7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا، تمہارے پاس پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے سو پوری کرو ناپ اور تول اور مت گھٹا کردو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم ایمان والے ہو،

خلاصہ تفسیر اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (میرے نبی ہونے پر) واضح دلیل (کہ کوئی معجزہ ہے) آچکی ہے (جب میری نبوت ثابت ہے) تو (احکام شرعیہ میں میرا کہنا مانو چناچہ میں کہتا ہوں کہ) تم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو (جیسا کہ تمہاری عادت ہے) اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ (تعلیم و توحید و بعثت انبیاء و ایجاب عدل و ادائے حقوق مکیال و میزان سے) اس کی درستی (تجویز) کردی گئی فساد مت پھیلاو (یعنی ان احکام کی مخالفت اور کفر مت کرو کہ موجب فساد ہے) یہ (جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرنا) تمہارے لئے (دنیا و آخرت دونوں میں) نافع ہے اگر تم (میری) تصدیق کرو (جس پر دلیل قائم ہے اور تصدیق کرکے عمل کرو تو امور مذکورہ دارین میں نافع ہیں آخرت میں تو ظاہر ہے کہ نجات ہوگی اور دنیا میں عمل بالشرع سے امن و انتظام قائم رہتا ہے خاص کر پورا ناپنے تولنے میں بوجہ اعتبار بڑھنے کے تجارت کو ترقی ہوتی ہے) اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو (ایمان لانے پر) دھمکیاں دو اور (ان کو) اللہ کی راہ (یعنی ایمان) سے روکو اور اس (راہ) میں کجی (اور شبہات) کی تالش میں لگے رہو (کہ بےجا اعتراض سوچ سوچ کر لوگوں کو بہکاؤ یہ لوگ ضلال مذکور سابق کے ساتھ اس اضلال میں بھی مبتلا تھے کہ سڑکوں پر بیٹھ کر آنے والوں کو بہکاتے کہ شعیب ؑ پر ایمان نہ لانا نہیں تو ہم تم کو مار ڈالیں گے۔ آگے تذکیر نعمت سے ترغیب اور تذکیر نقمت سے ترہیب ہے یعنی) اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم (شمار میں یا مال میں) کم تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو (شماریا مال میں) زیادہ کردیا (یہ تو ترغیب تھی ایمان لانے پر) اور دیکھو تو کیسا برا انجام ہوا فساد (یعنی کفر و تکذیب و ظلم) کرنے والوں کا (جیسے قوم نوح اور عاد اور ثمود گزر چکے ہیں اسی طرح تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے یہ ترہیب ہے کفر پر) اور اگر (تم کو عذاب نہ آنے کا اس سے شبہ ہو کہ) تم میں سے بعضے (تو) اس حکم پر جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا ہے ایمان لائے ہیں اور بعضے ایمان نہیں لائے (اور پھر بھی دونوں فریق ایک ہی حالت میں ہیں یہ نہیں کہ ایمان نہ لانے والوں پر عذاب آگیا ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا عذاب سے ڈرانا بےاصل ہے) تو (اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ فوراً عذاب نہ آنے سے یہ کیسے معلوم ہوا کہ عذاب نہ آئے گا) ذرا ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ ہمارے (یعنی دونوں فریق کے) درمیان میں اللہ تعالیٰ (عملی) فیصلہ کئے دیتے ہیں (یعنی عذاب نازل کرکے مؤمنین کو نجات دیں گے اور کفار کو ہلاک کریں گے) اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہیں (کہ ان کا فیصلہ بالکل مناسب ہی ہوتا ہے)۔ معارف و مسائل انبیاء (علیہم السلام) کے قصص جن کا سلسلہ گزشتہ آیات سے چل رہا ہے ان میں پانچواں قصہ حضرت شعیب ؑ اور ان کی قوم کا ہے جو آیات متذکرہ میں بیان ہوا ہے۔ حضرت شعیب ؑ محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ کے صاحبزادہ مدین کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت لوط ؑ سے بھی رشتہ قرابت رکھتے ہیں۔ مدین حضرت خلیل اللہ ؑ کے صاحبزادے ہیں ان کی نسل و اولاد بھی مدین کے نام سے معروف ہوگئی اور جس بستی میں ان کا قیام تھا اس کو بھی مدین کہتے ہیں۔ گویا مدین ایک قوم کا بھی نام ہے اور ایک شہر کا بھی۔ یہ شہر آج بھی شرق اردن کی بندرگاہ معان کے قریب موجود ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ موسیٰ ؑ کے قصہ میں ارشاد ہے (آیت) ولما ورد ماء مدین۔ ، اس میں یہی بستی مراد ہے (ابن کثیر)۔ حضرت شعیب ؑ کو ان کے حسن بیان کی وجہ سے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا (ابن کثیر، بحر محیط) حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں قرآن کریم نے کہیں ان کا اہل مدین اور اصحاب مدین کے نام سے ذکر کیا ہے اور کہیں اصحاب ایکہ کے نام سے۔ ایکہ کے معنی جنگل اور بن کے ہیں۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ دونوں قومیں الگ الگ تھیں دونوں کی بستیاں بھی الگ تھیں۔ حضرت شعیب ؑ ان میں سے پہلے ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ان کی ہلاکت کے بعد دوسری قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔ دونوں قوموں پر جو عذاب آیا اس کے الفاظ بھی مختلف ہیں اصحاب مدین پر کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ مذکور ہے اور اصحاب ایکہ پر بھی عذاب ظلہ ذکر کیا گیا ہے۔ صیحہ کے معنی چنگھاڑ اور سخت آواز کے اور رجفہ کے معنی زلزلہ ہیں اور ظللہ سائبان کو کہا جاتا ہے۔ اصحاب ایکہ پر عذاب کی یہ صورت ہوئی کہ اول چند روز ان کی پوری بستی میں سخت گرمی پڑی جس سے ساری قوم بلبلا اٹھی۔ پھر ان کے قریب جنگل پر ایک گہرا بادل آیا جس سے اس جنگل میں سایہ ہوگیا اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ یہ دیکھ کر سارے بستی کے آدمی اس بادل کے سایہ میں جمع ہوگئے۔ اس طرح یہ خدائی مجرم بغیر کسی وارنٹ اور سپاہی کے اپنے پاؤں چل کر اپنی ہلاکت کی جگہ پہنچ گئے۔ جب سب جمع ہوگئے تو بادل سے آگ برسی اور زمین میں بھی زلزلہ آیا جس سے یہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کا نام ہے اور عذاب کی جو تین قسمیں ابھی ذکر کی گئی ہیں۔ تینوں اس قوم پر جمع ہوگئیں۔ پہلے بادل سے آگ برسی پھر اس کے ساتھ سخت آواز چنگھاڑ کی شکل میں آئی پھر زمین میں زلزلہ آیا، ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ بہر حال یہ دونوں قومیں الگ الگ ہوں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہوں۔ حضرت شعیب ؑ نے جو پیغام حق ان کو دیا وہ پہلی اور دوسری آیات میں مذکور ہے۔ اس پیغام کی تفسیر سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ اسلام جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مشترک دعوت ہے۔ اس کا خلاصہ ادائے حقوق ہے۔ پھر حقوق دو قسم کے ہیں ایک براہ راست اللہ تعالیٰ کا حق جس کے کرنے یا چھوڑنے سے انسانوں کا کوئی معتدبہ نفع نقصان متعلق نہیں جیسے عبادات نماز روزہ وغیرہ۔ دوسرے حقوق العباد جن کا تعلق انسانوں سے ہے۔ اور یہ قوم ان دونوں حقوق سے بیخبر اور دونوں کے خلاف کام کر رہی تھی۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان نہ لا کر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور اس کے ساتھ خریدوفروخت میں ناپ تول گھٹا کر لوگوں کے حقوق کو ضائع کر رہے تھے اور اس پر مزید یہ کہ راستوں اور سڑکوں کے دھانوں پر بیٹھ جاتے اور آنے والوں کو ڈرا دھمکا کر لوٹتے اور شعیب ؑ پر ایمان لانے سے روکتے تھے۔ اس طرح روئے زمین پر فساد مچا رکھا تھا۔ یہ ان کے شدید جرائم تھے جن کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب ؑ کو بھیجا گیا تھا۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی دو آیتوں میں اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب ؑ نے تین باتیں فرمائیں۔ اول (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ، یعنی اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود بننے کے لائق نہیں۔ یہ وہی دعوت توحید ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) دیتے آئے ہیں اور جو تمام عقائد و اعمال کی روح ہے چونکہ یہ قوم بھی مخلوق پرستی میں مبتلا اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق سے غافل تھی اس لئے ان کو بھی سب سے پہلے یہی پیغام دیا گیا۔ اور فرمایا (آیت) ۭقَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، یعنی تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے یہاں واضح دلیل سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت شعیب ؑ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ تفسیر بحر محیط میں مختلف صورتیں ان کے معجزات کی ذکر کی ہیں۔ دوسری بات یہ فرمائی (آیت) فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ ، اس میں کیل کے معنی ناپ اور میزان بمعنی وزن تولنے کے معنی میں ہے اور بخس کے معنی کسی کے حق میں کمی کرکے نقصان پہنچانے کے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ تم ناپ تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزوں میں کمی کرکے ان کو نقصان نہ پہنچایا کرو۔ اس میں پہلے تو ایک خاص جرم سے منع فرمایا گیا جو خرید فروخت کے وقت ناپ تول میں کمی کی صورت سے کیا جاتا تھا۔ بعد میں لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ ، فرما کر ہر طرح کے حقوق میں کتربیونت اور کمی کوتاہی کو عام کردیا۔ خواہ وہ مال سے متعلق ہو یا عزت و آبرو سے یا کسی دوسری چیز سے (بحر محیط) اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح ناپ تول میں حق سے کم دینا حرام ہے اسی طرح دوسرے حقوق انسانی میں کمی کرنا بھی حرام ہے۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا، یا کسی کے درجہ اور رتبہ کے موافق اس کا احترام نہ کرنا۔ جس جس کی اطاعت واجب ہے ان کی اطاعت میں کوتاہی کرنا یا جس شخص کی تعظیم و تکریم واجب ہے اس میں کوتاہی برتنا۔ یہ سب امور اسی جرم میں داخل ہیں جو شعیب ؑ کی قوم کیا کرتی تھی۔ حجة الوداع کے خطبہ میں رسول کریم ﷺ نے لوگوں کی آبرو کو ان کے خون کے برابر واجب الاحترام اور قابل حفاظت قرار دیا ہے اس کا بھی حاصل یہی ہے۔ قرآن مجید میں جہاں مطففین اور تطفیف کا ذکر آیا ہے اس میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ حضرت فاروق اعظم ؓ نے ایک شخص کو جلدی جلدی رکوع سجدے کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا قد طففت یعنی تو نے ناپ تول میں کمی کردی (مؤ طا امام مالک)۔ مراد یہ ہے کہ نماز کا جو حق تھا وہ تو نے پورا نہ کیا۔ اس میں حق نماز پورا ادا نہ کرنے کو تطفیف کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آخر آیت میں فرمایا وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا، یعنی زمین کی درستی کے بعد اس میں فساد مت پھیلاؤ۔ یہ جملہ اسی سورة اعراف میں پہلے بھی آچکا ہے وہاں اس کے معنی کی تفصیل بیان ہوچکی ہے کہ زمین کی ظاہری اصلاح ہر چیز کو اس کے مصرف پر خرچ کرنے اور حدود کی رعایت کرنے اور عدل و انصاف قائم رکھنے پر موقوف ہے اور باطنی اصلاح، تعلق مع اللہ اور اطاعت احکام الٰہیہ پر اسی طرح زمین کا ظاہری اور باطنی فساد ان اصول کو چھوڑ دینے سے پیدا ہوتا ہے۔ قوم شعیب ؑ نے ان تمام اصول کو نظر انداز کر رکھا تھا جس کی وجہ سے زمین پر ظاہری اور باطنی ہر طرح کا فساد برپا تھا۔ اس لئے ان کو یہ نصیحت کی گئی کہ تمہارے یہ اعمال ساری زمین کو خراب کرنے والے ہیں ان سے بچو۔ پھر فرمای آذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ یعنی یہی بات تمہارے لئے نافع ہے اگر تم میری بات مانو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی ان ناجائز حرکتوں سے باز آجاؤ تو اسی میں تمہارے دین و دنیا کی فلاح اور بہبود ہے۔ دین اور آخرت کی فلاح تو ظاہر ہے کہ احکام الٰہیہ کی اطاعت سے وابستہ ہے اور دنیا کی فلاح اس لئے کہ جب لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ فلاں شخص ناپ تول میں اور دوسرے حقوق میں دیانت داری سے کام کرتا ہے تو بازار میں اس کی ساکھ قائم ہو کر اس کی تجارت کو فروع ہوگا۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور مت بیٹھو راستوں پر کہ ڈراؤ اور روکو اللہ کے راستہ سے اس کو جو کہ ایمان لائے اس پر اور ڈھونڈو اس میں عیب اور یاد کرو جب کہ تھے تم بہت تھوڑے پھر تم کو بڑھا دیا اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا،

