Ayah 7:1خلاصہ مضامین سورة
تمام سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین معاد (آخرت) اور رسالت سے متعلق ہیں، اور پہلی ہی آیت كِتٰبٌ اُنْزِلَ میں نبوت کا اور آیت نمبر 6 میں فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ میں معاد و آخرت کی تحقیق کا مضمون ہے، اور رکوع چہارم کے نصف سے رکوع ششم کے ختم تک بالکل آخرت کی بحث ہے۔ پھر رکوع ہشتم سے اکیسویں رکوع تک وہ معاملات مذکور ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے ہوئے ہیں۔ یہ سب مسئلے رسالت سے متعلق ہیں، اور ان قصص میں ساتھ ساتھ منکرین رسالت کی سزاؤں کا بھی ذکر چلا آیا ہے، تاکہ منکرین موجودین کو عبرت حاصل ہو، اور رکوع بائیس کے نصف سے تیئیس کے ختم تک پھر معاد کی بحث ہے، صرف ساتویں اور بائیسویں رکوع کے شروع میں اور آخری رکوع چوبیس کے اکثر حصہ میں توحید پر خاص بحث ہے، باقی بہت کم حصہ سورة کا ایسا ہے جس میں جزوی فروعی احکام بمناسب مقام مذکور ہیں (بیان القرآن)
خلاصہ تفسیر
الٓمٓصٓ، (اس کے معنی تو اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کے درمیان ایک راز ہے، جس پر امت کو اطلاع نہیں دی گئی بلکہ اس کی جستجو کو بھی منع کیا گیا، کِتٰب اُنزِل اِلَیک الخ) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جو (اللہ کی جانب سے) آپ ﷺ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ (لوگوں کو سزائے نافرمانی سے) ڈرائیں، سو آپ ﷺ کے دل میں (کسی کے نہ ماننے سے) بالکل تنگی نہ ہونی چاہئے (کیونکہ کسی کے نہ ماننے سے آپ ﷺ کے اصل مقصد بعثت میں جو کہ حق بات پہنچانے کا ہے کوئی خلل نہیں آتا، پھر آپ ﷺ کیوں دل تنگ ہوں) اور یہ (قرآن خصوصیت کے ساتھ) نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے (آگے عام امت کو خطاب ہے کہ جب قرآن کا منّزل من اللہ ہونا ثابت ہوگیا تو) تم لوگ اس (کتاب کا) اتباع کرو جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے (اتباع کتاب یہ ہے کہ اس کی دل سے تصدیق بھی کرو اور اس پر عمل بھی) اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر (جس نے تمہاری ہدایت کے لئے قرآن نازل کیا) دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو، (جو تم کو گمراہ کرتے ہیں جیسے شیاطین الجن والانس مگر باوجود اس مشفقانہ فہمائش کے) تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو، اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ان کو (یعنی ان کے رہنے والوں کو ان کے کفر و تکذیب کی بناء پر) ہم نے تباہ و برباد کردیا اور ان پر ہمارا عذاب (یا تو) رات کے وقت پہنچا (جو سونے اور آرام کرنے کا وقت ہے) یا ایسی حالت میں (پہنچا) کہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے (یعنی کسی کو کسی وقت کسی کو کسی وقت) سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلتی تھی کہ واقعی ہم ظالم (اور خطاوار) تھے (یعنی ایسے وقت اقرار کیا جب کہ اقرار کا وقت گزر چکا تھا، یہ تو دنیوی عذاب ہوا) پھر (اس کے بعد آخرت کے عذاب کا سامان ہوگا کہ قیامت میں) ہم ان لوگوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے (کہ تم نے پیغمبروں کا کہنا مانا یا نہیں) اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے (کہ تمہاری امتوں نے تمہارا کہنا مانا یا نہیں ؟ (آیت) یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم، اور دونوں سوالوں سے مقصود کفار کو زجر و تنبیہ ہوگی) پھر چونکہ ہم پوری خبر رکھتے ہیں خود ہی (سب کے روبرو ان کے اعمال کو) بیان کردیں گے، اور ہم (عمل کے وقت اور جگہ سے) غائب تو نہ تھے۔
Ayahs 7:2–5معارف و مسائل
پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔
(آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺ کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ ﷺ کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ ﷺ کو کسی کا خوف مانع نہ ہونا چاہئے کہ لوگ اس کو جھٹلا دیں گے اور آپ ﷺ کو ایذاء دیں گے، (کذاروی عن ابی العالیة، مظہری)
اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جس نے آپ ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے اس نے آپ ﷺ کی امداد و حفاظت کا بھی انتظام کردیا ہے، اس لئے آپ ﷺ کیوں دل تنگ ہوں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن اور احکام اسلام سن کر بھی جو لوگ مسلمان نہ ہوتے تھے تو یہ آنحضرت ﷺ پر بوجہ شفقت کے شاق ہوتا تھا، اسی کو دل تنگی سے تعبیر کیا گیا، اور یہ بتلایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا فرض منصبی صرف تبلیغ و دعوت کا ہے، جب آپ ﷺ نے یہ کام کرلیا تو اب یہ ذمہ داری آپ کی نہیں کہ کون مسلمان ہوا کون نہیں ہوا، پھر آپ ﷺ کیوں بلا وجہ دل تنگ ہوں۔
Ayahs 7:6–7(آیت) فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ یعنی قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائے گا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اور رسولوں سے پوچھا جائے گا کہ جو پیغام رسالت اور احکام الٓہیہ دے کر ہم نے آپ کو بھیجا تھا وہ آپ حضرات نے اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیئے یا نہیں (اخرجہ البیہقی عن ابن عباس مظہری)۔
اور صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حجة الوداع کے خطبہ میں لوگوں سے سوال کیا کہ قیامت کے روز تم لوگوں سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا یا نہیں ؟ فما انتم قائلون، ”یعنی اس وقت تم اس کے جواب میں کیا کہو گے“ ؟ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا، اور امانت خداوندی کا حق ادا کردیا، اور امت کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہم اشھد ”یعنی یا اللہ آپ گواہ رہیں“۔
اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھ سے دریافت فرماویں گے کہ کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام بندوں کو پہنچا دیا، اور میں جواب میں عرض کروں گا کہ میں نے پہنچا دیا ہے، اس لئے اب تم سب اس کا اہتمام کرو کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ غائبین تک میرا پیغام پہنچا دیں (مظہری)
غائبین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس زمانہ میں موجود تھے مگر اس مجلس میں حاضر نہ تھے، اور وہ نسلیں بھی جو بعد میں پیدا ہوں گی، ان تک رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے کے لوگ آنے والی نسل کو اس پیغام کے پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھیں، تاکہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام بنی آدم کو یہ پیغام پہنچ جائے۔
