کریں) کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ فلا یکن فی صدرک حرج منہ۔ پس نہ چاہیے کہ نہ ہو تیرے سینہ میں کوئی شک یا تنگی خاطر اس سے۔ تقدیر کلام یوں ہے ۔ ھذا کتب انزل الیک لتنذر بہ وذکری للمؤمنین فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ یہ کتاب (القرآن) ہے ۔ جو نازل کی گئی ہے تیری طرف تاکہ تو ڈرائے (لوگوں کو) اس (کی نواہی سے پرہیز نہ کرنے کی عاقبت) سے اور یہ ایک نصیحت ہے مومنوں کے لئے۔ پس چاہیے کہ تیرے سینہ میں اس (کی تبلیغ) کے متعلق کوئی تنگی و شک و شبہ نہ ہو۔ یعنی آپ بلا جھجک اور بےدھڑک اس کی تبلیغ فرمادیں۔ مخالفین کی تکذیب اور تنقید کا کوئی ڈر دل میں نہ رکھیں۔ کیونکہ تیرے اللہ کی طرف سے یہ حق و صداقت پر مبنی کتاب ہے۔ ذکری۔ نصیحت کرنا۔ بہت ذکر کرنا۔ یاد۔ پندو نصیحت۔ موعظت۔ ذکر ٰذکر (نصر) کا مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ ذکری کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔:۔ (1) یہ بحالت نصب ہے اضمار فعل کے ساتھ ای لتنذر بہ وتذکر تذکیرا۔ اس صورت میں الذکری بمعنی التذکیر ہے۔ (2) یہ بحالت رفع ہے۔ اور اس کا عطف کتب پر ہے۔ ای ھو کتب وذکر للمؤمنین۔ (3) یہ بحالت جر ہے۔ والعطف علی محل لتنذر بمعنی للانذار ارد للذکری ڈرانے کے لئے اور نصیحت کے لئے۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو ! ) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی کی پیروی نہ کرو۔ (اور) تم (کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

(7:3) اتبعوا۔ تم پیروی کرو۔ اتباع سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) اس سے قبل لفظ قل محذوف ہے۔ کہ اے محمد ﷺ تو کہہ دے لوگوں سے۔ (2) یہ بلاواسطہ لوگوں سے خطاب ہے۔ ولا تتبعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ بمعنی لا تتخذوا۔ تم مت نباؤ۔ تم مت پکڑ دیا لاتتبعوا سے مراد لاتقربوا ہے۔ تم مت کہو قلیلا ما تذکرون۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ قلت۔ قلت زمانی بھی ہوسکتی ہے یعنی قلیل عرصہ کے لئے نصیحت پکڑتے ہو اور پھر فراموش کردیتے ہو۔ ما عملا زائد ہے لیکن قلت کی تاکید کرتا ہے۔
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جبکہ وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔

(7:4) کم سوالیہ استفہام کے لئے آتا ہے ۔ کتنی دیر۔ کتنی مقدار۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے مثلاً کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی محذوف ہوتی ہے مثلاً کم لبثت۔ یعنی کم زمانا لبث۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔ خبریہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم رجل ضربت۔ میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا۔ کبھی اس صورت میں اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا۔ (آیۃ ہذا) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ بیانا۔ البیات والتبییت۔ رات کے وقت دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ آیۃ ہذا۔ بیاتا اوھم قائلون رات کے وقت جب وہ سو رہے تھے یا دن کو جب وہ قیلولہ (دوپہر کا سونا۔ آرام کرنا) کر رہے تھے۔ بیت یبیت تبییت (تفعیل) رات کو مشورہ کرنا۔ بیت طائفۃ منہم (4:81) ان میں بعض لوگ مشورہ کرتے ہیں ۔ بات یبیت (ضرب) رات گزارنا۔ رات ہوجانا۔ قائلون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ قیلولۃ۔ مصدر۔ دوپہر میں سونے والے، دوپہر کو آرام کرنے والے۔ آیۃ ہذا میں سونا مراد ہے۔
Ayah 7:6

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کرینگے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔

(7:6) فلنسئلن الذین ارسل الیہم ۔ لنسئلن مضارع جمع متکلم ۔ بالام تاکید و نون ثقیلہ سو ہم ضرور پوچھیں گے۔ الذین ارسل الیہم۔ ان لوگوں سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے (کہ انہوں نے رسولوں کا کہاں تک اتباع کیا۔ المرسلین۔ رسولوں سے (کہ انہوں نے خدا کا پیغام پہنچا دیا) ۔
Ayah 7:7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے !

(7:7) فلنقصن علیہم۔ نقصن۔ مضارع جمع متکلم لام تاکید بانون ثقیلہ۔ قص یقص (نصر) علیٰ کسی سے کوئی بات بیان کرنا۔ بعلم۔ اپنے علم کی بناء پر (یعنی ان کے احوال ظاہر و باطنہ اور ان کے اقوال و افعال کے متعلق خدا کے علم محیط کی بناء پر) ۔ ھن کی ضمیر رسل اور مرسل الیہم کی طرف راجع ہے۔ وما کنا خائبین۔ غیر حاضر۔ غائب ہونے والے۔ اور ہم غیر حاضر نہ تھے۔ (ان کے قول و فعل کے وقت) ہم بیخبر نے تھے۔
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہونگے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔

(7:8) الوزن۔ (تولنا) یعنی کسی چیز کی مقدار معلوم کرنا۔ وزن یزن (ضرب) کا مصدر ہے۔ عرف عام میں وزن اس مقدار خاص کو کہتے ہیں جو ترازو۔ یا قبان کے ذریعہ معین کی جاتی ہے۔ واقیموا الوزن بالقسط (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ الحق۔ حق ۔ برحق۔ الوزن یؤمئذن الحق کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) الوزن موصوف۔ الحق صفت۔ صفت موصوف مل کر مبتدائ۔ یؤمئذ خبر۔ (یؤمئذ اصل میں جملہ محذوف یوم یسئل اللہ الامم ورسلہم کی جگہ آیا ہے) ۔ (2) الوذن۔ مبتداء اور الحق خبر۔ یؤمئذ متعلق خبر۔ پہلی صورت میں معنی ہوں گے۔ جس دن رسل اور مرسل الیہم سے پوچھ گچھ ہوگی۔ اس دن پورا پورا تول تولا جائے گا۔ دوسری صورت میں معنی ہوں گے اور اس دن (اعمال کا) تولنا برحق ہے۔ موازینہ اسم آلہ۔ میزان کی جمع۔ یا اسم مفعول مؤزون کی جمع ہے۔ وزن کرنے کا آلہ یعنی ترازہ۔ یا وزن کئے جانے والے اعمال
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

(7:9) خسروا (باب سمع) خسران مصدر۔ خسروا انفسھم۔ انہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا۔ بما کانوا بایتنا یظلمون۔ ای یکذبون۔ جھٹلاتے تھے۔ یا بےانصافی کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہمیں نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کئے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

(7:10) مکنکم۔ ماضی جمع متکلم۔ تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو جماؤ عطا کیا۔ ہم نے ان کو با اقتدار بنایا۔ ہم نے ان کو آباد کیا۔ معایش۔ معیشۃ کی جمع۔ سامان زندگی۔ زندہ رہنے کے اسباب۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہمیں نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت و شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔

(7:11) صورناکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ صور یصور (باب تفعیل) تمہاری شکل و صورت بنائی۔ یہاں خطاب تو حاضرین کو ہے لیکن مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یعنی ہم نے آدم کو پیدا کیا اس کو اچھی صورت بخشی اور پھر مرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ اسلوب بیان قرآن میں عام ہے مثلاً حضور ﷺ کے ہمعصر یہودیوں کو فرمایا گیا واذ نجینکم من ال فرعون (2:49) اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دلائی۔ اس میں حالانکہ خطاب رسول اکرم کے زمانہ کے یہودیوں سے ہے لیکن مراد ان کے اسلاف ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہو گزرے تھے۔
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