تیسری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ تم لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور اللہ کے راستہ سے روکنے کے لئے۔ راستوں سڑکوں پر نہ بیٹھا کرو۔ اس کا مطلب بعض مفسرین نے یہ قرار دیا کہ یہ دونوں جملے ایک ہی مفہوم کو ادا کرتے ہیں کہ یہ لوگ راستوں پر بیٹھ کر حضرت شعیب ؑ کے پاس آنے والوں کو روکتے اور ڈراتے دھمکاتے تھے اس سے منع کیا گیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کے یہ دو جرم الگ الگ تھے۔ راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ بھی کرتے تھے اور حضرت شعیب ؑ پر ایمان لانے سے روکتے تھے۔ پہلے جملہ میں پہلا مضمون اور دوسرے جملہ میں دوسرا مضمون بیان فرمایا ہے۔ تفسیر بحر محیط وغیرہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ کرنے میں اس کو بھی داخل قرار دیا ہے جو خلاف شرع ناجائز ٹیکس وصول کرنے کے لئے راستوں پر چوکیاں بنائی جاتی ہیں۔ علامہ قرطبی نے فرمایا وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا یعنی تم لوگ اللہ کے راستہ میں کجی کی تلاش میں لگے رہتے ہو کہ کہیں انگلی رکھنے کی جگہ ملے تو اعتراضات و شبہات کے دفتر کھول دیں اور لوگوں کو دین حق سے بیزار کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں فرمایا واذْكُرُوْٓا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ ۠ وَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ ، اس میں ان لوگوں کی تنبیہ کے لئے ترغیب و ترہیب کے دونوں پہلو استعمال کئے گئے۔ اول تو ترغیب کے لئے اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت یاد دلائی کہ تم پہلے اعداد و شمار کے لحاظ سے کم تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری نسلیں بڑھا کر ایک بڑی وسیع قوم بنادیا۔ یا مال و سامان کے اعتبار سے کم تھے اللہ تعالیٰ نے دولت عطا فرما کر مستغنی کردیا۔ پھر ترہیب کے لئے فرمایا کہ اپنے سے پہلے فساد کرنے والی قوموں کے انجام پر نظر ڈالو کہ قوم نوح قوم عاد وثمود قوم لوط پر کیا کیا عذاب آچکے ہیں تاکہ سمجھ سے کام لو۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا تو صبر کرو جب تک اللہ فیصلہ کرے درمیان ہمارے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