Ayahs 7:8–10خلاصہ تفسیر
اور اس روز (یعنی قیامت کے دن اعمال و عقائد کا) وزن واقع ہونے والا ہے (تاکہ عام طور پر ہر ایک کی حالت ظاہر ہوجائے) پھر (وزن کے بعد) جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) سو ایسے لوگ (تو) کامیاب ہوں گے (یعنی نجات پائیں گے) اور جس شخص کا پلّہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی وہ کافر ہوگا) تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے، اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی، اور ہم نے تمہارے لئے اس (زمین) میں سامان زندگی پیدا کیا (جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ تم اس کے شکریہ میں فرمانبردار و اطاعت شعار ہوتے، لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (مراد اس سے اطاعت ہے اور کم اس لئے فرمایا کہ تھوڑا بہت نیک کام تو اکثر لوگ کر ہی لیتے ہیں، لیکن بوجہ ایمان نے ہونے کے وہ قابل اعتبار نہیں)۔
معارف و مسائل
پہلی آیت میں ارشاد ہے والْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ یعنی بھلے برے اعمال کا وزن ہونا اس دن حق و صحیح ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ لوگ اس سے دھوکہ نہ کھائیں کہ وزن اور تول تو ان چیزوں کا ہوا کرتا ہے جن میں کوئی بوجھ اور ثقل ہو۔ انسان کے اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ان کا کوئی جسم اور جزم ہی نہیں، جس کا تول ہو سکے، پھر اعمال کا وزن کیسے ہوگا، کیونکہ اول تو مالک الملک قادر مطلق ہر چیز پر قادر ہے، یہ کیا ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم نہ تول سکیں حق تعالیٰ بھی نہ تول سکیں، اس کے علاوہ آج کل تو دنیا میں وزن تولنے کے لئے نئے نئے آلات ایجاد ہوچکے ہیں، جن میں نہ ترازو کی ضرورت ہے، نہ اس کے پلوں کی اور نہ ڈندی کی اور کانٹے کی، آج تو ان نئے آلات کے ذریعہ وہ چیزیں بھی تولی جاتی ہیں جن کے تولنے کا آج سے پہلے کسی کو تصور بھی نہ تھا، ہوا تولی جاتی ہے، برقی رو تولی جاتی ہے، سردی گرمی تولی جاتی ہے، انکا میٹر ہی ان کی ترازو ہوتا ہے، اگر حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے انسانی اعمال کا وزن کرلیں تو اس میں کیا استبعاد ہے، اس کے علاوہ خالق کائنات کو اس پر بھی قدرت ہے کہ ہمارے اعمال کو کسی وقت جوہری وجود اور کوئی شکل و صورت عطا فرمادیں، حدیث رسول اللہ ﷺ کی بہت سی روایات اس پر شاہد بھی ہیں کہ برزخ اور محشر میں انسانی اعمال خاص خاص شکلوں اور صورتوں میں آئیں گے، قبر میں انسان کے اعمال صالحہ ایک حسین صورت میں اس کے مونس بنیں گے، اور برے اعمال سانپ بچھو بن کر لپٹیں گے، حدیث میں ہے کہ جس شخص نے مال کی زکوٰة نہیں ادا کی وہ مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی قبر میں پہنچ کر اس کو ڈسے گا، اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
اسی طرح معتبر احادیث میں ہے کہ میدان حشر میں انسان کے اعمال صالحہ اس کی سواری بن جائیں گے، اور برے اعمال بوجھ بن کر اس کے سر پر لادے جائیں گے۔
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قرآن مجید کی سورة بقرہ اور سورة آل عمران میدان حشر میں دو گہرے بادلوں کی شکل میں آکر ان لوگوں پر سایہ کریں گی جو اس سورتوں کے پڑھنے والے تھے۔
اسی طرح کی بیشمار روایات حدیث مستند اور معتبر طریقوں سے منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان سے گزر جانے کے بعد ہمارے یہ سارے اعمال نیک و بد خاص خاص شکلیں اور صورتیں اختیار کرلیں گے، اور ایک جوہری وجود کے ساتھ میدان حشر میں موجود ہوں گے۔
قرآن مجید کے بھی بہت سے ارشادات سے اس کی تائید ہوتی ہے، ارشاد ہے(آیت) ووجدوا ما عملوا حاضرا، ”یعنی لوگوں نے دنیا میں جو کچھ عمل کیا تھا اس کو وہاں حاضر و موجود پائینگے“۔ ایک آیت میں فرمایا (آیت) من یعمل مثقال ذرة خیرایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ ”یعنی جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی نیکی کرے گا تو قیامت میں اس کو دیکھے گا، اور ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے گا تو قیامت میں اس کو بھی دیکھے گا“۔ ظاہر ان حالات سے یہی ہے کہ انسان کا عمل جوہری وجود کے ساتھ اس کے سامنے آئے گا، ان میں بھی تاویل کی کوئی ضرورت نہیں کہ اعمال کی جزاء کو موجود پائے گا اور دیکھے گا۔
ان حالات میں ظاہر ہے کہ ان اعمال کا تولا جانا کوئی بعید یا مشکل امر نہیں رہتا، مگر چونکہ تھوڑی سی عقل و فہم کا مالک انسان اس کا عادی ہے کہ سارے امور کو اپنی موجودہ حالت اور کیفیت ظاہری پر قیاس کرتا ہے، اور سب چیزوں کو اسی کے پیمانہ سے جانچتا ہے، قرآن کریم نے اس کے اسی حال کو اس طرح بیان فرمایا ہے، (آیت) یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون ”یعنی یہ لوگ صرف دنیوی زندگی کے ایک ظاہری پہلو کو جانتے ہیں وہ بھی پورا نہیں، اور آخرت سے بالکل غافل ہیں، ظاہر حیات دنیا میں تو زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، مگر حقائق اشیاء سے جن کا صحیح انکشاف آخرت میں ہونے والا ہے یہ لوگ بالکل بیخبر ہیں۔
آیت مذکورہ میں اسی لئے اہتمام کرکے یہ فرمایا گیا والْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ، تاکہ یہ ظاہر میں انسان آخرت میں وزن اعمال سے انکار نہ کر بیٹھے، جو قرآن کریم سے ثابت اور پوری امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔
قرآن مجید میں بروز قیامت وزن اعمال ہونے کا مسئلہ بہت سی آیات میں مختلف عنوانوں سے آیا ہے اور روایات حدیث اس کی تفصیلات میں بیشمار ہیں۔
وزن اعمال کے متعلق ایک شبہ اور جواب
وزن اعمال کے متعلق جو تفصیلی بیان رسول کریم ﷺ کی احادیث میں آیا ہے اس میں ایک بات تو یہ قابل غور ہے کہ متعدد روایات حدیث میں آیا ہے کہ محشر کی میزان عدل میں سب سے بڑا وزنی کلمہ لَا الہٰ الاَّ اللہ ُ مُحَمَّد رَسُول اللہ کا ہوگا، جس پلے میں یہ کلمہ ہوگا وہ سب سے بھاری رہے گا۔
ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں میری امت کا یک آدمی ساری مخلوق کے سامنے لایا جائے گا اور اس کے ننانوے نامہ اعمال لائے جاویں گے، اور ان میں سے ہر نامہ اعمال اتنا طویل ہوگا کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اور یہ سب نامہ اعمال برائیوں اور گناہوں سے لبریز ہوں گے، اس شخص سے پوچھا جائے گا کہ ان نامہائے اعمال میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب صحیح ہے یا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں نے تم پر کچھ ظلم کیا ہے اور خلاف واقعہ کوئی بات لکھ دی ہے ؟ وہ اقرار کرے گا کہ اے میرے پروردگار ! جو کچھ لکھا ہے سب صحیح ہے، اور دل میں گھبرائے گا کہ اب میری نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ اس وقت حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا، ان تمام گناہوں کے مقابلہ میں تمہاری ایک نیکی کا پرچہ بھی ہمارے پاس موجود ہے، جس میں تمہارا کلمہ اَشُہَدُ اَن لَّآ اِلٰہ الاَّ اللہ وَاَشہد اَنَّ مُحَمدُّ اَعَبدُہ وَرَسُولُہ لکھا ہوا ہے وہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار ! اتنے بڑے سیاہ نامہ اعمال کے مقابلہ میں یہ چھوٹا سا پرچہ کیا وزن رکھے گا، اس وقت ارشاد ہوگا کہ تم پر ظلم نہیں ہوگا، اور ایک پلّہ میں وہ سب گناہوں سے بھرے ہوئے نامہ اعمال رکھے جائیں گے، دوسرے میں یہ کلمہ ایمان کا پرچہ رکھا جائے گا تو اس کلمہ کا پلّہ بھاری ہوجائے گا اور سارے گناہوں کا پلّہ ہلکا ہوجائے گا، اس واقعہ کو بیان کرکے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی (مظہری)
اور مسند، بزار اور مستدرک حاکم میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب نوح ؑ کی وفات کا وقت آیا تو اپنے لڑکوں کو جمع کرکے فرمایا کہ میں تمہیں کلمہ لا الہ الا اللہ کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمان اور زمین ایک پلّہ میں اور کلمہ لا الہ الا اللہ دوسرے پلّہ میں رکھ دیا جائے تو کلمہ کا پلّہ بھاری رہے گا، اسی مضمون کی روایات حدیث حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابو الدرداء ؓ سے معتبر سندوں کے ساتھ کتب حدیث میں منقول ہیں (مظہری)۔
ان روایات کا مقتضا تو یہ ہے کہ مومن کا پلّہ ہمیشہ بھاری ہی رہے گا، خواہ وہ کتنے بھی گناہ کرے، لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات اور بہت سی روایات حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کی حسنات اور سیّئات کو تولا جائے گا کسی کی حسنات کا پلّہ بھاری ہوگا، کسی کے گناہوں کا، جس کی حسنات کا پلّہ بھاری رہے گا وہ نجات پائے گا، جس کی سیئات اور گناہوں کا پلّہ بھاری ہوگا اس کو عذاب ہوگا۔
مثلاً قرآن مجید کی ایک آیت میں سے
(آیت) ونضع الموازین القسط لیوم تا حٰسبین۔
”یعنی ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کرینگے اس لئے کسی شخص پر ادنیٰ ظلم نہیں ہوگا جو بھلائی یا برائی ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی نے کی ہے وہ سب میزان عمل میں رکھی جائے گی، اور ہم حساب کے لئے کافی ہیں“۔
اور سورة قارعہ میں ہے
فاما من ثقلت موازینہ تا ھاویہ۔
”یعنی جس کا نیکیوں کا پلّہ بھاری ہوگا وہ عمدہ عیش میں رہے گا، اور جس کا پلّہ نیکی کا ہلکا ہوگا اس کا مقام دوزخ ہو گا“۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا کہ جس مومن کا پلّہ حسنات کا بھاری ہوگا وہ اپنے اعمال کے ساتھ جنت میں اور جس کا پلّہ گناہوں کا بھاری ہوگا وہ اپنے اعمال کے ساتھ جہنم میں بھیج دیا جائے گا (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، مظہری)۔
اور ابوداؤد میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ اگر کسی بندہ کے فرائض میں کوئی کمی پائی جائے گی تو رب العالمین کا ارشاد ہوگا کہ دیکھو اس بندہ کے کچھ نوافل بھی ہیں یا نہیں، اگر نوافل موجود ہیں تو فرضوں کی کمی کو نفلوں سے پورا کردیا جائے گا۔ (مظہری)
ان تمام آیات و روایات کا حاصل یہ ہے کہ مومن مسلمان کا پلّہ بھی کبھی بھاری کبھی ہلکا ہوگا، اس لئے بعض علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں وزن دو مرتبہ ہوگا، اول کفر و ایمان کا وزن ہوگا، جس کے ذریعہ مؤ من، کافر کا امتیاز کیا جائے گا۔ اس وزن میں جس کے نامہ اعمال میں صرف کلمہ ایمان بھی ہے اس کا پلّہ بھاری ہوجائے گا، اور وہ کافروں کے گروہ سے الگ کردیا جائے گا، اور اسی کے مطابق اس کو جزاء و سزاء ملے گی، اس طرح تمام آیات اور روایات کا مضمون اپنی اپنی جگہ درست اور مربوط ہوجاتا ہے (بیان القرآن)
وزن اعمال کس طرح ہوگا
بخاری و مسلم میں بروایت ابوہریرہ ؓ یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض موٹے فربہ آدمی آئیں گے جن کا وزن اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا، اور اس کی شہادت میں آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی، فلا نقیم لہم یوم القیامۃ وزنا، ”یعنی قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قرار نہ دیں گے“ (مظہری)۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مناقب میں یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان کی ٹانگیں ظاہر میں کتنی پتلی ہیں لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قیامت کی میزان عدل میں ان کا وزن احد پہاڑ سے بھی زیادہ ہوگا۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث جس پر امام بخاری نے اپنی کتاب کو ختم کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں مگر میزان عمل میں بہت بھاری ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہیں، اور وہ کلمے یہ ہیںسبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ سبحان اللہ کہنے سے میزان عمل کا آدھا پلّہ بھر جاتا ہے، اور الحمد للہ سے باقی آدھا پورا ہوجاتا ہے۔
اور ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو الدرداء ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میزان عمل میں حسن خلق کے برابر کوئی عمل وزنی نہیں ہوگا۔
اور حضرت ابوذر غفاری ؓ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ایسے دو کام بتاتا ہوں جن پر عمل کرنا انسان کے لئے کچھ بھاری نہیں، اور میزان عمل میں وہ سب سے زیادہ بھاری ہوں گے، ایک حسن خلق، دوسرے زیادہ خاموش رہنا، یعنی بلا ضرورت کلام نہ کرنا۔
اور امام احمد رحمة اللہ علیہ نے کتاب الزہد میں بروایت حضرت حازم ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مرتبہ جبرئیل امین تشریف لائے تو وہاں کوئی شخص خوف خدا تعالیٰ سے رو رہا تھا، تو جبرئیل نے فرمایا کہ انسان کے تمام اعمال کا تو وزن ہوگا مگر خدا و آخرت کے خوف سے رونا ایسا عمل ہے جس کو تولا نہ جائے گا، بلکہ ایک آنسو بھی جہنم کی بڑی سے بڑی آگ کو بجھا دے گا (مظہری)۔