(7:12) طین۔ گارا ۔ خاک ۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ۔
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایان نہیں کہ یہاں غرور کرے۔ پس نکل جا ' تو ذلیل ہے۔

(7:13) فاہبط منھا۔ امر واحد مذکر حاضر ۔ تو اترجا ۔ ھبط یھبط (ضرب) اترنا۔ ھبوط۔ مصدر ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس سے مراد یا تو جنت ہے یا آسمان سے زمین کی طرف مراد ہے ہبوط۔ بلندی سے پستی کی طرف ذلت و خواری کی صورت میں نیچے آنے کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہماری بارگاہ سے دفع ہوجاؤ۔ فما یکون لک۔ یہ تیرے لئے درست نہیں ہے۔ تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان تتکبرفیہا کہ تو تکبر و غرور کرے اس جگہ۔ (جنت یا سمار یا بارگاہ خداوندی میں) یعنی تیرا کوئی حق نہیں کہ تکبر کرے اور پھر بھی تو یہاں رہے۔ الصغرین۔ ذلیل۔ بےعزت لوگ۔
Ayah 7:14

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

(7:14) انظرنی۔ تو مجھ کو مہلت دے۔ تو مجھ کو ڈھیل دے۔ انظار (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم یبعثون۔ مضارع مجہول مذکر غائب۔ بعث یبعث (فتح) وہ (یعنی لوگ) اٹھائے جاویں گے یوم قیامت۔
Ayah 7:15

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔

(7:15) المنظرین۔ اسم مفعول جمع ۔ منظرواحد۔ انظار۔ مصدر۔ باب افعال ۔ جن کو مہلت دی گئی۔ مہلت یافتہ۔ ڈھیل دئیے ہوئے
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

(پھر) شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے راستے پر ان کو (گمراہ کرنے) کیلئے بیٹھوں گا۔

(7:16) فبما۔ ب اس میں سببیہ ہے۔ اغویتنی۔ اغواء (افعال) سے۔ اغوی یغوی اغواء ۔ غی اور غوی کے معنی ہیں بہک جانا۔ گمراہ ہونا۔ لعنتی ہونا۔ برباد ہونا۔ ناکام و نامراد ہونا۔ خائب و خاسر ہونا ۔ زندگی خراب ہونا۔ باب افعال سے۔ بہکانا ، گمراہ کرنا، برباد کرنا، خائب و حاسر کرنا۔ زندگی خراب کرنا، یا گمراہی کی سزا دینا۔ یعنی سزاء گمراہ کرنا۔ جیسے ان کان اللہ یرید ان یغویکم (11:34) اگر خدا یہ چاہے کہ تمہیں تمہاری گمراہی کی سزا دے۔ اغواء کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو ایسا حکم دینا کہ جس کی نافرمانی اس کی گمراہی کا باعث بن جائے اس آیت میں یہ آخری دو معنی مراد ہوسکتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حکم پر سجدہ نہ کرنے کی سزا میں ابلیس کو جنت سے (یادرگاہ سے) نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس کی حکم عدولی اس کی گمراہی کا سبب بن گئی۔ سو فبما اغویتنی کا ترجمہ ہوگا۔ بدیں وجہ کہ میری حکم عدولی پر تو نے سزائً راہ مستقیم سے مجھے دور کردیا ہے۔ لاقعدون۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ ۔ صیغہ واحد متکلم۔ قعد یقعد (نصر) قعود سے میں ضرور بیٹھوں گا۔ میں تاک میں بیٹھوں گا۔ صراطل۔ تیرا راستہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ صراطل ای علی صراطک تیرے راستہ پر۔ لاقعدن لہم صراطک المستقیم۔ تیرے سیدھے راستہ سے ان کو گمراہ کرنے کے لئے میں ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا۔ (اور ان کی راہ ماروں گا) تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائیگا۔

(7:17) لاتینھم۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم ۔ میں ضرور آؤں گا ان کے پاس (ان کو بہکانے کے لئے)
Ayahs 7:18–19

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور (ہم نے) آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہگار ہوجاؤ گے۔