پانچویں آیت میں اس قوم کے ایک شبہ کا جواب ہے کہ شعیب ؑ کی دعوت ایمان کے بعد ان کی قوم دو حصوں میں بٹ گئی کچھ ایمان لائے کچھ منکر رہے۔ مگر ظاہری اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں جماعتیں یکساں آرام و عیش میں ہیں اگر منکر ہونا کوئی جرم ہوتا تو مجرم کو سزا ملتی۔ اس کے جواب میں فرمایا فاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا یعنی جلد بازی نہ کرو اللہ تعالیٰ اپنے علم و کرم سے مجرموں کو مہلت دیتے ہیں جب وہ بالکل ہی سرکش ہوجاتے ہیں تو پھر فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ تمہارا بھی یہی حال ہے اگر تم اپنے انکار سے باز نہ آئے تو عنقریب منکروں پر فیصلہ کن عذاب نازل ہوجائے گا۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

بولے سردار جو متکبر تھے اس کی قوم میں ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو کہ ایمان لائے تیرے ساتھ اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ ہمارے دین میں بولا کیا ہم بیزار ہوں تو بھی ،

خلاصہ تفسیر ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے (جو یہ باتیں سنی تو انہوں نے گستاخانہ) کہا کہ اے شعیب (یاد رکھئے) ہم آپ کو اور آپ کے ہمراہ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (تو البتہ ہم کچھ نہ کہیں گے۔ یہ بات مومنین کے لئے اس لئے کہی کہ وہ لوگ قبل ایمان کے اسی طریق کفر پر تھے لیکن شعیب ؑ کے حق میں باوجود اس کے کہ انبیاء سے کبھی کفر صادر نہیں ہوتا اس لئے کہی کہ ان کے سکوت قبل بعثت سے وہ یہ ہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم جیسا ہوگا) شعیب ؑ نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گے گو ہم (بدلیل و بصیرت) اس کو مکروہ (اور قابل نفرت) ہی سمجھتے ہوں (یعنی جب اس کے باطل ہونے پر دلیل قائم ہے تو کیسے اس کو اختیار کرلیں) ہم تو اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجائیں اگر (خدا نہ کرے) ہم تمہارے مذہب میں آجائیں (خصوصاً) بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی ہو (کیونکہ اول تو مطلقاً کفر کو دین حق سمجھنا یہی اللہ پر تہمت لگانا ہے کہ یہ دین معاذ اللہ اللہ کو پسند ہے خصوصاً مومن کا کافر ہونا چونکہ بعد علم و قبول دلیل حق کے ہے اور زیادہ تہمت ہے ایک تو وہی تہمت دوسری وہ تہمت کہ اللہ نے جو مجھ کو دلیل کا علم دیا تھا جس کو میں حق سمجھتا تھا وہ علم غلط دیا تھا اور شعیب ؑ نے لفظ عود تو تغلیاً دوسروں کے اعتبار سے یا ان کے گمان کو فرض کرکے یا مشاکلةً برتا) اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے (ہمارے) مقدر (میں) کیا ہو (جس کی مصلحت انہی کے علم میں ہے تو خیر اور بات ہے) ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے (اس علم سے سب مقدرات کے مصالح کو جانتے ہیں مگر) ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (اور بھروسہ کرکے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہم کو دین حق پر ثبت رکھے اور اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یہ یقین دیا جاتا ہے بلکہ مقصود اظہار عجز اور تفوض الی المالک ہے جو کہ لوازم کمال نبوت سے ہے اور دوسرے مؤمنین کے اعتبار سے لیا جائے تو کوئی اشکال ہی نہیں یہ جواب دے کر جب دیکھا کہ ان سے خطاب کرنا بالکل مؤ ثر نہیں اور ان کے ایمان لانے کی بالکل امید نہیں ان سے خطاب ترک کرکے حق تعالیٰ سے دعا کی کہ) اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری (اس) قوم کے درمیان فیصلہ کر دیجئے (جو کہ ہمیشہ) حق کے موافق (ہوا کرتا ہے کیونکہ خدائی فیصلہ کا حق ہونا لازم ہے یعنی اب عملی طور پر حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح کر دیجئے) اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اور ان کی قوم کے (انہی مذکور) کافر سرداروں نے (شعیب ؑ کی یہ تقریر بلیغ سن کر اندیشہ کیا کہ کہیں سامعین پر اس کا اثر نہ ہوجائے اس لیے انہوں نے بقیہ کفار سے) کہا کہ اگر تم شعیب ؑ کی راہ چلنے لگو گے تو بیشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے (دین کا بھی کیونکہ ہمارا مذہب حق ہے حق کو چھوڑنا خسارہ ہے اور دنیا کا بھی اس لئے کہ پورا ناپنے تولنے میں بچت کم ہوگی غرض وہ سب اپنے کفر و ظلم پر جمے رہے اب عذاب کی آمد ہوئی) پس ان کو زلزلے نے پکڑا سو اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے جنہوں نے شعیب ؑ کی تکذیب کی تھی (اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کو آمادہ تھے خود) ان کی یہ حالت ہوگئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے جنہوں نے شعیب ؑ کی تکذیب کی تھی (اور ان کے اتباع کرنے والے کو خاسر بتلاتے تھے خود) وہی خسارہ میں پڑگئے اس وقت شعیب ؑ ان سے منہ موڑ کر چلے اور (بطور حسرت کے فرضی خطاب کرکے) فرمانے لگے کہ اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دئیے تھے (جن پر عمل کرنا ہر طرح کی فلاح کا سبب تھا) اور میں نے تمہاری (بڑی) خیر خواہی کی (کہ کس کس طرح سمجھایا گیا مگر افسوس تم نے نہ مانا اور یہ روز بد دیکھا پھر ان کے عناد و کفر وغیرہ کو یاد کرکے فرمانے لگے کہ جب انہوں نے اپنے ہاتھوں یہ مصیبت خریدی تو) پھر میں ان کافر لوگوں (کے ہلاک ہونے) پر کیوں رنج کروں۔ معارف و مسائل شعیب ؑ سے جب ان کی قوم نے یہ کہا کہ اگر آپ حق پر ہوتے تو آپ کے ماننے والے پھلتے پھولتے اور نہ ماننے والوں پر عذاب آتا مگر ہو یہ رہا ہے کہ دونوں فریق برابر درجہ میں آرام کی زندگی گزار رہے ہیں تو ہم آپ کو کیسے سچا مان لیں۔ اس پر حضرت شعیب ؑ نے فرمایا کہ جلد بازی نہ کرو عنقریب اللہ تعالیٰ ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ فرما دیں گے۔ اس پر قوم کے متکبر سرداروں نے وہی بات کہی جو ہمیشہ ظالم متکبر کہا کرتے ہیں کہ اے شعیب یا تو تم اور جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں وہ سب ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ، ورنہ ہم تم سب کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ ان کے مذہب میں واپس آنا قوم شعیب ؑ کے مؤمنین کے متعلق تو اس لئے صادق ہے کہ وہ سب سے پہلے انھیں کے مذہب اور طریقہ پر تھے۔ پھر شعیب ؑ کی دعوت پر مسلممان ہوئے۔ مگر حضرت شعیب ؑ تو ایک دن بھی ان کی باطل مذہب و طریقہ پر نہ رہے تھے اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ کا پیغمبر کبھی کسی مشرکانہ باطل مذہب کی پیروی کرسکتا ہے تو پھر ان کے لئے یہ کہنا کہ ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ غالباً اس وجہ سے تھا کہ نبوت عطا ہونے سے پہلے حضرت شعیب ؑ ان لوگوں کے باطل اقوال و اعمال پر سکوت فرماتے تھے اور قوم کے اندر گھل مل کر رہتے تھے ان کے سبب ان کا خیال حضرت شعیب ؑ کے بارے میں بھی یہ تھا کہ وہ بھی ہمارے ہی ہم خیال اور ہمارے مذہب کے پیرو ہیں۔ دعوت ایمان کے بعد ان کو معلوم ہوا کہ ان کا مذہب ہم سے مختلف ہے اور خیال کیا کہ یہ ہمارے مذہب سے پھرگئے۔ حضرت شعیب ؑ نے جواب دیا اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ ، یعنی کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہارے مذہب کو ناپسند اور باطل سمجھنے کے باوجود ہم تمہارے مذہب میں داخل ہوجائیں اور مراد اس سے یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک پہلی آیت کا مضمون ہے۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

