Ayah 7:1بسم اللہ الرحمن الرحیم
المص
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے میں اللہ ہوں اور تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔
(2) امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔
(3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص، طہ، طسم، یٓس، ص، حم، حمعسق، ق، ن “ اور اس جیسے (دوسرے حروف) یہ قسم ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہیں۔
(4) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے کہ وہ مصور ہے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب قرطی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ میں الف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ میم رحمن میں سے ہے صاد صمد سے ہے۔
(6) امام ابو الشیخ نے ضحاک بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” المص “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں جو سچ بولنے والا ہوں۔
Ayahs 7:2–4(1) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ میں حرج کے معنی ہے شک اور اعرابی سے فرمایا کہ تمہارے اندر حرج کیا چیز ہے ؟ تو اس نے کہا ایسا شک جو کاٹ دینے والا ہو۔
(2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے شک۔
(3) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا یکن فی صدرک حرج منہ “ سے مراد ہے تنگی۔
(4) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم “ کے بارے میں فرمایا یعنی اس قرآن کی پیروی کرو۔
Ayah 7:5(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی طرف سے عذر پیش کیا۔ پھر یہ آیت لفظ آیت ” فما کان دعوھم اذجآء ھم باسنا الا ان قالوا انا کنا ظلمین “ پڑھی۔
(2) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے اسی طرح مرفوعا بھی روایت کی۔
Ayahs 7:6–7(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “ سے مراد ہے کہ ہم لوگوں سے سوال کریں گے ان چیزوں سے جو انہوں نے جواب دیا تھا پیغمبروں کو اور ہم پیغمبروں سے بھی سوال کریں گے جو انہوں نے تبلیغ کی (یعنی اللہ کا پیغام پہنچایا) لفظ آیت ” لنقصن علیھم بعلم “ یعنی کتاب (اعمال نامہ) رکھا جائے گا قیامت کے دن اور وہ بات کرے گا ان معاملات کے بارے میں جو وہ عمل کرتے تھے۔
(2) امام عبد بن حمید نے عبد بن حمید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “ سے مراد ہے کہ ایک ان میں سے انبیاء ہوں گے اور دوسرے ان میں سے فرشتے ہوں گے۔ (اور فرمایا) لفظ آیت ” فلنقصن علیھم بعلم “ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم “ کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں سے ہم لا الہ الا اللہ کے بارے میں سوال کریں گے۔ لفظ آیت ” ولنسئلن المرسلین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) کہ ہم ضرور ان سے بھی پوچھیں گے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم “ یعنی ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے کیا تم کو رسولوں نے پیغام پہنچا دیا تھا۔ لفظ آیت ” ولنسئلن المرسلین “ یعنی اور ہم رسولوں سے ضرور پوچھیں گے کہ انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا۔
قیامت کے دن چار باتوں کے بارے میں سوال ہوگا
(5) امام ابن ابی حاتم نے القاسم ابی عبد الرحمن سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ بندہ سے قیامت کے دن چار باتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تیرا جسم نہیں بنایا تھا پس کس چیز میں تو نے اس کو بوسیدہ کیا۔ کیا میں نے تجھ کو علم نہیں دیا تھا تو نے کہاں تک عمل کیا جس کے بارے میں تو جانتا تھا۔ کیا میں نے تجھ کو مال نہیں دیا تھا پس کس چیز میں تو نے خرچ کیا میری اطاعت میں یا میری نافرمانی میں کیا میں نے تجھ کو عمر نہیں دی تھی پس کس چیز میں تو نے اس کو فنا کیا۔
(6) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے وھیب بن ورد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے مخلوق میں سے اللہ کی طرف سب سے زیادہ قریب اسرافیل ہیں اور عرش ان کے کاندھے پر ہوگا۔ جب وحی نازل ہوتی ہے تو تختی کو لٹکا دیا جاتا ہے عرش کی جانب سے اسرافیل کے چہرے سے ٹکراتی ہے تو وہ اس میں دیکھتا ہے اور وہ جبرئیل کی طرف بھیج دیتا ہے وہ اسے یاد کرتے ہیں اور اسے آگے رسولوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا اسرافیل (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا وہ لائے جائیں گے۔ ان کے مونڈھے اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا ہوگا (یعنی وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے) ان سے کہا جائے گا تو نے کیا کیا تیری طرف وہ تختی دی گئی تھی۔ وہ کہیں گے اے میرے رب وہ میں نے جبرئیل کو دے دی تھی جبرئیل کو بلایا جائے گا۔ ان کو اس حال میں لایا جائے گا کہ ان کے مونڈھے اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا ہوگا۔ اس سے کہا جائے گا تو نے کیا کیا اس بارے میں جو تجھ کو اسرافیل نے پہنچایا تھا۔ وہ کہیں گے اے میرے رب میں نے رسولوں کو پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسولوں کو بلایا جائے گا ان کے مونڈھوں اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا ہوگا۔ ان سے کہا جائے گا تم نے کیا کیا جو تم کو جبرئیل نے امانت دی تھی تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے لوگوں کو (آپ کا پیغام) پہنچا دیا تھا اسی کو فرمایا لفظ آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “
(7) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں ابو سنان (رح) سے روایت کیا کہ مخلوق میں سے سب سے زیادہ قریب اللہ کی طرف لوح ہے جو عرش سے لٹکی ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتے ہیں کہ کسی چیز کی وحی کی جائے تو اس کو تختی میں لکھ دیتے ہیں۔ وہ تختی آتی ہے یہاں تک کہ اسرافیل کے ماتھے سے ٹکراتی ہے اور اسرافیل اپنے چہرے کو اپنے پروں سے چھپالیتے ہیں اور اپنی آنکھ کو اوپر نہیں اٹھاتے اللہ کی عظمت کرتے ہوئے۔ پھر وہ اس میں دیکھتے ہیں اگر وہ حکم ہے آسمان والوں کی طرف تو وہ میکائیل کو دے دیتے ہیں اور اگر وہ حکم ہے زمین والوں کی طرف تو وہ جبرئیل (علیہ السلام) کو دے دیتے ہیں۔ تو سب سے پہلے قیامت کے دن تختی کا حساب لیا جائے گا۔ اس کو بلایا جائے گا تو اس کے مونڈھوں اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا ہوگا۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو نے پیغام پہنچا دیا تھا۔ وہ جواب دے گی ہاں تو ہمارے رب فرمائیں گے تیرے لئے گواہی کون دے گا۔ وہ کہے گی اسرافیل (علیہ السلام) پھر اسرافیل (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا تو اس کے مونڈھوں اور پسلیوں کے درمیان کا گوشت کانپ رہا ہوگا۔ اس سے کہا جائے گا کیا تختی نے تجھ کو پیغام پہنچا دیا تھا تو کہیں گے ہاں تختی کہے گی۔ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے برے حساب (یعنی حساب کی سختی) سے نجات دی۔ پھر اسی طرح (آگے سب سے سوالات ہوں گے)
(8) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عزوجل فرمائیں گے اے اسرافیل لے آ جو کچھ میں نے تیرے سپرد کیا تھا۔ وہ کہیں گے ہاں اے میرے رب صور میں اتنے اتنے سوراخ ہیں اور انسانوں کی روحوں میں سے اتنی ہیں۔ اتنے جن ہیں۔ اور شیاطین کی تعداد اتنی ہے۔ اور وحشی جانور اتنے ہیں اور پرندے اتنے ہیں اور چوپاؤں کی تعداد اتنی ہے۔ اور کیڑے مکوڑے اتنے ہیں۔ اور مچھلیاں اتنی تعداد میں ہیں۔ اللہ عزوجل فرمائیں گے ؛ اس کو لوح میں سے دیکھو تو وہ تعداد برابر برابر ہوگی نہ اس میں زیادتی ہوگی اور نہ اس میں کمی ہوگی۔ پھر اللہ عز وجل فرمائیں گے لے آؤ جو میں نے تیرے سپرد کیا تھا۔ اے میکائیل (علیہ السلام) وہ کہیں گے جی ہاں میں حاضر ہوں۔ تو نے نازل کیا اتنے اتنے کیل اتنا اتنا وزن مثقال۔ اتنا وزن قیراط اتنا اتنا وزن رائی کے دانہ کے برابر اور اتنا اتنا وزن درہ نازل فرمایا تو نے سال میں اتنا اتنا اور نازل فرمایا مہینے میں اتنا اتنا ہفتے میں اتنا اتنا ایک دن میں اتنا اتنا اور ایک ساعت میں اتنا اتنا نازل کیا۔ اور نازل کیا کھیتی کے لئے اتنا اتنا اور نازل کیا شیاطین کے لئے اتنا اتنا اور نازل کیا انسانوں کے لئے اتنا اتنا اور نازل کیا جانوروں کے لئے اتنا اتنا اور نازل کیا وحشی جانوروں کے لئے اتنا اتنا اور پرندوں کے لئے اتنا اتنا اور مچھلیوں کے لئے اتنا اتنا اور کیڑے مکوڑوں کے لئے اتنا اتنا لہذا یہ کل تعداد اتنی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کو دیکھو لوح میں سے۔ اچانک وہ ہو بہو اسی طرح ہوگی نہ زیادتی ہوگی نہ اس میں کمی ہوگی پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے جبرئیل (علیہ السلام) لے آو جو کچھ تیرے سپرد کیا تھا۔ وہ کہیں گے ہاں میرے رب تو نے اپنے فلاں نبی پر اتنی آیتیں فلاں فلاں مہینے میں اور فلاں فلاں ہفتے میں اور فلاں فلاں دن میں نازل فرمائیں اور تو نے اپنے فلاں نبی پر اتنی آیتیں اور اتنی سورتیں نازل فرمائیں سورتوں میں اتنی اتنی آیتیں ہیں۔ تو جب اتنی آیتیں ہیں تو ان میں حروف اتنے ہیں اتنے تو نے مدینہ میں ہلاک کئے ہیں۔ اور اتنے تو نے زمین میں دھنسا دیئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے لوح اس کو دیکھ لو تو اچانک وہ اسی طرح ہوگا نہ اس میں زیادتی ہوگی نہ اس میں کمی ہوگی پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لے آؤ اے عزرائیل جو کچھ تیرے سپرد تھا وہ کہیں گے ہاں اے میرے رب تو نے اتنے انسانوں اتنے جنوں اور اتنے شیطانوں کی روحیں قبض کی ہیں لوگوں کو پانی میں غرق کیا ہے اور اتنے لوگوں کو جلا دیا ہے اتنے کافر ہیں اتنے شہید ہیں اور اتنوں پر مکان گرا دیئے گئے۔ اتنے لوگوں کو سانپ اور اس جیسے دیگر کیڑوں سے ڈسوایا اتنے میدانوں میں اور اتنے پہاڑوں میں تھے اتنے پرندے تھے۔ اور اتنے کیڑے مکوڑے اور اتنے جنگلی جانور تھے۔ پس اتنی اتنی چیزیں تھیں حتی کہ کل تعداد اتنی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کا لوح سے موازنہ کرو۔ اچانک وہ ہوبہو اسی طرح ہوگی نہ اس میں زیادتی ہوگی اور نہ اس میں کمی ہوگی۔
(9) امام احمد نے معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا رب مجھے بلائے گا اور مجھ سے پوچھے گا تو نے میرے بندوں کو پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور میں کہنے والا ہوں گا اے میرے رب میں نے ان کو پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ تم میں سے جو حاضر ہے اس کو چاہئے کہ وہ غائب کو پیغام پہنچا دے پھر تم قیامت کے دن بلائے جاؤ گے۔ اس حال میں کہ تمہارے منہ چھینکوں کے ساتھ بند ہوں گے یعنی منہ سے کچھ بات چیت نہ کرسکو گے اور تمہارے پاؤں تمہارے اعمال پر گواہی دیں گے۔ تمہارے اعضاء میں سے اس کی ران اور اس کی ہتھیلی گواہی دے گی۔
(10) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو پڑھا اور فرمایا امام سے لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے اہل و عیال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کے بارے میں پوچھی جائے گی۔ اور غلام اپنے آقا کے حال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(11) امام بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا اپنی رعیت کے بارے میں امام پوچھا جائے گا لوگوں کے بارے میں اور آدمی پوچھا جائے گا اپنے اہل و عیال کے بارے میں اور عورت پوچھی جائے گی اپنے خاوند کے گھر کے بارے میں اور غلام پوچھا جائے گا اپنے آقا کے مال کے بارے میں۔
ہر سردار سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا
(12) امام ابن حبان اور ابو نعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سوال کرنے والے ہیں ہر سردار سے اس کی رعایا کے بارے میں آیا اس نے حفاظت کی یا اس کو ضائع کیا یہاں تک کہ آدمی سے سوال کیا جائے گا اس کے گھر والوں کے بارے میں۔
(13) امام طبرانی نے الاوسط میں سند صحیح کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ اس کی رغبت کے بارے میں پس تیار کرلو مسائل کے لئے جواب کو صحابہ نے عرض کیا کیا اس کا جواب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا نیک اعمال۔