ایک حدیث میں ہے کہ میدان حشر میں ایک شخص حاضر ہوگا، جب اس کا نامہ اعمال سامنے آئے گا تو وہ نیک اعمال کو بہت کم پاکر گھبرائے گا کہ اچانک ایک چیز بادل کی طرح اٹھ کر آئے گی اور اس کے نیک اعمال کے پلّے میں گر جائے گی، اور اس کو بتلایا جائے گا کہ یہ تیرے اس عمل کا ثمرہ ہے جو تو دنیا میں لوگوں کو دین کے احکام و مسائل بتلاتا یا سکھاتا تھا، اور یہ تیری تعلیم کا سلسلہ آگے چلا تو جس جس شخص نے اس پر عمل کیا ان سب کے عمل میں تیرا حصہ بھی لگایا گیا (مظہری عن ابن المبارک)۔
طبرانی نے بروایت جابر ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی میزان عمل میں سب سے پہلے جو عمل رکھا جائے گا وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے اور ان کی ضروریات پورا کرنے کا نیک عمل ہے۔
اور امام ذہبی رحمة اللہ علیہ نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن علماء کی روشنائی جس سے انہوں نے علم دین اور احکام دین لکھے ہیں اور شہیدوں کے خون کو تولا جائے گا تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔
اس طرح کی روایات حدیث قیامت کے وزن اعمال کے سلسلہ میں بہت ہیں، یہاں چند کو اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ ان سے خاص خاص اعمال کی فضیلت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان تمام روایات حدیث سے وزن اعمال کی کیفیت مختلف معلوم ہوتی ہے، بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کرنے والے انسان تولے جائیں گے، وہ اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے ہلکے بھاری ہوں گے، اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نامہ اعمال تولے جائیں گے، اور بعض سے ثابت ہوتا ہے کہ خود اعمال مجسّم ہوجائیں گے وہ تولے جائیں گے، امام تفسیر ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے یہ سب روایات نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ وزن مختلف صورتوں سے کئی مرتبہ کیا جائے، اور ظاہر ہے کہ پوری حقیقت ان معاملات کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، اور عمل کرنے کے لئے اس حقیقت کا جاننا ضروری بھی نہیں، صرف اتنا کافی ہے کہ ہمارے اعمال کا وزن ہوگا، نیک اعمال کا پلّہ ہلکا رہا تو عذاب کے مستحق ہوں گے، یہ دوسری بات ہے کہ حق تعالیٰ کسی کو خود اپنے فضل و کرم سے یا کسی نبی یا ولی کی شفاعت سے معاف فرما دیں اور عذاب سے نجات ہوجائے۔
جن روایات میں یہ مذکور ہے کہ بعض لوگوں کو صرف کلمہ ایمان کی بدولت نجات ہوجائے گی اور سب گناہ اس کے مقابلہ میں معاف ہوجائیں گے، یہ اسی استثنائی صورت سے متعلق ہیں جو عام ضابطہ سے الگ مخصوص فضل و کرم کا مظہر ہے۔
ان دونوں آیتوں میں جن کی تفسیر ابھی بیان ہوئی گناہگاروں کو میدان حشر کی رسوائی عذاب الٓہی سے ڈرایا گیا تھا، تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرما کر حق کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب اس طرح دی گئی کہ ہم نے تم کو زمین پر پوری قدرت اور تصرف مالکانہ عطا کیا، اور پھر اس میں تمہارے لئے سامان عیش حاصل کرنے کے ہزاروں راستے کھول دئیے، گویا رب العالمین نے زمین کو انسان کی تمام ضروریات سے لے کر تفریحی سامان تک کا عظیم الشان گودام بنادیا ہے، اور تمام انسانی ضروریات کو اس کے اندر پیدا فرما دیا ہے، اب انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ اس گودام سے اپنی ضروریات کو نکالنے اور ان کے استعمال کرنے کے طریقوں کو سیکھ لے، انسان کے ہر علم و فن اور سائنس کی نئی سے نئی ایجاد کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ خالق کائنات کی پیدا کی ہوئی چیزیں جو زمین کے گودام میں محفوظ ہیں، ان کو سلیقہ کے ساتھ نکالے اور صحیح طریقہ سے استعمال کرے، بیوقوف اور بدسلیقہ آدمی جو اس گودام سے نکالنے کا طریقہ نہیں جانتا، یا پھر نکال کر اس کے استعمال کا طریقہ نہیں سمجھتا وہ ان کے منافع سے محروم رہتا ہے، سمجھ دار انسان دونوں چیزوں کو سمجھ کر ان سے نفع اٹھاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ساری ضروریات انسانی حق تعالیٰ نے زمین میں ودیعت رکھ دی ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر وقت ہر حال میں حق تعالیٰ کا شکر گزار ہو مگر وہ غفلت میں پڑ کر اپنے خالق ومالک کے احسانات کو بھول جاتا ہے، اور انہی اشیاء میں الجھ کر رہ جاتا ہے، اسی لئے آخر آیت میں بطور شکایت کے ارشاد فرمایاقَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ”یعنی تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو“۔
Ayah 7:11خلاصہ تفسیر
اور ہم نے تم کو پیدا (کرنے کا سامان شروع) کیا (یعنی آدم ؑ کا مادّہ بنایا، اسی مادّے سے تم سب لوگ ہو) پھر (مادہ بنا کر) ہم نے تمہاری صورت بنائی (یعنی اس مادّے میں آدم ؑ کی صورت بنائی، پھر وہی صورت ان کی اولاد میں چلی آرہی ہے، یہ نعمت ایجاد ہوئی) پھر (جب آدم ؑ بن گئے اور علوم اسماء سے مشرف ہوئے تو) ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو (اب) سجدہ کرو (یہ نعمت اکرام ہوئی) تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا، بجز ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا، حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کونسا امر مانع ہے، جب کہ میں (خود) تجھ کو سجدہ کا حکم دے چکا، کہنے لگا (وہ مانع یہ ہے کہ) آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس (آدم) کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے (یہ شیطانی استدلال کا پہلا مقدمہ ہے، اور دوسرا مقدمہ جس کا ذکر نہیں کا وہ یہ ہے کہ آگ بوجہ نورانی ہونے کے خاک سے افضل ہے، تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ افضل کی فرع اور اولاد بھی غیر افضل کی فرع سے افضل ہوتی ہے، چوتھا مقدمہ یہ ہے کہ افضل کا سجدہ کرنا غیر افضل کو نامناسب ہے، ان چاروں مقدمات کو ملا کر شیطان نے اپنے سجدہ نہ کرنے کی یہ دلیل بنائی کہ میں افضل ہوں اس لئے غیر افضل کو سجدہ نہیں کیا، مگر پہلے مقدمہ کے سوا سارے ہی مقدمات غلط ہیں، اور پہلا مقدمہ بھی عام انسانوں کے حق میں اس معنی سے صحیح ہے کہ انسان کی تخلیق میں جزو غالب مٹی کا ہے، باقی مقدمات دلیل کا غلط ہونا کھلا ہوا ہے، کیونک آگ کا خاک پر افضل ہونا ایک جزوی فضیلت تو ہو سکتی ہے، کلی طور پر اس کو افضل کہنا دعویٰ بےدلیل ہے، اسی طرح افضل کی فرع اور اولاد کا افضل ہونا بھی مشکوک ہے، ہزاروں واقعات اس کے خلاف سامنے آئے ہیں، کہ نیک کی اولاد بد اور بد کی اولاد نیک ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ بھی غلط ہے کہ افضل کو مفضول کے لئے سجدہ نامناسب ہے، بعض اوقات مصالح کا تقاضا اس کے خلاف ہونا مشاہد ہے)