بیشک ہم نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا اگر لوٹ آئیں تمہارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دے چکاہم کو اللہ اس سے، اور ہمارا کام نہیں کہ لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ رب ہمارا، گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں، اللہ ہی پر ہم نے بھروسا کیا اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

دوسری آیت میں ہے کہ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارے باطل مذہب سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات دے دی۔ اس کے بعد اگر ہم تمہارے مذہب میں واپس ہوجائیں تو یہ ہمای طرف سے اللہ تعالیٰ پر سخت جھوٹا بہتان ہوگا۔ کیونکہ اول تو خود کفر و شرک کو مذہب بنانا ہی یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو اس پر افتراء اور بہتان ہے۔ اس کے علاوہ ایمان لانے اور علم و بصیرت حاصل ہونے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹنا گویا یہ کہنا ہے کہ پہلا طریقہ باطل اور غلط تھا حق اور صحیح وہ طریقہ ہے جس کو اب اختیار کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دوہرا جھوٹ اور بہتان ہے کہ حق کو باطل کہا اور باطل کو حق۔ حضرت شعیب ؑ کے اس قول میں ایک قسم کا دعویٰ تھا کہ ہم اب تمہارے مذہب میں پھر واپس نہیں ہوسکتے۔ اور ایسا دعویٰ کرنا بظاہر ہر عبدیت کے خلاف ہے جو مقربان بارگاہ الٰہی اور اہل معرفت کی شایان شان نہیں اس لئے فرمایا (آیت) وَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَآ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ۭوَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمً آ عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا یعنی ہم تمہارے مذہب میں ہرگز واپس نہیں ہوسکتے بجز اس کے کہ (خدا نخواستہ) ہمارے پروردگار ہی کی مشیت و ارادہ ہماری گمراہی کا ہوجائے۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ہم نے اسی اللہ پر بھروسہ کیا ہے۔ اس میں اپنے عجز وضعف کا اظہار اور اللہ تعالیٰ پر توکل و تفویض ہے جو کمالات نبوت میں سے ہے کہ ہم کیا ہیں جو کسی کام کے کرنے یا اس سے بچنے کا دعویٰ کرسکیں۔ کسی نیکی کا کرنا یا برُائی سے بچنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے ہے۔ جیسا رسول کریم ﷺ نے فرمایا لولا اللّٰہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولاصلینا۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو ہم کو صحیح راستہ کی ہدایت نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ خیرات کر پاتے نہ نماز پڑھ سکتے۔ یہاں تک کہ قوم کے متکبر سرداروں سے گفتگو کرنے کے بعد جب شعیب ؑ کو یہ اندازہ ہوا کہ ان لوگوں پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو اب ان کو خطاب چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ یعنی اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ کر دیجئے حق کے موافق اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ فتح کے معنی اس جگہ فیصلہ کرنے کے ہیں اس معنی سے فاتح بمعنی قاضی آتا ہے (بحر محیط) اور درحقیقت ان الفاظ سے حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم میں سے کفار کے لئے ہلاکت کی دعا کی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر ان لوگوں کو زلزلہ کے ذریعہ ہلاک کردیا۔ دوسری آیت کا مضمون ختم ہوا۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں اگر پیروی کرو گے تم شعیب کی تو تم بیشک خراب ہو گے ،

تیسری آیت میں حضرت شعیب ؑ کے قوم کے متکبر سرداروں کا ایک گمراہ کن قول یہ نقل کیا ہے کہ وہ آپس میں کہنے لگے یا اپنے پیرو وں سے کہنے لگے کہ اگر تم نے شعیب ؑ کا اتباع کیا تو تم بڑے بیوقوف جاہل ٹھہرو گے (بحر محیط عن عطاء)
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر آپکڑا ان کو زلزلہ نے پس صبح کو رہ گئے اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے

چوتھی آیت میں اس سرکش قوم کے عذاب کا واقعہ اس طرح ذکر فرمایا (آیت) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ یعنی ان کو سخت اور عظیم زلزلہ نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں اندھے پڑے رہ گئے۔ قوم شعیب ؑ کا عذاب اس آیت میں زلزلہ کو بتلایا ہے اور دوسری آیات میں (آیت) فاخذہم عذاب یوم الظلہ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو یوم الظلة کے عذاب نے پکڑ لیا۔ یوم الظلة کے معنی ہیں سایہ کا دن۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ان پر گہرے بادل کا سایہ آیا جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اسی بادل سے ان پر پتھر یا آگ برسائی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے ان دونوں آیتوں میں تطبیق کے لئے فرمایا کہ شعیب ؑ کی قوم پر اول تو ایسی سخت گرمی مسلط ہوئی جیسے جہنم کا دروازہ ان کی طرف کھول دیا گیا ہو جس سے ان کا دم گھٹنے لگا نہ کسی سایہ میں چین آتا تھا نہ پانی میں۔ یہ لوگ گرمی سے گھبرا کر تہ خانوں میں گھس گئے تو وہاں اوپر سے بھی زیادہ سخت گرمی پائی۔ پریشان ہو کر شہر سے جنگل کی طرف بھاگے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ایک گہرا بادل بھیج دیا جس کے نیچے ٹھنڈی ہوا تھی۔ یہ سب لوگ گرمی سے بدحواس تھے دوڑ دوڑ کر اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت یہ سارا بادل آگ ہو کر ان پر برسا اور زلزلہ بھی آیا جس سے یہ سب لوگ راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئے۔ اس طرح اس قوم پر زلزلہ اور عذاب ظلہ دونوں جمع ہوگئے (بحر محیط) اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قوم شعیب ؑ کے مختلف حصے ہو کر بعض پر زلزلہ آیا اور بعض عذاب ظلہ سے ہلاک کئے گئے ہوں۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو گویا کبھی بسے ہی نہ تھے وہاں جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہی ہوئے خراب