(14) امام طبرای نے کبیر میں مقدام ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نہیں ہوگا کوئی آدمی اپنی قوم پر سردار مگر یہ کہ قیامت کے دن ان کے آگے آگے آئے گا۔ اس کے آگے ایک جھنڈا ہوگا جو وہ اٹھائے ہوگا اور لوگ اس کے پیچھے ہوں گے۔ اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا اور وہ لوگ بھی اس کے بارے میں سوال کئے جائیں گے۔
(15) امام طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں ہے کوئی امیر جو دس آدمیوں پر امیر بنایا گیا مگر اس سے پوچھا جائے گا ان سب کے بارے میں قیامت کے دن۔
(16) امام طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ سوال کرنے والے ہیں ہر رعبت والے سے اس کی رعایا کے بایر میں کہ جس پر اس کو نگران بنایا گیا تھا کہ اس نے اللہ کا حکم ان پر نافذ کیا یا ضائع کیا یہاں تک کہ ہر آدمی سے اس کے گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(17) امام طبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جس کے بارے میں بندہ سے سوال کیا جائے گا قیامت کے دن وہ یہ ہے کہ دیکھا جائے گا اس کی نمازوں میں اگر وہ ٹھیک نکلیں تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔
Ayahs 7:8–10(1) امام اللالکائی نے سنۃ میں اور بیہقی نے البعث میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کا نشان نہیں تھا اور وہ شہر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ پھلاندتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا۔ جیسے کہ ہم میں سے ایک نماز میں بیٹھتا ہے۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز کو قائم کرے زکوٰۃ کو ادا کرے اور حج اور عمرہ بھی کرے اور ناپاک ہوجانے پر غسل کرے۔ وضو کو پورا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ اس نے کہا اگر میں اس طرح کرلوں تو کیا میں مسلمان ہوں گا آپ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا اے محمد ! آپ نے سچ فرمایا پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو جنت پر جہنم اور میزان پر ایمان لائے۔ اور تو موت کے بعد اٹھنے پر ایمان لائے اور تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے اس نے کہا اگر میں ایسا کرلوں تو میں مومن ہوں گا ؟ فرمایا ہاں اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔
(2) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یومئذ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن اعمال کا وزن کرنا عدل ہے اور لفظ آیت ” فمن ثقلت موازینہ “ کہ جن کی نیکیاں بھاری ہوگئیں اور لفظ آیت ” ومن خفت موازینہ “ یعنی جن کی نیکیاں ہلکی ہوگئیں۔
(3) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عیزار (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن آگے بڑھنا ترکش میں تیر کی طرح ہے اور نیک بخت وہ ہوگا جو اپنے پاؤں رکھنے کی جگہ کو پائے گا۔ اور میزان کے پاس ایک فرشتہ ہوگا جو آواز دے گا کہ فلاں بن فلاں کا میزان بھاری ہوگیا اور وہ ہمیشہ کے لئے خوش بخت بن گیا۔ اب کبھی بھی بدبخت نہ ہوگا اور فلاں بن فلاں کا میزان ہلکا ہوگیا اور وہ ہمیشہ کے لئے بدبخت بن گیا اب اس کے بعد کبھی بھی نیک بخت نہ ہوگا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والوزن یومئذ الحق “ سے مراد ہے کہ ایمان کا وزن کیا جائے گا۔
(5) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم حلیہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کے آخری اعمال کو وزن کیا جائے گا۔ سو جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا تو اس کے عمل کا اختتام خیر اور بھلائی پر ہوگا۔ اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے شر کا ارادہ کیا تو اس کا خاتمہ برے عمل کے ساتھ ہوگا۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے حارث اعور (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ حق البتہ بھاری ہوتا ہے حق والوں پر جیسے کہ وہ بھاری ہوتا ہے ترازو میں اور بلاشبہ حق البتہ ہلکا ہوتا ہے باطل والوں پر جسے کہ وہ ہلکا ہوتا ہے ترازو میں۔
(7) ابن منذر اور اللالکائی نے عبد الملک بن ابی سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ ترازو کا ذکر حسن کے پاس کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کی دوزبان اور دو پلڑے ہوں گے۔
(8) ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ ترازو رکھی جائے گی دو درختوں کے درمیان بیت المقدس کے پاس۔
(9) ابن ابی الدنیا، ابن جریر اور اللالکائی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ وزن کرنے والے قیامت کے دن جبرئیل (علیہ السلام) ہوں گے بعض کے اعمال کو بعض پر ڈال دیا جائے گا۔ کہ ظالم کی نیکیوں میں سے لیا جائے گا اور مظلوم پر لوٹا یا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کے گناہ لے کر ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔
اعمال تولنے کے ترازو کا بھاری ہونا کامیابی ہے
(10) ابو الشیخ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” والوزن یومئذ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے فرمایا کہ میزان کی ایک لسان اور دو پلڑے ہوں گے جس سے وزن کیا جائے گا پس جس شخص کا وزن بھاری ہوگا تو یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ اور جس کا وزن ہلکا ہوگا تو یہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جنت میں بھی اپنے گھروں کو نقصان کیا۔ اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آیات کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں۔
(11) عبد الرزاق اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم المفلحون “ کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ کو ان کے بعض گھر والوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا لوگ اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن یاد کریں گے ؟ آپ نے فرمایا تین جگہوں پر یاد نہیں کریں گے۔ ترازو کے پاس اعمال ناموں کا اڑ کر ہاتھوں میں آنے کے وقت۔ اور پل صراط کے پاس۔