حق تعالیٰ نے فرمایا (جب تو ایسا نافرمان ہے) تو آسمان سے نیچے اتر، تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے، (خاص کر) آسمان میں رہ کر (جہاں سب فرمانبرداروں ہی کا مقام ہے) تو (یہاں سے) نکل (دور ہو) بیشک تو (اس تکبر کی وجہ سے) ذلیلوں میں شمار ہونے لگا، وہ کہنے لگا کہ بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو (بحکم تکوین) گمراہ کیا ہے قسم کھاتا ہوں کہ میں ان (کے یعنی آدم اور اولاد آدم کی رہزنی کرنے) کے لئے آپ کی سیدھی راہ پر (جو کہ دین حق ہے جاکر) بیٹھ جاؤں گا پھر ان پر (ہر چار طرف سے) حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور بائیں جانب سے بھی (یعنی ان کے بہکانے میں کوشش کا کوئی پہلو باقی نہ چھوڑوں گا تاکہ وہ آپ کی عبادت نہ کرنے پاویں) اور (میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گا، چنانچہ) آپ ان میں سے اکثروں کو (آپ کی نعمتوں کا) احسان ماننے والا نہ پاویں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں (آسمان) سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا (اور تو جو اولاد آدم کو بہکانے کو کہتا ہے تو جو تیرا جی چاہے کرلے میں سب سے بےنیاز ہوں نہ کسی کے راہ راست پر آنے سے میرا کوئی فائدہ ہے نہ گمراہ ہونے سے کوئی نقصان) جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سے (یعنی ابلیس اور اس کی بات ماننے والوں سے) جہنم کو بھر دوں گا۔
Ayahs 7:12–18معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور شیطان کا یہ واقعہ جو یہاں مذکور ہے اس سے پہلے سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے، اس کے متعلقہ بہت سے تحقیق طلب امور کا بیان وہاں ہوا ہے، یہاں مزید چند امور تحقیق طلب کا جواب لکھا جاتا ہے۔
ابلیس کی دعاء قیامت تک زندگی کی قبول ہوئی یا نہیں، بصورت قبول دو آیتوں کے متعارض الفاظ کی تطبیق
ابلیس نے عین اس وقت جب کہ اس پر عتاب و عقاب ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ سے ایک دعا مانگی اور وہ بھی عجیب دعا کہ حشر تک کی زندگی کی مہلت عطا فرما دیجئے، اس کے جواب میں جو ارشاد حق تعالیٰ نے فرمایا اس کے الفاظ اس جگہ مذکورہ آیت میں تو صرف یہ ہیں (آیت) انک من المنظرین، ”یعنی تجھ کو مہلت دی گئی“۔ ان الفاظ سے بقرینہ دعا وسوال یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ مہلت حشر تک کی دی گئی، جیسا کہ اس نے سوال کیا تھا، مگر اس کی تصریح اس آیت میں نہیں ہے، کہ جس مہلت دینے کا ذکر یہاں فرمایا ہے وہ ابلیس کے کہنے کے مطابق حشر تک ہے یا کسی اور معیاد تک، لیکن دوسری آیت میں اس جگہ (آیت) الی یوم الوقت المعلوم کے الفاظ بھی آئے ہیں، جن کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس کی مانگی ہوئی مہلت قیامت تک نہیں دی گئی، بلکہ کسی خاص مدت تک دی گئی ہے جو علم الٓہی میں محفوظ ہے، تو حاصل یہ ہوا کہ ابلیس کی یہ دعا قبول تو ہوئی، مگر ناتمام کہ بجائے روز قیامت کے ایک خاص مدت تک کی مہلت دے دیگئی۔
تفسیر ابن جریر میں ایک روایت سدی رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے اس سے اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں
فلم ینظرہ الی یوم البعث ،
”اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو یوم بعث تک مہلت نہیں دی بلکہ ایک معین دن تک مہلت دی ہے اور وہ دن وہ ہے جس میں پہلا صور پھونکا جائے گا، جس سے آسمان و زمین والے سب بیہوش ہوجائیں گے اور مر جائیں گے“۔
اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ شیطان نے تو اپنی دعا میں اس وقت تک کی مہلت مانگی تھی، جبکہ دوسرا صور پھونکنے تک تمام مردوں کو زندہ کیا جائے گا، اسی کا نام یوم البعث ہے، اگر یہ دعا بعینہ قبول ہوتی تو جس وقت ایک ذات حیّ وقیوم کے سوا کوئی زندہ نہ رہے گا، اور (آیت) کل من علیہا فان۔ کا ظہور ہوگا، اس دعا کی بنا پر ابلیس اس وقت بھی زندہ رہتا، اس لئے کہ ایک دعا کو یوم بعث تک کی مہلت کے بجائے (آیت) یوم ینفخ فی الصور تک کی مہلت سے تبدیل کرکے قبول کیا گیا، جس کا اثر یہ ہوگا کہ جس وقت سارے عالم پر موت طاری ہوگی، اس وقت ابلیس کو بھی موت آئے گی، پھر جب سب دوبارہ زندہ ہوں گے تو وہ بھی زندہ ہوجائے گا۔
اس تحقیق سے وہ شبہ بھی رفع ہوگیا جو (آیت) کل من علیہا فان سے اس دعا کے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ بظاہر دونوں میں تعارض ہوگیا۔
لیکن حاصل اس تحقیق کا یہ ہے کہ یوم البعث اور یوم الوقت المعلوم دو الگ الگ دن ہیں ابلیس نے یوم البعث تک کی مہلت مانگی تھی وہ پوری قبول نہ ہوئی، اس کو بدل کر یوم الوقت المعلوم تک کہ مہلت دی گئی، سیدی حضرت حکیم الامة تھانوی رحمة اللہ علیہ نے بیان القرآن میں ترجیح اس کو دی ہے کہ در حقیقت یہ دونوں الگ الگ دن ہیں، بلکہ نفحہ اولیٰ کے وقت سے دخول جنت و تار تک ایک طویل دن ہوگا، اس کے مختلف حصوں میں مختلف واقعات ہوں گے، انہی واقعات مختلفہ کی بناء پر اس دن کی ہر واقعہ کی طرف نسبت کرسکتے ہیں، مثلاً اس کو یوم نفخ صور و یوم فناء بھی کہہ سکتے ہیں، اور یوم بعث اور یوم جزاء بھی، اس سے سب اشکالات رفع ہوگئے، فللّٰہ الحمد
کیا کافر کی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے
یہ سوال اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ آیات قرآن وما دعوا الکفرین الا فی ضلل، سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کافر کی دعا قبول نہیں ہوتی، مگر اس واقعہ ابلیس اور آیت مذکورہ سے قبولیت دعا کا اشکال ظاہر ہے، جواب یہ ہے کہ دنیا میں تو کافر کی دعا بھی قبول نہ ہوگی، اور آیت مذکورہ (آیت) وما دعوا الکفرین آخرت کے متعلق ہے دنیا میں اس کا کوئی تعلق نہیں۔
واقعہ آدم ؑ و ابلیس کے مختلف الفاظ
قرآن مجید میں یہ قصہ کئی جگہ آیا ہے اس سوال و جواب کے الفاظ مختلف ہیں، حالانکہ واقعہ ایک ہی ہے، وجہ یہ ہے کہ اصل واقعہ میں تو سب جگہ ایک ہی مضمون ہے، اور نقل الفاظ ہر جگہ بعینہ ضروری نہیں، روایت بالمعنی بھی ہوسکتی ہے، اتحاد مضمون و مفہوم کے بعد اختلاف الفاظ قابل نظر نہیں۔