پانچویں آیت میں قوم شعیب کے واقعہ سے دوسروں کو عبرت کا سبق دیا گیا ہے جو اس واقعہ کے بیان کا اصل مقصود ہے۔ فرمایا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا، لفظ غنی کے ایک معنی کسی مقام میں خوش عیشی کے ساتھ بسر کرنے کے بھی آتے ہیں اس جگہ یہی معنی مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن مکانات میں آرام و عیش کی زندگی گزارتے تھے۔ اس عذاب کے بعد ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی یہاں آرام و عیش کا نام ہی نہ تھا۔ پھر فرمایا اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِيْنَ یعنی جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا وہی لوگ خسارہ میں پڑے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ حضرت شعیب ؑ اور ان کے مومن ساتھیوں کو اپنی بشتی سے نکال دینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ انجام کار خسارہ انھیں پر پڑا۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا ان لوگوں سے اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیر خواہی کرچکا تمہاری، اب کیا افسوس کروں کافروں پر

چھٹی آیت میں فرمایا فَتَوَلّٰي عَنْهُمْ یعنی قوم پر عذاب آتا ہوا دیکھ کر شعیب ؑ اور ان کے ساتھی یہاں سے چل دیئے۔ جمہور مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات یہاں سے مکہ معظمہ آگئے۔ اور پھر آخر تک یہیں قیام رہا۔ قوم کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی سے مایوس ہو کر شعیب ؑ نے بدعا تو کردی۔ مگر جب اس کے نتیجہ میں قوم پر عذاب آیا تو پیغمبرانہ شفقت و رحمت کے سبب دل دکھا تو اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں نے تو تم کو تمہارے رب کے احکام پہنچا دیئے تھے اور تمہاری خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا تھا مگر میں کافر قوم کا کہاں تک غم کروں۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی کہ نہ پکڑا ہو ہم نے وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑ گڑائیں

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (ان مذکورہ اور بھی دوسری بستیوں میں سے) کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو (اس نبی کے نہ ماننے پر اول اول تنبیہ نہ کی ہو اور تنبیہ کی غرض سے ان کو) ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ ڈھیلے پڑجائیں (اور اپنے کفر و تکذیب سے توبہ کریں) پھر (جب اس سے متنبہ نہ ہوئے تو استدراجا یا اس غرض سے کہ مصیبت کے بعد جو نعمت ہوتی ہے اس کی زیادہ قدر ہوتی اور نعمت دینے والے کی آدمی بالطبع اطاعت کرنے لگتا ہے) ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی یہاں تک کہ ان کو (غنی اور صحت کے ساتھ مال و اولاد میں) خوب ترقی ہوئی اور (اس وقت براہ کج فہمی) کہنے لگے کہ (وہ پہلی مصیبت ہم پر کفر و تکذیب کے سبب نہ تھی ورنہ پھر خوش حالی کیوں ہوتی بلکہ یہ اتفاقات زمانہ سے ہے چنانچہ) ہمارے آباء و اجداد کو بھی (یہ دو حالتیں کبھی) تنگی اور (راحت پیش آئی تھیں (اسی طرح ہم پر یہ حالتیں گزر گئیں جب وہ اس بھول میں پڑگئے) تو (اس وقت) ہم نے ان دفعة (عذاب مہلک میں) پکڑ لیا اور ان کو (اس عذاب کے آنے کی) خبر بھی نہ تھی (یعنی گو ان کو انبیاء نے خبر کی تھی مگر چونکہ وہ اس خبر کو غلط سمجھتے تھے اور عیش و آرام میں بھولے ہوئے تھے اس لئے ان کو گمان نہ تھا) اور (ہم نے جو ان کو عذاب مہلک میں پکڑا تو اس کا سبب صرف ان کا کفر اور مخالفت تھی ورنہ) اگر ان بستیوں کے رہنے والے (پیغمبروں پر) ایمان لے آتے اور (ان کی مخالفت سے) پرہیز کرتے تو ہم (بجائے ارضی و سماوی آفات کے) ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے (یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار ان کو برکت کے ساتھ عطا فرماتے اور گو اس ہلاکت سے پہلے ان کو خوش حالی ایک حکمت کے لئے دی گئی لیکن اس خوش حالی میں اس لئے برکت نہ تھی کہ آخر وہ وبال جان ہوگئی بخلاف ان نعمتوں کے جو ایمان و اطاعت کے ساتھ ملتی ہیں کہ ان میں یہ خیروبرکت ہوتی ہے کہ وہ وبال کبھی نہیں ہوتیں نہ دنیا میں نہ آخرت میں، حاصل یہ کہ اگر وہ ایمان وتقوی اختیار کرتے تو ان کو بھی یہ برکتیں دیتے) لیکن انہوں نے تو (پیغمبروں کی) تکذیب کی تو ہم نے (بھی) ان کے اعمال (بد) کی وجہ سے ان کو عذاب مہلک میں پکڑ لیا (جس کو اوپر اخذنھم بغتة سے تعبیر فرمایا ہے۔ آگے کفار موجودین کو عبرت دلاتے ہیں) کیا (ان قصص کو سن کر) پھر بھی ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے (جو رسول اللہ ﷺ کے دور نبوت میں موجود ہیں) اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر (بھی) ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وہ پڑے سوتے ہوں اور کیا ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے (باوجود کفرو تکذیب کے جو کہ کفار سابقین کی طرح) ان پر ہمارا عذاب دن دوپہر آپڑے جس وقت کہ وہ اپنے لایعنی قصوں میں مشغول ہوں (مراد اس سے دنیوی کاروبار ہیں) ہاں تو کیا اللہ تعالیٰ کی اس (ناگہانی) پکڑ سے (جس کا اوپر بیان ہوا ہے) بےفکر ہوگئے سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بجز انکے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔ معارف و مسائل پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی تاریخ اور ان کے عبرتناک حالات و واقعات میں سے جن کا سلسلہ کئی رکوع پہلے سے چل رہا ہے، یہاں تک پانچ حضرات انبیاء کے قصص کا بیان ہوا ہے، چھٹا قصہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ہے جو تفصیل کے ساتھ نو آتیوں کے بعد آنے والا ہے۔ یہ بات پہلے بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم تاریخ عالم اور اقوام عالم کے حالات بیان کرتا ہے مگر اسلوب بیان یہ رہتا ہے کہ عالم تاریخی کتابوں اور قصے کہانیوں کی کتابوں کی طرح کسی قصہ کو ترتیب اور تفصیل کے ساتھ لانے کے بجائے ہر مقام کے مناسب کسی قصہ کا ایک حصہ بیان کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ اس سے حاصل ہونے والے عبرت آموز نتائج ذکر کئے جاتے ہیں، اسی طریق پر یہاں ان پانچ قصوں کے بیان کے بعد ان آیات میں جو اوپر لکھی گئی ہیں کچھ تنبیہات مذکور ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ قوم نوح ؑ اور عاد وثمود کے ساتھ جو واقعات پیش آئے وہ کچھ ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ شانہ کی عام عادت یہی ہے کہ قوموں کی ہدایت اور ان کی صلاح و فلاح کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجتے ہیں، جو لوگ ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرتے تو اول ان کو دنیا کی مصائب و تکالیف میں مبتلا کردیا جاتا ہے تاکہ تکلیف و مصیبت ان کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیں کیونکہ انسان کو فطرة مصیبت کے وقت خدا ہی یاد آتا ہے، اور یہ ظاہری تکلیف و مصیبت درحقیقت رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت ہوتی ہے جیسا مولانا رومی نے فرمایا ہے خلق را باتو چنین بدخوکنند تا ترا ناچار رو آنسو کنند آیت مذکورہ میں اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ کا یہی مطلب ہے بؤس اور باساء کے معنی فقر و فاقہ اور ضر و ضراء کے معنی بیماری و مرض کے آتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جابجا اسی معنی میں آیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں، بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ بؤس اور باساء مالی نقصان کے لئے بولا جاتا ہے اور ضر و ضراء جانی نقصان کے لئے، اس کا حاصل بھی یہی ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب کبھی ہم کسی قوم کی طرف اپنے رسول بھیجتے ہیں اور ان کی بات نہیں مانتے تو ہماری عادت یہ ہے کہ اول ان کو دنیا ہی میں مالی اور جانی تنگی و بیماری وغیرہ میں مبتلا کردیتے ہیں تاکہ وہ کچھ ڈھیلے ہوجائیں اور انجام پر نظر کرکے اللہ کی طرف رجوع ہوں۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر بدل دی ہم نے برائی کہ جگہ بھلائی یہاں تک کہ وہ بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ پہنچتی رہی ہے ہمارے باپ دادوں کو بھی تکلیف اور خوشی پھر پکڑا ہم نے ان کو ناگہاں اور ان کو خبر نہ تھی