(12) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس دن لوگوں کا حساب لیا جائے گا۔ جس کی ایک نیکی بھی اس کی برائیوں سے بڑھ جائے گی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس کی ایک برائی بھی نیکیوں سے بڑھ جائے گی تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ پھر آپ نے لفظ آیت ” فمن ثقلت موازینہ “ دونوں آیتیں پڑھیں۔ پھر فرمایا کہ ترازو ایک دانہ کے وزن سے بھی ہلکا ہوجائے گا یا بھاری ہوجائے گا۔ اور جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی تو وہ اعراف والوں میں سے ہوگا۔ پس وہ اعراف ہی ٹھہریں گے۔
(13) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب اخلاص میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص کا ظاہر وزنی ہوگا اس کے باطن سے تو اس کا وزن قیامت کے دن ہلکا ہوگا۔ اور جس شخص کا باطن بھاری ہوگا اس کے ظاہر سے تو اس کا وزن بھاری ہوگا قیامت کے دن۔
(14) امام ابو الشیخ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ترازو رکھی جائے گی نیکیوں اور برائیوں کا وزن کیا جائے گا۔ پس جس شخص کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہوجائیں گی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس شخص کی برائیاں بھاری ہوجائیں گی اس کی نیکیوں پر تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
(15) امام نبراز، ابن مردویہ، اللالکائی اور بیہقی نے انس ؓ سے مرفوعاً روایت فرمایا کہ ایک فرشتہ ترازو پر مقرر ہوگا۔ قیامت کے دن ایک بندہ کو لایا جائے گا اور اس کو ترازو کے پلڑوں کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ اگر اس کا وزن (نیکیوں کا) بھاری ہوگا تو وہ فرشتہ آواز دے گا اتنی اونچی آواز سے کہ ساری مخلوق اس کو سنے گی کہ فلاں بیٹا فلاں کا ہمیشہ کے لئے نیک بخت ہوگیا اب کبھی بد بخت نہ ہوگا۔ اور اگر اس کا وزن (برائیوں کا) بھاری ہوگا تو وہ فرشتہ آواز دے گا کہ فلاں شخص ہمیشہ کے لئے بدبخت ہوگیا اب اس کے بعد کبھی بھی نیک بخت نہ ہوگا۔
(16) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد اور آجری نے شریعۃ میں حاکم اور بیہقی نے بعث میں (اور حاکم نے اس کو صحیح بھی قرار دیا ہے) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک مرتبہ دوزخ کا ذکر کیا اور رونے لگیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہوا ؟ عرض کیا آگ کا ذکر کیا گیا تو میں رونے لگی۔ کیا آپ اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن یاد کریں گے ؟ آپ نے فرمایا تین جگہوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ جب ترازو رکھی جائے گی یہاں تک کہ وہ جانے گا کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوتا ہے یا بھاری ہوتا ہے۔ اور اعمال ناموں کے اڑنے کے وقت جب کہا جائے گا لفظ آیت ” ھاوم اقرء وا کتبیہ “ (الحاقہ آیت 19) یہاں تک کہ وہ جان لے کہ اس کا اعمال نامہ کہاں واقع ہے۔ اس کے دائیں طرف سے یا اس کے بائیں طرف یا اس کے پیٹھ کے پیچھے سے۔ اور پل صراط کے وقت جب کہ اسے جہنم کی پشت پر رکھا جائے گا۔ اس کے کناروں پر بہت سی لڑی ہوئی کانٹے دار سلاخیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ روک لیں گے اس کے ذریعہ جس کو چاہیں گے اپنی مخلوق میں سے یہاں تک کہ وہ جان لے کہ وہ نجات پاتا ہے یا نہیں۔
(17) امام حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی قرار دیا) سلمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ترازو رکھی جائے گی۔ اگر اس میں آسمان اور زمین کا بھی وزن کیا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی فرشتے عرض کریں گے اے میرے رب اس میں کس کا وزن ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اپنی مخلوق میں سے جس کے لئے میں چاہوں گا۔ فرشتے عرض کریں گے آپ کی ذات پاک ہے۔ ہم نے آپ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے آپ کی عبادت کا حق تھا۔ اور پل صراط رکھا جائے گا استرے کی دھار کی طرح (تیز کرکے) تو فرشتے عرض کریں گے اس پر کون گزرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جس کو میں چاہوں گا اپنی مخلوق میں سے فرشتے عرض کریں گے تیری ذات پاک ہے ہم نے تیری عبادت نہیں کی جیسے حق ہے تیری عبادت کا۔
(18) امام ابن مبارک نے زہد میں آجری نے الشریعۃ میں اور اللالکائی نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ترازو رکھی جائے گی۔ اس کے دو پلڑے ہوں گے۔ اگر ان میں سے ایک میں آسمانوں اور زمینوں کو رکھ دیا جائے اور جو کچھ ان میں ہے تو اس کی گنجائش ہوگی۔ تو فرشتے کہیں گے اس میں کس کا وزن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جس کو میں اپنی مخلوق میں سے چاہوں گا۔ تو فرشتے کہیں گے تیری ذات پاک ہے ہم نے تیری عبادت نہیں کی جیسے حق تھا تیری عبادت کا۔
(19) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے ترازو کے دو پلڑے آسمان اور زمین کی طرح پیدا فرمائے۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب اس کے ساتھ کس کا وزن ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کے ساتھ میں وزن کروں گا جس کا چاہوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے پل صراط کو پیدا فرمایا تلوار کی دھار کی طرح تو فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب کون اس پر سے گزرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں گزاروں گا اس پر جس کو چاہوں گا۔
(20) امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ترازو کا ایک کانٹا اور دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیوں اور برائیوں کا حساب کیا جائے گا۔ نیکیوں کو حسین صورت میں لایا جائے گا۔ اور ان کو ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ برائیوں پر بھاری ہوجائیں گی۔ تو ان کو اٹھا کر جنت میں بندے کے مراتب کے مطابق رکھ دیا جائے گا۔ پھر مومن سے کہا جائے گا مل جا اپنے عمل کے ساتھ۔ تو وہ جنت کی طرف جائے گا اور اپنے گھر کو اپنے عمل کی وجہ سے پہچان لے گا۔ (اسی طرح) برائیوں کو بری صورت میں لایا جائے گا اور ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو ہلکا ہوجائے گا۔ اور باطل ہلکا ہی ہوتا ہے۔ تو اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے مراتب کے مطابق اور اس سے کہا جائے گا مل جا اپنے عمل کے ساتھ دوزخ میں تو وہ دوزخ کی طرف آئے گا اور وہ عمل کے ذریعہ اپنے گھر کو پہچان لے گا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اس میں طرح طرح کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ لوگ پہچان لیں گے اپنے گھروں کو جنت میں اور دوزخ میں اپنے عملوں کی وجہ سے جیسے کہ وہ جاتے ہیں جمعہ کے دن اور پھر لوٹ آتے ہیں اپنے گھروں کی طرف۔