(7:18) مذء وما۔ حقارت کیا ہوا۔ ذلیل۔ ذاء مہ (باب تفعیل) ای عابد وحقرہوطررہ۔ عیب لگانا۔ ذلیل کرنا۔ دھتکارنا۔ ذامہ۔ ذیما وذاما (ضرب) عیب لاگان۔ مذمت کرنا۔ مدحورا۔ دحر یدحر دحرا ودحورا (فتح) دھتکارنا۔ دور کرنا۔ ہٹانا۔ مدحورا۔ مردود۔ دھتکارا ہوا۔ رزندہ ہوا۔ قرآن میں آیا ہے ویقذفون من کل جانب دحورا (37:98) اور وہ ہر طرف سے دھتکار کر نکال دئیے جاتے ہیں۔ لاملئن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ میں ضرور بھر دوں گا۔ ملا سے (باب فتح) جس کے معنی بھرنے اور پر کرنے کے ہیں۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن اور جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ قرآن میں ہے الم ترالی الملأ من بنی اسرائیل (2:246) بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا۔ اور وقال الملأ من قومہ (7:27) اور قوم فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے۔ اور کہتے ہیں فلان ملأ العیون۔ یعنی سب اسے عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ گویا اس نے ان کی نظروں کو اپنے جلوے سے بھر دیا ہے۔ الملأ۔ کسی چیز کی اتنی مقدار کہ برتن کو بھر دے۔ قرآن میں ہے۔ فلن یقبل من احدھم ملأ الارض ذھبا ولو افتدی بہ (3:91) سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا بھی نہ لیا جائے گا۔ اگرچہ وہ معاوضہ میں اس کو دنیا بھی چاہے۔ منکم۔ ای منک ومنہم۔ مخاطب کی ضمیر غالب آئی ہے۔
Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ انکے ستر کی چیزیں جو ان کے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔

(7:20) لیبدی لہما۔ لام عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنتی لباس اتار دیا گیا۔ اور وہ اپنے آپ کو برہنہ دیکھنے لگے۔ یبدی مضارع واحد مذکر غائب۔ ابداء (افعال) مصدر کہ ظاہر کر دے۔ کھول دے۔ نمایاں کردے۔ بدء مادہ۔ ووری۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب واری یواری مواراۃ (مفاعلۃ) روی مادہ۔ وہ چھپایا گیا۔ وہ پوشیدہ رکھا گیا۔ سواتھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کی شرمگاہیں۔ سوء ۃ کی جمع ہے۔ لیبدی لہما ما ووری عنھما من سواتھما۔ یہ بھی شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی غرض و غائیت ہے۔ یعنی ان دونوں کی شرمگاہوں کے وہ حصے جو ڈھانپ کر ان سے چھپائے گئے تھے ان پر بےپردہ کر دے۔ (کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر دونوں اس کے دھوکہ میں آگئے تو نتیجۃًوہ بےپردہ ہوجائیں گے) ما نھکما میں ما نفی کے ہے۔ نہیں منع کیا تھا اس نے تم دونوں کو۔ عن ھذہ الشجرۃ یعنی عن الاکل من ھذہ الشجرۃ اس درخت (کا پھل) کھانے سے۔
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔

(7:21) وقاسمھما۔ ان کے سامنے قسم اٹھائی۔
Ayahs 7:22–23

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرض (مردُود نے) دھوکا دیکر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا۔ ) (جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتّیتوڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے تب انکے پروردگار نے انکو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں عرض کرنے گے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔

(7:22) فدلہما یغرور۔ ان دونوں کو ڈہلالیا۔ ان دونوں کو نیچے ڈال دیا۔ ان دونوں کو کھینچ لیا۔ ان دونوں کو نیچے گرا دیا۔ دلی تدلیۃ (تفعیل) سے جس کے معنی کسی کو حیلہ سے کام میں لگا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تذلیۃ ادلاء الدلو سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی ڈول ڈالنے کے ہیں اسی مناسبت سے نیچے ڈال دینے اور کھینچ لینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بغرور۔ غرور۔ دھوکہ۔ فریب۔ جھوٹی امید۔ لالچ۔ بدت۔ ظاہر ہوگئی۔ بدو اور بداء سے ماضی واحد مؤنث غائب۔ طفقا۔ وہ دونوں لگے (اس کام کو جو آگے مذکور ہے) طفق (سمع) کاد کی طرح افعال مقاربہ میں سے ہے۔ جس طرح کاد کی خبر مضارع بغیر ان کے ہوتی ہے اسی طرح طفق کی خبر بھی مضارع ہوتی ہے۔ اور بغیر ان کے ہوتی ہے۔ جیسے یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) برق کی یہ حالت ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس نے ان کی بینائی لے لی۔ اور بفق کی مثال آیۃ ہذا۔ فبقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ اور چپٹانے لگ گئے اپنے (بدن) پر جنت کے پتے۔ یخصفن مضارع تثنیہ مذکر غائب خصف مصدر (باب ضرب) وہ دونوں چپکانے لگے۔
Ayahs 7:24–25

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت خاص تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے،

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

یعنی فرمایا اس میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں تمہارا مرنا اور اسی میں قیامت کے دن زندہ نکالے جاؤ گے۔

(7:24) اھبطوا۔ تم سب اترو۔ ھبوط سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نیچے اترنا۔ ہبوط آدم۔ حضرت آدم کا جنت سے زمین پر اترنا۔ مستقر۔ ظرف مکان۔۔ استقرار (استفعال) مصدر۔ قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ متاع۔ اسم مفرد۔ امتعۃ جمع۔ معین وقت تک فائدہ اٹھانا۔ سامان جو کام میں آتا ہے جس سے کسی طرح فائدہ حاصل کیا جاتا ہے الی حین۔ ایک وقت تک۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تم پوشاک اتاری کی تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں

(7:26) انزلنا۔ کا لغوی معنی ہے اوپر سے نیچے آنا۔ جیسے انزلنا الماء ہم نے پانی (بارش کی صورت میں ) نازل کیا۔ انسانی ضرورت زندگی کو بہم پہنچانے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اکثر و بیشتر ارضی چیزیں تدبیرات سماویہ سے ظہور میں آتی ہیں۔ مثلاً یہی لباس کہ کپاس سے تیار ہوتا ہے جو اپنی نشونما کے لئے پانی کی محتاج ہے جو اوپر سے برستا ہے۔ اسی طرح آیا ہے وانزل لہم من الانعام (39:6) اور اس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) بھیجے یا نازل کئے۔ پیدا کئے۔ ریشا۔ باعث زینت۔ ریش۔ رونق۔ لباس زینت۔ ریش اصل میں پرندوں کے پروں کو کہتے ہیں ۔ اور اس کا واحد ریشہ ہے۔ اور چونکہ پرندوں کی پروں سے رونق ہے اور وہ ان کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے انسان کے لئے کپڑے۔ اس لئے اس کا استعمال بطور استعارہ رونق ۔ زیب و زینت اور کپڑوں کے لئے ہوتا ہے۔ ریشا صفت بھی ہوسکتا ہے لباسا کی جو اس سے قبل محذوف ہے۔ ولباس التقوی ذلک خیر۔ اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ نیا جملہ ہے لباس التقوی مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا ۔ اور ذلک خیر۔ خبر۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے۔ و لباس التقوی ھو خیر۔ بعض نے لباس التقوی کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو لباسا پر عطف لیا ہے۔ لیکن جمہور اول الذکر کی طرف گئے ہیں۔ لباس التقوی سے مختلف علمانے مختلف معانی لئے ہیں ۔ مثلاً لباس الحرب (ڈھال ۔ رزہ وغیرہ) خشیۃ اللہ۔ الایمان۔ السمت الحسن۔ عمل صالح۔ الحیاء وغیرہ۔ ذلک من ایات اللہ میں ذلک کا اشارہ انزال اللباس کی طرف ہے۔ اور آیات سے مراد اللہ کی نعمتیں۔ اس کا فضل و کرم بھی ہوسکتا ہے۔ اور نشانیاں بھی۔ لعلکم یذکرون۔ تاکہ وہ (انسان) نصیحت پکڑیں۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروادیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول دکھائے وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ )

(7:27) لایفتننکم۔ مضارع منفی بانون ثقیلہ۔ فتن یفتن (ضرب) سے صیغہ واحد مذکر غائب۔ تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کر دے۔ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ ینزع۔ مضارع واحد مذکر غائب نزع مصدر (باب ضرب) اتروا دیا۔ بمعنی ماضی۔ لیریہما۔ مضارع منصوب ۔ اراء ۃ سے ۔ ہما ضمیر مفعول تثنیہ۔ تاکہ وہ ان دونوں کو دکھائے۔ ینزع عنھما سھما لیریہما سواتھما۔ حال ہے ابویکم سے۔ انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب شیطن کی طرف راجع ہے۔ قبیلہ۔ اس کا کنبہ۔ اس کی جماعت ۔ اس کا گروہ۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

(اور جب کوئی اور بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ خدا بےحیائی کے کام کرنیکا حکم ہرگز نہیں دیتا۔ بھلاتم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

(7:28) فاحشۃ۔ اسم۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے ہر وہ چیز جس کی ممانعت اللہ نے کردی ہے۔ مثلاً برہنہ ہوکر کعبہ کا طواف کرنا۔ جس کی یہاں ان آیات میں مذمت کی گئی ہے۔ زنا وغیرہ۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہو گے۔

(7:29) بالقسط۔ بالعدل وھو الوسط من کل امر۔ قسط سے مراد عدل یعنی ہر کام میں درمیانی راستہ اختیار کرنا نہ اس میں افراط ہو نہ تفریط۔ فاقیموا اوجوہکم عند کل مسجد کی تقدیر یوں ہے قل امر ربی بالقسط وقال اقیموا وجوہکم عند کل مسجد (الخازن) تو کہہ (اے محمد ﷺ ) میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ۔ اور فرمایا ہے اپنے چہرے سیدھے کرو (قبلہ کی طرف) ہر نماز کے وقت۔ اقیموا۔ اقامۃ الشیٔ اعطاء الشیٔ حقہ وتوفیتہ شروطہ۔ یعنی کسی چیز کو کما حقہ اس کی تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے ادا کرنا۔ اقیموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاض رہے۔ تم قائم کرو۔ تم درست کرو۔ اقامۃ (باب افعال) سے بمعنی قائم کرنا۔ درست رکھنا۔ وجوہکم۔ تمہارے چہرے۔ الوجہ سے مراد دلی توجہ اور نیت صحیحہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ مسجد۔ اسم ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی ہے۔ سو اس کا معنی وقت نماز بھی ہوسکتا ہے اور مسجد اور ہر وہ جگہ جہاں نماز ادا کی جائے۔ بدا۔ اس نے شروع کیا۔ اس نے ابتداء کی (باب فتح) بدا۔ یبدأ۔ کیف بدا الخلق (29:20) اس نے کیسے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ تعودون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عاد یعود عود (باب نصر) العود۔ کسی کام کو ابتداء کونے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ پلٹنا بذاتہٖ ہو یا قول و ععزم سے۔ جیسے ولوردوا لعادوا لما نھوا عنہ (6:28) اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا تھا وہی کرنے لگیں۔ اور لتعودون فی ملتنا (7:88) یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ تعودون۔ تم پھر آؤ گے۔ تم پھر لوٹو گے۔ کما بداکم تعودون۔ جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا تھا ویسے ہی تم لوٹو گے۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

اور ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنایا۔ اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں۔