اس کے بعد دسری آیت میں فرمایا ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَان السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا، اس میں سیہ سے مراد وہ فقر وفاقہ یا بیماری کی بد حالی ہے جس کا ذکر اوپر آیا اور حسنہ سے مراد اس کے بالمقابل مال میں وسعت وفراخی اور بدن میں صحت و سلامت ہے اور لفظ عفوا، عفو سے بنا ہے جس کے معنی بڑھنے اور ترقی کرنے کے بھی ہیں، کہا جاتا ہے عفا النبات گھاس یا درخت بڑھ گئے اور ترقی کرگئے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلا امتحان ان لوگوں کو فقر وفاقہ اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کرکے لیا گیا تھا جب اس میں ناکامیاب ہوئے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ ہوئے تو دوسرا امتحان اس طرح لیا گیا کہ ان کے فقروفاقہ کے بجائے مال و دولت کی وسعت اور بیماری کے بجائے صحت و سلامت ان کو عطا کردی گئی یہاں تک کہ وہ خوب بڑھ گئے اور ہر چیز میں ترقی کرگئے) اس امتحان کا حاصل یہ تھا کہ مصیبت کے بعد راحت اور دولت ملنے پر وہ شکر گزار ہوں اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں لیکن یہ غفلت شعار مادی راحتوں میں اور لذتوں میں بدمست اس سے بھی ہوشیار نہ ہوئے بلکہ یہ کہنے لگے کہ (وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ) یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ یہ کسی اچھے یا برے عمل کا نتیجہ ہے بلکہ زمانہ کی عادت ہی یہی ہے کہ کبھی ایسے ہی حالات پیش آئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلا امتحان تکلیف و مصیبت کے ذریعہ کیا گیا اس میں ناکام ہوئے، دوسرا امتحان راحت و دولت سے کیا گیا اس میں ناکام رہے اور کسی طرح اپنی گمراہی سے باز نہ آئے، تب اچانک عذاب میں پکڑے گئے فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ، بغتة کے معنی اچانک۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ دونوں قسم کی آزمائشوں میں ناکام رہے اور ہوش میں نہ آئے تو پھر ہم نے ان کو اچانک اس طرح عذاب میں پکڑ لیا کہ ان کو اس کی خبر بھی نہ تھی۔
Ayahs 7:96–99

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر بستیوں والے ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر نعمتیں آسمان اور زمین سے لیکن جھٹلایا انہوں نے پس پکڑا ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

اب کیا بےڈر ہیں بستیوں والے اس سے کہ آپہنچے ان پر آفات ہماری راتوں رات جب سوتے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا بےڈر ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر عذاب ہمارا دن چڑھے جب کھیلتے ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا بےڈر ہوگئے اللہ کے داؤ سے، سو بےڈر نہیں ہوتے اللہ کے داؤ سے مگر خرابی میں پڑنے والے۔

تیسری آیت میں ارشاد فرمایا وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ یعنی اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔ برکت کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی بھلائی ہر طرف سے ان کے لئے کھول دیتے) آسمان سے پانی ضرورت کے مطابق وقت پر برستا۔ زمین سے ہر چیز خواہش کے مطابق پیدا ہوتی۔ پھر ان چیزوں سے نفع اٹھانے اور راحت حاصل کرنے کے سامان جمع کردیئے جاتے کہ کوئی پریشانی اور فکر لاحق نہ ہوتی جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی نعمت مکرر ہوجاتی ہے ہر چیز میں برکت یعنی زیادتی ہوتی۔ پھر برکت کا ظہور دنیا میں دو طرح سے ہوتا ہے کبھی تو اصل چیز واقع میں بڑھ جاتی ہے جیسے رسول کریم ﷺ کے معجزات میں ایک معمولی برتن کے پانی سے پورے قافلہ کا سیراب ہونا، یا تھوڑے سے کھانے سے ایک مجمع کا شکم سیر ہوجانا روایات صحیحہ میں مذکور ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگرچہ ظاہری طور پر اس چیز میں کوئی زیادتی نہیں ہوئی مقدار اتنی ہی رہی جتنی تھی لیکن اس سے کام اتنے نکلے جتنے اس سے دوگنی چوگنی چیز سے نکلتے، اور اس کا مشاہدہ عام طور سے کیا جاتا ہے کہ کوئی برتن کپڑا گھر یا گھر کا سامان ایسا مبارک ہوتا ہے کہ اس سے عمر بھر آدمی راحت اٹھاتا ہے اور وہ پھر بھی قائم رہتا ہے، اور بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ بناتے ہی ٹوٹ گئیں یا سالم بھی رہیں) مگر ان سے نفع اٹھانے کو موقع ہاتھ نہ آیا یا نفع بھی اٹھایا لیکن پورا نفع نہ اٹھا سکے۔ اور یہ برکت انسان کے مال میں بھی ہوتی ہے جان میں بھی، کام میں بھی اور وقت میں بھی، بعض مرتبہ ایک لقمہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی قوت وصحت کا سبب بن جاتا ہے اور بعض اوقات بڑی سے بڑی طاقتور غذا اور دوا کام نہیں دیتی، اسی طرح بعض وقت میں برکت ہوتی ہے تو ایک گھنٹہ میں اتنا کام ہوجا تا ہے کہ دوسرے اوقات میں چار گھنٹوں میں بھی نہیں ہوتا، ان سب صورتوں میں اگرچہ مقدار کے اعتبار سے نہ مال بڑھا ہے نہ وقت مگر برکت کا ظہور اس طرح ہوا کہ اس سے کام بہت نکلے۔ اس آیت نے یہ بات واضح کردی کہ آسمان اور زمین کی کل مخلوقات وموجودات کی برکات ایمان اور تقوی پر موقوف ہیں ان کو اختیار کیا جائے تو آخرت کی فلاح کے ساتھ دنیا کی فلاح و برکات بھی حاصل ہوتے ہیں اور ایمان وتقوی کو چھوڑنے کے بعد ان کی برکات سے محرومی ہوجاتی ہے، آج کی دنیا کے حالات پر غور کیا جائے تو یہ بات ایک محسوس حقیقت بن کر سامنے آجاتی ہے کہ آج کل ظاہری طور پر زمین کی پیداوار بہ نسبت پہلے کے بہت زائد ہے اور استعمال اشیاء کی بہتات اور نئی نئی ایجادات تو اس قدر ہیں کہ پچھلی نسلوں کو ان کا تصور بھی نہ ہوسکتا تھا، مگر اس تمام ساز و سامان کی بہتات اور فراوانی کے باوجود آج کا انسان سخت پریشان و بیمار، تنگدست نظر آتا ہے، آرام و راحت اور امن و اطمینان کا کہیں وجود نہیں، اس کا سبب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ سامان سارے موجود اور بکثرت موجود ہیں مگر ان کی برکت مٹ گئی ہے۔ یہاں ایک یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ سورة انعام کی ایک آیت کے اندر کفار و فجار کے بارے میں آیا ہے فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ یعنی جب ان لوگوں نے احکام خداوندی کو بھلا دیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کسی پر کھول دیئے، اور پھر اچانک ان کو عذاب میں پکڑ لیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کے دروازے کسی پر کھل جانا کوئی حقیقی انعام نہیں بلکہ وہ ایک طرح کا قہر الہی بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہاں یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر ایمان وتقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کھول دیتے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ برکات آسمان و زمین اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کی رضا کی علامات ہیں۔ بات یہ ہے کہ دنیا کی نعمتیں اور برکتیں کبھی گناہوں اور سرکشی میں حد سے گزر جانے پر ان کے جرم کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے محض عارضی چند روزہ ہوتی ہیں وہ قہر وغضب کی علامت ہوتی ہیں اور کبھی رحمت و عنایت سے دائمی صلاح و فلاح کے لئے ہوتی ہیں وہ ایمان وتقوی کا نتیجہ ہوتی ہیں، صورت کے اعتبار سے ان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انجام اور عاقبت کا حال کسی کو معلوم نہیں مگر اہل اللہ نے علامت کے ذریعہ یہ پہچان بتلائی ہے کہ جب مال و دولت اور عیش و آرام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے شکر و عبادت کی اور زیادہ توفیق ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ رحمت ہے اور اگر مال و دولت اور عزت و راحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اعراض اور گناہوں کی کثرت بڑھے تو یہ علامت اس کی ہے کہ یہ استدراج یعنی قہر الہی کی ایک صورت ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ چوتھی آیت میں پھر دنیا کی سب قوموں کو تنبیہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ان بستیوں کے بسنے والے اس بات سے بےفکر ہو بیٹھے کہ ہمارا عذاب ان کو اس حالت میں آپکڑے جب کہ وہ رات کو سو رہے ہوں اور کیا یہ بستی والے اس سے بےخوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان کو اس حالت میں آپکڑے جبکہ وہ دن چڑھے اپنے لہو ولعب میں مشغول ہوں، کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر و تقدیر سے مطمئن ہو بیٹھے، سو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر و تقدیر سے بےفکر وہی قوم ہو سکتی ہے جو خسارہ میں پڑی ہوئی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ جو دنیا کی عیش و راحت میں مست ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھے) ہیں ان کو اس بات سے بےفکر نہ ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر رات کے وقت یا دن کے وقت کسی بھی حالت میں آسکتا ہے جیسا کہ پچھلی قوموں کے واقعات عذاب کا ذکر اوپر آچکا ہے، عقلمند کا کام یہ ہے کہ دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرے اور جو کام دوسروں کے لئے ہلاکت و بربادی کا سبب بن چکے ہیں ان کے پاس جانے سے بچے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا نہیں ظاہر ہوا ان لوگوں پر جو وارث ہوئے زمین کے وہاں کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گناہوں پر اور ہم نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر سو وہ نہیں سننتے۔