قیامت کے روز رسول اللہ ﷺ سے ملاقات
(21) امام ترمذی اور بیہقی نے البعث میں (اور ترمذی نے اس کو حسن بھی قرار دیا) انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے لئے آپ سفارش فرمائیں گے قیامت کے دن آپ نے فرمایا میں ایسا کروں گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا پہلے مجھے تلاش کرنا پل صراط پر۔ میں نے عرض کیا اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہوئی آپ نے فرمایا پھر مجھے ترازو کے پاس تلاش کرنا میں نے عرض کیا اگر ترازو کے پاس آپ سے ملاقات نہ ہوئی آپ نے فرمایا پھر مجھے حوض کوثر کے پاس تلاش کرنا۔ میں ان تینوں جگہوں سے غیر حاضر نہیں ہوں گا۔
(22) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ، اللالکائی اور بیہقی نے البعث میں (اور امام حاکم نے اس کو صحیح بھی قرار دیا) عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو پکارا جائے گا ساری مخلوق کے سامنے قیامت کے دن اس کے لئے ننانوے رجسٹر پھیلا دئیے جائیں گے۔ اس میں سے ہر ایک انتہائے نظر تک پھیلا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس میں سے کیا تو کسی چیز کا انکار کرتا ہے کیا لکھنے والوں فرشتوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا۔ وہ عرض کرے گا اے میرے رب نہیں پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرے لئے کوئی عذر ہے یا کوئی اور نیکی ہے ؟ وہ آدمی انکار کرتے ہوئے کہے گا اے رب میرے پاس کوئی عذر نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں کیوں نہیں ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ تو اس کے لئے کاغذ کا ایک پرزہ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا۔ ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ “ وہ کہے گا اے میرے رب ان رجسٹروں کے سامنے یہ پرزہ کیا کام دے گا ؟ اس سے کہا جائے گا آج تجھ پر ظلم نہیں ہوگا تو وہ سب رجسٹر ایک پلڑے میں اور یہ پرزہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ رجسٹر اڑنے لگیں گے (یعنی ہلکے ہوجائیں گے) اور وہ پرزہ بھاری ہوجائے گا اور سچی بات ہے کہ اللہ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوتی۔
(23) امام احمد نے سند حسن کے ساتھ عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ترازو رکھے جائیں گے قیامت کے دن ایک آدمی لایا جائے گا اس کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا۔ اور دوسرے پلڑے میں اس کے مجموعی اعمال کو رکھ دیا جائے گا۔ تو اس کی طرف ترازو جھک جائے گا۔ تو اس کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے گا تو ایک چیخنے والا چیخے گا رحمن کے پاس سے کہ جلدی مت کرو جلدی مت کرو۔ اس کا کچھ باقی (عمل) ہے۔ تو ایک پرزہ لایا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا۔ تو اس آدمی کے ساتھ اس پلڑے میں اس کو رکھا جائے گا یہاں تک کہ اس جانب سے ترازو جھک جائے گا۔
(24) امام ابن ابی الدنیا اور نمیری نے کتاب الاعلام میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو ٹھہرایا جائے گا عرش کے قریب ایک کشادہ جگہ میں ان پر سو سبز کپڑے ہوں گے۔ گویا کہ وہ بوسیدہ کپڑے ہیں۔ اور آپ دیکھیں گے اس شخص کی طرف جو ان کی اولاد میں جنت کی طرف جائے گا اور دیکھیں گے اس شخص کی طرف بھی جو ان کی اولاد میں سے دوزخ کی طرف جائے گا۔ اس درمیان کہ آدم (علیہ السلام) اسی جگہ پر ہوں گے کہ آپ کی نظر محمد ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پر پڑے کی۔ جس کو دوزخ کی طرف لے جا رہے ہوں گے۔ تو آدم آواز دیں گے اے احمد ! اے احمد ! وہ فرمائیں گے میں حاضر ہوں اے بشر کے باپ۔ آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے یہ آدمی تیری امت میں سے ہے۔ اس کو دوزخ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ پس میں اپنی چادر کو مضبوط کرتے ہوئے فرشتوں کے پیچھے جانے میں جلدی کروں گا۔ اور میں کہوں گا اے میرے رب کے قاصدو ٹھہرجاؤ۔ وہ کہیں گے ہم غضب ناک اور طاقتور ہیں ہم اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اور ہم وہی کرتے ہیں جو ہم کو حکم دیا گیا۔ جب نبی ﷺ مایوس ہوجائیں گے (فرشتوں سے) تو اپنی داڑھی مبارک کو اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑ کر عرش الہیٰ کی طرف اپنا چہرہ پھیر لیں گے۔ اور فرمائیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تجھ کو رسوا نہ کروں گا میری امت کے بارے میں تو عرش کے پاس سے ایک آواز آئے گی کہ محمد ﷺ کی اطاعت کرو۔ اور اس آدمی کو اپنے مقام کی طرف واپس لوٹا دو ۔ پھر میں اپنی چادر باندھنے کی جگہ سے پوروں کی مثل ایک سفید کاغذ کا پرزہ نکالوں گا۔ اور اس کو ترازو کے دائیں پلڑے میں ڈالوں گا اور کہوں گا بسم اللہ تو اس کی نیکیاں بھاری ہوجائیں گی برائیوں پر تو آواز دی جائے گی یہ نیک بخت ہوگیا ہے اور اس کا دادا بھی نیک بخت ہے۔ اور اس کا بول بھاری ہوگیا تم اس کو جنت کی طرف لے چلو۔ فرشتے اس کو جنت کی طرف لے جائیں گے۔ اور وہ کہے گا اے میرے رب کے قاصدو ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ میں سوال کرون اس کریم بندہ کے بارے میں اپنے رب سے اور وہ کہے گا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیسے ہی اچھا آپ کا چہرہ ہے اور کیا ہی اچھا آپ کا اخلاق ہے۔ آپ کون ہیں کہ آپ نے میرے گناہوں کو میرے لئے کم کردیا آپ فرمائیں گے میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں اور یہ تیرا درود ہے جو تو نے مجھ پر بھیجا تھا۔ اور میں تجھ پر آسان کر رہا ہوں جس کا تو زیادہ حاجت مند ہے۔