ابلیس کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ بارگاہ عزت و جلال میں ایسی بیباکانہ گفتگو کی
رب العزت جل شانہ کی بارگاہ قدس میں فرشتوں اور رسولوں کو بھی ہیبت و جلال کی بناء پر مجال دم زدنی نہیں تھی، ابلیس کو ایسی جرأت کیسے ہوگئی، علما نے فرمایا کہ یہ قہر الٓہی کا انتہائی سخت مظہر ہے کہ ابلیس کے مردود ہوجانے کے باعث ایک ایسا حجاب حائل ہوگیا جس نے اس پر حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کو مستور کردیا اور بےحیائی اس پر مسلط کردی (بیان القرآن ملخصاً و موضحاً)
شیطان کا حملہ انسان پر چار طرف میں محدود نہیں عام ہے
قرآن عزیز کی مذکورہ آیت میں یہ مذکور ہے کہ ابلیس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے چار جانب کو بیان کیا ہے، آگے پیچھے، دائیں بائیں، لیکن یہاں در حقیقت کوئی تجدید مقصود نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ ہر سمت سے اور ہر پہلو سے، اس لئے اوپر کی جانب یا پاؤں تلے سے گمراہ کرنے کا احتمال اس کے منافی نہیں، اسی طرح حدیث میں جو یہ مذکور ہے کہ شیطان انسان کے بدن میں داخل ہو کر خون کی رگوں کے ذریعہ پورے بدن انسان پر تصرف کرتا ہے، یہ بھی اس کے منافی نہیں۔
آیات مذکورہ میں شیطان کو آسمان سے نکل جانے کا حکم دو مرتبہ ذکر کیا گیا ہے، پہلے (آیت) فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ۔ میں دوسرا قول (آیت) قال اخرج منھا مذءوما میں غالباً پہلا کلام ایک تجویز ہے اور دوسرے میں اس کی تنفیذ (بیان القرآن ملحضاً)
Ayahs 7:19–25خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (آدم ؑ کو) حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بی بی (حواء) جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو (اور جس چیز کو چاہو) دونوں آدمی کھاؤ اور (اتنا خیال رہے کہ) اس (خاص) درخت کے پاس (بھی) مت جاؤ (یعنی اس کا پھل نہ کھاؤ) کبھی ان لوگوں کے شمار میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتے ہیں، پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ (ان کو وہ ممنوع درخت کھلا کر) ان کا مستور بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کر دے (کیونکہ اس درخت کے کھانے کی یہی تاثیر ہے، خواہ بالذات یا بوجہ ممانعت کے) اور (وہ وسوسہ یہ تھا کہ دونوں سے) کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت (کے کھانے) سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں (اس کو کھاکر) کہیں فرشتے نہ بن جاؤ، یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ (حاصل وسوسہ کا یہ تھا اس درخت کے کھانے سے قوت ملکیت اور دائمی زندگی کی پیدا ہوجاتی ہے، مگر شروع میں آپ کا وجود اس طاقتور غذا کا متحمل نہ تھا، اس لئے منع کردیا گیا تھا، اب آپ کی حالت اور قوت میں ترقی ہوگئی، اور آپ کے قویٰ میں اس کا تحمل ہوگیا تو اب وہ ممانعت باقی نہ رہی) اور ان دونوں کے روبرو (اس بات پر) قسم کھالی کہ یقین جانئے میں آپ دونوں کا (دل سے) خیر خواہ ہوں تو (ایسی باتیں بنا کر) ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا، (نیچے لانا باعتبار حالت اور رائے کے بھی تھا کہ اپنی رائے عالی کو چھوڑ کر اس دشمن کی رائے پر مائل ہوگئے، اور مقام کے اعتبار سے بھی جنت سے اسفل کی طرف اتارے گئے) پس ان دونوں نے جو درخت کو چکھا (فوراً) دونوں کا مستور بدن ایک دوسرے کے سامنے کھل گیا، (یعنی جنت کا لباس اتر پڑا اور دونوں شرما گئے) اور (بدن چھپانے کے لئے) دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور (اس وقت) ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت (کے کھانے سے) ممانعت نہ کرچکا تھا اور یہ بتلا چکا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، (اس کے بہکاوے سے بچتے رہنا) دونوں کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا (کہ پوری احتیاط اور تامل سے کام نہ لیا) اور اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے اور ہم پر رحم نہ کریں گے تو واقعی ہم بڑے خسارہ میں پڑجائیں گے، حق تعالیٰ نے (آدم و حواء (علیہما السلام) سے) فرمایا کہ (جنت سے) نیچے (زمین پر) ایسی حالت میں جاؤ کہ تم (یعنی تمہاری اولاد) باہم بعضے بعض کے دشمن رہو گئے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ (تجویز کی گئی) ہے اور (اسباب معیشت سے) نفع حاصل کرنا (تجویز ہوا ہے) ایک وقت (خاص) تک (یعنی موت کے وقت تک اور یہ بھی) فرمایا کہ تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے (قیامت کے روز) پھر زندہ ہو کر نکلنا ہے۔
معارف و مسائل
حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا جو واقعہ آیات مذکورہ میں آیا ہے بعینہ یہ سب واقعہ سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں پوری تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، اور اس کے متعلق جس قدر سوالات و شبہات ہو سکتے ہیں ان سب کا تفصیلی جواب اور پوری تشریح مع دیگر فوائد کے سورة بقرہ کی تفسیر میں صفحہ 118 سے صفحہ 144 تک لکھ دیا گیا ہے، ضرورت ہو تو وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 7:26خلاصہ تفسیر
اے اولاد آدم (ایک ہمارا انعام یہ ہے کہ) ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے ستر (یعنی پردہ والے بدن) کو بھی چھپاتا ہے اور (تمہارے بدن کے لئے) موجب زینت بھی (ہوتا) ہے، اور (ظاہری لباس کے علاوہ ایک معنوی لباس بھی تمہارے لئے تجویز کیا ہے جو) تقویٰ (یعنی دینداری) کا لباس (ہے کہ) یہ اس (لباس ظاہری) سے بڑھ کر (ضروری) ہے (کیونکہ اس ظاہری لباس کا مطلوب شرعی ہونا اسی تقویٰ یعنی دینداری کی ایک فرع ہے، اصل مقصود ہر حالت میں لباس تقویٰ ہی ہے) یہ (لباس پیدا کرنا) اللہ تعالیٰ کے (فضل و کرم) کی نشانیوں میں سے ہوتا ہے، تاکہ یہ لوگ (اس نعمت کو) یاد رکھیں (اور یاد رکھ کر اپنے منعم اور محسن کا حق اطاعت ادا کریں اور وہ حق اطاعت وہی ہے جس کو لباس تقویٰ فرمایا ہے) اے اولاد آدم ! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے (کہ خلاف دین وتقویٰ تم سے کوئی کام کراوے) جیسا اس نے تمہارے دادا دادی (یعنی آدم و حوا علیہما السلام) کو جنت سے باہر کرا دیا (یعنی ان سے ایسا کام کرادیا کہ اس کے نتیجہ میں وہ جنت سے باہر آگئے، اور باہر بھی) ایسی حالت سے (کرایا) کہ ان کا لباس بھی ان (کے بدن) سے اتروا دیا، تاکہ دونوں کو ایک دوسرے کے پردہ کا بدن دکھائی دینے لگے (جو شریف انسان کیلئے بڑی شرم و رسوائی ہے، غرض شیطان تمہارا قدیم دشمن ہے، اس سے بہت ہوشیار رہو اور زیادہ احتیاط اس لئے اور بھی ضروری ہے کہ) وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو (عادةً) نہیں دیکھتے ہو (ظاہر ہے کہ ایسا دشمن بہت خطرناک ہے، اس سے بچنے کا پورا اہتمام چاہئے، اور یہ اہتمام ایمان کامل اور تقویٰ سے حاصل ہوتا ہے وہ اختیار کرلو تو بچاو کا سامان ہوجائے گا کیونکہ) ہم شیطانوں کو انہی کا رفیق ہونے دیتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے (اگر بالکل ایمان نہیں تو پوری طرح شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے، اور اگر ایمان تو ہے مگر کامل نہیں تو اس سے کم درجہ کا تسلط ہوتا ہے، بخلاف مومن کامل کے کہ اس پر شیطان کا بالکل قابو نہیں چلتا، جیسا کہ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے(آیت) انہ لیس لہ سلطان علی الذین آمنوا وعلی ربھم یتوکلون)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ سے پہلے ایک پورے رکوع میں حضرت آدم ؑ اور شیطان رحیم کا واقعہ بیان فرمایا گیا تھا، جس میں شیطانی اغواء کا پہلا اثر یہ ہوا تھا کہ آدم و حواء (علیہما السلام) کا جنتی لباس اتر گیا اور وہ ننگے رہ گئے، اور پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔
مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے تمام اولاد آدم کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ تمہارا لباس قدرت کی ایک عظیم نعمت ہے اس کی قدر کرو، یہاں خطاب صرف مسلمانوں کو نہیں، بلکہ پوری اولاد آدم کو ہے، اس میں اشارہ ہے کہ ستر پوشی اور لباس انسان کی فطری خواہش اور ضرورت ہے، بغیر امتیاز کسی مذہب و ملت کے سب ہی اس کے پابند ہیں، پھر اس کی تفصیل میں تین قسم کے لباسوں کا ذکر فرمایا
اول(آیت) لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ اس میں یواری، موارات سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں چھپانے کے، اور سواٰة سوءة کی جمع ہے، ان اعضاء انسانی کو سوءة کہا جاتا ہے جن کے کھلنے کو انسان فطرةً برا اور قابل شرم سمجھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری صلاح و فلاح کے لئے ایک ایسا لباس اتارا ہے، جس سے تم اپنے قابل شرم اعضاء کو چھپا سکو۔
اس کے بعد فرمایا وریشاً ، ریش اس لباس کو کہا جاتا ہے جو آدمی زینت و جمال کے لئے استعمال کرتا ہے، مراد یہ ہے کہ صرف ستر چھپانے کے لئے تو مختصر سا لباس کافی ہوتا ہے، مگر ہم نے تمہیں اس سے زیادہ لباس اس لئے عطا کیا کہ تم اس کے ذریعہ زینت و جمال حاصل کرسکو، اور اپنی ہیئت کو شائستہ بنا سکو۔
اس جگہ قرآن کریم نے انزلنا یعنی اتارنے کا لفظ استعمال فرمایا ہے، مراد اس سے عطا کرنا ہے، یہ ضروری نہیں کہ آسمان سے بنا بنایا اترا ہو، جیسے دوسری جگہ انزلنا الحدید کا لفظ آیا ہے، یعنی ہم نے لوہا اتارا، جو سب کے سامنے زمین سے نکلتا ہے، البتہ دونوں جگہ لفظ انزلنا فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ جس طرح آسمان سے اترنے والی چیزوں میں کسی انسانی تدبیر اور صنعت کو دخل نہیں ہوتا، اسی طرح لباس کا اصل مادہ جو روئی یا اون وغیرہ ہے اس میں کسی انسانی تدبیر کو ذرّہ برابر دخل نہیں، وہ محض قدرت حق تعالیٰ کا عطیہ ہے، البتہ ان چیزوں سے اپنی راحت و آرام اور مزاج کے مناسب سردی گرمی سے بچنے کے لئے لباس بنا لینے میں انسانی صنعت گری کام آتی ہے، اور وہ صنعت بھی حق تعالیٰ ہی کی بتلائی اور سکھائی ہوئی ہے، اس لئے حقیقت شناس نگاہ میں یہ سب حق تعالیٰ ہی کا ایسا عطیہ ہے جیسے آسمان سے اتارا گیا ہو۔
لباس کے دو فائدے
اس میں لباس کے دو فائدے بتلائے گئے، ایک ستر پوشی، دوسرے سردی گرمی سے حفاظت اور آرائش بدن اور پہلے فائدہ کو مقدم کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ انسانی لباس کا اصل مقصد ستر پوشی ہے، اور یہی اس کا عام جانوروں سے امتیاز ہے، کہ جانوروں کا لباس جو قدرتی طور پر ان کے بدن کا جزء بنادیا گیا ہے اس کا کام صرف سردی گرمی سے حفاظت یا زینت ہے، ستر پوشی کا اس میں اتنا اہتمام نہیں، البتہ اعضائے مخصوصہ کی وضع ان کے بدن میں اس طرح رکھ دی کہ بالکل کھلے نہ رہیں، کہیں ان پر دم کا پردہ کہیں دوسری طرح کا۔
اور حضرت آدم و حواء اور اغواء شیطانی کا واقعہ بیان کرنے کے بعد لباس کے ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے لئے ننگا ہونا اور قابل شرم اعضاء کا دوسروں کے سامنے کھلنا انتہائی ذلت و رسوائی اور بےحیائی کی علامت اور طرح طرح کے شرو فساد کا مقدمہ ہے۔
انسان پر شیطان کا پہلا حملہ اس کو ننگا کرنے کی صورت میں ہوا آج بھی نئی شیطانی تہذیب انسان کو برہنہ یا نیم برہنہ کرنے میں لگی ہوئی ہے
اور یہی وجہ ہے کہ شیطان کا سب سے پہلا حملہ انسان کے خلاف اسی راہ سے ہوا کہ اس کا لباس اتر گیا، اور آج بھی شیطان اپنے شاگردوں کے ذریعے جب انسان کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو تہذیب و شائستگی کا نام لے کر سب سے پہلے اس کو برہنہ یا نیم برہنہ کرکے عام سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا کردیتا ہے اور شیطان نے جس کا نام ترقی رکھ دیا ہے وہ عورت کو شرم و حیاء سے محروم کرکے منظر عام پر نیم برہنہ حالت میں لے آنے کے بغیر حاصل ہی نہیں ہوتی۔
ایمان کے بعد سب سے پہلا فرض ستر پوشی ہے
شیطان نے انسان کے اس کمزور پہلو کو بھانپ کر پہلا حملہ انسان کی ستر پوشی پر کیا، تو شریعت اسلام جو انسان کی ہر صلاح و فلاح کی کفیل ہے، اس نے ستر پوشی کا اہتمام اتنا کیا کہ ایمان کے بعد سب سے پہلا فرض ستر پوشی کو قرار دیا، نماز، روزہ وغیرہ سب اس کے بعد ہے۔
حضرت فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نیا لباس پہنے تو اس کو چاہئے کہ لباس پہننے کے وقت یہ دعا پڑھے
الحمد للّٰہ الذی کسانی ما اواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی۔
”یعنی شکر اس ذات کا جس نے مجھے لباس دیا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کا پردہ کروں اور زینت حاصل کروں“۔
نیا لباس بنانے کے وقت پرانے لباس کو صدقہ کردینے کا ثواب عظیم
اور فرمایا کہ جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانے کو غرباء و مساکین پر صدقہ کر دے تو وہ اپنی موت وحیات کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور پناہ میں آگیا۔ (ابن کثیر عن مسند احمد)