خلاصہ تفسیر (آگے اس کی علت بتلاتے ہیں کہ ان کو عذاب سے کیوں ڈرنا چاہئے، اور علت ان کا امم سابقہ کے ساتھ جرم کفر میں شریک ہونا ہے یعنی) اور ان (گذشتہ) زمین پر رہنے والوں کے بعد جو لوگ (اب) زمین پر بجائے ان کے رہتے ہیں کیا ان واقعات مذکورہ نے ان کو یہ بات (ہنوز) نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو (بھی مثل امم سابقہ کے) ان کے جرائم (کفر تکذیب) کے سبب ہلاک کر ڈاتے (کیونکہ) امم سابقہ ان ہی جرئم کے سبب ہلاک کی گئی) اور (واقعی یہ واقعات تو ایسے ہی ہیں کہ ان سے سبق لینا چاہئے تھا لیکن اصل یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اس سے وہ حق بات کو دل سے) سنتے (بھی) نہیں (اور ماننا تو درکنار رہا، پس اس بند لگانے سے ان کی قساوت بڑھ گئی کہ ایسے عبرت خیز واقعات سے بھی عبرت نہیں ہوتی اور اس بند لگانے کا سبب انہی کا ابتداء میں کفر کرنا ہے، لقولہ تعالیٰ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ۔ آگے شاید رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے سارے مضمون مذکور کا خلاصہ ہے کہ) ان (مذکورہ) بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب (بستیوں میں رہنے والوں) کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تھے (مگر) پھر (بھی ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی یہ کیفیت تھی کہ) جس چیز کو انہوں نے اول (وہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے (اور جیسے یہ دل کے سخت تھے) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگادیتے ہیں اور (ان میں سے بعضے لوگ مصیبتوں میں ایمان لانے کا عہد بھی کرلیتے تھے لیکن) اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا (یعنی زوال مصیبت کے بعد پھر ویسے کے ویسے ہی ہوجاتے تھے) اور ہم نے اکثر لوگوں کو (باوجود ارسال رسل و اظہار معجزات ونزول بینات و توثیق معاہدات) بےحکم ہی پایا (پس کفار ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتے رہے ہیں، آپ بھی غم نہ کیجئے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں بھی پچھلی قوموں کے واقعات و حالات سنا کر موجودہ اقوام عرب وعجم کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان واقعات میں تمہارے لئے بڑا درس عبرت ہے کہ جن کاموں کی وجہ سے پچھلے لوگوں پر اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہوا ان کے پاس نہ جائیں اور جن کاموں کی وجہ سے انبیاء علیھم السلام اور ان کے متبعین کو کامیابی حاصل ہوئی ان کو اختیار کریں۔ چناچہ پہلی آیت میں ارشاد ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ، ھدی یھدی کے معنی نشان دہی کرنے اور بتلانے کے آتے ہیں، اس جگہ اس کا فاعل وہ واقعات ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، معنی یہ ہیں کہ موجودہ زمانہ کے لوگ جو پچھلی قوموں کے ہلاک ہونے کے بعد ان کی زمینوں مکانوں کے وارث بنے یا آئندہ بنیں گے کیا ان کو پچھلے عبرتناک واقعات نے یہ نہیں بتلایا کہ کفر و انکار اور احکام خداوندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں جس طرح ان کے مورث اعلی (یعنی پچھلی قومیں) ہلاک و برباد ہوچکی ہیں اسی طرح اگر یہ بھی انہیں جرائم کے مرتکب رہے تو ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا قہر و عذاب آسکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، طبع کے معنی چھاپنے اور مہر لگانے کے ہیں اور معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ واقعات ماضیہ سے بھی کوئی عبرت اور ہدایت حاصل نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غضب الہی سے ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ کچھہ نہیں سنتے، حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی انسان پہلے پہل گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک نقطہ سیاہی کا لگ جاتا ہے، دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا اور تیسرا گناہ کرتا ہے تو تیسرا نقطہ لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ برابر گناہوں میں بڑھتا گیا توبہ نہ کی تو یہ سیا ہی کے نقطے اس کے سارے قلب کو گھیر لیتے ہیں اور انسان کے قلب میں اللہ تعالیٰ نے جو فطری مادہ بھلے برے کی پہچان اور برائی سے بچنے کا رکھا ہے وہ فنا یا مغلوب ہوجاتا ہے، اور اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ اچھی چیز کو برا اور بری کو اچھا، مفید کو مضر اور مضر کو مفید خیال کرنے لگتا ہے، اسی حالت کو قرآن میں دان یعنی قلب کے زنگ سے تعبیر فرمایا ہے، اور اسی حالت کا آخری نتیجہ وہ ہے جس کو طبع یعنی مہر لگانے سے اس آیت میں اور بہت سی دوسری آیات میں تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ دل پر مہر لگ جانے کا نتیجہ تو عقل وفہم کا معدوم ہوجانا ہے، کانوں کی سماعت پر تو اس کا کوئی اثر عادة نہیں ہوا کرتا، تو اس آیت میں موقع اس کا تھا کہ اس جگہ فھم لا یفقھون فرمایا جاتا یعنی وہ سمجھتے نہیں، مگر قرآن کریم میں یہاں فھم لایسمعون آیا ہے یعنی وہ سنتے نہیں۔ سبب یہ ہے کہ سننے سے مراد اس جگہ ماننا اور اطاعت کرنا ہے جو نتیجہ ہوتا ہے سمجھنے کا، مطلب یہ ہے کہ دلوں پر مہر لگ جانے کے سبب وہ کسی حق بات کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کا قلب اس کے تمام اعضاء وجوارح کا مرکز ہے جب قلب کے افعال میں خلل آتا ہے تو سارے اعضاء کے افعال مختل ہوجاتے ہیں، جب دل میں کسی چیز کی بھلائی یا برائی سما جاتی ہے تو پھر ہر چیز میں اس کو آنکھوں سے بھی وہی نظر آتا ہے، کانوں سے بھی وہی سنائی دیتا ہے۔ چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش درنظر دوسری آیت میں ارشاد فرمایا تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا، انبائ، نبا کی جمع ہے جس کے معنی ہیں کوئی عظیم الشان خبر، معنی یہ ہیں کہ ہلاک شدہ بستیوں کے بعض واقعات ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ اس میں حرف من سے اشارہ کردیا گیا کہ پچھلی اقوام کے حالات و واقعات جو ذکر کئے گئے ہیں وہ سب واقعات کا استیعاب نہیں بلکہ ہزاروں واقعات میں سے چند اہم واقعات کا بیان ہے۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں کہ سناتے ہیں ہم تجھ کو ان کے کچھ حالات اور بیشک ان کے پاس پہنچ چکے ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلاچکے تھے، یوں مہر کردیتا ہے اللہ کافروں کے دل پر