(25) امام طبرانی الاوسط میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی بندہ کی سب سے پہلی چیز جو میزان میں رکھی جائے گی وہ اس کا اہل و عیال پر خرچ کرنا ہوگا۔
(26) امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور اللالکائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں اور رحمن کی طرف محبوب ہیں (وہ یہ ہیں) ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “
(27) امام طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ ان کے نیچے ہے ان سب کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ کی گواہی رکھ دی جائے تو یہ ان تمام سے بھاری ہوگا۔
(28) امام ابن ابی الدنیا، بزار ابو یعلی، طبرانی اور بیہقی نے سند جید کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابوذر (رح) عنہ سے ملے اور فرمایا کیا تم کو دو ایسی باتیں جو پیٹھ پر وزن کے اعتبار سے ہلکے ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں دوسری چیزوں کی نسبت۔ عرض کیا کیوں نہیں ضرور بتائیے یا رسول اللہ ! فرمایا اچھے اخلاق کو لازم پکڑا اور لمبی خاموشی کو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق کا کوئی عمل ان دو کے مثل نہیں ہے۔
(29) امام ابن ابی شیبہ نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ام درداء (رح) سے کہا کیا تو نے نبی ﷺ سے کوئی چیز سنہ ہے۔ فرمایا ہاں میں ان کے پاس آئی تو میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا سب سے پہلے ترازو میں اچھا اخلاق رکھا جائے گا۔
(30) امام ابو داؤد، ترمذی، ابن حیان اور لالکائی نے (اور امام ترمذی نے تصحیح بھی کی ہے) ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری ترازو میں نہیں رکھی جائے گی۔
(31) امام طبرانی نے الاوسط میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ایک اونٹنی اللہ کے راستہ میں دی۔ پھر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نسل میں سے کوئی خریدلوں۔ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا چھوڑ دے اس کو قیامت کے دن یہ (اونٹنی) بھی اور اس کی اولاد بھی سب کے سب تیرے میزان میں آئے گی۔
(32) امام ابو نعیم نے ابن عمر سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو میں (قیامت کے دن) اس کے ترازو کے پاس کھڑا ہوں گا پس اگر وہ ترازو کا نیکیوں والا ( پلڑا) بھاری ہوگیا تو (بہت اچھا) ورنہ میں اس کی شفاعت کروں گا۔
(33) امام ابن ابی شیبہ اور احمد نے مغیث بن سمی اور مسروق (رح) دونوں سے روایت کیا کہ ایک راہب نے اپنے عبادت خانہ میں ساٹھ سال تک عبادت کی۔ ایک دن اس نے بارش کا پانی دیکھا اور یہ کہا کہ اگر میں اتروں تو میں کسی کو بھی نہیں دیکھ رہا اور میں پانی میں سے پیؤں گا۔ اور میں وضو کروں گا پھر میں لوٹ آؤں گا اپنی جگہ کی طرف۔ بس ایک عورت اس سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے وہ ننگی ہوگئی اور وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ اور اس پر واقع ہوگیا پھر وہ (غسل کرنے کے لئے) ایک تالاب میں داخل ہوتا کہ اس میں غسل کرے اس کو موت نے پالیا کہ وہ اسی حال پر ہو اسی دوران ایک سائل اس کے قریب سے گزرا اس نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ روٹی لے لے جو اس کی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ مسکین نے وہ روٹی اٹھالی اور فوت ہوگیا۔ اس کے ساٹھ سال کے اعمال کو لایا گیا اور ان کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور اس کی برائی کو لایا گیا اور دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو وہ پلڑا جھک گیا اس کے عمل کے ساتھ یہاں تک کہ وہ روٹی لائی گئی۔ اور اس کو رکھا گیا اس کی عبادت کے ساتھ تو اس کے سبب وہ عمل خطا سے بھاری ہوجائے گا۔
(34) امام طبرانی نے اوسط میں سفینہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ چیزیں ایسی ہیں جو ترازو میں بھاری ہیں۔ سبحان اللہ لا الہا لا اللہ الحمدللہ اللہ اکبر اور نیک عمل جس کو مسلمان آگے بھیجتا ہے۔
(35) امام ابو یعلی اور ابن حبان نے عمرو بن حرث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ تو نے خرچ کیا اپنے خادم پر اس کے کام کے لئے تو اس کا اجر تیرے میزان میں ڈالا جائے گا۔
(36) امام ابن عساکر نے سند ضعیف کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے وضو کیا۔ پھر صاف کپڑے سے اس کو پونچھ لیا تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص ایسا نہ کر تو یہ افضل ہے۔ اس لئے کہ وضو کا بھی وزن کیا جائے گا قیامت کے دن سارے اعمال کے ساتھ۔
(37) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں سعید بن المسیب (رح) وضو کے بعد رومال (کے استعمال کو) ناپسند کرتے تھے اس لئے کہ وہ وزن کیا جائے گا۔
(38) امام ترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا کہ زہری (رح) بھی وضو کے بعد رومال (کے استعمال کو) ناپسند کرتے تھے اس لئے کہ ہر قطرہ وزن کیا جائے گا۔
(39) امام مرہبی نے فضل العلم میں عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہداء کا خون وزن کیا جائے گا۔ تو علماء کی روشنائی شہداء کے خون سے بڑھ جائے گی۔
(40) امام عبدالبر نے فضل العلم میں ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ اسی طرح آدمی کے اعمال کو لایا جائے گا۔ اور قیامت کے دن ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ ہلکا ہوجائے گا۔ پھر ایک چیز بادل کی طرح لائی جائے گی اور ترازو کے پلڑے میں رکھی جائے گی تو وہ بھاری ہوجائے گی۔ کیا تو جانتا ہے یہ کیا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں اس سے کہا جائے گا یہ عمل کی فضیلت ہے جو تو لوگوں کو سکھایا کرتا تھا۔
لوگوں کو دین سیکھانے کا فائدہ