اس حدیث میں بھی انسان کو لباس پہننے کے وقت انہی دونوں مصلحتوں کو یاد دلایا گیا ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی لباس پیدا فرمایا ہے۔
ستر پوشی ابتداء آفرنیش سے انسان کا فطری عمل ہے ارتقاء کا جدید فلسفہ باطل ہے
آدم ؑ کے واقعہ اور قرآن کریم کے اس ارشاد سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ستر پوشی اور لباس انسان کی فطری خواہش اور پیدائشی ضرورت ہے جو اول دن سے اس کے ساتھ ہے، اور آج کل کے بعض فلاسفروں کا یہ قول سراسر غلط اور بےاصول ہے کہ انسان اول ننگا پھرا کرتا تھا، پھر ارتقائی منزلیں طے کرنے کے بعد اس نے لباس ایجاد کیا۔
لباس کی ایک تیسری قسم
ستر پوشی اور راحت وزینت کے لئے دو قسم کے لباسوں کا ذکر فرمانے کے بعد قرآن کریم نے ایک تیسرے لباس کا ذکر اس طرح فرمایا (آیت) ۭوَلِبَاس التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ بعض قراءتوں میں فتح یعنی زبر کے ساتھ لباس التقوی پڑھا گیا ہے، تو انزلنا کے تحت میں داخل ہو کر معنی یہ ہوئے کہ ہم نے ایک تیسرا لباس تقویٰ کا اتارا ہے، اور مشہور قراءت کی رو سے معنی یہ ہیں کہ یہ دو لباس تو سب جانتے ہیں، ایک تیسرا لباس تقویٰ کا ہے، اور وہ سب لباسوں سے زیادہ بہتر ہے، لباس تقویٰ سے مراد حضرت ابن عباس اور عروہ بن زبیر ؓ کی تفسیر کے مطابق عمل صالح اور خوف خدا ہے۔ (روح)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ظاہری لباس انسان کے قابل شرم اعضاء کے لئے پردہ اور سردی گرمی سے بچنے اور زینت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح ایک معنوی لباس، صالح اور خوف خدا تعالیٰ کا ہے، جو انسان کے اخلاقی عیوب اور کمزوریوں کا پردہ ہے، اور دائمی تکلیفوں اور مصیبتوں سے نجات کا ذریعہ ہے اسی لئے وہ سب سے بہتر لباس ہے۔
اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک بدکار آدمی جس میں خوف خدا نہ ہو اور وہ عمل صالح کا پابند نہ ہو وہ کتنے ہی پردوں میں چھپے مگر انجام کار رسوا اور ذلیل ہو کر رہتا ہے، جیسا کہ ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے بروایت عثمان غنی ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے جو شخص کوئی بھی عمل لوگوں کی نظروں سے چھپا کر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس عمل کی چادر اڑھا کر اعلان کردیتے ہیں، نیک عمل ہو تو نیکی کا اور برا عمل ہو تو برائی کا“۔ چادر اڑھانے سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح بدن پر اوڑھی ہوئی چادر سب کے سامنے ہوتی ہے، انسان کا عمل کتنا ہی پوشیدہ ہو اس کے ثمرات و آثار اس کے چہرے اور بدن پر اللہ تعالیٰ ظاہر کردیتے ہیں، اور اس ارشاد کی سند میں آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی، (آیت) وَرِيْشًا ۭوَلِبَاس التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ ۭذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ
ظاہری لباس کا بھی اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے
لباس التقویٰ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ظاہری لباس کے ذریعہ ستر پوشی اور زینت و تجمل سب کا اصل مقصد تقویٰ اور خوف خدا تعالیٰ ہے، جس کا ظہور اس کے لباس میں بھی اس طرح ہونا چاہئے کہ اس میں پوری ستر پوشی ہو، کہ قابل شرم اعضاء کا پورا پردہ ہو، وہ ننگے بھی نہ رہیں، اور لباس بدن پر ایسا چست بھی نہ ہو جس میں یہ اعضاء مثل ننگے کے نظر آئیں، نیز اس لباس میں فخر و غرور کا انداز بھی نہ ہو بلکہ تواضع کے آثار ہوں، اسراف بیجا بھی نہ ہو، ضرورت کے موافق کپڑا استعمال کیا جائے، عورتوں کے لئے مردانہ اور مردوں کے لئے زنانہ لباس بھی نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض و مکروہ ہے۔ لباس میں کسی دوسری قوم کی نقالہ بھی نہ ہو جو اپنی قوم و ملت سے غداری اور اعراض کی علامت ہے۔
اس کے ساتھ ہی اخلاق و اعمال کی دوستی بھی ہو جو لباس کا اصل مقصد ہے، آخر آیت میں ارشاد فرمای آذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ یعنی انسان کو لباس کی یہ تینوں قسمیں عطا فرمانا اللہ جل شانہ کی آیات قدرت میں سے ہے، تاکہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔
Ayah 7:27دوسری آیت میں پھر تمام اولاد آدم کو خطاب کرکے تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنے ہر حال اور ہر کام میں مکر شیطانی سے بچتے رہو، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو پھر کسی فتنہ میں مبتلا کر دے، جیسا تمہارے ماں باپ حضرت آدم و حواء کو اس نے جنت سے نکلوایا، اور ان کا لباس اتار کر ان کے ستر کھولنے کا سبب بنا وہ تمہارا قدیم دشمن ہے، اس کی دشمنی کا ہمیشہ ہر وقت خیال رکھو۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اس میں لفظ قبیل کے معنی جماعت اور جھتے کے ہیں، جو جماعت ایک خاندان کی شریک ہو اس کو قبیلہ کہتے ہیں، اور عام جماعتوں کو قبیل کہا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارا ایسا دشمن ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی تو تم کو دیکھتے ہیں، تم ان کو نہیں دیکھتے، اس لئے ان کا مکر و فریب تم پر چل جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔ لیکن دوسری آیات میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے اور مکر شیطانی سے ہوشیار رہنے والے ہیں، ان کے لئے شیطان کا جال نہایت کمزور ہے۔ اور اس کے آخر میں بھی یہ جو فرمایا کہ ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنادیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے، اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان والوں کے لئے اس کے جال سے بچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔
بعض حضرات سلف نے فرمایا کہ یہ دشمن جو ہمیں دیکھتا ہے اور ہم اس کو نہیں دیکھ سکتے اس کا علاج ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں، جو ان شیطانوں کو اور ان کی ہر نقل و حرکت کو دیکھتا ہے اور شیطان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ اور یہ ارشاد کہ انسان شیاطین کو نہیں دیکھ سکتا عام حالات اور عام عادت کے اعتبار سے ہے، خرق عادت کے طور پر کوئی انسان کبھی ان کو دیکھ لے یہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جنات کا آنا اور سوالات کرنا اور اسلام قبول کرنا وغیرہ صحیح روایات حدیث میں مذکور ہے (روح)۔