اس کے بعد فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤ ْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ یعنی ان سب لوگوں کے انبیاء ورسل ان کے پاس معجزات لے کر پہنچے جن کے ذریعہ حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا ہے، مگر ان کی ضدا اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم تھا کہ جس چیز کے متعلق ایک مرتبہ ان کی زبان سے یہ نکل گیا تھا کہ یہ غلط اور جھوٹ ہے پھر اس کے حق وصدق ہونے پر کتنے ہی معجزات، دلائل اور حجتیں سامنے آگئیں مگر وہ اس کی تصدیق و اقرار کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔ اس آیت سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ معجزات تمام انبیاء ورسل کو عطا فرمائے گئے ہیں جن میں سے بعض انبیاء کے معجزات کا قرآن میں ذکر آیا ہے، بہت سوں کا نہیں آیا، اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہوسکتا کہ جن کے معجزات کا قرآن میں ذکر نہیں آیا ان سے کوئی معجزہ ثابت ہی نہیں، اور سورة ہود میں جو حضرت ہود ؑ کی قوم کا یہ قول مذکور ہے کہ ما جئتنا ببینة یعنی آپ کوئی معجزہ نہیں لائے، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان کا یہ قول محض عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تھا یا یہ کہ ان کے معجزات کو معمولی سجھ کر ایسا کہا۔ دوسری بات یہ قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں کا جو حال بتلایا گیا ہے کہ غلط بات زبان سے نکل گئی تو اس کی سخن پروری کرتے رہے، یہ خدا کی منکر اور کافر قوموں کا حال ہے جس میں بکثرت مسلمان بلکہ بعض علماء و خواص بھی مبتلا پائے جاتے ہیں کہ کسی چیز کو اول وہلہ میں غلط یا جھوٹ کہہ دیا تو اب اس کی سچائی کے ہزاروں دلائل بھی سامنے آجائیں تو اپنی غلط بات کی پیروی کرتے رہیں، یہ حالت قہر خداوندی اور غضب الہی کا موجب ہے ، (ازمسائل السلوک) اس کے بعد فرمایا ۭكَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ ، یعنی جس طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اسی طرح عام کافر ومنکر لوگوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں کہ پھر نیکی قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور نہ پایا ان کے اکثر لوگوں میں ہم نے عہد کا نباہ، اور اکثر ان میں پائے نافرمان

تیسری آیت میں ارشاد فریا وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ یعنی ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے ایفائے عہد کرنے والا نہ پایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد عہد الست ہے جو ازل میں تمام مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ان سب کی روحوں کو پیدا فرما کرلیا گیا تھا، جس میں حق تعالیٰ نے فرمایا الست بربکم یعنی کیا میں تمہارا پروردگار نہیں، اس وقت تمام ارواح انسانی نے اقرار اور عہد کے طور پر جواب دیا بلی یعنی ضرور آپ ہمارے رب ہیں، دنیا میں آکر اکثر لوگ اس عہد ازل کو بھول گئے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق پرستی کی لعنت میں گرفتار ہوگئے، اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد نہ پایا، یعنی عہد کی پاسداری اور ایفاء نہ پایا۔ (کبیر) اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ عہد سے مراد عہد ایمان ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، اس میں عہد سے عہد ایمان وطاعت مراد ہے، تو آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر نے ایمان وطاعت کا عہد ہم سے باندھا تھا پھر اس کی خلاف ورزی کی، عہد باندھنے سے مراد یہ ہے کہ عموما انسان جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وقت کتنا ہی فاسق فاجر ہو اس کو بھی خدا ہی یاد آتا ہے اور اکثر دل یا زبان سے عہد کرتا ہے کہ اس مصیبت سے نجات مل گئی تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں لگ جاؤں گا نافرمانی سے بچوں گا جیسا کہ قرآن کریم میں بہت سے لوگوں کا یہ حال ذکر کیا گیا ہے، لیکن جب ان کو نجات ہوجاتی ہے اور آرام و راحت ملتی ہے تو پھر ہویٰ و ہوس میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس عہد کو بھول جاتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں لفظ اکثَرَ سے اس کی طرف اشارہ بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ تو ایسے شقی ہوتے ہیں کہ مصیبت کے وقت بھی انہیں خدا یاد نہیں آتا اور اس وقت بھی وہ ایمان وطاعت کا عہد نہیں کرتے تو ان سے بد عہدی کی شکایت کے کوئی معنی نہیں، اور بہت سے لوگ وہ بھی ہیں جو عہد کو پورا کرتے ہیں، ایمان و اطاعت کے حقوق ادا کرتے ہیں اس لئے فرمایا وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ یعنی ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں ایفائے عہد نہ پایا اس کے بعد فرمایا وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ یعنی ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو اطاعت و فرماں برداری سے خارج پایا۔ یہاں تک پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے پانچ واقعات کا بیان کرکے موجودہ لوگوں کو ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لئے تنبیہات فرمائی گئی ہیں۔ اس کے بعد چھٹا قصہ حضرت موسیٰ ؑ کا تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا، جس میں واقعات کے ضمن میں سینکڑوں احکام و مسائل اور عبرت و نصیحت کے بیشمار مواقع ہیں، اور اسی لئے قرآن کریم میں اس واقع کے اجزاء بار بار دھرائے گئے ہیں۔