(7:30) کما بداکم تعودون۔ فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضللۃ۔ (جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا تھا ویسے ہی تم اس کی طرف لوٹو گے ایک گروہ کو تو اللہ نے ہدایت دیدی اور ایک گروہ ہے کہ جس پر گمراہی واجب ہوگئی) اس کے معانی میں مفسرین کے اختلافات ہیں۔ کیا ننگے پیدا ہوئے تھے تو ننگے ہی اٹھائے جائیں گے۔ یا جس بنا پر کسی کی خلقت ہوئی تھی اسی پر اس کی واپسی ہوگی۔ یا جیسا قرآن میں ہے : ھو الذی کلقکم فمنکم کافر و منکم مومن (64:2) کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مومن پیدا کیا اور کسی کو کافر۔ اور پھر ایسا ہی اٹھائے گا جیسا کہ پیدا کیا۔ (ابن کثیر)
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ اور کھاو اور پیو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(7:31) زینتکم۔ مضاف مجاف الیہ۔ تمہاری زینت۔ یہاں زینت سے مراد لباس ہے۔ لاتسرفوا۔ تم اسراف نہ کرو۔ حد سے نہ بڑ ھ جاؤ۔ تم بیجا خرچ نہ کرو۔
Ayahs 7:32–33

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا اس کو حرام کس نے کیا ہے کہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کیلئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھتے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔

(7:33) من کس نے۔ اخرج۔ یہاں بمعنی اس نے پیدا کی۔ خالصۃ۔ خاص کر۔ صرف (انہی کے لئے ۔ روز قیامت کو)
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر ایک فرقے کیلئے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرتا ہے اور نہ ایک گھڑی جلدی کرتا ہے۔

(7:34) اجل۔ مدت مقررہ۔ مقررہ وقت۔ (عذاب کے نازل ہونے کا) ۔ موت کو اجل کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کا وقت بھی مقرر ہے۔ لایستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ دیر نہیں کرسکتے۔ وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ لا یستقدمون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ پہلے نہیں ہوسکتے (باب استفعال)
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کر رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔

(7:35) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔ جیسے اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا (18:86) خواہ ان کو عذاب دے خواہ ان سے حسن سلوک کر۔ آیۃ ہذا میں بمعنی اگر استعمال ہوا ہے ۔ نیز ملاحظہ ہو۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے۔

(7:37) ینالہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ نیل مصدر۔ (باب سمع) پہنچ جائے گا ۔ پہنچتا رہے گا۔ نصیبھم۔ ان کا حصہ۔ یعنی خوراک۔ عمر۔ صحت۔ بیماری۔ اچھا یا برا کام کرنے کے مواقع گناہ کرنے یا توبہ کرنے کے مواقع ۔ وغیرہ وغیرہ۔ من الکتاب۔ (جو ان کی قسمت میں) لکھا ہوا ہے ۔ الکتاب۔ نوشتہ تقدیر۔ حتی اذا۔ یہاں تک کہ جب۔ یتوفونھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر غائب۔ یہ ان اشخاص کی طرف راجع ہے جو زندگی میں اللہ تعالیٰ کے خلاف جھوٹی بہتان بازی کرتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے۔ یتوفون حال ہے رسلنا سے بمعنی درآنحالیکہ وہ (یعنی اللہ کے فرستارہ فرشتے) ان کی روحیں قبض کر رہے ہوں گے۔ یا قبض کریں گے۔ وہ جان نکالتے ہیں یا نکالیں گے۔ یا ان کی جان لینے کے لئے یتوفون (باب تفعیل) ۔ قالوا۔ اذا کا جواب۔ اینما۔ یہاں۔ این (کہاں ۔ ظرف۔ مکان) اور ما موصولہ کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ۔ این الالہۃ التی کنتم تدعونھا۔ ای تعبدونھا۔ کہاں ہیں وہ جن کو تم معبود پکارتے تھے (اللہ کے سوا) اینما بمعنی جہاں کہیں ۔ جس طرف۔ اینما تکونوا یدرکم الموت (4:78) جہاں کہیں بھی تم ہو گے موت تم کو آلے گی۔ ضلواعنا۔ ہم جو چھوڑ گئے۔ ہم سے گم ہوگئے ہیں۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

تو خدا فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی مذہبی بہن یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گیں تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار ! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو انکو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائیگا مگر تم نہیں جانتے