(41) امام ابن مبارک نے زہد میں حماد بن ابو سلیمان (رح) سے روایت کیا ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور وہ اپنے عمل کو حقیر گمان کرے گا اس درمیان کہ وہ اس حال میں ہوگا اچانک بادل کی طرح کوئی چیز اس کے پاس آئے گی یہاں تک کہ وہ اس کی میراث میں داخل ہوجائے گی۔ اس سے کہا جائے گا یہ وہ ہے جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا تھا۔ پھر تیرے بعد اسے میراث بنا دیا گیا۔ اور آج تجھ کو اس کا اجر دیا گیا۔
(42) امام ابن مبارک نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کو پورا کرنے کا ارادہ کیا تو قیامت کے دن اس نے میزان کو ہلکا اور کم کردیا۔
(43) امام اصبہانی نے ترغیب میں لیث (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ محمد ﷺ کی امت لووں میں سے سب سے زیادہ بھاری ہوگی میزان میں کیونکہ ان کی زبانیں ایسے کلمہ سے مانوس ہوں گی جو ان سے پہلے لوگوں میں بھاری تھا۔ اور وہ کلمہ ہے لا الہ الا اللہ۔
(44) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ایوب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اپنے کئی ایک ساتھیوں سے سنا کہ ایک بندہ کو قیامت کے دن ترازو پر کھڑا کیا جائے گا اور وہ میزان میں دیکھے گا۔ اور صاحب میزان کی طرف بھی دیکھے گا تو صاحب المیزان کہے گا اے اللہ کے بندے کیا تو اپنے عمل میں سے کسی چیز کو کم پاتا ہے ؟ وہ کہے گا ہاں ! وہ پوچھے گا وہ کیا ہے تو وہ کہے گا لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ تو صاحب میزان کہے گا یہ اس سے کہیں عظیم ہے کہ اسے میزان میں رکھا جائے موسیٰ بن عبیدہ (رح) نے فرمایا کہ میں نے سنا جو دنیا میں یہ کلمہ پڑھتا رہا تو یہ قیامت کے دن خصم کے جھگڑے کی طرح یہ جھگڑا اور مجادلہ کرتا ہوا آئے گا۔
(45) امام ابو داؤد اور حاکم نے ابو الازبیر الا نمازی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے۔
اللہم اغفرلی واخس شیطانی وفک رھانی وثقل میزانی واجعلی فی الندی الا علی
ترجمہ : اے اللہ میرے گناہ معاف کر دے اور میرے شیطان کو ذلیل کر دے۔ اور میری گردن کو چھڑا دے اور میرے میزان کو بھاری کر دے۔ اور اعلیٰ مجلس میں مجھے شامل کر دے۔
Ayah 7:11(1) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے، اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور امام حاکم نے تصحیح بھی کی ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد خلقنکم ثم صورنکم “ سے مراد ہے کہ تم کو پیدا کیا مردوں کے صلبوں سے اور صورتیں بنائیں عورتوں کے رحموں میں بنائی گئیں۔
(2) امام فریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آدم کی پشت میں ان کو پیدا کیا گیا پھر رحموں میں تمہاری صورتیں بنائی گئیں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” خلقنکم “ یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ” ثم صورنکم “ پھر اس کی اولاد کی (صورتیں بنائیں)
(4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد خلقنکم “ یعنی آدم کو پیدا فرمایا ” ثم صورنکم “ یعنی آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی شکل و صورت بنائی۔
(5) امام عبد ابن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد خلقنکم ثم صورنکم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر تمہاری صورتیں بنائی، تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش میں (پہلے) جما ہوا خون پھر گوشت کی بوٹی پھر ہڈی پھر ہڈیوں کو گوشت چڑھانا۔
(6) امام عبد الرزاق اور ابو الشیخ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد خلقنکم ثم صورنکم “ یعنی انسانوں کو پیدا کیا گیا رحم میں پھر ان کی صورت بنائی گئی پھر ان کے کانوں کو ان کی آنکھوں کو اور ان کی انگلیوں کو شق کیا۔
Ayah 7:12(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قیادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” قال انا خیر منہ، خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “ سے مراد ہے اللہ کے دشمن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت و کرامت عطا فرمائی اور اس نے کہا میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں۔ یہ مٹی سے پیدا کیا گیا۔ گناہوں کی ابتداء تکبر سے ہوئی۔ اللہ کے دشمن نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کردیا اس کے تکبر اور اس کے حسد کی وجہ سے۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ عزت کی آگ سے ابلیس پیدا کیا گیا اور عزت کے نور سے فرشتے پیدا کئے گئے۔
(3) امام ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خلقتنی من نار و خلقتہ من طین “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں ابلیس نے قیاس کیا۔ وہی سب سے پہلے قیاس کرنے والا ہے۔
(4) امام ابو نعیم نے حلیہ میں اور امام دیلمی نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جس نے دین کے حکم میں اپنے رائے سے قیاس کیا وہ ابلیس تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو فرمایا آدم کو سجدہ کر اس نے کہا لفظ آیت ” قال انا خیر منہ، خلقتنی من نار و خلقتہ من طین “ (یعنی میں اس سے بہتر ہوں مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا) جعفر (رح) نے فرمایا پس جو شخص دین کے کام میں اپنی رائے سے قیاس کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ابلیس کے ساتھ ملا دیں گے کیونکہ اس نے قیاس کے کرنے میں اس کی اتباع کی۔
Ayahs 7:13–15(1) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت فرمائی لفظ آیت ” فما یکون لک ان تتکبر فیہا “ یعنی تیرے لئے یہ لائق نہیں تھا کہ تو اس میں تکبر کرتا۔
Ayah 7:16(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور الالکالی نے السنۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فبما اغویتنی “ یعنی اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کردیا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم کے طریق سے ارطاۃ سے اور انہوں نے اہل طائف میں سے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ لفظ آیت ” فبما اغویتنی “ یعنی ابلیس نے جان لیا گمراہی اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ تو وہ تقدیر پر ایمان لے آیا۔
(3) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاقعدن لہم صراطک المستقیم “ سے مراد راہ حق ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاقعدن لہم صراطک المستقیم “ یعنی مکہ کے راستہ میں۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عون بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی جماعت مکہ کی طرف نکلتی ہے تو ابلیس بھی ان کی گنتی کے برابر ان کے ساتھ اپنے شیاطین تیار کرتا ہے۔
(6) امام ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ساتھیوں کی کوئی جماعت مکہ کی طرف نکلتی ہے تو ابلیس بھی ان کی گنتی کے برابر ان کے ساتھ اپنے شیاطین تیار کرتا ہے۔
(7) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ میں (راستے میں) ان کے لئے بیٹھوں گا اور ان کو تیرے راستہ سے روکوں گا۔
(8) امام احمد، نسائی، ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں سبرہ بن فاکہہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا شیطان ابن آدم کے راستہ میں بیٹھتا ہے۔ اس کے لیے بیٹھتا ہے اسلام کے راستہ سے اور کہتا ہے تو اسلام لے آیا اور تو نے اپنا دین اور اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ دیا ہے۔ (اگر) اس نے اس کا کہنا نہ مانا اور اسلام لے آیا پھر اس کے لئے بیٹھتا ہے ہجرت کے راستہ سے۔ اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تو ہجرت کرتا ہے اور اپنی زمین اور اپنے آسمان کو چھوڑ رہا ہے۔ اور مہاجر اپنی قدرت اور غنا میں گھوڑے کی مثل ہے پس ابن آدم نے نافرمانی کی اور اس نے ہجرت کی تو اس کے لئے بیٹھتا ہے جہاد کے راستہ میں اور اسے کہتا ہے یہ نفس کا جہاد ہے اور مال کا (اگر) تو قتال کرے گا تو مارا جائے گا۔ بیوی (دوسری جگہ) نکاح کرے گی اور مال کو تقسیم کردیا جائے گا۔ اس نے اس کا کہنا نہ مانا اور جہاد کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ان میں سے ایسا کرے اور مرجائے یا اس کا جانور اس کی گردن توڑ دے اور وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ پر اس کا حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے۔
Ayah 7:17(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم لاتیتھم من بینی ایدیہم “ یعنی اس کو شک میں ڈال دوں گا ان کی آخرت کے بارے میں ” ومن خلفہم “ یعنی ان کو رغبت دلاؤں گا ان کی دنیا میں۔ ” وعن ایمانہم “ یعنی میں اس کو شبہ میں ڈال دوں گا ان کے دین کے کام میں ” وعن شمائلہم “ یعنی میں پسندیدہ بنا دو گا ان کے گناہوں کو اور میں آسان کر دوں گا ان پر باطل کو لفظ آیت ” ولا تجد اکثرھم شکرین “ یعنی تو ان میں سے اکثر کو موحد نہیں پائے گا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم لاتیتھم من بین ایدیہم “ یعنی میں اس کو دنیا کی جانب سے ” ومن خلفہم “ آخرت کی جانب سے ” وعن ایمانھم “ ان کی نیکیوں کی جانب سے ” وعن شمائلہم “ ان کے برائیوں کی جانب سے۔
(3) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم لاتینھم من بین ایدیہم ومن خلفھم “ یعنی (شیطان نے) ان سے کہا۔ نہ آخرت میں اٹھنا ہے نہ جنت ہے نہ دوزخ ہے اور پیچھے کی جانب سے انہیں دنیا کے کام کی طرف متوجہ کیا تو اس (دنیا) کو ان کے لئے (شیطان نے) خوبصورت بنا دیا۔ اور اس نے اس (دنیا) کی طرف ان کو بلایا ” وعن ایمانھم “ یعنی ان کی نیکیوں کی جانب سے آؤں گا اور ان کو نیکی کے معاملہ میں سست کر دوں گا۔ ” وعن شمائلہم “ یعنی ان کے لئے برائیوں کو اور گناہوں کو خوبصورت بنا دوں گا اور اس کی طرف ان کو بلاؤں گا اور اس کے ساتھ ان کو حکم دے گا۔ اے آدم کے بیٹے آئے گا تیرے پاس تیرے آگے سے وہ تیرے پاس اوپر کی جانب سے نہیں آئے گا۔ وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھے گا کہ وہ تیرے اور اللہ کی رحمت کے درمیان ہوجائے۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور لالکائی نے السنۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ (شیطان) ” من فوقھم “ نہیں کہہ سکا یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر ہیں اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ رحمت نازل ہوتی ہے ان کے اوپر ہے۔
شیطان اللہ کی رحمت کے درمیان حائل نہیں ہوسکتا
(5) امام ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اے ابن آدم وہ ہر طرف سے تیرے پاس آئے گا سوائے اس کے کہ وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھے گا کہ وہ تیرے اور اللہ کی رحمت کے درمیان حائل ہوجائے بلاشبہ صرف رحمت نازل ہوئی ہے تیرے اوپر سے۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا میں ضرور آؤں گا ان کے آگے سے ان کے پیچھے سے ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اس پر رحمت نازل کروں گا ان کے اوپر سے۔
(7) امام ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ثم لاتینھم من بین ایدیھم “ یعنی حق کے راستے میں ” ومن خلفھم “ یعنی باطل کے راستے سے ” وعن ایمانہم “ یعنی آخرت کی جانب سے اور ” وعن شمائلہم “ یعنی دنیا کی جانب سے۔
(8) امام احمد، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو اور شام کو یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم احفظنی من بین یدی ومن خلفی وعن یمینی وعن شمالی ومن فوقی واعوذ بعظمتک ان اغتال من تحتی۔
اے اللہ ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے میرے پیچھے سے میرے دائیں سے میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے تیری عظمت کی سبب کہ میں اپنے نیچے کی جانب سے بہک جاؤں۔
Ayahs 7:18–19(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال اخرج منھا مذء وما مدحورا “ یعنی ملامت کیا ہوا اور (مدحورا) یعنی قابل نفرت۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی مذمت کیا ہوا اور مدحورا یعنی جلاوطن کیا ہوا۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی ذلیل اور رسوا اور ” مذء وما مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔
(4) امام ابن منذر، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” مذء وما “ یعنی عیب لگایا ہوا اور ” مدحورا “ یعنی دھتکارا ہوا۔