(7:38) لعنت اختھا۔ لعنت۔ بمعنی لعنت بھیجے گی۔ (یعنی وہ جماعت جو نئی جہنم میں داخل ہو رہی ہوگی) اختھا۔ اپنی بہن پر (یعنی اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے قبل جہنم میں داخل ہوچکی ہوگی۔ اپنی جیسی سے مراد یہ کہ جس پاداش میں دونوں جہنم میں پہنچی ہیں یعنی مشرکین کی جماعت مشرکین پر۔ یہود کی جماعت یہود پر ۔ وغیرہ وغیرہ) ۔ ادارکوا۔ ندارک یتدارک (تفاعل) تدارک کے تاء کو دال میں ادغام کرکے شروع میں ہمزہ وصل لائے ادارک ہوگیا۔ ادارکوا ماضی جمع مذکر غائب۔ تدارک سے۔ الدرک اور الدرج کے ایک ہی معنی ہیں۔ لیکن الدرج کا لفظ اوپر چڑھنے کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اور الدرک کا لفظ نیچے اترنے کے لحاظ سے۔ اسی لئے درجات الجنۃ اور درکات النار کا محاورہ ہے ۔ قرآن میں ہے درفع بعضہم درجت (2:253) اور بعض کو بلند درجات سے نوازا۔ یا ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار۔ (4:145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے۔ سمندر کی گہرائی کی تہ کو اور اس رسی کو جس کے ساتھ پانی تک پہنچنے کے لئے دوسری رسی ملائی جائے۔ اس کو بھی درک کہتے ہیں۔ یا وہ رسی سے باندھی جائے یا وہ رسی جو ڈول کے کنڈے سے باندھی جائے۔ درک کہلاتی ہے۔ اس لئے یکے بعد دیگرے ایک چیز کے کسی دوسری چیز سے ملنے کو (تاکہ غایت کو پہنچ سکے) ادراک کہتے ہیں۔ اسی طرح پیہم کوششوں سے کسی حقیقت کے پالینے کو بھی ادراک کہتے ہیں پس تدارک کے معنی پے در پے ایک دوسرے سے ملنے کے ہیں۔ عربی محاورہ ہے تدارک القوم قوم کے فرد ایک دوسرے سے جا ملے۔ (ہلاک ہوگئے) آیۃ ہذا میں ادارکوا سے مرا دیہی ہے کہ جب ان کی جماعتیں ایک دوسرے سے ملتی ملتی ختم ہوجائیں گی۔ یعنی جب سب امتیں اس میں (دوزخ میں) یکے بعد دیگرے جمع ہوجائیں گی۔ اخرھم۔ ان کی پہلی۔ اگلی ۔ اول کا مؤنث۔ قالت اخراہم لاولہم۔ کے مندرجہ ذیل معنی ہوسکتے ہیں۔ (1) سب سے آخری امت (دوزخ میں داخل ہوگی) اپنے سے پہلی امتوں کو کہہ گی۔ (2) (دوزخ میں) ہر پیچھے آنے والی امت اپنے سے پہلے والی امت کو کہے گی۔ (3) جو امت زمانہ کے لحاظ سے بعد میں آئی تھی۔ وہ اپنے سے پہلی امت کو کہے گی۔ کیونکہ یہ پہلی امت تھی جو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے گمراہی کے دین کو چھوڑ گئی تھی (دنیا میں) (4) یا مرتبہ کے لحاظ سے آخری امت وہ ہوگی جو تابعین کی جماعت تھی۔ اور اولیٰ وہ جماعت ہوگئی جو کہ قائدین کی ممانعت تھی۔ لہٰذا تابعین قائدین کو کہیں گے۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضلیت حاصل نہ ہوئی تو جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے عذاب کے مزے چکھو۔

(7:39) کنتم تکسبون ۔ جو تم کمایا کرتے تھے۔ جو تم کماتے رہے تھے۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کیلئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزادیا کرتے ہیں۔

(7:40) یلج ولج یلج سے مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ دلوج۔ مصدر۔ داخل ہوجائے۔ سم الخیاط۔ مضاف مضاف الیہ۔ سم۔ ناکہ۔ سوارخ۔ خیاط۔ سوزن۔ سوئی۔ سم الخیاط سوئی کا ناکہ۔